جمعہ، 14 جولائی، 2023

04 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


04 خلافت ِ راشدہ_ خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 4


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی، حضرت علی کی گزارش مان لی، گیارہ لشکروں کی روانگی، سپہ سالاروں کے نام خط، طلیحہ کا لشکر جمع کرنا، حضرت عدی بن حاتم کی کامیابی، قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی، بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی، طلیحہ اسدی کا دعویٰ ، طلیحہ کی شکست


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی


   حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر بیس دن کا سفر طے کرنے کے بعد حدودِ شام میں مقام بلقاءپہنچے۔بلقاءکے قریب ہی جنگ موتہ ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو وہیں پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور بنو آبل اور بنو قضاعہ کی طرف صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دستے بھیجے ،اِس میں اُنہیں بہت زبردست کامیابی ملی۔بہت سے رومی قتل ہوئے اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تمام ہدایتوں پر عمل کیا۔انہوں نے اپنے حملے رومی سرحدوں تک ہی محدود رکھے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ فتح حاصل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو فوراًواپس کوچ کرنے کا حکم دیا۔اس فتح نے اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کیا۔جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ فاتح لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مہاجرین و انصار صحابہ رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر آ کرپُر جوش استقبال کیا اور مدینہ منورہ میں ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لشکر اُسامہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ستر (۰۷) دنوں بعد واپس آیا۔


حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی گزارش مان لی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اس فتح سے دوسرے قبائل پر بھی اثر پڑا ،اور وہ لوگ اپنی اپنی زکوٰة لے کر مدینہ منورہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔یہ جنگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے ساٹھ دن بعد ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد لشکر اُسامہ بھی واپس آگیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کو آرام کرنے کا مشورہ دیااور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام بنا کر لشکر لیکر ذی القصہ آئے ۔وہاں مقرن کے تینوں بیٹے حضرت نعمان،حضرت عبداﷲ اور حضرت سوید رضی اﷲ عنہم اپنی پہلی پوزیشنوں پر موجود تھے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا ارادہ باغیوں کی سرکوبی کا تھا،جب آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ سوار ہوئے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس کی مہار پکڑے چل رہے تھے۔انہوں نے عرض کیا:”اے خلیفة الرسول!کہاں جانے کا ارادہ ہے؟میں آپ رضی اﷲ عنہ سے وہی بات کہتا ہوں جو (آپ نے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمائی تھی۔ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیئے اور مدینہ منورہ واپس چلے جایئے۔اﷲ کی قسم!اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے اسلام کا نظام قائم نہیں ہو سکے گا۔“ایک اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ کسی اور بہادر کو بھیج دیں ۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی اور ذی القصہ سے گیارہ لشکروں کو روانہ کیااور مدینہ منورہ واپس آ گئے۔(تاریخ ابن کثیر)


گیارہ لشکروں کی روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ گیارہ لشکروں کو ہر طرف روانہ کیا۔ جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر نے آرام کرلیااور اُن کی سواریاں بھی تازہ دم ہو گئیں۔اُسی زمانے میں اتنے زیادہ صدقات و زکوٰةمدینہ منورہ میں وصول ہو کر آئے کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو کر بچ گئے۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر تیار کئے اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر کے گیارہ مقامات کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔(۱)اُمراءاور بہادر سرداروں کے سرخیل حضرت ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے۔امام احمد بن حنبل نے حضرت وحشی بن حرب کی روایت پیش کی کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مُرتدین سے جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جھنڈا باندھا تو فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کا کیا ہی اچھا بندہ ہے اور ہمارا بھائی ہے جو اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔جسے اﷲ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف سونتا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ذوالقصہ سے چلتے وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب اپنے ساتھی سپہ سالا روں سے خیبر کی جانب ملیں گے اور اعرابیوں کو ڈرانے والا مظاہرہ کریں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ سب سے پہلے طلیحہ اسدی کی طرف جائیں،پھر اس کے بعد بنو تمیم کی طرف جائیں۔(تاریخ ابن کثیر)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے مقابلے پر جائیں اور اُس سے فارغ ہو کربطاح میں مالک بن نویرہ سے لڑیں۔(۲)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو بنایااور جھنڈادیکر انہیں حکم دیا کہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر جائیں۔(۳)حضرت مہاجر بن ابی اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنایا اور جھنڈا دیکر آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ وہ اسود عنسی کی بچی کچی فوجوں کا مقابلہ کریںاور قیس بن مکثوح اور اُن دوسرے اہل یمن کے مقابلے میں جو ابناءسے لڑ رہے ہیں،اُن کے خلاف ابناءکی مدد کریںاور اُن سے فارغ ہو کر بنو کندہ سے مقابلہ کرنے کے لئے حضر موت چلے جائیں۔(۴)ایک لشکرکا سپہ سالار حضرت سعید بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا(جو اُسی زمانے میں یمن میںپھیلی بد نظمی کی وجہ سے مدینہ منورہ واپس آ گئے تھے۔)اُن کو ایک جھنڈا دیکر حمقتین بھیجا،جوملک شام کی سرحد پر ہے۔(۵)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو جھنڈا دیکر بنو قضاعہ ،بنو ودیعہ اور بنو حارث کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا۔(۶)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی کو بنایااور اُنہیںجھنڈا دیکر حکم دیا کہ وہ بنو دیا کے مقابلے پر جائیں۔(۷)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجحہ بن ہر شمہ کو بنایا۔اُنہیں جھنڈا دیکر مہرہ جانے کا حکم دیااور ہدایت کی کہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مہر ہ میں اکٹھا ہو جائیں مگر جو جو علاقے اُنہیں دیئے گئے ہیں،اُن میں وہ ایک دوسرے پر امیر رہیں گے۔(۸)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایااور جھنڈا دیکر حکم دیا کہ تم حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے پیچھے جاو¿ اور یمامہ سے فارغ ہو کر تم بنو قضاعہ چلے جانااور مُرتدین سے جنگ کے موقع پر تم اپنے لشکر کے آزاد سپہ سالار رہو گے۔(۹)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکرکاسپہ سالار حضرت طریفہ بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور ان کے ساتھی بنو ہوازن کے مقابلے پر جائیں۔(۰۱)ایک لشکر کا سپہ سالارحضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقہ تہامہ کی طرف جائیں۔ (۱۱) ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت علاءالحضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور بحرین کی طرف جانے کا حکم دیا ۔یہ تمام سپہ سالاراپنے اپنے لشکر کے ساتھ ذی القصہ سے اپنی اپنی سمت روانہ ہوئے۔(تاریخ طبری)


سپہ سالاروں کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو ایک ایک خط دیا،سب کا مضمون حسب ذیل تھا۔”یہ فرمان ابو بکر صدیق خلیفہ رسول (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے فلاں شخص(سپہ سالار) کے لئے لکھا گیا ہے۔جب انہوں نے اُسے مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مُرتدین سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔میں نے اِ ن سپہ سالاروں کو اِس شرط پر یہ منصب دیا کہ وہ دل میں اور علانیہ جہاں تک ہو سکے ،ا ﷲ کے معاملے میں ڈرتے رہیںگے اور مرتدین کے مقابلے میں خلوص نیت کے ساتھ پوری سعی کریں گے اور اُن سے اﷲ کے لئے لڑیں گے۔ہاں مگر اِس سے پہلے وہ اُن کو اپنی اصلاح کا موقع دیں گے اور اسلام کی دعوت دیں گے تاکہ اگر وہ اسے قبول کریں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے اور اگر انکار کر دیں تو فوراً اُن سے جنگ کی جائے۔یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں،تب اُن کو اُن کے حقوق و فرائض بتائے جائیںاور جو اُن پر واجب الادا ہو ،وہ وصول کیا جائے اور جس کے وہ مستحق ہوںوہ اُن کو دیا جائے۔اِس معاملے میں اُن کو ہر گز مہلت نہ دی جائے اور جب تک یہ اغراض حاصل نہ ہو جائیں تب تک مسلمانوں کو جہاد سے واپس نہ لایا جائے۔جو شخص اﷲکی بات تسلیم کر کے اُس کا اقرار کر لے،اُس کے ایمان کو قبول کر کے تپاک کے ساتھ دین پر قیام کے لئے اُس کی مدد کی جائے۔اور اُن لوگوں سے بھی جہاد کیا جائے جو ایک طرف اﷲ کے پیغام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر اﷲ کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔البتہ اگر وہ ہماری دعوت قبول کرلیں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے ۔اگر انہوں نے نفاق سے کام لیا ہو گاتوایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آخرت میں اُن سے حساب لے گا۔اگراﷲ تعالیٰ فتح عطا فرمائے توجو مال غنیمت دستیاب ہو تواُس میں سے پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے اور پانچواں حصہ ہمیں بھیج دیا جائے۔سپہ سالار کو چاہیئے کہ وہ اپنے سپاہیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکے اور اِن میں غیر آدمی کو اُس وقت تک شامل نہ ہونے دے،جب تک کہ اُس کے بارے میں تحقیق کر کے اطمینان نہ کر لے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو اور اس طرح بے خبری میں مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو جائے۔سفر اور قیام میں مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور میانہ روی اختیار کرے اور اُن کی خبر گیری کرتا رہے اور مسلمانوں کے ساتھ برتاو¿ اور گفتار میں ہمیشہ خوش خلقی اور ملائم لہجہ اختیار کرے۔“ (تاریخ طبری)


طلیحہ کا لشکر جمع کرنا


   ادھر مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات چل رہے تھے،اور اُدھر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا طلیحہ لشکر جمع کر رہا تھا اور اس کے لئے اُس نے اپنے آس پاس کے قبائل کو بھی اپنے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔جسے قبول کر کے قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،اور اُن کے ما تحت قبائل آکر اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب بنو عبس،بنو ذیبان اور ان کے توابع بزاخہ میں جمع ہو گئے ۔ تب طلیحہ نے بنو جدیلہ اور بنو غوث کو کہلا بھیجا کہ تم میرے پاس آجاو¿۔ان قبائل کے کچھ لوگ تو فوراً ہی اُس کے پاس پہنچ گئے اور اپنی قوم والوں کو ہدایت دی کہ تم بھی ہم سے آ ملو اور وہ سب کے سب طلیحہ کے ساتھ ہو گئے۔(تاریخ طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔طلیحہ بن خویلد اسدی اپنی قوم بنو اسد اور بنو غطفان میں تھا۔اور بنو عبس اور بنو ذیبان اُس کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ حاتم طائی کے قبیلہ بنو طے،بنو غوث،اور بنو جدیلہ کو بھی طلیحہ نے اپنے لشکر میں شامل ہو نے کے لئے بلایا،تو انہوں نے اپنے جوانوں کو اُس کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے بھیج دیا۔


حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کامیابی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کر نے سے پہلے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ (حا تم طائی کے بیٹے)کو اُن کے قبیلے بنو طے میں انہیں سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبل اس کے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کریں۔انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تم فوراً اپنی قوم کے پاس جاو¿۔ایسا نہ ہو کہ اِس ہنگامے میں وہ برباد ہو جائیں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ڈروہ اور غارب میں انہوں نے اُن کو روک لیا۔اُن کے بعد ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ پہلے وہ اکناف پر بنو طے سے شروع کریں،اور پھر بزاخہ کا رُخ کریںاور وہاں سے آخر میں بطاخ کی طرف جائیںاور جب وہ دشمن سے فارغ ہو جائیں،تو جب تک کہ نئے احکام موصول نہ ہوں وہ ان کا قصد نہ کریں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر روانہ ہوئے اور بزاخہ سے انہوں نے کنائی کاٹ کر آجا کا رُخ کیااور یہ ظاہر کیا کہ اب تو وہ خیبر جا رہے ہیں ،پھر وہاں سے اُن کے مقابلے پر پلٹیں گے۔اس خیال سے بنو طے اپنی جگہ بیٹھے رہے اور طلیحہ کے پاس نہیں گئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے کہا ؛”ہم ابو الفصیل کی کبھی بیعت نہیں کریں گے۔“حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا:”تمہارے مقابلے پر ایسی فوج آرہی ہے کہ تمہارا گھر بار لوٹ کر برباد کر دے گی اور اُس وقت تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو” ابوالفحل الاکبر “کی کنیت سے یاد کرو گے۔میری بات نہیں مانتے تو تم جانو ،تم ہی اُس شخص سے نپٹ لینا۔“بنو طے کے لوگوں نے کہا ؛”اچھا تم اُس حملہ آور فوج سے جا کر ملواور اُسے ہم پر یورش کرنے سے روکو تاکہ اِس دوران میں ہم اپنے ان ہم قوم لوگوں کو جو بزاخہ میں ہیں واپس بلا لیں۔ یہ بات اِس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اب جبکہ ہمارے لوگ طلیحہ کے ہاتھ میں ہیں ، اگر ہم نے ابھی طلیحہ کی مخالفت کا اعلان کر دیا تو وہ یا تو اُن سب کو قتل کردے گایا اُن کو یر غمال کی حیثیت سے قید میں رکھے گا۔


قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی


   حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ وہاں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔جو اُس وقت تک لشکر لیکر ”مقام سخ“تک آچکے تھے۔انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مہر بانی فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے تین دن کی مہلت دیںاور میری قوم کے خلاف کاروائی شروع نہ کریں۔مجھے اُمید ہے کہ قبیلہ بنو طے کے پانچ سو جنگجو تمھارے ساتھ ہو جائیں گے،جن کے ساتھ تم دشمن کا مقابلہ کرنا اور یہ بات اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں جہنم واصل کر دو اور اِس کے لئے اُن سے جنگ کرو۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تجویز مان لی۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔وہ لوگ پہلے ہی اپنی قوم کے لوگوں کو واپس بلانے کے لئے اپنے آدمی بھیج چکے تھے۔اُن لوگوں نے طلیحہ سے کہا کہ مسلمانوں کا لشکر ہو سکتا ہے ہم پر حملہ کردے ،اُن سے مقابلے کے لئے ہمارا اپنے قبیلے میں رہنا ضروری ہے۔اس طرح سب لوگ واپس آ گئے۔اگر یہ ترکیب نہ لگاتے تو مُرتدین انہیں واپس نہیں آنے دیتے۔اُن سب کو مسلمان بنا کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر اُن کے اسلام میں واپس آنے کی اطلاع دی۔


بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب قبیلہ بنو طے کے اسلام کی خبر سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو جدیلہ سے مقابلے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔یہ دیکھ کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے کہا:”بنو طے کی مثال ایک پرندے کے جیسی ہے ،جس کے ایک بازو میں بنو جدیلہ رہتے ہیںاور دوسرے بازو میں بنو غوث رہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ مجھے چند روز کی مہلت دیں،شاید اﷲ تعالیٰ انہیں بھی گمراہی سے نکال لے ،جیسے بنو غوث کو نکالا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسکرانے لگے اور تین دن کی مہلت دے دی۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ بنو جدیلہ کے پاس آئے اور انہیں سمجھاتے رہے۔انہوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی بات نہیں مانی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل سمجھاتے رہے۔آخر کار بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام میں واپسی کی اور ایک ہزار شترسوار(اونٹ سوار)جنگجو دیئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ انہیں لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے اسلام لانے کی بشارت دی اور ایک ہزار شتر سوار جنگجو اسلامی لشکر کے لئے پیش کئے، جبکہ پانچ سو جنگجو بنو طے سے بھی لائے تھے۔ اس طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے زیادہ با برکت اور موجب سعادت شخص بنو طے میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔


طلیحہ اسدی کا دعویٰ 


   رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ ¿ مبارک میں ہی طلیحہ بن خویلد اسدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں طلیحہ اسدی مُرتد ہو کر سمیرا میں آکر مقیم ہو گیا تھا۔یہ کاہن تھا،اس نے دعوائے نبوت کیا تھااور بنی اسرائیل کے چند فرقے اس کے مطیع ہو گئے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی سرکوبی کرنے کے لئے حضرت ضرار بن الازور رضی اﷲ عنہ کی سر کر دگی میں چند مسلمانوں کو روانہ فرمایا تھا۔ابھی طلیحہ کی سرکوبی نہیں ہونے پائی تھی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر مشہور ہو گئی۔جس سے طلیحہ کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہوااور بنو غطفان و بنو ہوازن اس کے حامی ہو گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی طلیحہ اسدی مُرتد ہو گیا تھا اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عیینہ بن حصن ،بدر سے اُس کی مدد کو کھڑا ہو گیا اور اسلام سے مُرتد ہو گیا۔اُس نے اپنی قوم سے کہا:”ا ﷲ کی قسم ! بنو ہاشم کے نبی کی نسبت مجھے بنو اسد کا نبی زیادہ محبوب ہے۔محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کا وصال ہو گیا ہے اور یہ طلیحہ ہے ،اس کی اتباع کرو اور اُسکی قوم بنو فزارہ نے اُس کی بات سے اتفاق کیا۔


طلیحہ کی شکست


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں تھے تو اسی دوران گشتی دستے لشکر کے آس پاس گشت کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک گشت کے دوران حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کا سامناطلیحہ اسدی اور اُسکے بھائی مسلمہ اسدی سے ہو گیاجو اتفاق سے وہ بھی گشت پر نکلے تھے۔فریقین میں زبردست مقابلہ ہوا اور حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دونوں کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر طلیحہ اسدی کے مقابلے پرآئے اور بزاخہ میں اُس کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔آس پاس کے اعرابی قبائل بھی جمع ہوگئے لیکن وہ جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور دور کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کس کی فتح ہوتی ہے اور کس کی شکست؟طلیحہ اسدی اپنے قبیلہ اور دوسرے کئی قبائل کا لشکر لیکر میدان میں آیا۔اُس میں عیینہ بن حصن بھی بنو فزارہ کے سات سو جنگجوو¿ں کے ساتھ تھا۔ طلیحہ نے عیینہ کو سپہ سالار بنایااور جب جنگ شروع ہوئی تو اُس نے عیینہ سے کہا کہ تم جنگ لڑو ،میں اپنے خیمے میں وحی کا انتظار کرتا ہوںاور اپنے خیمے میں آکر چادر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔عیینہ جنگ لڑتا رہااور اس کے لشکر کے سپاہی مرتے جارہے تھے۔وہ جلدی سے آیا اور طلیحہ سے پوچھا کہ کیا جبرئیل تمہارے پاس آیا ؟طلیحہ نے جواب دیا ؛”نہیں! تم ابھی جنگ پر توجہ دو۔“عیینہ چلا گیا لیکن ہر محاذپر اس کا لشکر مات کھا رہا تھا۔کچھ دیر بعد آکر اُس نے پر پوچھا تو جواب نہیں میں تھا۔تیسری مرتبہ آکر اُس نے پوچھا تو طلیحہ نے کہا ؛”یہ وحی آئی ہے کہ تیرے پاس بھی ویسی ہی چکی ہے جیسی مسلمانوں کے پاس ہے۔تیرا ذکر بھی ایسا ہے جسے تُو کبھی نہیں بھولے گا۔“عیینہ نے یہ بے تکے الفاظ سنے تو غصہ سے بے قابو ہو گیا اور بولا؛”بے شک اﷲ کو معلوم ہے کہ عنقریب ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ تُو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔“تاریخ ابن خلدون میں یہ الفاظ ہیں۔طلیحہ نے کہا:”جبرئیل مجھ سے کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے جو قسمت میں لکھا ہے ،وہی ہو گا۔“یہ سُن کر عیینہ نے کہا :”اے بنو فزارہ !یہ شخص کذاب(جھوٹا) ہے۔“ اور اس کے بعدبنو فزارہ سے کہا کہ واپس چلو۔یہ سنتے ہی بنو فزارہ نے راہِ فرار اختیار کی ۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کر کے گرفتارکرنا شروع کر دیا،عیینہ اور اُس کے بہت سے ساتھی گرفتار ہو ئے۔ادھر بنو فزارہ کے فرار کے بعد بقیہ لشکر طلیحہ کے گِرد جمع ہو گیااور پوچھا کہ اگلا حکم کیا ہے؟تو طلیحہ اسدی نے کہا کہ اپنی اپنی جان بچا کر بھاگواور اپنی بیوی کو لیکر گھوڑے پر سوار ہو کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور طلیحہ کی جھوٹی نبوت کا طلسم ٹوٹ گیا۔یہ دیکھکر اُس کے ساتھیوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور اسلام قبول کر لیا۔گرفتار شدہ لوگوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ بھیج دیا۔جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمجھایا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رہا کردیا۔ادھر ملک شام میں جب طلیحہ کو معلوم ہوا کہ اُس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ،تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں