پیر، 3 جولائی، 2023

10 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


10 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مسجد نبوی کی تعمیر  اور اذان کی شروعات

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


انصار کا والہانہ استقبال، رسول اللہ ﷺ کا مدینہ منورہ میں پہلا جمعہ، اللہ نے ایک ہزار سال پہلے گھر بنوایا، مسجد نبوی کی تعمیر، مواخات، اذان کی شروعات، مسجد نبوی میں پہلا خطبہ


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبا میں آمد

   مکہ مکرمہ کے شمال میں لگ بھگ تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر مدینہ منورہ ہے۔ مدینہ منورہ کے دو طرف مشرق اور مغرب میں پہاڑ ہیں ۔ جنھیں ’’حرّ تین یا لاء تین ‘‘کہا جاتا ہے۔ جنوب میں کھجور کے گھنے جنگلات یا باغ ہیں اور شمال کی سمت کھلی ہوئی ہے۔ مشرق اورمغرب میں سیاہ پتھریلے پہاڑ ہیں ۔ یہ کم بلندی والے ہیں ۔ان کے دامن میں پتھریلا میدانی علاقہ ہے جسے’’ میدان حرّہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’حرہ ‘‘بہت دور تک پھیلا ہوا ہے۔ مدینہ منورہ کے جنوب کی سمت لگ بھگ تین کلومیڑ کے فاصلے پر ’’قبا ‘‘کی بستی ہے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آنے والے سب سے پہلے جس بستی میں داخل ہوتے ہیں وہ قبا کی بستی ہے۔’’ قبا ‘‘کو مدینہ منورہ کی مضافاتی بستی کہا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر مسلمان اسی بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کررہے تھے۔ قبا میں اکثریت بنو عمرو بن عوف کی آباد تھی۔ اور ان کے سردار حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ تھے۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے مکہ مکرمہ سے نکلے تو یہ خبر مدینہ منورہ پہنچ گئی تھی۔ اور روزآنہ مدینہ منورہ کے مسلمان اور مکہ مکرمہ کے مہاجرین نماز فجر کے بعد’’ حرہ ‘‘کی پہاڑی کے پاس جمع ہوجاتے تھے اور سیدلانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ پر آنکھیں بچھائے رہتے تھے اور جب دھوپ تیز ہوجاتی تو واپس چلے جاتے تھے۔ تیسرے دن تمام حضرات انتظار کررہے تھے۔ جب دھوپ نا قابل برداشت ہوگئی توبوجھل دلوں کے ساتھ واپس لوٹنے لگے ۔ اسی دوران ایک یہودی ایک ٹیلے پر چڑھا اور اس نے سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کو دیکھا۔کچھ دیر تو مبہوت ہوا دیکھتا رہا۔ پھر زور سے چلا پڑا:’’ اے گروہ عرب !یہ تمھارے ساتھی آرہے ہیں جن کا تم انتظار کررہے ہو۔ اے بنو قیلہ! (انصار کا ایک قبیلہ)یہ تمھارے بزرگوار(رہنما) آرہے ہیں ۔ اچانک مایوسی اور بوجھل دلوں میں جان آگئی اور تمام مسلمان حرہ کی پہاڑی کی طرف دوڑ پڑے ۔ جس پر سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ اتر رہا تھا۔ مدینہ منورہ والے اسی پہاڑی کو ’’ثنیتہ الوداع‘‘ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ حج کے لئے مکہ مکرمہ جانے والوں کو اس پہاڑی تک’’ ودداع ‘‘کرنے آتے تھے اور یہیں انھیں’’ الوداع‘‘ کہتے تھے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پہاڑی سے اترتا دیکھ کر تمام مسلمان ایک دوسرے کو اطلاع اور مبارکباد دے رہے تھے اور ہر طرف شور مچ گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں ۔ تمام مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کر رہے تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے سے سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کرسیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر چلنے کی دعوت دی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کی ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت خبیب بن اساف رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کرلی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے اور تمام مسلمان وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کیلئے آنے لگے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہجرت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ کے گھر قیام فرمایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضر ت سعد بن حیثمہ کے گھر پر بھی چلے جاتے تھے۔ کیونکہ ان کا گھر کھلا ہوا تھا اور ان کے بیوی بچے نہیں تھے ۔ اسلئے ملاقات کے لئے آنے والے لوگوں کو آسانی ہوجاتی تھی۔ ادھر مکہ مکرمہ میں سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو رخصت کرنے کے بعد حضرت علی تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہے اور لوگوں کی امانتیں لوٹاتے رہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ کے لئے ہجرت پر پیدل ہی نکل پڑے ۔ آپ رضی اللہ عنہ رات میں سفر کرتے اور دن میں کسی گھاٹی میں چھپ جاتے ۔ مسلسل چلتے رہنے سے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے سفر جاری رکھا۔ جیسے تیسے’’ قبا ‘‘پہنچے تو دونوں پیر اتنے سوج گئے تھے کہ چل نہیں پا رہے تھے۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ سیدھے اصل راستے پر سے آئے تھے اسلئے سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہنچ گئے ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما ہوئے تو بتایا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی قبا میں موجود ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھیں بلالائو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ چل نہیں سکتے ۔ یہ سن کے سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم خود ان سے ملنے گئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو آتا دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے لگے اور اسی کوشش میں گرنے لگے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے آگے بڑھ کر انھیں تھام لیا اور گلے لگا لیا اور دونوں حضرات آبدیدہ ہوگئے۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کے پیروں میں مرہم کی طرح لگایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دونوں پیر بالکل اچھے ہو گئے ۔اور پھر ساری عمر کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔(سیرت حلبیہ)

اسلام کی پہلی مسجد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں رونق افروز ہونے کے بعد تین دنوں تک گھر پر نماز پڑھاتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا میں ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کے لئے اپنی زمین پیش کی جو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر لاکر قبلہ رخ رکھکر اسکی بنیاد رکھی ۔ پھر دوسرا پتھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ نے رکھا اور پھر تیسرا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رکھا اور تعمیر کا کام جاری ہوگیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا کر لاتے تھے۔ صحابہ کرام عرض کرتے تھے:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہنے دیں‘‘ تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرا دیتے اور دوسرا پتھر اٹھا لیتے تھے۔ کئی برسوں کے اس مسجد کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(ترجمہ)’’ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔وہ مسجد اسکی پوری مستحق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جاکر کھڑے ہوں (یعنی نماز پڑھیں) اس مسجد میں ایسے مرد ہیں ۔جو ظاہری اور باطنی طہارت اور پاکی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے پاک و صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (سورہ التوبہ آیت نمبر 108) ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف والوں سے دریافت فرمایا :’’ وہ کونسی طہارت اور پاکی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری حمد و ثنا کی ‘‘ تو انھوں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد (اسی پر مطمئن نہیں ہوجاتے بلکہ )پانی سے بھی طہارت کرتے ہیں ۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس عمل کو پسند فرمایا ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں یہی وہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری حمد و ثنا کی ہے۔ تم لوگ اسکو لازم پکڑ لو اور اسکے پابند رہو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عُمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہر شنبہ کو مسجد قبا کبھی پیدل کبھی سوار جاتے تھے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اپنے گھر وضو کر کے چلے اور مسجد قبا میں جاکر دو رکعت نماز ادا کرے تو ایک عمرہ کا ثواب پائے گا۔

سفر ہجرت کا آخری حصہ اور نماز جمعہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قبا میں قیام کی مدت امام محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں دس راتوں سے زیادہ لکھا ہے۔ امام مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں چودہ دن لکھی ہے۔ اس دوران مدینہ منورہ سے انصار آتے رہے اور اسلام قبول کرتے رہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ملاقات کے لئے آئے۔ ( ان کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) مدینہ منورہ کے آس پاس کے علاقوں کے یہودی بھی ملاقات کے لئے آئے( یہ ذکر بھی آگے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ذکر میں آئے گا انشاء اللہ) جمعہ کے دن صبح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا سے اپنے سفر ہجرت کے’’ آخری حصہ ‘‘کی شروعات کی۔ قبا سے لے کر مدینہ منورہ تک انصار راستے کے دونوں اطراف کھڑے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کر رہے تھے۔ راستے میں جو قبیلے کی بستی ملتی تو اس کے سردار اور قبیلے والے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر اُن کی بستی میں قیام کی درخواست کرتے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے فرماتے :’’میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہے۔ ( یعنی اللہ تعالیٰ اس اونٹنی کو چلا رہے ہیں) جہاں یہ اونٹنی رکے گی میں وہیں قیام کروں گا۔ ‘‘راستے میں ملنے والی ہر بستی والوں کی درخواست کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے جا رہے تھے۔ راستے میں جب بنو سالم قبیلے کی بستی میں پہنچے تو جمعہ کی نماز کا وقت ہو گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ناقہ ( اونٹنی) سے اتر پڑے اور وہاں نماز جمعہ ادا فرمائی۔ یہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا’’ پہلا جمعہ‘‘ اور ’’پہلا خطبہ ‘‘ہے۔ جسے تمام مہاجرین و انصار نے سنا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور وہ آگے چل پڑی۔ بعد میں اس جگہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جمعہ ادا فرمائی تھی اس جگہ ’’مسجد جمعہ‘‘ بنا دی گئی۔

انصار کا والہانہ استقبال

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم میںنماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا’’ ردیف‘‘ بنایا ( یعنی اپنی اونٹنی پر اپنے ساتھ بٹھایا) اور اونٹنی چل پڑی۔ انصار، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ استقبال کر رہتے تھے۔ ہر طرف سے’’ مرحبا یا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ لڑکیاں گھروں کی چھتوں پر کھڑی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آمد کے گیت گا رہی تھیں۔ جس کے بو ل یہ ہیں ۔ طَلَعَ البدرُ عَلَیناَ ۔مِن ثَنِیاَۃِ الوَدَاعِی۔ وَجَبَ الشّکرعَلَیناَ ۔ مَا دَعَا اللہ ِ دَاعِ۔ اَیُّھَاالمَبعُوثُ فِیْنَا ۔ جِئتَ بِالاَمرِ المُطَاعِ۔ ( ترجمہ) ’’ثنیاۃِ الوداع‘‘ کی پہاڑی پر سے ہم پر چاند طلوع ہوا۔ جب تک اللہ کو کوئی پکارنے والا باقی رہے گا تب تک ہم پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہو گیا۔ اے وہ ذات مبارک ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو ہم میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے احکامات لے کر آئے جن کا ماننا اور اطاعت کرنا واجب ہے۔ ‘‘ترجمہ مکمل ہوا۔ ثنیاۃ الوداع اس پہاڑی کو مدینہ منورہ والے کہتے ہیں جس پہاڑی تک وہ لوگ حاجیوں کو چھوڑنے جاتے تھے۔ اور وہیں سے انھیں الوداع کہتے تھے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی پہاڑی سے اتر کر قبا میںتشریف لائے تھے۔ قاضی سلیمان منصور پوری نے’’ رحمت اللعالمین ‘‘میں اور صفی الرحمن مبار ک پوری نے’’ الرحیق المختوم ‘‘میں طَلَعَ کی جگہ اَشرَقَ لکھا ہے۔

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مہمان

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور اس کی مہار کو چھوڑ دیا تھا اور اونٹنی آہستہ آہستہ چلی جا رہی تھی۔ تمام انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لئے راستوں کے دونوں طرف کھڑے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی عمراس وقت لگ بھگ دس برس تھی۔ وہ فرماتے ہیں اس وقت مدینہ منورہ میں مجھے بہت رونق لگ رہی تھی۔ تمام انصار نے نئے لباس پہنے تھے۔ ہم سب بچے خوشی سے بھاگ دوڑ رہے تھے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو سب لوگ گھیرے ہوئے تھے اوروہ آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور سب لوگ اس کے ساتھ چل رہے تھے۔ جب ہم بچوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو دیکھا تو چھپ گئے اور چھپ کرسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنے لگے۔ ( جامع ترمذی) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو بنو سالم کے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اونٹنی کی مہار پکڑ کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے یہاں رہائش اختیار کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہے جہاں یہ رکے گی وہیں میں قیام کروںگا۔‘‘ پھر اونٹنی چلتے چلتے بنو بیاضہ کے محلہ میں پہنچی تو حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ اور حضرت فردہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رہائش کی درخواست کی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے یہی فرمایا۔ پھر اونٹنی بنو ساعدہ میں پہنچی اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بن عمرونے درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ پھر اونٹنی بنو حارث بن خزرج کے علاقے میں پہنچی تو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ، حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ پھر اونٹنی بنو عدی بن نجار کے علاقے سے گزرنے لگی تو حضرت سلیط بن قیس اور حضرت اُسیرہ بن ابی خارجہ اپنے قبیلے کے افراد کے ساتھ پہنچے اور رہائش کی درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بنو مالک بن نجار کے علاقے میں پہنچی تو س جگہ بیٹھ گئی جہاں آج ’’مسجد نبوی ‘‘ہے۔ لیکن اس پر سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نیچے نہیں اترے۔ کچھ دیر بعد اونٹنی اٹھی تھوڑی دور آگے گئی پھر واپس آکر اسی جگہ بیٹھ گئی۔ یہ کھلی جگہ تھی اور اس کے سامنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سامان اٹھانے کو فرمایا اور اونٹنی سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔

’’وہ آخری نبی ‘‘یہاں ہجرت کر کے آنے والے ہیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے ایک ہزار سال پہلے یمن کا ایک بادشاہ ’’تُبع ‘‘تھا۔ ( تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا جیسے مصر کے بادشاہوں کا فرعون اور رومیوں کے بادشاہوں کا قیصر لقب ہوتا تھا) تُبع کے راستے میں مدینہ منورہ پڑتا تھا اور اس نے اہل مدینہ کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ ایک سفر کے دوران اس کے بیٹے کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس نے اسے مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا ۔ کسی نے اس کو دھوکے سے قتل کر دیا۔ تبع جب سفر سے واپس آیا تو اسے بیٹے کے قتل کی اطلاع ملی۔ اس نے اپنی فوج کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا ۔ مدینہ منورہ والے دن میں اس کا مقابلہ کرتے تھے اور رات میں جنگ ختم ہونے کے بعد اس کی فوج کے لئے کھانا بھیجتے تھے۔ تبع حیران تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں ۔ کئی دنوں تک جنگ ہونے کے بعد تبع کی خدمت میں یہودی عالموں کا ایک وفد آیا اور اس نے تبع سے کہا:’’ تم اس شہر کو فتح نہیں کر سکتے اور ہمیں ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں عذاب میں نہ مبتلا کر دے۔ ‘‘تبع بادشاہ نے پوچھا :’’اس کی وجہ کیا ہے؟ ‘‘ ان یہودی عالموں کے سربراہ نے کہا:’’ وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہجرت کر کے آنے والے ہیں ۔ اُن کا ظہور ( ولادت) حرم شریف (مکہ مکرمہ) میں قبیلہ قریش میں ہوگی۔ وہ ہجرت کر کے یہاں تشریف لائیں گے اور یہاں رہائش اختیار کریں گے اور یہیں پر ان کا’’ روضہ اطہر‘‘ ہوگا۔‘‘ بادشاہ نے یہ سن کر جنگ بند کر نے کا اعلان کر دیا۔

ایک ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے گھر بنوایا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بارے میں جب تبع بادشاہ نے سنا تو اُن یہودیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کرید کرُید کر پوچھتا رہا اور وہ اسے جواب دیتے رہے۔ اس نے نام پوچھا تو انھوں نے بتایاکہ اُن کا نام’’ احمد‘‘ اور’’ محمد‘‘ ہوگا۔ اس نے پوچھا:’’ ان کے دشمن کون ہوں گے؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’ ان کی قوم! اور وہ ان سے لڑیں گے اور آخر میں ان پر غالب ہوں گے۔‘‘ وہ سوال کرتا رہا اور وہ یہودی عالم جواب دیتے رہے اور ہر جواب پر اس کے دل میں ’’ وہ آخری نبی‘‘ کی محبت بڑھتی جاتی رہی۔ آخر کار اس نے اعلان کر دیا :’’میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد مجبتیٰ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس اللہ کے رسول ہیںجو تمام روحوں کو پیدا فرمانے والا ہے۔ اگر میری عمر نے ’’ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے تک وفا کی تو میں ’’ ان آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’وزیر‘‘ ثابت ہوں گااور ایک چچا زاد بھائی کی طرح ان کا معاون و مددگار بنوں گا۔ میں شمشیر بے نیام کے ساتھ ان کے دشمنوں سے مقابلہ کروں گا اور ان کے سینہ ٔ اقدس سے ہر دکھ مٹانے کی کوشش کروں گا۔‘‘ اس کے بعد اس نے ایک گھر بنوایا اور اپنی فوج کے انتہائی نیک دل انسان کو اس میں بسا دیا اور ایک خط میں اوپر مذکورہ الفاظ کو لکھوایا۔ اسے دے دیا اور ہدایت کی کہ اگر تمہاری زندگی میں ’’ وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم آئیںتو تم یہ خط انھیں میری طرف سے دے دینا اور اگر تمہاری زندگی میں ہجرت کر کے نہیں آئیں تو اپنی اولاد کو دے دینا اور انھیں اس کی ہدایت کر دینا۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اسی نیک آدمی کی اولاد میں سے ہیں اور وہ گھر وہی ہے جو تبع نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک ہزار سال پہلے بنوایا تھا۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ تبع کے ساتھ چار سو یہودی علماء تھے۔ اس نے اُن چار سو علمائوں کے لئے چار سو گھر بنوائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک گھر بنوایا اور ان علمائوں کے سربراہ کو اس گھر میں بسا دیا اور ُمہر لگا کر خط دے دیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اسی’’ سربراہ عالم ‘‘کی اولاد ہیں اور تمام انصار انھیں چار سو علماء کی اولاد ہیں۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی اسی مکان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جا کر بیٹھی جو تبع نے ایک ہزار سال پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنوایا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ خط سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کھولا اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ ’’میں تبع ایمان لاتا ہوں احمد صلی اللہ علیہ وسلم پر‘‘ اور آگے پورا مضمون وہی ہے جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ خط کے آخر میں تبع نے لکھا تھا کہ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ جب بھی یہاں تشریف لائیں تو اسی گھر میں قیام فرمائیں۔ ‘‘

مسجد نبوی کے لئے جگہ

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کا ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی کے یہاں قیام فرما ہوں۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میری اونٹنی کی مُہار چھوڑ دو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور مامور ہے۔ یہ جہاں رکے گی اور بیٹھ جائے گی میں وہیں قیام کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہر قبیلے کے علاقے سے گزرتی رہی اور قبیلے کے سردار اور قبیلے والوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ اُن کے یہاں قیام فرمائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یہی جواب دیتے رہے جو اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اونٹنی قبیلہ بنو نجار کے علاقے میں پہنچی۔ بنو نجار قبیلے کے لوگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب کے ماموں تھے۔ اس لئے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننیھال والے بھی کہلائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بنو نجار کے کھلے میدان میں جا کر بیٹھی۔ وہاں کھجور سکھانے کے لئے پھیلائی جا تی تھی۔ اس کے سامنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس جگہ اونٹنی بیٹھی ہے وہاں مسجد اور میرے لئے گھر بنایا جائے۔ تب تک میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام کروں گا۔‘‘

مسجد نبوی کی بنیاد اور تعمیر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصار ی رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا اور جس جگہ اونٹنی بیٹھی تھی اس جگہ کے متعلق دریافت فرمایا تو حضرت معاذ بن عفرا رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ زمین دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ہے اور یہ دونوں بچے میری کفالت میں ہیں۔ میں انھیں راضی کر لوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مسجد بنا لیں۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ یہاں کھجور کے کچھ درخت تھے اور کھیتی ہوتی تھی اور چند قبریں تھیں اور یہ زمین بنو نجار کی تھی۔ بہر حال دونوں روایتوں میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمین کو خرید کر مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر اس جگہ کی صاف صفائی کی۔ پھر مسجد کے احاطے کے نشان لگائے۔ ( انھیں میں اُمہات المومنین کے حجرات ( کمروں) کے بھی نشان لگائے۔ واضح رہے کہ تمام امہات المومنین کے حجرے مسجد نبوی کی دیوار سے متصل ( لگ کر) تھے اور ہر ایک اُم المومنین کے حُجرے ( کمرے) کا ایک دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لے جاتے تھے ۔مسجد نبوی کی بنیادوں کی کھدائی صحابہ کرام کر رہے تھے اور ٹوکریوں میں مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ لگے رہتے تھے اور کبھی کھدائی کرتے اور کبھی مٹی اٹھا کر پھینکنے لگتے تھے۔ صحابہ کرام عرض کرتے :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ رہنے دیں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرا کر رہ جاتے اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتے۔ کھدائی کے ساتھ ساتھ کچی اینٹیں بنانے کا کام بھی چل رہا تھا۔ جب بنیاد رکھنے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انھوں نے مسجد کا قبلہ بتایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں پر پہلی اینٹ رکھ کر بنیاد ڈالی اور تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ مسجد نبوی کی دیواریں کچی اینٹوں اور کھجور کے تنوں سے کھڑی کی گئی۔ یعنی کھجور کے تنوں کو گاڑ کر ان کے درمیان کچی اینٹیں چُنی گئیں اور چھت کھجور کے تنوں اور شاخوں اور پتیوں کی بنائی اور پھر مٹی ڈال دی گئی۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ شہید کر ے گا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا کام شروع کر دیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کچی اینٹیں اٹھانے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم اینٹیں نہ اٹھائو بلکہ گارہ گھولو( بنائو) کیوں کہ تم اس کام سے خوب واقف ہو۔‘‘ یہ حکم سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پھاوڑا لے کر گاراگھولنے ( بنانے ) لگے۔ تعمیر کے دوران کبھی کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تھوڑا مذاق کا ماحول بھی ہو جاتا تھا۔ عبد الملک بن ہشام نے لکھا کہ صحابہ کرام نے ( مذاق کے طور ) حضرت عمار بن یاسر کے کاندھوں پر ایک سے زیادہ اینٹیں رکھ دیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اسی حال میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ( یہ انھوں نے مزاح کے طور پر عرض کیا) انھوں نے ( صحابہ کرام نے ) مجھے ہلاک کر ڈالا اور مجھ پر زیادہ بوجھ ڈال دیا۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا وہیں موجود تھیں۔ وہ فرماتی ہیں:’’ میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زُلفوں (بالوں) پر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ اے سُمیہ کے نورِ نظر!( حضرت سُمیہ رضی اللہ عنہا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور مکہ مکرمہ میں قریش کے کافروں نے شہید کر دیا تھا) یہ لوگ( صحابہ کرام) تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ تمہیں تو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔‘‘ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ( مسجد نبوی بناتے وقت ) صحابہ کرام ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹ اٹھا کر لاتے تھے۔ ایک اینٹ اپنی طرف سے اور دوسری اینٹ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ لوگوں کے لئے ایک اجر ہے۔ تمہارے لئے دو اجر ہیں۔ اور تمہاری آخری خوراک دودھ کا گھونٹ ہوگا۔ اور تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مہمان

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام فرمایا۔حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مہمان بنے تو نیچے والی منزل میں رہنا پسند فرمایا اور میں اور اُم ایوب رضی اللہ عنہا اوپر والی منزل میںتھے۔ میں نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔ میری یہ گذارش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی منزل میں رہیں کیونکہ میں اسے گستاخی سمجھتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی منزل پر رہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو ایوب! ( رضی اللہ عنہ) مجھ سے ملا قات کرنے کے لئے بہت سے لوگ آتے ہیں۔ اُن کی آسانی کے لئے میرا نیچے والی منزل پر رہنا ہی بہتر ہے۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوپر ی منزل پر ہی رہنے کا حکم دیا۔ ایک مرتبہ پانی کا گھڑا پھوٹ گیا تو میں نے اور میری بیوی نے فوراً سونے کے لئے استعمال ہونے والا لحاف لے کر اس میں پانی جذب کر نے لگے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی لحاف تھا۔ لیکن ہمیں بس یہی فکر تھی کہ کہیں پانی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر نہ گر جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکلیف اور اذیت کا باعث بن جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہم کھانا بنا کر پیش کرتے تھے۔ جب کھانا بچ کر واپس آتا تھا تو ہم لوگ اسی جگہ سے برکت کے لئے کھانا شروع کرتے تھے جس جگہ سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک لگا ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے لہسن اور پیاز ڈال کر کھانا پکایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا اور واپس کر دیا۔ میں نے گھبرا کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش نہیں فرمایا؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس میں پیاز اور لہسن کی بُو ہے اور مجھ سے سرگوشی کی جاتی ہے ( یعنی مجھ سے ملاقات کے لئے فرشتے آتے ہیں اور بات کرتے ہیں) اس لئے میں یہ نہیں کھا سکتا۔ہاں تم کھالو۔ ‘‘ہم نے وہ کھانا کھا لیا اور اس کے بعد کھانے میں پیاز یا لہسن نہیں ڈالا۔ ‘‘

اہلِ بیت کی مدینہ منورہ ہجرت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر تھے اور مسجد نبوی کا تعمیری کام جاری تھا۔ اسی دوران اہل بیت اطہار بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے۔ ان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ الزھرارضی اللہ عنہا تھیں۔ ان کے علاوہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( ان کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی) اور سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئیں۔ ان سب کو لے کر حضرت عبداللہ بن ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ آئے تھے۔ آپ کو یاد ہو گا یہ وہی حضرت عبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو غارثور میں آکر قریش کے دن بھر کے کاموں کی رپورٹ دیتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ نہیں آسکیں کیوں کہ اُن کے شوہر حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ ( اس وقت تک انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے انھیں مکہ مکرمہ میں ہی روک لیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہا غزوہ بدر کے بعد مدینہ منورہ آسکی تھیں۔ جب کہ سیدہ رُقیہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے حبشہ ہجرت کرکے گئیں تھیں پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئیں۔

ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے حالات

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے اس وقت مدینہ منورہ کے جو حالات تھے ان کے بارے میں ہم آپ کو مختصر میں بتادیں۔ تا کہ آگے کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس وقت مدینہ منورہ میں پانچ قسم کے لوگ تھے۔ (1)پہلی قسم، مہاجرین اور انصار کی جو ایمان لے آئے تھے اور اسلام قبول کر لیا تھا وہ تھی۔ یہ لوگ دل و جان سے سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔(2) دوسری قسم ان انصار کی تھی جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ لیکن بعد میں ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور سچے مسلمان بن گئے۔(3) تیسری قسم منافقین کی تھی۔ یہ لوگ دکھاوے کے لئے اسلام میں داخل ہو گئے تھے اور دکھاوے کے لئے ایمان لے آئے تھے۔ لیکن اندر سے وہ اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے اور در پردہ (اندرونی طور پر ) اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانیکی کوشش کرتے تھے۔ ان کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا جو ’’ رئیس المنافقین‘‘ کے لقب سے مشہو رہوا۔ اس کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔(4) چوتھی قسم عیسائیوں کی تھی لیکن یہ بہت کم تعداد میں تھے اور(5) پانچویں قسم یہودیوں کی تھی ۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں ( بنی اسرائیل )کی کئی بستیاں آباد تھیں ۔ ان میں سے یہودیوں کا ذکر ہم پہلے کرتے ہیں۔

مدینہ منورہ کے یہود

   مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کی جو بستیاں تھیں وہ بہت پرانی تھی اور ان یہودیوں کے آبا و اجداد سینکڑوں برس پہلے اس امید پرآباد ہو ئے تھے کہ ’’وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے یہیں تشریف لائیں گے اور ہم لوگ ان پر ایمان لا کر کامیاب ہو جائیں گے اور اس کے بارے میں اپنی اولاد کو بھی بتا تے تھے۔ بلکہ یہودیوں کی بستیوں میں ایسے مدرسے قائم تھے جن میں صرف ’’وہ آخری نبی‘‘ کے اوصاف بتائے جاتے تھے جو اﷲ تعالیٰ نے توریت میں بیان فرمائے تھے۔ اسی وجہ سے ہر یہودی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتا تھا اور اتنا ذکر کرتے تھے کہ مدینہ منورہ کے مشرکین ( انصار) بھی لاشعوری طور سے ’’ وہ آخری نبی‘‘ کے انتظار میں رہنے لگے تھے۔ یہودی قوم اپنے آپ کو تمام دنیا کے لوگوں سے برتر سمجھتی ہے اور اپنے علاوہ ہر انسان کو گولم ( جانور) سمجھتی ہے۔ ( یہودی پروٹو کولز) یہی سوچ اور ذہنیت مدینہ منورہ کے یہودیوں کی بھی تھی۔ وہ عربوں کو بہت حقیر سمجھتے تھے۔ اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور عربوں کو اُمّی ( اَن پڑھ) سمجھتے تھے۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ عربوں کا مال اُن کے لئے حلال ہے۔ وہ جیسے چاہے کھائیں اور ان یہودیوں کے پاس دین نام کی کوئی چیز رہ گئی تھی تو وہ فال گیری ، جادو اور جھاڑ پھونک تھی اور ان کی بدولت وہ اپنے آپ کو بہت بڑا عالم اور پیشوا سمجھتے تھے۔ یہودی ہر زمانے میں دولت مند رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا کی معیشت پر اپنی دولت اور سود خوری کی وجہ سے کنٹرول رکھتے ہیں۔ مدینہ منورہ کے یہودی بھی غلہ ، کھجور، شراب اور کپڑے پر اپنا کنٹرول بنائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یہودی سازشی اور جنگ بھڑکانے میں بھی ماہر ہیں۔ مدینہ منورہ کے یہودی دونوں مشرک قبیلوں اوس اور خزرج کو لڑاتے رہتے تھے۔ جس کا ثبوت کچھ ہی دن پہلے ہوئی ’’جنگ بعاث ‘‘تھی۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کی تین بڑی بستیاں آباد تھیں ۔ پہلی بستی ’’بنو قینقاع‘‘ ہے ۔ یہ لوگ مدینہ کے اندر بھی آباد تھے اور باہر بھی آباد تھے۔ یہ قبیلہ’’ خزرج ‘‘کے حلیف تھے۔ دوسری بستی’’ بنو نضیر‘‘ کی اور تیسری بستی’’ بنو قریظہ‘‘ کی تھی۔ یہ دونوں بستیاں قبیلہ’’ اوس‘‘ کی حلیف تھیں اور یہ مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھیں۔

جب تک جان ہے مخالفت کرتا رہوں گا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے وقت کے یہودیوں کے بہت سے واقعات ہیں ان میں سے دو یا تین واقعات ہم پیش کرتے ہیں۔ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا خیبر کے یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی ہیں۔ خیبر فتح ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا لیا تھا ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دوسرے دن میرے باپ حی بن اخطب اور چچا ابو یاسر بن اخطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر نے گئے۔ جب دونوں واپس آئے تو میرے چچا نے میرے باپ سے کہا:’’ کیا ’’ وہ آخری نبی ‘‘ یہی ہیں؟‘‘میرے باپ نے کہا :’’ہاں اللہ گواہ ہے کہ یہ ’’ وہ آخری نبی ‘‘ ہیں۔ ‘‘میرے چچا نے پوچھا :’’تم نے تمام نشانیاں ان میں دیکھیں؟‘‘ میرے باپ نے کہا :’’مجھے پورا یقین ہے کہ اُن میں تما م نشانیاں موجود ہیں۔‘‘ میرے چچا نے پوچھا :’’پھر اب کیا ارادہ ہے؟ ‘‘میرے باپ نے کہا :’’ جب تک جان میں جان ہے میں اُن کی مخالفت کرتا رہوں گا اور میرے دل میں (اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف )عداوت ہے اور عداوت رہے گی۔‘‘(کیونکہ وہ ’’بنی اسرائیل‘‘ میں نہیں بلکہ ’’بنی اسماعیل‘‘ میں آئے ہیں)

یہودی کے سوالات

   حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی حاضر ہوا اور سوال پوچھا:’’ جس روز اس زمین کو ایک دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا تو اس وقت بنی آدم ( تمام انسان ) کہاں ہوں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پُل کے قریب ظلمت (اندھیرے) میں ۔‘‘ اُس نے دوسرا سوال پوچھا:’’ سب سے پہلے جو لوگ پُل (صراط) پر سے گزریں گے وہ کون لوگ ہوں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ فقراء اور مہاجرین ہوں گے۔‘‘ اس نے تیسرا سوال پوچھا:’’ جنتیوں کا سب سے پہلا کھانا کیا ہوگا؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مچھلی کا جگر ہوگا۔‘‘ اس نے چوتھا سوال پوچھا:’’ جنتیوں کا صبح کا کھانا کیا ہوگا؟ ‘‘ اس کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جنت کا وہ بیل جو جنت میں آزاد انہ چرتا رہتا ہے۔‘‘ اس نے پانچواں سوال پوچھا:’’ ناشتہ کے بعد وہ کیا پیئیں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ نہر سلسبیل کا پانی پیئیں گے۔‘‘ اس کے بعد اس نے لڑکے اور لڑکی کے اسباب پیدائش کے بارے میں سوال کیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے درست جواب دیا۔ پھر وہ چلا گیا۔

( بنی اسرائیل ) یہودی ، سید الانبیاء ﷺ سے حسد کرتے ہیں

   حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صوریا سے دریافت فرمایا:’’کیا تم نہیں جانتے ہوکہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں شادی شدہ زانی کو رجم (پتھر مار مار کر مار ڈالنا) کرنے کا حکم دیا ہے ؟‘‘ ابن صوریا نے جواب دیا :’’ ہاں اللہ گواہ ہے یہی حکم ہے۔‘‘ پھر کہا :’’اے ابو القاسم! (سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت) یہود (بنی اسرائیل )خوب اچھی طرح جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔مگر وہ قومی عصبیت کے بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہودی تھے اور یہود کے بڑے علماء میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت یوسف علیہ السلا م کی اولادمیں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’حصین بن سلام ‘‘تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حصین ‘‘سے نام بدل کر’’ عبداللہ‘‘ رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’جب سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اکثر لوگ پہلی فرصت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہورہے تھے میں بھی گیا۔ جب میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ’’سچے نبی ‘‘ہیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے :’’ ایلوگو !کھانا کھلائو ، کھل کر سلام کرو، صلہ رحمی کرو ، راتوں کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں تا کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوسکو۔‘‘

بنی اسرائیل (یہود) جھوٹی اور بہتان باندھنے والی قوم

   اسکے بعد آگے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور صفت اور حلیہ پہلے ہی سے جانتا تھا۔ مگر کسی پر ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اس لئے جب سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ مکمل کر چکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میری قوم یہود(بنی اسرائیل )بہت بڑی جھوٹی اور بہتان باز قوم ہے ۔ ان کے علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دوسرے کمرے میں چھپا کر ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ جب یہودی علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے گروہ ِ یہود! اللہ سے ڈرو! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبودنہیںہے۔ تم لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسو ل ہوں اور حق لیکر آیا ہوں ۔ پس تم اسلام قبول کر لو۔‘‘ یہود کے علماء نے کہا :’’ ہم اس بارے میں نہیں جانتے۔ ‘‘تین مرتبہ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال دہرایا اور تینوں مرتبہ بد بخت یہودی علماء نے یہی جواب دیا۔ آ خر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’عبداللہ بن سلام تم میں کیسا شخص ہے؟‘‘ یہود نے کہا:’’ ہمارے سردار کا بیٹا ہے ،ہمارا سردار ہے اور ہمارا سب سے بڑا عالم ہے اور سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہے اور ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر عبداللہ بن سلام مجھ پر ایمان لے آئے تو مجھے برحق تسلیم کرلو گے ؟یہودی علماء نے کہا :’’عبداللہ بن سلام کبھی اسلام قبول کر ہی نہیں سکتا۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابن سلام باہر نکل آئو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے باہر آئے۔’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اور یہودی علماء سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’ تم خوب جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حق( قرآن اور اسلام)لیکر آئے ہیں ۔‘‘ یہ سنتے ہی یہودی علماء نے کہا:’’ تو جھوٹا اور کذاب ہے اور ہم میں سب سے بُرا ہے اور سب سے بُرے کا بیٹا ہے۔ ‘‘

منافقوں کا سردار، عبداللہ بن اُبی

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیںکہ مدینہ منورہ میں منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا۔ یہ لوگ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ اور عداوت چھپائے ہوئے تھے۔ لیکن انھیں کھل کر سامنے آنے کی ہمت نہیں تھی۔ بلکہ اپنے قبیلے والوں کے ساتھ انھوں نے دکھاوے کے لئے ا سلام قبول کر لیا تھا اورسیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن پوشیدہ طور سے نفرت کرتے تھے اور یہودیوں ،عیسائیوں اور کافروں سے پوشیدہ طور سے ملے ہوئے تھے اور ان کے اشارے پر مسلمانوں میں تفرقہ اور تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان میں سب سے اوپر عبداللہ بن اُبی تھا۔ یہی آگے چل کر منافقوں کا سردار بنا۔ جنگ بعاث مدینہ منورہ کے دو قبیلوں او س اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے۔ ا س جنگ کو بھڑکانے میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور جنگ بعاث میں انھوں نے بے شمار دولت کمائی تھی۔ اس جنگ کے بعد دونوں قبیلوں کے بچے کچے سرداروں نے ملکر یہ طیٔ کیا کہ اب ہمیں لڑنے کی بجائے مل کر رہنا چاہئے اور دونوں قبیلوں کا الگ الگ حکمراں ہونے کی بجائے ایک مشترکہ حکمراں ہونا چاہئے۔ مدینہ منورہ کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج پر یہودیوں کا کافی کنٹرول تھااور عبداللہ بن ابی یہودیوں کا بہت ہی قریبی تھا۔ اس لئے یہودیوں نے د ونوں قبیلوںپر اثر اور سوخ کا فائدہ اٹھا کر طے کروالیا کہ دونوں قبیلوں کا مشترکہ حکمراں عبداللہ بن ابی ہوگا۔ در اصل یہودی اسے اپنا کٹھ پتلی حکمراں بنانا چاہتے تھے اور اسکے ذریعے پوشیدہ طور سے مدینہ منورہ پروہ خود حکومت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبداللہ بن ابی کو حکمراں بنانے سے پہلے ہی مدینہ منورہ میں اسلام کا اجالا پھیل گیا اور دونوں قبیلے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بڑا ماننے لگے اور عبداللہ بن ابی کے بادشاہ یا حکمراں بننے سے پہلے ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ۔ چونکہ اسکے خیال میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی بادشاہت چھین لی۔ اس لئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن بن گیا۔ غزوئہ بدر تک وہ مشرک رہا ۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ غزوئہ بدر میں قریش جیسی بڑی طاقت کو شکست ہوگئی تو اس نے اپنے یہودی آقائوں کے کہنے پر دکھاوے کے لئے اسلام قبول کرلیا اور دھیرے دھیرے منافقوں کا ایک گروہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کی جڑوں کو کھودنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس منافقوں کے سردار کا ذکر ضرورت کے وقت آگے آئیگا۔ یہاں مختصراً اسکے بارے میں بتا دیا تاکہ قارئینِ کرام کو آگے الجھن نہ ہو۔

مدینہ منورہ کی وبا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں آئے۔ دونوں شہروں کے موسم میں فرق تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیمار ہوگئے اور انھیں مکہ مکرمہ یاد آنے لگا۔ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی:’’ اے اللہ تعالیٰ !ہمیں مدینہ منورہ کی محبت عطا فرما۔ جیسی ہمارے دل میں مکہ مکرمہ کی محبت ہے۔ ویسی محبت بلکہ اس سے زیادہ مدینہ منورہ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ تعالیٰ !ہمارے صاع اور مد (وزن کرنے یا ناپنے کے آلات ) میں برکت عطا فرما اور ان کو ہمارے لئے درست کردے اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔

مسجد بنوی کی تعمیر مکمل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ سات مہینے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔ اسی دوران مسجد نبوی کی تعمیر کا کام جاری رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُمہات المومنین کے حجرات (کمرے) اور مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گھر بھی مسجد نبوی کے آس پاس تعمیر ہوتے رہے ۔ جب ان تمام کی تعمیر مکمل ہوگئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مہاجرین اپنے اپنے گھروں میں منتقل ہوگئے۔ تب تک وہ انصار صحابہ کرام علیہم اجمعین کے گھروں میں مہمان بن کر رہ رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کیسی بنائی تھی۔ اس کے بارے بہت مختصر میں آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ مسجد بنوی کا قبلہ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا۔ (کیونکہ اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ بعد میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ ا نشا اللہ اسکے بارے میں ہم آگے بتائیں گے)۔ مسجد کے تین صدر دروازے بنائے گئے ۔ ایک دروازہ مسجد کے آخر میں رکھا گیا۔ دوسرے دروازے کو بابِ رحمت کہا گیا۔ اور تیسرا دروازہ جس سے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔ مسجد کی لمبائی اور چوڑائی لگ بھگ برا بر تھی۔ لمبائی سو ہاتھ تھی اور چوڑائی کچھ کم تھی۔ مسجد کی بنیاد تین ہاتھ رکھی گئے چھت کھجور کی شاخوں اور تنوں سے بنائے گئے ۔ مسجد کے ایک اطراف امہات المومنین کے حجرات تھے۔ ہر حجرے کا ایک دروازہ مسجد کے اندر کھلتا تھا۔ اور باقی اطراف میں مہاجرین صحابہ کرام کے گھر تھے۔

مواخات (بھائی بھائی )

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کرائی ۔ دراصل مکہ مکرمہ سے جو مہاجرین مدینہ منورہ آئے تھے۔ وہ انصار کے یہاں مہمان تھے اور انصار ان کی دل و جان سے خدمت کرتے تھے اور اپنی حد تک انھیں آرام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکنمہاجرین بھی کچھ کرنا چاہتے تھے۔مہاجرین کا زریعۂ معاش تجارت تھی اور انصار کا ذریعہ معاش زراعت تھی۔ یعنی وہ کھجوروں کی ذراعت کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان’’ مواخات‘‘ اس لئے کرائی کہ دونوں ایک دوسرے کی مد د کر سکیں اور ایک دوسرے کے بوجھ کو ہلکا کرسکے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ مواخات‘‘ کب کرائی ۔ اس بارے میں کچھ روایات ہیں کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد مواخات کرائی۔ مواخات کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ تاجر پیشہ مہاجرین نے انصار کی مدد سے مدینہ منورہ میں دکانیں کھولیں۔ اس کے علاوہ انصار کی کھجوروں کو بہت ہی مناسب دام میں فروخت کرواتے تھے۔جب کہ اس سے پہلے یہودی ان سے بہت سستے داموں میں کھجوریں خریدتے تھے۔ امام محمد بن سعد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا تو وہ با لکل حقیقی رشتے کی طرح بن گیا۔ انصار اپنے سگے بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے زیادہ اپنے مہاجر بھائی کا خیال رکھنے لگے اور ان کی دل جوئی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ مدینہ منورہ کے انصار نے ایثار و قربانی کی لازوال مثالیں قائم کیںکہ پوری انسانی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی یہاں تک کہ کوئی انصاری بھائی کا انتقال ہونے لگتا تو وہ اپنے مہاجر بھائی کو وارث کر جاتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہاجر صحابی کو بلاتے اور ایک انصار صحابی کو بلاتے تھے اور انصار کے ہاتھ میں مہاجر کا ہاتھ دیکر فرماتے تھے یہ تمھارابھائی ہے۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ 88اٹھاسی یا90نوے افراد کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ ان صحابہ کرام کے نام آپ کو سیرت کی مستند کتابوں میں مل جائیں گے۔ ہم جگہ کی کمی کی وجہ سے نہیں دے سکیں گے۔ مواخات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہااور جب بھی کوئی صحابی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لاتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کسی بھی انصاری صحابی کا بھائی بنا دیتے تھے۔

مہاجرین اور انصار کی ایک دوسرے سے بے انتہا محبت

   انصار وار مہاجرین دونوں اللہ کے لئے اور آخرت میں کامیابی کے لئے ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور انصار تو اپنے مہاجرین بھائیوں پر اپنا سب کچھ لٹا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر مہاجرین نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جس قوم (انصار) پر ہم اترے ہیں۔ ان سے بڑھ کر کسی قوم کو ہم نے ہمدرد اور مددگار اور مخلص اور تنگی میں بھی غمکسار اور فراخی میں بھی مدد کرنے والا نہیں دیکھا۔ ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ سارا اجر و ثواب ہمارے انصار بھائی لے جائیں گے اور ہم محروم نہ رہ جائیں ۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں !(تمھیں بھی اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا انصار کو ملتا ہے پر شرط یہ ہے کہ )تم ان کے لئے دعا کرتے رہو۔ ‘‘اکثر روایات میں ہے کہ مواخات دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں مہاجرین کے درمیان اور دوسری مرتبہ مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان ہوئی۔

اذان کیلئے مشورہ

   جب مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوگئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کرکے مشورہ کیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لئے کسطرح بلایا جائے۔ (کچھ روایات میں ہے کہ معراج میں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی تعلیم دی گئی تھی۔) حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو (مسجد نبوی کی تعمیرتک)جب نماز کا وقت ہوتا تھاتو تمام مسلمان خود بخود جمع ہوجاتے تھے۔ (مسجد ِنبوی کی تعمیر کے بعد) سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا کہ نماز کے لئے کسطرح بلایا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ ناقوس بجادیا جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں سے مشابہت نہ ہونے کہ بنا پر منع فرمایا ۔ کسی نے کہا بوق بجادیا کریں۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے مشابہت ہونے کے بنا پر منع فرمادیا۔ کسی نے کہا کسی اونچی جگہ پر آگ جلا دی جائے۔ جسے دیکھ کر لوگ جمع ہو جایا کریں۔ (یہ مجوسیوں یعنی آگ کی پوجا کرنے والوں کا طریقہ تھا۔)سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں سے مشابہت ہونے کے بناپر منع فرماد یا۔ حضرت عمر فاروق نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کیا جائے کہ وہ آواز لگا کر لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔ یہ مشورہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے بلال اٹھو اورنماز کیلئے لوگوں کو آواز دو۔

اذان کے متعلق حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا خواب

   امام محمد بن سعد اپنی کتاب طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز کے لئے ان الفاظ میں بلاتے تھے۔ ’’اَلصَّلوٰۃُ الجَامِعَہ‘‘(نماز کھڑی ہونے والی ہے نماز کے لئے جمع ہوجائو۔)حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اذان کی نعمت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس ایک بشیر (بشارت یا خوش خبری دینے والا ) آیا اور کیسا اچھا بشارت دینے والا تھا۔ مسلسل تین رات تک اللہ تعالیٰ کا بشیر آیا اور برا بر میری عزت میں اضافہ کرتا رہا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ) حضرت عبداللہ بن زید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سبز پوش ( ہرے کپڑے پہنے ہوئے) شخص میرے پاس سے گذرا۔اس کے ہاتھ میں نا قوس تھا۔ میں نے اس سے پوچھا :’’کیا تم اس ناقوس کو بیچو گے؟‘‘اس سبز پوش شخص نے کہا :’’تم اسکو خرید کر کیا کرو گے؟‘‘میں نے کہا:’’اس کو بجا کر نماز کے لئے بلایا کریں گے۔ ‘‘سبز پوش نے کہا:’’ میں تم کو اس سے بہتر اور عمدہ تدبیر بتائوں؟‘‘میں نے کہا :’’ضرور بتاؤ۔‘‘اس شخص نے اذان کے کلمات ادا کئے اور پھر ذرا ہٹ کر تلقین کی کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تب بھی یہی کلمات دہراؤ ۔ اور ’’حی علی الفلاح ‘‘کے بعد دو مرتبہ’’ قد قا مت الصلوٰۃ‘‘کا اضافہ کیا۔ صبح میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا خواب بیان کیا۔ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’بیشک یہ خواب بالکل سچا ہے ۔انشا اللہ تعالیٰ ۔‘‘اسکے بعد ارشاد فرمایا :’’اے بلال رضی اللہ عنہ اٹھو اور اذان دو۔‘‘ اور مجھ سے فرمایا:’’تم بولتے جائو اور بلال اذان دیتے جائیں گے۔ کیونکہ تمھارے مقابلے میں ان کی آواز بلند ہے۔‘‘ میں اذان کے کلمات کہتا جاتا تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے جاتے تھے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے اذان سنی تو فوراً اپنی چادر لپیٹے اتنی ہڑ بڑاہٹ میں آئے کہ چادر گھسٹ رہی تھی۔ اور فرمانے لگے:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجامیں نے بھی خواب میں یہی کلمات سنے ہیں ۔ (فتح الباری )المعجم الاوسط میں امام طبرانی نے بیان کیا ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اذان کا خواب دیکھا ۔مغلطائی کی سیرت النبی میں ہے کہ سات انصار نے اذان کا خواب دیکھا۔ فتح الباری میں علامہ ابن جحر عسقلانی نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور سے اذان کا خواب ثابت نہیں ہے۔ اور بعض روایات میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ہے ۔ اب حقیقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔

نماز کی رکعتوں میں اضافہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائی بعثت سے ہی دو وقت فجر اور عصر کی نماز پڑھتے تھے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی عمل تھا۔ معراج میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوئی تو صرف مغرب کی نماز میں تین رکعت پڑھنے کا حکم تھا اور باقی نمازیں دو دو رکعت تھیں ۔ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد ہجرت کے پہلے سال یعنی 1 ؁ہجری میں مسافر کی نماز تو ویسی ہی رکھی گئی۔ لیکن مقیم کے لئے ظہر ، عصر اور عشاء کی نماز کی چار چار رکعت کر دی گئی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نمازکی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں ۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ منورہ کی طرف )ہجرت کی تو چار رکعتیں فرض ہوئیں اور فجر کی نماز کو طویل ہونے کے بعد ہونے اور مغرب کی نماز کو وتر ہونے کی وجہ سے ویسی ہی حالت میں چھوڑ دیا گیا اور سفر کی حالت بر قرار رہی۔

سید الانبیاء ﷺ کا مسجد ِ نبوی میں پہلا خطبہ

   مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر پہلا خطبہ دیا۔ (سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منبر کئی سال بعد بنایا گیا تھا۔ اسکا ذکر انشا اللہ آگے آئے گا۔) چونکہ مسجد نبوی کی چھت کو سنبھالنے کے لئے جگہ جگہ کھجور کے تنوں کے ستون گاڑے گئے تھے ۔اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب جو کھجور کے تنے کا ستون گاڑا ہوا تھا اس سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خطبے کے خطبۂ اولیٰ میں فرمایا۔ تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد نبوی میں جمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی اور فرمایا: (ترجمہ ) ’’اے لوگو!اپنے لئے عمدہ افعال (نیک کام) سر انجام دے لو۔ تم سب کو خوب جان لینا چاہئے کہ اللہ کی قسم تم میں سے ہر ایک کو صاعقہ(قیامت) کا سامنا کرنا ہے۔ پھر وہ اپنی بھیڑوں کو ایسی حالت میں چھوڑ دے گا کہ ان کو چروانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ پھر اسکا رب (قیامت کے دن) اس سے ضرور پوچھے گا اور اس وقت نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ ہی کوئی پردہ ان کے درمیان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا (اے بندے) کیا تیرے پاس میرے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے؟ اور تجھے تبلیغ نہیں کی تھے؟کیا میں نے مال عطا نہیں فرمایا تھا؟ اور تجھ پر اپنا فضل و کرم قائم نہیں کیا تھا؟ (بتا) تونے اپنے نفس کیلئے آگے کیا بھیجا ہے؟ وہ شخص دائیں بائیں دیکھے گا۔ کوئی چیز نہیں پائے گا۔ پھر وہ سامنے دیکھے گا تو اسے دوزخ کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آئے گی۔ جو (بھی) طاقت رکھتا ہے کہ اپنے آپ کو آگ سے بچائے ۔اسے ضرور آگ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چاہے اسکے لئے وہ کھجور کا ٹکڑا بھی دے سکے ۔ (تو اسے دیکر اپنے آ پ کو آگ سے بچا ئے)اور جس کے پاس کھجور کا ٹکڑا بھی نہ ہوتو اسے اسے عمدہ (یعنی نیک بات ) گفتگو کر کے دوزخ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بیشک عمدہ گفتگو (نیکی کا حکم) کا بھی اجر دیا جائے گا۔ نیکی کا اجر دس گنا سے سو گنا تک ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ یہاں پر پہلے خطبے کا خطبۂ اولیٰ مکمل ہوا۔ اسکے بعدسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خطبے کا خطبۂ ثانیہ فرمایا: (ترجمہ)’’ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ میں اسکی ثنا و ستائش کرتا ہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ ہم اپنے نفسوںکی برائیوں سے اسی کی پناہ مانگتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے صرف اسی کی پناہ حاصل کر تے ہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے۔ اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کردے( یا رہنے دے) اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن پاک ) بہترین کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے دل کو اس (قرآن پاک) سے مزین کردیاوہ کامیاب ہوگیا۔ جسے کفر کے بعد اسلام میں داخل کر دیا وہ کامیاب ہوگیا۔ وہ شخص جس نے اس کتاب (قرآن پاک ) دوسروں کی باتوں پر تر جیح دی وہ کامران و کامیاب ہوگیا۔ یہ کتاب (قرآن پاک) تمام کلاموں میں عمدہ کلام ہے اور فصیح و بلیغ کلام ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے تم بھی اس سے پیار کرو۔ اللہ تعالیٰ سے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے محبت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے کلام(قرآن پاک ) اور اسکے ذکر سے اکتا نہ جائو۔ تمھارے دل اس سے بیزاری کا اظہار نہ کریں ۔ کیونکہ یہ کلام ان اشیاء میں ہے جنھیں اللہ تعالیٰ بر گزیدہ اور منتخب فرمالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اعمال میں سے بہترین ، بندوں میں سے ’’مصطفیٰ ‘‘اور گفتگو میں سے ’’صالح‘‘ کا نام دیا ہے۔ جو کچھ لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ حلال اور کچھ حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو۔ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق سچ کہو ۔ یہ بہترین بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے آپس میں محبت کرو۔ اللہ تعالیٰ اس (بات ) سے ناراض ہوتا ہے کہ اس سے کیا ہوا وعدہ توڑا جائے۔‘‘ یہاں پر پہلے خطبے کا خطبۂ ثانیہ مکمل ہوا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں