13 سیرت سید الانبیاء ﷺ
پہلی عید الفطر اور غزوۂ بنو قینقاع اور پہلی عید الاضحیٰ
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
مسلمانوں کی پہلی عید الفطر اور عیدالاضحیٰ، قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک، یہودیوں کی مکاری اور عیاری، غزوہ بنو قینقاع، سیدہ فاطمتہ الزہرہ اور حضرت علی کا نکاح
مکہ مکرمہ میں قریش کی شکست کی خبر
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔ انھوں نے اور اُن کی مالکہ اُم الفضل ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ) رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ( بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور بعد کے غزوات میں شریک تھے) یہی حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ میں اپنی مالکہ ( اُم الفضل رضی اللہ عنہا) کے خیمے میں ان کے ساتھ بیٹھا کچھ کام کر رہا تھا کہ ابو لہب آکر ہمارے خیمے کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ابو سفیان بن حارث بدر کے میدان سے مکہ مکرمہ پہنچے ۔ قریش کے لشکر میں سے سب سے پہلے پہنچے تھے۔ ابو لہب نے ان سے قریش کے لشکر کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا :’’ اللہ کی قسم ! ہم ( دشمن) قوم سے ملے تو ہم نے اُن کو اپنے کاندھے ( گردنیں) پیش کر دی کہ وہ جس طرح چاہیں ہمیں قتل کر یں اور جیسے چاہیں ہمیں قیدی بنا ئیں اور اللہ کی قسم ! اس کے باوجود ہم ملامت کے قابل نہیں ہیںکیوں کہ ہمارا مقابلہ ایسے لوگوں سے بھی تھا جو سفید رنگ کے مرد تھے۔ وہ چتکبرے ( یا سیاہ اور اور سفید رنگ والے ) گھوڑوں پر سوار تھے اور آسمان اور زمین کے درمیان تھے۔ اللہ کی قسم !اُن کے سامنے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تھی۔ ‘‘
ابو لہب دوزخی کا انجام
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ یہ سن کر میں نے کہا :’’ اللہ کی قسم !وہ فرشتے تھے۔‘‘ یہ سن کر ابو لہب نے غصے سے مجھے تھپڑ مارا تو اُم الفضل رضی اللہ عنہا اٹھیں اور لکڑی لے کر ابو لہب کے سر پر ماردی اور فرمایا :’’ جب اس کا مالک ( حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ) غائب ہے تو اسے تُو نے کمزور سمجھ لیا۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اللہ کی قسم !( اس کے بعد) وہ صرف سات راتیں زندہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عدسہ ( پُھنسی) میں مبتلا کر دیا۔ اسے عرب والے نحوست سمجھتے تھے اور یہ سخت متعدی بیماری ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے کوئیاس کے قریب کوئی نہیں جاتا تھااور اس کے بیٹے بھی اس سے دور بھاگتے تھے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا۔ وہ مرنے کے بعد تین دن تک وہیں پڑا رہا۔ کوئی شخص اس کی لاش کے قریب نہیں جاتا تھا اور نہ اسے دفن کرنے کو تیار تھا۔ جب ابو لہب کے بیٹوں کو یہ خوف محسوس ہوا کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑنے پر لوگ طعنے ماریں گے تو ایک گڑھا کھود کر ایک لکڑی کے ذریعے ابو لہب کی لاش گڑھے میں دھکیل کر دور سے پتھر پھینک پھینک کر اسے ڈھانک دیا۔‘‘
قریش کے کافروں کی سراسیمگی
غزوہ بدر میں شکست کھا کر بھاگنے والے قریش کے کافروں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح مکہ مکرمہ میں داخل ہوں ۔ تمام لوگ الگ الگ منہ چھپا کر مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے۔ حیسمان بن عبداللہ خزاعی کھلے عام دن میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اور جنگ کے حالات پوچھنے لگے۔ اس نے کہا :’’ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ، ابو الحکم ( ابو جہل) بن ہشام، اُمیہ بن خلف اوردوسرے سرداروں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ ‘‘یہ سب سن کر اُمیہ بن خلف کے بیٹے صفوان بن اُمیہ ( جو حطیم میں بیٹھا ہو اتھا) نے کہا :’’ اللہ کی قسم ! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ ‘‘لوگوں نے پوچھا ! ’’صفوان بن اُمیہ کا کیا ہوا ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ وہ دیکھو وہ تو وہاں حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی قسم ! اس کے باپ اور بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔‘‘ اس طرح مختلف ذرائع سے جب مکہ مکرمہ والوں کی شکست کی پختہ خبر ملی اور شکست خورد ہ لشکر کے لوگ آئے تو تمام سردار وں نے اعلان کر دیا کہ قتل ہونے پر نوحہ نہیں کیا جائے گا تا کہ مسلمانوں کو ان کے غم پر خوش ہونے کا موقع نہ ملے۔
قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور غزوہ بدر کے قیدی ایک دن بعد مدینہ منورہ پہنچے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں کو صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تقسیم کر دیا اور ہدایت فرمائی کہ’’ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔‘‘ حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کا بھائی ابو عزیز قیدیوں میں تھا۔ ( اس کے بارے میں ہم پہلے بتا چکے ہیں) اس نے کہا : ’’ مسلمان جب ہمیں قید کر کے مدینہ منورہ لے کر آرہے تھے تو راستے میں جب وہ کھانا کھاتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر وہ اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ وہ اپنے حصے کی روٹی ہمیں دے دیتے تھے اور خود کھجور کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔ مجھے شرم آتی تھی تو میں انھیں واپس کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن وہ روٹی کو ہاتھ بھی نہیں لگا تے تھے۔ ‘‘ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس طرح ہمارے یہاں گیہوں اور چاول بہت زیادہ پید اہوتے ہیںاور آسانی سے مل جاتے ہیں اس طرح عرب ممالک میں کھجور کی پیداوار بہت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے مل جاتی ہے اور جس طرح ہمارے یہاں کھجور کی پیداوار بہت کم ہے اور وہ ہمارے لئے’’ نعمت‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح عرب ممالک میں گیہوں اور چاول اور دوسرے اناج کی پیداوار کم ہے اور وہ ان کے لئے ’’نعمت ‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں)
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تمام قیدی رسیوں اور بیٹریوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ یعنی میرے والدِ محترم بھی تھے اور انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ذرا کس کر باندھ دیا تھا۔ ( حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہی ہوں گے کہ ابو طالب کے انتقال کے بعد انھوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنے بھتیجے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی اور بیعت عقبہ ثانیہ کی وہ تقریر بھی آپ کو یاد ہو گی جو انھوں نے انصار کے سامنے کی تھی ۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں) رسیاں کس کر باندھنے کی وجہ سے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو درد ہو رہا تھا اور وہ رات میں کراہ رہے تھے۔ ان کے کراہنے کی آواز سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بے چینی ہو رہی تھی اور نیند نہیں آرہی تھی۔ کافی رات گزرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں کے پہریدار کے پاس آئے تو انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نیند نہیں آرہی ہے کیا؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ عباس بن عبد المطلب ( رضی اللہ عنہ ) کی کراہیں سن کر نیند نہیں آرہی ہے۔‘‘ پہریداروں میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فوراً دوڑتے ہوئے گئے اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی رسیاں کھول دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دعائیں دیں اور جا کر سکون سے سو گئے۔ ‘‘
قیدیوں کے بارے میں مشورہ
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے معاملے میں تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا اور فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم کو اِن پر قدرت دی ہے۔ اِن کے بارے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔‘‘ چونکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنایا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دوبارہ فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت دی ہے اور کل یہ تمہارے بھائی تھے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دوبارہ کھڑے ہو ئے اور وہی عرض کیا :’’ ان کو قتل کر دیا جائے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسر ی مرتبہ فرمایا : ’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری رائے یہ ہے کہ یہ لوگ فدیہ لے کر چھوڑ دیئے جائیں ۔ ‘‘ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہر مسلمان اپنے رشتہ دار کو قتل کرے۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ اپنے بھائی عقیل بن ابی طالب کو قتل کریں اور مجھ کو اجازت دیں کہ میں اپنے فلاں رشتہ دار کو قتل کروں۔ اسلئے کہ یہ لوگ کفر کے پیشواء اور سردار ہیں۔‘‘ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ ہماری ہی قوم کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان کو فدیہ لے کر آزاد فرمادیں۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمادے اور پھر یہی لوگ کافروں کے مقابلے میں ہمارے معین اور مدد گار ثابت ہوں گے۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی مثال
حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں حضرات رضی اللہ عنہم کی رائیں سنی اور فرمایا : ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ ! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جیسی ہے۔ جنھوں نے اپنی اپنی قوم کے حق میں یہ دعا کی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی : ( ترجمہ ) ’’ اے پروردگار ! ( اللہ تعالیٰ ) زمین پر بسنے والے کافروں میں سے کسی کو زندہ مت چھوڑناکیوں کہ اگر تُوانھیں زندہ چھوڑ دے گا تو یہ لوگ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی اگر پیدا ہوگی تو وہ بھی کافر ہوگی۔‘‘ ( سورہ نوح آیت نمبر27) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا مانگی : ( ترجمہ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! ( اللہ تعالیٰ) ان کے مال و دولت کو ختم کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ یہ ایمان ہی نہ لائیں ۔ حتیٰ کہ تیرے در د ناک عذاب کو دیکھیں ۔‘‘ ( سورہ یونس آیت نمبر88) اور اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ! تمہاری مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جیسی ہے۔ جنھوں نے یہ دعا مانگی : ’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا فرمائی : ( ترجمہ) ’’ بے شک جس جس نے میری اتباع ( اطاعت ) کی وہ مجھ سے وابستہ ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو ( اے اللہ تعالیٰ ) آپ بہت زیادہ مغفرت کرنے والے کرنے والے اور بہت زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (سورہ ابراہیم آیت نمبر36) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن فرمائیں گے : ( ترجمہ ) ’’ اے اللہ تعالیٰ !اگر آپ انھیں عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور آپ کے مالک ہیں اور اگر آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو بے شک آپ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں ۔‘‘ ( سورہ المائدہ آیت نمبر 118) اتنا فرمانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ کا حکم
علامہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ابھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرما رہے تھے اور کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو اپنا حکم دے کر بھیجا انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیار دیں کہ چاہیں تو وہ انھیں قتل کر دیں یا چاہیں تو فدیہ لے کر آزاد کر دیں یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ( البدایہ والنہایہ میں یہیں تک ذکر ہے) اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر فدیہ لے کر چھوڑ دیں گے تو اگلے سال تم میں سے اتنے ہی افراد شہید کئے جائیں گے۔ ( جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کو اللہ کا حکم سنایا تو ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فدیہ لے کر قیدیوں کو چھور دینے اور اگلے سال میں شہید ہونے کے حکم کو اختیار کیا۔ ( جامع ترمذی، سنن نسائی ،صحیح ابن حبان ،المستدرک حاکم )
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا شوق ِ شہادت
اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو قیدیوں کو قتل کر دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اگر قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑدیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان قیدیوں کے بدلے میں اتنے ہی مسلمانوں کو لے گا۔ یعنی اگلے سال میں ستر مسلمان شہید ہو ں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتائی تو صحابہ کرام کے اندر شہید ہونے کا اتنا شوق تھا کہ اُن صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم جنھوں نے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا انھوں نے بھی اس امید میں کہ شاید اُن’’ ستر شہداء ‘‘میں مجھے بھی شامل کر لیا جائے ۔ یہ کہا کہ قیدیوں کو چھوڑدو۔ اس طرح تمام صحابہ کرام اس بات پر متفق ہو گئے کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور ہر صحابی رضی اللہ عنہ یہ سوچ رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ اگلے سال جو ستر صحابہ کرام شہید ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ اُن میں اسے شامل فرما لے۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔ عبیدہ سے مروی ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں جبرئیل علیہ السلام ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو قیدیوں کو قتل کر دیں اور اگر چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں۔ ہاں فدیہ لینے کی صورت میں قیدیوں کی تعداد کے برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ’’شہید‘‘ ہو ں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوا ن اﷲ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ یہ جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دونوں باتوں کا اختیار عطا فرمایاہے کہ یا تو قیدیوں کو سامنے لا کر قتل کردو یا پھر فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دو۔ لیکن اس کے بعد قیدیوں کی تعداد کے برابر تم میں سے شہید کئے جائیں گے۔‘‘ ( اس سے پہلے تو صحابہ ٔ کرام رضی اﷲ عنہم میں اختلاف تھا کچھ لوگ قتل کرنا چاہتے تھے اور کچھ لوگ فدیہ لینا چاہتے تھے لیکن اس کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے قیدیوں کو چھوڑنا گوارا کیا اور بدلے میں شہادت قبول کرلی۔
سید الانبیاء ﷺ اور مسلمانوں کی پہلی عید
ٍ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر میں فتح حاصل ہونے کے بعد اپنے مجاہدین کے ساتھ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ماہِ رمضان ختم ہونے میں چند روز باقی رہ گئے تھے۔ ان چند دنوں میں زکوٰۃ اور عیدالفطر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا۔ زکوٰ ۃ اور فطرہ کی وجہ سے بہت سے غریب اور مستحق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدد ہوئی۔ ماہِ رمضان مکمل ہوا اور یکم شوال کی صبح عید کی نماز پڑھنے کیلئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہما نکلے ۔ یہ مسلمانوں کی پہلی عید تھی۔ اس وقت مدینہ منورہ میں عجیب سا سما ں تھا۔ کسی کے پاس نئے کپڑے نہیں تھے۔ کئی صحابہ نے ایک کمبل میں اپنے آپ کو لپیٹا ہوا تھااور گردن میں گانٹھ ماری ہوئی تھی۔ کئی صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم صرف جانور کی کھال لپیٹے ہوئے تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کسی کا پیر کٹا ہوا تھا اور پٹی بندھی ہوئی تھی۔ لیکن تمام حضرات کے چہرے خوشی سے منور تھے اور سب خوشی خوشی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرنے جارہے تھے۔ الرحیق المختوم میں مولانا صفی الرحمن مبارک پوری لکھتے ہیں ’’کتنی خوشگوار تھی یہ عید سعید ۔ جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اوپر فتح و عزت کا تاج رکھ دینے کے بعد نصیب فرمائی اور کتنا ایمان افزوں تھا اس نماز عید کا منظر ۔ جسے مسلمانوں نے اپنے گھروں سے نکل کرتکبیر و توحید اور تمحیدو تسبیح کی آوازیں بلند کرتے ہوئے میدان میں جاکر ادا فرمائی۔ اس وقت یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کے دل اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور اسکی تائید اور مدد کے سبب (جو غزوئہ بدر میں کی تھی)اسکی رحمت اور شوق سے لبریز اور اسکی رغبت کے جذبات سے معمور تھے اور ان کی پیشانیاں اللہ کے شکر و سپاس کی ادائیگی کے لئے جھکی ہوئی تھیں۔ ‘‘
حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ تو آپ کو یاد ہی ہوں گے۔ میدان بدر میں جب مسلمانوں کا لشکر اور قریش کا لشکر ایک دوسرے کے مقابلے پر صف آراء ہورہے تھے تو قریش نے انھیں مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کا انداز لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ انھوں نے اسلامی لشکر کا چکر لگایا تھا اور بالکل درست تعداد کا اندازہ لگایا تھا۔ غزوئہ بدر میں شکست کے بعد یہ بھاگ کر مکہ مکرمہ آگئے تھے۔ ایک دن صفوان بن امیہ کے ساتھ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ صفوان نے غزوئہ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کا تذکرہ کرکے کہا :’’ ان لوگوں کے بغیر زندگی کا مزہ ہی ختم ہوگیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ ہاں ! یہ بات تو ہے اگر میں قرضدار نہیں ہوتا اور مجھے میرے بیوی بچوں کی فکر نہیں ہوتی تو میں ابھی مدینہ منورہ جاکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو(نعوذ باللہ ) قتل کرکے آتا۔‘‘ صفوان بن امیہ اسی موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے کہا : ’’ تیرا قرض میں ادا کر دیتا ہوں اور تیرے بیوی بچوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری لیتا ہوں تُو صرف یہ کام کر دے۔ ‘‘ صفوان بن اُمیہ نے ایک بہترین تلوار پر دھار لگا کر زہر میں بُجھا کر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد نبوی کے دروازے پر اپنے اونٹ کو باندھ رہے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور اندازہ لگا لیا کہ یہ ضرور کسی ناپاک ارادے سے آیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فوراً آگے بڑھے اور حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے جو تلوار اپنی گردن سے لٹکائی ہوئی تھی اسی کی نیام پکڑ کر پیچھے سے ان کے گلے پر دبادی اور اسی حال میں کھینچتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اسے چھوڑ دو۔‘‘ اور حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ کیوں آئے ہو؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا : ’’ اپنے قیدی کو چھڑانے آیا ہوں۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ سچ کہو !کیا اسی لئے آئے ہو؟ ‘‘سچ بتائو کہ تم نے او رصفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر کیا مشورہ کیا تھا؟ ‘‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک دیکھتے ہوئے کہا : ’’ میں نے کیا مشورہ کیا تھا؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم نے میرے قتل کا ذمہ اس شرط پر لیا تھا کہ صفوان تیرا قرض ادا کر دے گا اور تیرے گھر والوں کی دیکھ ریکھ کرے گا۔ ‘‘ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کچھ دیر تک حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھتے رہے اور پھر بے ساختہ پکار اٹھے : ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس واقعہ کا میرے اور صفوان کے علاوہ کسی اور کو علم نہیں تھا بے شک اللہ تعالیٰ نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ہے۔ پس میں دل سے اللہ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ ‘‘
حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں
محمد بن اسحاق کی روایت میں اس کے آگے ہے کہ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !میں یقین سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع نہیں دی ہے۔ پس میں شکر ادا کرتا ہوں اس ذاتِ پاک ( اللہ تعالیٰ) کا جس نے مجھ کو اسلام کی نعمت عطا فرمانے کے لئے مجھے یہاں کھینچ لایا۔‘‘ اور کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : ’’ اپنے بھائی کو دین کی باتیں سمجھائو اور قرآن پاک پڑھائو اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو۔‘‘ اسی وقت قیدی حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیاگیا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اللہ کے نور کو بجھانے کی بہت کوشش کی ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے دین کو قبول کیا تھا ان کو طرح طرح سے ستایا ہے۔ اب مجھ کو اجازت دیجئے کہ مکہ مکرمہ جا کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگوں کو بلائوں گااور اسلام کی دعوت دوں گا۔ شاید اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت نصیب فرمائے اور اجازت دیجئے کہ اللہ کے دشمنوں کو بھی اسی طرح ستائوں جیساکہ اللہ کے دوستوں کو ستایا کرتا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے ادھر صفوان بن امیہ مکہ مکرمہ میں لوگوں کو یہ کہتا پھر رہا تھا کہ بہت جلد تمہیں ایک ایسی خوش خبری سنائوں گا کہ بدر کی شکست کا صدمہ بھول جائو گے اور ہر آنے والے سے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتا تھا۔ لیکن جب اسے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ملی تو وہ اتنا غصہ ہوا کہ قسم کھائی عمیر سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اور اسلام کی دعوت میں مصروف ہو گئے۔ بہت سے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مسلمان ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے دشمنوں کو خوب ستایا۔
حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
غزوہ ٔ بدر میں قید ہونیوالوں میں حضرت نوفل حارث رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ ادا کرنے کو فرمایا تو انھوں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ جو میں فدیہ میں دے سکوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اُن نیزوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جو تم جدہ میں چھوڑ آئے ہو؟ حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک دیکھتے رہے اور پھر عرض کیا : ’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کے بعد میرے سوا کسی کو بھی اس کا علم نہیں ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ نے وہ تمام نیزے جن کی تعداد ایک ہزار تھی اپنے فدیہ میں دے دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا رشتہ مواخات قائم فرمایا اور زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی یہ دونوں دوست اور تجارتی پارٹنر تھے۔
عبداللہ بن اُبیّ کا دکھاوے کا قبول ِ اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے مدینہ منورہ میں آس پاس آباد یہودی انصار کے دونوں بڑے قبیلے’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘کو آپس میں لڑا تے رہتے تھے اور فائدہ اٹھاتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث کے بعد دونوں قبیلوں کے بڑوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب ہم مل کر رہیں گے اور کسی ایک کو دونوں قبیلوں ( یعنی پورے مدینہ منورہ) کا حکمراں بنا لیں گے۔ یہودیوں نے انصار کے دونوں بڑے قبیلوں میں اپنے کٹھ پتلی سردار بنا ئے ہوئے تھے اور ان میں سب سے بڑا سردار عبداللہ بن اُبیّ تھا۔ یہ یہودیوں کا بہت بڑا ہمدرد تھا۔ تمام سردار جب مل کر بیٹھے کہ کس کو پورے مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا جائے تو کٹھ پتلی سرداروں نے عبداللہ بن اُبیّ کا مشورہ دیا۔ جسے تمام سرداروںنے قبول کر لیا اور یہودی اپنی سازش میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی عبداللہ بن اُبیّ کی رسم تاج پوشی کے لئے تاج تیار کیا جا رہا تھا کہ مدینہ منورہ میں اسلام طلوع ہو گیا اور پھر دھیرے دھیر ے ہر گھر میں اسلام پہنچنے لگا اور انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ لانے کی تیاری میں لگ گئے۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو ہر کسی نے انھیں حکمراں تسلیم کر لیا۔ یہا ں تک یہودیوں نے بھی’’ میثاق مدینہ ‘‘پر دستخط کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن اُبی دل سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرنے لگا۔ لیکن ظاہری طور سے مخالفت نہیں کی۔ لیکن اسلام بھی قبول نہیں کیا ۔ غزوہ بدر میں فتح کے بعد یہودیوں نے اسے مشورہ دیا کہ اب تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم دیکھاوے کے طور پر اسلام قبول کر لو تا کہ مسلمانوں کا تم پر اعتماد قائم ہو جائے اور پھر ان کے درمیان رہ کر ان کی جڑیں کھوکھلی کرواور انھیں کمزور کرو۔ عبدا للہ بن اُبیّ کو یہ رائے پسند آئی اور ا س نے اپنے منافق ساتھیوں کے ساتھ مل کر دکھاوے کے لئے اسلام قبول کر لیا۔
عصمآ یہودیہ جہنم واصل ہوئی
یہ ایک عورت تھی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہمیشہ گستاخی کرتی تھی اور گستاخی بھرے اشعار کہتی تھی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہچانے کی کوشش کرتی تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر میں مصروف تھے کہ اس نے پھر گستاخی بھرے اشعار کہے۔ یہ اشعار سن کر حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ (یہ اندھے تھے) نے عہد کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر سے بخیریت واپس آئیں گے تو میں اس گستاخ کو قتل کر دوں گا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیریت کے ساتھ غزوئہ بدر سے تشریف لے آئے تو رات میں کسی کو بتائے بغیر حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے ایک تلوار لی اور خاموشی سے گستاخ یہودیہ کے گھر میں داخل ہوئے۔ ٹٹول کر بچوں کو ہٹایا اور تلوار کی نوک گستاخ یہودیہ کے سینے پر رکھکر اتنی زور سے دبایا کہ تلوار پیٹھ سے باہر نکل گئی۔ صبح فجر کی نماز انھوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد نبوی میں پڑھی اور پورا واقعہ بتا کر عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس معاملے میری تو پکڑ نہیں ہوگی ؟ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں۔ ‘‘ اس بارے میں دو بھیڑوں کے سر ٹکرانے کے برابر بھی پوچھ نہیں ہوگی۔ ‘‘یہ واقعہ ماہِ رمضان کی 26ویں رات کو پیش آیا۔
حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کی تعریف
ایک روایت میں آیا ہے کہ یہ بد بخت عورت گندے اور خون آلود کپڑے مسجد میں لاکر ڈال دیا کرتی تھی۔ جب حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس بدبخت گستاخ عورت کو قتل کیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہوکر فرمایا : ’’ اگر ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غائبانہ مدد کی ہو تو حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (مزاحاً)فرمایا : ’’اساعمیٰ(نابینا،اندھے) کو دیکھو تو سہی کہ کس طرح چھپ کر اللہ کی اطاعت کے لئے روانہ ہوا۔‘‘ حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ان کو اعمیٰ(نابینا ، اندھا) نہ کہو ۔ یہ تو بصیر (دیکھنے والے) ہیں ۔‘‘ یعنی ظاہری طور سے تو نابینا ہیں مگر دل کے بصیر اور بینا ہیں۔ رمضان المبارک کی پانچ راتیں باقی تھیں جب یہ بد بخت عورت جہنم واصل کی گئی ۔
غزوئہ بنی سلیم یا غزوئہ کدر
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو عیدالفطر کے فوراً بعد اطلا ع ملی کہ بنو سلیم اور بنو غطفان مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہورہے ہیں۔ اس خبر کے ملتے ہیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسو 200مجاہدین کو لیکر روانہ ہوئے اور اپنی جگہ مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عر فطہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو حکمراں بنایا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ چشمئہ کدر پر پہونچے تو معلوم ہوا کہ دونوں قبائل نے جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کے مدینہ منورہ سے نکلنے کی خبر سنی تو اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ گئے۔ تین دن تک سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا۔ لیکن کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ دونوں قبائل کے تعاقب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا تو وہ مال غنیمت میں 500پانچ سو اونٹ لیکر واپس ہوئے۔ بہر حال اس غزوئہ میں کو ئی قتال نہیں ہوا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مجاہدین کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے۔
ابی عفک یہودی جہنم واصل
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ کدر سے واپس آئے تو اطلاع ملی کہ ابو عفک یہودی نے ایک بار پھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ بد بخت ایک سو بیس سال کا بوڑھا تھا اور جب سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔ تب سے یہ گستاخ لگاتار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہتا تھا اور گستاخی بھرے شعر کہتا رہتا تھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’ کون ہے جو میرے لئے یعنی میری عزت و حرمت کے لئے اس خبیث کا کام تمام کرے ؟‘‘حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ نے دل میں پہلے ہی سے عہد کررکھاتھا کہ جب بھی موقع ملے گا تو اس بدبخت خبیث کا کام تمام کر دوں گا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبیث کے بارے میں فرمایا تو حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے ہی سے عہد کر رکھا ہے کہ موقع ملتے ہی اس بد بخت خبیث کا کام تمام کر دوں گا یا خود مرجائوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے قتل کی اجازت دیں ۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اس کے بعد حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ مکمل اس بد بخت یہودی کی تاک میں رہے۔ ایک دن موقع مل گیا۔ گرمی کی وجہ سے وہ بد بخت یہودی باہر آکر سو گیا ۔ حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ ہوشیاری سے اسکے پاس پہونچے اور اسکے جگر پر تلوار رکھکر اتنی زور سے دبایا کہ تلوار چار پائی کے پار ہوگئی۔ اس بد بخت اللہ کے دشمن نے زور سے چینخ ماری ۔ حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ تلوار نکال کر فوراً رفو چکر ہوگئے۔ تمام لوگ دوڑ تے ہوئے آئے تب تک وہ بد بخت مر چکا تھا۔
بنی اسرائیل (یہودیوں ) کی بدعہدی اور عیاری
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے اسلامی معاشرہ کی تشکیل فرمائی اور اسکے لئے’’ میثاق مدینہ ‘‘لکھوایا۔ (میثاقِ مدینہ کو تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔)اس میثاقِ میں مدینہ منورہ میں آباد اور مدینہ منورہ کے آس پاس آباد بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو بھی شامل فرمایا تھا اور انھوں نے بھی اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے میں یہ تحریر تھا کہ بنی اسرائیل یعنی یہودی نہ تو کبھی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے اور نہ ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کے کسی دشمن کی مدد کریں گے۔ لیکن اس معاہدے کے باوجود اس مکار ، عیار اور سازشی قوم نے اندرونی طور سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف محاذ بنائے رکھا اور اپنی مکاری اور عیاری سے انصار کو لڑانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس مہم میں یہودیوں کا قبیلہ بنو قینقاع پیش پیش تھا۔ کیونکہ اس قبیلہ کی آبادی مدینہ منورہ سے متصل یعنی لگ کر تھی۔ اس کا ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس مسلمانوں سے بہت حسد رکھتا تھا۔ اس نے ایک مجلس میں اوس اور خزرج کے مسلمانوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھا تو اپنے ایک نو جوان یہودی کو سیکھاپڑھا کر بھیجا ۔اس یہودی نے مسلمانوں کی مجلس میں بیٹھ کر ’’جنگ بعاث ‘‘کا ذکر شروع کر دیا اور اوس اور خزرج کے سرداروں کی تعریف کچھ ایسے انداز میں کرنے لگا کہ دونوں قبیلوں کے مسلمان انصار اپنے اپنے قبیلے کی تعریف کرنے لگے اور تُو تُو میں میں ہونے لگی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ دونوں قبیلوں کے مسلمانوں نے ہتھیار اٹھالئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنگامی طور سے فوراً وہاں تشریف لائے۔ دونوں قبیلے کے مسلمان جنگ کیلئے’’ حرّہ ‘‘میں جمع ہوگئے تھے اور جنگ بالکل شروع ہونے والی تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند فرمایا : ’’ اے مسلمانو ! اللہ …اللہ …میرے رہتے ہوئے یہ جاہلیت کی پکار اور وہ بھی اسکے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اسلام کی ہدایت سے سرفرازفرما چکا ہے اور اسلام کے ذریعے تم سے’’ جاہلیت‘‘ کا معاملہ کاٹ کر اور تمھیں کفر سے نجات دیکر تمھارے دلوں کو جوڑ چکا ہے؟‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نے انصار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ ندامت اور احساس شرمندگی سے رونے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبائل کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے گلے سے لگوایا اور حکمت سے اللہ کے دشمن شاش بن قیس کی مکاری اور عیاری سے لگائی آگ بجھا دی۔
غزوئہ بنو قینقاع کی شروعات
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت سے انصار کو لڑوانے کی سازش کو ناکام بنادیا ۔تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس سازش کا سرغنہ شاش بن قیس یہودی ہے۔ اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ بنی اسرائیل (یہودی) ظاہری طور سے مسلمانوں کی دوستی کا دم بھر تے ہیں۔ لیکن اندرونی طور سے مسلمانوں سے حسد اور نفرت کرتے ہیں اور انھیں آپس میں لڑوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں (بنی اسرائیل ) کے کئی قبیلے رہتے تھے۔ لیکن ان میںسب سے زیادہ مشہور تین بڑے قبیلے ہیں۔ ان کانام بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع ہیں۔ بنو قینقاع کا محلہ یا علاقہ مدینہ منورہ سے متصل تھا اور سب سے پہلے اسی قبیلے نے کھلے عام بد عہدی کی۔ ہوا یوں کہ یہودیوں نے اپنا صراف بازار(جہاں سونے چاندی کی خرید وفروخت ہوتی ہے)بنایا ہوا تھا۔ یہ لوگ پیشے سے سنار اور بر تن ساز تھے۔ ان کے بازار میں مسلمان خواتین زیورات کی خریدی کیلئے جاتی تھیں۔ ایک یہودی سنار نے ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی اور بے عزتی کرنے کی کوشش کی۔ اس مسلم خاتون نے مدد کیلئے مسلمانوں کو بلایا تو ایک جذ باتی مسلمان نے اس یہودی سنار کو قتل کردیا۔ وہاں موجود تمام یہودیوں نے اسے شہید کردیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھانے کیلئے ان کے علاقے میں گئے تو انھیں جنگ کی دھمکی دی۔ آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع پر حملے کی تیاری شروع کردی۔ یہ تمام واقعات انشا اللہ ہم آگے تفصیل سے پیش کریں گے۔
یہودیوں کی شرارت
اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مدینہ منورہ اور اسکے آس پاس بنی اسرائیل (یہودیوں) کے کئی قبائل آباد تھے۔ ان میں تین بڑے قبائل بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع مشہور تھے۔ دوسرے یہودی قبائل تو مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے۔ لیکن بنو قینقاع کی آبادی مدینہ منورہ کی آبادی سے متصل (یعنی لگ کر) تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی یہودیوں سے تحریری معاہدہ کر کے عہد لیا تھا کہ یہودی مسلمان سے جنگ نہیں کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں کی خلاف ان کے کسی دشمن کی مدد کریں گے۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کی مکاری ، عیاری اور سازشی ذہنیت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسکے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً موقع کی مناسبت سے بنی اسرائیل یہودیوں کو اسلام کی دعوت بھی دیتے رہتے تھے۔ لیکن یہ بدبخت انکار کردیتے تھے اور اپنی سازشی زہنیت کے مطابق مسلمانوں کو لڑوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسکی مثال ہم نے اس سے پہلے والی کتاب میں پیش کی ہے۔ غزوئہ قینقاع کی شروعات ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بدتمیزی سے ہوئی۔ جو ایک یہودی نے کی تھی۔
ایک یہودی کا مسلم خاتون سے بدتمیزی کرنا
اصل واقعہ یوں ہے کہ ایک نقاب پوش مسلم خاتون بنو قینقاع کے صراف بازار میں اپنا کچھ سامان بیچنے آئی۔ اپنا سامان بیچ کر وہاں کے ایک یہودی سنار کے پاس زیور خریدنے بیٹھی۔ اس بدبخت یہودی سنار نے اس خاتون کو چہرہ بتانے کو کہا تو اس خاتون نے انکار کر دیا۔ سنار نے خاتون کی لاعلمی میں اس کی چادر کا کونہ ایسی جگہ باندھ دیاکہ جب وہ خاتون جانے کے لئے اٹھی تو اسکی چادر کھل گئی اور وہ بے نقاب ہوگئی ۔ یہ منظر دیکھکر وہاں موجود یہودیوں نے اسکا مذاق اڑایا اور ہنسنے لگے۔ وہ خاتون مدد کے لئے چلائی تو وہاں موجود ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا ۔وہاں موجود یہودیوں نے ملکر اس مسلمان پر حملہ کردیا ۔ کچھ دیر وہ مسلمان مقابلہ کرتا رہا لیکن آخر شہید ہوگیا۔ اس مسلمان کے ساتھیوں کو معلوم ہوا تو وہ حقیقتِ حال معلوم کرنے آئے تو یہودیوں نے ان پر حملہ کردیا۔ اور بنو قینقاع میں فساد کے حالات پیدا ہو گئے۔
بنو قینقاع کے یہودیوں نے جنگ کا الٹی میٹم دیا
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فساد کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بنو قینقاع کے بازار میں تشریف لائے۔ تمام بنی اسرائیل (یہودی ) سیدالانبیائصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے۔ ہر ایک ہتھیار سے لیس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سمجھایا اور فرمایا: ’’ اے گروہِ یہود ! اسلام قبول کر لو ۔اللہ سے ڈرو۔ایسا نہ ہو کہ قریش کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے سزا دی ہے۔ کہیںتمھیں بھی ویسی سزا نہ ملے۔‘‘ (سیرت النبی ابن ہشام )تاریخ طبری میں ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے گروہ ِ یہود ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو۔ کہیں تم کو وہ ویسی ہی سزا نہ دے جیسی قریش کو دی ہے ۔ تم جانتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ وہ رسول جس کا ذکر خود تمھاری کتابوں میں ہے اور اس میثاق(عہد) میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے لیا ہے۔ تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے گروہ یہود ! تم مشرکین کے حال سے عبرت پکڑو۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے غرور کی سزا دی ہے اور تمھارے نبی مرسل ( بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام اور خاص طور سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ) کے ذریعے اللہ نے (میری نبوت کے بارے میں) جو تمھیں خبر دی ہے۔ اسکے مطابق اسلام میں داخل ہوجائو اور اللہ کے حکم پر عمل کرو۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کلمات سن کر تمام بنو قینقاع کے یہودیوں نے ایک ساتھ کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم اپنی قوم قریش پر (جنگ بدرمیں ) فتح حاصل کر کے مغرور نہ ہوجائو۔ کیونکہ وہ لوگ تو حرب و ضرب اور جنگ کے ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ لیکن اگر تم نے ہم سے مقابلے کا ارادہ کیا تو تم کو جنگ میں ہماری مہارت اور شجاعت دیکھکر ہماری مر دانگی کا پتہ چل جائے گا۔ ‘‘یہ الفاظ البدایہ و النہایہ میں تحریر ہیں ۔ جو بنو قینقاع کے یہودیوں نے جواب میں کہا تھا۔ سیرت النبی ابن ہشام اور تاریخ طبری میں اس سے ملتے جلتے الفاظ تحریر ہیں۔
غزوئہ بنو قینقاع
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے خاموشی سے چلے آئے اور ان بد بختوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (ترجمہ) : ’’ اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو کسی قوم سے خیانت (یعنی عہد شکنی)کا اندیشہ ہوتو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے عہد کو مساوی طور پر واپس کردیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ ترجمہ اور آیت مکمل ہوئے۔بنو قینقاع نے جس طرح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا تھا وہ کھلا اعلان جنگ تھا اور معاہدے کو توڑنے کا اعلان تھا۔ اسلئے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بنو عوف کے ہیںاوروہ بنو قینقاع کے حلیف تھے اور ان کے تعلقات ان یہودیوں سے بڑے اچھے تھے۔ انھوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر یہودیوں کی دوستی سے دست برداری کا اعلان کردیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کا اعلان کیا اور سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور ایمان والوں سے محبت کرتا ہوں اور کافروں کی دوستی اور ان کے حلیف ہونے سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ اسکے بعد پندرہ شوال ۲ھ کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ حضرت بشیر بن عبدالمنندر رضی اللہ عنہ (ان کی کنیت ابو البابہ ہے) مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا اور مجاہدین کو لیکر بنو قنقاع کے علاقے میں پہونچے۔ اسلامی لشکر کا جھنڈا (عَلم) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ کے ہاتھ میں دیا۔ بنو قینقاع کے یہودیوں نے بڑی بڑی ڈینگیں ماری تھیں۔ لیکن یہ لوگ اندر سے بہت بزدل ہوچکے تھے۔ اسلئے انھوں نے جب مسلمانوں کی جنگ کی تیاری کا حال سنا تو بے حد مرعوب ہوگئے اور جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر لیکر وہاں پہونچے تو وہ پہلے سے گڑھیوں میں قلعہ بند ہوچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کرلیا۔
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی سفارش
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ شوال بروز جمعہ کو بنو قینقاع کا محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ پندرہ دنوں تک چلا۔ یہودی اتنے بزدل ہوچکے تھے کہ کوئی بھی مقابلے پر نہیں آیا۔ منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی( جسے اسلام قبول کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے)۔ یہودیوں کا حلیف تھا۔ انھوں نے اس منافق کو پیغام بھیجا کہ ہم ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حوالے کررہے ہیں تم ان سے ہماری جان بخشی کروادو۔ جب مسلمان یہودیوں کو گرفتار کر رہے تھے تو عبداللہ بن ابی نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے موالیوں (دوستوں) پر احسان کریں۔ یہ لوگ خزرج کے حلیف تھے۔‘‘ جب دیر تک سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے پھر کہا : ’’ میرے موالیوں پر احسان کریں۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہیں دیا اور اسکی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس منافق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک پکڑ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے چھوڑ دو۔ ‘‘ لیکن وہ پکڑے ہی رہا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرئہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس سے کہا : ’’ تجھ پر افسوس ہے میری چادر چھوڑ دے۔ ‘‘ مگر اس نے کہا : ’’ اللہ کی قسم ! میں اسے ہر گز اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک تم میرے موالیوں پر احسان نہ کرو گے اور ان کی جان بخشی نہ کرو گے۔ ان میں چار سو غیر مسلح اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ حبشیوں اور فارسیوں(ایرانیوں) سے مجھے بچایا ہے اور تم انھیں قتل کرنے والے ہو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر کوئی مصائب نہ آجائے ۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اچھا تمھاری خاطر میں نے انھیں چھوڑ دیا۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اچھا ان کو چھوڑ دو۔ ان پر (بنو قنقاع پر) اور اس پر (عبداللہ بن ابی پر) جو ان لوگوں کے ساتھ ہے اللہ کی لعنت ہو۔‘‘ (یہ الفاظ تاریخ طبری میں ہیں اور بقیہ کتابوں میں یہ واقعہ الگ الگ الفاظ میں بیان ہوا ہے۔)
بنو قنقاع کی جلا وطنی
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’رئیس المنافقین‘‘ (منا فقوں کا سردار ) عبداللہ بن ابی کے کہنے پر بنو قینقاع کے یہودیوں کہ جان بخشی کردی ۔ لیکن ساتھ ہی ان کی جلا وطنی کا حکم بھی دیااور فرمایا : ’’ تمام بنو قینقاع اپنی ہر چیزکو چھوڑ کر اپنی جان بچا کر چلے جائیں۔‘‘ یہاں پر ایک سچے صحابی رضی اللہ عنہ اور ایک منافق کا فرق بالکل واضح طور سے کھل کو سامنے آیا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ماضی میں یہودیوں کے دوست تھے۔ لیکن جب انھوںنے دیکھا کہ یہ لوگ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کر رہے ہیں تو انھوں نے بھی ان سے دشمنی کرلی اور عبداللہ بن ابی یہ جانتا تھا کہ یہ یہودی غلط کررہے ہیں۔ پھر بھی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبور کیا کہ انھیں چھوڑ دیں اور اپنے منافقت کا ثبوت دیا۔ جبکہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خود اپنی نگرانی میں ان بد بخت یہودیوں کو جلا وطن کر کے آئے ۔ ان میں کچھ یہودی بنو قریظہ چلے گئے اور کچھ بنو نضیر چلے گئے۔
پہلی عید قرباں (عیدالاضحٰی)
یکم ذی القعدہ کو بنو قینقاع پر مسلمانوں کو فتح ملی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں مالِ غنیمت میں سے پہلا خمس نکالا اور بقیہ چار حصوں کو صحابہ کرام یعنی مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور پورا ماہِ ذی القعدہ مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔ پھر ماہِ ذی الحجہ شروع ہوا اس ماہ میں غزوئہ سویق پیش آیا۔ کچھ روایا ت میں ذکر ہے کہ غزوئہ سویق 5ذی الحجہ کو پیش آیا۔ بہر حال تمام روایات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ غزوئہ سویق ماہ ذی الحجہ میں پیش آیا۔ اسکا تفصیلی ذکر انشا اللہ آگے کریں گے۔ 10ذی الحجہ کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ’’عید قرباں ‘‘ یا ’’عیدالاضحی ‘‘ منانے کا اعلان فرمایا۔یہ پہلی عید قرباں تھی اور 10ذی الحجہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہما عید گاہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحبِ حیثیت صحابہ کرام نے قربانی کی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوئہ قینقاع سے واپس آکر ہم نے دس ذی الحجہ کی صبح قربانی کی۔ یہ پہلی قربانی تھی جو مسلمانوں کے سامنے ہوئی۔ ہم نے بنو سلمہ میں قربانی کی۔ میں نے قربانیوں کا شمار کیا تو اس روز سترہ قربانیاں ہوئی تھیں۔
غزوئہ سویق
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کے ہاتھوں غزوئہ بدر میں قریش کے لشکر کی ذلت آمیز شکست کے بعد ابو سفیان نے قسم کھائی تھی کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان ساتھیوں کا خون نہ بہالے گا۔ تب تک غسل نہیں کرے گا۔ اپنی قسم پوری کرنے کے لئے وہ قریش کے دو سو شُتر (اونٹ) سوار لیکر نکلا اور نجدیہ کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ نہر کے اوپر والے حصے میں ایک پہاڑ جس کا نام ثیب یا نیب ہے اس پر پڑائو ڈال دیا۔ یہ مدینہ منورہ سے ایک برید( چارفرسنح یا بارہ میل ، عام طور سے اس زمانے میں اتنے فاصلے کو ایک منزل کی مسافت کہا جاتا تھا)کے فاصلے پر تھا۔ ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر اکیلا تیزی سے سفر کرتے ہوئے۔ رات کے اندھیرے میں بنو نضیر (یہودیوں کی بستی) میں آیا اور حی بن اخطب کے دروازے پر جاکر دستک دی تو وہ ڈر گیا اور دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔ ابو سفیان وہاں سے لوٹ کر سلام بن شکم کے پاس پہونچا۔ وہ اس زمانے میں بنو نضیر کا سردار اور خزانچی تھا۔ ابو سفیان نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو اس نے دیدی۔ اس نے ابو سفیان کو کھانا کھلایا اور شراب پلائی۔ ابو سفیان نے اسے آنے کا مقصد بتایا تو اس نے مدینہ منورہ کے بارے میں اسے بھر پور معلومات دے دی۔
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کا تعاقب کیا
اسکے بعد اسی رات ابو سفیان واپس اپنے ساتھیوں کے پاس پڑائو میں آگیا اور اس نے اپنے چند ساتھیوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہدایت دے کر روانہ کیا۔ وہ مدینہ منورہ کے اس علاقے کیطرف آئے جسے ’’عریض ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہ مدینہ منورہ کا نشیبی یا میدانی علاقہ تھا۔ وہاں ایک انصاری صحابی اپنے حلیف کے ساتھ کھجوروں کے باغ یا کھیت میں کاشتکاری کررہے تھے۔ انھوں نے ان دونوں کا قتل کردیا اور کھجوروں کے درخت کو آگ لگادی اور واپس ابوسفیان کی طرف بھاگے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ حضرت ابوالبابہ بن عبدالمنندر کو اپنی جگہ مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا۔ابو سفیان کے ساتھیوں نے اسکے پاس پہنچ کر بتایا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاقب میں آرہے ہیں تو ابوسفیان بڑے ہنگامی حالات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف تیزی سے بھاگا اور جلدی راستہ طئے کرنے کے لئے جو سویق (سَتّو) کے تھیلے اپنے ساتھ کھانے کے لئے لائے تھے وہ پھینک کر چلے گئے۔ کیونکہ ان کا وزن تیز رفتاری میں رکاوٹ بن رہاتھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسکے تعاقب میں قر قرۃ الکدر تک گئے۔ لیکن ابو سفیان تیز رفتاری سے نکل گیا اور’’ سویق ‘‘ (سَتو)کے بہت سارے تھیلے اسلامی لشکر کے ہاتھوں لگ گئے۔ اس لئے اس غزوئہ کا نام غزوئہ سویق پڑ گیا۔ یہ الفاظ سیرت النبی ابن ہشام کے ہیں اور طبقات ابن سعد میں ہے کہ ابو سفیان خود مدینہ منورہ کے علاقے عریض میں آیا اور وہاں آگ لگائی اور کام کرنے والے ایک مزدورکو قتل کیا اور سمجھا کہ قسم پوری ہوگئی اور بھاگ گیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر المظفر ۲ھ ھجری میں اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکاح کا پیغام لیکر حاضر ہوئے۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ تو دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو مشورہ دیا کہ وہ رشتہ طلب کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب ان دونوں حضرات نے مجھے یہ مشورہ دیا تو میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمھارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’ ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے۔ ‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جہا ں تک گھوڑے کا تعلق ہے تو وہ تمھارے لئے ضروری ہے۔ البتہ زرہ کو بیچ دو۔‘‘ میں نے وہ زرہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں 480چار سو اسی درہم میں بیچ دی۔ (بعد میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہ کو تحفے میں دے دی۔)میں رقم لیکر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کچھ پیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دئیے اور فرمایا ’’ اس سے خوشبو خرید کر لے آئو اور باقی پیسوں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کو روک کر ہم ایک دوسری حدیث پیش کرتے ہیں تاکہ تسلسل برقرار رہے۔
نکاح کی مقدس مجلس
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پھر چند دنو ںبعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :’’ اے انس (رضی اللہ عنہ) !حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلا لائو۔‘‘ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دس سال کی عمر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ان کی والدہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے انھیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا تھا۔ تب سے لیکر مسلسل دس سال تک حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے ) میں جاکر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خطبہ پڑھا۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے ولی تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جو اپنی نعمتوں کے سبب تعریف کیاگیا ۔ اپنی قدرت کے سبب معبود ہے۔ اسکے عذاب اور سطوت کے باعث اس سے خوف کھا یا جاتا ہے۔ اسکا حکم آسمانوں اور زمین پر نافذ ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے مخلوق کو پیدا فرمایا اور اپنے احکام کے ذریعے ان کو ممتاز کیا۔ اپنے دین کے ساتھ ان کو عزت بخشی۔ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ان کو مکرم اور محترم بنایا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا نام برکت والا ہے اور اس کی عظمت بلند ہے۔ اس نے مصاحرت (سسرالی رشتہ) کو لاحق ہونے والا بنایا۔ (کہ اسکے ذریعے ایک نسب دوسرے نسب سے مل جاتا ہے) اور اسے لازم قرار دیا۔ جسکے ذریعے رحموں کو ملایا جاتا ہے اور اسے مخلوق پر لازم قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ اور وہی ذات ہے جس نے پانی (مادئہ منویہ ) سے انسان کو پیدا فرمایا۔ پس اسے نسب اور سسرالی رشتہ میں منسلک کیا اور تمھارا رب اس پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم اس کی قضا کی طرف اور اسکی قضا اسکی قدر کی طرف جارہی ہے اور ہر قضا کیلئے ایک قدر ہے اور ہر قدر(تقدیر) کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور ہر مقرر وقت لکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اسکے پاس’’ ام الکتاب‘‘(لوحِ محفوظ ) ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردوں ۔ پس تم لوگ گواہ رہنا میں نے چالیس مثقال چاندی پر ان کا نکاح کیا اگر اس پر راضی ہوں۔‘‘ پھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجورو ںکا ایک تھال منگوایا اور فرمایا : ’’ اسے لوٹو۔ ‘‘ تو ہم نے اسے لوٹا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھکر مسکرائے اور فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں چار سو مثقال چاندی پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کروں۔ کیا تم اس پر راضی ہو؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس پر راضی ہوں۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمھارے متفرق امور کو جمع کرے (یعنی دونوں میں اختلاف نہ ہو بلکہ اتفاق ہو۔) اور تمھاری کوشش کو معزز فرمائے۔‘‘ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو پاک اولاد (حضرت حسن ، حضرت حسین اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہما) عطا فرمائی۔‘‘ اب ہم اس حدیث کو مکمل کرتے ہیں جسے روک دیا تھا۔
سیدالانبیاء ﷺ نے ان دونوں کی اولاد کو اللہ کی پناہ میں دیا
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ کے پیسے لاکر دئیے تھے۔ یہ آپ پڑھ چکے ہیں اور ان پیسوں میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خوشبو لانے کے لئے دئیے اور باقی سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیسوں سے ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرایا۔ ہم غور کریں کہ کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ بہر حال جہیز یہ تھا کہ ایک چار پائی بنائی گئی جو کھجور کے پتوں سے بنی گئی تھی اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (اور ایک چادر اور ایک مشکیزہ تھا) سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تمھارے گھر آئیں تو ان سے کچھ نہ کہناجب تک میں تمھارے پاس نہ آجائوں۔ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں : ’’ (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ) سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں تھیں۔ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا : ’’ یہاں میرا بھائی ہے؟ ‘‘ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی یہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کا نکاح ان سے کردیا ہے؟ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہاں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ پانی لائو۔ ‘‘ گھر میں پیالہ تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس میں پانی لیکر آئیں۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں سے کچھ پانی اپنے منہ میں لیکر واپس پیالے میں کلی کردی پھر فرمایا : ’’ آگے بڑھو ۔ ‘‘ وہ آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے اور سر پر پانی چھڑ کااور فرمایا : ’’ اے اللہ تعالیٰ ! میں اسے اور اسکی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’ پیٹھ پھیرو ۔ ‘‘ انھوں نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان پانی چھڑکا۔ پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام اور برکت سے اپنی زوجہ کے پاس سے جائو۔ ‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیںکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا(سے نکاح) پر ولیمہ کیا تو اس زمانے میں آپ کے ولیمہ سے افضل کوئی ولیمہ نہیں تھا۔ اس ولیمہ میں صاع جَواور کھجوریں اور حیس تھا۔ حیس(ایک قسم کا حلوہ ہوتا ہے جو) کھجور اور پنیر سے بنتا ہے۔
غزوئہ غطفان یا غزوئہ انمار یا غزوئہ ذی امر
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ ختم ہونے اور محرم الحرام کے کچھ دن گذرنے تک مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو ثعلبہ اور بنو حارب (یہ قبیلہ غطفان کی شاخیں ہیں) نجد میں جمع ہورہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں لوٹ مار کریں۔ دعثور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ اطلاع ملتے ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو جمع کیا اور مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ حکمراں بنایا اور چار سو پچاس مجاہدین کے ساتھ محرم الحرام کے درمیانی یا آخری ایام (دنوں) غطفان کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو غطفان کی دونوں شاخوں کے لوگ جو وہاں جمع تھے جیسے ہی انھیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کے آنے کی اطلاع ملی ۔وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے اور منتشر ہوکر پہاڑوں میںچھپ گئے۔ بنو ثعبلہ کا ایک شخص گرفتار ہوا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ محرم الحرام کے آخری چند دن اور صفر المظفر کا پورا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں قیام پذیر رہے۔ لیکن کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔ آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے چشمہ ذی امر پر قیام فرمایا اسلئے اسے غزوئہ ذی امر بھی کہتے ہیں۔
دعثور کا قبول اسلام
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غطفان کے میدان میں لگ بھگ ایک مہینے سے زیادہ قیام فرمایا۔ اسی دوران دعثور کے قبول اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ کئی علمائے کرام نے فرمایا کہ واقعہ اس غزوئہ میں نہیں بلکہ دوسرے غزوئہ میں پیش آیا۔ لیکن کئی علمائے کرام کا قول ہے کہ اسی قسم کا واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔ ایک تو اس غزوئہ میں اور دوسرا کسی اور غزوئہ میں پیش آیا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے کچھ دور تنہائی میں ایک درخت کے سائے میں آرام فرمارہے تھے اور بنو ثعلبہ اور بنو حارب کے لوگ ڈر کر بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے تھے۔ وہ پہاڑوں پر سے نیچے میدان میں دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے سردار’’ دعثور‘‘ کو کہا کہ آپ بہت بہادر ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں سے کافی دور ایک درخت کے سائے میں اطمینان سے سورہے ہیں۔ موقع بہت اچھا ہے آپ جاکر انھیں قتل کر آئیں۔ دعثور نے ایک بہت تیز تلوار لی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار تان کر کھڑا ہوگیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی دعثور دکھائی دیاجو حملے کیلئے تلوار سونتے کھڑا تھا۔ اُس نے کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) بتائو آج تم کو میری تلوار سے کون بچائے گا ؟ ‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اطمینان سے لیٹے رہے اور فرمایا : ’’ مجھے تجھ سے اللہ تعالیٰ بچائے گا۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ مکمل کئے تھے کہ جبرئیل علیہ السلام نے دعثور کے سینے پر مُکّہ مارا جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے تلوار گر پڑی ۔ وہ حیرانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھاکہ اسے کس نے مارا۔ اسی دوران سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتی سے تلواراٹھالی اور اس کے اوپر تان کر فرمایا : ’’ اب تم بتائو کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اب وہ حیران ہونے کی بجائے خوف کا شکار ہوگیا اور کہا : ’’ کوئی نہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار ہٹالی اور اسے دے دی دعثور حیرانی سے کچھ دیر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا رہا پھر اس نے کہا : ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کرلیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فوج جمع نہیںکروں گا۔ اسکے بعد حضرت دعثور رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ان کی قوم نے کہا : ’’ اے سردار ! جس کام کے لئے آپ گئے تھے اسکا کیا ہوا ؟ ‘‘ حضرت دعثور رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسکے بعد وہیں پورا واقعہ بیان کیا اور اپنے قوم کو اسلام کی دعوت دی۔
کعب بن اشرف یہودی کی گستاخی
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ غطفان سے ربیع الاوّل کے شروعاتی دنوں میں مدینہ منورہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ پر محرم الحرام ۳ھ کو گئے تھے اور ربیع الاول ۳ ھ ھجری کو واپس آئے اور ۱۴ ربیع الاوّل کی رات کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ کعب بن اشرف ایک بہت امیر یہودی تھااور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’وہ آخری نبی ‘‘ہیں۔ جن کے بارے میں بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام نے بشارت دی ہے اور توریت اور انجیل میں ان کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اسکے باوجود وہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا بلکہ حسد کرنے لگا اور دشمنی کرنے لگا۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہکانے لگا اور گستاخی بھرے شعر کہنے لگا۔ غزوئہ بدر میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو جو فتح اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اسکی خبر جب اس بدبخت یہودی کعب بن اشرف کو ملی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے کہا : ’’ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ مکرمہ کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ہیں تو زمین کا بطن(یعنی قبر) اسکے ظہر (یعنی پشت یا اوپر)سے بہتر ہے۔‘‘ یعنی زندہ رہنے سے اچھا مر جانا ہے۔ لیکن جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو غزوئہ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کے رشتہ دار وں کے پاس تعزیت کیلئے یہ بد بخت یہودی مکہ مکرمہ گیااور بدر میں مارے گئے کافروں کے مرثیے لکھتا تھا اور پڑھ پڑ ھ لوگوں کو سناتا تھا اور خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قریش کے کافروں کو جنگ کیلئے آمادہ کرنے کئی کوشش کرتا تھا ایک دن قریش کو لیکر حرم میں آیا اور خانہ کعبہ کا پر دہ تھام کر مسلمانوں سے جنگ کرنے کا حلف لیا، اسکے بعد مدینہ منورہ آیا اور مسلمان خواتین کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے لگا۔
بد بخت کعب بن اشرف کے قتل کا حکم
حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف بہت بڑا یہو دی شاعر تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھرے شعر کہتا تھا اور مکہ مکرمہ کے کافروں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کر نے کے لئے بھڑکاتا رہتا اور مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے کی کو شش کرتا تھا ۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو مسلسل صبر و تحمل کا حکم دیتے تھے۔ لیکن جب اسکی گستاخیاں اور شرارتیں حد سے گذر گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم،دے دیا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی ایک اور روایت میںہے کہ ایک مرتبہ بد بخت کعب بن اشرف یہو دی نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کے بہا نے بلایا اور کچھ یہودیوں کو متعین کر دیاکہ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو تم لوگ حملہ کر کے انھیں قتل لر دینا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آکر بیٹھے ہی تھے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے آکر اس بد بخت یہودی کے ارادے کی خبر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراََ وہاں سے اٹھ کر جبرئیل امین علیہ السلام کے پروں کے سائے میں باہر تشریف لائے اور واپس آکر اس بد بخت یہودی کے قتل کا حکم دیا۔
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بد بخت یہو دی کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رو ایت ہے کہ سید الابنیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم میں سے کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اذیت دی ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اسے قتل کر دیا جائے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : ’’ ہاں ۔‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر مجھ کو کچھ کہنے کی اجازت دیں۔‘‘ (یعنی ایسے الفاظ اورجملے کہنے کی اجازت دیں جس سے وہ بد بخت یہو دی خوش ہو کر جال میں پھنس جائے)سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہیں اجازت ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو روک کر ہم ایک دوسری روایت پیش کر رہے ہیں تا کہ پورا واقعہ صحیح سمجھ میں آجائے۔ امام ابن عبد البر کی روایت میں ہے کہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تو کئی دن اسی غور فکر میں گزارے ۔ آخر کار کعب بن اشرف کے چچا زاد بھائی حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلامہ بن رقش رضی اللہ عنہ ، حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ، حضرت حارث بن اوس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبس بن جبران رضی اللہ عنہ سے مل کر مشورہ کیا۔ سب نے آمادگی ظاہر کی اور ایک ساتھ سب نے کہا کہ ہم سب مل کر اس بد بخت کو قتل کریں گے۔ پھر سب مل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ وہاں جا کر کچھ نہ کچھ کہنا پڑے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو مناسب سمجھو کہنا میری طرف سے اجازت ہے۔ ‘‘ اب ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ایک دن کعب بن اشرف سے ملنے گئے اور کہا :’’ یہ مرد ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے صدقہ اور زکوٰۃ مانگتا ہے اور اس شخص نے ہمیں مشقت میں ڈال دیا ہے۔ میں اس وقت آپ کے پاس قرض لینے آیا ہوں۔‘‘ بد بخت کعب بن اشرف نے کہا : ’’ ابھی کیا ہے آگے چل کر دیکھنا للہ کی قسم ! تم اس شخص سے اُکتا جائو گے۔ ‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اب تو ہم اُن کے پیرو ہو چکے ہیں اُن کا ساتھ چھوڑنا پسند نہیں کرتے اب دیکھیں کیا انجام ہوتا ہے۔ اس وقت ہم ہم چاہتے ہیں کہ کچھ غلّہ ( اناج ) ہم کو قرض کے طور پر دے دیں۔‘‘ کعب بن اشرف نے کہا : ’’ پہلے کوئی چیز رہن (گِروی) رکھ دو۔ ‘‘ انھوں نے کہا : ’’ آپ کیا چیز رہن رکھوانا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ اس بد بخت یہودی نے کہا : ’’ اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو۔‘‘ اُن لوگوں ( حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بقیہ لوگ بھی آئے تھے) نے کہا : ’’ اپنی عورتوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں ؟ یہ ہماری غیرت اور حمیت گوارا نہیں کرتی۔ ‘‘ اُس بد بخت نے کہا : ’’ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’ یہ تو ساری عمر کا عار ہے۔ ہماری اولاد ہم کو طعنہ دے گی ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔ ‘‘کعب بن اشرف نے کہا : ’’ ٹھیک ہے ! رات کو ہتھیار لے کر آنا اور غلّہ ( اناج ) لے کر جانا۔‘‘
سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں کعب بن اشرف کا سر
حضرت جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ابھی جاری ہے۔ بد بخت کعب بن اشرف نے اُن لوگوں کو رات میں اپنے گھر بلایا تھا کہ وہ ہتھیار لے کر آئیں اور رہن رکھ کر غلہ لے جائیں۔ وعدہ کے مطابق وہ لوگ رات کو اُس کے گھر پہنچے اور آواز لگائی ۔ کعب بن اشرف اپنے قلعہ سے اتر کر باہر آیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسی درمیان اپنے ساتھیوں کو سمجھا دیا تھا کہ وہ بدبخت یہودی خوشبو کا استعمال بہت کرتا ہے۔ میں اس کا سر سونگھنے کے بہانے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑلوں گا اور تم اس کا سر قلم کر دینا۔ کعب بن اشرف باہر آیا تو خوشبو سے معطر تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ آج تک میں نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی ۔ ذرا اپنے سر کو سونگھنے کی اجازت دو۔ ‘‘ کعب بن اشرف نے اپنا سر جھکا کر آگے کر دیاتو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بال مضبوطی سے پکڑ لئے اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا تو انھوں نے اس کا سر قلم کر دیا اور آناً فاناً اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی رات وہ تمام لوگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھتے ہی فرمایا : ’’ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ‘‘ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک ۔‘‘ ( کامیاب ہوا اور فلاح پائی) اور اس کے بعد بد بخت گستاخ کعب بن اشرف کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’الحمد اللہ ‘‘فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ جب یہودیوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ سب مسلمانوں سے بہت زیادہ مرعوب اور خوف زدہ ہو گئے اور جب صبح ہوئی تو یہودیوں کی ایک جماعت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : ’’ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہ مسلمانوں کو طرح طرح سے اذیتیں دیتا تھا اور ہمارے دشمنوں کو ہمارے خلاف جنگ پر آمادہ کرتا تھا۔ ‘‘یہ سن کر وہ لوگ کوئی جواب نہیں دے سکے اور پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے یہ عہد نامہ لکھوا کر لے لیا کہ آئندہ کوئی بھی یہودی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔
غزوہ ٔ بحران
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول اور ربیع الاخر کے مہینے مدینہ منورہ میں گزارے اور جمادی الاول میں غزوہ بحران کے لئے روانہ ہوئے۔ بحران ، فرع کے نواح میں ہے اور مدینہ ٔ منورہ اور فرع کے درمیان آٹھ برد ( 96میل) کا فاصلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین سو مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے اور اپنی جگہ حضرت ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا ۔ اس غزوے کے سلسلے میں کچھ روایات میں آیا ہے کہ بنو سلیم ’’بحران ‘‘میں جنگ کے لئے جمع ہور ہے تھے ۔ یہ روایت امام محمد بن سعد وغیرہ نے بیان فرمائی ہے اور کچھ روایات میں آیا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کے ارادے سے نکلے تھے ۔ یہ روایت عبد الملک بن ہشام وغیرہ نے بیان فرمائی ہے اور علامہ ابن قیّم نے زادالمعاد میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بحران تک کا سفر کیا تھا اور وہاں کم سے کم دس دن اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ سے کچھ زیادہ قیام فرمایا تھا اور بغیر جنگ وقتال کئے مدینہ منورہ واپس آگئے تھے۔
سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاخر ۳ ھ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک سو (۱۰۰) مجاہدین کو قریش کے قافلے کے ارادے سے بھیجا۔ قریش غزوہ بد ر کی شکست کی وجہ سے اضطراب میں مبتلا تھے۔ اسی دوران گرمی کا موسم آگیا اور ملک شام سے تجارتی سفر کا وقت آگیا تو وہ اور بھی فکر میں مبتلا ہو گئے۔ بہر حال قریش نے ملک شام کی طرف تجارت کے لئے قافلے کو تیار کیا ور صفوان بن امیہ کو قافلے کا سردار ( میر کارواں ) بنایا۔ صفوان نے کہا : ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں نے ہمارے تجارتی راستے کو بہت تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اُن کے ساتھیوں سے کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑ کر ہٹتے ہیں نہیں ہیں اور ساحلی علاقے کے باشندوں نے اُن سے صلح کر لی ہے۔ عام لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے ہیں اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون سا راستہ اختیار کریں؟اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہے تو اپنااصل مال بھی کھا جائیں گے اور کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ کیوں کہ ہم مکہ مکرمہ والوں کی زندگی کا دارو مدار اس پر ہے کہ گرمی میں ہم ملک شا م سے تجارت کریں اور سردی میں حبشہ سے تجارت کریں۔‘‘ صفوان بن اُمیہ کے اس سوال پر مکہ مکرمہ کے تمام سردار غور و خوض کرنے لگے۔ آخر اسود بن عبد المطلب نے صفوان سے کہا : ’’ تم ساحل کا راستہ چھوڑ کر عراق کے راستے سفر کرو۔ ‘‘یہ راستہ بہت لمبا تھا اور نجد سے ہو کرملک شام جاتا تھا اورمدینہ منورہ کے مشرق میں خاصے فاصلے سے گزرتا تھا۔ قریش اس راستے سے بالکل ناواقف تھے۔ اس لئے اسود بھی عبد المطلب نے صفوان بن اُمیہ کو مشورہ دیا کہ وہ فرات بن حیان کو ( جو قبیلہ بکر بن وائل کا تھا۔) راستہ بتانے کے لئے راہ نما رکھ لے۔ وہ اس سفر میں اس کی رہنمائی کرے گا۔
سید الانبیاء ﷺ کو قافلے کی اطلاع
اسطرح مکمل انتظام کے ساتھ قریش کا تجارتی قافلہ صفوان بن امیہ کی قیادت میں نئے راستے سے روانہ ہوا۔ مگر اس تجارتی قافلے اور اسکے سفر کے پوری منصوبے کی خبر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچ گئی۔ وہ اسطرح کہ حضرت سلیط بن نعمان رضی اللہ عنہ جو مسلمان ہوچکے تھے ۔ نعیم بن مسعود کے ساتھ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یہ دونوں شراب پی رہے تھے۔ (یاد رہے اس وقت تک شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) جب نعیم بن مسعود پر شراب کا غلبہ ہوا تو انھوں نے قافلے اور اسکے سفر کے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کر ڈالی ۔ حضرت سلیط بن نعمان رضی اللہ عنہ بجلی کی سی تیز رفتاری سے مدینہ منورہ آئے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام تفصیل بیان کردی۔
قریش کو بڑا جھٹکا
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً حملے کی تیاری کی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک سو مجاہدین کو قافلے کی طرف بھیجا۔ انھوں نے بہت تیزی سے راستہ طئے کیا اور قریش کا قافلہ قردہ نام کے ایک چشمے پر پڑائو ڈالنے کی تیاری کررہا تھا کہ اچانک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ پہونچ گئے۔ انھیں آتے دیکھ کر صفوان بن امیہ اور دوسرے محافظین بھاگ گئے اور مسلمانوں نے فرات بن حیان اور مزید دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور پورے تمام مال و اسباب پر قبضہ کرلیا اس میں چاندی کی اور ظروف کی بہت بڑی مقدار تھی۔ ایک لاکھ درہم سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حمس نکال کر باقی تمام مجاہدین کی تقسیم کر دیا۔ اور فرات بن حیان نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔ یہ قریش کیلئے سب سے بڑا جھٹکا تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں