05 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق
تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 5
چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی، خلیفۂ اوّل کا خط، خلیفۂ اوّل کا وظیفہ، اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا، شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ، دھوکے باز ی اور غداری کی سزا، خلیفہ بننے کے بعد معمولات، مسیلمہ کذاب کی گستاخی، مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ
چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اور طلیحہ کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے اور جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اِن میں بنو عامر،بنو سلیم اور دوسرے چار قبائل تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ اور بنو فزارہ کو بُری طرح شکست دی، تو اِن دونوں قبیلوں اور چھ اور قبیلوں نے خود سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضری دی اور کہنے لگے کہ ہم نے جس دین کو چھوڑا ہے ،اُس میں پھر سے داخل ہوتے ہیں اور ہم ا ﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی جان اور مال کے متعلق اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات کو قبول کیا اور معاف کردیا۔اِن میں سے بہت سے جنگجو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو طے ،بنو غوث اور بنو جدیلہ کے لگ بھگ دوہزار جنگجوحضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کوششوں سے پہلے ہی بغیر جنگ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔اس طرح آپ رضی اﷲ عنہ جو لشکر لیکر مدینہ منورہ سے چلے تھے،اُس میں کئی ہزار جنگجوو¿ں کا اضافہ ہو گیااور لشکر کافی بڑا ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے لگ بھگ ایک مہینہ بزاخہ میں قیام کیا اور آس پاس کے مُرتدین کا چن چن کر قتل کرتے رہے۔یہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اس لئے کیا تاکہ دوسرے مُرتدین پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہو جائے۔
خلیفۂ اوّل کا خط
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد تمام قیدیوں کو مدینہ منورہ خلیفہ اول کی خدمت میں روانہ کیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی روانہ کیا۔ اس میں لکھا کہ” اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ کے مقابلے میں مسلمانوں فتح عطا فرمائی ہے اور بنو عامر اور کئی قبائل نے اسلام سے رو گردانی اور انتظار کے بعد خود حاضر ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔جن قبائل سے میری جنگ ہوئی یا جن قبائل نے بغیر جنگ کے اسلام قبول کر لیا ہے۔اُن سب پر میں نے یہ شرط لازم کر دی ہے کہ وہ اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے ارتداد کے زمانے میں مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے تھے،جب تک انہیں میرے حوالے نہیں کریں گے تب تک میں اُن سے مصالحت نہیں کرو ں گا۔انہوں نے میری شرط مان لی ہے اور ایسے تمام مجرموں کو میرے حوالے کر دیا ہے۔میںنے اُن کو طر ح طرح کے عذاب دے کر قتل کیا ہے تاکہ پھر کوئی شخص مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔البتہ قیدیوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔“حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ”جو کچھ تم نے کیا اور جو کامیابی تم کو حاصل ہوئی ،اﷲ تعالیٰ تم کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے ۔ تم ہر کام میں اﷲ سے ڈرتے رہوکیونکہ اﷲ اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے اور نیکی کرتے رہتے ہیں۔تم اﷲ کے اِس کام میں پوری جد و جہد کرواور تساہلی نہیں کرنااور جس کسی ایسے شخص پر جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہوتمہارا قابو چل جائے تو اُسے بے دریغ قتل کر کے دوسروں کے لئے باعث عبرت بنانااور جس شخص نے اﷲ کی مخالفت کی ہواور تم اسے قتل کردینے میں اسلام کی بھلائی سمجھتے ہو تو بے دریغ قتل کر دینا۔“(تاریخ طبری)
خلیفۂ اوّل کا وظیفہ
حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو جب خلیفہ بنایا گیا تو لو گوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”یا خلفیة اﷲ“کہہ کر پکارا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں،یعنی ”خلیفة الرسول“اور یہی مجھے پسند ہے۔“(مسند احمد،تاریخ الخلفائ)خلیفہ بننے کے دوسرے روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کچھ چادریں لیکر تجارت کی غرض سے بازار جا رہے تھے ،کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مل گئے، اور عرض کیا:آپ رضی اﷲ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”میں اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق کمانے جارہا ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہو گئے ہیںاس لئے یہ کام چھوڑ دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں اور پہنیں گے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”آپ رضی ا ﷲ عنہ واپس چلیئے اور پھر انہیں لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کر کے ، روزآنہ کی خوراک اور موسم سرما اور موسم گرما کا لباس اِن کے لئے (بیت المال) سے مہیا کریںلیکن اِس طرح کہ جب وہ پھٹ جائے تو اُسے واپس لیکر ہی نیا اُس کے عوض میں دیں۔اِن حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کے لئے آدھی بکری کا گوشت ،تن ڈھانکنے کے لائق کپڑا اور پیٹ بھر روٹی مقرر کر دی۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا سالانہ یومیہ وظیفہ سال کا دوہزار درہم مقرر ہوا۔(روزآنہ لگ بھگ ساڑھے پانچ درہم)اس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرے گھر کے لوگ زیادہ ہیں،اتنے وظیفہ میں گزر اوقات نہیں ہو سکتی اور تم نے مجھ پر خلافت کا بوجھ ڈال کر تجارت کرنے سے بھی روک دیا ہے۔لہٰذا اِس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیئے ۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس درخواست پر پانچ سودرہم (روزآنہ لگ بھگ سات درہم)سالانہ کا اضافہ کر دیا گیا۔(طبقات ابن سعد،تاریخ الخلفائ)
اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا
حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے بزاخہ میں مُرتدین کو شکست دی۔اُن میں سے بہت سے لوگ فرار ہو کر حواب میں جا کر جمع ہو گئے۔یہاں پر ایک عورت اُم رمل یا اُم زمل(تاریخ طبری میں اُم رمل ہے،اور تاریخ ابن کثیر میں اُم زمل ہے)سلمیٰ بنت مالک رہتی تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد قبائل بنو غطفان اور بنو سلیم وغیرہ کے بقیہ لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس حواب میں جا کر جمع ہو گئے،اور اُسے اپنا پیشوا بنا لیا ۔یہ سلمیٰ وہی ہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قید ہو کر آئی تھی۔اتفاق سے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ملاقات ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر کے آزاد کرادیا تھا۔اس کے بعد یہ اپنی قوم میں لوٹ آئی تو مُرتد ہو گئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔غرض یہ کہ یہ تمام مفرور لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس جو عزت میں اُن کی ماں کے جیسی تھی جمع ہوگئے،اُس کے پاس اس کی ماں اُم فرقہ کا اونٹ تھا۔جب تمام بھگوڑے اُس کے پاس جمع ہوئے تو اُس نے ان لوگوں کو انکی شکست پر غیرت دلائی اور جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔اس کے بعد اُس نے خود بھی قبیلوں کا دورہ کیا اور قبائل میں گھو م گھوم کر اُن کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اُکسایا۔اس طرح اُس کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا۔اُس نے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے حواب سے بنو ظفر تک کے کئی چکر لگائے اور قبیلہ بنو غطفان،قبیلہ، بنو ہوازن،قبیلہ بنو سلیم ،قبہلہ بنو اسد اور قبیلہ بنو طے کے وہ تمام لوگ جو جنگ سے فرار ہو کر بے یار و مدد گار مصیبت کے دن بسر کر رہے تھے،اُس کے پاس ایک اور کوشش کے لئے جمع ہو گئے۔یہ تمام کاروائی اُس نے حضرت خالد بن ولید کے بزاخہ میں ایک مہینے کے قیام کے دوران مکمل کی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔سلمیٰ بنت مالک اپنی ماں اُم فرقہ کی طرح سیدات العرب میں سے تھی اور کثرت ِاولاد اور قبیلے اور گھرانے کی عزت کی وجہ سے اُس کی ما ںکی مثال بیان کی جاتی تھی۔جب وہ اکٹھے ہو کر اُس کے پاس گئے تو اُس نے انہیں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خلاف جنگ کے لئے اُکسایا۔
شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں قیام پذیر تھے اور آس پاس کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے جاسوس سلمیٰ اور اُس کے لشکر کے بارے میں ایک ایک رپورٹ دے رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اس کی اطلاع ملی،اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مجرموں کی گرفتاری،زکوٰة کی وصولی،دعوت اسلام اور لوگوں کی تسکین میں منہمک تھے۔اس کے بعد اس عورت کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے تب تک اُس کی شان و شوکت اور طاقت بہت بڑھ چکی تھی اور اُس کا مقابلہ آسان نہیں تھا۔دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ،سلمیٰ خود اپنے اونٹ پر سوار میدان جنگ میں موجود تھی جسکی وجہ سے اُس کے سپاہیوں کا حوصلہ بہت بلند تھا اور بہت خوںریز جنگ ہو رہی تھی۔مسلمان بھر پور کوشش کر رہے تھے کہ اُس کے اونٹ تک پہنچ جائیں لیکن اُس کے اونٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہورہا تھا۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ اُس کے گرد کا حفاظتی گھیرا ٹوٹ گیا اور بہت سے مُرتدوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان اُس کے اونٹ تک پہنچ گئے اور اُسے ذبح کر ڈالااور سلمیٰ کا قتل کردیا۔اُسکے قتل ہوتے ہی اُس کے حامیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی اور دشمنوں کو کامل شکست ہو گئی۔اس طر ح شمال مشرقی عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اِس فتح کی خوش خبری مدینہ منورہ بھیجی۔
دھوکے باز ی اور غداری کی سزا
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ اور حواب میں مصروف تھے۔اِسی دوران مدینہ منورہ میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو سُلیم کا ایک شخص فجاہ¿ ایاس بن عبداﷲ بن عبد یالیل آیا اور بولا:”میں مسلمان ہوں اور مُرتدوں سے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔آپ رضی اﷲ عنہ سواری اور اسلحہ سے میری مدد کریںاور فوج دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اسے سواری ،اسلحہ اور فوج دی۔وہ مدینہ منورہ سے نکل کر جون یا جواءکے مقام پر پہنچا اور بنو شرید کے نجبة بن ابی المثنیٰ مُرتد سے مل گیااور یہ دونوں مسلمانوں پر شب خون مارنے لگے۔یہ وہاں سے چلکر مفصلات میں آیااور وہاں ہر آنے جانے مسلمان اور مُرتد سے زبردستی مال وصول کرنے لگا اور جو اُسے مال نہیں دیتا تھا تو وہ چاہے مسلمان ہو یا مُرتد اُسے یہ قتل کر دیتا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اسکی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز کو خط لکھا کہ اﷲ کے دشمن فجاہ نے دھوکہ بازی کی اور جھوٹ بول کر مسلمانوں کا اسلحہ اور سواریاں لیںاور مسلمانوںکو ہی قتل کررہا ہے۔اس کے ساتھ بنوشرید کا نجبة بن ابی المثنیٰ ہے۔تم اپنے ساتھ مسلمانوں کو لیکر جاو¿ اور اس اﷲ کے دشمن کو قتل کردو یا پھر زندہ گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔حضرت طریقہ بن حاجز مسلمانوں کو لیکر اُس کے مقابلے پر گئے ۔دونوں لشکروں میں پہلے تیراندازی کا مقابلہ ہوا،مسلمانوں نے بہت زبردست تیر اندازی کی اور تیروں کی اتنی زبر دست بارش کی کہ پہلے ہی ہلے میں نجبة کو تیر لگا اور وہ ہلاک ہو گیا۔فجاہ نے مسلمانوں کی شجاعت ،سعی اور ثابت قدمی دیکھی تو وہ سہم گیا ۔پھر بھی اُس نے کہا۔اِس کام کے تم مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو کیونکہ مجھے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے امیر مقرر کیا ہے اور تمہیں بھی۔حضرت طریقہ بن حاجز نے فرمایاکہ اگر تو سچا ہے تو ہتھیار رکھ دے اور میرے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل۔اس طر ح حضرت طریقہ بن حاجز اُسے لیکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز سے فرمایا کی اسے البقیع میں لے جاو¿ ،اور آگ میں جلا دو۔حضرت طریقہ اُسے عید گاہ لائے ،آگ جلوائی اور اِس میں اُسے زندہ جلا دیا۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت طریقہ نے اُسے جلایااور تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے جلایااور اﷲ تعالیٰ ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ اور غداری کی سزا دی تاکہ یہ واقعہ بقیہ لوگوں کے لئے عبرت ثابت ہو۔
خلیفہ بننے کے بعد معمولات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے جو معمولات پہلے تھے ،خلیفہ بننے کے بعد بھی وہی معمولات رہے اور خلافت کی بھاری ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریوں کو اُسی طرح نبھایا ،جیسے پہلے نبھاتے تھے۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔بیعت کے بعد بھی چھ مہینے تک حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ وہیں ”مقام سخ“(یہاں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی بیوی رہتی تھی اور یہ مقام مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر ہے)میں مقیم رہے۔صبح کو کبھی کبھی پیدل مدینہ منورہ آتے اور اکثر گھوڑے پر سوار ہو کر آتے تھے۔ جسم پر تہبند اور چادرہوتی تھی،جو گیرو میں رنگی ہوتی تھی۔وہ مدینہ منورہ میں رہتے اور (خلافت کے اُمور نبٹانے کے ساتھ ساتھ)سب نمازیں لوگوں کو پڑھاتے جب (پانچوں وقت کی)نماز پڑھا کر فارغ ہو جاتے تو اپنے گھر والوں کے پاس ”سخ“واپس آجاتے۔ اگر کسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نماز کے وقت نہیں پہنچ پاتے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔جمعہ کے روز دِن نکلنے تک ”سخ“میں ہی رہتے اور اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو مہندی (کے خضاب)میں رنگتے تھے۔اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے ،انہیں چارا دیتے اور اُن کے دودھ دُوہتے تھے۔خلیفہ بننے کے بعد محلے (یا قبیلے)کی ایک لڑکی نے کہا کہ اب ہمارے گھر کی اُونٹنیاںنہیں دوہی جائیں گی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ سُنا تو مسکراتے ہوئے فرمایا:”کیوں نہیں!میں تمہارے لئے ضرور دُوہوں گااور مجھے اُمید ہے کہ جس چیز کو(خلافت کو) میںنے اختیار کیا ہے ،وہ مجھے اِس عادت سے نہیں روکے گی جس پر میں تھا۔“اکثر وہ اپنے محلے یا قبیلے کی لڑکیوں سے فرماتے کہ اے لڑکی !تُو کیا چاہتی ہے کہ میں تیرے دودھ میں پھین اُٹھا دوں یا اُسے بغیر پھین کے رہنے دوں۔جو وہ کہتی تھی آپ رضی اﷲ عنہ ویسا ہی کر دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ چھ مہینے تک”سخ“میں رہے،اس کے بعد مدینہ منورہ میں آکر مقیم ہو گئے۔
مسیلمہ کذاب کی گستاخی
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔اسود عنسی کے قتل کی خبر خود آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دی تھی لیکن مسیلمہ کذاب بدستور اپنی طاقت بڑھاتا رہا۔اسی دوران آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور اس کے بعد طلیحہ ،سلمیٰ اورسجاح نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔طلیحہ اور سلمیٰ کا انجام تو اوپر ذکر ہو چکا ہے اور سجاح کا ذکر ہم آگے کریں گے لیکن اُس سے پہلے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بتا دیں ،تا کہ تسلسل قائم رہے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد ۹ ھجری میں حاضر ہوا ۔اِس وفد میں مشہور چالاک ،فتنہ باز مُسیلمہ کِذّاب(جھوٹا )بھی تھا۔وفد کے تمام ارکان آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے لیکن وہ بد بخت کذاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیں آیااور اونٹوں کے پاس ہی بیٹھا رہا۔آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے۔ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ اگر آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم ) مجھ کو اپنی خلافت عطا فرمائیںاور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کریں تو میں بیعت کرنے کو تیار ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اُس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر تُو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گااور اﷲ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے،اُتنا ہی ملے گا اور غالباًتُو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھااور یہ ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ تیری بات کا جواب دیں گے۔اتنا فرما کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔(فتح الباری،المواہب الدنیا)
دو کذابوں(جھوٹوں) کے بارے میں خواب
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس جھوٹے بد بخت کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا:” رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھلایا گیا تھا؟“اُنہوں نے فرمایا:”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن لا کر رکھے گئے جس سے میں گھبرا گیا۔خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ اِن پر پھونک مارو،میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اُڑ گئے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کذاب(جھوٹے )ظاہر ہوں گے۔“حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں:”اِن دو کذابوں میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا کذاب اسود عنسی ہوا۔اسود عنسی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی قتل ہوا(آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کی خبر دے دی تھی،لیکن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے چند دنوں بعد یمن سے قاصد نے آکر اُس کے قتل کی خبر دی اورقتل کی وہی تاریخ بتائی،جس تاریخ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کا اعلان فرمایا تھا۔)اوربد بخت مسیلمہ کذاب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔(فتح الباری ،المواہب الدنیا)
مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ سے جب بنو حنیفہ کا وفد یمامہ واپس گیا تو بد بخت مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔امام عبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں۔یہاں سے واپس جانے کے بعد (یمامہ میں ) مسیلمہ نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ کو (نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے(سیرت النبی)اس کے بعد بد بخت مسیلمہ کذاب نے ۰۱ ھجری کے آخری مہینے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔مسیلمہ(نعوذباﷲ )اﷲ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف! پس میں تمہارے کام (نبوت) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔والسلام۔اُس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خط لکھوا کر بھیجا۔”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب (جھوٹے) کی طرف! سلام ہو اُس پر جو ہدایت (اسلام) کی اتباع کرے،بے شک زمین اﷲ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما تا ہے اور اچھا انجام اﷲ سے ڈرنے والوں کا ہے۔“یہ واقعہ ”حجة الوداع“سے واپسی کے بعد کا ہے۔(تاریخ ابن اثیر)علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رجال بن عنقوہ(اِس کا نام نہار تھا،اوریہ بنو حنیفہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا)نے مسیلمہ کذاب کی نبوت کی شہادت دی اور یمامہ کے لوگوں سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے(نعوذ باﷲ )مسیلمہ کو حکومت میں شریک کر لیا ہے۔رجال کے اِس کہنے کا اثر لوگوں پر زیادہ اس لئے ہوا کہ وہ ہجرت کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا تھااور مدینہ منورہ میں رہ کر قرآن پاک اور دین کی باتیں سیکھی تھیں۔جب مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسے اہل یمامہ کی تعلیم اور مسیلمہ کذاب کو سمجھانے کے لئے بھیجالیکن اِس بد بخت نے یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب کے دین کو اختیار کر لیا اور اُس کی اذان دینے لگااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب کی رسالت کا اقرار کر لیا۔مسیلمہ کذاب بہت سے فقرہ بنا بنا کر لوگوں کو سناتا اور کہتا تھاکہ یہ (نعوذ باﷲ)قرآن ہے اور چند خلاف عادات ِ انسانی باتیں لوگوں کو دکھلا کر اس کو معجزہ بتلاتا تھا۔(تاریخ ابن خلدون)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں