جمعہ، 14 جولائی، 2023

07 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


07 خلافت ِ راشدہ_ 07 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 7


حضرت خالد بن ولید کی یمامہ روانگی، مسیلمہ کذاب کی تیاری، مسیلمہ کذاب کی خرافات، مجاعہ کی گرفتاری، دونوں لشکر آمنے سامنے، حضرت زید بن خطاب، حضرت ثابت بن قیس بن شماس اور حضرت ابو حذیفہ کی شہادت، حضرت خالد بن ولید کی یلغار، مسیلمہ کذاب کا فرار، مرتدین”محکم الیمامہ میں، مسیلمہ کذاب کا قتل، جنگ یمامہ میں مہاجرین شہداء، جنگ یمامہ میں شہدائے انصار


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یمامہ روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے راضی ہو گئے تو میدان ِجنگ کے حالات پر بات چیت کی اور انہیں اور بھی لشکر دیا اور مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا کیونکہ مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں لگ بھگ چالیس ہزارکا لشکر جمع کرلیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں مہاجرین اور انصار کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی اچھی خاصی تعداد تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب بطاح سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے عرض حال اور معذرت خواہی کے بعد وہ اُن سے راضی ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن کو مسیلمہ کذاب سے مقابلے کے لئے بھیجااور ایک بڑا لشکر انہیں دیا ۔اُن کے ساتھ اِس فوج میں جو انصار تھے ،اُن کے سپہ سالار حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم تھے اور جو مہاجرین تھے اُن کے سپہ سالار حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم تھے۔اِس طرح ہر قبیلے کا الگ الگ سپہ سالار تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح میں اپنے لشکر کے پاس آئے اور پورا لشکر لیکر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔


مسیلمہ کذاب کی تیاری


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی روانگی کی خبر جب مسیلمہ کذاب کو ملی،تو اُس نے بھی اپنی تیاری شروع کردی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور جب مسیلمہ کذاب نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی آمد کے متعلق سنا تو اُس نے یمامہ کی ایک جانب ایک جگہ جسے ”عقربائ“کہا جاتا تھاپڑاو¿ کر لیااور سبزہ زار اُن کے پیچھے تھااور اُس نے یمامہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا اور ایک بہت بڑا لشکر جمع کر لیا۔اُس نے اپنی فوج کے میمنہ اور میسرہ پر حکم بن طفیل کو اور رجال بن عنقوہ کو مقرر کیا۔یہ رجال اُس کا وہ دوست تھا ،جس نے اُس کے لئے یہ گواہی دی تھی کہ اُس نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو(نعوذ باﷲ )یہ فرماتے سنا ہے کہ مسیلمہ بن حبیب کذاب (جھوٹے)کو اُن کے ساتھ حکومت میں شریک کیا گیا ہے۔(رجال کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں)اور یہ ملعون اہل یمامہ کو سب سے بڑا گمراہ کرنے والا تھاحتیٰ کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب کی اتباع کر لی۔اﷲ تعالیٰ کی دونوں پر لعنت ہو۔ یہ رجال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا تھا اور سورہ البقرہ پڑھی تھی اور ارتداد کے زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس بد بخت کو یمامہ کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے لیکن یہ بد بخت یمامہ آکر مسیلمہ کذاب سے مل گیااور اُس کی جھوٹی نبوت کی گواہی دی۔حضرت ابو ہریرہ رضی ا ﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ ایک دن ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے اور ہم میں رجال بن عنقوہ بھی تھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”بے شک تم میں ایک ایسا آدمی ہے جس کی داڑھ اُحد پہاڑ سے بھی بڑی ہے ،اور وہ آگ(جہنم)میں ہو گی۔“پس سب لوگ مر گئے اور میں اور رجال رہ گئے اور میں اِس بات سے خوفزدہ تھا حتیٰ کہ رجال نے مسیلمہ کا ساتھ دیا اور اُس کی نبوت کی گواہی دی اور رجال کا فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا تھا۔


مسیلمہ کذاب کی خرافات


   بد بخت ملعون مسیلمہ کذاب خرافات بکتا تھا ،اوراُ سے الہام بتاتا تھا۔ویسے تو یہ سب بیان کرنے کے لائق نہیں ہے لیکن اُس کی بد بختی اور کم بختی پر ہنسنے کے لئے چند خرافات پیش ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسیلمہ اپنے متبعین کے سامنے اپنے الہامات پڑھتا تھا۔بنو تمیم کے متعلق اُس نے اپنا الہام پڑھا۔بنو تمیم پاک جوان مرد ہیں،ان میں کوئی برائی یا تساہل نہیں ہے۔ہم اپنی زندگی بھر ان کی لغزشوں کا احسان کر کے در گذر کرتے رہیں گے۔ہر شخص کے مقابلے میں اُن کی حفاظت کریں گے اور جب ہم مر جائیں گے تو پھر اُن کا معاملہ اﷲ رحمن سے ہے۔اسی طرح ایک الہام(خرافات) وہ یہ پڑھتا تھا۔قسم ہے بکری کی اور اُس کے رنگوں کی اور سب سے تعجب انگیزاُس کا سیاہ رنگ اور اُس کا دودھ ہے۔سیاہ بکری اور سفید دودھ کس قدر عجیب بات ہے،دودھ میں پانی ملانا حرام کر دیا گیا ہے،پھر تم کو شرم نہیں آتی۔ایک اور الہام(خرافات) یہ ہے۔اے مینڈکی،مینڈک کی بیٹی۔تو کس قدر پاک صاف ہے،تیرا بالائی حصہ پانی میں رہتا ہے،اور زیرین مٹی کیچڑ میں۔تُو نہ پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو مکدر کرتی ہے۔ایک اور الہام(خرافات)یہ ہے۔قسم ہے کھیت میں بیج ڈالنے والوں ،فصل دور کرنے والوں،دانہ نکالنے والوں،پھر چکی میں آٹا پیسنے والوں،روٹی پکانے والوں،اُن کو چورہ کر کے ملیدہ بنانے والوںاور پھر لقمے بنا کر کھانے والوں کی جو چربی اور مکھن سے کھاتے ہیں۔اے ساکنان بادیہ!تم کو فضیلت دی گئی ہے اور شہری تم سے کسی بات میں آگے نہیں ہیں۔اپنے علاقے کی مدا فعت کرو،غریب کو پناہ دو اور بد معاش کو اپنے یہاں سے نکال دو۔(تاریخ طبری)اسی طر ح کی بہت سی خرافات وہ بد بخت بکتا رہتا تھا۔


مجاعہ کی گرفتاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ میں داخل ہونے کے بعد عقرباءسے ایک دن کی مسافت کے فاصلے پر آکر رُک گئے اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی ا ﷲ عنہ بھی اُن سے آ کر مل گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آس پاس چند فوجی دستے گشت کرنے کے لئے بھیجے۔ایسے ہی ایک گشتی دستے نے مجاعہ اور اُس کے(تیس یا ساٹھ) ساتھیوں کو گرفتار کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔یہ بنو حنیفہ کے لوگ تھے اور بنو تمیم سے انتقام لینے کے لئے گئے تھے کہ واپسی میں گرفتار کر لئے گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے مسیلمہ کذاب کو اپنا رسول بتایا۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے قتل کا حکم دے دیا۔انہوں نے قتل ہونا منظور کیالیکن اسلام میں داخل ہونا منظور نہیں کیا۔البتہ انہوں نے کہا کہ مجاعہ کو قتل نہ کرنابلکہ اُسے یرغمال بنا کر رکھنا،ہو سکتا ہے کہ وہ آگے چلکر تمہارے کام آئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مجاعہ کو قتل نہیں کیااور اُسے بیڑیاں پہنا کر اپنے خیمے میں اپنی بیوی کی نگرانی میں رکھا۔


دونوں لشکر آمنے سامنے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد آگے بڑھے اور عقرباءمیں مسیلمہ کذاب کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔مسلمانوں کے لشکر میںحضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت وحشی بن حرب بھی تھے۔حضرت وحشی کو اِس بات کا ہمیشہ افسوس رہا تھا کہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کو انہوں نے اپنی آزادی حاصل کرنے کی مجبوری میں شہید کیا تھااور اسلام قبول کرنے کے بعد ہر جنگ میں اسی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مسلمانوں کا لشکر تیرہ ہزار تھا اور مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ”مقدمة الجیش“پر حضرت خالد مخزومی کو سپہ سالار مقررکیا اور اپنے لشکر کے میمنہ پر حضرت زید رضی اﷲ عنہ کو اور میسرہ پر حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:مہاجرین صحابہ رضی اﷲ عنہم کے سردار اِس جنگ میں حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی ا ﷲعنہ تھے۔ مہاجرین نے کہا کہ ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی جانب سے اپنے لئے اندیشہ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے فرمایا:”اگر میں بزدلی دکھاو¿ں تو میں قرآن کا بُرا حامل بنوں گااور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“انصار کے سردار حضرت قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ تھے اور دوسرے قبائل ِعرب اپنے اپنے سرداروں کے ماتحت تھے۔مجاعہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں اُن کی بیوی سیدہ اُم تمیم کی نگرانی میں بیڑیاں پہنے ہوئے تھا۔جنگ شروع ہوئی ،دونوں لشکر میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،مسیلمہ کذاب کا لشکر مسلمانوں کے لشکر سے تین گُنی زیادہ تھااسی لئے پہلے حملے میں وہ مسلمانوں پر حاوی ہو گئے اور اسلامی لشکر کو دھکیلتے چلے گئے۔اسلامی لشکر سنبھلتے سنبھلتے ہوئے بھی اتنا پیچھے ہو گیا کہ بنو حنیفہ کے بعض لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں گھس آئے اور سیدہ اُم تمیم کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ مجاعہ نے انہیں بچایا اور کہا کہ میں اُن کا ہمسایہ ہوںاور یہ بہت نیک بی بی ہیں۔اس طرح حملہ آوروں کو پلٹا دیا۔


حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید کا لشکر وقتی طور سے پیچھے ہٹا پھر مسلمان سنبھلے اور مقابلے پر جم گئے اور اتنا شدید حملہ کیا کہ یمامہ کے لشکر کے لوگ گھبرا گئے۔ مسلمانوں کے پیر جمانے میں سب سے بڑی کوشش مہاجرین اور انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو پکارا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مسلمانو!مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاو¿اور دشمن کی طرف چلواور آگے بڑھو۔اﷲ کی قسم!میں میں تم سے بات نہیں کروں گایہاں تک کہ اﷲ دشمنوں کو شکست دیدیا میں اﷲ سے جاملوں اور اس سے اپنی دلیل کے ساتھ بات کروں گا۔“اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو لیکرشدید حملہ کیااور مسیلمہ کذاب کے لشکر کے مقدمةالجیش کے سپہ سالار رجال بن عنفوہ ملعون کو قتل کر دیااور اس کے بعد دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے خود بھی شہید ہو گئے۔


حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اسلامی لشکر میں سب سے آگے آگئے اور مرتدوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے واپس اُن کی جگہوں پر لے گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:پھر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی اور حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اپنے مد مقابل کو بری بات کا عادی بنا دیا ہے۔“ انہوں نے ہر طرف سے آواز دی:”اے خالد رضی اﷲ عنہ ! ہمیں منتخب کرو۔“پس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مہاجرین اور انصار کی ایک پارٹی منتخب کی۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا:”اے سورہ البقر ہ والو!آج جادو بے کار ہو گیا ہے۔“ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے زمین میں اپنی نصف پنڈلیوں تک اپنے پاو¿ں کے لئے ریت میں گڑھا کھودا اور وہیں جم کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور دشمنوں سے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کے قلب پر لڑ رہے تھے اور شدید حملے کر کے مسلمانوں کے حوصلے بڑھا رہے تھے۔ادھر میمنہ اور میسرہ میں بھی مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے۔حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ بھی بہادری سے ثابت قدم رہتے ہوئے حملے کر رہے تھے اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مرتدوں کو قتل کرتے ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے فرمایا:”اے اہل قرآن!قرآن پاک کو اپنے افعال کے ساتھ زینت دو۔“اور مرتدوں پر بے تحاشہ ٹوٹ پڑے اور انہیں مسلسل قتل کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ بھی شہید ہو گئے۔


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یلغار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے حتیٰ کہ مسیلمہ کذاب کے لشکر کو کاٹتے اور چیرتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ اتنی اندر تک پہنچ گئے کہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ گئے اور لڑتے ہوئے انتظار کرنے لگے کہ وہ بد بخت آئے تو اُسے قتل کریں۔اسی دوران بہت سے مرتدین کو قتل کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حملہ کیا حتیٰ کہ اُن سے آگے نکل گئے اور مسیلمہ کذاب کے پہاڑوں کے پاس چلے گئے اور انتظار کرنے لگے کہ وہ آئے تو اُسے قتل کریں۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ واپس ہوئے اور دونوں لشکر کی صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر مبارزت طلب کی اور بلند آواز سے فرمایا:”میں ابن الولید العود ہوں،میں عامر اور زید کا بیٹا ہوں“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے نشان امتیاز سے پکارااور اُن کا نشان امتیاز ”یا محمداہ“تھا۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار لہرا کر بلند آواز سے پکارا:”یا محمداہ“۔اور جو کوئی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آرہا تھااُسے آپ رضی اﷲ عنہ قتل کررہے تھے اور جو چیز بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے قریب آتی تھی وہ فنا ہو جاتی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھایالیکن مسیلمہ کذاب کا شیطان اسے بر گشتہ کردیتا تھا۔اور وہ گردن کج کر کے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات کو ٹھکرا دیتا تھا۔


مسیلمہ کذاب کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ جب تک مسیلمہ کذاب ڈٹا رہے گا تب تک جنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس کے بعد مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُسے للکارا۔اُس کے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک شیطان مسیلمہ کذاب کے تابع ہے،جب وہ اُس کے پاس آتا ہے تو اُس کے منہ سے اِس قدر کف جاری ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دونوں جبڑوں میں ناسور ہے اور جو بھلی بات کرنے کا ارادہ مسیلمہ کذاب کرتا ہے تو وہ شیطان اُسے کرنے سے روک دیتا ہے۔لہٰذا تمہیں اگر کبھی اُس کے خلاف موقع مل جائے تو اسے ہر گز ہاتھ سے جانے نہ دینا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے قریب پہنچ کر اُس پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ جما ہوا ہے حالانکہ اب جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری ہو چکا تھا اور وہ مرتدین کو بے دریغ قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اندازاہ لگایا کہ جب تک مسیلمہ کذاب اپنی جگہ سے نہیں ہٹے گا تب تک مرتدین بھی جمے رہیں گے۔انہوں نے موقع کی تلاش میں اُسے آواز دی،اُس نے جواب دیا۔اُس کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کوئی جواب دینا چاہتا تو اپنا منہ شیطان سے مشورہ کرنے کے لئے پھیر لیتا تھا۔اسی لئے اِس گفتگو کے دوران اُس نے جب ایک مرتبہ منہ پھیرا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر ٹوٹ پڑے اور وہ سہم کر بھاگا،اُس کے بھاگتے ہی اُس کے تمام متبعین بھی بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو للکارا کہ خبردار !اب کوئی کوتاہی نہ کرنا،آگے بڑھو اور کسی کو بچ کر جانے نہ دو۔یہ سن کر مسلمان سب کے سب مرتدین پر پل پڑے۔   


مرتدین کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر میں واپس آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کومرتدین کو قتل کرتا دیکھکر مسلمانوں میں اتنا جوش اور جذبہ بھر گیا اور حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ وہ بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے اور مرتدین کو قتل کرنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مسلمانوں کی چکی گھومنے لگی اور اِس میدان کار زار میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے جس استقلال کا مظاہرہ کیا ،اُس کی مثال دیکھی نہیں گئی اور وہ مسلسل اپنے دشمنوں کے سینوں کی طرف پیش قدمی کرتے رہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اُن پر فتح عطا فرمائی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ مسلمانوں نے اُن کو مارتے ہوئے اُن کا پیچھا کیااور اُن کی گردنوں پر جہاں چاہی تلوار ماری حتیٰ کہ مجبور کر کے موت کے باغیچے میں لے گئے۔


مرتدین”محکم الیمامہ میں


   اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور مرتدین فرار ہونے لگے۔مسیلمہ کذاب کے سپہ سالار محکم بن طفیل نے جب مرتدین کا بھاگتے دیکھا تو بلند آواز سے پکارا ۔”محکم الیمامہ“یعنی محکم(میرے)باغیچے میں داخل ہو جاو¿۔وہ مسلسل آواز لگا لگا کر مرتدین کو اپنے باغ میں بلا رہا تھا۔ادھر حضرت عبد الرحمن بن ابی ابکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُس کی تاک میں تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کو نشانہ لیکر ایسا تیر مارا کہ وہ بد بخت وہیں مر گیااور مرتدین نے باغ کا دروازہ بند کر دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور محکم الیمامہ،یعنی محکم بن طفیل نے انہیں باغیچے میں جانے کا مشورہ دیاتھااور اﷲ کا دشمن مسیلمہ کذاب پہلے ہی اس باغ میں چلا گیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے تاک کر اُس وقت تیر مارا جب وہ تقریر کر رہا تھااور اُسے قتل کر دیا۔ بنو حنیفہ نے باغ کا دروازہ بند کردیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔


مسیلمہ کذاب کا قتل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے حکم سے مسلمانوں نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل باغ کے اطراف گھوڑا دوڑا رہے تھے اور حملہ کرنے کے لئے جائزہ لے رہے تھے۔ادھر مسلمان دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور اندر سے مرتدین دروازے کو روکے ہوئے تھے۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اُٹھا کر باغ کے اندر پھینک دو ، دروازہ کھولنے کی ذمہ داری میری ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اے گروہِ مسلمین!مجھے باغ کے اندر پہنچا دو۔“پس انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو لاٹھیوں اور نیزوں پر بلند کر کے باغ کی دیوار کے اوپر پہنچا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ دروازے کے آگے مسلسل مرتدین سے جنگ کرتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھول دیااور مسلمان باغ کے اندر داخل ہو کر مرتدین کو قتل کرنے لگے اور قتل کرتے کرتے مسیلمہ کذاب تک پہنچ گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے۔وہ اُس دیوار پر چڑھنا چاہتا تھااور غصے کی وجہ سے بے عقل ہو چکا تھا۔حضرت وحشی بن حرب نے دور سے ہی اُس کا نشانہ لیکر نیزہ اُس کی طرف پھینکاجو سیدھا اُسے جاکر لگا اور اُس کے پار ہو کر دوسری طرف نکل گیا۔عین اُسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس پہنچے اور اُس کا سر کاٹ کر اُس کے قتل کا اعلان کیا۔(حضرت وحشی فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کی طرف جب میں نیزہ پھینکا تو مجھے یک گونہ اطمینان ہو ا کہ اِس بد بخت کو قتل کر کے میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی کچھ تلافی کر سکوں گالیکن یہ دیکھ کر میں بہت بری طرح گھبرا گیا کہ اسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی اُس بد بخت کے قریب پہنچ گئے۔ابھی نیزہ ہوا میں ہی تھااور میں نے سوچا کہ کہیں پھر مجھ سے ایک اور جلیل القدر صحابی رضی اﷲ عنہ کی شہادت نہ ہو جائے لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ اُن کے پہنچنے سے کچھ لمحہ پہلے نیزہ مسیلمہ کذاب کو جا کرلگا۔)اور ایک عورت نے پکار کر کہا۔ہائے حسینوں کے امیر کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیاہے۔جنگ اور باغ میں قتل ہونے والے مرتدین کی تعدادتقریباًدس ہزار تھی،بعض کا قول ہے کہ اکیس ہزار تھی اور مسلمانوں میں سے چھ سو شہید ہوئے،بعض کا قول ہے کہ پانچ سو شہید ہوئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح حاصل ہونے کے بعد قریب کی ایک وادی ”دبر“میں اپنے لشکر کے ساتھ قیام فرمایا۔


جنگ یمامہ میں مہاجرین شہداء


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں یمامہ میں مسیلمہ کذاب اور اُس کے متبعین سے جو جنگ ہوئی ۔اُس میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی لیکن اِس جنگ میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں مجموعی طور سے ساڑھے چار سوحاملین قرآن اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے تھے۔اِن میں سے چند مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت مالک بن عمرو رضی اﷲ عنہ،بنو غنم کے حلیف بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت یزید بن اقیش بن رباب اسدی رضی اﷲ عنہ ،بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت حکم بن سعید بن عاص بن اُمیہ اُموی رضی اﷲ عنہ ۔(4)حضرت حسن بن مالک بن بحیفہ رضی اﷲ عنہ ،حضرت مالک بن ازدی کے بھائی،بنو مطلب بن عبد مناف کے حلیف۔(5)حضرت عامر بن بکر لیثی رضی اﷲ عنہ ،بنو عدی کے حلیف،بدری صحابی ہیں۔(6)حضر ت مالک بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ،بنو عبد شمس کے حلیف ہیں۔(7)حضرت ابو اُمیہ صفوان بن اُمیہ بن عمرو رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت یزید بن اوس رضی اﷲ عنہ ،بنو عبد الدار کے حلیف۔(9)حضرت حسبی معلی بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ ،طائف کے قبیلہ بنو ثقیف کے ہیں۔(10)حضرت حبیب بن اُسید بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ،طائف کے بنو ثقیف سے ۔(11)حضرت ولید بن عبد شمس مخزومی رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن بجرہ عدوی رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ابو قیس بن حارث بن قیس سہمی رضی اﷲ عنہ ،مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔(14)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن قیس رضی اﷲ عنہ۔(15)حضرت عبد اﷲ بن مخرمہ بن عبد العزیٰ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر عامری رضی اﷲ عنہ ،اولین مہاجرین میں سے ہیں۔بدری صحابی ہیں ،اور بعد کی سب جنگوں میںشریک ہوئے۔(16)حضرت عمرو بن اویس بن سعد بن ابی سرح عامری رضی اﷲ عنہ ۔(17)حضرت سُلیط بن عمرو عامری رضی اﷲ عنہ ۔(18)حضرت ربیعہ بن ابی خرشہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔(19)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن رحضہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔


جنگ یمامہ میں شہدائے انصار


   جنگ یمامہ میں مدینہ منورہ کے انصار بھی اچھی خاصی تعداد میں شہید ہوئے۔اِن میں سے چند نام پیش خدمت ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے انصار میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت عمارہ بن خرم بن زید بن لوذان بخاری رضی اﷲ عنہ ،یہ حضرت عمرو بن خرم رضی ا ﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔فتح کے روز اُن کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عن کے ہاتھ میں تھا۔بدری صحابی ہیں۔(2)حضرت عقبہ بن عامر بن نابی بن زید بن حرام سلمی رضی اﷲ عنہ ،آپ رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ اولیٰ میں شامل تھے۔بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت ثابت بن ہزارل رضی اﷲ عنہ ،بنو سالم بن عوف کے ہیں،بدری صحابی ہیں۔جنگ یمامہ کے دن ایک تیر آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کو لگا ،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے کھنچ کر نکال دیا ۔پھر کمر کس لی،اور جنگ کرنے لگے،یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زخم لگے۔(4)حضرت عبد اﷲ بن عتیک رضی اﷲ عنہ۔(5)حضرت رافع بن سہل رضی اﷲ عنہ۔(6)حضرت حاجب بن یزید اشہلی رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت سہل بن عدی رضی اﷲ عنہ ۔(8)حضرت مالک بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(9)حضرت عمرو بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(10)حضرت طلحہ بن عتبہ رضی اﷲ عنہ۔(11)حارث کے غلام حضرت رباح رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت جزءبن مالک بن عامر رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ورقہ بن ایاس بن عمرو خزرجی رضی اﷲ عنہ،بدری صحابی ہیں۔(14)حضرت مروان بن عباس رضی اﷲ عنہ۔(15) حضرت عامر بن ثابت رضی اﷲ عنہ ۔(16)حضرت بشر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ۔(17)حضرت کلیب بن تمیم رضی اﷲ عنہ۔(18)حضرت عبد اﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ۔(19)حضرت ایاس بن ودیعہ رضی اﷲ عنہ (20)حضرت اُسید بن یربوع رضی اﷲ عنہ۔(21)حضرت سعد بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ۔(22) حضرت سہل بن حمان رضی اﷲ عنہ۔(23)حضرت محاسن بن حمیر رضی اﷲ عنہ (24)حضرت سلمہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ۔اور بعض کا قول ہے کہ یہ بھی شہید ہوئے۔(25)حضرت مسعود بن سنان رضی اﷲ عنہ۔(26)حضرت ضمرہ بن عیاض رضی اﷲ عنہ۔(27)حضرت عبد اﷲ بن اُنیس رضی اﷲ عنہ۔(28)حضرت ابو جتہ بن غزیہ مازنی رضی اﷲ عنہ ۔(29)حضرت خباب بن زید رضی اﷲ عنہ۔(30)حضرت حبیب بن عمرو بن محصن رضی اﷲ عنہ ۔(31)حضرت ثابت بن خالد رضی اﷲ عنہ۔(32)حضرت فروةبن نعمان رضی اﷲ عنہ۔(33)حضرت عائذ بن ماعص رضی اﷲ عنہ۔(34)حضرت یزید بن ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ،حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔جنگ یمامہ میں ایک روایت کے مطابق مہاجرین اور انصار کے شہدا کی تعدا د 85 ہے۔بقیہ ساڑھے چار سو اِن کے علاوہ ہیں۔اور مرتدین چالیس ہزار (40,000) سے زیادہ قتل ہوئے۔اصل تعداد کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں