جمعہ، 14 جولائی، 2023

12 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida



خلافت ِ راشدہ_12 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 12


مفتوحہ علاقوں پر عاملوں(گورنروں)اور فوجی افسروں کا تقرر، فارسیوں کے نام خطوط، سلطنت فارس کے شاہی خاندان میں ناچاقی، خلیفہ اول کے احکامات، خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل، انبار کا محاصرہ، جنگ ذات العیون، خندق پر جانوروں کا پل، جنگ عن التمر، دومتہ الجندل کی طرف روانگی، جنگ دومتہ الجندل، فارسیوں کے لشکر، مصیخ میں کامیابی، ثنیٰ اور زمیل میں کامیابی


مفتوحہ علاقوں پر عاملوں(گورنروں)اور فوجی افسروں کا تقرر


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد صوبہ داروں(گورنروں)اور فوجی چوکیوں کے افسروں کا تقرر کیا۔فلالیج کے بالائی علاقے پر حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نصری کو بھیجا کہ وہ وہاں کے باشندوں کی حفاظت کریں،اور جزیہ وصول کرتے رہیں۔با نقیا اور باد سما پر حضرت جریر بن عبداﷲ کو مقرر کیا۔نہرین پر حضرت بشیر بن خصاصیہ کو مامور کیا،انہوں نے بانبورا میں کویفہ کو اپنا مستقر بنایا۔حضیر کی طرف حضرت سوید بن مقرن کو بھیجا،انہوں نے عقر میں قیام کیا،جو آج تک ”عقر سوید“کے نام سے مشہور ہے۔روذمستان کی طرف حضرت اط بن ابی اط کو بھیجا،انہوں نے نہر کو اپنا مستقر بنایا۔آج تک یہ نہر ”نہر اط “کے نام سے مشہور ہے۔یہ سب عامل (گورنر)تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سرحدی چوکیوں پر حضرت ضرار بن ازور،حضرت ضرار بن خطاب،حضرت مثنیٰ بن حارثہ،حضرت ضرار بن مقرن،حضرت قعقاع بن عمرو،حضرت بسر بن ابی رہم اور حضرت عتیبہ بن نہاس کو دستے دیکر متعین کیا۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے حکم دیا کہ دشمن پر یورش کرتے رہنا،اور چین لینے نہیں دینا۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی سرحد سے آگے دجلہ کے کنارے تک تمام علاقہ دشمنوں سے چھین لیا تھا۔جس کا ذکر انشاءاﷲ آگے آئے گا۔


فارسیوں کے نام خطوط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے مطمئن ہو گئے۔تب آپ رضی اﷲ عنہ نے دو خط تحریر کروائے،ایک خط سلطنت فارس کے مرکز کی طرف روانہ کیا،اور دوسرا خط الگ الگ علاقوں کے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔اس دوران سلطنت فارس کے مرکز میں ایرانیوں(فارسیوں )میں آپس میں اختلافات ہو گئے تھے۔اور کسریٰ ارد شیر اور اس کے بیٹے شیری کواُس کے خاندانی دشمنوں نے قتل کر دیا تھا۔اور ہر کوئی سلطنت فارس کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے سے ڈر رہا تھا،کہ کہیں میرا بھی قتل نہ ہو جائے۔اس لئے بڑے بڑے علاقوں کے گورنر (حکمراں)اس وقت مر کز میں جمع تھے۔اُن کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا قاصد خط لیکر پہنچا۔جس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)کی طرف سے فارس کے بادشاہوں کے نام۔اما بعد۔اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے تمہارا نظام ابتر کر دیا ہے،جس نے تمہاری مکاری ناکام کر دی ہے۔جس نے تم میں اختلافات پیدا کر دیئے ہیں۔اگر اﷲ ایسا نہیں کرتا تو تمہارا نقصان تھا،لہٰذا تم ہماری حکومت قبول کر لو،اور ہم تم کو تمہاری سرزمین پر چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ورنہ تم ایسی قوم کے ہاتھوں مغلوب ہو گے،جو موت کو اس سے بھی زیادہ پسند کرتی ہے،جتنا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“دوسرا خط جو آپ رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کی عوام اور چھوٹے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف بھیجا تھا۔اس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ) کی طرف سے سرداران ِ فارس (اور عوام )کے نام۔امابعد۔تم لوگ اسلام قبول کر لو ،سلامت رہو گے،یا جزیہ ادا کرو،اور ہمارے ذمی بن جاو¿۔ورنہ یاد رکھو کہ میں تم پر ایسی قوم چڑھا لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی پسند کرتی ہے،جتنا تم شراب کو پسند کرتے ہو۔“


سلطنت فارس کے شاہی خاندان میں ناچاقی


   حضرت خالد بن ولید ادھر مختلف علاقوں کو فتح کرتے جا رہے تھے،اور ادھر سلطنت فارس کے شاہی خاندان آپس میں لڑ رہے تھے۔شیری بن کسریٰ(اردشیر)نے کسریٰ بن قباذ کے خاندان کے ہر شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔یہاں تک کہ بہرام گور تک کی اولاد کو بھی قتل کر دیا تھا۔اور کسریٰ بن قباذ کے ہمدرد سرداروں نے اُسے اور اس کے خاندان والوں کو قتل کردیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا تھا ،جس کو با الاتفاق اپنا بادشاہ بنا سکیں۔سلطنت فارس کے بڑے بڑے سردار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے میں مختلف الرائے تھے۔اور لڑائی کو ایک دوسرے پر ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہاں ان سب نے ملکر اتنا کیا تھا کہ بہمن جازویہ کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں کی طرف روانہ کر دیا تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کا خط سلطنت فارس کے مرکز پہنچا تو شاہی خاندان کی عورتوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ جب تک تمام لوگوں کا ایک بادشاہ پر اتفاق نہیں ہو گا،تب تک کے لئے فرخ زاد کو سلطنت فارس کا نگران بادشاہ بنا دیا۔اس طر ح عارضی طور سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔


خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے احکامات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ تم عراق کے زیریں حصے داخل ہوں۔اُسی وقت حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ عراق کے بالائی حصے سے داخل ہوں۔اور دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مسلسل آگے بڑھتے ہوئے حیرہ تک پہنچیں،اور آپس میں مل جائیں۔جو پہلے حیرہ پہنچے گاوہ اس کا حاکم ہو گا۔اور جب تم دونوں اﷲ کے حکم سے حیرہ میں اکٹھا ہو جاو¿ تو ملک عرب اور ملک عراق کی درمیانی چوکیوں کو توڑ دینا۔اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے کہ اب مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ نہیں ہو گا،تو تب تک تم میں سے ایک حیرہ میں قیام کرے ۔اور دوسرا دشمن کے علاقے میں گھس کر اس کے ملک پر بزور ِ شمشیرقبضہ کرتا چلا جائے۔اور اﷲ تعالیٰ سے ہر وقت مدد چاہتے رہو،اور اُس سے ڈرتے رہو۔آخرت کے معاملے کو دنیا پر ترجیح دو،تمہیں دونوں مل جائیں گی۔اور دنیا کو آخرت پر کبھی ترجیح نہ دینا،ورنہ دونوں ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔جن چیزوں سے اﷲ نے ڈرایا ہے،اُن سے ڈرتے رہو۔گناہوں سے بچتے رہو،اور توبہ میں جلدی کرنا۔گناہوں پر اصرارنہ کرنا ،اور توبہ کرنے میں تاخیر نہ کرنا۔اسی حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ پہنچ گئے،اور فلالیج سے سواد اسفل تک کا تمام علاقہ اُن کے زیر حکومت آگیا۔تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے تمام مفتوحہ علاقوں پر گورنر اور فوجی افسر مقرر کر کے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی طرف بڑھے۔


خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل


   حضرت عیاض بن غنیم جب بالائی عراق میں داخل ہوئے تو آگے بڑھتے ہوئے دومة الجندل میں آپ رضی اﷲ عنہ کا سر بری طرح زخمی ہو گیا تھا،اس کی وجہ سے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی آگے بڑھنے کی رفتار بہت دھیمی ہو گئی ۔اہل فارس کی ایک سرحدی چوکی العین میں،دوسری انبار میں،اور تیسری فراض میں تھی،اور تینوں میں ایک ایک لشکر تھے۔حضرت عیاض بن غنم انہیں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے،اور آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ سے فارغ ہو گئے تو خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل کے لئے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے سرحدی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے دجلہ کے کنارے آگے بڑھے۔راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا کربلا میں چند روز قیام ہوا ،تو حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نے مکھیوں کی شکایت کی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ذرا صبر کرو ،میں چاہتا ہوں کہ وہ تمام چوکیاں جن کے متعلق حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا گیا تھا، وہ دشمنوں سے خالی کرا لوں ۔تاکہ ہم ان میں مسلمانوں کو متعین کر دیں،اور مسلمانوں کے لشکر کو پیچھے سے دشمن کے حملہ آوار ہونے کا خطرہ نہ رہے،اور مسلمانوں کی آمدو رفت اطمینان سے ہو سکے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے،اور ان کی رائے اُمت کی فلاح و بہود کے لئے ہوتی ہے۔“اب ہم اِن حالات کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔


انبار کا محاصرہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“(اگلے حصے ) کے طور پر حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا ایک حصہ دیکر روانہ کیا۔اورخود پورا لشکر لیکر دوسرے دن روانہ ہوئے۔حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے انبار سے ایک منزل کے فاصلے پر قیام کیا تو وہاں اونٹینوں کے بچے پیدا ہو گئے۔جن کی وجہ سے آگے بڑھنا مشکل ہو گیا تھا،اور انبار وقت پر پہنچنا ضروری تھا۔ اسلئے یہ ترکیب نکالی کہ جن بچوں کو چلنے کی طاقت نہیں تھی،انہیں اُن کی ماو¿ں پر لاد دیا گیا۔اور اسی طرح لادے لادے انبار پہنچے۔انبا ر والے پہلے ہی قلعہ بند ہو گئے تھے،قلعے کے اطراف خندق کھدی ہوئی تھی،اور وہ قلعے کی فصیل سے جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے۔اُن کا سپہ سالار ساباط کا رئیس شیر زاذ تھا،وہ اپنے زمانے میں بڑا عقلمند ،معزز اور عرب و عجم میں ہر دلعزیز عجمی تھا۔انبار کے لوگوں نے فصیل پر سے چلا کر کہا :”آج کی صبح انبار کے حق میں بہت بری ہے،اونٹوں پر اُن کے بچے لدے ہوئے ہیں،جن کو وہ دودھ پلاتی ہیں۔“شیرزاذ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟لوگوں نے اُس کو اس کا مطلب سمجھایا،تو شیرزاذ نے کہا:”میں قسم کھا کر کہتا ہوںکہ اگر خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) یہاں سے کہیں اور طرف نہیں گئے تو میں اُن سے صلح کر لوں گا۔“حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔


جنگ ذات العیون


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ جب انبار پہنچے ،اور دیکھا کہ انبار کے لوگ قلعہ بند ہو گئے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے خندق کے اطراف ایک چکر لگایا ،اور جنگ شروع کردی۔اُن کی یہ عادت تھی کہ جہاں کہیں بھی کوئی موقع انہیں جنگ کرنے کا نظر آتا تھایا سن پاتے تھے تو ضبط نہیں کر پاتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے تیر اندازوں کے پاس گئے،اور فرمایا:”میں سمجھتا ہو کہ یہ لوگ اصول جنگ سے بالکل نا آشنا ہیں،تم لوگ صرف اُن کی آنکھوں کو نشانہ بناو¿،اور اُس کے سوا کہیں بھی تیر نہیں مارنا۔“اس کے بعد خندق کے سامنے مٹی کی دیوار بنائی ،جس کے پیچھے چھپ کر تیر اندازوں نے قلعے کی فصیل پر تعینا ت سپاہیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔کیونکہ اُن لوگوں کی صرف لوہے کی ٹوپیاں ہی دکھائی دے رہی تھیں،باقی جسم قلعے کی فصیل کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔جیسے ہی وہ نیچے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے تھے،ویسے ہی میدان میں مٹی کے پیچھے چھپے مسلمان اُس کی آنکھ پر تیر مار دیتے تھے۔مسلمان دن بھر تیر کی باڑھ مارتے رہے،اور جب شام ہوئی تو دشمنوں نے دیکھا کہ اُن کے ایک ہزارسے زیادہ سپاہیوںکی آنکھیں پھوٹ چکی ہیں۔یہ دیکھ کر دشمنوں میں شور مچ گیا کہ اہل انبار کی آنکیں جاتی رہیں۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”ذات العیون“پڑ گیا۔شیر زاذ نے جب اپنے سپاہیوں کا یہ حال دیکھا تو کہا کہ اب میں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے صلح کروں گا۔اور اس کے لئے اپنے قاصد بھیجے ،لیکن ایسی شرائط پیش کیں،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول نہیں کیا،اور قاصدوں کو واپس بھیج دیا۔


خندق پر جانوروں کا پل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد خندق کے اطراف چکر لگانے لگے،اور خندق پار کرنے کا راستہ تلاش کرنے لگے۔ایک جگہ خندق کچھ کم چوڑی نظر آئی،لیکن پھر بھی اتنی چوڑی تھی کہ گھوڑے چھلانگ لگا کر اُسے نہیں پارکر سکتے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر میں آگئے،اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر غور کرنے لگے کہ کس طرح خندق پار کی جائے۔آخر کار آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ لشکر کے بوڑھے اور بے کار اونٹوں کو جمع کرو،یہ کئی سو تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ ان سب کو اُس جگہ لائے ،جہاںخندق کم چوڑی تھی،اور حکم دیا کہ انہیں زبح کر کے خندق میں پھینکتے جاو¿۔فارسی سپاہی حیرت سے مسلمانوں کی اِس کاروائی کو فصیل کے اوپر سے کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔جب تک اُنہیں اِس کاروائی کا مطلب سمجھ میں آتا ،تب تک مسلمان اونٹوں کو زبح کر کے خندق کو بھر چکے تھے۔اور مزبوحہ جانوروں کا ایک پل تیار ہو گیا تھا۔یہ دیکھ کر فارسی سپاہیوں نے فصیل پر سے تیر اندازی شروع کر دی ،تاکہ مسلمان جانوروں کے پل کا استعمال کر کے خندق پار کر کے قلعے کی فصیل تک نہ پہنچ سکیں۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کے پل کے پاس مٹی کی دیوار بنا کر تیر اندازوں کو بٹھا دیا۔اور حکم دیا کہ مسلسل تیر چلائیں،اور باقی لشکر کو حکم دیا کہ میرے پیچھے آو¿۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ جانوروں کے پل پر تلوار لیکر آگے بڑھنے لگے۔دونوں اطراف سے تیر اندازی ہو رہی تھی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے آس پاس سے تیر جا رہے تھے۔دشمنوں کی طرف سے آنے والے تیروں کو اپنی تلوار سے کاٹتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کا پل پار کرلیا۔پیچھے مسلمان بھی آرہے تھے۔یہاں تک کہ اچھے خاصے مسلمان فصیل تک پہنچ گئے ،اور دروازہ توڑنے کی تیاری کرنے لگے۔شیر زاذ نے پھر پیغام بیھجا کہ مجھے ایک دستے کے ساتھ نکل جانے دیں،آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے منظور کر لیا۔اور شیر زاذقلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔یہ دیکھ کر سب لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔


اہل انبار اور آس پاس کے علاقوں سے صلح


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے اہل انبار نے قلعے کا دروازہ کھول دیا،کیونکہ اُن کا سربراہ اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کی جاں بخشی کر دی۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے دیکھا کہ یہ لوگ عربی بولتے ،لکھتے اور پڑھتے ہیں تو دریافت کیا کہ تم لوگ عربی ہو یا فارسی ہو؟تو انہوں نے بتایا کہ بخت نصر نے جب عربوں پر حملہ کیا تھا تو وہ لوگ یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔اس کے بعد انبار کے لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔اور انبار کے آس پاس آباد لوگوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کر لی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ان تمام علاقوں پر اپنے گورنر اور فوجی افسروں کو مقرر کردیا۔اور جزیہ کی رقم اور فتح کی خوش خبری حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دی۔


جنگ عن التمر


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کو جب انبار کی طرف سے اطمینا ن ہو گیا،اور وہ مکمل طور سے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت زبر قان بن بدر کو اپنا نائب بنایا ،اور خود عن التمرکی طرف لشکر لیکر روانہ ہوئے۔وہاں مہران بن بہرام عجمیوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ مقیم تھا۔اور عقہ بن ابی عقہ اپنے قبیلے کے ساتھ تھا،اس کے علاوہ بنو نمبر،بنو تغلب،اور بنو ایاد کے قبائل بھی اُس کے ساتھ تھے۔جب اِن لوگوں کو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو عقہ نے مہران سے کہا کہ ہم عرب ،عربوں سے لڑنے کا فن خوب جانتے ہیں،اس لئے تم کچھ نہ کرو،خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) سے ہم نمٹ لیں گے۔مہران نے کہا کہ ٹھیک ہے ،تم ہی لڑو۔اگر ضرورت ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔جب عقہ میدان میں اپنا لشکر لیکر چلا گیاتو عجمیوں نے مہران سے کہاکہ تم نے اِس کتے سے ایسی بات کیوں کہی؟مہران نے کہا میں نے جو ارادہ کیا ہے تمہارا اِس میں فائدہ ہے،اور اُن کا نقصان ہے۔کیونکہ اِس وقت تمہارے مقابلے کے لئے ایک ایسا شخص آ رہا ہے،جس نے تمہارے سلاطین کو قتل کر دیا ہے۔اور تمہاری سطوت و شوکت کا خاتمہ کر دیا ہے۔اگر یہ عرب خالدبن ولید(رضی اﷲعنہ) کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے تو تمہیں ایک بہت بڑے دشمن سے نجات مل جائے گی،اور اگر یہ ہار گئے تو دشمن اپنی طاقت کھو کر تمھارے پاس آئے گا،اور ہم طاقتور ہوں گے۔عقہ وہاں سے چلکر ایک دن کی مسافت کے فاصلے پرآیا،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲجب وہاں پہنچے تو وہ اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر رہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھتے ہی اپنے لشکر سے فرمایا:”میں اُس پر حملہ کرتا ہوں ،تم اُس کے لشکر کو سنبھالنا۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے،اور عقہ کو گرفتار کر کے اُس کے ہاتھ پاو¿ں باندھ دیئے۔یہ دیکھ کر اُس کے لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ بھاگنے لگے تو مسلمانوں نے اُن کا قتل عام شروع کردیا۔مہران کو مسلمانوں کی فتح کی خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر فرار ہو گیا،اور پورا قلعہ کھلا ہو پڑا تھا۔عقہ کے لشکر کے لوگ بھاگ کر آئے تو دیکھا کہ قلعہ کھلا ہے ،اور مہران اپنے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ہے،تو اُن لوگوں نے قلعے میں پناہ لی ،اور دروازہ بند کر دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ آئے،اور قلعے کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ عقہ اور عمرو بن صعق قید میں تھے۔قلعے کے اندر کے لوگوں نے مسلمانوں کو دوسرے لٹیروں کی طرح سمجھ لیا تھا،لیکن جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں تو امان طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے،اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو غلام اور لونڈی بنا لیا،اور عقہ اور عمرو بن صعق کو اُن کے سامنے قتل کر دیا۔


دومتہ الجندل کی طرف روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں مال غنیمت اور جزیہ لیکر ولید بن عقبہ حاضر ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُن کے پاس بھیج دیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دشمنوں نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کا راستہ روک رکھا ہے،تو اُس نے کہا کہ کبھی کبھی فوج کی کثرت کی تعداد کے مقابلے میں ایک عقل کی بات زیادہ کار گر ہوتی ہے۔اور میری تو رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قاصد کو بھیج کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کییجیئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسا ہی کیا۔اور جب قاصد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا تو عن التمر فتح ہو چکا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو جواب بھیجا کہ میں بہت جلدتمہارے پاس آتا ہوں۔ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے عن التمر میں حضرت عویم بن کاہل کو اپنا نائب بنایا۔اور حالانکہ لشکر مسلسل جنگ اور سفر سے تھک چکا تھا،لیکن مسلمانوں میں ابھی بھی اسلامی خون کا جوش ویسا ہی تھا۔اسی لئے فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل پڑا۔


جنگ دومتہ الجندل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر لیکر آنے کی خبر جب دومتہ الجندل کے لوگوں کو ملی تو انہوں نے بنو بہراء،بنو کلب،بنو غسان، بنو تنوخ،اور بنو ضجاعم کے قبیلوں سے لشکر طلب کئے۔سب سے پہلے ودیعہ بنو کلب اور بنو بہراءکے لشکر لیکر آیا،پھر بقیہ قبائل بھی لشکر لیکر آئے۔اُن لاگوں کے دو سردار اکیدر بن عبد الملک اور جادی بن ربیعہ تھے۔ان دونوں میں اختلاف ہو گیا۔اکیدر کہنے لگا کہ میں خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ ) کو اچھی طرح جانتا ہوں،جنگ میں اُس سے زیادہ خوش قسمت شخص کوئی نہیں ہے۔اور نہ خود اُس سے زیادہ خوش قسمت کوئی ہے۔اور جس قوم نے بھی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کا چہرہ دیکھاہے،چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ،اُس نے شکست کھائی ہے۔پس میری بات مان لو ،اور ان لوگوں سے صلح کر لو۔مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اُس نے کہا کہ میں خالد (رضی اﷲ عنہ) سے جنگ کرنے میں تمہاری ہر گز مدد نہیں کرو ں گا۔اور وہ اُن سے الگ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ راستے میں ہی تھے کہ اکیدر کے بارے میں اطلاع ملی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو کو اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا۔ایک روایت کے مطابق فریقین میں مقابلہ ہوا ،اور اکیدر مارا گیا۔اور دوسری روایت کے مطابق اسے گرفتار کر کے لایا گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے دومتہ الجندل کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اب دونوں طرف اسلامی لشکر تھے،اور درمیان میں اہل دومتہ الجندل اور اعرابیوں(دیہا تیوں) کا لشکر تھا۔جودی نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ۔اور دونوں سے جنگ شروع کر دی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے سامنے والے لشکر پر ،اور حضرت عیاض بن غنم نے اپنے سامنے والے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور دشمنوں کو رگیدنے لگے۔انہوں نے بھی جم کر مقابلہ کیا،بڑی شدید جنگ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔اور دشمن شکست کھا کر قلعے کی طرف بھاگے۔اسی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جودی کو اور حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے ودیعہ کو گرفتار کر لیا۔باقی لوگ قلعے میں جاکر گھس گئے،اور جب قلعہ بھر گیا تو دروازہ بند کر دیا۔کافی لوگ باہر رہ گئے،اور پریشانی کے عالم میں جان بچانے ے لئے بھاگنے لگے۔ایسے وقت میں حضرت عاصم بن عمرو نے مسلمانوں میں سے بنو تمیم سے کہا۔اے بنو تمیم!اپنے حلیف بنو کلب کی مدد کرو۔اور بنو تمیم نے بنو کلب کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھاگنے والوں کا پیچھا کر رہے تھے،اور اتنے آدمیوں کو قتل کیا کہ اُن کی لاشوں سے قلعے کا راستہ مسدود ہو گیا۔پھرقلعہ والوں سے کہا کہ دروازہ کھول دو۔ انہوں نے انکار کر دیا توجودی کو بلا کر اس کو اُن کے رو بروقلعے کے سامنے قتل کردیا،اور تمام قیدیوں کو بھی قتل کردیا۔صرف بنو کلب کے لوگ زندہ بچ سکے ،کیونکہ حضرت عاصم ،حضرت اقرع اور بنو تمیم کے لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ ہم نے ان کو امان دے دی ہے۔حضرت خالد بن ولید نے اُن سے فرمایا:”تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جاہلیت کے کاموں کی حفاظت کرتے ہو ،اور اسلام کے کام کو ضائع کرتے ہو؟“حضرت عاصم نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ ان لوگوں کی عافیت پر حسد نہ کریں،شیطان ان کو اب نہیں ورغلائے گا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قلعے کے دروازے پر پہنچے ،اور اُس کے پیچھے ایسے پڑے کہ اُس کو توڑ کر ہی دم لیا۔مسلمان قلعے میں گھس گئے،اور لڑنے والوں کو قتل کیا ،باقی کو غلام اور لونڈی بنا لیا۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں ٹھہر گئے،اور حضرت اقرع بن حابس کو انبار واپس بھیج دیا۔حیرہ سے دومتہ الجندل صرف ایک رات کی مسافت پر تھا۔


فارسیوں کے لشکر


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں اپنے لشکر کے ساتھ کچھ دنوںکے لئے آرام کر رہے تھے۔اسی دوران فارسیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھا کر حیرہ پر قبضہ کر لینا آسان کام سمجھ لیا تھا۔اور اپنے لشکر کو منظم کرنا شروع کر دیا تھا۔حیرہ کے عربوں نے عقہ کے قتل سے برہم ہو کر مسلمانوں کے خلاف ان کو ابھارا۔جزیرہ کے عربوں نے عجمیوں سے خط وکتابت اور ساز باز کر لی تھی۔اسی مقصد سے بغداد سے زر مہر اور اُس کے ساتھ روزبہ انبار کی طرف روانہ ہوئے،اور دونوں نے حصید اور خنافس پر ملنے کا وعدہ کیا۔حضرت زبر قان جو انبار کے گورنر تھے،انہوں نے اس کی اطلا ع حضرت قعقاع کو دی ،جو اُس وقت حیرہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے نائب تھے۔حضرت قعقاع نے اعبد بن فدکی سعدی کو لشکر دے کر حصید کی طرف روانہ کیا،اور عروہ بن جور کو خنافس کی طرف روانہ کیا۔اور دونوں کو ہدایت کی کہ اگر تمہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے تو بڑھ جانا۔یہ دونوں وہاں پہنچ کر درمیان میں ایسے مقام پر ٹھہرے کہ حصید اور خنافس کا ریف سے تعلق منقطع ہو گیا،اور اُن کے راستے مسدود ہو گئے۔زرمہر اور روزبہ مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ربیعہ کے اُن لوگوں کا انتظار کر رہے تھے،جن سے وعدے وعید ہو چکے تھے۔


جنگ حصید


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل سے حضرت عیاض بن غنم کے لشکر اور اپنے لشکر کو ساتھ لیکر حیرہ آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا اردہ حضرت عیاض بن غنم کو مفتوحہ علاقے سونپ کر مدائن پر حملہ کرنے کا تھا۔مگر جب حیرہ پہنچ کر انہیں تمام واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے خلاف کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔اور فوراً حضرت قعقاع بن عمرو اورحضرت ابو لیلیٰ کو روزبہ اور زرمہر کے مقابلے پر بھیج دیا۔یہ دونوں آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس امرالقیس کلبی کا خط آیا کہ ہزیل بن عمرو نے مصیح میں ،ربیعہ بن بجیر نے ثنیٰ اور بشر میں فوجیں جمع کی ہیں۔یہ لوگ عقہ کے انتقام کے جوش میں زرمہر اورروزبہ کی طرف جا رہے ہیں۔یہ معلوم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ پر حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔اور خود لشکر لیکر روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“کے کمانڈر حضرت اقرع بن حابس تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے بھی خنافس جانے کے لئے وہی راستہ اختیار کیا،جس سے حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ گئے تھے۔مقام”عین“میں آکر آپ رضی اﷲ عنہ اِن دونوں سے مل گئے۔یہاں آکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت قعقاع کو ایک لشکر دے کر حصید روانہ کیا۔اور حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس بھیجا،اور حکم دیا کہ دشمنوں کو اور ان کو بھڑکانے والوں کو گھیر کر ایک جگہ جمع کرو۔اور اگر وہ جمع نہ ہوں تو اُسی حالت میں اُن پر حملہ کر دو،مگر وہاں پہنچ کر انہوں نے توقف سے کام لیا۔حضرت قعقاع نے جب دیکھا کہ زرمہر ،اور روزبہ اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں ہیں،وہ روزبہ کی طرف روانہ ہوئے،جو حصید میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔روزبہ کو جب اطلاع ملی تو وہ گھبرا گیا ،اور زرمہر سے مدد طلب کی،اُس نے اپنی فوج پر مہوزان کو نائب بنایا،اور خود ایک دستہ لیکر روزبہ کی مدد کو آگیا۔حصید میں فریقین کا مقابلہ ہوا ،بڑی شدت کی جنگ ہوئی۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور انہوں نے عجمیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا۔اور بہت سے عجمی بھاگ کر خنافس میں جاکر جمع ہو گئے۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت آیا۔


مصیخ میں کامیابی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس کی طرف روانہ کیا تھا،انہوں نے حملہ کرنے میں کچھ دیر کی،تب تک حصید سے بھاگے ہوئے لوگ مہوازن کے پاس پہنچ چکے تھے۔یہ دیکھکر حضرت ابو لیلیٰ لشکر لیکر آگے بڑھے تو مہوازن لڑنے کے بجائے لشکر لیکر مصیخ بھاگ گیا۔وہاں کا افسر ہزیل بن عمران تھا۔خنافس کی فتح کے لئے حضرت ابو لیلیٰ کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔اِن تمام فتوحات کی اطلاع حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دی گئی۔آپ رضی اﷲ عنہ کو جب حصید کی فتح اور اہل خنافس کے بھاگنے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے تمام لشکروں کو ایک مخصوص رات میں مصیخ پہنچنے کا حکم دیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کو لیکر ”عین “سے مصیخ کی طرف روانہ ہو گئے۔مقررہ رات کو طے شدہ وقت پر تمام اسلامی لشکر جمع ہوا ۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آتے ہی مصیخ میں جمع عجمیوں کے لشکر پر اچانک حملہ کر دیا۔ہذیل اور اُس کی فوج ،اور تمام بھاگے ہوئے فوجی سب پڑے سو رہے تھے۔مسلمانوں نے اچانک تین طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا ،اور فارسیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ہذیل اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔باقی تمام لوگ قتل کردیئے گئے،لاشوں سے پورا میدان اِس طرح پٹ گیا،جیسے بکریاں ذبح کی ہوئی پڑی ہیں۔مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا۔


ثنیٰ اور زمیل میں کامیابی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مصیخ کی فتح کے بعد حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ کو حکم دیا کہ اپنے اپنے لشکر لیکر روانہ ہو جاو¿،اور فلاں رات کو ثنیٰ میں ملو،جہاں ربیعہ بن بجیر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے۔اس کے بعد تینوں لشکر روانہ ہو گئے۔اُدھر عقہ کے انتقام کے جوش میں ربیعہ نے فوج تو جمع کرلی،لیکن زرمہر،اور زوابہ کا انجام دیکھکر اُس کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔اور وہ ثنیٰ میں ہی قیام پذیر تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مصیخ سے چل کر حودان،پھر انق،پھر حماة پہنچے۔پھر زمیل آئے،اِس کا نام بشر بھی ہے،اور یہ ثنیٰ سے ملحق ہے۔یہاں تینوں اسلامی لشکر آکر مخصوص رات کو مل گئے،اور تینوں نے تین طرف سے ربیعہ کی فوج پر ،اور اُن لوگوں پر جو بڑی شان سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔اُن پر شب خون مارا ،اور تلواریں سونت کر ایسا صفایا کیا کہ کوئی بھی بھاگ کر کہیں خبر بھی نہیں دے سکا۔بیت المال کے لئے مال غنیمت کا خمس حضرت نعمان بن عوف کے زریعے خلیفہ اول کی خدمت میں بھی دیا گیا۔اس کے بعد تینوں اسلامی لشکر زمیل کی طرف بڑھے۔یہاں مصیخ سے بھاگ کر ہذیل نے آ کر عتاب کی پناہ لی تھی۔عتاب ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ بشر(زمیل) میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔اس سے پہلے کہ ربیعہ اور اس کے لشکر کے خاتمے کی خبر اُس تک پہنچے،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس پر تین طرف سے شب خون مار دیا۔اور اتنے فارسیوں کا قتل کیا کہ اس پہلے کبھی اتنا قتل نہیں ہوا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ بنو تغلب کو اُن کے گھر میں گھس کر قتل کروں گا،یہ قسم اس وقت پوری ہو گئی۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا ،آپ رضی اﷲ عنہ نے خمس نکال کر خلیفہ اول کی خدمت میں حضرت صباح بن فلان مزنی کے زریعے بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲعنہ رضاب کی طرف بڑھے، وہاں کا افسر ہلا ل بن عقبہ تھا۔اُس کی فوج کو جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ ہلال سے منحرف ہو گئی۔مجبورا!ہلال وہاں سے بھاگ گیا،اور رضاب بغیر کسی مقابلے کے فتح ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں