پیر، 3 جولائی، 2023

08 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


08 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مدینہ منورہ میں اسلام اور دوسری بیعت عقبہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


مدینہ منورہ کی چھ سعید روحوں کا قبول اسلام، پہلی بیعت عقبہ، مدینہ منورہ میں اسلام کی روشنی،  


چھ سعید روحوں کو اسلام کی دعوت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے آنے والے قبائل کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ حج ختم ہو چکا تھا اور الگ الگ قبائل کے قافلے ایک ایک کر کے واپس جا نے لگے۔ ابھی تک کسی بھی قبیلے نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لگاتار اپنی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور قریش بھی لگاتار اس دعوت کور وکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اب واپس جانے والے قبائل کے قافلوں میں رات میں چھپ چھپا کر جا کر اسلام کی دعوت دیتے تھے تا کہ قریش کوئی رکاوٹ نہ پیدا کر سکیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت ایک رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کیساتھ بنو ذُہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزر ے تو اُن کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو چھ افراد سے ملاقات ہوئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا :’’ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’ہم یثرب ( مدینہ منورہ) سے آئے ہیں۔ ( مدینہ منورہ کا نام پہلے یثرب تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام یثرب سے بدل کر مدینہ منورہ رکھ دیا۔ اسی لئے ہم بھی مدینہ منورہ ہی کہیں گے) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:’’ آپ لوگ کس قبیلے کے ہیں؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’ ہم قبیلہ خزرج کے ہیں۔‘‘ ( مدینہ منورہ میں دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج تھے۔ ان دونوں میں اکثر جنگیں ہوا کرتی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبیلوں کو متحد کر دیا اور ان کی آپسی لڑائی ختم کر ادی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبائل کے افراد کو’’ انصار‘‘ کا لقب دیا) یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آئو ذرا بیٹھ کر میری بات سنو ۔ اگر پسند آئے تو قبول کرلو ورنہ ردّ کر دینا۔ ‘‘( غالباً یہ چھ افراد جس قافلے کے ساتھ آئے تھے۔ وہ جا چکا تھا اور یہ لوگ کسی کام سے رک گئے تھے کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی تھی۔ )

یہ وہی نبی ﷺ ہیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ چھ افراد بیٹھ گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کو کہااور بتوں کی پوجا سے منع فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور اُن کے سامنے قرآن پاک کی آیات تلاوت فرمائی۔ اس دلنشین کلام نے اُن چھ افراد کے دل اور دماغ پر بہت اثر کیا۔ ان چھ سعید روحوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ در اصل مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے پڑوسی یہودی ( بنی اسرائیل ) تھے۔ جب یہودیوں ( بنی اسرائیل) کا جھگڑا یا لڑائی یا جنگ ان دونوں قبائل سے ہوتی تھی تو یہودی ان دونوں قبائل سے کہتے تھے ۔ بہت جلد ’’ وہ آخری نبی ‘‘ آنے والے ہیں۔ ہم لوگ اُنپر ایمان لائیں گے اور اُن کی اتباع کریں گے اور اُن کے ساتھ مل کر تمہیں قومِ عاد اور ارم کی طرح ہلاک و برباد کر ڈالیں گے اور یہ بات یہودی ( بنی اسرائیل)اکثر اُن سے کہا کرتے تھے۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے ہی ان چھ سعید روحوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول او ر نبی بنایا ہے تو انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیاکہ ’’ وہی آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا یہودی اکثر ذکر کرتے رہتے تھے۔ ان چھ سعید روحوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے ایمان لانے سے پہلے ہم ان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہ مشورہ کرنے کے بعد ان چھ سعید روحوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا۔

اسلام قبول کرنے والی چھ سعید روحوں کے نام

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بنو خزرج کی جن چھ سعید روحوں نے اسلا م قبول کرنے کا شرف حاصل کیا اُن کے اسمائے گرامی ( نام ) یہ ہیں۔ (۱) حضرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ (۲) حضرت عوف بن حار ث رضی اللہ عنہ ( سیدہ عفرا رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ہیں)(۳) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ(۴) حضرت قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (۵)حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (۶) حضرت جابر بن عبد اللہ بن رُباب رضی اللہ عنہ( یہ وہ حضرت جابر بن عبداللہ نہیں ہیں جن کی احادیث کی کتابوں میں بہت سی روایات مروی ہیں۔ اُن کا نام حضر ت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ہے) سیرت النبی ابن ہشام میں یہ چھ نام درج ہیں۔ لیکن سیرت کا علم رکھنے والے بعض علمائے کرام نے حضرت جابر بن عبداللہ بن رُباب کی جگہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا نام درج کیا ہے۔

اگر ہم متحد رہے تو سیدالانبیاء ﷺ کی مدد کریں گے

   جب ان چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کر لیا تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم لوگ ( یعنی مدینہ منورہ کے دونوں بڑے قبائل) میری مدد کرناحتیٰ کہ میں اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) کا پیغام پہنچا دوں ۔‘‘ ( یعنی اسلام کو غلبہ ہو جائے) اُن چھ سعید روحوںنے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے درمیان یومِ بعاث ہے۔ ( کچھ عرصہ پہلے بعاث کے مقام مدینہ منورہ کے دونوں بڑے قبائل اوس اور خزرج کے درمیان بہت خوں ریز جنگ ہوئی تھی۔ جس میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے تھے۔ اس جنگ سے پہلے اوس کا وفد اسی جنگ ِ بعاث میں قریش کی حمایت لینے کے لئے آیا تھا جسمیں حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔) جس طرح جنگ بعاث ہوئی تھی اگر ایساہی کوئی معاملہ ہوا تو ہم ( یعنی دونوں قبیلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا نہیں ہو پائیں گے۔ ( یعنی دونوں قبیلوں میں سے کسی ایک کو مدد کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چُن لیں)اب ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے علاقے میں واپس جائیں اور ہم اُن سب کو ( دونوں قبائل کو) اس بات ( اسلام) کی طرف دعوت دیں گے جس بات ( اسلام ) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ( یعنی دونوں قبیلوں کے درمیان ) صلح کی صورتِ حال پید افرما دے اور اللہ تعالیٰ ان سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کردے۔ ( یعنی دونوں قبائل اسلام قبول کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں) اگر ایسا ہوا تو انشاء اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غالب کوئی نہیں ہوگا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلے سال حج کے موقع پر آنے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ چھ سعید روحیں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا وعدہ کر کے مدینہ منورہ واپس لوٹ گئے۔ ( اور انھوں نے مدینہ منورہ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ذکر کیا کہ )مدینہ منورہ میں انصار کا کوئی گر ایسا نہیں تھا جسمیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہوتا ہو۔

بارہ انصار کی بیعت کے لئے حاضری

۱۱ ؁نبوی یعنی نبوت کے گیارہویں سال حج کے موسم میں جن چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ لوگ مدینہ منورہ جا کر خاموش نہیں بیٹھے بلکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک سب سے کرتے رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ پورا سال یہ سعید روحیں مدینہ منورہ میں جدوجہد کرتی رہیں۔ اس جدو جہد میں کامیابی یہ ملی کہ دوسرے سال یعنی ۱۲ ؁نبوی میں حج کے موسم میں جب ان چھ افراد میں سے پانچ افراد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے تو اُن کے ساتھ سات نئے افراد تھے۔ پچھلے سال اسلام قبول کر کے اس سال آنے والے پانچ افراد کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ ،قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں ۔ (2) حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ ، ان کی والدہ محترمہ سیدہ عَفراء رضی اللہ عنہا ہیں۔ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں۔ (3) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق کے ہیں۔ (4) حضرت قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ قبیلہ خزر ج کی شاخ بنو سلمہ کے ہیں۔ (5) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حرام بن کعب کے ہیں۔ ان پانچوں کے ساتھ جو سات افراد آئے تھے اُن کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت معاذ بن حارث رضی اللہ عنہ ( یہ حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ اور ان کی والدہ محترمہ سیدا عفرا رضی اللہ عنہا ہیں) (2) حضر ت ذکوان بن عبد القیس رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق کے ہیں۔ (3) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو غنم کے ہیں۔ (4) حضرت یزید بن ثعلبہرضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عنم کے حلیف ہیں۔ (5) حضرت عباد بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم کے ہیں۔ (6) حضرت ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل کے ہیں۔ حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف کے ہیں۔

بیعت ِ عقبہ اوّل ، 12 ؁نبوی

   عقبہ ، پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ ( راستے ) کو کہتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے منیٰ آتے وقت منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی گزرگاہ ( راستہ) عقبہ کے نام سے مشہور ہے۔ ان بارہ افراد نے اسی عقبہ کی گھاٹی میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور پہلی مرتبہ آنے والے سات افراد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر کلمہ ٔ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا اور ان بارہ افراد نے بیعت کی ۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان پانچ باتوں کا پختہ وعدہ کیا اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔ (1) ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے ا ور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ (2) ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے۔ (3) ہم اپنی اولاد ( لڑکیوں ) کو قتل نہیں کریں گے۔ (4) ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چُغلی کریں گے۔ (5) ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔    ان پانچ باتوں پر ان بارہ افراد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ چونکہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ نے جہاد فرض نہیں کیا تھا۔ اس لئے اُس پر بیعت نہیں لی گئی اور عورتوںوالی بیعت لی گئی۔ یعنی عورتوں سے انھی پانچ باتوںکی بیعت لی جاتی ہے۔ یہ ’’بیعت ِ عقبہ اوّل ‘‘کے نام سے مشہور ہوئی۔ بیعت مکمل ہوجانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم نے اس بیعت کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت عطا فرمائے گا اور اگر کسی سے کوئی لغزش ہو گئی تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔ وہ چاہے گا تو معاف فرمادے گا اور چاہے گا تو عذاب دے گا۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم نے اس عہد کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور اگرکسی نے گناہ کیا اور اسے اس کا خمیازہ دنیا میں بھگتنا پڑا تو وہ اس کا کفّارہ ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرما دی توپھر معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ چاہے تو صاف کرے اور چاہے تو عذاب دے۔‘‘ جب یہ بارہ افراد مدینہ منورہ واپس جانے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ کر دیا۔ تاکہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں قرآن پاک سکھلائیں اور اسلام کی تعلیم دیںاور مدینہ منورہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اس طرح حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اسلام کے ’’سب سے پہلے مُعلّم‘‘ اور’’ داعی‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کا ذکر تفصیل سے انشا ء اللہ آگے کریں گے۔

مدینہ منورہ میں اسلام

   مدینۂ منورہ کی چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کیا اور اسکے بعد مدینۂ منورہ آکر پورا سال وہاں کے لوگوں کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے رہے۔مدینہ منورہ کے پڑوس میں یہودیوں(بنی اسرائیل ) کے کئی قبائل آباد تھے اور ان لوگوں کے اکثر مدینہ منورہ والوںسے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے اور اکثر یہودی کہا کرتے تھے۔ ہماری کتاب میں ’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ذکر ہے اور ان کے اوصاف بھی مذکور ہیں ۔’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے اور ایسے ہوں گے اور جب وہ آئیں گے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے اور ان ساتھ ملکر تمہیں عاد اور ارم کی طرح ہلاک وبرباد کرکے رکھ دیں گے۔یہ باتیں یہودیوں (بنی اسرائیل) نے اتنی مرتبہ مدینہ منورہ والوں سے کی کہ ان کے بچے بچے کا ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے غائبانہ تعارف ہوگیا اور ایسا ہوا کہ وہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح لاشعوری طور سے ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انتظار کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ یہ رہا کہ ان چھ سعید روحوں نے جب مدینہ منورہ والوں کوبتایا کہ ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )مکہ مکرمہ میں’’ اعلان نبوت ‘‘فرما چکے ہیں تو لاشعوری طور سے تمام مدینہ منورہ والوں کا جھکائو ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )کی طرف ہوگیا۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی مدد تھی کہ مدینہ منورہ کے لوگوں (بعد میں اللہ تعالیٰ نے’’ انصار‘‘ کا خطاب دیا ) کے دلوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوگیا اور وہ لوگ خوش قسمت ثابت ہوئے کہ وہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ انصار‘‘ (مددگار) بنے۔ پورا سال محنت کرنے کے بعد ان چھ سعید روحوں سے پانچ افراد دوسرے سال حج کے موقع پر مکہ مکرمہ آئے اور ان کے ساتھ سات افراد اسلام قبول کرنے کے لئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان بارہ سعید روحوں نے عقبہ کی گھاٹی میں سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی کہ اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق گذاریں گے۔ اسے ’’بیعت عقبہ اول ‘‘یا ’’پہلی بیعت عقبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بیعت کرنے کے بعد ان بارہ سعید روحوں نے گذارش کی کہ ہمیں اسلام کی تعلیم دینے کے لئے کوئی’’ معلم ‘‘ساتھ کردیں تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ (ایک روایت میں حضرت ابن ام مکتوم کا بھی ذکر ہے)

اسلام کے پہلے’’ معلم‘‘ (استاد )

   حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی ان بارہ سعید روحوں کے ساتھ مدینہ منورہ آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ’’ السابقون الاولون ‘‘میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد بہت امیر تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بڑے ناز ونعم میں پرورش پائی ۔زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ کے نوجوانوں کے’’ آئیڈیل‘‘ تھے۔ اسلام قبو ل کرنے کے بعد بہت سی مصیبتیں برداشت کیں۔ زیادہ وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گذارا۔ اسلئے زیادہ تر قرآن حفظ تھا اور اسلامی تعلیمات سے آشنا تھے۔ ہجرت حبشہ بھی کرچکے تھے اور ایمان کے نشیب و فراز سے آگاہ تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ا سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کیا اور وہیں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور دعوتِ اسلام کا کام کرتے تھے۔مدینہ منورہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ’ ’مقریٰ ‘ ‘کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ ’’مقریٰ ‘‘کا معنی ہے ’’پڑھانے والا‘‘۔ اس وقت معلم اور استاد کو مقریٰ کہا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ کیونکہ اوس اور خزرج اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ان میں سے کوئی دوسرے کو امامت کرائے۔

اوس اورخزرج کا مختصر تعارف

   مدینہ منورہ میں دو قبیلے آباد تھے۔ ان کے نام’’ اوس‘‘ اور’’خزرج ‘‘تھے۔’’ الخزرج ‘‘کے معنی ’’ٹھنڈی ہوا ‘‘ہے۔ اور’’ الاوس ‘‘کے معنی ’’عطیہ یا عوض ‘‘ہے ۔ یہ دونوں مدینہ منورہ کے بڑے قبائل ہیںاور باقی قبیلے انہی سے پھوٹی ہوئی شاخیں ہیں یا ان ہی سے نکلے ہوئے خاندان ہیں۔ یہ دونوں قبیلے مشرک تھے اور ان کے پڑوس میںیہود یوں کے قبائل آباد تھے۔ یہودیوں ( بنی اسرائیل) اور’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘میں اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے تھے اور جب بھی ان لڑائیوں میں یہودیوں کو شکست ہوتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ’’ وہ آخری نبی‘‘ مبعوث ہونے والے ہیںاور ہم لوگ اُن پر ایمان لا کر تم سب کو ’’عادو ارم ‘‘کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ یہو دیوں ( بنی اسرائیل) یہاںبھی اپنی سازشی ذہنیت کی وجہ سے اوس اور خزرج کو لڑانے میں کامیاب رہے۔ وہ ان دونوں کو لڑاتے تھے اور ان لوگوں کی مدد کرکے اپنا قرضدار بنالیتے تھے۔ اسطرح وہ’’ لڑاو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ ان کی اسی پالیسی کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے اوس اور خزرج میں’’ بعاث‘‘ کے مقام پر خونریز جنگ ہوچکی تھی۔ جس میں دونوں قبائل کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے تھے۔ آخر اس قتل اور غارت گری سے تنگ آکر ان دونوں قبائل نے یہ طئے کیا تھا کہ اب لڑائی یا جنگ نہیں کریں گے۔ بلکہ مل کر رہیں گیاور دونوںقبائل کا مشترکہ سردار ہوگا۔اور اسکے لئے ’’عبداللہ بن ابی ‘‘کو سردار بنانا طے ہواتھا۔ جو یہودیوں (بنی اسرائیل ) کی کٹھ پتلی تھا۔ ابھی اسے دونوں قبائل کا مشترکہ سردار بنایا نہیں گیا تھا کہ مدینہ منورہ میں اسلام طلوع ہوگیا اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام کے معلم کی حیثیت سے تشریف لے آئے۔

بنو عبدالاشہل کی طرف جانا

   حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر تھے ۔حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی کنیت’’ ابو امامہ ‘‘ہے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ انھیں کے گھر میں اسلام قبول کرنے والے بارہ افراد کو اسلام کی تعلیم دیتے تھے اور ان کے خاندان بنو بنجار اور قبیلے خزرج کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ ایک دن حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبدالاشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ ) میرے خالہ زاد بھائی ہیں۔ اگر وہ کسی طرح اسلام قبول کرلیں تو ان کی وجہ سے ان کا سارا خاندان یا قبیلہ یا تمام بنو عبدلاشہل اسلام قبول کرلیں گے اور انشااللہ اسلام کوکافی قوت عطا ہوگی۔ ‘‘یہ سن کر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تو پھر چلو بنو عبدالاشہل کی طرف چلتے ہیں‘‘اور دونوں حضرات بنو عبدالاشہل کی طرف روانہ ہوگئے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا غصّہ

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ’’ بنو عبدالاشہل‘‘ میں آئے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی حویلی کے سامنے بنو ظفر کے باغ میں ’’مرق‘‘ نام کے کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ ظفر کا نام کعب بن حارث ہے۔ یہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ مسلمان ان کے پاس جمع ہونے لگے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی حویلی کے صحن میں اپنے دوست حضرت اسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے حضرت اسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ ان دونوں کے پاس جاؤ۔جو ہماری حویلی کے سامنے آکر بیٹھے ہوئے ہیںاور ہمارے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ انھیں خوب ڈانٹو اور انھیں منع کرو کہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کریں تاکہ یہ دونوں ہمارے کمزور لوگوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔ اگر اسعد بن زرارہ میرے رشتہ دار نہ ہوتے تو میں ہی انھیں کافی ہوجاتا۔ وہ میرے خالہ زاد بھائی ہیں اور میں ان کے سامنے نہیں جانا چاہتا۔ ‘‘

حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ لیا اور حضرت اسعد اور حضرت مصعب رضی اللہ عنہما کی طرف چل پڑے ۔حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے انھیں آتے دیکھا تو کہنے لگے :’’آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اس قوم کا سردار آرہا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق سچ کہنا۔ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اگر وہ بیٹھ گیا تو میں اس سے بات چیت کروں گا۔ ‘‘حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آکر انھیں پھٹکارنے لگے اور کہنے لگے:’’ کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنائو۔ اگر تمھیں اپنی جانوں کی ضرورت ہے اور خیریت چاہتے ہو تو فوراًیہاں سے چلے جائو۔ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ذرا بیٹھیں اور چند باتیں تو سنیں ۔ اگر کچھ پسند آّئے تو قبول کرلینا اور اگر پسند نہ آئے تو ردّ کر دینا۔ ‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ آپ نے انصاف کی بات کی ہے اور اپنا برچھا زمین میں گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے انھیں قرآن پاک کی تلاوت سنائی ۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے بتایا اور اسلام کی دعوت دی ۔‘‘ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہم دونوں نے حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اسلام کاا جالا دیکھ لیا تھا۔ پھر حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ یہ کلام (قرآن پاک) کتنا دلنشین ہے اس دین میں داخل ہونے کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ غسل کر کے پاک ہوجائو اور اپنے کپڑوں کو صاف کرو۔ اسلام قبول کرو اور پھر نماز پڑھو۔ ‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے غسل کرکے پاک کپڑے پہنے اور اسلام قبول کرکے دو رکعت نماز پڑھی۔

بھائی کی محبت میں دوڑ گئے

   اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جس نے اگر اسلام قبول کرلیا تو پھر اس قوم کا ہر فرد اسلام قبول کرلے گا۔میں اسے تمھاری طرف بھیجتا ہوں۔ اسکا نام سعد بن معاذ ہے ۔ پھر وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو انھوں نے آتے دیکھا تو فرمایا:’’ اللہ کی قسم! اُسید کا چہرہ وہ نہیں ہے جو یہاں سے لیکر گیا تھا۔‘‘ جب وہ آگئے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:’’ اُن لوگوں کا کیا ہوا؟‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں نے اُن دونوں سے بات کی ہے اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور میں نے اُن دونوں کو منع کر دیا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ ہم وہی کریں گے جو تم پسند کرو گے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنو حارثہ ( حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دشمن) آپ کے بھائی حضرت اسعد( رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ وہ انھیں قتل کر کے آپ کو تکلیف دینا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جلدی سے کھڑے ہو گئے اور انتہائی غصہ کے عالم میں اپنے ہاتھ میں برچھا لیا اور فرمایا:’’ اللہ کی قسم! تو نے کوئی فائدہ نہیں پہونچایا۔‘‘ اور فوراً دوڑتے ہوئے دونوں حضرات کی طرف گئے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے خالہ زاد بھائی کی محبت میں دوڑتے ہوئے بنو ظفر کے باغ میں داخل ہوئے۔ اور بیئر مرق(مرق کنواں) کے پاس پہونچے تو دیکھا کہ دونوں حضرات آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ فوراً سمجھ گئے کہ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ انھیں یہاں بھیجنا چاہتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بہت غصے کے عالم میں تھے اور اپنے بھائی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’ اے ابو امامہ! (یہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کیکنیت ہے) اگر میرے اور تمھارے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی (تو میں تمھارا وہ حال کرتا کہ )پھر تم ایسی حرکت (اسلام کی دعوت) کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔کیا تم ہمارے گھروں میں وہ چیز مسلط کرنا چاہتے ہوجسے ہم پسند نہیں کرتے؟ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تمام باتیں انتہائی صبر و تحمل سے سنیں اور اسکے بعد فرمایا :’’کیا آپ ذرا بیٹھ کر ہماری باتین نہیں سنیں گے؟ آپ ذرا ہماری باتین سنیں ۔ اگر پسند آے تو قبول کرلینا اور اگر نہ پسند آئے تو چھوڑ دینا اور پھر ہم دونوں آپ کو دوبارہ کبھی دکھائی بھی نہیںدیں گے۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’تم نے سچ کہا‘‘ اور برچھا گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا اور اسلام کی دعوت دی ۔دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہماری بات پوری ہونے سے پہلے ہی ہم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اسلام کا نور دیکھ لیا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جب تم اسلام قبول کرتے ہو اور اس دین میں داخل ہوتے ہو تو کیا کرتے ہو؟‘‘ انھوں نے بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہ پہلے غسل کرین اور پاکی حاصل کرکے پاک صاف کپڑے پہنے۔ حق کی گواہی دیں (یعنی کلمہ شہادت پڑھیں) پھر دو رکعت نماز ادا کریں۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے غسل کرکے صاف کپڑے پہنے اور فرمایا:’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ اور پھر دورکعت نماز پڑھی اور اپنا برچھا لیا اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیکر اپنی قوم کے پاس آئے۔

بنو عبدالاشہل کا قبول اسلام

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور فرمایا:’’اے بنو عبدالاشہل !تم میں میری کیا حیثیت ہے؟‘‘ قوم کے لوگوں نے کہا:’’ آپ (رضی اللہ عنہ ) ہمارے سردار ہیں ۔ رائے کے اعتبارسے افضل اور عقل کے اعتبار سے دانا ہیں ۔‘‘حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تو پھر میری بات غور سے سنو !تم تمام مرد اور عورتوں سے بات کرنا میرے لئے اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لے آئو۔‘‘ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اللہ کی قسم !شام تک بنو عبدالاشہل کے تمام مرد و خواتین اسلام قبول کرچکے تھے۔ صرف ایک شخص حضرت عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ جن کا لقب’’ اُصیرم ‘‘تھا۔ انھوںنے اسلام قبول نہیںکیا ۔ انھوں غزوۂ اُحد میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور جنگ میں شامل ہوگئے اور شہید ہوگئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جنتی ہونے کی بشارت دی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بطور ’’معمہ‘‘ فرمایا کرتے تھے:’’ بتائو وہ کون شخص ہے جس نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اور جنت میں پہونچ گیا۔‘‘ جب لوگ جواب نہیں دے پاتے تو خود فرماتے تھے:’’ وہ بنو عبدالاشہل کے اُصیرم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ‘‘

مدینہ منورہ میں جمعہ کی نماز

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں مسلسل اسلام کی دعوت دینے میں لگے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ انھیں کامیابی بھی عطا فرمارہے تھے اور مدینہ منورہ کا کوئی گھر ایسا نہیں تھاجس میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ اسی دوران سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے خط و کتابت اور پیغام رسانی کا کام بھی چل رہا تھا۔ جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہوگئی تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے حکم بھیجا کہ جمعہ کی نماز قائم کی جائے۔ حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ اس نماز جمعہ میں چالیس افراد شریک تھے۔ امام عبدالملک ابو محمد بن ہشام میں حضرت کعب بن مالک کی روایت بیان فرمائی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ یہودی (بنی اسرائیل) عیسائی (نصاریٰ ) اپنا اپنا خاص دن مناتے ہیں تو انھوں نے جمعہ کے دن مسلمانوں کو جمع کیا اور نماز جمعہ کا اہتمام کیا۔ اسکے کچھ دنوں بعد مکہ مکرمہ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آیا ۔ لیکن امام عبدالرحمٰن بن عبداللہ سہیلی نے اپنی کتاب روض الانف شرح سیرت النبی ابن ہشام میں فرمایا کہ زیادہ تر سیرت نگاروں نے یہی بیان کیا ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم سے مدینہ منورہ میں جمعہ کی نماز شروع ہوئی۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

دوسری بیعت عقبہ -بیعت عقبہ ثانیہ

   حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہم پورا سال مدینہ منورہ میں محنت کرتے رہے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے افرا د نے اسلام قبول کیا ۔جب حج کا وقت آیا تو مسلمان حضرات میں سے ستر 70یا بہتر72لوگ مکہ مکرمہ جانے کیلئے تیار ہوئے۔ ان کے علاوہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے جانے والے مشرکوں کا قافلہ تیار تھا۔ ان کی تعداد 500پانچ سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ 72بہترافراد ان میں شامل ہوگئے۔ ان کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ تمام افراد مکہ مکرمہ پہو نچے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط ایام تشریق یعنی بارہ ذی الحجہ کی رات میں ’’شعب ایمن‘‘ (جو منیٰ سے اترتے وقت عقبہ سے ہے)میں ملنے کا حکم دیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ نہ کسی سونے والے کو بیدار کریں اور نہ ہی کسی غیر حاضر کا انتظار کریں۔

انصار کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر

دوسری بیعت عقبہ میں حضرت جابر بن عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔دس سال تک سیدلانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے لوگوں اور باہر کے علاقوں کے لوگوں کے گھروں اور بازاروں اور میلوں میں جا جا کے اسلام کی دعوت دیتے رہے اور فرماتے رہے کہ’’ کون ہے جو مجھ کو ٹھکانہ دے؟ کون ہے جو میری مدد کرے ؟ یہاں تک کہ میں اللہ کو پیغام پہونچا سکوں اور اسکے لئے جنت ہے۔‘‘مگر کوئی ٹھکانہ دینے والا اور مدد کرنے والا نہیں ملتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو یثرب( مدینہ منورہ کا پرانا نام)سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور اسلام قبول کیا۔ ہم میں سے جو شخص سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتاتھا وہ مسلمان ہوکر واپس آتا تھا۔ جب مدینہ منورہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکۂ مکرمہ کے پہاڑوں میں خوف ذرہ اور پریشان پھرتے رہیں ۔ ستر 70آدمی ہم میں سے حج کے موسم میں مکۂ مکرمہ آئے۔قافلہ جب مکۂ مکرمہ پہو نچا تو ہم نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خفیہ طور سے پیغام بھیجا کہ ہم قدم بوسی کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے دوران میں منیٰ کی اسی مبارک گھاٹی پر رات میں ملنے کا وعدہ فرمایا۔ جہاں پچھلے سال بارہ افراد نے بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ ‘‘

عقبہ کی گھاٹی میں اجتماع

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مشرکوں کے ساتھ حج کے ارکان مکمل کئے اور بارہ ذی الحجہ کی رات میں اپنے قافلے کے مشرکوں کے ساتھ لیٹ گئے۔ جب تمام مشرک سوگئے تو مسلمان حضرات دھیرے دھیرے ایک ایک کر کے اٹھ کر جانے لگے اور عقبہ کی گھاٹی میں جمع ہونے لگے۔ اسی طرح خاموشی سے بہتر 72یا تہتر73لوگ جمع ہوئے اور دو خواتین تھیں ۔ اسطرح پچہتر 75جمع ہوگئے ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے ان لوگوں کے انتظار میں اپنے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ حالانکہ اس وقت تک حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی ابو طالب کی طرح ہر موقع پر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور حفاظت کرتے تھے۔ اسی لئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان پر اعتماد کرتے تھے اور وقتاً فوقتاًقریش کے مشرکوں کے معاملات میں بھی ان سے مشورہ کرتے تھے۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب کی تقریر

   جب تمام افراد عقبہ کی گھاٹی میں جمع ہوگئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ اے گروہ خزرج ! (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مدینہ منورہ کے تمام لوگوں کو گروہ ِخزرج ہی کہا جاتا ہے اس میں قبیلہ اوس کے لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں )تم یہ خوب جانتے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم میں کس حیثیت کے مالک ہیں ۔ ہم نے ان کا بھر پور تحفظ کیا ہے اور یہ اپنے شہر میں محفوظ ہیں۔ اس کے باوجود یہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر کے تمہارے درمیان جانا چاہتے ہیں۔ تم لوگ اگر یہ چاہتے ہو کہ یہ تمہارے ساتھ رہیں تو تمہیں ان کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کرنی پڑے گی۔ اب اس کے بعد تم یہ محسوس کرتے ہو کہ کہ تم ان سے کئے گئے عہد کو نبھا سکو گے۔ ان کے مخالفین سے ان کا تحفظ کر سکو گے تو بے شک انھیں لے جائو اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم انھیں ہجرت کے بعد دشمن کے حوالے کر دو گے اور انھیں رسوا ء کر دو گے تو پھر ابھی سے انھیں یہیں چھوڑ دو۔ یہ اپنی قوم میں اور اپنے شہر میں مکرم اور محفوظ ہیں۔‘‘

سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر

   حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنی تقریر ختم کرکے بیٹھ گئے تو انصار نے کہا :’’ ہم نے تمہاری بات سن لی اور سمجھ لی۔‘‘ اس کے بعد انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیا کہتے ہیں ؟‘‘ان کے جواب میں سیدا لانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھ سے اس بات کی بیعت کرو کہ میری سنو گے اور میرا حکم مانو گے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غم کی حالت میں بھی اور اللہ کے لئے خرچ کرو گے امیری میں بھی اور غریبی میں بھی اور نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے روکو گے۔ اللہ کی خاطر کلام کرو گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس بات کی بیعت کر و کہ جب میں تمہارے پاس مدینہ منورہ آئوں تو تم میری مدد کرو گے اور ہر اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے تم اپنا ،اپنی عورتوں اور بچو ں کی حفاظت کرتے ہو۔ اگرتم نے یہ بات نبھائی تو تمہیں جنت ملے گی۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کے لئے اس بات کی بیعت کرو کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائو گے اور دشمن سے میری حفاظت کرو گے۔ جس طرح اپنی، اپنیاولاد اور عورتوں کی کرتے ہو۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب ان شرطوں کو پورا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔‘‘ یہ سن کر انصار نے کہا:’’ یہ سودا بڑا نفع بخش ہے۔ نہ ہم خود اسے توڑیںگے اور نہ ہی کسی کو توڑنے دیں گے۔‘‘

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے انصاران باتوں پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ تب حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ اے اہل یثرب!( مدینہ منورہ کا پرانا نام) ، جلدی نہ کرو ( بلکہ خوب سوچ سمجھ لو) ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں اس لئے آئے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آج تمہارا ان کو یہاں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جانا تمام عرب سے تمہارے تعلقات کو ختم کر دے گا۔ تمہارے اپنوں کو قتل کیا جائے گا اور تلواریں تمہارے جسموں کو زخمی کریں گی۔ اگر تم ایسے حالات میں صبر کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور ساتھ لے جائو۔ اس کا اجر تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا اور اگر تمہیں اپنی جانوں کا خوف ہے کہ ہلاک کر دیئے جائو گے تو انھیں یہیں رہنے دو اور یہ بات سمجھ لو کہ ِاس وقت اللہ تعالیٰ تمہارا عُذر قبول کر لے گا۔

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ اور حضڑت الھیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کی تقاریر

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے انصار کو معاملے کی اہمیت بتائی کہ یہ تمام باتیں سمجھ کر بیعت کرو۔ اس کے بعد حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک اپنے ہاتھوں میں لے کر عرض کیا:’’ جی ہاں! اُس ذات ( اللہ تعالیٰ)کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کیساتھ اپنا نبی بنا کر مبعوث فرمایاہے۔ ہم ہراس شئے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے اہل و عیال کی کرتے ہیں اور اب ہم سے بیعت لے لیں کیوں کہ ہم آزمودہ جنگ ہیں اور تلواروں کے سائے میں پلے ہیں۔‘‘ اُسی وقت حضرت ابو الھیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کچھ لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے جسے ہم توڑنے والے ہیں۔ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہمیں ان سے جنگ کرنا پڑے گی) ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم یہ کر گذریں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرما دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں ۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ در اصل یہ عربوں کی ایک بہت ہی بہترین صفت ہے کہ بات بالکل صاف صاف کہتے ہیں۔ حضرت ابو الہیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کے سوال پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:’’تمہارا خون میرا خون ہے اور تمہاری عزت میری عزت ہے۔ میں تم سے ہوں تم مجھ سے ہو۔ جس سے تم جنگ کرو گے اس سے میں جنگ کروں گا اور جسے تم سلامتی دو گے اسے میںسلامتی دوں گا۔‘‘

بارہ نقباء کی تقرری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مکمل ہونے کے بعد ان 75سلیم القلب افراد نے بیعت مکمل کی۔ ہم ان 75افراد کے نام جگہ کی کمی کی وجہ سے نہیں لکھ سکتے۔ اس کے لئے آپ سیرت کی معتبر کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ بیعت مکمل ہوجانے کے بعد سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے بارہ ایسے افراد دو جو تنازعہ یااختلاف کے وقت فیصلہ کر سکیں ۔‘‘ انصار نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارہ افراد کے نام پیش کئے۔ ان میں سے نو کا تعلق خزرج سے تھا اور تین کا تعلق اوس سے تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بارہ افراد کو انصار کا نقیب مقرر کیا۔ ان بارہ افراد کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں اور بنو نجار کے نقیب بنائے گئے۔(2) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ خزر ج کے ہیں۔ (3) حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیںاور بنو حارث کے نقیب بنائے گئے۔ (4) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں بنو زریق کے نقیب بنائے گئے۔ (5) حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ (6) حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔(مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ کے والدہیں)۔(7) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ (8) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔(9) حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ یہ نو صحابہ کرام خزرج کے ہیں۔ ان کے علاوہ قبیلہ اوس کے تین افراد کو نقیب بنایا گیا۔ ان کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عبد الاشہل کے نقیب بنائے گئے۔ (2) حضرت سعد بن خیشمہ رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عمرو بن عوف کے نقیب بنائے گئے۔ ( 3) حضرت رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عمرو بن عوف کے نقیب بنائے گئے۔    ان بارہ نقیبوں سے سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اپنی اپنی قوم کے کفیل ہو۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارہ حواری کفیل تھے اور میں تمہارا اور سب لوگوں کا کفیل ہوں۔ ‘‘طبقات ابن سعد میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے تھے اور اشارہ کرتے جاتے تھے کہ اسے نقیب بنائیں۔

شیطان کا واویلا

   تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کر چکے تو عقبہ کی چوٹی سے بلند آواز سے شیطا ن چلایا ۔ یہ آواز اُن آوازوں سے کہیں زیادہ بلند تھی۔ جو عام طور سے سنی جاتی ہے۔ شیطان چلّا چِلّا کر کہہ رہا تھا:’’ اے اہل حباحب !کیا تمہیں مذمم اور صابیوں کے متعلق علم ہے؟ وہ تمہارے خلاف جنگ لڑنے کے لئے جمع ہو چکے ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ عقبہ کا شیطان ہے اور شیطان ازیب کا بیٹا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا:’’ اے اللہ تعالیٰ کے دشمن سن لے! اللہ کی قسم !میں تیرے لئے ضرور فارغ ہوں گا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اپنے اپنے پڑائو میں واپس چلے جائو۔ ‘‘حضرت عباس بن عبادہ بن نضلہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اُس ذات کی قسم !جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرمائیں تو ہم صبح ہی اہلِ منیٰ ( قریش) پر اپنی تلواروں سے حملہ کر دیں۔ ‘‘لیکن سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ابھی ہمیں اس کا ( جہاد کا) حکم نہیں دیا گیا ہے۔ تم تمام لوگ اپنے اپنے خیموں میں چلے جائو۔‘‘

قریش کا احتجاج

   بیعت عقبہ کی خبر جب قریش کوہوئی تو اُن میں کہرام مچ گیا اور وہ غم و غصہ میں بھر گئے۔ وہ جانتے تھے کہ اس قسم کی بیعت کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ صبح ہوتے ہی وہ لوگ مدینہ منورہ کے قافلے کے پڑائو کے پاس پہنچے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے 500پانچ سو افراد پر مشتمل قافلہ مکہ مکرمہ آیا تھا اور ان میں یہ 75پچھتر مسلمان بھی شامل تھے۔ اس قافلے کا سردار عبداللہ بن اُبیّ تھا ۔اس کا ذکر آگے بہت آئے گا کیونکہ یہ آگے چل کر سب سے بڑا منافق بنا تھا اور اسے’’ رئیس المنافقین‘‘ کہا گیا ۔ قریش نے آکر عبد اللہ بن اُبیّ سے کہا:’’ اے خزرج کے لوگو! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ ہمارے ان صاحب ( یعنی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہمارے درمیان سے نکال لے جانے کے لئے آئے ہو اور ہم سے جنگ کرنے کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہو۔ حالانکہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں ہے جس سے جنگ کرنا ہمارے لئے اتنا زیادہ ناگوار ہو جتنا آپ حضرات سے ہے۔ ‘‘لیکن چونکہ قافلے کے مشرکین سرے سے کچھ جانتے ہی نہیں تھے کیوں کہ ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ بہت ہی رازداری سے کی گئی تھی۔ اسی لئے ان لوگوں نے قریش کو یقین دلانا شروع کر دیا۔ عبداللہ بن اُبیّ نے کہا:’’یہ جھوٹ ہے ایسا نہیں ہو سکتا اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میری قوم مجھے چھوڑ کر اس طرح کا کام کر ڈالے ۔ (در اصل اُس وقت مدینہ منورہ کے تمام مشرکین نے عبد اللہ بن اُبیّ کی سرداری پر اتفاق کر لیا تھااور خزرج اور اوس دونوں قبائل بہت جلد اس کی تاج پوشی کر کے پورے مدینے کا بادشاہ بنانے والے تھے۔ اسی لئے وہ یہ بات اتنے اعتماد سے کہہ رہا تھا۔ ) اگر میں یثرب (مدینہ منورہ کا پرانا نام) میں ہوتا تب بھی میری قوم مجھ سے مشورہ کئے بغیر ایسا نہیں کرتی۔‘‘ باقی رہے مسلمان تو انھوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ سادھ لی۔ بس صرف زیر لب مسکراتے رہے۔ آخر کار قریش نے اس کی باتوں کا یقین کر لیا اور واپس چلے گئے۔ لیکن بعد میں انھیں معلوم ہوا تو قافلے کا پیچھا کیا لیکن قافلہ نکل چکا تھا۔ البتہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بھی عمرو رضی اللہ عنہ مل گئے۔ حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تیز رفتاری سے نکل گئے۔ لیکن حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پکڑ لئے گئے۔ قریش انھیں مارتے پیٹتے قید کر کے مکہ مکرمہ لائے وہاں مطعم بن عدی اور حارث بن حرب نے انھیں اپنی پناہ میں لے کر مدینہ منورہ بھیج دیا کیوں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ انھیں مدینہ منورہ میں پناہ دیتے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں