جمعہ، 14 جولائی، 2023

11 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


11 خلافت ِ راشدہ_ 11 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 11


جنگ مذار(صفر المظفر 21 ھجری)، جنگ دلجہ، اُلیس میں دشمنوں کا اجتماع، جنگ اُلیس، خون کی ندی، خالد بن ولید جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے، امغیشیایا امعیشیا کی فتح، جنگ مقراور جنگ فرات باد قلی، حیرہ کے قلعوں کا محاصرہ، قصر ابیض پر حملہ، حیرہ کے نمائندے، اہل حیرہ کی اطاعت، حیرہ کی فتح پر شکرانہ



جنگ مذار(صفر المظفر 21 ھجری)


   حضرت خالد بن ولید اسلامی لشکر کو لیکر آگے بڑھے ،آپ رضی اﷲ عنہ نے کسانوںاور عام لوگوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔اور انہیں ذمی بنا لیا،لیکن جنگجوؤں کو قید کر لیا۔ادھر ہرمز کی مدد کے لئے کسریٰ نے قارن بن قربانس کولشکر دے کر بھیجا۔جب یہ مذار کے پاس پہنچا تو اسے ہرمز کی شکست کی اطلاع ملی،اور اس نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا ۔جنگ سلاسل سے بھاگ کر آنے والے فارسی فوجی اُس سے آکر ملے۔اور اس طرح اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔اور قارن نے انوشجان اور قباذ کو محفوظ دستے پرمقرر کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو فارسی لشکر کے مذا ر میں جمع ہونے کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ۔اور اپنا لشکر لیکر مذار میں قارن کی فوجوں کے سامنے آئے ،اور لشکر کو صف آرا کردیا۔سلطنت فارس میں قارن کا بہت بڑا مقام تھا،اور بہت ہی عزت اور مرتبے والا تھا۔وہ اپنے لشکر سے نکلا ،اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکلے ،لیکن اُن سے پہلے حضرت معقل بن اعشیٰ بن نباش پہنچ گئے۔اور قارن سے مقابلہ کرنے لگے،یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رک گئے۔کچھ دیر کے مقابلے کے بعد حضرت معقل نے قارن کو قتل کر دیا۔اب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ گئے،اور زبر دست جنگ ہو نے لگی۔مسلمان کمانڈروں نے فارسی کمانڈروں کو تاک لیا،اور حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ نے قباذ کو اور حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ نے انوشجان کو قتل کردیا ۔اس کے بعد فارسی لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور فارسی یعنی ایرانی لوگ بھاگنے لگے،مسلمانوں نے اُن کا تعاقب کیا ۔اور قتل کرنے لگے،اُس روز فارسیوں کے تیس ہزار آدمی قتل ہو ئے اور بہت سے کشتیوں پر بیٹھ کر بھاگنے میں دریا کے پانی میں غرق ہوگئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہیں مذار میں ٹھہر گئے،اور مال غنیمت کو اکٹھا کر کے اُس کا خمس نکالا،اور باقی لشکر کے مجاہدین میں بانٹ دیا۔اور مال غنیمت کا خمس حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کے زریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔یہ جنگ صفر المظفر ۲۱ ھجری میں ہوئی۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مفتوحہ علاقے پر فوج کا افسر حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا،اور حضرت سوید بن مقرن مزنی رضی اﷲ عنہ کو جزیے کا افسر مقرر کیا۔اور فرمایا کہ حضیر جاو¿ اور لگان کے عہدے دار مقرر کر کے لگان وصول کرو۔


جنگ دلجہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی فتح اور قارن کے قتل اور فارسیوں کی شکست کی خبر جب ارد شیر کو ملی تو اُس نے اندر زغر (اندر زگر)کو فوج دیکر روانہ کیا۔یہ سواد میں پیدا ہوا تھا،اور یہ بھی بہت بڑا شہسوار اور جنگجو تھا۔وہ خراسان کی سرحدی چھاو¿نی پر مقرر تھا،وہ پہلے مدائن آیا،پھر کسکر پہنچا ،اور وہاں سے دلجہ کی طرف بڑھا۔اُس کے پیچھے ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو ایک بڑا لشکر دے کر روانہ کیا ،اور اُسے حکم دیا کہ اندر زغر سے کترا کر جانا۔اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا،اُس کے پاس آس پاس کے کسان اور عیسائی بھی آگئے ،اور اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے توآپ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر نہر عبور کر کے اُس کے مقابلے پر آئے۔اور صف بندی کرنے سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ،ایک حصہ کو اپنے پیچھے چھپا دیا۔اور بقیہ دو حصے میں سے ایک حصے کو اپنے ساتھ رکھا۔اور دونوں حصوںنے ایک ساتھ فارسیوں کے لشکر پر حملہ کردیا۔اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دونوں حصے پیچھے ہٹنے لگے۔فارسیوں نے سمجھا کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں،اور مسلمان بھاگنے کی تیاری میں ہیں۔اسی لئے وہ جوش میں آگئے،اورہوش کھو کر زیادہ تیزی سے حملے کرنے لگے۔مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے اُس جگہ سے بھی پیچھے ہٹ گئے،جہاں لشکر کا ایک حصہ چھپا ہو ا تھا۔جب فارسی لشکر آگے آگیا تو چھپا ہوا لشکر اُس کے پیچھے نمودار ہوا ،اور پیچھے سے حملہ کردیا۔اس اچانک حملے سے فارسی لشکر میں گھبراہٹ پھیل گئی،اور جب تک وہ سنبھلتے ،تب تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے حصے کے ساتھ کوس کا چکر کاٹ کر دائیں بازو پر آگئے،اور زور دار حملہ کر دیا۔ادھر سامنے والے حصے نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔اس طرح فارسی لشکرمسلمانوں کے گھیرے میں آگیا،اور اُن پر ہر طرف سے حملے ہونے لگے،اور اُن کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔اور اُن کی اکثریت قتل ہو گئی۔اندر زغرہزیمت اُٹھا کر بھاگا ،اور پیاس کی تکلیف سے مر گیا۔


 اُلیس میں دشمنوں کا اجتماع


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جنگ دلجہ میں ایک ایسے ایرانی (فارسی) کو مقابلے کی دعوت دی ،اور قوت و طاقت میں ایک ہزار آدمیوں کے برابر تھا۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے قتل سے فارغ ہو گئے تو اُس کا تکیہ بنا کر بیٹھ گئے ،اور وپیں اپنا کھانا طلب کیا۔اِس جنگ میں بنو بکر بن وائل کے عیسائی قتل ہوئے تھے۔اِس کی وجہ سے عیسائیوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی،اورعجمیوں سے رابطہ قائم کر کے انہیں مدد کے لئے آنے کی درخواست دی۔اور وہ سب ”مقام اُلیس “میں جمع ہو گئے۔اُلیس دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔اور اپنا سپہ سالار عبد الاسود عجلی کو بنایا۔ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو حکم دیا کہ تم اپنا لشکر لیکر عیسائیوں اور عجمیوں کی مدد کے لئے اُلیس پہنچو۔ادھر جابان نے بھی صلح نامہ توڑ دیا ،اور بہمن جاذویہ سے جاملا۔اُس نے جابان کو اُلیس کی طرف روانہ کیا ،اور حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں کے اندر جوش پیدا کرو۔لیکن میرے آنے تک دشمن سے جنگ شروع نہیں کرنا،ہاں اگر دشمن حملہ کر دے تو اُن سے جنگ کرنا۔اور پھر وہ ارد شیر سے ملنے چلا گیا ،تاکہ اُس سے مشورہ کرے ،اور مزید ہدایات حاصل کرے۔مگر وہاں جاکر دیکھا کہ ارد شیر بیمار پڑا ہوا ہے ،تو اُس کی تیمار داری میں لگ گیا ،اور اُلیس نہیں پہنچ سکا۔جابان جب اُلیس آیا تو اُس نے دیکھا کہ سرحدی چوکیوں کی فوجیںجو عربوں کے مقابلے پر متعین تھیں،اور بنو عجل کے عیسائی ،عربوں میں سے عبد الاسود،تیم الاب،ضبیعہ اور حیرہ کے خالص عرب ،یہ سب جمع ہیں،اور ایک عیسائی جابر بن بجیر اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ موجود ہے،تو اُس کا حوصلہ بڑھ گیا۔


جنگ اُلیس


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عیسائیوں،عربی عیسائیوںکے لشکروں کے اُلیس میں جمع ہونے کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲعنہ اپنا لشکر لیکر اُلیس کی طرف روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جابان غداری کر چکا ہے ،اور معاہد ہ توڑ کر فارسیوں سے مل گیا ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُن کے سامنے آگئے ،اور لشکر نے سامان اُتارنا شروع کر دیا۔عیسائیوں نے مسلمانوں کو سامان اُتارتے دیکھا تو جابان سے کہا کہ انہیں سامان اُتار کر صفیں مرتب کرنے میں دیر لگے گی ۔تب تک ہمارالشکر اور ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔جابان نے کہا کہ کھا نے کے بارے میں بھول جاو¿ ،اور اپنے لشکر کی صفیں مرتب کرو۔لیکن انہوں نے نہیں مانا ،اور کھانا لگا دیا گیا،اور سب کھانے بیٹھ گئے۔اُن کے کھانے سے پہلے ہی مسلمانوں نے سامان اُتار لیا ،اور صفیں مرتب کر لیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور بلند آواز سے للکارا:”اے جابر بن بجیرکہاں ہے؟اے عبد الاسودکہاں ہے؟اے مالک بن قیس کہاں ہے؟“یہ شخص بنو جذرہ سے تھا،باقی سب لوگ تو خاموش رہے ،لیکن مالک بن قیس میدان میںنکلا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے کہا:”اے بد کار عورت کے بیٹے،اور باقی سب تو دبکے ہوئے ہیں ،تجھے مقابلے پر آنے کہ ہمت کیسے ہوئی؟تجھ میں کیا رکھا ہے؟“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی وار میں اُس کی گردن اُڑا دی۔جابان نے یہ ماجرا دیکھا تو بولا کہ میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ تم لوگ کھانا نہیں کھاسکو گے۔اﷲ کی قسم!مجھے کسی سپہ سالار سے ایسی دہشت نہیں ہوئی ،جیسی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے ہو رہی ہے۔لوگوں نے کہا کہ کھانا یوں ہی چھوڑ دو،اور جنگ جیتنے کے بعد کھائیں گے۔جابان نے کہا کہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ کھانا ہمارے دشمن کھائیں گے،اس لئے تم ایسا کرو کہ کھانے میں زہر ملا دو۔تاکہ اگر ہم ہار جائیں تو یہ کھانا جب مسلمان کھائیں تو سب کے سب مر جائیں۔لیکن عیسائیوں اور باقی لوگوں کو اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے زہر ملانے سے انکار کردیا۔اور لڑنے کے لئے میدان میں آگئے۔جابان نے میمنہ پر عبد الاسود کو اور میسرہ پر جابر بن بجیر کو کمانڈر بنایا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پچھلی جنگ کی طرح ایک حصہ کو چھپا دیا،اور جنگ شروع کردی۔اور بڑے زور و شور سے لڑائی ہونے لگی،فارسیوں اور عیسائیوں کو بہمن جاذویہ کے آنے کی اُمید تھی ،اور اسی اُمید پر وہ بڑے حوصلے سے لڑ رہے تھے۔دونوں طرف سے جم کر مقابلہ ہو رہا تھا،اور حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی شدید جنگ کرنی پڑ رہی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے چالاکی سے دشمنوں کے لشکر کو گھیر لیا،اور ہر طرف سے حملے کرنے لگے۔


خون کی ندی


   حضرت خالد بن ولید نے دشمنوں کو ہر طرف سے گھرنے کے بعد نعرہ تکبیر لگایا، مسلمانوں کا مخصوص نعرہ”یا محمداہ“لگایا تو مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے،اور دشمن پر آخری کاری ضرب لگانی ہے۔اسی لئے مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے،لیکن دشمن بھی پہمن جاذویہ کی اُمید پر ڈٹے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جب دشمنوں یہ ثابت قدمی دیکھی تو منت مانی:”اے اﷲ !میں تیرے نام سے منت مانتا کہ اِن میں سے جس کسی پر بھی ہم کو قابو حاصل ہو گا تو ،اُس کو زندہ نہیں رکھوں گا،اور ان کے خون سے ایک نہر جاری کر دوں گا۔“اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،اور دشمن بھاگنے لگے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے بلند آواز میں اعلان فرمایا: قید کرو،قید کرو۔“اور اسلامی فوجیں دشمنوں کو گرفتار کر کے ہانکتی ہوئی اُس جگہ لانے لگی،جہاں پر آپ رضی اﷲ عنہ نے کچھ لوگوں کو متعین کیا تھا کہ اُن کی گردنیں اُڑا کر خون کی ندی بہائیں۔یہ عمل ایک دن اور ایک رات تک ہوتا رہا،خون نکلتا اور کچھ دور جا کر جم جاتا تھا۔اگلے دن بھی قیدیوں کو لا لا کر گردن اُڑانے کا سلسلہ جاری رہا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ اور دوسرے سمجھ دار لوگوں نے کہا:”اگر آپ رضی اﷲ عنہ پوری دنیا کے انسانوں کا قتل بھی کر دیں تو خون نہیں بہے گا،کیونکہ کچھ دور بہنے کے بعد وہ جم جاتا ہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اِس خون پر پانی بہا دیں ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کی قسم پوری ہو جائے گی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ندی کا پانی روک رکھا تھا۔اور ندی میں خون بہانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ ندی جاری کرنے کا حکم دیا،تو خالص سرخ خون بہتا ہوا نظر آنے لگا۔اس واقعہ کی وجہ سے یہ نہر یا ندی ”خون کی نہر یا ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔


خالد بن ولید جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فتح حاصل ہونے کے بعد کھانے کے پاس آکر کھڑے ہوئے۔کھاناستر ہزار(۰۰۰،۰۷)سے ذیادہ لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا،جبکہ مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ ہزار یا بیس ہزار تھی۔اور اتنا کھانا اُن کے لئے کئی وقت کام آسکتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا:”یہ کھانا میں تم کو عطا کرتا ہوں،یہ تمہارا ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب کسی تیار کھانے پر قبضہ فرماتے تھے تو اسے اپنے لشکر کو بخش دیتے تھے۔“مسلمان جب کھانے بیٹھے تو سفید روٹیوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر حیرت سے دیکھنے لگے،کیونکہ انہوں نے ایسی سفید روٹیاںکبھی نہیں دیکھی تھیں۔وہ ایکدوسرے سے حیرت سے پوچھنے لگے کہ یہ سفید ٹکڑے کیسے ہیں؟ان میں سے جو لوگ روٹیوں کو جانتے تھے،انہوں نے مذاق سے کہا:”تم ”رقیق العیش“کے بارے میں سنا ہے؟“بقیہ لوگوں نے کہا:”ہاں سنا ہے۔“تو مذاق کرنے والوں نے کہا :”یہ وہی ہیں۔“اسی واقعہ کی وجہ سے روٹیوں کو ”رقاق“کہنے لگے۔حالانکہ اس سے پہلے عرب ان کو ”قریٰ“کہتے تھے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا،اور نہر میں پن چکی لگوا دی،اور تین دن تک اٹھارہ ہزار کے لشکر کے لئے ُسرخ پانی سے آٹا پیسا جاتا رہا تھا۔اُلیس کی جنگ میں ستر ہزار کے لگ بھگ فارسی اور عیسائی قتل ہوئے تھے،اور بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کردیا۔اور جنگ کی پوری تفصیل ،اور فتح کی خوش خبری ،اور مال غنیمت کا خمس دے کر بنو عجل کے حضرت جندل عجلی کو مدینہ منورہ بھیجا۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اُلیس کی فتح کی خوش خبری ،مال غنیمت کی مقدار،قیدیوں کی تعداد،خمس میں جو چیزیں حاصل ہوئی تھیںاور جن لوگوں نے کار ہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔اِن سب کی تفصیل بہت عمدگی سے بیان کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اُن کا یہ انداز بہت پسند آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے پوچھا:”تمہارا نام کیا ہے؟“تو انہوں نے عرض کیا:میرا نام جندل ہے۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”واہ رے بلندال (بلندل عربی میں قیمتی پتھر کو کہتے ہیں)“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نےاُن کو مال غنیمت میں سے ایک لونڈی بطور انعام عطا فرمائی،جس سے اُن کی اولاد ہوئی۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا:”اے گروہ ِ قریش!تمہارے شیر نے ایک شیر پر حملہ کیا ہے،اور اُس کی گپھا میں گھس کر اُس پر غالب آگیا ہے۔اب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔“ (ابن کثیر)جنگ اُلیس میں قتل ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد”امغیشیا“یا ”منیشیا“کے لوگوں کی تھی۔


امغیشیایا امعیشیا کی فتح


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب اُلیس کی فتح سے فارغ ہوئے تو امغیشیا کی طرف آئے۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور امغیشیا کے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کا ایسا رعب بِٹھا دیا کہ جب انہوں نے سنا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اِسی طرف آرہے ہیں ،تو وہ سب کے سب امغیشیا چھوڑ کر بھاگ گئے۔اور سوادمیں منتشرہو گئے،اُس روز سے سکرات ،سواد کے علاقے میں شامل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے امغیشیا کے تمام مکانات منہدم کرادیئے۔امغیشیا ، حیرہ کے برابر کا شہر تھا۔فرات باد قلی اس کے پاس سے گذرتا تھا،اُلیس اِس مقام کی فوجی چوکی تھا۔امغیشیا میں مسلمانوں کواتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ملک عراق میں داخل ہونے سے لیکر ابھی تک کل ملا کر بھی اتنا مال غنیمت حاصل نہیں ہوا تھا۔امغیشیا کے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کیا گیا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کیا گیا تو ہر سوار کے حصے میں پندرہ ہزار درہم آئے۔اِس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اب خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بہادر پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔(طبری)


جنگ مقراور جنگ فرات باد قلی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب امغیشیاکو فتح کرلیا تو آزاذبہ نے محسوس کیا کہ اب اُس کی خیر نہیں ہے،اِس لئے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں ،اور اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ فرات کا پانی روک دو۔آزاذبہ خاندان کسریٰ کے عہد سے حیرہ کی امارت(گورنری)پر فائز تھا،یہ گورنر کسریٰ کی اجازت کے بغیر ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے تھے۔آزاذبہ کا اعزاز نصف درجے تک پہنچ چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی پچاس ہزار کی تھی۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ امغیشیا سے روانہ ہوئے ۔اور پید ل فوج مع سامان اور مال غنیمت کشتیوں میں سوار کر دی گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ دیکھکر پریشانی ہوئی کہ دریائے فرات میں پانی اتنا کم ہو گیا ہے کہ کشتیاں زمین سے لگ رہی ہیں۔ملاحوں نے کہا کہ فارسیوں نے نہروں کو کھول دیا ہے ،جس کی وجہ سے فرات میں پانی کم ہو گیا ہے۔جب تک نہریں بند نہیں ہوں گی،تب تک فرات میں پانی نہیں بڑھے گا۔یہ سنتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک دستہ لیکر آزاذبہ کے لڑکے کی طرف بڑھے۔فم عتیق پر اُس کے ایک رسالے سے اچانک مڈ بھیڑ ہو گئی ،وہ لوگ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی یورش سے بالکل بے فکر تھے۔طرفین میں جنگ ہوئی ،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اِن سب کا مقر میں خاتمہ کر دیا۔اور اس سے پہلے کہ آزاذبہ کے بیٹے کو ”مقر “کے حالات کا علم ہوتا،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرات باد قلی کے دہانے پر پہنچ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا،اور اُن سب کو قتل کر دیا ۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام نہروں کو بند کر دیا،جس سے دریائے فرات میں پھر سے پانی جاری ہو گیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ دریائے فرات کو پار کیا۔آزاذبہ کو جب اپنے بیٹے کی موت کا علم ہوا،اور اسی دوران اُسے اطلاع ملی کہ ارد شیر اور شیری کو(اُس کے اُمراءنے) قتل کردیا گیا ہے ،تو وہ بغیرلڑے فرات عبور کر کے بھاگ گیا،اور اُس کی فوج غزیین اور قصر ابیض کے درمیان مقیم تھی۔


حیرہ کے قلعوں کا محاصرہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تمام لشکر کو لیکر غزیین اور قصر ابیض کے درمیان اُس جگہ میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا ،جہاں آزاذبہ کی فوج قلعوں میں مقیم تھیں۔اہل حیرہ قلعہ بند ہو گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ایک رسالے کو حیرہ میں داخل کر دیا۔اور ہر محل پر اپنا ایک ایک کمانڈر متعین کر دیاکہ محل والوں کا محاصرہ کرلو،اور اُن سے لڑو۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے ”قصر ابیض“کا محاصرہ کر لیا، اس میں ایاس بن قبیصہ طائی تھا۔حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ”قصر عدسین“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عدی بن عدی مقتولی تھا۔حضرت ضرار بن مقر مزنی رضی اﷲ عنہ جو اپنے دس بھائیوں میں سے ایک تھے،انہوں نے”قصر بنو مازن“کا محاصرہ کر لیا،اس میں ابن اکال تھا۔اور حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے”قصر بنو بقیلہ“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عبد المسیح تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے تمام کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام قلعے والوں کو اسلام کی دعوت دو،اور انہیں ایک دن کی مہلت دو۔اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ،تو بہت اچھی بات ہے،اور اگر وہ کفر پر اڑے رہے تو اُن کے حیلوں پر توجہ مت دو ۔بلکہ اُن سے لڑو،اور مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے میں تردد میں مبتلا مت کرو۔


قصر ابیض پر حملہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ کے قلعوں پر اپنے کمانڈروں کو لشکر دیکر متعین کردیا،اور خود بقیہ لشکر کے ساتھ میدان میں خیموں میںقیام پذیر تھے۔ سب سے پہلے قصر ابیض والوں سے جنگ ہوئی۔جب قلعے والے نیچے میدان میںجھانکنے لگے ،تو حضرت ضرار بن ازور نے انہیں تین باتوں کی پیش کش کی۔پہلی اسلام قبول کر لو،دوسری جزیہ دو،اور تیسری مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔قلعے والوں نے مقابلہ کرنا پسند کیا،اور بولے۔ابھی ہم تم پر غلے برساتے ہیں۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر سے کہا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاو¿،اور دیکھو کہ ان کی بکواس کی اصلیت کیا ہے؟اچانک قصر کی فصیل آدمیوں سے بھر گئی ،اُن سب کے ہاتھوں میں غلیلیں تھیں،اور وہ مسلمانوں پر مٹی کے غلے برسانے لگے۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کی اِن پر تیر برساو¿،مسلمان آگے بڑھ کر تیر برسانے لگے تو فصیل سے سب آدمی غائب ہو گئے۔ا س کے بعد مسلمان قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے،اور ہر ایک نے اپنے پاس کے دشمنوں کو قتل کر نا شروع کردیا۔اور بے شمار آدمی قتل ہوئے،اور تمام پادری اور راہب چلا اُٹھے کہ اے محلات والو!ہمارے قتل کا باعث تم ہو۔محلات والے چلا ئے کہ اے اہل عرب !ہم تین چیزوںمیں سے ایک کو قبول کرتے ہیں،ہمیں چھوڑ دو،اور ہمارے قتل سے باز آجاو¿،اور ہمیں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) کے پاس پہنچا دو۔


حیرہ کے نمائندے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے کے خیمے باہر تشریف فرما تھے،جب حیرہ کے نمائندے قلعوں سے اُتر کر آئے ۔قبیصہ بن ایاس اور اُسکا بھائی حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔اور عدی بن عدی اور زید بن عدی ،حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔عمرو بن عبد المسیح، حضرت ضرار بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اور ابن اکال ،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اِن کمانڈروں نے اِن سب کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ،اور خود اپنے اپنے لشکر کے ساتھ ڈٹے رہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اِن سے الگ الگ ملاقات کی۔سب سے پہلے عدی کے وفد سے ملے،اور اُن سے فرمایا:”تم کون ہو؟اگر تم عرب ہو تو عربوں سے عداوت کیوں ہے؟اور اگر عجمی ہو تو عدل و انصاف سے تمہیں دشمنی کیوں ہے؟“عدی نے جواب دیا :”ہم عرب عاربہ ہیں،اور دوسرے لوگ عرب مستعربہ ہیں۔اور ہمارے قول کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ ہم عربی کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ٹھیک کہتے ہو،اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو،ہمارے برابر ہو جاو¿ گے۔یا پھر جزیہ دو،یا پھر مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔“اُن لوگوں نے کہا:”ہم جزیہ دینا منظور کرتے ہیں۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”افسوس ہے تم پر۔“اور پھر ان سے ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔اسی طرح دوسرے وفود نے بھی اُن کی تقلید میں جزیہ دینا منظور کر لیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پوری رقم اور بہت سے تحائف دے کرحضرت ہذیل کابلی کے ذریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔خلیفہ اول نے یہ سب لے لیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اب تم بقیہ رقم کو اپنے لشکر کی تقویت کے لئے کام میں لاو¿۔


اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام قلعوں کے وفود سے ملاقات کی۔جب عمرو بن عبد المسیح آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آیا تو اُس کے پاس یا اُسکے غلام کے پاس ایک تھیلی میں زہر کی پڑیا تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابن بقیلہ(عمرو بن عبد المسیح)کے ساتھ اُس کا ایک خادم تھا،جسکی کمر سے ایک تھیلی لٹکی ہوئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہ تھیلی لے لی،اور اُس میں جو کچھ تھا ،اُسے اپنی ہتھیلی پر اُلٹ کرپوچھا:”اے عمرو !یہ کیا ہے؟“اُس نے کہا ،اﷲ کی امانت کی قسم!یہ زہرِ قاتل ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوچھا :”یہ ساتھ لئے کیوں پھرتے ہو؟“اُس نے کہا ،مجھے اندیشہ ہے کہ شاید تم لوگ ہمارے ساتھ کوئی توہین آمیز سلوک کرو،اور میں اپنی قوم اور اہل وطن کی توہین کے مقابلے میں موت کو ترجیح دینا پسند کرتا ہوں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کوئی بھی اپنی موت سے پہلے نہیں مر سکتا،“اوریہ دعا پڑھی۔”اُس اﷲ کے نام سے،جس کے تمام نام بہترین ہیں،جو زمین و آسمان کا رب ہے،جس کے نام کی برکت سے ہم کو کوئی بھی بیماری مضرت نہیں پہنچا سکتی،جو رحمن ہے ،اور رحیم ہے۔“یہ دیکھ کر مسلمان جلدی سے جھپٹے کہ انہیں روک لیں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے وہ زہر اپنے منہ میں ڈال لیا،اور نگل گئے۔عمرو بن عبد المسیح یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا،اور بولا۔اے عربو!اﷲ کی قسم ،تم جس چیز کے چاہو مالک بن سکتے ہو۔اس کے باوجود وہ بد بخت ایمان نہیں لایا۔اور اپنی قوم میں گیا تو بولا،اقبال کی کھلی نشانی جیسی میں نے آج دیکھی ہے،اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔(طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس کے پاس ایک تھیلی دیکھی،اور فرمایا:”اِس میں کیا ہے؟“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے کھولا، اور اُس میں کوئی چیز پائی۔ابن بقیلہ نے کہا،یہ فوراً ہلاک کر دینے والا زہر ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اسے اپنے پاس کیوں رکھا ہے؟“اُس نے کہا،جب میں اپنی قوم کی بری حالت دیکھوں گا تو اسے کھالوں گا،اور موت مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا،اور فرمایا:”ہر جان اپنے مقررہ وقت پر ہی مرے گی۔“پھر فرمایا:”بسم اﷲ ،خیر الاسمائ،رب الارض والسمائ،الذی لیس یضرمع اسمہ ،و الرحمن الرحیم۔“اور مسلمان امراءآپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ،لیکن اس سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے نگل لیا۔اور جب ابن بقیلہ نے یہ بات دیکھی تو کہنے لگا۔اے گروہِ عرب!اﷲ کی قسم،جب تک تم میں ایک آدمی بھی ایسا موجود ہے،تب تک تم ضرور اُس چیز پر قبضہ کر لو گے،جس پر قبضہ کرنا چاہو گے۔پھر اہل حیرہ کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔میں نے آج تک اس سے واضح برتری نہیں دیکھی۔(ابن کثیر)علامہ عبد الرحمن ابن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ فرما کر کہ”جب تک موت نہیں آتی،اُس وقت تک کوئی شخص مر نہیں سکتا“۔اور ”بسم اﷲ لا یضر مع اسمہ شیئ....آخر تک)پڑھ کر اُس کو کھا گئے۔تھوڑے عرصہ بے ہو شی کے عالم میں پڑے رہے،اور پھر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔اور اچھی طرح باتیں کرنے لگے۔ابن عبد المسیح نے یہ ماجرا دیکھ کرکہا۔اﷲ کی قسم!جب تک تم میں ایک بھی ایسا آدمی موجود رہے گا،تب تک تم جو چاہو گے ،حاصل کر لو گے۔(ابن خلدون)


اہل حیرہ کی اطاعت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے اہل حیرہ نے مسلمانوںاور اسلامی حکومت کی اطاعت کا معاہد ہ کیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حسب ذیل معاہدہ لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ معاہدہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) نے عدی کے دونوں بیٹوں عمر اور عدی سے،اور عمرو بن عبد المسیح سے،اور ایاس بن قبیصہ سے،اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔یہ لوگ اہل حیرہ کے نقتب ہیں۔انہوں نے ان لوگوں کو اس معاہدے کی تکمیل کے لئے مجاز گردانا ہے،اور وہ اس معاہدے پر رضامند ہیں۔معاہدہ اس بات پر ہے کہ اہل حیرہ سے اور ان کے پادریوں اور راہبوں سے سالانہ ایک لاکھ نوے ہزار درہم جزیہ وصول کیا جائے گا۔مگر تارک الدنیا راہب اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔اس معاوضے کے بدلے میں ہم(مسلمان)ان کے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔اور جب حفاظت نہیں کر سکیں گے ،تو جزیہ نہیں لیا جائے گا۔اگر ان لوگوں نے اپنے کسی قول یا فعل سے اس کی خلاف ورزی کی تو یہ معاہدہ فسخ ہو جائے گا۔اور ہم ان کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے۔“المرقوم ماہ ربیع الاول ۲۱ ھجری۔یہ تحریر اہل حیرہ کے حوالے کر دی گئی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بعد اس علاقے کے لوگوں نے اس معاہدہ کو پھاڑ ڈالا۔ اور فار سیوں سے معاہدہ کر لیا۔جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا ،تو ان لوگوں نے اس معاہدے کا ذکر کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ معاہدہ مانگا تو وہ پیش نہیں کر سکے۔اِس کا ذکر انشا ءاﷲ آگے آئے گا۔اس کے بعد صلوبا بن نسطونا نے سالانہ دس ہزر دینار اور کسری کے موتی کے جزیہ پر با نقیا اور باسما کی بستیوں کے بارے میں معاہد ہ لکھ کر دیا۔اور اہل حیرہ کے آس پاس کے قبائل اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کون میدان مارتا ہے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ہر جگہ حاوی ہو گئے ہیں تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کرجزیہ دینا منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سالانہ بیس لاکھ درہم جزیہ پر معاہدہ لکھ کر دیا۔


حیرہ کی فتح پر شکرانہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ کی فتح سے فارغ ہوگئے،اور تمام علاقہ مسلمانوں کے دست نگر آگیا۔ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حیرہ فتح ہو گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی،جس میں آٹھ رکعتیں ایک سلام سے ادا کیں۔اُس سے فارغ ہوئے تو فرمایا:”جنگ موتہ(رومی لشکر سے) میں جب میں لڑا تھا تو اُس وقت میرے ہاتھوں نو (۹)تلواریں ٹوٹی تھیں۔میںنے اہل فارس سے زیادہ بہادر قوم نہیں دیکھی ہے۔اور اِن میں بھی اہل اُلیس کو سب سے بڑھ کر بہادر پایا ہے۔ایک دوسری روایت میں یہی واقعہ مذکور ہے ،مگر اُس میں رکعتوں کا ذکر نہیں ہے۔قیس بن حازم جریر کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تھے۔اُن کا بیان ہے کہ ہم جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اُس وقت وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں،جسے انہوں نے اپنی گردن پر باندھ رکھا تھا،اورتنہا نماز پڑھ رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے:”جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو(۹)تلواریں ٹوٹی تھیں،صرف ایک یمنی تلوار میرے ہاتھ ایسی چڑھی کہ آج تک کام دے رہی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں