07 سیرت سید الانبیاء ﷺ
قبائل کو اسلام کی دعوت
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
دعوت اسلام روکنے کے لئے کافروں کی کمیٹیاں، ابو لہب کی مسلسل بدبختی، عرب کے قبائل کو اسلام کی دعوت، حضرت طفیل بن عمرو دوسی کا قبول اسلام، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے نکاح
اے قریش! تم بہت جلد اس دعوت ( اسلام ) میں شریک ہوگے
معراج سے آنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ محنت اور لگن سے اسلام کی دعوت دینے لگے اور اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ کا دائرہ بڑھا دیا اور مختلف قبائل کوبھی دعوت دینے لگے۔ اسی دوران ایک دن مسجد ِحرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی ہوئی مسجد) میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو انھیں دیکھ کر ابوجہل نے اپنے ساتھ بیٹھے کافر قریش سے کہا:’’ اے بنی عبد مناف !یہ تمہارے نبی ہیں۔‘‘ اس پر عتبہ بن ربیعہ نے کہا:’’ مگر اس بات سے انکار کیوں کیا جائے کہ ہم میں کوئی نبی یا بادشاہ ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تمام باتیں بتائی گئی یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام گفتگو سن لی تھی۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’ اے عتبہ بن ربیعہ !یہ بات تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں نہیں کی ہے بلکہ اپنے قومی غرور کی وجہ سے کہی ہے اور اے ابو جہل بن ہشام !کچھ زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا تب تُو ہنسے گا کم اور روئے گا بہت زیادہ اور اے قریش بہت جلد خوشی سے یا مجبوری سے تم اس دعوت ( اسلام کی دعوت) میںشریک ہوگے جس کا تم انکار کر رہے ہو۔ ‘‘
دعوت اسلام روکنے والی کمیٹیاں
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا اور قریش کو بہت زیادہ فکر ہوگئی تھی۔ کیونکہ حج کاوقت قریب آ رہا تھا اور مختلف علاقوں سے حج کے لئے قافلے آنے شروع ہو گئے تھے۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج جو سواریاں ہمیں میسر ہیں۔ اُس زمانے میں ان کا وجود بھی نہیںتھا۔ اور سب سے بہترین سواری چوپائے تھے۔ ان میں گھوڑے اور اونٹ بھی شامل ہیں اور لوگ انھیں کے ذریعے سفر کرتے تھے۔اس لئے لوگ کئی کئی مہینے پہلے سے اپنے گھروں سے حج کے لئے نکلتے تھے اور مکہ مکرمہ میںقیام بھی کافی لمبا ہوتا تھا۔ ) چونکہ حج کے لئے قافلے آنے شروع ہو گئے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔ قریش نے بھی اسلام کی دعوت روکنے کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ اس کے لئے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک کمیٹی میں قریش کے پچیس25سردار تھے اور ابو لہب اُن کا سربراہ تھا۔ اِن کمیٹیوں کی میٹنگ ہوئی کہ دور دراز سے آنے والے ( حج کیلئے) قافلوں کو کس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دعوت ِ اسلام سننے سے روکا جائے؟ ایک نے کہا’’ہم کہیں گے وہ کاہن ہیں۔‘‘ ولید بن مغیرہ ان میں سب سے زیادہ بزرگ تھا اس نے کہا:’’ میں نے بہت سے کاہن دیکھے ہیں۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام ان سب سے بہتر ہے۔ اس طرح ہمارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔ ‘‘دوسرے نے کہا:’’ہم اُسے دیوانہ کہیں گے۔‘‘ ولید بن مغیرہ بولا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اتنی سمجھ داری کی بات کرتے ہیں کہ ہم فوراً جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔ ‘‘تیسرے نے کہا :’’اچھا ہم انھیں شاعر کہیں گے۔‘‘ ولید بن مغیرہ نے کہا:’’ سارا عرب شعر و شاعری کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام سنتے ہی سمجھ جائے گا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‘‘چوتھے نے کہا:’’ہم کہیں گے وہ جادو گر ہے۔‘‘ ولید بن مغیر ہ نے کہا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )صاف اور سیدھا کلام سناتے ہیں۔ وہ جادوگروں کی طرح دَم نہیں کرتے اور نہ ہی پھونک مارتے ہیں۔ ‘‘سب نے عاجز ہو کر کہا:’’اب آپ ہی بتائیں! ہم کیا کہیں؟‘‘ ولید بن مغیرہ نے کہا:’’سچ تو یہ ہے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں اور شوہر بیوی میں جدائی ہو جاتی ہے۔‘‘
ابولہب کی بد بختی
اسی حدیث کو اس سے پہلے مختصراً ہم نے اس سے پہلے پیش کیا تھا۔ یہاں ذرا تفصیل سے پیش کر رہے ہیں۔ ایامِ حج قریب آرہا تھا اور دور دراز کے مختلف علاقوں سے حاجیوں کے قافلے آنا شروع ہو گئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے اور تبلیغ کے لئے مختلف قبائل کے حاجیوں کے پڑائو میں تشریف لے جاتے تھے اور انھیں دعوتِ اسلام دیتے تھے۔ حضرت ربیعہ بن عبد اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں میں اُن دِنوں نوجوان تھااور اپنے والد کے ساتھ منیٰ میں قیام پذیر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تشریف لائے اور مختلف قبائل کے حاجیوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور فرمایا:’’ اے لوگو !میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر مبعوث ہوا ہوں۔ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور بُتوں کی پوجا کرنا چھوڑ دو۔ تم مجھ پر ایمان لائو میری تصدیق کرو میرا تحفظ کرو حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس دن ( اسلام ) کو غالب کر دے جس کیساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔‘‘ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا اور سفید چہرے والا شخص تھا اس کے بالوں کی دو مینڈھیاں تھیں۔ اس نے عدن کا حَلّہ پہن رکھا تھا جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت ِ اسلام سے فارغ ہوئے تو بھینگا شخص کہتا:’’اے لوگو!یہ شخص تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ تم لات و عزیٰ ( عربوں کے بتوں کے نام )کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکو ۔ بنو مالک بن اقیش کے حلیف جنات کو چھوڑ دواور اس شخص کی بدعت اور گمراہی کو قبول کر لو جو یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی اطاعت ہرگز نہ کرنا اور نہ ہی اس کی بات سننا۔‘‘ میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا :’’یہ شخص کون ہے جو اسلام کی دعوت دے رہا ہے تو انھوں نے بتایا:’’ یہ بنو ہاشم کے محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔‘‘ پھر میں نے پوچھا:’’ اور یہ بھینگا شخص جو ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے اور ان کے ہر فرمان کو ردّ کر رہا ہے۔ یہ کو ن ہے؟‘‘ انھوں نے بتایا:’’ یہ اُن کا چچا عبد العزیٰ بن عبد المطلب ہے۔ اس کی کنیت ابو لہب ہے۔‘‘
عرب کے قبائل کو دعوتِ اسلام
محمد بن اسحاق کہتے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حج کے لئے آنے والے قبائل اور حاجیوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتا کہ کوئی صاحبِ حیثیت اور سردار مکہ مکرمہ آیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس جاتے اور اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے۔
بنو کندہ اور بنو کلب کو دعوت اسلام
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ابن شہاب امام زہری نے بیان کیا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو کندہ کی خیمہ گاہوں کی طرف تشریف لے گئے اور اُن کے سردار کا نام ملیح تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قبیلے والوں اور سردار کو اسلام کی دعوت دی اور اپنے آپ کو پیش کیا۔ لیکن اُس نے اور اس کے قبیلے والوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو کلب قبیلہ کی ایک شاخ بنو عبداللہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انھیں اسلام کی دعوت دی اور اپنی ذات کے لئے مدد و اعانت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے بنو عبداللہ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کانام کتنا عمدہ رکھا ہے۔ لیکن انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔
حضرت طفیل بن عَمرو دوسی کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اسلام کی دعوت و تبلیغ کر رہے تھے اور قریش کے کافر اس دعوت کو روکنے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے۔ دو ر دراز سے آنے والے لوگوں کو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈراتے۔ حضرت طفیل بن عَمرو دوسی رضی اللہ عنہ انھی میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ آیا تو اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ ( یعنی تب مدینہ منورہ ہجرت نہیں کی تھی) قریش کے چند سردار میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا:’’ اے طفیل ( رضی اللہ عنہ)! آپ اپنے قبیلے کے سردار ہیںاور شریف ، دانا، شاعر اور عقل مند انسان ہیں۔ یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو ہمارے سامنے ہیں یہ ہم سے علحیدگی اختیا ر کر چکے ہیں۔ انھوں نے ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیا ہے اور ہم سب کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ان کے کلام میں وہ جادو ہے کہ باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں اور بیوی شوہر میں جدائی ڈال دیتا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ اور آپ کا قبیلہ ان کی وجہ سے مسائل کا شکار نہ ہو جائے۔ اس لئے آپ نہ تو ان سے کوئی گفتگو کریں اور نہ ہی کوئی بات کریں۔ ‘‘
سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام (قرآن پاک) کی تاثیر
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ قریش کے کافر سردار مجھے سمجھاتے رہے اور قائل کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ میں نے عزم کر لیا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ہی نہیں کروں گا اور نہ ہی اُن کی کوئی بات سنوں گا۔ اسی لئے جب بھی میں مسجد حرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی مسجد ) میں جاتا تھا تو کانوں میں روئی ٹھونس لیتا تھا۔ تا کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات میرے کان تک نہ پہنچنے پائے۔ اسی طرح کانوں میں روئی ٹھونسے میں مسجد میں داخل ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ اتفاق سے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا کلام جو وہ تلاوت فرما رہے تھے۔ ( یعنی قرآن پاک) مجھے سنا دیا۔ وہ بہت عمدہ کلام تھا میںنے دل میں کہا:’’ یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ میں تو ایک دانشمند شاعر ہوں اوراچھا اور بُرا کلام پہچانتا ہوں تو پھر اس شخص کا کلام کیوں نہ سنوں ؟ اگر کلام اچھا ہوگا تو اسے قبول کرلوں گااور اگر بُرا کلام ہوا تو چھوڑ دوں گا۔ ‘‘میں وہیں رُکا رہا۔ حتیٰ کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی اور اپنے گھر کی طرف تشریف لے جانے لگے۔ میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے آواز لگائی:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !آپ کی قوم نے مجھے آپ سے ایسا ایسا ڈرایا۔ انھوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ لیکن اللہ کی توفیق سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا اور مجھے لگا یہ بہت ہی’’ احسن کلام‘‘ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی اور مجھے اسلام کی دعوت دی۔ اللہ کی قسم !اتنا دل نشین کلام تھا کہ سید ھا دل میں اتر گیا اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ ‘‘
حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنے قبیلے میں صاحب ِ حیثیت شخص ہوں۔ میری قوم میری اطاعت کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ میں اپنے قبیلے میں جا کر انشا ء اللہ انھیں اسلام کی دعوت دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ایسی کوئی نشانی عطا فرما دے جو وہاں ( اسلام کی دعوت) دینے میں میری مدد گار ہو۔‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:’’ اے اللہ تعالیٰ ! اس کے لئے کوئی نشانی بنا دے۔‘‘ میری آنکھوں کے درمیان ایک نور روشن ہو گیا۔ میں نے عرض کیا:’’ میری قوم کہیں اسے عیب نہ سمجھیں۔ یہ دوسری جگہ آجائے‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے وہ نور میرے عصا میں منتقل کر دیا۔ میں نے اپنے قبیلے میں جا کر انھیں اسلام کی دعوت دی۔ میرے والد محترم اور میری بیوی نے اسلام قبول کیا اور قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ باقی تمام قبیلے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ میرے قبیلے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اُن کی تباہی کے لئے بد دعا کر دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی:’’ اے اللہ تعالیٰ !قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما۔‘‘ اور پھر مجھ سے کہا:’’ جائو اور صبر و تحمل سے اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیتے رہو۔‘‘ میں واپس آیا اور اسلام کی دعوت دیتا رہا۔ یہاں تک کہ جب مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایاتو اس وقت میرے قبیلے نے بھی اسلام قبول کیا اور میں انھیں دیکر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن کے وصال تک ساتھ میں رہا۔‘‘ ( خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگ یمامہ میں آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے)
رکانہ پہلوان سے کُشتی
قریش کا ایک مشہور پہلوان رکانہ نام کا تھا۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کی گھاٹی میں اس کی ملاقات سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا:’’ اے رکانہ! کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ہواور میری دعوت کو قبول نہیں کرتے ہو؟‘‘رکانہ نے کہا :’’ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت بر حق ہے تو میں ضرور اسلام قبول کر لوں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر میںتجھے پچھاڑ دوں تو کیا تجھے یقین آئے گا کہ میرا پیغام حق ہے؟‘‘ اُس نے کہا:’’ ہاں !( یہ بالکل نا قابل یقین بات لگتی تھی کیونکہ رکانہ انتہائی لمبا چوڑا اور قوی تھااور اس کے مقابلے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی کمزور دکھائی دے رہے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشہ بھی پہلوانی نہیں تھا) جب اُس نے ہاں کہا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تو پھر مقابلے پر آجائو۔‘‘ رکانہ مقابلے پر آیا اور سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پٹخ دینے کے لئے زور آزمائی کرنے لگا۔ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا دائو لگایا جو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پٹخ دیا اور اسے اپنے بدن کا ہوش ہی نہیںرہا۔ اس نے کہا :’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! دوبارہ زور آزمائی کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ زمین پر چت گرا دیا۔ اُس نے کہا:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !اللہ کی قسم !یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے اٹھا کر پٹخ دے رہے ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم اسلام قبول کر و اور اللہ سے ڈرو تو میںتمہیں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز معجزہ دکھا سکتا ہوں۔‘‘ رکانہ نے پوچھا:’’وہ حیرت انگیز واقعہ کیا ہے؟‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ درخت جو تمہیں نظر آرہا ہے۔ میں ابھی اسے تیرے لئے بلا لیتا ہوں۔ وہ فوراً میرے پاس آجائے گا۔ ‘‘رکانہ نے کہا:’’ اسے بلائیں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی۔ وہ درخت زمین پھاڑتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’واپس چلا جا۔ ‘‘تو وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ رکانہ اپنے خاندان والوں کے پاس آیا اور بولا:’’ اے بنو عبد مناف !اپنے اس صاحب کی وجہ سے پوری دنیا پر غالب آجائو ۔ اللہ کی قسم !میں نے اس سے بڑا جادوگر نہیں دیکھا۔ اس حدیث میں رکانہ کا اسلام قبول کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن امام سہیلی اپنی کتاب ’’روض الانف‘‘ میں لکھتے ہیں کہ رکانہ نے اسلام قبول کیا اور شرف ِ صحابیت حاصل کیا۔
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ میں نے تم کو دوبار خواب میں دیکھا۔ ایک مرتبہ مجھے دکھایا گیا کہ تم کو ایک شخص حریر کے کپڑے میںاٹھائے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے :’’ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں۔‘‘ وہ کپڑے کو ہٹا کر تمہارا چہرہ دکھا رہا تھا۔ میں نے اس کی بات سن کر کہا:’’اگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے تو پھر وہ ایسا ہی کرے گا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ لیکن رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔
اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا نام سکران بن عَمرو تھا۔ یہ سہیل بن عمرو کے بھائی تھے۔ دونوں میاں بیوی اسلام قبول کر چکے تھے۔ ایک دن سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اُن کی گردن پر اپنا پیر رکھ دیا۔ یہ خواب انھوں نے اپنے شوہر حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انھوں نے فرمایا:’’ اگر تمہارا خواب سچا ہے تو میرا انتقال ہو جائے گا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تم سے نکاح کریں گے۔ کچھ دنوں بعد حضرت سکران رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور اس کے چند مہینوں بعد اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔
بنو عامر کو اسلام کی دعوت
حج کے لئے بہت سے قبائل کے قافلے آئے ہوئے تھے۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مختلف قبائل کی قیام گاہوں پر جا کر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کا م جاری رکھے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتے تھے اور کبھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہوتے تھے۔ اسی سلسلے میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو عامر بن صعصعہ کی قیام گاہ پر تشریف لائے اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ یہ سن کر اُن میں سے ایک شخص جس کانام بحیرہ بن فراس یا فراس بن عبداللہ تھا۔ اُ س نے کہا:’’ اللہ کی قسم ! اگر میں اس جوان کو قابو میں کر لوں تو اس کے ذریعے میں پورے عرب پر حکومت کر سکتا ہوں۔‘‘ پھر اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:’’ اگر ہم لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اتباع اور مددکریں اور پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اپنے مخالفین پر غلبہ نصیب ہو جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت ہمیں ملے گی ؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جسے چاہے گا حکومت عطا فرمائے گا۔ ‘‘یہ سن کر اس نے کہا:’’ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حفاظت کریں اور پوری عرب قوم کے سامنے کاٹنے کے لئے اپنے گلے پیش کریںاور جب اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو غالب کر دے تو حکومت کسی اور کو ملے۔ ہمیں آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ضرورت نہیں ‘‘
بنو عامر کی بد قسمتی
جب تمام لوگ حج سے فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے اور بنو عامر بھی اپنے قبیلے میں پہنچے تو ایک عمر رسیدہ بزرگ جو سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اُن کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ حج کے دوران کوئی نئی بات ہوئی تھی؟ انھوں نے بتایا کہ’’ قریش کے ایک خاندان بنو ہاشم کا ایک جوان ہمارے پاس آیا۔ اُس کا گمان تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے۔ اس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ ہم اس کی حفاظت کریں۔ اس کے لئے دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں اور اسے اپنے علاقے میں لے آئیں۔ ‘‘یہ سن کر اس بزرگ نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لئے اور کہا:’’ اے بنو عامر! یہ تم بہت بڑا نقصا ن کر کے آئے ہو۔ یہ اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اسے پورا نہیںکیا جاسکتا۔ اللہ کی قسم! حضرت اسماعیل علیہ السلا م کی اولاد میں سے کسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیاہے۔ اُس شخص نے حق فرمایا۔ اُس وقت تمہاری عقل گھاس چرنے کہاں چلی گئی تھی۔‘‘
حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے گیارہویں سال ۱۱ نبوی میں حج کے لئے آنے والے تمام دور دراز کے علاقوں سے آنے والے قبائل کے قافلوں کو دعوتِ اسلام دے رہے تھے اور مدد کی درخواست کر رہے تھے۔ اسی سال حج کے دوران مدینہ منورہ کی چھ6سعید روحوںنے اسلام قبول کیا تھا۔ ( اس کا ذکر آگے انشاء اللہ آئے گا) ان چھ لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے کئی مہینے پہلے مدینہ منورہ سے قبیلہ اوس کا ایک وفد قریش سے اسلئے ملنے آیا تھا کہ وہ قبیلہ خزرج کے مقابلے میں قریش کو اپنا حامی اور حلیف بنا سکے۔ اس وفد میں حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وفد کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’ جس مقصد کے لئے تم لوگ آئے ہو۔ اس سے کہیں بہتر شئے میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ ابو لحیسر ( اس وفد کا سربراہ) نے پوچھا:’’وہ کیا ہے؟ ‘‘سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں اس کے بندوں کو اسلام کی دعوت دوں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب ( قرآن پاک) نازل فرمائی۔ پھر کچھ آیتیں تلاوت فرمائی اور انھیں اسلام کی دعوت دی۔ حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے میرے ساتھیو! اللہ کی قسم !ہم جس کام کے لئے آئے ہیں ۔یہ اس سے کہیں بہتر ہے۔‘‘ وہ اپنے ساتھیوںمیں سب سے کم عمر تھے۔ ابو الحیسر نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر مار دی اور کہا:’’ ہم اس کام کے لئے نہیں آئے ہیں۔ ‘‘حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے آئے۔ یہ لوگ اپنا کام کر کے مدینہ منورہ واپس آگئے۔ کچھ دنوںبعد حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ مرتے وقت اُن کی زبان سے یہ کلمات اد اہو رہے تھے۔’’ لا الہ الا اللہ ، اور اللہ اکبر، اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ‘‘ ، یہ کلمات وہ زور زور سے ادا کر رہتے تھے۔ جسے تمام حاضرین سن رہے تھے۔ کسی کو بھی اس میں شک نہیں تھا کہ وہ مسلمان مرے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں