پیر، 3 جولائی، 2023

11 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


11 سیرت سید الانبیاء ﷺ

میثاق مدینہ 

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


میثاقِ مدینہ، حضرت سلمان فارسی کا قبول اسلام، جہاد کی اجازت، پہلا مال غنیمت، تبدیلیٔ قبلہ


میثاقِ مدینہ (اللہ کے قانون کا نفاذ)

   مدینہ منورہ اسلام اور مسلمانوں کا مرکز بن چکا تھا۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے فوراً بعد اللہ کے قانون کو نافذکرنے کے عمل کی شروعات کردی اور اس سلسلے میں سب سے پہلا مرحلہ ’’میثاق مدینہ ‘‘ہے ۔ بہت سے علماء کرام نے اسے ’’میثاقِ مدینہ ‘‘فرمایا ۔ اور بہت سے علمائے کرام نے ’’یہودیوں سے معاہدہ‘‘ فرمایا اور بہت سے علمائے کرام نے اسے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں پہلا قدم بتایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تحریر ی معاہدہ لکھوایا ۔ وہ تفصیل سے آ پ کو سیرت مبارکہ کی دوسری مستند کتابوں میں ملے گا۔ یہاں ہم کچھ قرار دادیں مختصر میں پیش کر رہے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا ۔ بسمہ اللہ رحمٰن الرحیم ۔ یہ عہد نامہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قریش کے مسلمانوں اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں ، ان کی اتباع کرنے والوں ، ان کے حلیفوں (یہود)اور ان کے ساتھ ملکر جہاد کرنے والوں کے درمیان ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کے علاوہ ایک امت ہیں ۔ اور ہر فریق اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ کر اِن امور یا ضابطوں کا پابند ہوگا۔ (1) قصاص اور خون بہا کے جو طریقے قدیم زمانے سے چلے آرہے ۔وہ عدل اور انصاف کے ساتھ بدستور قائم رہیں گے۔(2) یہود اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے اور مسلمان اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہو ں گے۔(3) اگر کوئی طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کرے گی تو سب لوگ اس کے خلاف آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ (4) اس معاہدے کے شرکاء کے آپسی تعلقات بھلائی، خیر اندیشی اور ایک دوسرے کی مدد کی بنیاد پر ہوں گے۔ گناہ پر نہیں ہونگے۔(5) کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہریا جائے گا۔ (6) مظلوم کی مدد کی جائے گی۔ (7) جب تک جنگ برپا رہے گی یہود بھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ بر داشت کریں گے۔ (8) اس معاہدے کے تمام فریقوں پر مدینہ منورہ میں ہنگامہ آرائی کرنا اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کرنا اور خون بہانا حرام ہوگا۔ (9) ہر فریق کو عدل و انصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا۔ یعنی قبیلے کا قیدی ہوگا۔ اسے چھڑانے کی ذمہ داری اسی قبیلے کی ہوگی۔ (10) ظلم ،گناہ، برائی اور فساد کے خلاف سب متفق رہیں گے۔ اس بارے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔ چاہے وہ کسی کا بیٹا ہی نہ ہو۔ (11) کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافرکے مقابلے میں قتل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ اور نہ کسی مسلمان کے مقابلے میں کسی کافر کی کسی قسم کی مدد کی جائے گی۔(12) ایک ادنیٰ سے مسلمان کو بھی پناہ دینے کا وہی حق ہوگا جو ایک بڑے رتبے والے مسلمان کو ہوگا۔(13) جو یہود مسلمانوں کے تابع ہوکر رہیں گے۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہوگی ۔ ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا۔ اورنہ ان کے مقابلے میں ان کے کسی دشمن کی مدد کی جائے گی۔(14) کسی کافر اور مشرک اور یہود کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں قریش کے کسی جان یا مال کو پناہ دے سکے یا قریش اور مسلمانوں کے درمیان دخل اندازی کرے۔(15) جنگ کے وقت یہودیوں کو اپنے جان و مال سے مسلمانوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ اور مسلمانوں کے خلاف دوسروں کی مدد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (16) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن اگر مدینہ منورہ پر حملہ کرے گا تو یہودیوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں ۔(17) جو قبائل یا فریق اس عہد اور حلف میں شریک ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی قبیلہ یا فریق اس عہد اور حلف سے الگ ہونا چاہئے تو اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر الگ ہونے کا اختیار نہیں ہوگا۔ (18) مسلمان اگر کسی سے صلح کریں گے تو یہودیوں کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ بھی صلح میںشریک ہوں۔(19) جو کسی مسلمان کو قتل کرے گا اور اسکے خلاف ثبوت موجود ہوگا تو اس کا قصاص لیا جائے گا۔ لیکن مقتول کے ولی یا رشتہ دار دیت وغیرہ پر راضی ہوجائیں تو دیت دی جائے گی۔ (20) جب کبھی فریقین میں آپس میں جھگڑا یا کوئی اختلاف پیش آئے گا تو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو فیصلہ فرمائیں گے۔ اسے سب کو قبول کرنا ہوگا۔ ‘‘

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مکہ مکرمہ میں ہی ہوگیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ رہی تھیں ۔ مسجد نبوی کی تعمیرکے بعد جب امہات المومنین کے حجرات (کمرے )بھی تیار ہوگئے تو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی رخصتی ہوگئی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آگئیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دودھ کے پیالے سے ولیمہ کی دعوت کی۔ جو تمام لوگوں نے پیٹ بھر کر پیا اور پیالے میں دودھ اسی طرح موجود تھا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کنواں خرید کر مسلمانوں کو وقف کیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آئے تو اس وقت مدینہ منورہ کے تمام کنوئوں کا پانی کھارا تھا۔ صرف ایک کنواں ’’بیئررومہ‘‘ کا پانی میٹھا تھا۔ اس کا مالک ایک یہودی تھاجو بغیر قیمت لئے پانی نہیں دیتا تھا۔ اس سے غریب مسلمانوں کو بہت پریشانی ہوتی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کون ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ کنواں خریدے اور بدلے میں جنت کا ایک چشمہ پائے۔ ‘‘حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں خرید لیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیااور مسلمانوں کے لئے وقف کردیا کہ جس کا جی چاہے اس میں سے پانی لے۔

تین صحابہ کرام کا انتقال اور بنو نجار کی خوش قسمتی

   ہجرت کے پہلے سال یعنی ۱ ؁ھجری میں تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال ہوا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بنو عوف کے ہیں اور قبا میں رہتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے پہلے میز بان ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں سب سے پہلے ان کے یہاں ٹھہرے تھے۔ دوسرے حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ دونوں بیعت یعنی بیعت عقبیٰ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک رہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر سب سے پہلے بیعت کی اور یہ اپنے قبیلہ خزرج کے نقیبوں میں سے تھے۔ تیسری شخصیت حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی ہے۔ ان کا انتقال مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی دونوں بیعت میں شریک تھے۔ اور بنو نجار کے نقیب تھے۔ حضرت اسعد بن زرارہ نے ہی اسلام کے پہلے’’ معلم‘‘ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں ٹھہرا یاتھا اور انھیں لیکر بنو عبد الاشہل میں گئے تھے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پور ے بنو عبد الاشہل نے ایک ہی دن میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد بنو نجار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ ہمارے نقیب کا انتقال ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو ہمارا نقیب مقرر فرما دیں ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میرے ماموں ہو۔ میں تم سے ہوں اور میں تمھارا نقیب ہوں۔‘‘ یہ بنو نجار کے لئے بڑی خوش قسمتی کی بات تھی اور وہ اکثر اس پر فخر کرتے تھے کہ ہمارے نقیب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

حضرت سلمان فارسی کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کے ساتھ قبرستان میں موجود تھے تو وہیں آکر حضرت سلمان فارسی نے اپنے پوری داستان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سنائی اور اسلام قبول کرلیا۔ لیکن چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت ایک یہودی کے غلام تھے۔ اس لئے مجبور اً اُسی کے پاس چلے گئے اور غزوئہ بدر اور غزوئہ احد میں شریک نہیں ہوسکے ۔ غزوئہ خندق سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ اس یہودی کی غلامی سے آزاد ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اور آخر تک ساتھ میں رہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی داستان لگ بھگ سیرت کی تمام کتابوں میں مذکورہے ۔ لیکن کسی میں مختصراً ہے اور کسی میں کچھ واقعات کم ہیں ۔ ہم نے کئی کتابوں سے الگ الگ واقعات کو جمع کرکے مکمل داستان پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

حق کی تلاش

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خود اپنی حق کی تلاش کی داستان بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :’’میں اہل فارس (ایرانیوں ) میں سے ایک شخص تھا۔’’ اصبہان ‘‘کے قریب ایک’’ حبی‘‘ نام کی بستی میں رہتا تھا۔ میرا باپ اپنی بستی کا ایک زمین دار تھا اور بہت امیر تھا۔ میں اسے سب سے زیادہ پیارا تھااور اس کی محبت دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی۔ جس طرح دو شیزاوں کو پابند کیا جاتا ہے۔ ویسی ہی پابندی میرے باپ نے مجھ پر لگا رکھی تھی اور مجھے کہیں باہر آنے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ آتش پرست(آگ کی پوجا کرنے والا) تھا ۔ میں نے بھی اس کے حکم پر آتش پرستی میں اتنی محنت کی کہ مجھے آگ جلائے رکھنے کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ ایک دن میرا باپ کسی عمارت کی تعمیر میں لگا ہوا تھا۔ تو اس نے مجھ سے کہا:’’پیارے بیٹے! آج میں اس عمارت کی تعمیر میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہماری زمینوں پر نہیں جا سکتا۔ تم ہماری زمینوں پر جائوں اور فلاں کام کر کے آئو۔ لیکن وہاں زیادہ دیر نہ لگانا۔ اگر تم نے زیادہ دیر لگائی تو مجھے زمینوں سے زیادہ تمھاری فکر ہوجائے گی۔‘‘اسکے بعد آگے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ میں اس مقصد کے لئے گھر سے روانہ ہوا تو عیسائیوں کے گر جا گھر سے گذرا۔ وہاں مجھے کچھ آوازیں سنائی دیں تو میں تحقیق کے لئے اندر چلا گیا۔ وہاں میں نے ان لوگوں(عیسائیوں) کو عبادت کرتے دیکھا تو و ہ مجھے بہت انوکھی لگی۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ اور میرا رجحان عیسائی مذہب کی طرف ہوگیا۔ پھر میں غروب آفتاب تک وہیں رہا۔ میں نہ تو والدکی زمین کی طرف گیااور نہ ہی مجھے اسکا خیال آیا۔ میں نے عیسائیوں سے پوچھا:’’ اس دین کا سر چشمہ اور مرکزکہا ں ہے؟‘‘انھوں نے بتایا :’’شام میں ہے۔ ‘‘میں اپنے والد کے پاس واپس آیا تو انھوںنے میری تلاش میں آدمی دوڑا ئے تھے اور ان کے تمام کام رکے ہوئے تھے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے دریافت کیا:’’ میں دن بھر کہاں تھا۔ ‘‘ میں نے اپنے والد کو بتایا کہ میری ملاقات عیسائیوں سے ہوئی اور ان کا دین اور عبادت مجھے بہت پسند آئی اور شام تک وہیں رہا۔ میرے والد نے مجھے سمجھایا:’’ بیٹاان کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ہمارا دین ان کے دین سے بہتر ہے۔‘‘ میں نے کہا :’’ نہیں ابا جان !وہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ میری بات سن کر میرے والد خوف زدہ ہوگئے اور انھوں نے میرے ہاتھوں اور پائوں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے گھر میں قید کر دیا۔

شام کا سفر

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی داستان جاری رکھتے ہوئے آگے فرماتے ہیں :’’ پھر میں نے عیسائیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر شام سے کوئی قافلہ تمھارے پاس آئے تو مجھے اطلاع کردینا۔ کچھ عرصے بعد مجھے اطلاع ملی کہ شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا ہوا ہے۔ میں نے پیغامدیا کہ جب وہ لوگ تمام سامان فروخت کرکے واپس جانے لگیں تو مجھے اطلاع کردینا۔ جب عیسائی تاجروں کا قافلہ واپسی کے لئے تیار ہورہا تھا تو عیسائیوں نے مجھے اطلاع دی۔ میں نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی بیڑیاں توڑڈالیں اور قافلے کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوگیا۔ شام پہونچنے پر میں نے ان تاجروں سے میں نے پوچھا:’’ اس دین کا سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ گرجا گھر کا پادری ہمارا سب سے بڑا عالم ہے۔ ‘‘

حضرت سلمان فارسی اور ملک شام کا پادری

   میں اس گرجا گھر کے پادری( انھیں فادر بھی کہا جاتا ہے) کے پاس آیا اور کہا:’’میں اس دین میں رغبت رکھتا ہوں اور تمھاری خدمت میں رہ کر اس دین کی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میں تم سے علم حاصل کروں گا اور تمھارے ساتھ ساتھ نماز پڑھوں گا۔ اس نے اجازت دے دی اور میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ وہ پادری ایک برا انسان تھا۔ وہ لوگوں کو صدقات اور خیرات کرنے کا حکم دیتا تھا ۔ اللہ کے لئے خرچ کرنے کی ترغیب دلاتا تھا۔ مگر ان سے مال و دولت اکھٹی کر کے خود رکھ لیتا تھا اور ضرورت مندوں اور مستحقین میں تقسیم نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے سونے چاندی کے سات گھڑے بھر لئے تھے۔ مجھے اسکے اس بُرے کام پر شدید غصہ آتا تھا۔ پھر وہ پادری مر گیا۔ تمام عیسائی اسکی تجہیز و تدفین کے لئے جمع ہوئے ۔ میں نے ان سے کہا :’’ تمھارا یہ پادری تمھیں صدقات و خیرات کرنے کا حکم دیتا تھا اور جب تم اسے دیتے تھے تو وہ اپنے پاس رکھ لیتا تھا اور غریبوں اور مسکینوں میں خرچ نہیں کرتا تھا۔‘‘ لوگوں نے پوچھا ’’تمھیں اسکا علم کیسے ہوا؟ ‘‘میں نے انھیں اس پادری کا جمع کیا ہوا خزانہ بتایا۔ جب انھوں نے پادری کا یہ دھوکا اور فریب دیکھا تو کہا:’’اللہ کی قسم !ہم اسے دفن نہیں کریں گے ‘‘اور انھوں نے اسے سولی پر لٹکا دیااور اسے پتھروں سے مارا۔ ‘‘

ملک شام کا نیک پادری

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’پھر اس پادری کی جگہ ایک دوسرے پادری کو نامزد کردیا گیا اور میں اس کی خدمت کرنے لگا۔ میں نے پانچ نمازیں پڑھنے والوں (مسلمانوں ) کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس سے افضل ہو اور شب وروز میں اس پادری سے زیادہ نیک کاموں اور عبادات کا پابندہو۔ میں اس سے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے محبت کرنے لگا۔ میں ایک طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہا۔ جب اسکی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے کہا:’’ میں عرصۂ دراز سے آپ کے ساتھ رہا۔ دل کی گہرائیوں سے آپ سے پیار کیا۔ اب آپ کا آخری وقت قریب آگیا ہے۔ آپ مجھے وصیت کیجئے کہ میں کس کے پاس جائوں ؟‘‘ اس نے مجھ سے کہا:’’ اے میرے بیٹے ! اللہ کی قسم !آج میں اس خصوصیات کا حامل کسی انسان کو نہیں پاتا جو مجھ میں ہیں ۔ اب تو لوگ تباہ ہوچکے ہیں ۔ انھوں نے مذہب کو چھوڑ دیا ہے۔ مگر موصل میں ایک شخص ہے جو انھیں اوصاف سے متصف ہے۔ میرے بعد ان کے پاس چلے جانا۔ ‘‘

موصل اور نصیبن کے پادری

   حضرت سلمان فارسی آگے فرماتے ہیں:’’ جب وہ پادری مر گیاتو اسے دفنانے کے بعد میں موصل کے پادری کے پاس چلاگیا۔ میں اس سے کہا:’’ اے فلاں پادری !مجھے فلاں پادری نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ میں تمھارے پاس رہوں اور تم ان صفات سے مزین ہو جن سے وہ تھا۔‘‘ اس پادری نے مجھے اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دے دی ۔ میں اسکے ساتھ رہنے لگا۔ وہ بھی پچھلے پادری کی طرح عمدہ اوصاف کو مالک تھا۔ کافی مدت اس کے ساتھ رہا ۔ پھر اسکا بھی آخری وقت آگیا۔ میں اس سے پوچھا :’’ اب میں کس کے پاس جائوں ؟ ‘‘تو اس نے مجھے نصیبن کے پادری کا پتہ بتادیا۔ میں نصیبن کے پادری کے پاس پہونچا اور اسے پچھلے دونوں پادریوں کے بارے میں بتا کر رہنے کی اجازت مانگی جو اس نے دے دی۔ وہ بھی نیک انسان تھا۔ پھر اسکا بھی آخری وقت آگیا۔ میں نے اس سے پوچھا:’’ اب میں کس کے پاس جائوں ؟ ‘‘تو اس نے مجھے عموریہ کے پادری کے پاس بھیجا۔

’’وہ آخری نبی ‘‘ کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا ہے

   اسکے آگے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں عموریہ کے پادری کے پاس پہونچا اور اسے تمام حالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا:’’ تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو ۔وہ ایک عمدہ شخص تھا اور سابقہ تین پادریوں کی طرح بے حد نیک تھا۔ پھر میں روز گار میں مصروف ہوگیا۔ میرے پاس بہت سی گائیں اور بھیڑیں جمع ہوگئیں۔ پھر اس کا بھی آخری وقت آگیا۔ میں نے اس سے کہا:’’ اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں ؟‘‘ اس نے کہا :’’اے میرے بیٹے !اللہ کی قسم !آج اس دنیا میں میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جسکی تم کو تلاش ہے۔ ہاں میں تمھیں ایک بات بتا سکتا ہوں ۔ ’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ظاہر ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ وہ دین ابراہیمی پر مبعوث ہوں گے اور سر زمین ِ عرب میں ظاہر ہوں گے اور وہ ’’آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم)دہ سنگلاخ چٹانوں کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ ان چٹانوں کے درمیان نخلستان ہوگا۔(مدینہ منورہ کے دو اطراف پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ) ’’وہ آخری نبی‘‘ کی علامات اتنی عیاں ہوں گی کہ کسی پر مخفی نہیں رہیں گی۔ وہ ہدیہ تناول فرمائیں گے اور صدقہ ہر گز نہیں کھائیں ۔ ان کی شانوں کے درمیان ’’ختم نبوت‘‘ کی مہر لگی ہوگی ۔ اگرتم میں ان کے شہر تک جانے کی طاقت ہوتو ضرور جائو۔‘‘

تیرے عشق میں ……وادی القریٰ میں بک گئے

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی عشق محبت اور حق کی تلاش کی داستان میں آگے فرماتے ہیں :’’ پھر عموریہ کے پادری کی وفات ہوگئی اور میں سر زمین عرب جانے کی تگ و دو میں لگ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا میں عموریہ میں رہا۔ پھر میرے پاس سے بنو کلب کے تاجر گذرے۔ میں نے ان سے کہا:’’ مجھے عرب کی سر زمین تک لے چلو اسکے بدلے میں میری تمام گائیں اور بکریاں لے لو۔‘‘ انھوں نے حامی بھرلی۔ میں اپنی تمام گائیں اور بکریاں اور بھیڑیںانھیں دے دی۔ انھوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کر لیا۔ جب ہم وادیٔ القریٰ پہونچے تو انھوں نے مجھے غلام کی طرح ایک یہودی کے ہاتھوں بیچ دیا۔ اب میں یہودی کے پاس رہنے لگا۔ میں نے کھجوروں کے درخت دیکھے اور مجھے امید پیداہوگئی کہ شاید یہ وہی شہر ہو جسکے بارے میں عموریہ کے پادری نے بتایا تھا اور ’’وہ آخری نبی ‘‘ سے بھی ملاقات ہوجائے ۔ لیکن میرے دل نے تصدیق نہیں کی۔ ‘‘

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں:’’ میں اس یہودی کی غلامی کرنے لگا۔ ایک دن اسکا چچا زاد بھائی آیا۔ اسکا تعلق مدینہ منورہ کے بنو قریظہ سے تھا۔ اس نے میری محنت اور لگن دیکھکر اپنے بھائی سے مجھے خرید لیااور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آیا۔ اللہ کی قسم !جب میں نے اس مقدس شہر کی زیارت کی تو مجھے اس میں وہ تمام اوصاف نظر آئے۔ جو عموریہ کے پادری نے مجھے بتائے تھے۔ میں وہیں مقیم رہا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اعلان نبوت‘‘ کیا۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ کے ایک شخص نے’’ اعلان نبوت ‘‘کیا ہے۔ لیکن میں چونکہ ایک معمولی غلام تھا اور میری زندگی میرے آقا کے گھر تک محدود تھی۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں جان سکا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ لیکن مجھے ایک بات کا یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہ ایک دن مدینہ منورہ ضرور تشریف لائیں گے اور میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر سکوں گا۔ میں اکثر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا رہتا کہ اے اللہ تعالیٰ! مجھے اتنی زندگی عطا فرما کہ میں ’’وہ آخری نبی ‘‘صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرسکوںاور ان پر ایمان لا سکوں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے سینکڑوں سال کی زندگی عطا فرمائی ۔ میں نے تیرہ طویل سال مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں گذارے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی مدینہ منورہ آمدکی خبر

   حضرت سلمان فارسی آگے فرماتے ہیں :’’پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور قبا میں ٹھہرے ۔اللہ کی قسم !جس وقت مجھے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد کی خبر ملی۔ اس وقت میری جو کیفیت ہوئی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ میں اپنے مالک کی کھجوروں کے باغ میں ایک درخت پر چڑھ کر کھجوریں توڑ رہا تھا اور میرا مالک وہیں موجود تھا کہ اسکا چچا زاد بھائی آگیا اور میرے مالک سے کہنے لگا:’’ اے میرے چچا زاد بھائی! اللہ بنو قیلہ کو ہلاک کرے وہ لوگ ’’قبا‘‘ میں جمع ہیں اور ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کر رہے۔ جو مکہ مکرمہ سے آیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔‘‘ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’جب میں نے اپنے مالک کے بھائی سے یہ بات سنی تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پورا بدن خوشی اور سنسنی سے کپکپانے لگا۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے لگا جیسے اپنے مالک کے اوپر گر جائوں گا۔ میں جیسے تیسے نیچے اترا اور اپنے مالک کے بھائی سے بے تابی سے کہا:’’ ابھی آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟‘‘ ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ میرے مالک نے مجھ سے ناراض ہوکر شدید غصے کی حالت میں مجھے ایک بہت سخت مکہ رسید کیا اور کہنے لگا:’’ تجھے اس نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے کیا مطلب ؟ تو اپنے کام سے کام رکھ۔‘‘ میں نے کہا :’’ میرا ان سے کیا تعلق ہوسکتاہے؟ میں صرف تفصیل سننا چاہتا تھا۔‘‘

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تحقیق

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’ اب میں جلد از جلد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا۔ تاکہ دیکھ سکوں کہ ان کے بارے میں مجھے جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ ان میں ہیں یا نہیں ؟ میرے پاس کچھ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ شام کو میں وہ لیکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوااور عرض کیا:’’مجھے خبر ملی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پاک باز آدمی ہیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غریب اور حاجت مند ساتھی ہیں۔ میرے پاس یہ صدقہ کا کچھ مال ہے اور کوئی شخص نہیں ملا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صدقہ کا مستحق ہو۔ ‘‘یہ کہہ کر میں نے وہ مال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے کہا:’’ کھائو۔ ‘‘لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے کے لئے نہیں بڑھایا۔ میں نے دل میں کہا ’’علاماتِ نبوت‘‘ میں سے ایک علامت پوری ہوئی۔ میں واپس آگیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دن قبامیں آرام فرمانے کے بعد بنو نجار کی بستی میں آگئے۔ ایک دن پھر میں نے کھجوریں جمع کیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ لیکر حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ میں نے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا مال نہیں کھاتے ہیں ۔ اب میں ہدیہ کامال لیکر حاضر ہوا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرمائیں۔‘‘میں نے دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال قبول کر لیا اور خود بھی کھائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی کھلایا۔ میں نے دل میں سوچا کہ’’ علامات نبوت ‘‘میں سے دو علامات پوری ہوگئیں۔ اب تیسری علامت ’’مہر نبوت‘‘ دیکھنا باقی ہے۔‘‘

حضرت سلما ن فار سی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’ پھر میں یہ کوشش کرنے لگا کہ کسی طرح’’ مہر نبوت‘‘ دیکھوں ۔ تیسری مرتبہ جب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع (مدینہ منورہ کا قبرستان ) میں تشریف فرما تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ (یہ غالباً حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو دفنانے کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ ادافر ما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تشریف فرما ہوئے تو میں نے سلام عرض کیا اور ’’مہر نبوت ‘‘ دیکھنے کیلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاکر بیٹھ گیا۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کس جستجو میں ہوں؟ اور انھوں نے اسی وقت اپنی پشت مبارک سے چادر ہٹا دی۔ میں نے ’’مہر نبوت ‘‘ کو دیکھا اور اسے پہچان بھی لیا اور خوشی اور محبت کے جذبات سے ایسا مغلوب ہوا کہ رو پڑا۔ میں روتا جارہا تھا اور’’ مہر نبوت ‘‘کو چھوتا جا رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اب آگے آجائو۔‘‘ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگر بیٹھ گیا اور اپنے غم و عشق سے بھر پور’’ حق کی تلاش‘‘ کی داستان سنا دی:’’ اے ابن عباس(حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ) میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ویسی ہی داستان سنائی تھی جیسی تمھیں سنا رہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بھی متوجہ کر دیا تھا کہ وہ بھی میرے داستان سنیں ۔ پھر میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا۔‘‘

آزادی کے لئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی مکاتبت

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ مکمل ہوچکا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے بعد کئی سال بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر وقت موجود رہ سکے۔ تب تک آپ رضی اللہ عنہ غلام ہونے کی وجہ سے یہودی کے پاس ہی رہے۔ لیکن چونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی داستان ابھی بیان فرما رہے ہیں اس لئے اسے ہم مکمل کریں گے پھر آگے بڑھیں گے۔ آپ رضی اللہ آگے فرماتے ہیں :’’ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی میں اپنے یہودی مالک کا غلام بنا رہا اور اس کے گھر رہا۔ اسی دوران غزوہ بدر اور غزوہ احد ہوئے اور میں ان میں شرکت نہ کر سکا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برابر حاضر ہوتا رہا۔ ایک دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سلمان رضی اللہ عنہ! اپنے مالک سے مکاتبت کرلو۔ میں نے اپنے مالک سے مکاتبت کی بات کی تو وہ مجھے آزاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے ایسی شرط میری آزادی کی رکھی جو میں کبھی پوری نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے میری آزادی کی قیمت یہ لگائی کہ میں اسے چالیس اوقیہ سونا دوں اور تین سو کھجور کے درخت پھل کے ساتھ دوں تب وہ مجھے آزاد کرے گا۔‘‘ میں انتہائی مایوسی کے عالم میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی کڑی شرط کو بتایا۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا:’’اپنے بھائی کی مدد کرو۔ ‘‘تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کرنے کے لئے دوڑ پڑے اور کسی نے دس پودے ، کسی نے بیس پودے لا کر دیئے۔ اس طرح تمام حضرات پودے لے کر آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین سو سے زیادہ کھجو ر کے پودے آگئے۔‘‘

سید الانبیا ء ﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے پودے لگائے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو پودوں کا انتخاب کیا اور مجھ سے فرمایا:’’ اے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جاؤ اور ان پودوں کے لئے گڑھے کھودو اور جب تین سو گڑھے ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا۔ میں اپنے ہاتھوں سے ان پودوں کو لگاؤں گا۔‘‘ میں نے گڑھے کھودے اور صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے اس میں میری مدد کی اور گڑھے کھودے۔ جب تین سو گڑھے ہو گئے تو میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تمام گڑھے کھودے جا چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچ کر اپنے دستِ اقدس سے تمام پودے لگائے۔ اے ابن عباس ( حضرت عبداللہ بن عباس) رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم ، جس کے قبضہ میں قدرت میںسلمان کی جان ہے۔ ان میں ایک بھی پودا مرجھایا نہیں ۔ سب کے سب پھل دار ہوئے اور اس طرح میں نے اپنے مالک کو پورے تین سو پھل دار کھجور کے درخت دے کر پہلی شرط کو پورا کر دیا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی دعا سے سونے میں برکت

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں:’’اب مجھ پر چالیس اوقیہ سونا باقی تھا۔ ایک دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں کسی صحابی نے مرغی کے انڈے کے برابر سونا پیش کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مکاتبت کرنے والے سلمان رضی اللہ عنہ کو بلا لائو۔‘‘ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین مجھے بلا کر لے آئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سلمان رضی اللہ عنہ !یہ سونا لے جائو اور اپنی مکاتبت کی شرط پوری کردو۔ ‘‘میں نے عرض کیا ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے تھوڑے سے سونے سے اتنی بڑی مقدار کیسے پوری ہوگی؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اسے لے لو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا تمام قرض اسی سے ادا فرمائے گا۔‘‘ ( اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی) میں نے وہ سونا لے لیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے اسی سونے میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دی کہ میں نے چالیس اوقیہ سونا اسی سے ادا کیا۔ ‘‘ (حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت مکمل ہوئی۔)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن سے برکت

   محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونا عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ اس تھوڑے سے سونے سے میرا تمام قرض کیسے ادا ہوگا؟ تو اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کو اپنی زبان اقدس پر رکھا۔ اسے لعاب دہن لگایا پھر فرمایا:’’ اسے لو اور اس سے جا کر اپنا قرض ادا کر دو۔ ‘‘میں نے وہ سونا لیا اور اس سے تمام قرض ادا کر دیا۔ اس کے بعد حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہے۔ غزوہ خندق میں انھیں کے مشورے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوائی تھی۔ جو کہ عربوں کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پایا تھا اور بعض روایتوں میں ہے کہ ان کے کسی حواری کا زمانہ پایا تھا۔ حافظ امام ذہبی کہتے ہیں کہ جتنی بھی روایتیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں ہیں ان میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ڈھائی سو سال سے زیادہ تھی۔ ابو الشیخ طبقات الاصبہانین میںلکھتے ہیںکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر ساڑھے تین سو برس کا اتفاق ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے دس سے زیادہ مرتبہ فروخت کیا گیا تھا۔ ‘‘

مختلف قبائل کو مِشاقِ مدینہ میں شامل کرنا

   اس سے پہلے ہم آ پ کی خدمت میں میثاقِ مدینہ کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتا چکے ہیں۔ جب اس معاہدے پر مدینہ منورہ کے تمام قبائل اور یہودیوں کے دستخط ہو گئے اور ہر فریق راضی ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے باہر کافی دور ، دور جو قبائل آباد تھے۔ ان کو راضی کرنے اور اس معاہدے پر دستخط کرانے کے لئے ان قبائل کا دورہ فرمایا اور ان کے قبائل کو اس کے دو بہت بڑے فائدے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے۔ (۱) قبائل کے درمیان جو ہمیشہ جنگیں ہوتی رہتی ہیں اور ان کی وجہ سے بے شمار انسانی جانوں کا خون بہتا ہے اور ہر سال ہزاروں انسان بے وجہ مارے جاتے ہیں۔ اس معاہدے کی وجہ سے وہ جنگیں ہونا بند ہو جائیں گی اور قبائل اس معاہدے کے پابند ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون بہانے کی بجائے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور امن قائم ہو جائے گا۔ (۲) جو قبیلے اس معاہدے میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ قریش کی شرارتوں سے محفوظ ہو جائیں اور قریش کے مقابلے میں مسلمانوں کے مدد گارثابت ہوں گے۔ اس مبارک اور امن کے ارادے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے پہلے ہی سال میں ودّان تک ( جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے) کا دورہ اور سفر کیا اور قبیلہ بنو حمزہ بن بکر کو اس معاہدے میں شامل کر لیا اور اس عہد نامہ پر عمرو بن فحشی الضمری نے بھی دستخط کر دئیے۔ اسی ارادہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول میں رفوی کی طرف سفر کیا اور ’’ کوہ بواط‘‘ کے لوگو ں کو میثاق مدینہ میں شریک کیا۔ اسی سال (ہجرت کے پہلے سال) جمادی الاول میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ’’ذی العشیرہ‘‘ تشریف لے گئے۔ یہ مقام ینبوع اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور بنو مدلج سے معاہدہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔

 کافر سرداروں کی موت اور حضرت عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش

   ہجرت کے پہلے سال یعنی 1 ؁ھ ہجری میں قریش کے دو کافر سرداروں ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل کا انتقال ہوا۔ یہ دونوں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی دشمنی میں بہت سخت تھے۔ ولید بن مغیرہ ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا باپ تھا اور عاص بن وائل ، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا باپ تھا۔ ادھر مکہ مکرمہ میں ان دو کافر سرداروں کا انتقال ہوا۔ ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کے گھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں میں پیدا ہونے والے یہ سب سے پہلے بچے ہیں۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہافرماتی ہیں۔ کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو میں اور (حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) اسے لیکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں لٹایا اور کھجور منگوا کر اپنے منہ میں رکھ کر چبا کر نرم کیا اور پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈال دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اسے شوق سے چوسنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو’’ بنو امیہ‘‘ کے دور حکومت میں اس وقت کے حکمراں عبدالملک بن مروان کے سپہ سالار’’ حجاج بن یوسف‘‘ نے شہید کیا تھا۔

جہاد کی اجازت اور سَرِ یّہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ

   مکہ مکرمہ میں مسلمان کمزور تھے لیکن مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا ایک مر کز قائم ہوگیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی حکومت قائم کردی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم نازل فرمایا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے سات ماہ بعد ماہِ رمضان المبارک میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالای میں تیس مہاجرین کا سَرِیّہ بھیجا۔ (سَرِیّہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہیں ہوئے ہوں اور غزوہ اس جنگ کو کہتے جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے ہیں۔ ) ان تیس مجاہدین میں انصار نہیں تھے۔ کیونکہ انصار نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کریں گے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کو لیکر قریش کے قافلے کو روکنے کے لئے نکلے تھے۔ اس قافلے میں ابو جہل بھی تھا۔ مقام عیص میں سمندر کے کنارے دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ قریش کے لوگ تین سو تھے جب کہ مسلمان تیس تھے۔ مجدی بن عمرو جہنی نے دونوں لشکر وں کو سمجھایا اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے لئے سفید جھنڈا عطا فرمایا۔

سَرِیّہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایک مہینے بعد یعنی شوال المکرم کے مہینے میں حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔ اور ساٹھ مجاہدین کالشکر دے کر بطن رابغ کی طرف روانہ فرمایا۔ ان کے لئے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدجھنڈا بنا کر دیا۔ جسے حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ نے اٹھا رکھا تھا۔ ان کا سامنا ابوسفیان بن حرب سے ہوا جو مشرکین کا سپہ سالار تھا۔ کسی نے کہا ہے کہ مکرز بن حفص اور کسی نے کہا کہ عکرمہ بن ابو جہل سپہ سالار تھا۔ ان کی تعداد دو سو تھی۔ ان دونوں لشکروں کے درمیان بہت بڑی لڑائی نہیں ہوئی البتہ کچھ تیر اندازی ہوئی اور مسلمانوں کی طرف سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تیر چلایا۔ یہ اسلام کی طرف سے کفر کے خلاف چلایا گیا پہلا تیر تھا۔

سریہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نو مہینے بعد یعنی سریہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے ایک مہینے بعد ذی القعدہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بیس مجاہدین کا سپہ سالار بنا کر’’ خرار‘‘ کی طرف بھیجا اور سفید جھنڈا عطا فرمایا۔ جسے حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اٹھایا۔’’ خرار‘‘ حجاز کی ایک وادی ہے جو جحفہ میں آکر ملتی ہے۔ سریہ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ لیکن جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے مجاہدین کو لیکر وہاں پہونچے تو ایک دن پہلے ہی قافلہ وہاں سے گذر چکا تھا۔ بعض علامائے کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ تینوں سرایا 2 ھ؁ ھجری میں ہوئے محمد بن اسحاق کی روایت میں یہی ہے اور سیرت النبی ابن ہشام میں عبدالملک بن ہشام نے بھی یہی بیان کیا ہے ۔

غزوئہ ابواء یا غزئہ ودان

   یہ پہلا غزوہ ہے جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ۔ صفر المظفر 2ھ؁ ھجری میں ساتھ مجاہدین کو لیکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ قریش اور بنو ضمرہ پر حملہ کر نے کے لئے ابواء یا ودان کی طرف روانہ ہوئے۔ ان مجاہدین میں ایک بھی انصار نہیں تھا۔ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ حضرت بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو حاکم مقرر فرمایا۔ اس غزوہ میں جھنڈا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوا یا ودان پہونچے تو قافلہ نکل چکا تھا۔ بنو ضمرو کے سردار مخشی بن عمرو سے صلح کر کے واپس ہوئے۔ صلح کے شرائط یہ تھیں کہ بنو ضمرو مسلمان سے جنگ نہیں کریں گے اور مسلمان کے کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں کو دھوکا دیںگے اور ضرورت کے وقت مسلمانوں کی مدد کریں گے۔ اس غزوہ کو غزوئہ ابوا اور غزوئہ ودان کہا جاتا ہے۔ ابواء اور ودان کے درمیان صرف چھ میل کا فاصلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے بغیر قتال کئے پندرہ دن بعد مدینہ منورہ واپس آئے۔

غزوئہ بواط

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول میں ہجرت کے تیرہ مہینے بعد دو سو مجاہدین کو لیکر بواط کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ میں حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ قریش کے اس قافلے میں ڈھائی ہزار اونٹ تھے اور امیہ بن خلف اپنے سو آدمیوں کے ساتھ تھا۔ بواط پہنچ کر معلوم ہواکہ قافلہ نکل چکا ہے۔ اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر قتال کئے مدینہ منورہ واپس آگئے۔

غزوئہ عشیرہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الاول 2 ھ؁ھجری میں یعنی ہجرت کے پندر ہ مہینے بعد دوسو مجاہدین کو لیکر قریش کے قافلے پر حملہ کرنے کیے لئے عشیرہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد کو اپنا نائب بنایا۔ مجاہدین کی سواری کے لئے تین اونٹ تھے۔ جن پر صحابہ کرام باری باری سوار ہوتے تھے۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عشیرہ پہنچنے سے پہلے قافلہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند روز وہاں قیام کرنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے اور دوران قیام

بنو مدلج سے صلح کا معاہدہ کیا۔

غزوئہ سفوان یا غزوئہ بدر اول

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ عشیرہ سے واپس آئے ۔ اسکے لگ بھگ دس یا بارہ دن بعد قریش کے کرز بن جابر فہری نے مدینہ منورہ کی باہری چراگاہوں پر ڈاکا ڈالا اور بہت سے اونٹ لیکر فرار ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ وہ مدینہ منورہ کی سرحد پر ایک غار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا نائب مقرر کیا اور مجاہدین کے ساتھ کرز بن جابر فہری کے طرف بڑھے۔ اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کی پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی۔ اسلئے وہ مکہ مکرمہ کی طرف فرار ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ وادیٔ سفوان ‘‘تک اسکا تعاقب کیا۔ لیکن وہ کافی آگے جا چکا تھا۔ سفوان چونکہ بدر کے قریب ایک دیہات ہے۔ اس لئے اسے ’’غزوئہ سفوان ‘‘بھی کہا گیا ۔ اور’’ غزوئہ بدر اول‘‘ بھی کہا گیا۔ اس غزوہ میں جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تھا۔

قریش کا دھمکی آمیز خط عبداللہ بن اُبی کو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں تھے۔ تب تک قریش ان پر ظلم و ستم کرتے رہے۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مدینہ منورہ پہونچ گئے تو قریش کو یہ اندازہ ہوگیا کہ اگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مدینہ منورہ میں مضبوطی سے جم گئے اور وہاں کے لوگوں نے ان کا ساتھ دیاتو یہ لوگ بہت بڑی طاقت بن جائیںگے۔ قریش نے ان پر جو مظالم کئے ہیں تو ان کے بدلہ میںیہ لوگ قریش کا جینامشکل کردیں گے اور سب مل کر حملہ آور ہوںگے۔ قریش ابھی تک یہی سمجھ رہے تھے کہ مدینہ منورہ کا کنٹرول عبداللہ بن اُبی کے ہاتھوں میں ہے۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ کے لوگ اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ عبداللہ بن ابی کو حکمراں بنایا جائے۔ اس لئے قریش نے اسے خط لکھا اور اس خط میں لکھا:’’ تم (مدینہ منورہ )کے لوگوں نے ہمارے صاحب(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (اور ان کے ساتھی مسلمانوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ ہم (قریش) اللہ کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ یا تو انھیں قتل کردو یا مدینہ منورہ سے نکال دو۔ ورنہ ہم سب مل کر تم پر حملہ کردیں گے اور تمھارے لڑنے والے نوجوانوں کو قتل کردیں گے اور تمھاری عورتوں کی حرمت کو پامال کر دیں گے۔

عبداللہ بن اُبی کا مدینہ منورہ میں جنگ کا ماحول بنانا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانو ں کو ابھی آئے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے اور مدینہ منورہ کے اچھے خاصے لوگ ابھی بھی مشرک تھے اور عبداللہ بن اُبی بھی مشرک تھا۔ اس نے انصار کے مشرکوں کو بھڑکانا شروع کردیا اور قریش کا دھمکی آمیز خط بتا کرکہنا شروع کردیاکہ اگر تم لوگ ان مسلمانوں کو اگر مدینہ منورہ سے باہر نہیں نکالو گے تو قریش تمام قبائل کے ساتھ ملکر تم پر حملہ کردیں گے اور تم لوگ تباہ و برباد ہوکر رہ جائو گے۔ انصار کے مشرکین اس کے ساتھ ہوگئے اور ہتھیار لیکر تیار ہوگئے کہ مسلمانوں کو باہر نکال دیا جائے یا پھر قتل کر دیا جائے۔

سید الانبیاء ﷺ نے حکمت سے جنگ ٹال دی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عبد اﷲ بن اُبی پہلے سے ہی اپنے دل میں کینہ اور حسد رکھے ہوئے تھا۔ اسکے خیال میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی بادشاہت چھین لی تھی۔ اسی لئے وہ خط اسکے لئے ایک اچھا ہتھیار ثابت ہوااور نتیجے میں انصار نے ہتھیار اٹھا لیا ۔ انصار کے مسلمانوں نے جب یہ دیکھاکہ یہ لوگ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالیا ہے توانھوں نے بھی ہتھیار اٹھالیا اور دونوں آمنے سامنے آگئے اور جنگ کا ماحول بن گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو ئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراًموقع پر پہونچے اور انصار کے مشرکین کو حکمت سے سمجھانے لگے اور فرمایا:’’ قریش کی (معمولی) دھمکی تم لوگوں پر کیا اثرکر گئی ہے اور تملوگ(آپس میں لڑ کر) خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہونچانا چاہتے ہو اتنا نقصان قریش تمھیں کبھی نہیں پہونچا پائیں گے۔ کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود لڑنا چاہتے ہو؟ ‘‘سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انصار کے مشرکین کی سمجھ میں آگئی اور وہ لوگ خاموشی سے چلے گئے اور عبداللہ بن اُبی کی سازش ناکام ہوگئی۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی بہادری

   اسی دوران قبیلہ اوس کے کے سردارحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئے۔ (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ ہم پچھلے صفحات میں بیان کرچکے ہیں) وہ اپنے پرانے دوست امیہ بن خلف کے مہمان تھے۔ انھوں نے خانہ کعبہ کے طواف کا اردہ ظاہر کیا تو امیہ بن خلف نے کہا:’’ دوپہر میں مکہ مکرمہ کے لوگ دھوپ کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے ہیںاس وقت تم طواف کر لینا۔‘‘ جب دوپہر میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو اچانک وہاں ابو جہل آگیا اور امیہ بن خلف سے پوچھا :’’ یہ کون خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟‘‘ اس نے بتایا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ( حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مکہ مکرمہ والوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اسلام قبول کر چکے ہیں)۔ یہ سن کر ابو جہل کو غصہ آگیا ور وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بولا:’’ اچھا تو یہ اوس کے بنو عبد الاشہل کا سردا ر ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بڑے اطمینان سے طواف کر رہے ہو ۔ حالانکہ تم لوگوں نے بے دینیوں (مسلمانوں) کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ اراد ہ بھی رکھتے ہو کہ ان کی مدد اور اعانت کر و گے۔ سنو ! اللہ کی قسم !اگر تم ابو صفوان ( امیہ بن خلف کی کنیت ہے) کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر پلٹ کر صحیح سلامت نہیں جا سکتے تھے۔‘‘ اس پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا:’’ اے کافر سن! اللہ کی قسم !اگر تو نے مجھے روکا تومیں تجھے ایسی چیز سے روک لگا دوں گا جوتجھ پر اس سے بھی زیادہ بھاری اور تکلیف دہ ثابت ہوگی اور وہ ہے مدینہ منورہ کے پاس سے گزرنے والا تیرا تجارتی راستہ ۔ ‘‘

سرِیہّ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب 2 ؁ ھ میں حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر گیارہ مجاہدین کے ساتھ سَرِیہّ بھیجا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سَرِیہّ پر بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا:’’ میں تم پر ایسے مرد کو امیر ( سپہ سالار) بنائوں گا جو تم میں سب سے زیادہ بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا ہوگا۔‘‘ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا اور یہ اسلام کے پہلے امیر تھے۔ حضرت جندب بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سیریہ کا امیربنا کر روانہ فرمایا تو انھیں ایک خط لکھ کر دیااور حکم دیا کہ دو دن کا راستہ طے کر لینے کے بعد اس خط کو کھول کر دیکھنا اور جو اس میں لکھا ہوا ہے اُس پر عمل کرنا۔ اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو مجبور نہ کرنا۔ جب دو دن کا سفر طے کر لینے کے بعد حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اس خط کو کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا’’ تم برابر آگے بڑھتے چلے جائو۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ اورطائف کے درمیان مقامِ’’ نخلہ‘‘ میں جا کر قیام کرو اور قریش کا انتظار کرو اور ان کی خبر ہمیں پہنچاتے رہو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھ کر فرمایا:’’ اس خط میں ایسا لکھا ہے اور میں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور میں تم میں سے کسی کو مجبور نہیں کروں گا ۔ ہاں! جس کو شہید ہونے کی آرزو ہو وہ میرے ساتھ چلے۔‘‘ تمام مجاہدین خوشی سے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔ راستے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا۔ اسے اٹھانے اور لانے میں یہ دونوں حضرات پیچھے رہ گئے اور باقی حضرات نے نخلہ میں پہنچ کر قیام کر لیا۔

پہلا مالِ غنیمت

   قریش کا ایک تجارتی قافلہ ملک شام سے مکہ مکرمہ واپس آرہا تھا۔ اس دن رجب المرجب کی آخری تاریخ تھی۔ ( حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ذی القعدہ ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ان چار مہینوں میں قتل و قتال حرام تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلمان ،مکہ مکرمہ کے مشرکین اور یہودی( بنی اسرائیل) اور عیسائی ( نصاریٰ) سب ہی اپنا بڑا مانتے تھے۔ اس لئے ان چار مہینوں میں جنگ و قتل و غارت گری نہیں کرتے تھے) اور حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں نے اس شبہ میں کہ ماہ شعبان کی ایک تاریخ ہے قریش کے اس قافلے پر حملہ کر دیا ۔ حضرت واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی کو ایک تیرمار ا جس سے وہ مر گیا۔ اس کے مرتے ہی قافلے والے بھاگ گئے اور مسلمانوں نے تمام مال و اسباب اپنے قبضے میں لے لیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک مال غنیمت کی تقسیم کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے اس مال غنیمت کے پانچ حصے کئے ۔ چار حصے انھوں نے آپس میں بانٹ لئے اور پانچواں حصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نے تم کو شہر حرام ( حرام مہینے) میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ اب جب تک اس معاملے میں وحی نازل نہ ہو جائے تب تک اس مال کو اور قیدیوں کو تم اپنے پاس رکھو۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدین کی حمایت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجاہدین سے فرمایا کہ اب وحی کا انتظار کرو تو مجاہدین بہت زیادہ پشیمان اور نادم ہوئے اور ڈر گئے کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا حکم نازل ہو ۔ ادھر مشرکین اور یہودیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیو ں نے حرام کے مہینے میں قتل و قتال کو حلال کر لیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہِ حرام میں قتال کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرمادیں کہ بے شک ماہِ حرام میں جان بوجھ کر قتال کرنا بڑا گناہ ہے۔ لیکن اللہ کے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے روکنا اور اہل حرم کو حرم( مکہ مکرمہ) سے نکالنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ جرم ان سب جرموں سے زیادہ سخت اور بڑا ہے اور کفر اور شرک کا فتنہ اس قتل سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ کافر تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے تاکہ تم کو تمہارے دین سے ہٹا دیں اگر ان میں طاقت ہو تو۔‘‘ ( سورہ البقرہ آیت نمبر217) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ قبول فرمالیا اور باقی مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کے مجاہدین کی اللہ تعالیٰ نے حمایت فرمائی اور وہ اس آیت سے خوش ہو گئے۔ اس کے بعد انھیں اجر و ثواب کی فکر ہوئی تو انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اس سریہ پر ہم کچھ اجر و ثواب کی امید کر سکتے ہیں؟‘‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترجمہ) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا ۔ ایسے لوگ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کر سکتے ہیں اور کیوں نہیں اللہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘ ( سورہ البقرہ آیت نمبر210) یہ اسلام کی پہلی مال غنیمت تھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے والا پہلا شخص عمر و بن حضرمی ہے۔ قریش نے عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کا فدیہ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تک میرے ساتھی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ واپس نہیں آجاتے تب تک میں تمہارے ساتھیوں کو آزاد نہیں کروں گا۔ کیوں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کو قتل نہ کر دو۔‘‘ اس کے چند دنوں کیبعد دونوں حضرات واپس آگئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر دونوں کو چھوڑ دیا۔ عثمان بن عبداللہ تو رہا ہو کر مکہ مکرمہ چلا گیا اور وہیں کافر مرا اور حضرت حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ میں ہی رہے۔ یہاں تک کہ ’’بیر معونہ ‘‘کے درد ناک واقعہ میں شہید ہوئے۔ اللہ انھیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔

تبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ

   سَرِیہّ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ماہِ رجب 2؁ھ میں پیش آیا تھا اورتبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ کا حکم اس کے کچھ دنوں بعد ماہِ شعبان 2 ؁ھ میں آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ لیکن مکہ مکرمہ میں یہ آسانی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسے رخ سے کھڑے ہوتے تھے کہ خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے ہوتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو دونوں قبلے ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ کیوں کہ ایک شمال میں تھا تو دوسرا جنوب میں تھا۔ اس لئے ایک کی طرف منہ کرتے تھے تو لازماً دوسرے کی طرف پیٹھ ہو جاتی تھی۔ مدینہ منورہ میں بھی قبلہ بیت المقدس ہی رہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی تو اس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہی رکھا ۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ پوری دنیا کا اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر اپنی معرکتہ آراء تفسیر ابن کثیر میں سورہ البقرہ کی آیت نمبر142کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ منورہ میں) سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمائی۔ لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں