پیر، 3 جولائی، 2023

05 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


05 سیرت سید الانبیاء ﷺ

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال تک

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حضرت حمزہ، ابوذرغفاری، عُمر فاروق کا قبول اسلام، دوسری ہجرت حبشہ، ام المومنین سیدہ خدیجہ اور ابو طالب کا انتقال 


ابو طالب کی سرپرستی

   مکہ مکرمہ کے کافر وں نے فیصلہ کیا کہ ابو طالب سے بات کریں کہ یاتو وہ اپنے بھتیجے کو روکیں یا پھر اپنی سرپرستی ہٹا لیں۔ اس کے لئے کافروں کے سردار مل کر ابو طالب کے پاس آئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ابو جہل ( اس کا نام عمر بن ہشام ہے اور کنیت ابو الحکم ہے’’ ابو جہل‘‘ کا لقب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، ابو جہل کے معنی ہے’’ جاہلوں کا باپ‘‘) ابو سفیان بن حرب ( ابو سفیان کا نام صخر بن حرب ہے) ۔ ابو البختری ( اس کا نام عاص بن ہاشم ہے) ۔ عاص بن وائل اور ربیعہ بن عبد شمس کے دو بیٹے عتبہ اور شیبہ۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا:’’ اے ابو طالب !تمہارا بھتیجہ ہمارے بُتوں کی پوجا کرنے سے منع کرتا ہے، ہمارے دین میں عیب نکالتا ہے۔ وہ ہمیں نادان اور کم عقل کہتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے آبائو اجداد کو بُرا بھلا کہتا ہے یا تو اسے منع کریں کہ وہ ایسے کاموں سے رُک جائے یا پھر آپ ہمارے درمیان سے ہٹ جائیں۔ کیوں کہ تمہارا بھی وہی دین ہے جو ہمارا دین ہے۔ ہم اس کے لئے تمہاری طرف سے بھی کافی ہو جائیں گے۔‘‘ ابو طالب نے ان کے ساتھ انتہائی نرمی سے گفتگو کی اور خوب صورت انداز سے ٹال کر انھیں واپس بھیج دیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی جانفشانی سے اسلام کی دعوت دینے میں مصروف رہے۔

اگر یہ چاند اور سورج دے دیں تب بھی اسلام کی دعوت دیتا رہوں گا

   سید الانبیاء ﷺ مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے اور مکہ مکرمہ کے کافروں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کور وکنے کی بھر پور کوشش کی۔ وہ لوگوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتے اور مخالفت پر اکساتے ۔ لیکن ان کی بھر پور کوششوں کے باوجود لوگ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے۔ اسلئے مکہ مکرمہ کے کافردوبارہ ابو طالب کے پاس آئے اور بہت سخت الفاظ کہہ کر واپس چلے گئے۔ ابو طالب نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور کہا:’’ اے میرے پیارے بھتیجے !ابھی ابھی ہماری قوم میرے پاس آئی تھی اور انھوں نے اس طرح تکلیف دہ گفتگو کی ہے۔ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )میرے اوپر رحم کریں اور خود اپنی ذات پر بھی ترس کھائیں اور مجھ پر وہ بوجھ نہ ڈالیں جو میں نہ اٹھا سکوں۔‘‘ اپنے پیارے چچا کی بات سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے میرے محترم چچا ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر رکھ دیںاور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیں اور کہیں کہ میں اسلام کی دعوت چھوڑ دوں تب بھی میں اسلام کی دعوت دیتا رہوں گا۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس دین ( اسلام) کو غالب کر دے گا یا پھر میں اسلام کی دعوت دیتے دیتے شہید کر دیا جائوں گا۔‘‘ اتنا فرماتے فرماتے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز رُندھ گئی اور مقدس آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر جانے لگے۔ دروازے تک پہنچے تو ابو طالب نے پکارا:’’ اے میرے پیارے بھتیجے! میرے پاس آئو۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو ابو طالب نے کہا :’’ٹھیک ہے! تم جس طرح چاہو اپنی دعوتِ اسلام کو جاری رکھو، اللہ کی قسم !میں کبھی بھی تمہیں کسی کے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘

 مکہ مکرمہ کے کافروں کا سید الانبیاء ﷺ کو اذیت دینا

   پھر مکہ مکرمہ کے کافروں کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت شدت اختیار کر گئی۔ انھوں نے اپنے اپنے احمقوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکسایا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اورشاعر، جادوگر، کاہن، مجنوں ہونے کے الزامات لگائے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے اور کافروں کی نا پسند یدگی کے باوجود انھیں بُتوں کی پوجا سے منع فرماتے رہے اور ان کے کفر سے اظہار نفرت کرتے رہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کو نقصان سے بچانے کی فکر میں تھے اور انھیں بار بار سمجھاتے تھے کہ’’ اللہ کی عبادت کرو، ہمیشہ کی جنت کی عیش و آرام کی زندگی پائو گے۔ اِن بتوں کی عبادت مت کرو ،اِن کی عبادت ہمیشہ کی دوزخ کی تکلیف دہ زندگی میں لے جائے گی، اپنے آپ کو اس عظیم نقصان سے بچائو۔ ‘‘لیکن مکہ مکرمہ کے نادان کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھنے کے بجائے دشمنی کرتے رہے اور مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے رہے۔ اس عنوان کے تحت امام سہیلی لکھتے ہیں ۔ محمد بن اسحاق، و اقدی، التیمی اور ابن عقبہ وغیرہ نے اس ضمن میں کئی واقعات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ ان کے الفاظ اور معانی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ان روح فرسا تکالیف میں سے قریش کے بے وقوف سرداروں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گوبر ، لید اور خون پھینکنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنڈیا میں بکری کو اوجھڑی پھینکنا ، امیہ بن خلف کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور پر تھوکنا، عقبہ بن ابی معیط کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک کو روندنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس سجدے کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں تکلیف کی شدت سے باہر آنے لگیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ِ مبارک اور داڑھی مبارک کے بال کھینچنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدزبانی کرنا اور بُرے القاب سے پکارنا۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں لیکن ہم چونکہ مختصراً سیرت کے حالات بیان کر رہے ہیں ۔ اسلئے انھیں مختصراً بیان کر دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ  کا مذاق اڑانے والوں کا انجام

   مکہ مکرمہ کے کافروں میں پانچ سردار ایسے تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے میں اور مذاق اڑانے میں مبالغہ کرتے تھے۔ یہ پانچ سردار ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، حارث بن قیس ، اسود بن عبد یغوث اور اسود بن مطلب تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں تشریف فرما تھے اور یہ پانچوں سردار کچھ دور پر موجود تھے۔ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ ان پانچوں کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کروں۔‘‘ پھر ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ تیر بنانے والے کے پاس سے گزرا تو اس کے کپڑے میں تیر لٹک گیا۔ وہ اپنی انا کی وجہ سے تیر نکالنے نہیں جھکا اور وہ تیر اس کی ایڑی کی رگ میں گھس گیا جس کی وجہ سے وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔ عاص بن وائل کے تلوے کی طرف اشارہ کیا تو اسمیں کانٹا چبھا۔ جس سے پائوں پھول کر چکی کی طرح ہو گیا اور وہ بھی تڑپ تڑپ کر مر ا۔ حارث کی ناک کی طرف اشارہ کیاتو اس سے پیپ بہنے لگی اور وہ اسی تکلیف میں تڑپ تڑپ کر مرا۔ اسود بن یغوث درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے کی طرف اشارہ کیا ۔ اُ س کا چہرہ درخت کے کانٹوں سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی ہوا اور ان زخموں کی وجہ سے انتہائی تکلیف کے عالم میں مرا۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ اندھا ہو گیا اور اسی اندھے پن میں تکلیف اٹھا کر مرا۔ یہ سب ان تکلیفوں میں کافی دنوں تک مبتلا رہے، اُس کے بعد مرے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے دشمنی آخر وقت تک کرتے رہے۔ چونکہ یہ کافی دن زندہ رہے اسلئے آگے بھی ان کا ذکرآئے گا۔ یہاں صرف ان کا انجام بتایا گیا ہے۔

حضرت حمزہ بن عبد المطلب کا قبول اسلام

   حضرت حمزہ بن عبد المطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اورلگ بھگ ہم عمر ہیں۔ ان دونوں نے سیدہ ثوبیہ کا دودھ پیا ہے، اسی لحاظ سے دونوں رضاعی بھائی بھی ہیں۔ حضرت حمزہ بن عبد المطلب قریش کے معزز سردار تھے اور انتہائی بہادر، دلیر اور غصہ والے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ بہت مالدار تھے، نوکر چاکر کاروبار ( تجارت کا ) سنبھالتے تھے اورآپ رضی اللہ عنہ کا زیادہ وقت شکار میں گزرتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تو غیر جانب رہے ۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی اور نہ ہی مخالفت کی۔ لا اُبالی اور اپنے آپ میں مگن رہنے والے تھے اور کوئی سنجیدہ سوچ نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نبوت ( بعثت ) کے چھٹے سال 6 ؁نبوی میں اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کرنے کی وجہ ایک خاص واقعہ بنا۔ اسی واقعے نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ایک سنجیدہ سوچ اور صحیح رُخ بھی مل گیا۔

سید الانبیاء ﷺ سے ابو جہل کی بد تمیزی

   سید الانبیاء ﷺ کوہِ صفا کے دامن میںتشریف فرما تھے۔ ابو جہل وہاں پہنچا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے لگا اور بد زبانی کرنے لگا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہت صبر اور تحمل سے سنتے رہے۔ بد بخت ابو جہل کے منہ میں جو آیا بکتا گیا اور اس بار تو اس نے حد کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ایک روایت میں تو یہ بھی ہے کہ بد بخت ابو جہل نے پتھر پھینک ماراجو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا اور خون بہنے لگا۔ جب ابو جہل نے خون بہتا دیکھا تو بکتا جھکتا ہوا خانہ کعبہ کے پاس چوپال میں جا بیٹھا۔ جہاں دوسرے سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے جانے کے بعد کچھ دیر تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رکے اور پھر اپنے گھر چلے گئے۔ قریب ہی عبداللہ بن جدعان کا گھر تھا اور اس کی لونڈی یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدلہ لیا

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار پر گئے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد آپ رضی اللہ عنہ اپنا شکار اور تیر کمان لئے ہوئے ادھر سے گزرے تو عبداللہ بن جدعان کی لونڈی نے کہا:’’ آج تو بہت برا ہوا۔‘‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:’’ کیا ہوا؟ ‘‘ اُ س نے تمام واقعہ تفصیل سے بیان کر دیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ محبت تھی۔ تمام واقعہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصہ سے بے قابو ہو گئے اور اپنے شکار کو وہیں پھینکا اور سیدھے چوپال میں پہنچے۔ ابو جہل وہاں بیٹھا اپنی بڑائی ہانک رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہنچتے ہی اپنی کمان ابو جہل کے سر پر دے ماری۔ اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جلا ل بھر ی آواز میں کہا:’’ تُو میرے بھتیجے کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہے اور اُ س پر حملہ کرتا ہے، میں کہتا ہوں ۔ میں بھی اُ س کے دین پر ہوں ، اب بول کیا کرے گا؟ لوگ ابو جہل کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو جہل نے کہا:’’رُک جائوغلطی میری ہی تھی، میں نے آج ان کے بھتیجے کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔

اسلام قبول کرتے تو زیادہ خوشی ہوتی

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سمجھ کے مطابق اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ لے لیا اور خوشی خوشی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ بھتیجے ! ابو جہل نے جو غلط حرکت تمہارے ساتھ کی تھی میں نے اس کا بدلہ لے لیا ہے اور اس کا سر پھاڑ دیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ چچا جان ! اگر بدلہ لینے کی بجائے آپ ( رضی اللہ عنہ ) اسلام قبول کرلیتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر خاموشی سے چلے آئے۔ لیکن سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اُن کے روح میں اتر گئے ۔ پوری رات بے چینی سے کروٹ بدلتے گزری ۔ جب کسی طرح اضطراب اور بے چینی دور نہیں ہوئی تو خانہ کعبہ کے پاس پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی:’’ اے اللہ تعالیٰ !حق کے لئے میرا سینہ کھول دے اور اس شک اور تردد کو دور فرما ۔‘‘ اُن کی دعا پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا اور حق آپ رضی اللہ عنہ پر واضح ہو گیا۔ صبح ہوتے ہی سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے تاثرات

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دیکھا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو دل میں اسلام کی حقانیت کا نور بھر گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے تاثرات اس طرح بیان کئے:’’ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں کہ اُس نے دین ِ حنیف اسلام کو قبول کرنے کے لئے میرے دل کو ہدایت دی۔ وہ دین جو رب کریم کی طرف سے آیا ہے۔ وہ رب کریم عزت والا ہے اور اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے اور اُن کے ساتھ لطف و احسان کرنے والا ہے۔ جب اس کے ( اللہ تعالیٰ) کے پیغاموں ( قرآن پاک کی آیات) کی ہم پر تلاوت کی جاتی ہے تو ہر عقل مند اور زیرک انسان کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔ یہ ایسے پیغامات ہیں جو’’ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ ایسی آیات کے ساتھ جن کے حروف روشن ہیں۔’’ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم وہ ہیں جن کی ہم اطاعت کرتے ہیں اور کوئی کمزور بات اور عقل و فہم سے گری ہوئی بات سے وہ پاک ہیں۔ اللہ رب العزت کی قسم ! ہم انھیں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) دشمن کے حوالے ہرگز نہیں کریں گے اور ہم نے ابھی تک ان کے درمیان تلواروں سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم اُن کے مقتولوں کو ہموار زمین پر پھینک دیں گے۔ ان پر ایسے پرندے آئیں گے جو چکر لگانے والے لشکر کی مانند ہوں گے۔ ‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا سبب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ بنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرارہا تھا۔ (اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ سترہ یا اٹھارہ برس تھی) کہ سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہاں سے گذرے مجھ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے لڑکے !کیا تمھارے پاس دودھ ہے؟‘‘میں نے کہا :’’ہاں دودھ ہے لیکن وہ میرے پاس امانت کے طور پر ہے اور میں امانت میں خیانت نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اچھا ایسی کوئی بکری لے آئو جو دودھ نہیں دیتی ہو۔‘‘ میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور سوچنے لگا جو بکری دودھ نہیں دیتی ہو اُس بکری کا یہ کیا کریں گے۔ خیر میں ایسی بکری لے آیا۔ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیراتو یہ دیکھکر میں بہت حیران رہ گیا کہ اسکے تھن میںدودھ اتر آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں اسکا دودھ نکالا۔ خود پیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا۔ پھر سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے تھن پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ’’سکڑ جا ۔‘‘تو وہ سکڑ گیا۔ یہ دیکھکر میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ مجھے بھی یہ کلام سکھادیں۔‘‘سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھکر مسکرائے اور فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ،تُو تو سیکھا سیکھایا ہے۔‘‘ پھر سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے اسلام قبو ل کیا۔‘‘ امام بہقی نے دلائل النبوۃ میں اسی مضمون کی حدیث پیش کی ہے۔ اس میں اتنا ذیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں ایک سال سے کم عمر کا بچہ سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی ٹانگوں کواپنی اپنی ٹانگوں کے درمیان دبایا۔ پھر اسکے تھن پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی اور دودھ نکال کر خود بھی پیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی دیا۔‘‘ اسکے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے با آواز ِ بلند تلاوت کرنے والے صحابی

   یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا مرکز’’ دار ارقم‘‘ تھا اور وہیں ان کا اجتماع ہوتا تھا۔ عمرو سے مروی ہے کہ سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود نے مکہ مکرمہ میں بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت کی ۔ اسکا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن صحابہ کرام ( دار ارقم میں) جمع تھے اور آپس میں مشورہ کررہے تھے کہ ابھی تک مکہ مکرمہ کے کافروں نے اللہ تعالیٰ کے کلام (قرآنِ پاک )کو نہیں سناہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انھیں کون سنائے۔ یہ سن کر نوجوان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا:’’میں سناتا ہوں۔ ‘‘صحابہ کرام نے انھیں دیکھا اور فرمایا:’’ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے کافر تمہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ کیوں کہ مکہ مکرمہ میں تمہارا نہ کوئی خاندا ن ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قبیلہ ہے جو اِن کافروں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ مجھے اس بات کی اجازت دو ۔ میری حفاظت اللہ تعالیٰ کرے گا۔ ‘‘

 کافروں کا تشدد

   دوسرے دن چاشت کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے پاس مقامِ ابراہیم پر آکر کھڑے ہوئے۔ اس وقت مکہ مکرمہ کے کافرچوپال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ الرحمن کی بسمہ اللہ کر کے تلاوت شروع کر دی اور تلاوت کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ کافر سرداروں نے تلاوت سنی تو چونک پڑے اور توجہ سے سننے لگے اور اُن کے دل پر اثر ہونے لگا۔ لیکن بد بخت ابو جہل زور سے بولا:’’ یہ لونڈی کا بچہ کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ تب لوگ چونکے اور ابو جہل بولا :’’ یہ تو وہ چیز پڑھ رہا ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)پر نازل ہوتی ہے‘‘ اور آگے بڑھ کر ایک زور دار طمانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مارا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں خون بھر گیا۔ انھوں نے خون تھوکا اور زور زور سے پھر تلاوت شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر تمام کافر ایک ایک کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو طمانچے مارتے جارہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے جا رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی قرآن پاک کی تلاوت کی جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہی اور جتنی تکلیف برداشت کرنے کی آپ رضی اللہ عنہ میں طاقت تھی۔ اس کے بعد دارِ ارقم واپس آگئے۔

 کافروں سے حقیر کوئی نہیں ہے

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دار ارقم میں واپس آئے تو چہرے پر چوٹوں اور طمانچوں کے نشانات تھے۔ یہ دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ مغموم ہوئے اور فرمایا:’’ ہم کو تمہارے لئے اسی بات کا اندیشہ تھا ۔‘‘ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا:’’ آج سے پہلے میں کسی حد تک کافروں سے ڈرتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے اندر اتنی ہمت پیدا فرمادی ہے کہ آج ان کافروں سے زیادہ حقیر میری نگاہوں میں کوئی نہیں ہے اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آپ لوگ کہیں تو کل پھر میں علی الاعلان قرآن پاک کی تلاوت کروں۔‘‘اُن سے کہا گیا۔نہیں اتنا کافی ہے۔ جتنا تم نے اُن کو سنادیا۔ جب کہ وہ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔

ابو جہل نے کہا ہم کبھی ایمان نہیں لائیں گے

   محمد بن اسحاق امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام اور اخنس بن شریق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت پوری رات سنتے رہتے تھے۔ صبح کے اجالے میں ایک دوسرے کو دیکھا تو ملامت کیا۔ لیکن دوسری رات پھر آئے پھر صبح ملامت کی لیکن تیسری رات پھر آئے اور رات بھر سننے کے بعد صبح کے وقت اخنس بن شریق ایک ڈنڈا لے کر ابو سفیان کے پاس پہنچا اور کہا::’’ مجھے اُس کلام ( قرآن پاک) کے بارے میں رائے دو۔ جو ہم تین راتوں سے محمد سے سن رہے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے کہا:؛’’ اللہ کی قسم ! اس کلام میں سے بہت سی باتوں کو میں نے سمجھ لیا ہے اور بہت سی باتوں کو نہیں سمجھ پایا ہوں۔‘‘ اخنس نے کہا :’’ اللہ کی قسم میری بھی یہی کیفیت ہے۔ ‘‘پھر وہ ابو جہل کے پاس پہنچا اور پوچھا :’’تیری کیا رائے ہے؟‘‘ ابو جہل نے کہا:’’ ہم نے ہر چیز میں بنو عبد مناف سے برابری کی ہے۔ لیکن اُن میں اب ایک’’ نبی‘‘ پیدا ہو گیاہے اور اس معاملے میں وہ ہم سے آگے نکل گئے۔ بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں۔ لیکن ہم اُن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی تلاوت اور کافروں کا سجدہ

   خانہ کعبہ کے قریب مکہ مکرمہ کے کافروں کا بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔ ان میں لگ بھگ تمام سردار تھے۔ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں داخل ہوئے اور سورہ النجم کی با آواز بلند تلاوت شروع کی دی۔ ان کافروں کا قاعدہ یہ تھا کہ قرآن کو مت سنو اور اس میں خلل ڈالو( یعنی شور مچائو) تا کہ تم غالب رہو۔ لیکن جب سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے تلاوت شروع کی تو اُن کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی و دلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔ سب کے سب خاموشی سے تلاوت سنتے رہے اور اللہ کے کلام کی تاثیر اُن پر چھا گئی اور جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کی آخری آیت تلاوت فرمائی جو’’ آیت ِ سجدہ ‘‘ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیااور تمام کافروں نے بھی سجدہ کر دیا۔کسی کو اپنے آپ پر قابو نہیں تھا اور اللہ کے کلام کی تاثیر اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت نے وہ اثر پیدا کیا کہ بے اختیار سب سجدے میں گر گئے۔ بعد میں کافروں کو احساس ہوا کہ انھوں نے وہ حرکت کر دی جس سے لوگوں کو منع کرتے تھے تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ادھر مشرکین کی سجدہ کرنے کی خبر ملک حبشہ میں اس طرح پہنچی کہ تمام مکہ مکرمہ والوںنے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے مسلمان حبشہ سے مکہ مکرمہ واپس آگئے ہیں۔ ایک دن سے کم کا فاصلہ رہ گیا تو انھیں حقیقت معلوم ہوئی۔ کچھ لوگ حبشہ واپس لوٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر کسی کی پناہ لے کرمکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

دوسری ہجرت ِ حبشہ

   مسلمانوں پر کافروں کا ظلم و ستم جاری تھابلکہ اب تو اور بڑھ گیا تھا۔ اسلئے سید الانبیا ء صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ ا ن میں 83مرد اور 17 خواتین تھیں۔جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم تمام 83مرد اور 17خواتین کے نام نہیں دے سکتے ۔اسکے لئے آپ سیرت کی بڑی ضخیم کتابوںکی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ ہاں کچھ خاص نام یہاں پیش کر دیتے ہیں۔حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ اور آپ کی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کا بھائی عبیداللہ بن جحش یہ ملک حبشہ جاکر عیسائی ہوگیا تھا اور وہیں انتقال ہوگیا ۔اسکے ساتھ اسکی زوجہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا تھیں۔ان کا نکاح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے پڑھایاتھا اس نکاح کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ،ان تمام حضرات نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ لیکن اس مرتبہ مکہ مکرمہ کے کافر چوکنا تھے اور ایسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سفر آسان بنادیا اور وہ قریش کے کافروں کی گرفت میں آنے سے پہلے حبشہ پہنچ گئے۔

قریش کے کافروںکے نمائندے حبشہ میں

   مکہ مکرمہ کے قریش کے کافروں نے جب یہ دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ ملک حبشہ میں مطمئن زندگی گذار رہے ہیںتو انھوں نے عمروبن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی (حبشہ کے بادشاہ کا نام اصمحہ تھا اور لقب نجاشی تھا۔ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب ’’نجاشی‘‘ ہوتا تھا۔ جیسے رومیوں کے بادشاہ کا لقب’’ قیصر‘‘ اور فارسیوں کے بادشاہ کا لقب’’ کسریٰ‘‘ اور مصر کے بادشاہ کا لقب’’ فرعون‘‘ ہوتا تھا) اور اسکے درباریوں کے لئے تحائف دیکر بھیجا ۔یہ دونوں بہت سمجھدار تھے انھوںنے نجاشی کے درباریوں کو تحائف دیکر اپنا ہم خیال بنا لیا کہ وہ کوشش کریں کہ نجاشی مسلمانوں سے کوئی بات کئے بغیر ان کے حوالے کردے۔ اسی لئے جب ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں اسے تحفے دئے اور مسلمانوں کو ان کے حوالے کردینے کے لئے کہا تو تمام درباریوں نے ان دونوں کی حمایت کی اور کہا کہ جو لوگ مکہ مکرمہ سے بھاگ کر آئے ہیں ۔وہ باغی ہیں اور انھیں ان دونوں کے حوالے کردیا جائے ۔ان کے اصرار پر نجاشی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا :’’میں ان سے بات کئے بغیر انھیں ان کے حوالے نہیں کردوں گا۔‘‘

حضرت جعفر بن ابو طالب کی تقریر

   نجاشی بادشاہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو دربار میں بلایا۔ اس وقت کسی نے پوچھا :’’بادشاہ کے سامنے کیا کہیں گے کیونکہ وہ عیسائی ہیں اور ہم مسلمان ہیں‘‘ تو آپس میں طئے ہوا کہ ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سکھایا اور بتایا ہے۔ دربار میں پہونچے تو صرف سلام کیا اور بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا۔ (پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھالیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اللہ تعالیٰ نے تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیاہے) درباریوں میں سے کسی نے کہا :’’تم نے ہمارے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟‘‘ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا:’’آپ ہی ہماری طرف سے بات کریں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے اور ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ حکم دیا کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کریں۔‘‘ نجاشی نے پوچھا:’’یہ کون سا دین ہے جو عیسائیت اور بت پرستی کے علاوہ ہے۔‘‘ یہ سن کرحضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’اے بادشاہ ! ہم سب جاہل اور نادان تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے اور مردار کھاتے تھے ،قسم قسم کی بے حیائیوں میں مبتلا تھے۔ رشتہ داری کو توڑتے تھے اور پڑوسیوں کو تکلیف دیتے تھے۔ ہم میں سے جو طاقتور ہوتا تھا وہ کمزور کو دبا تا تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم فرمایا اور ہم پر فضل کیا کہ ہم میں اپنا ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم بھیجا۔ جسکا حسب و نسب اور پاکدامنی اور عفت ہم سب سے بہتر ہے۔ اس نے ہم کو اللہ کی طرف بلایاکہ ہم اسکو ایک مانیں ایک جانیں اور ایک سمجھیں۔ صرف اللہ کی عبادت کریں اور بندگی کریں اور بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ سچ بولنے ، امانت ادا کرنے ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے اچھاسلوک کرنے کا حکم دیا۔ قتل و خون اور حرام کاموں سے بچنے کا حکم دیا۔ تمام بے حیائیوں سے اور غلط بات کہنے سے اور یتیم کا مال کھانے اور کسی معصوم و بے قصور پر تہمت لگانے سے ہم کو منع کیا اور حکم دیا کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور روزہ رکھیں ۔اپنے جان اور مال کو اللہ کے لئے خرچ کردیں ۔‘‘اتنا کہنے کے بعد حضر ت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ہم نے ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے اور جو کچھ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اسکی اتباع اور پیروی کی۔ اسلئے ہماری قوم نے ہم کو ستایا اور ہم کو ہر تکلیف دی تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگیں جب ہم ان کے ظلموں سے تنگ آگئے تو ہم نے اپنا وطن چھوڑ دیا۔ اور آپ پر بھروسہ کرکے آپ کے ملک میں آگئے۔‘‘

تلا وت قران اوربادشاہ نجاشی کے آنسو

   حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے تقریر مکمل کی تو بادشاہ نجاشی نے پوچھا :’’ تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام(قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیکر آئے ہیں۔ اس میں سے تم کو کچھ یاد ہے؟‘‘حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جی ہاں !مجھے یاد ہے۔‘‘ نجاشی نے کہا :’’اس میں سے کچھ سنائو۔‘‘ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی ابتدائی کچھ آیات تلاوت فرمائی۔قرآن پاک کی تلاوت کا یہ اثر ہوا کہ تمام درباری اور بادشاہ نجاشی کے آنسو نکل آئے۔ تمام لوگ رونے لگے۔ نجاشی کا تو یہ حال تھا کہ اسکی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ جعفر بن ابی طالب نے تلاوت مکمل کی تو بادشاہ نجاشی نے کہا:’’یہ کلام اور وہ کلام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لیکر آئے ، دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں اور عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ سے صاف کہہ دیا کہ یہ لوگ میری پناہ میں ہیں اور انھیں میں تمھارے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں

   عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ ناکام دربار سے باہر آئے۔ اگلے روز یہ دونوں پھر نجاشی کے دربار میں پہونچ کر اس سے کہا:’’ اے بادشاہ !جو لوگ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔‘‘ نجاشی نے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو بلوایا۔ تمام لوگ حاضر ہوگئے۔نجاشی نے کہا:’’ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ہم ان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے خاص روح اور اللہ کا خاص کلمہ ہیں۔‘‘ یہ سن کر نجاشی اپنے تخت سے اترا اور ایک تنکا اٹھا کر یہ کہا :’’ اللہ کی قسم !مسلمانوں نے جو کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے ایک تنکے کی مقدار بھی ذیادہ نہیں ہیں‘‘ اور مسلمانوں سے کہا :’’تم یہاں آرام سے رہو اور حکم دیا کہ قریش کے کافروں کے تحفے ان کو واپس کردو۔ مجھے ایسے رشوت والے تحفے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سلطنت بغیر کسی رشوت کے عطا فرمائی ہے اور قریش کے سفیر نامراد حبشہ سے واپس آگئے۔

سیدالانبیاء ﷺ سے مکہ مکرمہ کے کافروں کی گفتگو

   ملک حبشہ میں مسلمان وہاں کے بادشاہ نجاشی کی مہمان نوازی کی وجہ سے امن اور سکون سے رہنے لگے۔ مکہ مکرمہ کے کافروں کے نمائندے مایوس واپس آگئے۔ اس ناکامی کے بعد انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کا ارادہ بنایا۔ اور عتبہ بن ربیعہ ،شیبہ بن بیعہ ،ابوسفیان بن حرب ، نصر بن حارث ، بنو عبدالدار کے چند افراد، ابو البختری بن ہشام ، اسود بن مطلب بن اسد ، زمعہ بن اسود ، ولید بن مغیرہ ، ابو جہل بن ہشام ، عبداللہ بن ابی امیہ ، عاص بن وائل اور امیہ بن خلف اور دوسرے کافر سردار وں نے طئے کیا کہ سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجو اور وہ جب آئیں تو ان سے بات چیت کرو۔انھوں نے پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے معززین جمع ہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔

سیدالانبیاء ﷺ کی تمنا کہ پورے مکہ مکرمہ والے اسلام قبول کرلیں

   جب سیدالانبیاء ﷺ کو ان لوگوں کا پیغام ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی ان کے پاس تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے کہ انھوں نے اسلام کی حقیقت اور کامیابی کا راز پالیا ہے۔ دراصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان (کافروں ) کے ایمان کے بڑے حریص تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے خواہاں تھے اور ان پر کوئی مصیبت پڑنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی کہ پورے مکہ مکرمہ والے اسلام قبول کرلیںاور کوئی بھی دوزخ میں نہ جائے ۔ اس لئے خوشی خوشی مجلس میں آکر تشریف فرما ہوئے۔

قریش (مکہ مکرمہ کے کافروں )کی پیش کش

   جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو انھوں نے کہا:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہم عرب کے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اپنی قوم کو اسطرح مصیبت سے دوچار کیا ہو جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے کیا ہے۔ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے ہمارے آباء و اجداد کو احمق کہا ہے، ہمارے دین کو برا کہا۔ ہمارے بتوں کی پوجا سے منع کیا اور ہماری جمیعت کو توڑا۔ اگر اس کام(اسلام کی دعوت )سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقصد مال و دولت حاصل کرناہے تو ہم آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے اتنا مال جمع کر دیں گے کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) سب سے ذیادہ مال و دولت والے ہوجائیں گے ۔اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سے سرداری کی تمنا کر رہے ہیں تو ہم سب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں ۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) حکومت اور سلطنت چاہتے ہیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بادشاہ بنا لیتے ہیں اور اگرآپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر کسی جنات نے قبضہ کرلیا ہے تو ہم سب مل کر اپنا مال و دولت خرچ کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شفا یاب کرائیں گے۔ ‘‘

مجھے دنیا کی حکومت نہیں تمھاری دوزخ سے آزادی چاہئیے

   سردارانِ قریش کی یہ تکلیف دہ گفتگو سن کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دکھ ہوا اور ’’داعی اعظم‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے ہر گز ایسی کوئی تکلیف نہیں ہے ۔جس کا تم تذکرہ کررہے ہو اور نہ ہی میں تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ ہی دنیا کی حکومت اور بادشاہی چاہتا ہوں۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے مجھ پر کتاب (قرآن پاک) نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ(اسلام قبول کرنے پر )جنت کی بشارت دوں اور( انکار کرنے پر دوزخ کے عذاب سے )ڈرائوں۔اللہ تعالیٰ کے پیغامات تم تک پہونچاؤں اور تمھارے لئے خلوص کا مجسمہ بن جاؤں۔ اگر تم میرے پیغام کو قبول کرو گے تو یہ دنیا اور آخرت میں تمھاری کامیابی ہوگی اور مجھے تمھاری دوزخ سے آزادی چاہئیے۔ اگر تم نے میرا انکار کردیا تو پھر میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمھارے اور میرے درمیان فیصلہ فرمادے۔ ‘‘

پچھلی قوموں کی طرح قر یش کے کافروں کی عجیب فرمائش

   سیدالانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے صاف صاف اللہ کا پیغام سننے کے بعد قریش کے کافروں نے ویسی ہی عجیب عجیب فرمائشیں کیں۔ جیسی عجیب عجیب فرمائشیں پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام سے ان کی قومیں کیا کرتی تھیں۔ قریش کے کافروں نے کہا :’’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہماری طرف سے کسی پیش کش کو قبول نہیں کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جانتے ہیں کہ ہمارا شہر (مکہ مکرمہ) دوسرے شہروں سے تنگ ہے۔ ہمیں سب سے کم پانی ملتا ہے اور ہماری زندگی بہت مشقت والی ہے ۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریںکہ وہ ہم پر سے ان پہاڑوں کو ہٹا دے۔ جنہوں نے ہمارے شہر کو تنگ کردیا ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ ) ہمارے لئے ہمارے شہر کو وسیع کردے ۔ ان میں نہریں رواں فرمادے جیسی ملک عراق اور ملک شام میں رواں دواں ہیں اور ہمارے پچھلے آباء واجداد کو زندہ کردے ۔ خاص طور سے قصی بن کلاب کو ،وہ سچے انسان تھے۔ ہم ان سے آپ کے پیغام کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا یہی سچ ہے یا جھوٹ ہے ؟ اگر انھوں نے کہا سچ ہے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے مطالبات پورے کردیں گے تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مقام ہے اور ہم سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مبعوث فرمایا ہے اور ہم اسلام قبول کرلیں گے۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو عجیب فرمائشیں تم کر رہے ہو ،میں تمھاری طرف یہ سب کرنے کے لئے مبعوث نہیں ہوا ہوں ۔ بلکہ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کا وہی پیغام لے کر آیا ہوں جسکے لئے اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہو نچادیاہے ۔ اگر تم قبول کرو گے تو کامیابی حاصل کرو گے اور اگر قبول کرنے سے انکار کروگے تو میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمادے ۔‘‘ قریش کے کافر اسطرح کے عجیب سوالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہے کہ اللہتعالیٰ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کے لئے آسمان سے فرشتہ اتار دے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دولت مند بنا دے اور آسمان سے کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جس عذاب سے ڈرارہے ہیں ۔ وہ لے آئیں۔ ایسے تمام احمقانہ سوالوں کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی جواب دیتے رہے کہ’’ میرا کام اللہ کا پیغام تم تک پہونچادینا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ تمھیں عذاب کرے یا نہ کرے۔‘‘ اسی طرح نازیبا گفتگو وہ کرتے ہیں رہے تو آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تو بنو مخزوم کا عبداللہ بن ابی امیہ کھڑا ہوا اور بولا:’’ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی قوم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سامنے چند چیزیں رکھیں ۔لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے قبول نہیں کیا۔ پھر انھوں نے چند چیزیں طلب کی ۔ وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نہیں مانی۔ پھر انھوں نے اس عذاب کا مطالبہ کیا ۔ جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ڈراتے ہیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عذاب کے لئے بد دعا نہیں کی۔ اللہ کی قسم !میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ہر گز اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک سیڑھی لگا کر آسمان پر جائیں اور چار فرشتے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نبوت کی گواہی دیں ۔‘‘اسطرح یہ گفتگو ناکام رہی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے۔

بد بخت ابوجہل کی سید الانبیاء ﷺ سے دشمنی

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہو کر قریش کے کافروں کی مجلس سے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ وہ لوگ اسلام قبول کرکے اپنے آپ کو دوزخ گے عذاب سے بچاتے ۔ لیکن ان کی بے رخی دیکھکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی دکھ ہوا۔ سیدالانبیاء کے چلے جانے کے بعد بد بخت ابو جہل نے کہا:’’ اے گروہ قریش :’’ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمارے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیا اور ہم سے دشمنی کی ۔ میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہوں کل میں ان کے لئے ایک بہت بڑا اور بھاری پتھر لیکر بیٹھوں گا اور جب وہ اپنی نماز میں سجدے میں جائیں گے تو میں وہ پتھر ان کے سر پر دے ماروں گا۔ اس وقت چاہے تو مجھے ان کے رشتہ داروں کے سپر د کردینا یا پھر میرا تحفظ کرنا۔ اسکے بعد بنو عبدمناف جو چاہیںکریں۔‘‘ سردارانِ قریش نے کہا :’’اللہ کی قسم ! ہم تجھے کسی کے سپرد نہیں کریںگے جو تو چاہتا ہے وہ کر گذر ۔‘‘ صبح کے وقت بد بخت ابوجہل ایک بھاری پتھر لیکر بیٹھ گیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان نماز ادا فرماتے تھے۔ اسطرح خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں جانب رخ ہوجاتا تھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کھڑے ہوگئے۔ قریش کے کافر سردار اپنی اپنی جگہ بیٹھے انتظار کررہے تھے کہ بد بخت ابو جہل کیا کرتا ہے۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس بد بخت نے پتھر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہونچا۔ لیکن پتھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مارنے کی بجائے وہ پیچھے کی طرف ہٹا۔ 

لوگوں نے دیکھاکہ اسکے چہرے پر بے انتہا خوف تھا۔ وہ واپس بھاگا اور پتھر اسکے ہاتھ سے گِر گیا ۔ یہ منظر دیکھکر قریش کے کافروں نے اس سے پوچھا:’’ اے ابو الحکم ! (ابو جہل کی کنیت ہے) تجھے کیا ہوگیا؟‘‘ اس نے کہا:’’ جب میں پتھر لیکر ان کے قریب پہونچا تو مجھے ایک نر اونٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے اس سے پہلے اتنی جسامت والا اور اتنی موٹی گردن والا اوراتنے موٹے موٹے جبڑوں والا اونٹ نہیں دیکھا تھا۔ وہ مجھے نگل جانا چاہتا تھا۔‘‘ راوی نے آگے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’وہ جبرئیل علیہ السلام تھے اگر ابو جہل اور قریب آتا تو وہ اسے پکڑ لیتے۔‘‘ اسکی شرح سے امام سہیلی روض الانف میں حدیث بیان کرتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو جہل سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس پلٹا تو لوگوں نے پوچھا ۔تمھیں کیا ہوگیا ہے تو اس نے کہا ان کے قریب مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق ہے۔ سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر وہ میرے اور قریب ہوتا تو فرشتے اسکا جوڑ جوڑ الگ کردیتے ۔‘‘

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

 مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کافروں کا ظلم و تشدد جاری تھا۔ ایسے وقت میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھیں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’ میں قبیلہ بنو غفار کا ایک فرد ہوں۔ ہمیں یہ خبر ملی کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص نے’’ اعلان نبوت‘‘ کیا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا:’’ بھائی! آپ جاکر اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے گفتگو کریں اور مجھے بھی اُن کے متعلق آکر بتائیں۔ میرے بڑے بھائی مکہ مکرمہ گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے واپس آئے۔ میں نے تمام حالات پوچھے تو انھوں نے بتایا کہ اللہ کی قسم ! میں نے ایسے آدمی کو دیکھا ، جو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ ‘‘میں نے کہا :’’مجھے آپ کی خبر سے دل کو اطمینان نصیب نہیں ہواہے۔ میں خود جا کر تحقیق کرتا ہوں۔‘‘

 مکہ مکرمہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات

   میں خود اپنا توشہ ( کھانے پینے کا سامان )اور عصا لے کر اپنی سواری پر مکہ مکرمہ کی طرف چل پڑا۔ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو وہاں کسی سے میری جان پہچان نہیں تھی اور کسی سے پوچھنے میں مجھے شرم آتی تھی۔ اس لئے مسجد حرام ( وہ مسجد جو خانہ کعبہ کے اطراف میں ہے) میں پڑا رہتا اور اپنے توشہ میں سے کھاتا اور زمزم پی کر گزاراکرتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ ( یاد رہے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ پندرہ 15یا سولہ16برس تھی) وہ رُک گئے اور مجھ سے فرمایا:’’ ایسا لگتا ہے آپ مسافر ہیں؟‘‘ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انھوںنے فرمایا:’’ میرے گھر چلئے۔‘‘ میں اُن کے ساتھ اُن کے گھر گیا اور رات گزاری لیکن نہ انھوں نے کچھ پوچھا اور نہ میں نے کچھ بتایا۔ جب صبح ہوئی تو میں پھر سے مسجد حرام پہنچ گیا۔ تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی سے دریافت کروں۔

آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے

   لیکن مجھے پورا دن کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ بتاتا۔ میں سارا دن وہیں بیٹھا رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ دوبارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا:’’ کیا آپ کو اپنی منزل مقصود کا ابھی تک پتہ نہیں لگا؟‘‘میں نے کہا:’’ میں جو کچھ آپ کو بتائوں گا آپ اسے راز میں رکھنے کا وعدہ کریں۔ ‘‘انھوں نے فرمایا:’’میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ میں نے کہا :’’ ہمارے قبیلہ بنو غِفار میں یہ خبر پہنچی ہے کہ یہاں کے کسی شخص نے’’ اعلانِ نبوت‘‘ کیا ہے۔ اسلئے میں اُن سے ملاقات کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرا ئے اور فرمایا:’’ اگر یہی بات ہے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ ‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی احتیاطی تدبیر

   حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگے فرمایا:’’میں خود اُن کے پاس جا رہا ہوں، لہٰذا آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ جہا ں میں جائوں وہیں میرے پیچھے پیچھے آپ بھی آئیں اور اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اُس سے خطرہ ہے تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جائوں گاجیسے کہ میں اپنا جوتا درست کر رہا ہوں۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنی احتیاط اس لئے کر رہے تھے کہ اس وقت مکہ مکرمہ کے مشرکین مسلمانوں کو طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں دے رہے تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں کو اپنا ایمان چھپائے رکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ تاکہ وہ تکلیف اور پریشانیوں کا شکار نہ ہوں)اور آپ آگے نکل جائیں ۔‘‘ وہ چل پڑے اور میں بھی اُن کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔یہاں تک کہ وہ ایک مکان میں داخل ہوئے اور ان کے پیچھے میں بھی مکان میں داخل ہو گیا۔

قبول اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین

   جب میں اندر داخل ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے انھیں دیکھا تو مجھے اتنا اچھا محسوس ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا۔ دل کے اندر سے ایک آواز اٹھی یہ ضرور اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں۔ میں نے سلام کیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا اور اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا اور قرآن پاک کی آیات تلاوت فرمائی ۔ وہ سُن کر میرا دل ایمان سے منور ہو گیا اور بے ساختہ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو ذر (رضی اللہ عنہ)! ابھی اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرنا اور اپنے قبیلہ میں واپس لوٹ جائو۔ جب تم ہمارے غلبہ( اسلام کے غالب آجانے) کی خبر سننا تو ہمارے پاس آجانا۔ ‘‘

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا اعلان اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا حکم سر آنکھوں پر ،لیکن مجھے اسلام کی نعمت ملنے کے بعد اتنی خوشی اور اتنا اطمینان نصیب ہوا ہے کہ میں یہ نعمت لوگوںمیں بانٹ کر انھیں بھی خوشی اور اطمینان کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتا ہوں۔ یا رسولللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں اسلام کی نعمت کو ڈنکے کی چوٹ پر ظاہر کروں گا‘‘ اور میں وہاں سے مسجد حرام میں آیا وہاں سردارانِ قریش جمع تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہا:’’ اے قریشیو!میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ وہ لوگ اتنا سننے کے بعد کہنے لگے:’’ اس بے دین کی خبر لو۔‘‘ اور وہ لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارنے لگے۔ یہاں تک کہ مجھے ادھ مرا کر دیا مجھ پر نیم بے ہوشی طاری ہو نے لگی۔ اُسی وقت حضرت عباس بن عبد المطلب ( اُس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور عطریات کے بہت بڑے تاجر تھے) رضی اللہ عنہ وہاں آگئے۔ انھوںنے مجھے دیکھا اور پہچان لیا ۔ انھوں نے فوراً مجھے سرداران قریش سے چھڑا یا اور بولے:’’ تمہاری خرابی ہو! کیا تم قبیلہ غِفار کے فرد کو قتل کر رہے ہو؟ جب کہ تمہاری تجارتی منڈی اور راستے میں قبیلہ بنو غفار پڑتا ہے۔‘‘ یہ سن کر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ اگلی صبح ہوئی تو میں پھر مسجد حرام میں گیا اور پھر سے بلند آواز کلمۂ شہادت پڑھنے لگا۔ ایک مرتبہ پھر لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کر دیا۔ اس مرتبہ پھر حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے مجھے بچایا اور سمجھاتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سمجھایا کہ ابھی یہاں حالات مناسب نہیں ہیں تم ابھی اپنے قبیلے واپس چلے جائو جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو آجانا اور میں اپنے قبیلے میں واپس لوٹ آیا۔( اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ ٔ منورہ میں اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور پھر آخر تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے)حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے :’’ اللہ تعالیٰ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ اُن کی اسلام میں پہلی منزل تھی۔‘‘

بد بخت ابولہب کے بیٹے کی گستاخی اور سزا

   عام مسلمانوں پر تو قریش کے کافر سرداروں کا ظلم و ستم جاری تھا۔ دوسرے سرداران قریش تو ابو طالب کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ تشدد نہیں کر پا رہے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار بد بخت ابولہب ( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا۔ اس کے دو بیٹوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں کا نکاح ہوا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور وہ اپنے والد کے گھر ہی تھیں۔ بد بخت ابولہب نے دونو ں بیٹوں سے کہہ کر طلاق دلوادیا تھا۔ تا کہ اس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت ہو۔ لیکن یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کے لئے بہت بہتر ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اُن بد بختوں سے انھیں بچا لیا۔ بد بخت ابو لہب کے ان ہی دو بیٹوں میں سے ایک بیٹا مُتیبہ( اور ایک روایت میں ہے کہ لہب) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا۔ میں والنجم اذا ھوی اور ثم دنا فتدلّٰی کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ اس کے بعد اُس بد بخت نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوکنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ تھوک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں پڑا اور وہ ہاتھا پائی پر اتر آیا جس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پھٹ گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ !اس پر اپنے کتّوں میں سے کوئی کتّا مسلط کر دے۔‘‘ کچھ دنوں بعد قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ شام گیا۔ مقام ِ زرقا پر پڑائو ڈالا تو ایک شیر کو خیموں کے اطراف گھومتے ہوئے دیکھ کر اس نے قافلے کے قریشیوں سے کہا:’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دعا کی تھی لگتا ہے یہ شیر مجھے مارڈالے گا۔ دیکھومیںملک شام میں ہوں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے مجھے مارڈالے گا۔ تمام قافلے والے اس کے چاروں طرف سوئے اور اسے درمیان میں سلایا۔ شیر سب کو پھلانگتا ہوا آیااور اس کا نرخرہ چبا کر اسے جہنم واصل کر دیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ قبیلہ قریش کے خاندان یا شاخ بنو عدی کے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسب یوں ہے۔ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لویٔ بن فہر بن مالک ۔آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے سب سے طاقتور جوانوں میںسے تھے اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ کے غصہ سے خو ف کھاتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ایک دعا فرمائی تھی۔ اسی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور یہ دعا آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا ذریعہ بنی۔

اے اللہ !دو عُمر میں سے ایک کو اسلام سے سرفراز فرما

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں دو عُمر بہت طاقتور ہیں۔ ایک تو حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرا بدبخت عُمر بن ہشام( ابو جہل ) تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:’’ اے اللہ تعالیٰ عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام میں سے تجھے جو پسند ہو اسے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسلام کو قوت عطا فرما‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا رجحان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا کو پوری کیااور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اپنا فضل کیا۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ حق پسند تھے اور ظلم و نا انصافی کو نا پسند کرتے تھے۔ جبکہ بد بخت ابوجہل حق کو جانتے ہوئے انکار کرتا تھا اور ظلم و نا انصافی اور تشدد اسے پسندتھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ امام ابن عساکر تاریخ دمشق میں فرماتے ہیں کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کے ذریعے منکشف ہوا کہ اابوجہل اسلام قبو ل نہیں کرے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی :’’اے اللہ !عمر بن خطاب سے اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل

   اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول فرمائی اور ان کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش آئے ۔ جس سے اسلام کی حقانیت آپ رضی اللہ عنہ پر واضح ہوگئی اور دل اسلام کی طرف مائل ہوگیا اور آخر کار آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا۔ اس بارے میں خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ایک مرتبہ خانہ کعبہ کے پاس پہونچا تو دیکھا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں ۔ (اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں زور آواز سے تلاوت کرتے تھے، دھیرے پڑھنے کا حکم بعد میں نازل ہوا۔ ) میں نے سوچا کہ دیکھوں تو یہ کیا کہتے ہیں اور میں ان کے قریب خانہ کعبہ کی پردے کی آڑ میں چھپ کر سننے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔ یہ اتنا فصیح و بلیغ کلام تھا کہ میں حیرت زدہ ر ہ گیا ۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم یہ شاعر ہیں ۔ جیسا کہ قریش ان کے بارے میں کہتے ہیں ۔ اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی:(ترجمہ) ’’یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا (قول) ہے ۔یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے اور تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو ۔‘‘(سورہ الحاقہ آیت 41-40) یہ سننے کے بعد میں نے سوچا : شاید یہ کاہن ہیں ۔اتنے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی: (ترجمہ)’’ یہ کسی کاہن کا قول نہیں ہے۔ تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ تو اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔‘‘(سورہ الحاقہ آیت 43-42)اتنا سننا تھا کہ میرے دل میں یہ خیا ل پیدا ہوا کہ اسلام ہی حق ہے اور یہ احساس لگا تار بڑھتا جا رہا تھا۔ میں وہاں سے چلا آیا۔ لیکن دل ودماغ میں وہ دلنشین اور خوبصورت کلام گونج رہا تھا۔

فرشتہ یا جنات کی گواہی

   اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کا بیج پڑ چکا تھا۔ اوراسلام دھیرے دھیرے آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں جڑ پکڑ نے لگا ۔ لیکن چونکہ آپ رضی اللہ عنہ بہت غصہ ور اور گہری طبیعت کے مالک تھے ۔ اس لئے اس احساس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے۔ لیکن لاشعور میں اسلام کی حقانیت کا احساس بیٹھ چکا تھا اور اسی وجہ سے اکثر غور وفکر میں مبتلا رہنے لگے ۔ اسی دوران دوسرا واقعہ پیش آیا ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ ایک دن میں (قربان گاہ کے پاس )اسی غور وفکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ایک بچھڑا لیکر آیا اوراسے ذبح کیا۔ اس بچھڑے نے زور کی چینخ ماری اور اسکے اندر سے آواز آئی :’’اے ذریح !(عرب میں بہادر اور دلیر شخص کو ذریح کہا جاتا ہے۔ ) معاملہ کامیابی کا ہے ۔ایک آدمی صاف صاف زبان سے کہہ رہا ہے’’ لا الہ الااللہ‘‘ میں حیرت سے کھڑا ہوگیااور اس کٹے ہوئے بچھڑے کو دیکھنے لگا اس سے پھر آواز آئی ’’ وہی شخص آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ‘‘یہ کوئی نیک جن یا فرشتہ تھا جو بچھڑے کے اندر سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مخاطب تھا۔

پہلے اپنے گھر کی خبر لو

   اس واقعہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔لیکن چونکہ ضدیطبیعت کے مالک تھے۔ اس لئے اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ رضی اللہ عنہ کی ضد کو توڑ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی بدل گئی۔ ہو ا یوں کہ قریش کے کافر سردار خانہ کعبہ کے صحن میں جمع تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے کہ اُن کا کیا کریں۔ بدبخت ابو جہل نے مجلس میں اعلان کیا کہ جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باللہ) قتل کر ڈالے گا میں اسے سو100اونٹ دوں گا اور اس کی ضمانت لیتا ہوں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجلس میںبیٹھے تھے اور کشمکش کا شکار تھے۔ بد بخت ابو جہل کی بات سن کر آپ رضی اللہ عنہ کی ضدی طبیعت حاوی ہو گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یہ کام میں کروں گا۔ ‘‘یہ سنتے ہی تمام سردارانِ قریش نے کہا:’’ اے عمر بن خطاب !بے شک تم ہی یہ کام کر سکتے ہواور ہم سب تمہاری حفاظت کریں گے‘‘ اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر چل پڑے۔ معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ دارِ ارقم میں جمع ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اُسی طرف جانے لگے۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ ( یہ اسلام قبول کر چکے تھے لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کیا تھا) انھوں نے پوچھا:’’ اے عمر! ( رضی اللہ عنہ) بہت غصہ میں دکھائی دے رہے ہو اور یہ تلوار لے کر کہاں جا رہے ہو؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں اُس شخص (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا رہا ہوں جس نے قریش کے گھر گھر میں جھگڑا لگا دیا ہے اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی طرف بلا رہا ہے۔ آج وہ نہیں یا میں نہیں۔ ‘‘حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اے عمر !تم غلط راستے پر جا رہے ہواور اللہ کی قسم تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو۔ کیا تم بنو عدی ( یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خاندان یا قبیلہ تھا) کو برباد کرنا چاہتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کر و گے تو بنو عبد مناف ( یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یا قبیلہ کا نام ہے) تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے؟ ‘‘یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میرا اندازہ ہے کہ تو بھی صابی( بے دین) ہو گیا ہے۔ ( جو شخص اسلام قبول کرتا تھا تو قریش اسے صابی کہتے تھے) اگر ایسا ہے تو تجھے قتل کر کے اس کی شروعات کر تا ہوں۔ ‘‘حضرت نعیم بن عبداللہ نے جب یہ دیکھا کہ اُن کی جان پر بن آئی ہے تو انھوں نے فرمایا:’’ میں تم سے کہتا ہوں کہ پہلے اپنے گھر والوں کی فکر کرو۔ کیوں کہ کئی لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ‘‘

بہن اور بہنوئی کے گھر

   حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا :’’وہ کو ن کون ہیں؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ تمہارے بہنوئی ، تمہاری بہن اور تمہارا چچا زاد بھائی۔ ‘‘اتنا سننا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے تو انھیں قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی آواز آئی۔ اندر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سورہ طٰہٰ کی آیات دونوں کو پڑھا رہے تھے اوریہ حال ہی میں نازل ہوئی تھیں۔ تلاوت کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کا غصہ اور بڑھ گیا اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے پوچھا گیا:’’ کون ہے؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’ عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ) ۔ ‘‘یہ سن کر حضرت خباب ابن ارت رضی اللہ عنہ فوراً چھپ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اندر داخل ہوتے ہی اپنے بہنوئی پر حملہ کر دیااور مارنے لگے اور فرمانے لگے:’’ تو صابی ہو گیا ہے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت طاقتور تھے۔ بہن نے جب دیکھا کہ اُن کے بھائی اُن کے شوہر کو مارتے ہی جا رہے ہیں تو وہ شوہر کو بچانے کے لئے درمیان میں آگئیں۔ بہن کے درمیان میں آتے ہی ایک ہاتھ بہن کو پڑ گیا اور وہ گر پڑی اس کے منہ سے خون نکلنے لگا۔

بہن کی محبت نے ضد توڑ دی

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہن کے منہ سے خون نکلنے لگا۔ یہ دیکھ کر بہن کو غصہ آگیا۔ وہ بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہن تھیںاور جوش اور غصہ انھیں بھی وراثت میں ملا تھا۔ غصہ کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور زور دار بلند آواز میں کہا:’’ اے اللہ کے دشمن !کیا تو ہمیں اس لئے مار رہا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر تے ہیں؟ تو سُن، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اب تجھے جو کرنا ہے کر لے۔ ہم اسلام نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب بہن کی رُعب دار غصہ بھری آواز سنی تو اس کی طر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ بہن کے منہ سے خون نکل رہا ہے۔ خون دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو جھٹکا لگا اور اس پر بہن کا پر عزم لہجہ اور الفاظ نے اُن کے دل پر اثر کر دیا اور تمام غصہ اور ضد ختم ہوگئی۔ انھیں احساس ہوا کہ اسلام قبو ل کرنے کے بعد اسلام کی حقانیت سے دل اتنا منوّر ہو جاتا ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کر لیتا ہے کہ جو بہن میر ادب کرتی تھی آج مجھے للکار رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور بہن سے فرمایا:’’ اچھا یہ بتائو تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ ‘‘بہن نے کہا :’’میں نہیں بتائوں گی۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میری بہن !تمہارے رویہ اور تمہارے الفاظ سے میرا دل بہت متاثر ہو گیا ہے اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی نعمت ہے جس کے ملنے پر میری پیاری بہن مجھ پر ناراض ہو گئی ہے۔

قرآن کی حقانیت

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات سن کر بہن نے کہا:’’ تم ناپاک ہو، اس لئے اسے چھو نہیں سکتے۔ جائو غسل کر کے آئو اور وضو کرلو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے غسل کیا اور وضو کیا توبہن نے صحیفہ دیا۔ اس میں سورہ طٰہٰ اور دوسری کچھ سورہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسمیں بسم اللہ الرحمن الرحیم دیکھا اور جب پڑھتے ہوئے’’ الرحمن الرحیم‘‘ پر پہنچے تو کانپ اٹھے۔ پھر خود کو سنبھالا اور آگے پڑھنے لگے۔ ( ترجمہ)’’ طٰہٰ ۔ ہم نے یہ قرآن آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اسلئے نہیں اتارا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مشقت میں پڑ جائیں ۔ بلکہ یہ اُس کے لئے نصیحت ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ اِس کا اتارنا اُس کی طرف سے ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیاجو ’’رحمن ‘‘ہے عرش پر قائم ہے۔ جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور نیچے ہر ایک چیز ہے۔ اگر تو اونچی بات کہے تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے بہترین نام اسی کے ہیں۔ ‘‘( سورہ طٰہٰ ، آیت نمبر 1سے نمبر8تک) ان آیات نے آپ رضی اللہ عنہ کے دل پر بہت اثر کیا۔

یہ اﷲ کا کلام ہے

   اتنا پڑھنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن اور بہنوئی کو دیکھتے ہوئے بولے:’’ کیا قریش اس ( کلام) سے بھاگتے ہیں؟ ‘‘کسی نے کوئی جواب نہیں دیا توآپ رضی اللہ عنہ آگے پڑھنے لگے اور جب ان آیات پر پہنچے ( ترجمہ) ’’بے شک میں ہی اللہ ہوںمیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تُومیری عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ یقینا قیامت آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہے۔ پس اس یقین سے تجھے کوئی شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو ۔ پس وہ ہلاک ہو جائے۔‘‘ (سورہ طٰہٰ آیات نمبر14سے 16تک) آپ رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی ان آیات کی تلاوت کی تو بے ساختہ پکار اٹھے :’’یہ اللہ کا کلام ہے اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے ہیں۔ ‘‘

اے عُمر (فاروق) !مبارک ہو

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کو سن کر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ جو چھپے ہوئے تھے وہ باہر نکل آئے اور فرمایا:’’ اے عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ) !تمہیں مبارک ہو اور خوش ہو جائو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ اے اللہ دو عمر میںسے جو تیرے نزدیک بہتر ہو اس کے ذریعے اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تمہارے حق میں قبول کر لی ہے۔ ‘‘

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلو۔‘‘ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ خوشی خوشی انھیں لے کر صفا پہاڑی کے دامن میں ’’دارِ ارقم ‘‘تک پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ موجود تھے۔ اندر سے پوچھا گیا :’’کون ہے؟ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) ہوں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تک حضرت عمر فاروق کے ارادے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے اور بہت بہادر اور دلیر تھے۔ انھوں نے فرمایا۔ اگر عمر بن خطاب کسی غلط ارادے سے آیا ہے تو آج ضرور میرے ہاتھوں اس کا قتل ہوگا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دروازہ کھول دو اگراللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بھلائی چاہی ہے تو یہ اسلام قبول کر لے گا اور اگر اس کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ ہے تو اس کو قتل کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔‘‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دروازہ کھول کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ اسے چھوڑ دواور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی چادر پکڑ کر فرمایا:’’ اے خطاب کے بیٹے! تم باز نہیں آئو گے ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اب بتائو کیا ارادہ لے کر آئے ہو؟‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنی زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا کہ صفا پہاڑی اس نعرے سے گونج اٹھی۔ ( اور قریش کے کافر سردار چونک پڑے) اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ ‘‘

الفاروق کا لقب

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر انھیں گلے سے لگایا اور تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے اُن سے خوش ہو کر معانقہ کیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم زندہ یا مردہ دونوں حالت میں حق پر نہیںہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بیشک ہم حق پر ہیںچاہے وفات پا جائیں یا زندہ رہیں۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !پھر چھپنا کیوں؟ قسم ہے اُ س ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایاہے۔ ہم ضرور کھلے عام نکلیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کھلے عام کریں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دارِ ارقم سے دو صف بنا کر نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری صف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے اور دونوں صفوں کے درمیان سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے۔ اس طرح یہ لوگ خانہ کعبہ کے صحن میں داخل ہوئے۔ جب قریش کے کافروں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو حیرت زدہ ہو گئے اور انھیں بہت صدمہ ہوا ۔ کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ صحن ِ کعبہ میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے۔ اُس دن سے مسلمان کھلے عام نماز ادا کرنے لگے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو’’ الفاروق‘‘ کا لقب دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے سال ۶ ؁ نبوی میں اسلام قبول کیا۔

بنو ہاشم کا بائیکاٹ

   مکہ مکرمہ کے کافروں یعنی مشرکین قریش نے جب دیکھا کہ حبشہ میں مسلمان آرام سے رہ رہے ہیں اور یہاں مکہ مکرمہ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کی وجہ سے مسلمان طاقتور ہو گئے ہیں اور اسلام قبول کرنیوالوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو تمام سردارانِ قریش اور مکہ مکرمہ کے دوسرے کافروں نے یہ اسکیم بنائی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔ ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور سے تباہ وبرباد ہو جائیں۔ اس خوفناک تجویز کے تحت تما م قبائل ِ قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہیں کریں گے تب تک (1) کوئی شخص بنی ہاشم کے خاندان سے نکاح نہیں کرے گا۔ (2) کوئی شخص ان لوگوں کے ساتھ کسی قسم کے سامان کی خریدو فروخت نہ کرے۔ ( 3) کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام کلام اور ملاقات اور بات چیت نہ کرے۔(4) کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔ منصور بن عکرمہ نے اس معاہد ہ کو لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ شل کر دیا۔ تمام سردارانِ قریش نے اس پر دستخط کر کے خانہ کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔

بنو ہاشم اور بنومطلب شعب ابی طالب میں محصور

   قریش نے بنو ہاشم کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور اس کے بدلے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ کی اور کہا:’’ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو ہمارے حوالے کر دو گے تو ہم تمہارا بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔ ‘‘ابو طالب نے تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب ( ہاشم اور مطلب کے والد عبد مناف تھے۔ اور اُن کی اولاد بنو ہاشم اور بنو مطلب کہلائی) کو جمع کیا اور سب کو لے کر شعب ابوطالب( ایک پہاڑ ی کی گھاٹی) میں پناہ گزیں ہو گئے۔ تمام رشتہ دار وںنے ( کافر اور مسلمان سب نے ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو طالب کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ درّہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ صرف بد بخت ابو لہب قریش کے کافروں کے ساتھ رہا۔ شعب ابی طالب میں بنو ہاشم اور بنو مطلب پر بہت کٹھن زمانہ گزرا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ درختوں کی پتیاں کھا کر اور سوکھے چمڑے پانی میں بھگا کر چوس کر گزارہ کرتے رہے۔ اُن کے بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات روتے رہتے تھے۔ او ر سنگ دل کافروں نے شعب ابی طالب کے چاروں طرف پہرہ لگا دیا تھا کہ کہیں سے کوئی کھانا پانی نہ پہنچا دے۔

معاہدہ کو کیڑوں نے کھا لیاصرف اللہ کا نام سلامت رہا

   اس طرح انتہائی تکلیف ،بھوک اور پیاس میں تین سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے چچا ابو طالب سے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ معاہدے کو کیڑوں نے کھا لیا ہے اور صرف اللہ کا نام سلامت ہے۔‘‘ ابو طالب سرداران ِ قریش کو یہ بتانے کے لئے نکلے تو دیکھا کہ قریش کی مجلس جمی ہوئی ہے۔ ابو طالب وہاں خاموشی سے بیٹھ گئے۔ زُہیر جو عبدا لمطلب کے نواسے ہیں انھوں نے کہا:’’ اے لوگو !یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کے بچے بھوک پیاس سے بلبلا رہے ہیں۔ اللہ کی قسم !جب تک اس وحشیانہ معاہدے کو پھاڑ کر پائوں سے روند نہ دیا جائے تب تک میںچین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘ یہ سن کر ابو جہل اچھل کر کھڑا ہوگیا اور بولا:’’ خبردار !ہرگز اس معاہدے کو ہاتھ نہ لگانا۔ ‘‘زمعہ نے ابو جہل کو اتنی زور سے ڈانٹا کہ اس کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی ابو جہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف کہہ دیا :’’ ابو جہل ! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب اس کے پابند ہیں۔ ایسے وقت ابو طالب کھڑے ہوئے اور کہا:’’ اے لوگو! میرے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھالیا ہے اور جہا ں اللہ کا نام لکھا ہوا ہے وہ کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو۔ اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے تو یہ معاہد خود بخود ختم ہو گیا اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔‘‘ یہ سن کر مطعم بن عدی خانہ کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز اتار کر لایا اور سب لوگوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو چھوڑ کر پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ معطم بن عدی نے اس معاہدے کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ پھر قریش کے چند بہادر ( حالانکہ وہ کافر تھے) شعب ابی طالب میں پہنچے اور خاندان بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ایک ایک فرد کو وہاں سے نکال لائے اور اُن کو اُن کے مکانوں میں آباد کیا۔ ۷؁ نبوی یعنی نبوت کے ساتویں سال قریش نے پابندی لگائی تھی اور ۱۰؁ نبوی یعنی نبوت کے دسویں سال معاہدہ منسوخ ہو گیا۔

ابو طالب کا انتقال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد حسب معمول دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اب مشرکین نے حالانکہ بائیکاٹ ختم کر دیا تھا۔ لیکن وہ بھی حسب معمول مسلمانوں پر دبائو ڈالنے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ ابو طالب اسی طرح اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپرست بنے ہوئے تھے۔ لیکن اُن کی عمر اب لگ بھگ ستاسی87سال ہو چکی تھی اور شعب ابی طالب کی تین سال کی بھوک و مشقت نے انتہائی کمزور کر دیا تھا۔ شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند مہینے بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ اُن کے مسلم اور غیر مسلم ہونے کے بارے میں علمائے کرام کی الگ الگ رائے ہے اور یہ ایک الگ بحث ہے اور یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہاں ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ ابو طالب جب تک زندہ رہے تب تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دل و جان سے حمایت اور حفاظت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اُن کی یہی تمنا رہی تھی کہ میرے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دُکھ اور تکلیف نہ پہنچے۔ ابو طالب کے انتقال کا تفصیل سے ذکر لگ بھگ سیرت کی تمام کتابوں میں آیا ہے ۔ ہم چونکہ مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ اسلئے اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

اسلام کی خاتونِ اوّل رضی اﷲ عنہ کا انتقال

   ابو طالب کے انتقال کے چند روز بعد ہی اسلام کی خاتونِ اوّل اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ ٔمحترمہ ہیں۔ نکاح کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک چالیس برس تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس 25برس تھی۔ نکاح کے بعد اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی تمام محبت اور اپنی تمام مال و دولت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور دی اور لگ بھگ پچیس 25 برسوں تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دل و جان سے خدمت کرتی رہیں۔ ہر مشکل مرحلے پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حوصلے بلند کر تی رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں تب تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوش خبری دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے جنت میں’’ موتیوں سے بنا ہوایک محل‘‘ مخصوص کیا ہے۔ جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ ہی کوفت۔‘‘ عبد الملک بن ہشام کہتے ہیں کہ مجھے اُس شخص نے بیان کیا ہے جس پر مجھے اعتما د ہے کہ جبرئیل علیہ السلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہتا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے خدیجہ رضی اللہ عنہا !یہ جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچا رہے ہیں۔ ‘‘سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ سے سلامتی ملتی ہے۔ اس لئے میں جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جبرئیل علیہ السلام پر سلام بھیجتی ہوں۔‘‘ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا میں ہی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی بشارات ہیں۔ لیکن ہم اتنا پیش کر سکتے ہیں۔ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا لگ بھگ پچیس 25برس تک سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلی گئیں۔ انتقال کے وقت اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک پینسٹھ65برس تھی۔ ایک ہی سال میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دو عزیز ہستیوں کا انتقال ہو ا۔ اسی لئے ۱۰؁نبوی کو عام الحُزن یعنی حزن کا سال کہا گیا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں