09 خلافت ِ راشدہ_ 09 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق
تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 9
ہجر کے راہب کا قبول اسلام، حضرت ثمامہ بن اثال کی شہادت، عمان میں اسلامی لشکر، عمان سے ارتداد کا خاتمہ، بلادِمہرہ (ساحل بحیرہ عرب )سے ارتداد کا خاتمہ، یمن سے ارتداد کا خاتمہ، بقیہ عالم عرب سے مرتدین کا صفایا، نجران کے عیساﺅں سے تجدید ِ معاہدہ، لشکر کے لئے بھرتی کا حکم،
ہجر کے راہب کا قبول اسلام
حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جب یہ واقعات پیش آنے والے اِن تمام واقعات کو وہاں ہجر میں مقیم ایک راحب نے دیکھا اور اسلام قبول کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہجر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک راہب بھی تھاجس نے اُس دن اسلام قبول کرلیا۔لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ کیا ہے؟اُنہوں نے کہا کہ تین چیزیںایسی ہیں جن کے واقع ہونے کے بعد میں ڈر گیا کہ اگر اب بھی اسلام قبول نہیں کروں گا توکہیں اﷲ تعالیٰ مجھے مسخ نہ کردے۔(۱) ریگستان میں چشمے کا جاری ہونا،(۲)سمندر کی پنہائی کا سمٹ جانا،(۳)اور وہ دعا جس کی گونج میں نے صبح کے وقت اُن کے پڑاو¿ سے آتی ہوئی فضا میں سنی۔لوگوں نے پوچھا کہ وہ دعا کیا تھی؟راہب نے کہا !وہ دعا یہ ہے۔”اے اﷲ !تُو رحیم ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تُو ابتدا سے ہے،تجھ سے پہلے کوئی شے¿ نہیں تھی۔تُو ہروقت ہے،تجھ پر غفلت کبھی طاری نہیں ہوتی ،تُو ہی وہ زندہ ہے کہ جسے موت نہیں ہے،۔تُو ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے،چاہے وہ نظر آتی ہو یا نہیں نظر آتی ہو۔ہر روز تُو ایک نئی شان میں جلوہ افروز ہوتا ہے،تُو ہر چیز کو جانتا ہے،بغیر اس کے کہ تُو نے اس کو سیکھا ہو۔“اِس دعا سے مجھے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ اﷲ کے حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور اُس کے دین پر نہ ہوتے تو فرشتے اُن کی امداد کے لئے نہیں بھیجے جاتے۔اُس زمانے کے بعد لوگ اِس واقعہ کو کو اِن ہجری راہب کی زبانی سنا کرتے تھے۔
حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے بھر پور کوشش سے بحرین میں مجموعی طور سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا تھالیکن کچھ شر پسند عناصر چھپ کر تخریبی کاروائی کر رہے تھے،جن کی وجہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیاحالانکہ بعد میں یہ شر پسند عناصر بھی ختم ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں کو واپس لے آئے اور سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے وہیں پر قیام کرنے کو پسند کیا سب لوگ واپس آگئے۔ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ بھی واپس آگئے۔سب لوگ جب بنو قیس بن ثعلبہ کے چشمہ¿ آب پر مقیم تھے تو کچھ لوگوں کی نظر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ پر پڑی ۔انہوں نے حطم کا چوغہ اُن کے جسم پر دیکھاتو ایک شخص کو دریافت کے لئے بھیجا ۔ اُس سے کہا کہ جا کر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے دریافت کرو کہ یہ چوغہ تم کو کہاں سے ملا؟اور حطم کے متعلق دریافت کرو کہ کیا تم نے اُسے قتل کیا ہے،یا کسی اور نے ؟اُس شخص نے آکر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے چوغے کے بارے میں پوچھا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ مجھے مال غنیمت میں ملا ہے۔اُس شخص نے کہا کہ کیا تم نے حطم کو قتل کیا ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ نہیں،حالانکہ میری یہ تمنا تھی کہ میں اُس کو قتل کرتا۔اُس شخص نے کہا۔یہ چوغہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس کا جواب تمہیں میں پہلے بھی دے چکا ہوں ۔اُس شخص نے اپنے دوستوں سے آکر اس گفتگوکے بارے میں بتایا۔وہ سب کے سب آپ رضی ا ﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کو گھیر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیوں کیا ہے؟“اُن سب نے کہا کہ تم ہی حطم کے قاتل ہو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جھوٹے ہومیں اُس کا قاتل نہیں ہوں....البتہ یہ چوغہ مجھے مال غنیمت میں بطور حصے کے ملا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ حصہ تو صرف قاتل ہی کو ملتا ہے۔حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:یہ چوغہ اُس کے جسم پر نہیں تھابلکہ اُس کی قیام گاہ سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہواور اُن پر حملہ کر دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا ،لیکن وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔
عمان میں اسلامی لشکر
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے چار لشکر کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔اب پانچویں اور چھٹے لشکر کا ذکر پیش ہے۔یہ دونوں لشکر عمان اور مہرہ(ساحل ،بحیرہ عرب) کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد یقط بن مالک اذدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھااور عمان کی اکثریت مرتد ہو گئی۔حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم جو عمان اور مہرہ کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے انہیںپہاڑوں میں رو پوش ہونے پر مجبور کردیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل عمان میں ایک شخص نمودار ہوا جسے ذو التاج یقط بن مالک ازدی کہا جاتا تھااور زمانہ ¿ جاہلیت میں اس کا نام الحسبندی تھا۔اس نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور عمان کے جاہلوں نے اس کی اتباع کرلی اور وہ عمان پر غالب آ گیا۔اُس نے حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو پہاڑوں اور سمندر کے نواحی اطراف میں جانے پر مجبور کر دیا۔حضرت جیفر رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات لکھ کر ایک قاصد کے ذریعے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی کے پاس بھیجا اور کمک مانگی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے دو لشکر روانہ فرمائے۔ ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور دوسرے لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجة البارقی رضی اﷲ عنہ کو بنایا اور دونوں کو حکم دیا کہ اکٹھے رہیںاور عمان سے ابتدا کریں۔ حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ عمان میں امیر ہوں گے اور حضرت عرفجة رضی ا ﷲ عنہ بلاد مہرہ میں امیر ہوں گے۔اس سے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ یمامہ کا محاذ چھوڑ کر اِن دونوں حضرات کے لشکر سے جاملیںاور عمان اور مہرہ سے ارتداد کے خاتمے کے بعد یمن اور حضر موت کی طرف اپنا لشکر لیکر چلے جائیں۔اسی حکم کے مطابق حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ ان دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم سے آملے۔
عمان سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت عکرمہ،حضرت حذیفہ،اور حضرت عرفجة رضی اﷲ عنہم لشکر لیکر جب عمان کے نزدیک پہنچے تو حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو خبر دی۔وہ دونوں حضرات اپنے اپنے لشکر لیکر ”مقام صحار “پر آگئے اور پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یقط بن مالک کو بھی اسلامی لشکر کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔پس وہ اپنی فوج لیکر نکلااور ”مقام دبا“پر پڑاو¿ ڈال دیا۔یہ مقام اس علاقے کا شہر اور بڑی منڈی تھا۔اُس نے عورتوں،بچوں اور اموال کو اپنے لشکر کے پیچھے رکھاتاکہ اُن کی جنگ کے لئے قوت کا باعث ہو۔ حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم مقام صحار پر اکٹھے ہو گئے اور وہیں پڑاو ڈال دیا۔پھر اسلامی لشکر سے آکر مل گئے۔اس کے بعد مسلمانوں اور مرتدین میں جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے شدید حملے ہو نے لگے۔جنگ اتنی شدید ہوئی کہ مسلمان آزمائش میں پڑ گئے اور قریب تھا کہ ہمت ہار دیں،کہ اُسی وقت اﷲ تعالیٰ کی مدد آئی ۔ اِس نازک گھڑی میں بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس کے لشکر مسلمانوں کی مدد کے لئے پہنچ گئے۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کیا اور ان میں سے دس ہزار بھگوڑوں کو قتل کر دیااور عورتوںاور بچوں کو قید کر لیااور اُن کے اموال پر قبضہ کر لیا۔مال غنیمت میں سے خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کر دیااور باقی مال غنیمت لشکر میں بانٹ دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ ”مقد مة الجیش“پر تھے،اور میمنہ پر حضرت حذیفہ ،میسرہ پر حضرت عرفجة،اور قلب میں حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم اپنے اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔ ادھر یقط اور اُس کا لشکر صف بہ صف کھڑے تھے اور اُن کے پیچھے عورتیں اور لڑکے تھے۔نماز فجر کے بعد جنگ شروع ہوئی ،دونوں فریقین نے جی توڑ کر لڑنا شروع کیا۔جنگ کا آغاز نہایت خطرناک نظر آ رہا تھا۔مسلمانوں کا لشکر نشیب میں تھا اور مرتدین کا لشکر بلندی پر تھا۔اس کے باوجود مسلمان جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھتے رہے ۔یقط نے یہ رنگ دیکھ کر اپنی فوج کو للکارکر آگے بڑھایااور خود ایک ہاتھ میں پرچم اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے گھوڑے کو مہمیز لگا کر آگے بڑھا۔مسلمان اِس اچانک اور مجموعی حملے سے گھبرا گئے اور قریب تھا کہ ہمت چھوڑ دیتے لیکن اُسی وقت بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس اُن کی مدد کو آگئے،اسلامی لشکر کا حوصلہ اِس غیر متوقع امداد کی وجہ بڑھ گیا اور انہوں نے ایک ساتھ اﷲ اکبر کہہ کر حملہ کر دیا ۔مرتدین پیٹھ پھر کر بھاگے ،دس ہزار کے قریب مارے گئے۔قیدیوں کی تعداد کا اندازہ اِس بات سے لگتا ہے کہ مال غنیمت کا خمس(پانچواں حصہ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا گیا تو اُس میں آٹھ سو(۰۰۸)قیدی تھے۔جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت حذیفہ تو اپنے لشکر کے ساتھ عمان میں ٹھہرے رہے اور حضرت عکرمہ باقی لشکر لیکر مہرہ روانہ ہو گئے۔اس طرح عمان سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔
بلادِمہرہ (ساحل بحیرہ عرب )سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق عمان میں پورے اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ رہے۔عمان میں فتح حاصل کرنے کے بعد اسلامی لشکر مہرہ کی طرف بڑھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عمان سے فارغ ہوئے تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی ا ﷲ عنہ لشکر کو لیکر بلاد ِمہرہ کی طرف بڑھے۔جب مہرہ میں داخل ہوئے تو مرتدین کو دو حصوں میں منقسم پایا۔ایک گروہ کا کمانڈر المصبح تھا جو بنو محارب کا تھااور دوسرے گروہ کا کمانڈر شخریت تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے ان دونوں کے اختلاف کا فائدہ اُٹھایااور شخریت کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔اِس سے مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی اور المصبح اپنے آپ کو کمزور محسوس کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے اُسے بھی اسلام کی دعوت دی لیکن وہ شخریت کی دشمنی اور اپنے لشکر کی کثرت کی وجہ سے دھوکہ کھا گیااور اپنی سر کشی پر اصرار کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے اور مقام دبا کی جنگ سے بڑھ کر سخت جنگ ہوئی ۔گھمسان کا رن پڑا اور سخت جد وجہد کے بعد آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے اور المصبح اور اُسکے بے شمار ساتھی قتل ہوئے۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا جن میں ایک ہزار عمدہ گھوڑیاں بھی تھیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کیااور باقی مال غنیمت شخریت اور لشکر میں تقسیم کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:اس جنگ سے مسلمانوں کو بہت مدد ملی۔اس کے بعد اطراف و جوانب کے کُل رہنے والے نجد،روضہ وساطی،جزایر،مرو لسان ،اہل جبرہ،ظہعر الشحر،فرات ،ذات الحمیم،اور فرہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے۔اس طرح بلاد ِمہرہ سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہوگیا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے تمام واقعات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجے اور خود اپنا لشکر لیکر اُن کی ہدایت کے مطابق یمن کی طرف روانہ ہو گئے۔
یمن سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے جو گیارہ لشکر ذی القصہ سے روانہ کیا تھا ۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت سُوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو دے کر تہامہ یمن کی طرف روانہ کیا تھااور ایک اور لشکر حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو دے کر یمن میں پہلے صنعاءاور پھر حضر موت کی طرف جانے کا حکم دیا تھا۔یمن کے اسود عنسی ،اور مرتدین کے بارے میں ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔اِن دونوں لشکروں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پر موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم لگاتار مرتدین سے مقابلہ کر رہے تھے۔ جب یہ دونوں لشکر وہاں پہنچے تو یمن سے لگ بھگ ارتداد خاتمے کے قریب تھااور پھر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے اور تینوں لشکروں نے چن چن کر یمن سے مرتدین کا صفایا کر دیا۔
بقیہ عالم عرب سے مرتدین کا صفایا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے آٹھ لشکروں کا ہم ذکر کر چکے ہیں،بقیہ تین لشکر یہ ہیں۔حضرت طریف بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کر بنو سُلیم اور اُن کے حلیف بنو ہوازن کی طرف بھیجا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دے کر بنو قضاعہ،بنو ودیعہ،اور بنوحارث کی طرف بھیجااور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اطراف ملک شام بنو تیما کی طرف بھیجا۔ان تینوں لشکروں نے بھی مذکورہ علاقوں میں پہنچ کر آسانی سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس طر ح تمام عالم ِ عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور سب کے سب اسلام میں داخل ہو گئے۔تمام گیارہ لشکروں نے لگ بھگ چار مہینے میں پورے عالم عرب سے ۱۱ ھجری کا سال مکمل ہونے سے پہلے ہی مرتدین کا صفایا ہو گیااور عالم عرب میں مسلمانوں کے علاوہ صرف ذمی ہی رہ گئے تھے جو خلافت راشدہ کو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے جزیہ ادا کرتے تھے۔
نجران کے عیساﺅں سے تجدید ِ معاہدہ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نجران کے عیسائیوں نے معاہدہ کیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب پورے ملک عرب میں ارتداد پھیلا تو اُس وقت نجران کے عیساﺅں کے پاس چالیس ہزار جنگجو تھے۔اِس کے باوجود جب انہیں اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنا لیا ہے تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور معاہدے کی تجدید کی درخواست کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں یہ فرمان لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ فرمان عبد اﷲ ابو بکر صدیق (رضی اﷲ عنہ ) خلیفہ ¿ رسول کی طرف سے اہل نجران کے لئے لکھا جاتا ہے۔میں نے اِن کو اپنی اور اپنی فوج کی طرف سے پناہ دی اور جو فرمان ِ معافی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن سے کیا تھامیں بھی اُسے تسلیم کرتا ہوںاور اس کی توثیق کرتا ہوں سوائے ان باتوں کے جن سے خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے ان کے بارے میں رجوع کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ نہ صر ف ان کے علاقے میں بلکہ تمام عرب میں دو مذہب سکونت پذیر نہیں رہ سکتے ۔اس کے علاوہ ان کی جان ،مذہب ،املاک ،حاشیہ اور متعلقین چاہے وہ اِس وقت نجران میں ہوں یا باہر ہوں۔ان کے پادریوں ،راہب اور گرجا جہاںوہ بنے ہوئے ہیںاور تھوڑی یا زیادہ جس قدر ان کی املاک ہیں،ان سب کو ان کے حق میں رہنے دیا جاتا ہے۔بشرطیکہ جو سرکاری خراج مقرر ہے وہ ادا ہوتا رہے اور جب وہ اپنے واجبات پورے کریں تو نہ ان کو خارج البلد کیا جائے نہ ان سے عشر لیا جائے ۔نہ کسی پادری کو اس کے حلقے سے بدلا جائے اور نہ کسی راہب کو اُس کی خانقاہ سے نکالا جائے۔جو کچھ اِس تحریر میں لکھا گیا ہے اُس کے ایفا کے لئے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضمانت اور مسلمانوں کی نگہبانی کی ضمانت دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ اہل نجران کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ اور وفادار رہیں۔“مشعر بن عمرو اور عمرو مولیٰ ابوبکر نے اِس تحریر پر اپنی گواہی کے دستخط کئے۔
لشکر کے لئے بھرتی کا حکم
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کی مدد سے اور اپنی حکمت عملی سے پورے ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور کی طرف متوجہ ہوئے لیکن اُن سے مقابلے کے لئے اور زیادہ لشکر کی ضرورت تھی۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے ملک عرب پر اپنے مقرر کئے گورنروں کو حکم دیا کہ لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم اہل طائف میں سے لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کرو۔ہر محلے سے اُن کی استطاعت کے مطابق مجاہدین لئے جائیں اور ان پر اپنے ایک خاص معتمد شخص کو کمانڈر مقرر کرو۔حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے ہر محلے میں سے بیس بیس مجاہدین کی بھرتی کی اور اُن کے اوپر اپنے بھائی کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اسی طر ح حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اہل مکہ مکرمہ اور اپنے ماتحت علاقوں سے پانچ سو مجاہدین کی بھرتی کر کے اُن پر اپنے کسی خاص معتمد کو کمانڈر مقرر کر دو۔حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور اُن پر اپنے بھائی حضرت خالد بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اب ہر لشکر اور اُن کے کمانڈر جہاد پر جانے کے لئے تیار ہو گئے کہ خلیفہ اول کا حکم جیسے ہی ملے گا وہ جہاد کے لئے نکل پڑیں گے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں