جمعہ، 14 جولائی، 2023

10خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


10 خلافت ِ راشدہ_ 10خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 10


حضرت خالد بن ولید کی عراق(سلطنت فارس )کی طرف روانگی، ابن صلوہا کو امان نامہ، قبیصہ بن ایاس کی جزیہ پر مصالحت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو حکم، اہل حیرہ سے جزیہ پر صلح، اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط، ہرمزکی تیاری، دونوں لشکر آمنے سامنے، جنگ سلاسل(محرم 21 ھجری)، مدینہ منورہ میں ہاتھی کی نمائش


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی عراق(سلطنت فارس )کی طرف روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ملک عرب کی طر ف سے مطمئن ہونے کے بعد اُس وقت کی دونوں ”سوپر پاور“ سلطنت ِ فارس اور سلطنت ِ روم کی طرف متوجہ ہوئے۔اس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر لیکر ملک عراق کی طرف جانے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ نے انہیں عراق جانے کا پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ وہ فرج الہند یعنی ایلہ سے آغاز کریں ۔ عراق کے زیریں حصے داخل ہوں اور لوگوں سے دوستی کریں اور دعوت الی اﷲ دیں ۔پس اگر وہ قبول کریں تو فبہا۔ورنہ اُن سے جزیہ لیںاور اگر وہ دینے سے انکار کریں تو ان سے جنگ کریں۔ یہ حکم بھی دیا کہ کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنااور جس مسلمان کے پاس سے گذرنا،اُسے اپنے ساتھ لے لینا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُن کی مدد کے لئے لشکر جمع کر کے بھیجنے میں مصروف ہو گئے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:محرم ۲۱ ھجری(۳۳۶ئ)میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو یمامہ کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد عراق میں ایلہ کی طرف سے داخل ہونے کا حکم دیا ۔(ایلہ منتہائے بحر فارس پر جانب شمال بصرہ کے قریب واقع ہے۔)اور یہ بھی لکھا کہ اہل فارس اور ان لوگوں کی تالیف قلوب کرنا،جو اُن کے ملک میں دیگر مذہب و ملت کے آباد ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ کی مہم سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آئے۔ یہاں سے اُن کے حکم کے مطابق عراق کی طرف روانہ ہو کر با نقیاءباروسما اور الیس پہنچے۔اُن کے حکمرانوں جابان اور صلوبا نے حاضر ہو کر دس ہزار دینار سالانہ خراج پر مصالحت کر لی۔


ابن صلوہا کو امان نامہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خراج لیکر ابن صلوبا کو امان نامہ لکھ کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عراق جانے کا حکم بھیجا۔آپ رضی اﷲ عنہ عراق روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر سواءکی بستیوں بارو سما اور الیس میں اترے ۔یہاں کے باشندوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی اور جزیہ دینا منظور کیا۔یہ مصالحت ابن صلوبا نے کی تھی۔یہ واقعہ ۲۱ ھجری کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن لوگوں سے جزیہ لینا قبول کر لیااور حسب ذیل تحریر لکھ کر دی۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ وثیقہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ )کی طرف سے ابن صلوبا سوادی باشندہ ¿ ساحل فرات کے حق میں لکھ جا تا ہے۔چونکہ تم نے جزیہ دے کر جان بچائی ہے اس لئے تم کو اﷲ کی امان دی جاتی ہے۔تم نے جزیے کی رقم ایک ہزار درہم اپنی طرف سے اور اپنے خراج دہندوں اور جزیرے اور با نقیا،با رو سما کے باشندوں کی طرف سے ادا کی ہے ۔میں اسے قبول کرتا ہوںمیرے ساتھ کے تمام مسلمان اس تصفیے پر تم سے خوش ہیں۔آج تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی حفاظت میں لیا جاتا ہے۔“ہشام بن ولید نے اِس عہد نامے پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کئے۔


قبیصہ بن ایاس کی جزیہ پر مصالحت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یہاں سے فارغ ہو کر اپنے لشکر کو لیکر حیرہ کے قریب پہنچے۔وہاں کے ذمہ داران قبیصہ بن ایاس کی سرکر دگی میں آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آئے۔سلطنت ِفارس کے حکمراں کسریٰ نے نعمان بن منذر کی جگہ اُسے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا:”میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اگر تم اسے قبو ل کر لو گے تو مسلمانوں میں شامل ہو جاو¿ گے اور جو سہولتیں انہیں میسر ہونگی وہ تمہیں بھی ملیں گی اور جو ذمہ داریاں اُن پر ہوں گی ،وہ تم پر بھی ہوں گی اور اگر تم انکار کرو گے ،تو تمہیں جزیہ دینا پڑے گا۔میں تمہارے پاس ایسے لوگوں کے ساتھ آیا ہوںجو زندگی کے مقابلے میں تم سے بڑھ کر موت کی آرزو رکھتے ہیں۔ہم تم سے جہاد کریں گے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا۔“قبیصہ بن ایاس نے کہا۔”ہمیں آپ(رضی اﷲ عنہ)سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور تمہیں جزیہ ادا کریں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کفر ایک گمراہ کن جنگل ہے،وہ شخص سب سے بڑا احمق ہے جو اِس جنگل میں چلتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے نوے ہزار درہم پر مصالحت کر لی ۔ ایک روایت میں ہے کہ دو لاکھ درہم پر کی اور یہ پہلا جزیہ ہے جو عراق سے مو صول ہوا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ جزیہ خلیفہ اول کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔


حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو حکم


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جس وقت بزاخہ اور پھر یمامہ میں مصروف تھے۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ کون ہے جو سلطنت فارس سے مقابلے کے لئے جائے؟حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”میں تیار ہوں“۔خلیفہ اول نے انہیں عراق جانے کی اجازت دے دی۔وہ عراق کی سرحدوں پر آئے اور تب سے مسلسل حالت جنگ میں تھے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بناج آئے تو اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ حفان میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں وہ خط بھیجا ،جس میں خلیفہ اول نے اُن کو حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی اطاعت کرو۔یہ حکم پڑھتے ہی حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اُن سے آملے۔اس کے بعد اسلامی لشکر آگے بڑھا تو الیس کا حکمراںجابان اپنا لشکر لیکر آیا۔اُسکے مقابلے کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی ،اور جابان کو شکست ہوئی۔اُس کے اتنے زیادہ سپاہی ندی کے کنارے مارے گئے کہ وہ”خون کی ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔اس کے بعد جابان نے جزیہ دیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔


اہل حیرہ سے جزیہ پر صلح


   حضرت خالد بن ولید اس کے بعد آگے بڑھ کر حیرہ کے قریب آئے توآذاذبہ کی فوجیں مقابلے کے لئے نکلیں۔آذاذبہ کسریٰ کی اُن تمام فوجی چوکیوں کا افسر تھا جو عراق اور ملک عرب کی سرحدوں پر تھیں۔ندیوں کے سنگم پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بڑھ کر دشمن پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوگئی۔یہ دیکھ کر اہل حیرہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے نکلے۔اور ایک وفد آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے لشکر میں آیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے خیمے میںاُن سے بات کی۔اُن کے ساتھ عبد المسیح بن عمرو اور ہانی بن قبیصہ بھی تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے عبد المسیح سے پوچھا:”تم کہا ں سے آئے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنے باپ کی پشت سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم کہاں سے نکلے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنی ماں کے پیٹ سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم پر افسوس ہے ،یہ بتاو¿ تم کس چیز پر ہو؟“اُس نے کہا :”ہم زمین پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ارے میاں!تم کس شے¿ میں ہو؟“اُس نے کہا :”اپنے کپڑوں میں ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:تم کچھ عقل سے بھی کام لیتے ہو؟“اُس نے کہا ہاں عقل سے بھی کام لیتا ہو ں اور قید سے بھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے سوال کر رہا ہوں۔“اُس نے کہا:”میں آپ کو جواب دے رہا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جنگ کرنا چاہتے ہو یا صلح کرنا چاہتے ہو؟“اُس نے کہا:”ہم صلح کرنا چاہتے ہیں“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:پھر اِن قلعوں سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“اُس نے کہا:”یہ قلعے ہم نے اِس لئے بنائے ہیں،کہ اگر کوئی بے وقوف آئے تو ہم اُسے قید کر لیں،اور کوئی سمجھ دار آئے تو اِن ست بچ کر چلا جائے۔“اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے وفد کے لوگوں سے فرمایا:” میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اور وہ یہ ہے کہ صرف ایک اﷲ کو اپنا معبود مانو،اور صرف اُسی کی عبادت کرو،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ کا رسول تسلیم کرو۔اگر تم نے اسلام قبول کر لیا تو ہمارے اور تمہارے حقوق برابر ہیں۔اور اگر اِس سے انکار ہی تو جزیہ دو،اگر یہ بھی نہیں تو یادرکھو!میں تم پر ایسی قوم لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی محبوب رکھتی ہے،جتنا تم شراب نوشی کو۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے لڑنا نہیں چاہتے۔اس کے بعد ایک لاکھ نوے ہزار درہم کے سالانہ جزیہ پر اہل حیرہ سے صلح کرلی۔اور اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ حیرہ کے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جاسوسی کریں گے،جسے انہوں نے منظور کر لیا۔جزیہ مدینہ منورہ روانہ کر دیا گیا۔


اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط لکھا۔جس میں یہ لکھا تھا۔”خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کی طرف سے سلطنت فارس کے سرداروں کے نام۔سلام ہے اُن پر جو ہدایت کی پیروی کریں۔اما بعد!اُس اﷲ کا شکر ہے جس نے تمہاری شوکت کا خاتمہ کر دیا،تمہارا ملک سلب کر لیا،اورتمہارے مکر کو ناکام کر دیا۔جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے،ہمارے قبلے کی طرف رُخ کرے،اور ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھائے،وہی مسلمان ہے۔اُس کے حقوق اور ہمارے حقوق برابر ہیں۔اِس خط کے پہنچتے ہی میرے پاس ضمانت بھیجو،اور اپنی حفاظت کی ذمہ داری کا اطمینان حاصل کر لو۔ورنہ اُس اﷲ کی قسم،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لاو¿ں گا جو موت کی اُتنی ہی عاشق ہے،جتنا تم زندگی کے عاشق ہو۔“یہ خط پڑھ کر اہل فارس کو بے حد تعجب ہوا۔یہ ۲۱ ھجری کا واقعہ ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کے نام جو خط لکھا،اُس میں یہ لکھا تھا۔”امابعد!اسلام قبول کرو ،تم سلامت رہو گے،یا اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت کے لئے ضمانت حاصل کر لو،اور جزیہ دینے کا اقرار کرو۔ورنہ اس کے جو نتائج ہوں گے،اُن کے لئے سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو ملامت نہیں کرسکو گے۔کیونکہ میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لایا ہوں،جو موت ایسا ہی پسند کرتی ہے ،جیسا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“


اسلامی لشکر کی روانگی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد اسلامی لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔تینوں کو الگ الگ راستے سے روانہ کیا۔پہلے حصے کا کمانڈر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ کو بنایا،اور روانہ کردیا،اُن کا راہ نما ظفر تھا ۔اُس کے ایک دن بعد حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے دوسرے حصے کا کمانڈر بنا کر دوسرے راستے سے روانہ کیا۔اں دونوں کے رہنمامالک بن عباد اور سالم بن نصر تھے۔اور دونوںحصوں کے کمانڈروں کو ہدایت فرمائی کہ اپنے راستے میں آنے والے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے،حضیر کے مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیں۔تیسرے دن آپ رضی اﷲ عنہ اپنے حصے کا لشکر لیکر تیسرے راستے سے روانہ ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کا رہنما رافع تھا۔اس طر ح آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کو پریشان کر دیا۔کیونکہ تین اطراف سے فارسیوں کو خبر مل رہی تھی کہ مسلمانوں کا لشکر آرہا ہے۔اور ہرمز بھی اسی پریشانی کا شکار ہو گیا تھا۔


ہرمزکی تیاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تینوں حصوں کو حضیر میں جمع ہونے کا حکم دیا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ عرب اور عراق کی سرحد کے ایسے مقام پر تھا،جہاں ہندستان کا سمندر بھی ملتا تھا۔اس لئے اِس علاقے کا نام”فرج الہند“تھا۔سلطنت فارس نے اِس سرحدی علاقے کا گورنر یا کمانڈر ہرمز کو بنایا تھا۔ہرمز بہت ہی کمینہ خصلت اور خبیث شخص تھا۔یہ عربوں کا بد ترین پڑوسی تھا ،اور تمام سرحدی علاقے کے عربوں کو ستاتا رہتا تھا،اور سب عرب اُس سے جلے بیٹھے تھے۔اور خباثت میں اُس کو ضرب المثل بنا رکھا تھا۔ہرمز خشکی میں عربوں سے اور سمندر میں ہندستانیوں سے مقابلہ کرتا تھا۔جب اُسے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا خط ملا تو اُس نے اُسے پڑھ کر شیری بن کسریٰ اور ارد شیر بن شیری کی طرف بھیج دیا۔اور اپنی فوجیں جمع کیں،اور ایک تیز دستے کو لیکر فوراًخالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے کو زطم پہنچا۔اور اپنی فوج کو آگے بڑھایا،مگر یہاں آکر اُسے معلوم ہو کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا راستہ یہ نہیں ہے۔اور یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر حضیرمیں جمع ہو رہا ہے،اسی لئے پلٹ کا حضیر کی طرف جھپٹا۔وہاں پہنچتے ہی اپنی فوج کی صف آرائی کی،محفوظ فوج کے لئے اُن دو شہزادوں کو مقرر کیا جن کا سلسلہ نسب اردشیر اور شیری کے واسطوں سے ارد شیر اکبر تک پہنچتا تھا۔ان میں ایک کا نام قباذ تھا اور دوسرے کا انوشجان تھا۔


دونوں لشکر آمنے سامنے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب ہرمز کے حضیر پہنچنے کی اطلاع ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو کاظمہ کی طرف پلٹایا۔ہرمز کو اس کا پتہ چل گیا،اس لئے وہ فوراً کاظمہ پہنچ گیا ،اورپانی کے اوپر قبضہ کر کے پڑاو¿ ڈال دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب اسلامی لشکر لیکر کاظمہ پہنچے تو دیکھا کہ پانی پر فارسیوںکا قبضہ ہے۔تو انہیں ایسے مقام پر پڑاو ڈالنا پڑا ،جہاں پانی نہیں تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فارسیوں نے اِس خیال سے کہ کہیں میدان چھوڑ کر بھاگ نہ جائیںاپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔فریقین نے حضیر کے سامنے ایک میدان میں اپنی اپنی صفوں کو منظم کیا۔اتفاق سے اسلامی لشکر جواُن کے مقابلے پر تھا ،وہ ایسے مقام پر خیمے نصب کررہا تھا،جہاں پانی نہیں تھا۔لشکر کے مسلمانوں نے شکایت کی کہ لشکر پانی کے بغیر مر جائے گا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔“یہ سُن کر خاموشی سے خیمے نصب کرنے لگے،اور اسباب اُتارنے لگے،تھوڑی دیر بعد اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ایک بادل آیا اور اُن پر برسا۔جس سے اُن کے اِرد گِرد کے چشمے بھر گئے۔


جنگ سلاسل(محرم 21 ھجری)


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس اٹھارہ ہزار کا لشکر تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بارش کاجو پانی آس پاس کے تالابوں میں جمع ہوا ہے وہ اتنے بڑے لشکر کے لئے ایک یا دو دن ہی چل سکے گا۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد پانی پر قبضہ کر لیں یا پھر جنگ کا فیصلہ ہوجائے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراً لشکر کی صفیں مرتب کیں۔فارسیوں نے مسلمانوں کی بے جگری کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا،اسی لئے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔تاکہ اُن کے دل میں بھاگنے کا خیال نہ آئے۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”جنگ سلاسل “پڑ گیا۔صفیں مرتب ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور میدان میں آکر للکار کر اپنے مقابلے پر لڑنے والے کو طلب کیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی للکار سن کر ہرمز آگے آیا۔دونوں میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،پھر دونوں اپنے اپنے گھوڑوں سے اُتر گئے ،اور پیدل لڑنے لگے۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی تلوار چھین لی،اور اُسے اُٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ہرمز کا حفاظتی دستہ(باڈی گارڈ)یہ دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھے کہ ہر مز کو بچا لیں ،لیکن اُن کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی گردن اُڑا دی۔اور مسلمانوں کو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا۔ادھر سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ اپنے دستے کے ساتھ پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کو پہنچ چکے تھے۔مسلمانوں نے فارسیوں پر شدید حملہ کیا۔زنجیروں میں بندھے ہونے کی وجہ سے انہیں لڑنے میں پریشانی ہو رہی تھی،اور وہ مسلمانوں کے حملوں کا خاطر خواہ جواب نہیں دے پا رہے تھے۔آخر کار فارسیوں(ایرانیوں )کو شکست ہوئی۔اور وہ لڑنے کے بجائے زنجیروں کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کردیا۔اِس جنگ میں بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔جس میں حاصل ہوئی زنجیروں کا وزن کیا گیا تو وہ ایک ہزار رطل (لگ بھگ پانچ سو کلو)تھیں۔اسی لئے اِس جنگ کو” ذات السلاسل“یعنی زنجیروں والی جنگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں انوشجان اور قباذ جان بچا کر بھاگ گئے۔


مدینہ منورہ میں ہاتھی کی نمائش


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ بھیجا،اور باقی لشکر میں تقسیم کردیا۔اِس میں ہرمز کی ٹوپی بھی تھی۔اہل فارس کی ٹوپیاں اُس خاندانی اعزاز کے ساتھ ہوتی تھیں ،جو اُن کو اپنے خاندان میں حاصل ہوتا تھا۔جس کا اعزاز بدرجہ¿ کمال کو پہنچ جاتا تھا،اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی ہوتی تھی۔اور ہرمز یہ اعزاز حاصل کر چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی تھی،اور جواہرات سے مرصع تھی۔اہل فارس میں کمال شرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی شخص اُن کے چوٹی کے سات مشہور خاندانوں میں سے ہو۔یہ ٹوپی بھی مدینہ منورہ بھیج دی گئی ،جسے تمام لوگ دیکھ کر حیرت کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے یہ ٹوپی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عطا فرما دی۔مال غنیمت میں ہاتھی بھی آیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کے ساتھ میں ہاتھی بھی مدینہ منورہ بھیج دیا تھا۔جب حضرت زرین کلیب مال غنیمت اور ہاتھی کو لیکر مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے دیکھنے کے لئے ہاتھی کو سارے شہر میں گشت کرایا گیا۔مدینہ منورہ کی بوڑھی عورتیں اِس ہاتھی کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئیں،اور کہنے لگیں ۔”کیا یہ واقعی اﷲ کی کوئی مخلوق ہے؟“وہ سمجھیں کہ یہ کوئی بناوٹی چیز ہے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ نے حضرت زرین کلیب کے ساتھ ہاتھی کو واپس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔اس جنگ میں لشکر کے ہر سوار کے حصہ میں ایک ہزار درہم آئے،اور پیدل کے حصہ میں ساڑھے سات سو درہم آئے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر آگے بڑھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں