جمعہ، 14 جولائی، 2023

08 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


08 خلافت ِ راشدہ_ 08 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 8


قرآن پاک کے بارے میں حضرت عُمر فاروق ؓکی تشویش، حضرت ابو بکر صدیق کا شرح صدر، حضرت زید بن ثابت پر عظیم ذمہ داری، حضرت زید بن ثابت کا شرح صدر، قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا، بحرین میں ارتداد، حضرت جارود بن معلی کا قبول اسلام اور ثابت قدمی، بحرین میں اسلامی لشکر، دریا میں گھوڑے دوڑادیئے، بحرین سے ارتدا دکا خاتمہ


قرآن پاک کے بارے میں حضرت عُمر فاروق ؓکی تشویش


   حضرت خالد بن ولید کی سپہ سالاری میں جس لشکر نے یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے لشکر سے جنگ کی تھی اُس میں لگ بھگ پانچ سو یا چھ سو مسلمان شہید ہوئے تھے۔ان میں سے بہت سے مکمل قرآنِ پاک کے حافظ تھے۔اِن حافظوں کی شہادت کی وجہ سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تشویش ہوئی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ جس طرح یمامہ کی جنگ میں قرآن پاک کے حافظین شہید ہوئے ہیں۔اگر اسی طرح حفاظ ِ کرام شہید ہو تے رہیں گے تو قرآن پاک کہیں ناپید نہ ہو جائے۔اسی لئے میری درخواست ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کردیں تاکہ آنے والے زمانوں کے مسلمانوں کو قرآن پاک محفوظ شکل میں مل سکے اور قرآن ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔


حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر


   حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے قرآن پاک جمع کرنے کی رائے دی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ جس کام کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے اُس کام کو میں کیسے کر سکتا ہوں؟لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے ،اصرار کرتے رہے ۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا سینہ اﷲ تعالیٰ نے کھول دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو ”شرح صدر“ ہو گیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کرنے پر راضی ہو گئے۔اب دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مل کر اِس بات پر غور و فکر کرنے لگے کہ کِس صحابی رضی اﷲ عنہ کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جائے؟بڑے غور و فکر کے بعد یہ طے ہوا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے ذمہ یہ اہم کام سونپا جائے کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ”کاتب ِ وحی“رہ چکے ہیںاور سب سے زیادہ قرآن ِ پاک انہوں نے لکھا ہے۔اس کے علاوہ وہ جوان ہیں اور اُن کی یادداشت سب سے تیز بھی ہے اور خوش خطی سے قرآن پاک لکھ بھی سکتے ہیں۔اسی لئے خلیفہ اول نے یہ اہم ذمہ داری انہیں سونپی۔


حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ پر عظیم ذمہ داری


   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”کاتب ِ وحی“حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک مصحف میں جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔صحیح بخاری میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے کچھ دنوں بعد ایک دن خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھے یاد فرمایا۔جس وقت میں وہاں پہنچا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے سے تشریف فرما تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مجھ سے کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے ہیںاور مجھے خوف ہے کہ اگر اسی طرح مسلمان شہید ہوتے رہے تو حافظوں کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی نہ آٹھ جائے۔(کیونکہ وہ ابھی تک لوگوں کے سینوں میں ہی محفوظ ہے)لہٰذا میں سمجھتا ہو کہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کر لیا جائے۔میں نے اِن سے (حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے )کہا تھا کہ بھلا میں اُس کام کو کیوں کر سکتا ہوںجسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔تو اِس پر انہوں نے یہ جواب دیا کہ اﷲ کی قسم یہ نیک کام ہے اور اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اُس وقت سے اب تک اِن کا صرار جاری ہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا اور اِس معاملے میں مجھے شرح صدر ہوا ۔ میں سمجھ گیا کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔“حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاموشی سے سن رہے تھے۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا :”اے زید رضی اﷲ عنہ!تم جوان اور دانشمند آدمی ہواور تم کسی بات میںاب تک متہم بھی نہیں ہوئے ہو۔(یعنی تم ثقہ ہو)اس کے علاوہ تم ”کاتبِ وحی “(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کاتب)بھی رہ چکے ہو لہٰذا تم تلاش و جستجو سے قرآن پاک کو ایک جگہ جمع کردو۔“


حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر


   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ بری طر ح گھبرا گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ یہ بہت ہی عظیم کام تھااور مجھ پر بہت ہی شاق تھا۔اگر خلیفة الرسول رضی اﷲ عنہ مجھ کو پہاڑ اُٹھانے کا حکم دیتے تو میں اُس کو بھی اِس کام کے مقابلے میں ہلکا سمجھتا ۔لہٰذا میں نے عرض کیا کہ آپ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم وہ کام کس طر ح کر سکتے ہیں جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے میرا یہ جواب سُن کر فرمایا کہ اِس میں کچھ حرج نہیں ہے۔مگر مجھے پھر بھی تامل رہا(کہ میں خود کو ایک عظیم کام کے انجام دینے کا اہل نہیں سمجھتا تھا) اور میں نے اِس پراصرار کیا۔یہاں تک کہ اﷲ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیااور مجھے” شرح صدر“ فرمایا۔اور اِس امر عظیم(عظیم کام) کی اہمیت مجھ پر بھی واضح ہو گئی۔


قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا


   حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنے والی اُمت کے لئے قرآن پاک جمع کرنا کتنا اہم ہے۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں۔پھر میں نے تفتیش اور تلاش کا کام شروع کیااور کاغذ کے پُرزوں اونٹ اور بکریوں کے شانوں کی ہڈیوں اور درختوں اور پتوں کو جن پر قرآن پاک کی آیات تحریر تھیں۔انہیں جمع کیا اور پھر لوگوں کے حفظ کی مدد سے قرآن پاک کو جمع کیا۔سورہ توبہ کی دو آیتیں لقد جاءکم....سے دونوں آیات کے آخر تک۔مجھے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکیں۔اِس طرح میں نے قرآن پاک جمع کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کردیاجو اُن کی وفات تک اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کے دور خلافت میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں انہوں نے اس کی تین نقول تیار کر کے بڑے صوبوں میں بھیجااور اس کی نقل کر کے عالم اسلام میں پھیلانے کا حکم دیا۔ہمارے پاس جو قرآن پاک ہے وہ اسی کی نقل ہے۔اﷲ تعالیٰ تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اجر عظیم عطا فرمائے اورجنت میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس عطا فرمائے،آمین۔


بحرین میں ارتداد


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب بادشاہوں کوخطوط لکھے تھے اوراپنے قاصدوں کے ذریعے انہیں اسلام کی دعوت دی تھی ۔تب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو خط دیکر بحرین روانہ فرمایا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بحرین پہنچ کر وہاں کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط دیا اور اسلام کی دعوت دی۔حضرت منذر بن ساویٰ نے اسلام قبول کیا اور بحرین کے تمام قبائل نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ جس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اُس وقت حضرت منذر بن ساویٰ کی طبیعت خراب تھی۔کچھ ہی دنوں بعد اُن کا انتقال ہو گیاجب تک وہ زندہ تھے تو اہل بحرین اسلام پر رہے لیکن اُن کے انتقال کے بعد بحرین میں بھی ارتداد پھیل گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بحرین کے بادشاہ حضرت منذر بن ساویٰ عبدی کے پاس بھیجا اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیااور ملک میں اسلام و عدل و انصاف کو قائم کیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا ،تو تھوڑے عرصے بعد حضرت منذر بن ساویٰ کا بھی انتقال ہو گیا۔اُن کے انتقال کے بعد بحرین کے باشندے مُرتد ہو گئے اور انہوں نے الغرور کو اپنا بادشاہ بنالیا۔اِس کا نام منذر بن نعمان بن منذر تھا۔بحرین میں صرف ایک بستی جس کا نام ”جواثا یا جوانا“تھا صرف وہیں کے لوگ اسلام پر قائم رہے۔


حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کا قبول اسلام


   حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ ”جواثا یا جوانا“بستی میں رہتے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ حق کی تلاش میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے جارود !اسلام قبول کر لو۔“انہو ں نے عرض کیا:”میں خود اپنا دین رکھتا ہوں۔“آپ صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا دین کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے وہ مہمل ہے۔“حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اگر میں اسلام قبول کر لوں،تو جو خرابی بعد میں اسلام میں ہو گی اُس کی ذمہ داری آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:”ٹھیک ہے۔“(کیونکہ اسلا م میں کوئی خرابی ہے ہی نہیں اور نہ ہوگی)۔ حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مدینہ منورہ میں ہی رہ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کرتے رہے۔جب مسائل ِ دین سے اچھی طرح واقف ہو گئے تو انہوں نے گھر جانے کا ارادہ کیااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ سفر کے لئے اگر کوئی سواری ہو تو عنایت کیجیئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تو کوئی سواری نہیں ہے،ہاں اگر تم کچھ دن اور رک جاو¿ تو ہو سکتا ہے کہ انتظام ہو جائے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ اگر راستے میں کوئی بھٹکا ہوا جانور مل جائے تو میں اُسے لے لوں؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں کرنا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا اور اُن کی پوری قوم مسلمان ہو گئی۔


حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ کی ثابت قدمی


   حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کی قوم کو اسلام قبول کئے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیااور ملک عرب میں پھیلی ارتداد کی ہوا اُن کی قوم تک پہنچ گئی لیکن آپ رضی ا ﷲ عنہ نے بڑی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھایااور اسلام پر قائم رکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تھورا ہی عرصہ گذرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔اُن کے قبیلے عبد القیس نے کہا کہ اگر محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نبی ہوتے تو کبھی اُن کا وصال نہ ہوتااور سب مُرتد ہو گئے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے سب کو جمع کیا اور کھڑے ہو کر فرمایا:”اے گروہ ِ عبد القیس!میں تم سے ایک بات پو چھنا چاہتا ہوں،اگر تم اسے جانتے ہو تو بتانااور اگر نہیں جانتے ہو تو نہ بتانا۔“انہوں نے کہا :”ٹھیک ہے ،جو چاہو پوچھو۔“آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ گذشتہ زمانے میں اﷲ کے انبیائے کرام علیہم السلام دنیا میں آچکے ہیں؟“انہوں نے جواب دیا :”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم انہیں جانتے ہو یا انہیں دیکھا بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا:”نہیں،ہم نے ا ُن کو دیکھا تو نہیں ہے،لیکن ہم اُن کو جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”پھر کیا ہوا؟“انہوں نے جواب دیا:”پھر اُن سب کا وصال ہو گیا۔“حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”جس طرح گذشتہ انبیائے کرام علیہم السلام کا وصال ہوا ،اُسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بھی وصال ہوا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اوربے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں۔“ جب اُن کی قوم نے یہ سنا تو کہا کہ ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا بر گزیدہ اور اپنا سردار تسلیم کر لیا۔اس کے بعد مُرتدین نے انہیں تکلیف دینا شروع کر دی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یہ پہلی بستی تھی جس نے ارتداد کے زمانے میں نماز ِ جمعہ کو قائم کیا۔جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مُرتدین نے اُن کا محاصرہ کر لیااور انہیں تنگ کرنے لگے اور اُن کا غلہ روک لیا۔ وہ سخت بھوکے ہو گئے اور اُن کے ایک شخص عبد اﷲ بن حذف نے جو بکر بن کلاب کا آدمی تھابھوک کی شدت سے تنگ آکر کہا۔”ارے کوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے جوانوں کو پیغام پہنچا دے کہ کیا تمہارے پاس اِن معزز لوگوں کے لئے کچھ ہے؟جو ”جواثا یا جوانا“میں محصور ہیںاور ہر راستے میں اُن کے خون سورج کی شعاع کی طرح دیکھنے والوں کو ڈھانکے ہوئے ہیں۔ہم نے تو اﷲ رحمن پر توکل کیا ہوا ہے اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لئے صبر پایا ہے۔“بعد میں حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے آکر بحرین میںارتداد کا خاتمہ کیا اور تب انہیں نجات ملی۔


بحرین میں اسلامی لشکر


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے تین کا ذکر ہو چکا ہے۔اب ہم چوتھے لشکر کا ذکر کرتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کا بحرین کے مُرتدین کی سر کوبی کرنے کے لئے روانہ کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب بلاد بنو تمیم سے گذر کر بحرین کے قریب پہنچے تو وہاں پر یمامہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آئے اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ابھی تک وہ مسیلمہ کذاب سے اپنی حد تک مسلسل لڑ رہے تھے۔جب انہوںنے حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کے لشکر کے آنے کی خبر سنی تو یمامہ کی طرف سے اطمینان ہو گیا اورآپ رضی اﷲ عنہ اِدھر آگئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بحرین کی طرف حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ جب بحرین کے قریب پہنچے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اُن سے آکر مل گئے اور اُن کے نواح کے سب امراءبھی آکر حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور اُن کے ساتھ حُسن سلوک کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ ”مستجاب الدعوات“تھے،اِس سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک جگہ پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور سب لوگ اُتر پڑے ۔ ابھی سامان وغیرہ اُتارنے بھی نہیں پائے تھے کہ ایسا طوفان آیا کہ تمام اونٹ سامان سمیت بھاگ گئے۔رات انہوں نے بہت ہی تکلیف میں گذاری اور بہت غم زدہ ہو گئے اور ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے۔ (صحراءمیں سواری اور پانی نہ ہونے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے) حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے سب لوگوں سے فرمایا:”اے لوگو!کیا تم مسلمان نہیں ہو؟کیا تم نے ا ﷲ کی راہ میں جہاد نہیں کیا؟کیا تم انصار اﷲ نہیں ہو؟“انہوں نے جواب دیا :”بے شک ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خوش ہو جاو¿ ،اﷲ کی قسم!جس شخص کی بھی حالت تمہارے جیسی ہواﷲ تعالیٰ ا س کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑتا ہے۔“اس کے بعد فجر کی اذان دی گئی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی ،دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے لگے،اور دعا مانگتے مانگتے سورج نکل آیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے صحراءمیں خالص پانی کا ایک تالاب بنا دیا۔سب لوگوں نے اِس تالاب سے پانی پیااور غسل کیا،پانی


کی بو پاکر تمام اونٹ سامان سمیت پانی پینے کے لئے واپس آگئے اور انہوں نے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔


بحرین کے مرتدین سے جنگ


   اس کے بعد حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی مدد کی اور اپنے ساتھ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور ایک دوسرے صاحب کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ تم دونوں عبد القیس کو لیکر حطم کے مقابلے کے لئے جو اُس کے علاقے سے ملا ہوا ہے،وہاں پڑاو¿ ڈالواور خود حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ حطم کے مقابلے پر اُس علاقے میں آئے جو ”مقام ِ ہجر “سے ملا ہوا ہے۔اہل دارین کے علاوہ تمام مرتدین حطم کے پاس جمع ہو گئے ۔اسی طرح تمام مسلمان بھی حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے آکر مل گئے۔دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور دونوں لشکروں نے اپنے اپنے آگے خندق کھود لی۔اب وہ روزآنہ اپنی اپنی خندقوں سے برآمد ہو کر لڑتے تھے اور پھر اپنی اپنی خندقوں میں واپس چلے جاتے تھے۔ایک مہینے تک ایسے ہی جنگ ہوتی رہی،اس کے بعد ایک رات ایسا ہوا کہ مرتدین کے لشکر سے شور و غل کی آواز سنائی دی ۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے اپنے جاسوس کو رپورٹ لانے کے لئے بھیجا۔اُس نے آکر بتایا کہ مرتدین شراب پی رہے ہیں اور مستی کر رہے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کوتیار رہنے کا حکم دیااور فجر کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں پر ٹوٹ پڑو۔مسلمانوں نے اچانک حملہ کر دیا،مرتدین نشے میں دھت تھے۔اِن میں سے بہت کم بھاگ سکے ،اور اکثریت قتل ہوئی،بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔


دریا میں گھوڑے دوڑادیئے


   حضرت علاءبن حضرمی کی حکمت عملی کامیاب رہی اور اکثر مرتدین کا خاتمہ ہوالیکن وہ لشکر اتنا بڑا تھا کہ اچھے خاصے لوگ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور کشتی میں بیٹھ کر فرار ہونے لگے۔ علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو(لشکر کو)لیکر ساحل ِسمندر پر آگئے تاکہ وہ کشتیوں میں سوار ہوںلیکن جب آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ دور کی مسافت ہے اور کشتیوں پر سوار ہونے تک مرتدین بھاگ جائیں گے تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے سمیت سمندر میں اُتر گئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرما رہے تھے:”یا ارحم الراحمین،یا حکیم،یا کریم،یا احد،یا صمد،یا حی،یا قیوم،یا ذوالجلال والاکرام،لا الہ الا انت ربنا“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ کلمات پڑھیں اور سمندر میں گھس جائیں۔پورے لشکر نے بھی ایسا ہی کیااور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں اﷲ کے حکم سے کھاڑی سے پار لے گئے اور وہ نرم نرم ریت پر چلتے تھے جس کے اوپر پانی تھاجو اونٹوں کے پاو¿ںاور گھوڑوں کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتا تھا۔اور کشتیوں کے لئے یہ سفر ایک دن اور ایک رات کا تھا،پس آپ رضی اﷲ عنہ نے دوسرے کنارے تک اسے طے کیااور دشمنوں سے جنگ کر کے اُن کو مغلوب کر لیااور مال ِ غنیمت سمیٹ کر پانی میں چلتے ہوئے پہلی جگہ پرواپس آ گئے اور یہ سب کچھ ایک دن میں ہوااور آپ رضی اﷲ عنہ نے دشمن کا ایک خنجر بھی نہیں چھوڑااور بچوں، چوپایوںاور اموال کو لیکر آئے اور مسلمانوں کی بھی سمندر میں کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہوئی ہاں ایک مسلمان کے گھوڑے کا توبرہ گم ہو گیا تھاتو حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ واپس جا کر اُسے بھی لے آئے۔


بحرین سے ارتدا دکا خاتمہ


   حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے دارین پر حملہ کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیا کہ تمام بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ حطم میں ہی مقیم رہے اور ہر طرف اپنے قاصدوں کو بھیجا۔تمام قبائل نے اسلام دوبارہ قبول کر لیااور جو لوگ مرتد تھے وہ سب دارین میں جمع ہو نے لگے۔یہاں تک کہ پورے بحرین میں ایک بھی مرتد نہیں رہ گیااور تمام مرتدین سمندر پار بھاگ کر دارین میں جمع ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲعنہ بدستور مرتین کی فروگاہ(حطم) میں مقیم رہے اور بنو بکر بن وائل کو اسلام کی دعوت دی اور جب قاصد اُن کا جواب لیکر آیا کہ سب نے اسلام قبول کر لیا ہے اور لشکر کی امداد کے لئے سپاہی بھی بھیجے ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اطمینا ن ہو گیا کہ اب بحرین میں ایسی کوئی بات نہیں رونما ہو گی جس کا برا اثر پڑے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو جمع کر کے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے شیاطین کے گروہوں اور جنگ سے شکست کھائے ہوئے بھگوڑوں کو تمہارے ہاتھوں تباہ کرنے کے لئے اِس سمندر میں جمع کر دیا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے خشکی میں تم کو ایسی نشانیاں دِکھلا دی ہیں،جس سے تم سمندر میں اُس کی ذات پر بھروسہ کر سکو۔لہٰذا اپنے دشمن کی طرف آگے بڑھو اور سمندر پھاڑ کر اُن تک پہنچ جاو¿کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اُن سب کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اوریہ اُن کو تباہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔“مسلمانوں نے کہا: ”ہم اِس کے لئے خوشی سے تیار ہیں۔“اس کے بعد حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر سمندر کے کنارے آئے اور سب کے سب گھوڑوں،اونٹوں،خچروں،پر سوار ہو کر اور پیدل سمندر میں گھس گئے۔اُس وقت حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ یہ دعا فرما رہے تھے اور تمام مسلمان اِس دعا کو دُہرا رہے تھے۔”اے ارحم الرحمین،اے کریم،اے احد ،اے صمد،اے حی ،اے محی الموتی ٰ،اے حی،اے قیوم،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور تُو ہی ہمارا رب ہے۔“تمام مسلمانوں نے اﷲ کے حکم سے اِس خلیج کو بغیر کسی نقصان کے عبور کر لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسی نرم ریت پرچل رہے ہوں جس پر پانی چھڑکا گیاہو کیونکہ اُن کے اونٹوں کے پاو¿ ں تک نہیں ڈوبے۔ حالانکہ بعض موقعوں پر ساحل سے دارین تک کا سفر کشتیوں کے زریعے ایک دن اور ایک رات میں طے ہوتا تھا۔اب مسلمانوں اور مرتدین کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور نہایت ہی خونریز معرکہ ہواجس میں تمام مرتدین اِس طرح مارے گئے کہ کوئی ان کی خبر دینے والا بھی نہیں بچا۔مسلمانوں نے اُن کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیااور اُن کی املاک پر قبضہ کرلیااور اتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ہر مسلمان شہسوار کو چھ ہزار اور ہر پیدل مسلمان کو دو ہزار درہم ملے۔مسلمانوں کو ساحل سمندر سے اُن تک پہنچنے اور مقابلے میںپورا دن صرف ہو گیا۔پھر جس راستے سے وہ سب گئے تھے اُسی راستے سے واپس آئے اور اُسی طرح سمندر پار کیا۔اِس طرح پورے بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا ،اور مدینہ منورہ بھیج دیا۔باقی مال غنیمت کو لشکر میں تقسیم کر دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں