13 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق
تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 13
جنگ فراض، چپکے سے حج کی ادائیگی، حضرت خالد بن ولید کو ملک شام جانے کا حکم، 21 ھجری کے چند خاص واقعات، حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ کی شہادت، حضرت ابو مرثد کا انتقال، حضرت ابو العاص بن ربیع کا انتقال، ملک شام کی طرف لشکروں کی روانگی(اوائل 21 ھجری)، حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما میں،
جنگ فراض
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ محرم 21 ھجری میں عراق میں داخل ہوئے تھے،اور مسلسل گیارہ مہینے سے عراق میں حالت ِ جنگ میں تھے۔بنو تغلب کے لشکرکو اچانک ختم کر کے اور رضاب پر قبضہ کر کے آپ رضی اﷲ عنہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری میں ”فراض“پہنچے۔فراض پر ملک شام،ملک عراق اور جزیرہ کے راستے آ کر ملتے ہیں۔فراض میں مسلمانوں کا لشکر دیکھ کراہل روم کو یہ ڈر پیدا ہو کہ کہیں یہ لشکر اُن کے علاقے میں نہ گھس آئے۔انہوں نے اپنے قریب کی اہل فارس کی چوکیوںاور بنو تغلب ،بنو ایاد،اور بنو نمر سے امداد طلب کی۔اِن سب نے رومیوں کی مدد کی،اور ایک بہت بڑا لشکر جر ار تیار ہو گیا۔اس کے بعد یہ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے آگے بڑھے۔جب دریائے فرات بیچ میں رہ گیا تو انہوں نے آپ رضی اﷲعنہ سے پوچھا کہ دریا پار کر کے تم اِس طرف آو¿گے؟یا ہم اُس طرف آئیں؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ہی پار کر کے آجاو¿۔“اُنہوں نے کہا کہ اچھا تم سامنے سے ہٹ جاو¿۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ نہیں ہو سکتا (لشکر کے لئے پانی بہت ضروری ہو تا ہے)البتہ تم ذرا آگے سے دریا پار کر لو۔“یہ واقعہ پندرہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری کا ہے۔رومیوں اور فارسیوں میںدریا پار کرنے پر اختلاف ہو گیا۔ان میں سے بعض کی رائے یہ تھی کہ ہم کو اپنے ہی ملک میں رہ کر لڑنا چاہیئے،کیونکہ یہ شخص ملک اور حکومت کے نہیں بلکہ اپنے دین کی حمایت کے لئے لڑ رہا ہے۔وہ بڑا دانشمنداور صاحب ِ علم ہے،اﷲ کی قسم !وہ کامیاب ہو گا،اور ہم ناکام ہو کر ذلت اُٹھائیں گے۔مگر اِس رائے پر اُن لوگوں نے عمل نہیں کیا،اور تھوڑا آگے بڑھ کر دریا پار کیا۔جب سب لوگ پار ہو گئے تو رومیوں نے فارسیوں سے کہا کہ اب الگ الگ ہو جاو¿،تاکہ معلوم ہو جائے کہ اچھا یا برا نتیجہ کس کے سر ہے؟اس طرح یہ لوگ الگ الگ ہو گئے۔ایک طرف رومیوں،فارسیوں،اور اعرابی قبائل کا ایک لاکھ سے زیادہ ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا سمندر تھا۔اور دوسری طرف بیس سے پچیس ہزار مسلمان تھے،جن کا سپہ سالار سوائے اﷲ تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔اور جنگ کے دوران ایسے ایسے حربے استعمال کرتا تھا کہ سامنے والے حیران رہ جاتے تھے۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ،اور بہت دیر تک شدید خون ریزی ہوتی رہی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ چھلاوہ بنے ہوئے تھے،کبھی فارسیوں کے لشکر پر شیر بن کر گرجتے ،تو کبھی رومیوں پر قہر بن کر ٹوٹتے تھے،تو کبھی اعرابیوں پر باز کی طرح جھپٹتے تھے۔اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔آپ رضی اﷲ کو دیکھکر مسلمانوں میں نیا جوش بھر جاتا تھا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو بلند آواز سے حکم دیا کہ دشمنوں کو مہلت بالکل مت دو،اور مسلسل قتل عام کرو۔اس حکم کے بعد ایک ایک رسالدار اپنے دستے کے تیروں سے دشمن کے بڑے بڑے گروہ کو گھیرتا تھا ،اور تلوار سے انہیں موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔فراض کی جنگ میں عین لڑائی میں میدان میں اور پھر تعاقب میں ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے۔
چپکے سے حج کی ادائیگی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے لشکر کے ساتھ دس دنوں تک قیام پذیر رہے۔اور پھر پچیس(۵۲)ذی القعدہ ۲۱ ھجری کو لشکر کو حضرت عاصم بن عمرو کی سرکردگی میں حیرہ واپس چلنے کا حکم دیا ۔لشکر کے ساقہ کا کمانڈر حضرت شجرہ بن اغر کو متعین کیا،اور خود بظاہر ساقہ میں رہ کر سفر کرنے لگے۔پچیس ذی القعدہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کو لیکر چپکے سے حج کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔یہ راستہ اہل جزیرہ کے راستوں میں سے ایک تھا،اور اس قدر دشوار گذار اور عجیب راستہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے،اور حج کر کے تیزی سے واپس آگئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اپنے لشکر سے غیر حاضری صرف اتنی رہی کہ ابھی لشکر کا آخری حصہ حیرہ میں نہیں پہنچا تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج سے فارغ ہو کر اپنے بنائے ہوئے ساقہ سے آملے،اور اس کے ساتھ حیرہ میں داخل ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اور چند ساتھی سر منڈائے ہوئے تھے۔ساقہ کے چند لوگوں کے سوا کسی کو بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے حج کی مطلق خبر نہیں ہوئی۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اس کی اطلاع بعد میں ہوئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پر عتاب یہ کیا کہ اُن کو ملک شام کی طرف جنگ کے لئے بھیج دیا۔(طبری)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اُس وقت پتہ چلا ،جب مدینہ منورہ کے حاجی حج کے اجتماع سے واپس آئے ،اور انہوں نے بتایا۔خلیفہ اول نے فوج سے الگ ہونے پر آپ رضی اﷲ عنہ کو عتاب نامہ بھیجا۔اور یہ سزا دی کہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے محاذ کو چھو ڑ کرملک شام میں سلطنت روم سے مقابلہ کرنے کے لئے جانے کا حکم دیا۔( اُس وقت ملک شام میںحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی زیادہ ضرورت تھی ،اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اُس طرف بھیجا تھا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔)اور آپ رضی اﷲعنہ کو خط میں یہ لکھا :”بے شک فوجیں اﷲ کی مدد سے تمہارے غمگین ہونے سے غمگین نہیں ہوں گی۔اے ابو سلیمان!(حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)تم کو نیت اور نصیبہ مبارک ہو،اپنا کام پورا کرو،اﷲ تعالیٰ تمہارے کام کی تکمیل کر دے گا۔تمہارے دل میں فخر و عجب پیدا نہ ہو،ورنہ ناکام و نامراد ہو جاو¿ گے۔اور کسی کام پر فخر کرنے سے اجتناب اختیار کرو،بے شک اﷲ احسان کرنے والا ہے،اور وہی جزا دینے والا ہے۔“(ابن کثیر)
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام جانے کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی مہم پر جانے کا حکم دیا۔اس کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا سفر ِ حج تمام شہروں کو چھوڑتے ہوئے سیدھے مکہ مکرمہ کی طرف ہواتھا۔یہ راستہ اِس طرح گیا ہے کہ فراض سے ماءالعنبری کو ،پھر ثقب کو پھر ذات عرق کو ،اور وہاں سے مشرق کی طرف مُڑ کر عرفات پہنچا دیتا ہے۔یہ راستہ العبد کے نام سے موسوم ہے۔حج سے فارغ ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ حیرہ جا رہے تھے کہ راستے میں اُن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا حکم ملا کہ حیرہ سے دور اور ملک شام سے قریب ہوتے چلے جاو¿۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اپنے خط میں حکم دیا کہ تم یہاں سے روانہ ہو کر یرموک میں مسلمانوں کے لشکر سے مل جاو¿،کیونکہ وہاں وہ دشمن کے نرغے میں گھِر گئے ہیں۔اور تم نے جو یہ حرکت کی ہے،آئندہ کبھی تم سے سرزد نہ ہو۔یہ اﷲ کا فضل ہے کہ تمہارے سامنے دشمن کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں،اور تم مسلمانوں کو دشمن کے نرغے میں سے صاف بچا لاتے ہو۔اے ابو سلیمان!میں تم کو تمہارے خلوص اور خوش قسمتی پر مبارک باد دیتا ہوں۔اِس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچاو¿،اﷲ تمہاری مدد کرے گا۔تمہارے دل میں فخر نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ فخر کا انجام خسارہ اور رسوائی ہے۔اور نہ اپنے کسی فعل پر نازاں ہونا۔کیونکہ فضل وکرم کرنے والا صرف اﷲ تعالیٰ ہی ہے،اور وہی اعمال کا صلہ دیتا ہے۔“(تاریخ طبری)
21 ھجری کے چند خاص واقعات
21 ھجری کا سال مکمل ہوا،اب ہم اس سال پیش آنے والے چند اہم واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس سال حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک صحیفے پر جمع کرنے کا حکم دیا۔اور انہوں نے بڑی عرق ریزی سے یہ کام مکمل کیا۔اس سے پہلے قرآن پاک کھجور کی ٹہنیوں،کپڑوں،درخت کی چھالوں اور انسان کے سینوں تک ہی محدود تھا۔اس سال حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلام اسلم کو خریدا،پھر وہ تابعین کے سادات میں سے ہو گئے۔اور اُن کے بیٹے حضرت زید بن اسلم بلند مقام ثقات میں سے تھے۔اس سال خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا،اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت میں حج نہیں کروایا ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔
حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت بشیر بن سعد رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ ثانیہ اور غزوہ بدر اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔اور سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہ خلافت پر بیعت کی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے،اور جنگ عن التمر میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ کے والد ہیں۔
حضرت ابو مرثد غنوی رضی اﷲ عنہ کا انتقال
آپ رضی اﷲ عنہ کا نام معاذ بن حصین ہے۔ابو مرثد کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے بیٹے حضرت مرثد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل تھے۔اور اِن دونوں کے علاوہ کوئی بھی باپ بیٹے کی جوڑی اس غزوہ میں نہیں تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے نے ”رجیع کے درد ناک واقعہ“میں شہادت پائی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پوتے حضرت انیس بن مرثد رضی اﷲ عنہ بھی صحابی تھے۔جو فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شامل تھے۔ ۲۱ ھجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔
حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اﷲ عنہ کا انتقال
حضرت ابو العاص بن ربیع بن عبد العزیٰ بن عبد شمس بن عبد مناف ،یہاں آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب سے بڑے داماد ہیں،اور سب سے بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے شوہر ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے بھانجے ہیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ہالة بنت خویلد،اور ہند بنت خویلد بتایا جاتا ہے۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو قریش نے آپ رضی اﷲ عنہ کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا تھا۔غزوہ بدر میں قید ہوئے تو مکہ مکرمہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا نے اپنی امی کا دیا ہوا ہار فدیہ کے طور پر بھیجا تو ہار دیکھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھ میں آنسو آگئے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر آزاد کر دیا کہ مکہ مکرمہ جا کر سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچا دیں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وعدہ پورا کیا۔صلح حدیبیہ سے پہلے تجارتی قافلہ لیکر جار ہے تھے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے تمام مال پر قبضہ کر لیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جان بچا کر مدینہ منورہ پہنچے ،اور سیدہ زینب رضی عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کی پناہ کو جائز قرار دیا،اور قافلے کا تمام مال انہیں عطا فرما دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ تمام مال لیکر قریش کے پاس آئے ،اور ان کا سارا مال دیکر ان کے سامنے اسلام کا اظہار کیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔
ملک شام کی طرف لشکروں کی روانگی(اوائل 21 ھجری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں پوری دنیا میں سب سے بڑی دو سوپر پاور سلطنت روم اور سلطنت فارس تھی۔(یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت امریکہ اور آسٹریلیا دریافت نہیں ہوئے تھے،اور دنیا صرف ایشیاء،افریقہ،اور یورپ پر مشتمل تھی)سلطنت فارس میں تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک سال سے زلزلے پیدا کر رہے تھے،اور اُس کی بنیادوں کو ہلا رہے تھے۔اور ۲۱ ھجری کی آخری جنگ فراض میں تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے دونوں سوپر پاورکے سپاہیوں اور عرب کے اعرابیوں کا قتل عام کر ڈالا تھا۔اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ اب سلطنت روم کی طرف متوجہ ہوئے،اور ملک شام کی طرف لشکر بھیجنے کی تیاری کرنے لگے۔اور ایک دن تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو جمع کر کے تقریر فرمائی۔”امابعد۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں پر رحم فرمائے،آپ اس بات کو یاد رکھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی ہے،اُمت محمد بنایاہے۔آپ کے ایمان اور یقین کو زیادہ کیا،اور کامل فتح بخشی۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:”میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کیا،اور تم پر اپنی تمام نعمتیں پوری کیں،اور اسلام کو تمہارے لئے میں نے دین پسند کیا۔“اور آپ لوگ سمجھ لیں کہ ہمارے آقا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں جہاد کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا،اور چاہا تھا کہ وہاں کوشش اور ہمت سے کام لیا جائے۔مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے اپنے پاس جگہ تجویز کر دی۔اب آپ لوگوں پر واضح رہنا چاہیئے کہ میں ارادہ کر چکا ہوںکہ مسلمانوں کا ایک لشکر ملک شام کی طرف بھیج دوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وصال سے پہلے اِس بات کی خبر دے چکے تھے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے زمین دکھلائی گئی ،اور میں نے مشرق اور مغرب کو دیکھا۔سو جو زمین مجھے دکھلائی گئی ہے،عنقریب وہ میری اُمت کی ملکیت میں آجائے گی۔“اب تم سب متفق ہو کر مجھے مشورہ دو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے متفق ہو کرجواب دیا:”یا خلیفہ رسول اﷲ !ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم کے تابع ہیں،جیسا بھی ارشاد فرمائیں،جہاں جانے کا حکم دیں،ہم اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔(فتوح الشام)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اس سال حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس آکر ملک شام کی طرف لشکر روانہ کئے۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ۲۱ ھجری میں حج سے واپس آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف فوجیں بھیجنے کا انتظام کیا۔اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین (جو اُس وقت ملک شام میں تھا)کی جانب روانہ کیا۔انہوں نے معرقہ کا راستہ اختیار کیا،جو ایلہ پر سے گذرتا ہے۔اور حضرت یزید بن سفیان،حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کے بالائی حصے کی طرف راونہ کیا،اور حکم دیا کہ ملک شام کے بالائی علاقہ بلقاپر گذرتے ہوئے تبوکیہ چلے جاو¿۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کو امدادی لشکر دے کر اُن کے پیچھے بھیجا۔اور ۳۱ ھجری کی ابتدا میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کو فوجیں روانہ کیں،سب سے پہلے شخص حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہیں،مگر ان کے روانہ ہونے سے پہلے انہیں معزول کر کے یزید بن سفیان کو سپہ سالار بنا دیا۔اور ملک شام کی طرف روانہ ہونے والے سب سے پہلے سپہ سالار حضرت یزید بن سفیان ہیں۔یہ لوگ سات ہزار مجاہدین لیکر ملک شام گئے۔
حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما میں
آپ کو یاد ہوگاکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو دیکر ملک شام کے سرحدی علاقے تیما کی طرف روانہ کیا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں تیما جانے کا حکم دیا تھا ،اور فرمایا کہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا،اور اطراف کے مسلمانوں کو (جو مرتد نہیں ہوئے)اپنے لشکر میں بھرتی کرنا،اور جب تک میری طرف سے اگلا حکم نہ ملے ،جنگ کا آغاز نہیں کرنا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما پہنچ کر مقیم ہو گئے،اور اطراف کے مسلمان آپ رضی اﷲ عنہ سے آکر ملنے لگے،اور اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔(اِس دوران حضرت خالد بن ولیدرضی ا ﷲعنہ بزاخہ اور یمامہ وغیرہ میں،اورحضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲعنہ بحرین اور یمن وغیرہ میں مرتدوں سے جنگ میں مصروف تھے۔)رومیوں کو مسلمانوں کے اس عظیم الشان لشکر کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے زیر اثر عربوں سے ملک شام کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے فوجیں طلب کیں۔قبیلہ بنو بہرائ،بنو کلب ،بنو سلیح،بنو تنوخ،بنو لخم،بنو جزام،اور بنو غسانکی فوجیں”زیزائ“کے قریب مقام ”ثلث“میں جمع ہو گئیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں