06 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق
تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 6
بنو تمیم میں ارتداد، سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت، سجاح اور مسیلمہ، سجاح کا فرار، حضرت خالد بن ولید کی بطاح کی طرف روانگی، مالک بن نویرہ کی گرفتاری، غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل، میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا، معذرت قبول کی، حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل کے لشکر
بنو تمیم میں ارتداد
جزیرہ نمائے ملک عرب کے مشرقی حصے میں بنو تمیم کے قبائل آباد تھے۔یہ مدینہ منورہ کے مشرق میں خلیج ِ فارس سے لیکر جزیرہ نمائے ملک عرب کے شمال مشرق میں دریائے عرفات کے دہانے تک آباد تھے۔بنو تمیم بہت بڑا قبیلہ تھا اور اُس کی بہت سی شاخیں تھیں۔جن میں بنو حنظلہ ،بنو دارم، بنو مالک،اور بنو یربوع کافی مشہور قبیلے تھے۔بنو تمیم کے زیادہ تر لوگ نصرانی(عیسائی)اور چاند کی پوجا کرنے والے تھے۔اپنی کثیر تعداد اور بہادری کی وجہ سے یہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے تھے۔لیکن جب تمام ملک عرب کے قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو اِنہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے قبیلوںبنو عوف اوربنو ابناءکی طرف زبرقان بن بدر کو عامل بنا کر بھیجا۔بنو مقاعس کی طرف قیس بن عاصم کو،وکیع بن مالک کو بنو مالک کی طرف،اور مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔(اِن کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے دوسرے قبائل کے عاملین بنا کر بھیجے تھےلیکن ہم ان کا خصوصی طور سے اِس لئے ذکر کر رہے ہیں کہ آگے چلکر ان کا ذکر آئے گا۔)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بنو تمیم بھی ارتداد کا شکار ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ اِن میں آپس میں جنگ شروع ہو گئی ایک گروہ کہتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ذکوٰة بھیجی جائے اور دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں بھیجی جائے۔تیسرا گروہ مرتدین کا تھا۔یہ سب آپس میں لڑ رہے تھے کہ سجاع بن حارث لشکر لیکر پہنچ گئی۔
سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت
ملک عرب میں جیسے جھوٹے نبیوں کی وباءپھوٹ پڑی تھی اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔اِن میں بنو تغلب کی سجاع بنت حارث بھی تھی۔بنو تمیم کی ایک شاخ بنو یربوع کے بہت سے لوگ الجزیرہ میں آباد تھے،اِن میں بنو تغلب بھی تھے۔سجاع بنت حارث عیسائی تھی،بہت ہی حسین اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھی۔یہ بہت ماہر کاہنہ تھی،بنو تغلب اور بنو یربوع اس کی بہت عزت کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سُن کر اس بد بخت نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا۔الجزیرہ میں آباد بنو تغلب اور بنو یربوع نے تو اس کی فوراًاطاعت کرلی۔پھر اس نے بنو نمرد،بنو شیبان اور بنو ربیعہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا،اس طرح ایک بڑا لشکر لیکر بنو تمیم کے دوسرے قبائل کی طرف روانہ ہوئی۔اُس کا ارادہ تھا کہ بنو تمیم کے تمام قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کرے اور مسلمانوں کا خاتمہ کردے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تمام بنو تمیم کے علاقے کا یہی حال تھاکہ ہر ایک کو اپنی پڑی تھی،اور وہ آپس میں دست و گریباں تھے۔اُن میں جو لوگ مسلمان تھے ،اُن کا واسطہ اُن لوگوں سے تھا جو متذبذب تھے۔اسی حالت میں سجاح بنت حارث الجزیرہ سے اُن کے پاس پہنچی ،یہ اور اُس کا خاندان بنو تغلب میں تھا۔ایک طرف تو پہلے سے خود ہی اِن قبائل میں خلفشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف سجاح اور اُس کا کثیر لشکر اُن پر چڑھ آئے۔یہ واقعی بڑی پریشانی کی بات تھی جس میں سب مبتلا ہو گئے۔
سجاح اور مسیلمہ
بنو تمیم کے لوگ پریشانی میں تھے۔مالک بن نویرہ نے سجاح کی اطاعت کرلی،علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب وہ بلاد تمیم سے گزری تو اُس نے اُنہیںاپنے امر کی دعوت دی اور اُن کے عوام نے اُس کی بات کو قبول کر لیا۔ سجاح کے قبول کرنے والوں میں مالک بن نویرہ ،عطارد بن حاجب اور بنو تمیم کے سادات امراءکی ایک جماعت بھی شامل تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔بنو تمیم میں اختلاف تو پہلے ہی سے تھا،سجاح کے خروج سے مخالفت اور زیادہ ہو گئی۔مالک بن نویرہ نے اُس سے مصالحت کرلی اور مدینہ منورہ پر فوج کشی کرنے سے روک کر بطون بنو تمیم پر حملہ کرنے کی تحریک دی۔بنو تمیم اُس کے مقابلے سے بھاگے لیکن وکیع بن مالک اُس سے مل گیا۔رباب و منبہ نے ملکر اُس سے جنگ کی تو سجاح کے لشکر کو شکست ہوئی اُس کے متعدد سپاہی قید کر لئے گئے۔اس کے بعد بحیثیت ِ کُل صلح کر لی گئی اور سجاح اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو کر نباج پہنچی۔وہاں اوس بن خزیمہ نے بنو عمرو کو لیکر اُس پر حملہ کردیا ،فریقین میں سخت جنگ ہوئی ،سجاح کے لشکر میں سے ہذیل و عقبہ گرفتار کر لئے گئے۔پھر فریقین میں اِس شرط پر صلح ہوئی کہ اوس بن خزیمہ قیدیوں کو چھوڑ دے ،اور سجاح اوس کے شہروں میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرے گی۔اس واقعہ کے بعد مالک بن نویرہ اور وکیع بن مالک اُس سے الگ ہو کر اپنی قوم سے جاملے اور سجاح اپنے لشکر کی کمزوری کی وجہ سے انہیں نہیں روک سکی۔اس کے بعد سجاح اپنا لشکر لیکر بنو حنیفہ کی طرف بڑھی ،تو مسیلمہ گھبرا گیا۔(کیونکہ وہ پہلے ہی مسلمانوں سے لڑ رہا تھا)مسیلمہ کذاب نے یہ خیال کر کے کہ اگر وہ سجاح سے جنگ کرے گا تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کو موقع مل جائے گا،اور حضرت شرجیل بن حسنہ اور اسلامی لشکر جو ابھی تک خاموش ہیں ،وہ بھی حملہ کر دیں گے۔اُس نے فوراً سجاح کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیجے اور یہ کہلا بھیجا کہ پہلے ملک عرب کے کُل بلاد میں سے نصف ہمارا تھا اور نصف قریش کا تھالیکن چونکہ قریش نے بد عہدی کی ہے لہٰذا وہ نصف تمہیں دے دیا گیا۔
سجاح کا فرار
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حواب سے روانہ ہو چکے تھے اور یہ سب واقعات اُن کے سفر کے دوران پیش آرہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر سجاح نے اپنی فوجوں کے ساتھ یمامہ کا رُخ کیاتاکہ اُسے مسیلمہ کذاب سے چھین لے اور انہوں نے مسیلمہ سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔جب اُس نے سنا کہ وہ اس طرف آ رہی ہے تو وہ اُس سے اپنے علاقے کے بارے میں خوفزدہ ہو گیاکیونکہ وہ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔(حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ یمامہ کے ایک قبیلے کے سردار تھے،ارتداد کے زمانے میں اسلام پر قائم رہے اور یمامہ کے لوگوں کو سمجھاتے رہے،یمامہ کے تمام مسلمان اُن کے پاس جمع ہوگئے تھے اور وہ سب مسلسل مسیلمہ کذاب سے حالت ِ جنگ میں تھے۔)اور حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ انہیں فوجی امداد دے رہے تھے اور اُسکے علاقے میں پڑاو¿ ڈالے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے جیساکہ آگے بیان ہو گا۔پس اُس نے سجاح کوصلح کا پیغام بھیجا اور کہا کہ اگر تم واپس چلی جاو¿ تو میں قریش کے حصے کی آدھی زمین تمہیں دے دوں گااور اس سلسلے میں تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔مسیلمہ کذاب اُس سے ملنے کو قلعہ سے نکل کر اُس خیمہ میں آیا جو ملاقات کے لئے سجایا گیا تھا۔محافظین خیمے سے نکال دیئے گئے،دونوں میں تھوڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی،جب مسیلمہ نے اپنے گھڑے ہوئے مر صع فقرے پڑھے تو سجاح نے اقرار نبوت کر لیا اور خود کو اُسکی زوجیت میں دے دیا۔تین دن تک اُس کے خیمہ میں مقیم رہی،چوتھے روز لوٹ کر اپنی قوم میں آئی تو اُس کی قوم اُسے بلا ادائے مہر نکاح کرنے پر لعنت ملامت کرنے لگی۔مجبور ہو کر سجاح مسیلمہ کے پاس پھر لوٹ آئی اور اُس سے مہر کا تقاضا کیا۔مسیلمہ کذاب نے کہا ،جا اپنی قوم سے کہہ دے کہ مسیلمہ (نعوذباﷲ) رسول اﷲ نے دو نمازیں یعنی فجر اور عشاءکی معاف کردیں،جن کو محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرض کیا تھا اور تیری قوم کو یمامہ کی نصف پیدا وار بھی دی۔اس کے بعد سجاح لشکر لیکر الجزیرہ واپس جانے لگی اور ہذیل اور عقبہ کو یمامہ کی آئندہ سال کی پیداوار لینے کے لئے چھوڑ گئی۔ راستے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے سامنا ہوا ،جس سے اُس کا لشکر منتشر ہو گیا اور سجاح بھاگ کر الجزیرہ چلی گئی۔
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی بطاح کی طرف روانگی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بد ستور بزاخہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کے انتظار میں تھے۔ادھر سجاح کے الجزیر ہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد بنو تمیم کے سرداران کو بہت پشیمانی ہوئی ۔وکیع اور سماعہ کو احساس ہو کہ انہوں نے بہت ہی غلط حرکت کی ہے اسی لئے انہوں نے اپنے علاقے کے تمام افرادکے ساتھ خلوص سے اسلام قبول کیا اور زکوٰة کی رقم اپنے علاقے سے وصول کر کے اُسے لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ذکوٰة کی رقم پیش کی۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے جاسوس بھیج کر تمام حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تمام بنو تمیم اسلام پر لوٹ آئے ہیں۔البتہ مالک بن نویرہ اور اُس کے ساتھیوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے جب بنو ظفر ،بنو اسد، بنو غطفان،بنو طے ،اور بنو ہوازن کو درست کر چکے توانہوں نے کوچ کا ارادہ کیااور لشکر کو بطاح کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاجو حزن سے ادھر واقع ہے اور جہاں مالک بن نویرہ مقیم تھا۔اُسکی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے معاملے میں سخت متردّد تھا۔(اور فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے یا نہیں)اس موقع پر انصار نے آگے بڑھنے سے انکار کردیااور کہا کہ خلیفہ نے ہدایت کی تھی کہ جب ہم بزاخہ سے فارغ ہو جائیں تو اُن کا دوسرا حکم آنے تک وہیں قیام کریں۔اس لئے ہم آپ رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اُن کا دوسرا حکم آنے تک یہیں رُکیں گے۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کو ایسا حکم دیا گیا ہومگر خلیفہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں۔تمام خبریں مجھے موصول ہوتی رہتی ہیںاور مجھے اس کے خلاف ابھی تک کوئی حکم موصول نہیں ہوا ہے اوراُن کا صاف حکم ملنے تک اگر مجھے دشمن کو زیر کرنے کا کوئی موقع ملے اور میں اُن کے حکم کے انتظار میں رہوں تو اس طرح یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔میں تو ہر گز ایسا نہیں کروں گابلکہ فوراً موقع سے فائدہ اُٹھاو¿ں گااور اسی طر ح ہم اگر کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو کیا ہم خلیفہ کے حکم کا انتظار کریں گے یا اُس مصیبت سے نکلنے کی اپنے طور پر کوئی کوشش کریں گے؟اب مالک بن نویرہ چونکہ ہمارے قریب موجود ہے تو میں اپنے لشکر کو لیکر آگے بڑھتا ہوںاور آپ لوگوں کو اپنے ساتھ آنے پر مجبور نہیں کرتا۔اُن کے جانے کے بعد انصار نے مشورہ کیا کہ اگر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو کامیابی ملی تو ہم ایک بھلائی سے محروم رہ جائیں گے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوئے تو یہ انصار کے لئے رسوائی ہو گی ۔اسی لئے تمام انصار فوراً آپ رضی اﷲ عنہ سے آملے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت خوش ہو کر اُن کا استقبال کیا۔جب مسلمانوں کا لشکر بطاح پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔سجاح کا لشکر اُن کے آنے خبر سُن کر منتشر ہو گیا تھااور وہ خود الجزیرہ بھاگ گئی تھی جبکہ مالک بن نویرہ کا لشکر بھی منتشر ہو گیا تھا۔
مالک بن نویرہ کی گرفتاری
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سفر کے دوران مالک بن نویرہ تردد میں تھا کہ کیا کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس موقع پر مالک بن نویرہ نے اپنے ساتھیوں سے کہااے بنو یربوع!جب ہمارے امراءنے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اُن کی بات نہیں مانی اور دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے سے باز رکھا مگر ہمیں اِس معاملے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،میں نے اِس معاملے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اِس کام کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر مصلحت بینی کے اختیار کیا گیا ہے اور نہ اس کی رہبری کے لئے لوگ ہیں۔ایسی حالت میں تم اِس شورش سے الگ ہو جاو¿ اور اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاو¿ اور جس کا دل چاہے وہ اسلام میں داخل ہو جائے۔مالک بن نویرہ کے اس مشورے کے بعد تمام لو گ اپنے اپنے علاقے میں چلے گئے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح آئے اور وہاں کسی کو موجود نہیں پایا تو انہوں نے باغیوں کی تلاش کے لئے مختلف فوجی دستے اطراف میں روانہ کئے اور حکم دیا کہ جہاں بھی پہنچیں تو اذان دیں،جو اس کا جواب نہیں دے تو اُسے گرفتار کر لیںاور جو مقابلہ کرے تو اُسے قتل کر دیں۔جب تمام فوجی دستے واپس آئے تو اِن میں سے ایک فوجی دستے نے مالک بن نویرہ اور اُس کے چند ساتھیوں کو گرفتار کر کے لیکر آیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔اس فوجی دستے میں اختلاف ہو گیا اور دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ کہتا تھا کہ قیدیوں نے اذان کے جواب میں اذان دی ،اقامت کہی اور نماز پڑھی،اس گروہ میں حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ انہوں نے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سُن کر حکم دیا کہ انہیں قید میں رکھو،ہم انہیں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیں گے،پھر وہ جو چاہیں فیصلہ کریں گے۔
غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل
حضرت خالد بن ولید نے گرفتار شدہ لوگوں کو قید میں رکھنے کا حکم دے دیالیکن اُسی رات قیدیوں کو غلط فہمی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ رات میں بہت شدید سردی پڑی ،یہ دیکھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے خیمے کے اندر سے ہی لشکر کے کسی آدمی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گرم کرو،یعنی گرم کپڑے دو۔اُس نے آواز لگائی کہ قیدیوں کو گرم کرو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس رات اِس قدر شدید سردی پڑی کہ کوئی چیز اُس کی تاب نہیں لاسکتی تھی۔جب سردی اور بڑھنے لگی تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گر م کرو۔اُس نے بلند آواز سے چلا کرکہا کہ او فﺅاسرارکم(اپنے قیدیوں کو گرم کرو)بنو کنانہ کے محاورے میں اِس لفظ کے معنی قتل کرنے کے تھے۔دوسروں کے محاورے میں جب ادفہ کہیںتو قتل کے معنی سمجھے جاتے تھے۔ سپاہیوں نے اِس لفظ کا مفہوم مقامی محاورے کے اعتبار سے یہ سمجھ لیا کہ قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے انہوں نے سب قیدیوں کو قتل کر ڈالا،حضرت ضراربن ازور رضی اﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا۔(ایک اور روایت میں ہے کہ عبد بن ازور اسدی نے قتل کیا)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب شور وغل کی آواز سنائی دی تو وہ خیمے کے باہر آئے مگر تب تک تمام قیدی قتل کئے جاچکے تھے۔یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رنجیدہ ہو گئے اور فرمایا:”اﷲ جس کام کو کرنا چاہتا ہے ،وہ بہر حال ہو کر رہتا ہے۔اس سے پہلے بھی لوگوں کا ان کے بارے میں اختلاف تھا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو گئے۔
میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا
حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر بغیر اجازت لئے لشکر سے الگ ہو گئے،اور مدینہ منورہ آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے ساری بات بیان کی۔ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”آپ رضی اﷲ عنہ اپنے امیر(سپہ سالار) کی اجازت کے بغیر کیوں آئے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سفارش کی مگر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب تک یہ اپنے امیر کے پاس واپس نہیں جائیں گے میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ لشکر میں واپس آگئے اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول سے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے خون کے ذمہ دار ہیںاور اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکے تب بھی اتنا تو ثابت ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو قید کر دیا جائے۔“ امام طبری آگے ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں۔مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس اپنے بھائی کا قصاص لینے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا قصاص ادا کر دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصرار کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا جائے کیونکہ اُن کی تلوار پر ایک بے گناہ مسلمان کا خون لگا ہے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ! یہ نہیں ہو سکتا ،میں اُس تلوار کو جسے اﷲ نے کافروں کے لئے نیام سے برآمد کیا ہے پھرنیام میں واپس نہیں ڈال سکتا۔“
معذرت قبول کی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ لشکر کو اُسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ منورہ آو¿۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیجیئے،اُس کی تلوار میں ظلم پایا جاتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کروں گا ،جس اﷲ نے کافروں پر سونتا ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی فولادی زرہ پہنے ہوئے تھے،جس پر خون کی کثرت کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھااور عمامے میں خون سے لتھڑے ہوئے تیر لگائے ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو وہ خاموشی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور اپنا عذر پیش کر کے معذرت کی۔ خلیفہ اول نے معذرت قبول کی اور در گذر فرمایااور آئندہ احتیاط برتنے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول کے طلب کرنے پر مدینہ منورہ آئے تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کے مقدمہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے قصاص لیںاور معزول کر دیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ ”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کرنا چاہتا جسے اﷲ نے کافروں پر تان رکھا ہو۔اس کے بعد مالک بن نویرہ اور باقی قیدیوں کا خوں بہا بیت المال سے دے دیا اورحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کولشکر کی جانب لوٹا دیا۔(یہاں ایک بات یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے درمیان کوئی رنجش نہیں تھی بلکہ دونوں خالص اﷲ کے لئے کام کرتے تھے اور جو عجیب عجیب روایتیں اِن دونوں مقدس حضرات رضی اﷲ عنہم کے بارے میں پھیلائی گئی ہیںیہ دونوں اِس سے پاک ہیں۔)
حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل رضی ا ﷲ عنہم کے لشکر
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔ابھی تک ہم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے احوال ہی پیش کرسکے ہیں۔اب بقیہ لشکروں کے حالات انشاءاﷲ اس طر ح پیش کریں گے کہ تسلسل بر قرار رہے۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں مصروف تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جنگ میں مصروف تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر مُرتدین ِ عرب کی سرکوبی کے لئے روانہ کئے تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا تھا۔پھر اُن کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے عجلت کر کے حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے ہی جنگ شروع کردی،جس میں انہیں شکست ہوئی ۔اس شکست سے جب حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجا کہ خود تم تو استادی جانتے ہی نہیں ہو اور شاگردوں میں عیب نکالتے ہو۔بغیر شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آئے ہوئے تم نے حملہ کیوں کردیا؟خیر جو کچھ ہوا ،مدینہ منورہ کا رُخ نہ کرنا۔حضرت حذیفہ و حضرت عرفجہ رضی اﷲ عنہم کے پاس جاو¿ اور اُن کی ماتحتی میں مہرہ اور اہل عمان سے لڑو۔جب اُن کی جنگ سے فراغت حاصل ہو تو مع اپنے لشکر کے حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کے پاس یمن اور حضر موت میں چلے جانااور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر کا انتظار کرواور جب وہ آجائیں تو اُن کے ساتھ ملکر جنگ کرو۔پس جب وہاں سے فارغ ہو جانا تو بنو قضاعہ کی طرف چلے جانااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر مرتدین سے لڑنا۔اس کے بعد جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طلبی پر اُن کے پاس حاضر ہوئے ۔خلیفہ اول نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جب اصل واقعات سنے تو اُن سے راضی ہو گئے۔تب انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیااور کافی تعداد میں لشکر بھی دیا۔مہاجرین میں سے حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم اور انصار میں سے حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم بھی ساتھ تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں