جمعہ، 14 جولائی، 2023

14 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida



14 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 14


جیش البدال(لشکروں کی تبدیلی)، حضرت خالد بن سعیدکی جلد بازی، ہرقل کی جنگی تیاری، تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم، رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا، رومیوں سے طویل جنگ، حضرت خالد بن ولید کا جذبۂ جہاد، حضرت خالد بن ولید اور باہان میں جنگ، خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال، حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا کفن دفن، مسلمانوں میں سب سے زیادہ فہم قرآن، جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا


جیش البدال(لشکروں کی تبدیلی)

   حضرت خالد بن سعید رضی اﷲعنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رومیوں کے عرب نژاد لشکر کے اجتماع کی خبر دی۔خلیفہ اول نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،اور ذرا بھی مت گھبراو¿،اور اﷲ سے مدد طلب کرو ۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ یہ جواب ملتے ہی لشکر لیکر آگے بڑھے،مگر جب قریب پہنچے تو دشمن پر کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ سب اپنی جگہ چھوڑ کر اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے،اور بھاگ گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ دشمن کے مقام پر قابض ہو گئے،اور اکثر لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔اِس کامیابی کی خبر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو دی تو انہوں نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،لیکن اتنا آگے نہ بڑھ جانا کہ پیچھے سے دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور تیماءسے ملے ہوئے لوگوں کو لیکر اُس مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیا جو آبل،زیزائ،اور تسطل کے درمیان واقع ہے۔یہاں ایک رومی ہابان نامی پادری ،عیسایﺅں کا لشکر لیکر جنگ کرنے آیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے اسے زبردست شکست دی ،اور پادری کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے لشکر کو قتل کر دیا۔اِس فتح کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ،اور مزید کمک طلب کی۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس ذوالکلاع وغیرہ قبائل کے لشکر آئے ہوئے تھے،اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ بھی تہامہ ،عمان ،بحرین سے جنگ میں کامیاب ہو کر آئے ہوئے تھے۔اور ان کے ساتھ ان علاقوں کے لوگوں کا اچھا خاصا لشکر تھا۔ان سب کے متعلق حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں ،انہیں بدل دو،اور ان کی جگہ تازہ دم سپاہیوں کو متعین کر دو۔اسی لئے وہاں کے تمام لو گو ں کو بدلا گیا،اور اس فوج کانام ”جیش البدال“پڑ گیا۔ان فوجوں کو خلیفہ اول نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔

حضرت خالد بن سعیدکی جلد بازی

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کو ایک لشکر دیکر فلسطین کی طرف بھیجا۔اور ولید بن عقبہ کو ایک لشکر دیکر اردن کی طرف بھیجا۔اور یزید بن سفیان کو ایک بڑا لشکر دیکر بھیجا،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بھی ایک لشکر دے کر بھیجا۔اِن میں سے ولید بن عقبہ سب سے پہلے لشکر لیکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے،اور مسلمانوں کی امداد کے لئے وہ فوج بھی آگئی جو ”جیش البدال“کے نام سے موسوم ہوئی تھی۔ولید بن عقبہ نے یہ بھی بتایا کہ اور بھی لشکر آرہے ہیں۔یہ خبر سن کر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی میں آگے بڑھ کر بقیہ لشکروں کے آنے سے پہلے رومیوں پر حملہ کر دیا،اور اپنی پشت خالی چھوڑ دی۔باہان اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے سامنے سے ہٹ کر دمشق کی طرف پسپا ہو گیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ دشمن کی فوج میں آگے تک گھستے چلے گئے۔اور مرج الصفر(جو واقوصہ اور دمشق کے درمیان واقع ہے)تک پہنچ گئے۔اُس وقت اُن کے ہمراہ ذولاکلاع ،عکرمہ اور ولید بھی تھے۔باہان کی فوجی چوکیوں نے ایک ساتھ ملکر مسلمانوں کے لشکر کو محصور کر لیا۔اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت سعید بن خالد کو شہید کردیا۔اب انہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہوا،اور وہ پیچھے ہٹ گئے،لیکن حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ ڈٹے رہے ،اور مسلمانوں کی مدد کرتے رہے۔یہاں حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہزیمت اُٹھا رہے تھے،اور ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں رومیوں،فارسیوں اور اعرابیوں کو شکست دیکر قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ذوالمرہ تک پیچھے ہٹ چکے تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے انہیں واپس بلا لیا۔

ہرقل کی جنگی تیاری

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکروں کی آمد کی اطلاع ملی،تو اُس نے غیر معمولی جنگی تیاری شروع کردی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا۔اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس فوج کافی تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کونوے ہزار(۰۰۰،۰۹)کا لشکر دیکر بھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔

تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔

رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔

رومیوں سے طویل جنگ

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالار جب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں ذبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاور مشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے تمام مسلمانوں اور اُن کے سپہ سالاروں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں جمادی الاول میں بیمار پڑ گئے،اور لگ بھگ پندرہ دن بیمار رہنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا یرموک کی فتح سے دس دن پہلے وصال ہو گیا۔اس لئے اِس جنگ کا ذکر ہم یہیں روک دیتے ہیں،اور انشا ءاﷲخلیفہ دوم حضرت عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں جنگ یرموک کے حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں۔کہ والد محترم کی بیماری کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے (۷)سات جمادی الآخر بروزغسل فرمایا،اُس روز بہت سردی تھی۔پس آپ رضی اﷲ عنہ کو بخار آگیا ،اور پندر ہ تک آپ رضی اﷲ بیمار رہے ۔اس عرصہ میں نماز کے لئے بھی باہر تشریف نہیں لاسکے۔آخر کا ر اسی بخار کی وجہ سے (۲۲)جمادی الآخر ۳۱ ھجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا۔(تاریخ الخلفائ)

حضرت ابو بکر صدیق ایک قسم کے شہید

   خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا اصل سبب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال تھا۔اُس صدمے سے آپ رضی اﷲ عنہ کا جسم گھلنے لگا ،اور یہی آپ رضی اﷲ عنہ کے وصال کا باعث ہوا۔جلیل القدر تابعی ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ (حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا ظاہری سبب یہ ہے کہ)آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس کسی نے تحفے کے طور پر خزیرہ(قیمہ جس میں دال ڈالی ہو)بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت حارث بن کلدہ رضی اﷲ عنہ دونوں کھانے میں شریک تھے۔(کھانا کھانے کے دوران)حضرت حارث رضی اﷲ عنہ نے کہا:”اے خلیفة الر سول !ہاتھ روک لیجیئے ،(یعنی اسے نہ کھائیں)اِس میں زہر ہے،اور یہ وہ زہر ہے جس کا اثر ایک سال میں ظاہر ہوتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ دیکھ لیجیئے گا کہ ایک سال کے اندر اندر میرا اور آپ رضی اﷲ عنہ کاانتقال ایک ہی دن ہوگا۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے کھانے سے ہاتھ روک لیا،لیکن زہر اپنا کام کر چکا تھا۔اور یہ دونوںاُسی دن سے بیمار رہنے لگے،اور ایک سال گذرنے کے بعد (اسی زہر کے اثر سے)ایک ہی دن میں دونوں انتقال کر گئے۔(تاریخ الخلفاء)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ مقرر کر دیا تھا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال کے وقت ایک وصیت لکھوا کر مُہر لگا کر دے دی تھی کہ اسے میرے وصال کے بعد کھولنا۔اور اس میں اپنے بعد کے خلیفہ کے بارے میں وصیت کردی تھی۔اس کے بارے میں ہم تفصیل سے انشاءاﷲ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں بتائیں گے۔ یہاں مختصراًپیش ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران دریچہ سے سر نکال کر لوگوں سے فرمایا:”اے لو گو!میں نے ایک شخص کو تم پر(خلیفہ)مقرر کیا ہے،کیا تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے خلیفة الرسول!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہوئے ،اور فرمایا:”یا خلیفة الرسول!وہ شخص اگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بے شک وہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا کفن دفن

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا جس روز وصال ہوا ،اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایاکہ آج کون سا دن ہے؟لوگوں نے عرض کیا:پیر کا دن ہے؛آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: اگر آج رات میرا وصال ہو جائے تو میرے دفن میں کل تک کی تاخیر نہ کرنا۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جتنی جلدی پہنچ جاو¿ں،اُتنا اچھا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے آخری وقت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا:”اے بیٹی !میرے اِن دونوں استعمال شدہ کپڑوں کو دھو کر مجھے اِن میں کفن دے دینا،تمہارا باپ کوئی انوکھا شخص نہیں ہے۔اور اچھا یا خراب کفن دینے سے عزت و ذلت وابستہ نہیں ہے۔“وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور منبر کے درمیان نماز جنازہ پڑھائی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اسی کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک میں دفن کیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے شانے کے برابر رکھا گیا۔(تاریخ الخلفائ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ دو سال سات مہینے خلافت کے منصب پر فائز رہے۔

مسلمانوں میں سب سے زیادہ فہم قرآن

   اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو نماز میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا ”امام“بنایا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قوم کا امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس قوم میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں،اُن کے علاوہ دوسرا امامت نہیں کر سکتا۔اِسی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام ِ رسالت سے آگاہ تھے۔اِسی لئے بار بار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اُمور ِ سنت کے معاملے میں آپ رضی اﷲ عنہ سے رجوع کیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ایسی صورتوں میں ہمیشہ اُن کے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث پیش فرماتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بکثرت احادیث یاد تھیں ،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ ضرورت کے وقت بیان فرمادیا کرتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث کا حافظ اور کون ہو سکتا تھا کہ آغاز رسالت سے وصال مبارک تک آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔اس کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ کا حافظہ بہت ہی قوی تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ذکی اور ذی فہم تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث مروی نہیں ہونے کا ایک سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ بہت کم تابعی حضرات کی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہو سکی ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ڈھائی سال تک ہی آپ رضی اﷲ عنہ زندہ رہے۔

قرآن اور احادیث کی طرف رجوع

   خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کسی بھی معاملے میں سب سے پہلے قرآن پاک اور پھر احادیث کی طرف رجوع کرتے تھے۔امام بغوی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سامنے کوئی معاملہ یا مقدمہ پیش ہوتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے اس کا حل قرآن پاک میں تلاش فرماتے تھے۔اور قرآن پاک کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔اگر وہاں کوئی صراحت سے نہیں ملتا تھا تواُن احادیث کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے،جو انہیں یاد تھیں۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس معاملے کی حدیث یاد نہیں ہوتی تھی تو صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو جمع فرماتے اور اُن سے حدیث دریافت فرماتے تھے۔اگر کسی صحابی رضی اﷲ عنہ کو اِس مسئلہ کے بارے میں حدیث یاد ہوتی تھی تو وہ بیان فرما دیتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے مطابق فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے،اﷲ کا شکر ہے کہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد رکھتے ہیں۔اور اگر اِس مسئلے کے متعلق کوئی صحابی رضی اﷲ عنہ بھی حدیث پیش نہیں کر پاتے تھے، تو آپ رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کرتے،اور جس فیصلہ پر اتفاق ِ رائے ہوجاتا تھا،اُسی کے مطابق فیصلہ کر دیتے تھے۔

جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ”عشرہ¿ مبشرہ“میں سے ہیں۔یعنی وہ دس صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ہیں،جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛”جو شخص کسی چیز کا جوڑا اﷲ کے لئے خرچ کرے گانوہ جنت کے دروازوں سے اس طرح پکارا جائے گا۔اے اﷲ کے بندے اِس دروازے سے داخل ہوجا،یہ دروازہ اچھا ہے۔اِسی طرح نمازی شخص نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا۔مجاہد شخص اہل جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا۔صاحب ِ صدقہ شخص صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا۔روزہ دار شخص روزے کے دروازے جس کا نام”ریان“ہے پکارا جائے گا۔“یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ شخص کتنا خوش نصیب ہو گا،جو اِن تمام دروازوں سے پکارا جائے گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”یقینا!اور اے ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ !مجھے پوری اُمید ہے کہ تم ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گے۔“ 

اگلی کتاب

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر مکمل ہوا۔اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کریں گے ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں