پیر، 3 جولائی، 2023

03 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


03 سیرت سید الانبیاء ﷺ 

اعلان ِ نبوت سے پہلے         

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

رسول اللہ ﷺ اعلان ِ نبوت سے پہلے

   اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور بچپن کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اُ س میں ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ (12) سال کی عمر تک کے حالات پیش کئے تھے اور آخری واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا شام کا سفر اور بحیریٰ راہب کا ہم نے پیش کیا تھا۔ اب اس کے آگے کے حالات پیش کر رہے ہیں۔ شام کے سفر سے واپسی کے بعد ابو طالب اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کا اور زیادہ خیال رکھنے لگے تھے۔

سید الانبیاء ﷺ کا بکریاں چَرانا

   تما م انبیائے کرام علیہم السلام نے بکریاں چَرائی ہیں۔ چونکہ ان کو بڑے ہو کر نبوت سے سرفراز ہو کر اپنی اُمت کو سنبھالنا ہوتا تھا اس لئے ان کی ٹریننگ بکریاں چَرانے سے ہوتی تھی۔ بکریوں کے ریوڑ کو سنبھالنا ایک بہت ہی مشکل اور ذہنی آزمائش کا کام ہوتا ہے اور اس کے ذریعے انبیائے کرام علیہم السلام کی تربیت ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے چچا ابو طالب کے یہاں رہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دار تھے، ابو طالب بہت غریب تھے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بہت شدید احساس تھا۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے چچا کے بوجھ کو کچھ ہلکا کرنے کے بارے میں کافی غور و خوض کیا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سعد میں سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کی بکریاں چَرائی تھیں اور اس کا اچھا تجربہ تھا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ والوں کی بکریاں چرانے لگے۔ صحابہ ٔ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سفر کے دوران مر الظہران میں قیام فرمایا ۔ فاقہ کش صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم جنگل میں سے پیلو کا پھل توڑ کر کھانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ سیاہ پھل زیادہ لذیذ اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ ‘‘صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے تعجب سے عرض کیا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے معلوم ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ میرا اس زمانے کا تجربہ ہے جب میں بکریاں چَرایا کرتا تھا۔ ‘‘صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بکریاں چرایا کرتے تھے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ہاں ! کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔ یعنی ہر نبی بکریاں چَرایا کرتے تھے۔ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قراریط کے عوض بکریاں چَرایا کرتا تھا۔‘‘ ( صحیح بخاری) ۔ سیرت نگاروں اور علمائے کرام نے قراریط کا مفہوم جو بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بکریوں کے دودھ کا وہ حصہ ہے جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم اُجرت کے طور پر بکریوں کے مالکوں سے لیا کرتے تھے اور اسے ابو طالب کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے اور وہ اور تمام گھر والے اسے غذا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ قراریط ،قیراط کی جمع ہے اور یہ دینار کے چھٹے حصے کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ دینار کے بیسویں حصے کو ’’قیراط‘‘کہا جاتا ہے۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنی کم عمری میں ہی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر انھیں نبھانے لگے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بارہ اور تیرہ برس کے درمیان تھی۔

بکریاں چَرانے کی حکمت و فضیلت

   انبیائے کرام علیہم السلام کے بکریاں چَرانے میں اﷲ تعالیٰ کی زبردست حکمت ہے۔جس طرح بکریوں کے ریوڑ کو سنبھالنا ایک بہت ہی صبر آزما کام ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کو آگے چل کراپنی قوم کو بھی اِسی طرح سنبھالنے کا کام سونپا جانا ہوتا تھا ۔یہ ایک طرح سے انبیائے کرام علیہم السلام کی تربیت ہے، دراصل بکری ایک کمزور اور ضعیف ترین جانور ہے ۔ جو شخص بکریاں چَرانے کا کام کرتا ہے اُس میں قدرتی طور سے نرمی ،محبت اور انکساری کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے ۔کیونکہ ہر کام کی اور پیشہ کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں اور وہ خصوصیات اُس شخص میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں جو وہ کام کرتا ہے۔مثال کے طور پر قصائی کے دل میں قدرتی طور سے اپنے کام کی وجہ سے خشونت اور سختی پیدا ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اِسی طرح بکریوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنے سے دل میں نرمی اور لطف و کرم پیدا ہوتا ہے جو خود اُس جانور کی فطرت ہوتی ہے۔اِس لئے جب وہ شخص مخلوق کی تربیت کی طر ف متوجہ ہوتا ہے تو پہلے ہی اُس کے مزاج کی سختی اور طبیعت کی گرمی ختم ہو چکی ہوتی ہے اور مخلوق کی تربیت کے وقت وہ بہترین مزاج اور طبیعت کا مالک ہو تا ہے۔جو ایسے بڑے اور اہم کام کے لئے سب سے ضروری چیز ہے ،کیونکہ نرم مزاجی ،نرم گفتاری اور خوش اخلاقی ہی آدمی کا ایسا جوہر ہے جو سب کا دل موہ لیتی ہے اور آدمی کو ہر خاص و عام میں ہر دلعزیز بنا دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حد تک اپنے پیارے چچا ابو طالب کی خدمت کرنے لگے اور ہر کام پوری لگن اور محنت سے کرتے تھے۔ ہر کسی کی مدد کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ کسی کابوجھ اٹھا دیا، کسی کا سودا سلف لا دیا،کسی بیمار کو طبیب یا حکیم ( اس وقت آج کے زمانے کی طرح اتنے زیادہ ڈاکٹر نہیں ہوتے تھے اور انھیں طبیب یا حکیم یا جرّاح یعنی آپریشن کرنے والا کہتے تھے) تک پہونچا دیا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی مدد کر تے تھے۔ ہمیشہ سچ فرمایا کرتے تھے۔،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں صرف سچ فرمایا ہے۔ اسی دوران ایک واقعہ ایسا پیش آیا ۔ جس کی وجہ سے پورے مکہ مکرمہ والے یہ جان گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیا والے ہیں۔ ہُوا یہ کہ خانہ ٔ کعبہ کا کچھ تعمیری کام چل رہا تھا۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ وہ زمانۂ جاہلیت چل رہا تھااور اس وقت لوگ خانۂ کعبہ کا برہنہ ( یعنی بغیر کسی کپڑے کے اپنے جسم پر پہنے ہوئے)طواف کیا کرتے تھے اور ہر قسم کی برائیاں عام تھیں اور اس معاشرے میں بارہ تیرہ سال کے نو عمر لڑکے بھی برہنہ ہوتے تھے تو کوئی عیب نہیں مانا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں خانۂ کعبہ کی تعمیر میں نو عمر لڑکوں نے بھی حصہ لیا اور وہ پتھر اور اینٹ اپنے کندھوں پر رکھ کر لا رہے تھے۔ (یہ خانہ ٔ کعبہ کی مکمل تعمیر تو نہیں تھی بس صر ف کسی حصے کی مرمت کا کام چل رہا تھا۔) ان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سال بڑے تھے۔ اینٹ اور پتھر اٹھا کر لانے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کاندھا چِھل گیا تھا۔ اپنے بھتیجے کا زخمی کاندھا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ کاندھے پر کپڑا رکھنے سے اُن کے بھتیجے کو کم تکلیف ہوگی۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہبند کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے۔ بھتیجے یہ تہبند کھول کر اپنے کاندھے پر رکھ لو۔ اس سے تمہیں آرام ملے گا۔ ابھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ تہبند کھول ہی رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرم و حیا کے مارے چکر آگیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غش کھا کر گر گئے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عہنہ تہبند پوری طرح کھول بھی نہیں پائے تھے ۔ وہ حیرانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے لگے اور تہبند کھولناچھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لانے لگے۔ ہوش میں آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میرا تہبند ، میرا تہبند ۔‘‘ اور اپنے تہبند کو جو ابھی پوری طرح کھلا بھی نہیں تھا ہاتھوں سے پکڑ کر اچھی طرح باندھنے لگے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنگی سے محفوظ رکھا۔ اس واقعہ کی کئی روایات میں ایسا ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب نے حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند اتار لیا تھا، اب حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ امام سہیلی اپنی کتاب روض الانف جو انھو ں نے سیرت النبی ابن ہشا م کی شرح میں لکھی۔ اس میں ا س واقعہ کی دو روایات پیش کی ہیں اور دوسری روایت میں لکھتے ہیں ۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر سینے سے لپٹا لیا اور طبیعت اور حالت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے میرے پیارے چچا !آسمان سے مجھے آواز آئی :’’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا تہبند باندھ لو( یا باندھے رہ) ۔‘‘ کہا جاتا ہے یہ پہلی آسمانی آواز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دی۔

حرب ( جنگِ ) فجار

   سید الانبیاء ﷺ مکہ مکرمہ والوں کی بکریاں چَرا کر اپنے پیارے چچا ابو طالب کی مدد کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔اجرت میں جو دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا تھا، وہ سب لا کر ابو طالب کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ اس طرح کئی برس گزر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پندرہ یا بیس سال کی تھی۔ تب جنگ فجار کا واقعہ پیش آیا۔یہ جنگ حرم پاک ( مکہ ٔ مکرمہ) کی حدود میں ہوئی اور اس مہینے میں ہوئی جس میں جنگ کرنا منع تھا۔ اس لئے اس جنگ کو ’’حربِ فجار ‘‘یعنی ’’گناہوں کی جنگ ‘‘کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ مکۂ مکرمہ کو ’’دارا لامن ‘‘یعنی’’ امن کی جگہ یا گھر‘‘بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی اور مکہ مکرمہ کے درخت کاٹنا توڑنا اور کوئی چیز اٹھانا اور کسی کو مارنا یہ سب حرام کر دیا تھا۔ اس لئے ہر کوئی مکہ مکرمہ کا احترام کرتا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے ہی چار مہینوں میں جنگ کرنا حرام کر دیا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں قتل کرنا بہت بڑا گناہ تھااور حرام مہینے میں جنگ کرنا بھی گناہ تھا۔ اس لئے اس جنگ کو ’’گناہوں کی جنگ‘‘ کہا گیا۔ قبیلہ قریش اور قبیلہ بنو قیس کے درمیان کچھ ایسے معاملے پیش آئے تھے جن کی وجہ سے بنو قیس نے قریش پر حملہ کر دیا ۔ قریش حرام مہینہ ہونے کی وجہ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے حدود حرم سے باہر نہیں نکلے۔ انھوں نے سوچا کہ قبیلہ بنو قیس حدودحرم کا احترام کرے گااور جنگ ٹل جائے گی۔ لیکن قبیلہ بنو قیس نے حدود حرم میں قریش کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ مجبوراً قریش نے بھی ہتھیار اٹھا لئے اور زبردست مقابلہ کیا۔ چونکہ یہ جنگ قبیلے کے لئے لڑی جا رہی تھی اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ میں کئی دنوں تک حصہ نہیں لیا۔ لیکن اپنے چچائوں کے اصرارپر آخری دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ میں شرکت کی لیکن کسی کو قتل نہیں کیا۔ صرف اپنے چچائوں کو تیر اٹھا اٹھا کر دیتے رہے اور وہ لوگ تیر چلاتے رہے۔ اُس دن قبیلہ قریش کو فتح حاصل ہو گئی اور قبیلہ بنو قیس شکست کھا کر بھاگ گئے۔ عبدالملک بن ہشام کہتے ہیں اُ س وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پندرہ برس تھی۔ اور محمد بن اسحاق کہتے ہیں بیس برستھی۔

رسول اللہ ﷺ  کی بتوں سے بیزاری اور نفرت

   اس سے پہلے آپ بحیریٰ راہب کے واقعے میں پڑھ چکے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ سال کی عمر میں کس طرح بتوں سے بیزاری اور نفرت کا اظہار کیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بچپن سے ہی بتوں سے نفرت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہے اور اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں :’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ زید بن عمرو بن نفیل کی طرح میں نے بھی کبھی اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے نام پر ذبح کیا جانور نہیں کھایاہے۔‘‘یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہی جانور کھایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا :’’ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بتوں کی پوجا کی ہے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کبھی نہیں کی۔‘‘پھر دریافت کیاگیا :’’کیا کبھی شراب پی ہے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے کبھی شراب نہیں پی ہے‘‘ اور آگے فرمایا :’’ میں جانتا تھا کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ کافر ہیںحالانکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘

صادق‘‘ اور’’ امین‘‘ کالقب

رسول اللہ ﷺ  نے اپنی پوری زندگی میں ہمیشہ سچ کہا ہے۔ اعلان نبوت سے پہلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوان ہو رہے تھے۔ تب بھی پورے مکہ مکرمہ والے یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ پورے مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن سے لیکر جوانی تک ہمیشہ سچ ہی فرماتے دیکھاتھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم کو’’ صادق‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے تھے ۔ اسکے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لین دین کے معاملات اور دوسرے معاملات میں اتنے ایماندار تھے کہ تمام مکہ مکرمہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’امین‘‘ (امانت دار)کے لقب سے بھی پکارتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر نیک کام میں آگے آگے رہتے تھے اور ہر ضرورت مند کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایسے ہی نیک کاموں کی وجہ سے لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیکی اور صداقت کا اتنا اثر پیداہوگیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لیکر نہیں بلاتے تھے۔ بلکہ’’ الصادق‘‘ اور’’ الامین‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

عہد شباب میں بھی سب سے بہتر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اور حفاظت میں پروان چڑھتے رہے۔ کیو نکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی کرامت اور نبوت اور رسالت سے سرفراز کرنا چاہتے تھے۔ اس لیئے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی گندگی سے بچایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں عالم شباب میں پہونچے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں مرئوت کے لحاظ سے سب سے افضل ، خلق و اخلاق کے اعتبار سے سب سے احسن تھے۔ نسبت کے اعتبار سے سب سے شریف اور ہمسائیگی کے اعتبار سے سب سے بہتر تھے۔ (یعنی پڑوسیوں سے بہت بہتر سلوک کرتے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم و برد باری کا پیکر اور صداقت و امانت کا مجسمہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش باتوں اور برے اخلاق سے کوسوں دور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریم اور پاکباز تھے۔اللہ تعالیٰ نے تمام بھلائیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع فرما دی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ امین ‘‘کے لقب سے پکارنے لگی۔

حلف الفضول ‘‘۔ قیام امن و نگرانی حقوق کی انجمن کا انعقاد

   جنگ فجار کے چار مہینے بعد’’ حلف الفضول‘‘ کے نام سے قیام امن و نگرانی حقوق کی انجمن قائم کی گئی ۔ اس کے انعقاد کا سبب ایک واقعہ بنا۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ بنو زبید مکہ ٔ مکرمہ سے بہت دور واقع ہے۔ اس قبیلے کا ایک تاجر اپنا سامان لے کر مکہ مکرمہ آیا۔ عاص بن وائل نے اس کا سامان خرید لیا لیکن پیسے ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنے لگا یہاں تک کہ انکار کر دیا۔ قبیلہ بنو زبید کا تاجر قریش کے سرداروں کے پاس آیا اور مدد کرنے کی درخواست کی۔ لیکن اُن سرداروں نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اسے ڈانٹ کر بھگا دیا ۔ وہ تاجر جبل ( پہاڑ) ابو قبیس پر چڑھ گیا اور طلوع فجر کے وقت زور زور سے آواز لگانے لگا۔ ( مکہ مکرمہ میں یہ رواج تھا کہ جب کوئی آدمی کوئی بہت ہی اہم بات تمام مکہ مکرمہ والوں تک پہنچانا چاہتا تھا تو کسی پہاڑ کے اوپر کھڑا ہو کر زور زور سے آواز لگاتا تھا) وہ تاجر زور زور سے با آواز بلند کہنے لگا :’’ اے فہر کے بیٹو! میں ایک پردیسی ہوں اور بہت دور بسے قبیلہ زبید سے آیا ہوں۔ تمہارے یہاں تجارت کا سامان لایا تھامگر تمہارے ایک ظالم سردار نے میرے بچوں کے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے ؟میں نے ابھی عمرہ بھی ادا نہیں کیا ہے اور حالت احرام میں ہوں اور مجھے حطیم اور حجر اسود کے درمیان ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اے شرفائے قوم ! ایک اجنبی کی مدد کرواور اس کی دعائیں لو۔ بے شک تم سے مجھے اچھائی اور مدد کی امید ہے۔ اس صدا کو خانہ ٔ کعبہ کے پاس موجود قریش کے تمام سرداروں نے سنا۔ ان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زبیر بن عبد المطلب بھی تھے۔ انھوں نے کہا:’’ اس کی ضرور مدد کرنی چاہیئے‘‘ اور تمام سرداروں سے کہا کہ وہ ابن جدعان کے مکان میں جمع ہو جائیں تا کہ اس بارے میں کچھ راستہ نکالا جائے۔ ابن جدعان ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا چچا زاد بھائی تھا اوربڑا مہمان نواز تھا۔ تمام لوگ جمع ہوئے اور اس نے سب کی دعوت کی۔ اس مجلس میں یہ طے ہوا کہ کئی سو سال پہلے جو’’ حلف الفضول‘‘ قائم کیا گیا تھا اسے دوبارہ قائم کیا جائے ۔ ’’حلف الفضول‘‘ قبیلہ بنوجرہم کے اچھے لوگوں نے قائم کیا تھا ۔ وہ تین لوگ فضل بن فضالہ، فضل بن وداعہ اور فضل بن حارث تھے۔ ایک روایت کے مطابق یہ پانچ لوگ تھے۔ بقیہ دو نام فضل بن بضاعہ اور فضل بن قضاعہ ہیں۔ چونکہ ان پانچوں کا نام’’ فضل‘‘ تھا۔ اس لئے اس کا نام’’ حلف الفضول ‘‘رکھا گیا۔ ان پانچوں نے ان باتوں پر حلف اٹھایاتھا۔ (۱) ظالم کے خلاف مظلوم کی بھر پور حمایت و امداد کی جائے گی۔ (۲) کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی کا حق مارے۔ (۳) ہر مسافر کے جان و مال کا پورا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ ابن جدعان کے مکان میں ہوئی مجلس میں’’ حلف الفضول‘‘ کا اعادہ کیا گیا اور امن و نگرانی ٔ حقوق کی انجمن قائم کی گئی۔ اور اس میں ایک شِق اور منظو ر کی گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں موجود تھے۔ اس واقعہ کو پورا کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں قاضی محمد سلیمان منصور پوری کے الفاظ پیش کر دیںجو انھوں نے اپنی کتاب’’ رحمت اللعالمین‘‘ میں لکھا ۔ انھوں نے سرخی لگائی ’’قیامِ امن و نگرانیٔ حقوق کی انجمن کا انعقاد‘‘ اس کے تحت لکھتے ہیں۔ ان ہی دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر قبیلوں کے سرداروں اور سمجھدار لوگوں کو ملک کی بے امنی، راستوں کا خطرناک ہونا ، مسافروں کا لٹنا اور غریبوں پر طاقت وروں کا ظلم بیان کر کے ان سب باتوں کی اصلاح پر توجہ دلائی ۔ آخر ایک انجمن قائم ہو گئی۔ جس میں بنو ہاشم ، بنو مطلب ، بنو اسد ، بنو زہرہ اور بنو تمیم شامل تھے۔ اس انجمن کے ممبران نے یہ عہد و قرار کئے تھے۔ (۱) ہم ملک سے بے امنی دور کریں گے۔ (۲) ہم مسافروں کی حفاظت کیا کریں گے۔(۳) ہم غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے۔ (۴) ہم طاقتور کو کمزور پر ظلم کرنے سے روکیں گے۔ اس تدبیر سے لوگوں کے جان و مال کی بہت کچھ حفاظت ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبوت کے زمانے میں بھی فرمایا کرتے تھے:’’ اگر آج بھی کوئی اس انجمن کے نام سے کسی کو مدد کے لئے بلائے تو سب سے پہلے میں اس کی امداد کے لئے تیار پایا جائوں گا۔‘‘ قاضی محمد سلیمان منصور پوری کے الفاظ مکمل ہوئے۔ اب ہم آپ کی خدمت میں آگے کا واقعہ پیش کرتے ہیں۔ جب حلف الفضول کا اعاد ہ کر لیا گیا اور اسے نئے سرے سے قائم کر دیا گیا اور اس کے ممبران چُن لئے گئے تب قریش کے تمام سرداراُس مظلوم تاجر کے ساتھ عاص بن وائل کے گھر پہنچے۔ اور اس سے تاجر کا سامان یا قیمت کا مطالبہ کیا۔ تمام سرداروں کو دیکھ کر اس کے ہوش و حواس اڑ گئے۔ وہ چپکے سے اندر گیا اور مظلوم تاجر کا سامان یا قیمت لا کر واپس دے دی۔ اس مثالی معاہدے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے۔ چونکہ یہ معاہدہ مظلوموں کی مدد اور عدل وا نصاف کے قیام کے لئے طئے پایا تھا اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے:’’ اگر آج بھی ہمیں اس کے نام پر پکارا جائے گا تو ہم اس کی پکار کا جواب دیں گے۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مظلوم پکارے کہ اے حلف الفضول کی بنیاد رکھنے والے انسانیت کے رکھوالو،میری مدد کرو۔ تو ہم اس مظلوم کی آج بھی مدد کریں گے۔ اسلام حق کے قیام اور مظلوموں کی امداد ہی کے لئے آیا ہے۔ اس لئے یہ معاہدہ کمزور نہیں ہوا ہے بلکہ اور قوی اور مضبوط ہو گیا ہے۔ ’’حلف الفضول ‘‘کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اکثر روایات کے مطابق بیس(20)سال تھی۔

حلف الفضول کا نفاذ

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی نوجوانی میں بھی ہر وقت ہر کسی کے لئے مدد کوتیار رہتے تھے اور ضرورت کے مطابق لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔جسٹس پیر محمد کرم شاہ ازہری اپنی معرکتہ الآرا کتاب ’’ضیا النبی‘‘میں لکھتے ہیں۔یہ معاہدہ (حلف الفضول) مدتوں نافذ العمل رہا۔جب کسی نے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر فریاد کی تو لوگ بے تامل تلواریں بے نیام کئے فریادی کی مدد کے لئے دوڑ کر آئے۔رومانیہ کے وزیر خارجہ ’’کونستانس جیورجیو‘‘نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک کتاب لکھی ہے ،جس کا نام ’’نظرۃ جدیدۃ فی سیرۃ الرسول اﷲ‘‘ہے۔اِس کا عربی ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد التونجی نے کیا ہے جو حلب یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔اِس مصنف نے ’’حلف الفضول ‘‘کے بارے میں اپنی تحقیقات کا اضافہ کیا ہے۔ اِس سے اُس حلف کو ایک منظم اور طاقتور بنانے میں سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی کوششوں اور عمل پر روشنی پڑتی ہے۔وہ لکھتے ہیں :’’حلف الفضول ایک منظم مسلح نوجوانوں پر مشتمل دستہ تھااور جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی مظلوم کا حق ضائع نہ ہو۔‘‘

مظلوم کی امداد

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم حلف الفضول کے منظم دستے کی سربراہی کرتے تھے۔ایک بدو (خانہ بدوش) جنوبی علاقہ سے فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکۂ مکرمہ آیا ۔اُس کے ساتھ اُس کی بیٹی بھی تھی جو بڑی خوب رو تھی۔مکۂ مکرمہ کے ایک دولت مند تاجر (جس کا نام دوسرے مورخین نے نبیہ بن حجاج لکھا ہے)نے اُس بچی کو اغوا کرا لیا ۔اس مسکین باپ کے لئے اِس کے سوائے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے قبیلے میں واپس جائے اور اُن سے مدد کی درخواست کر کے اُن کے ساتھ آکر اپنی بیٹی کی واپسی کی کوشش کرے۔لیکن پھر اُسے یاد آیا کہ اس کے قبیلہ میں مردوں کی تعداد بہت کم ہے اور وہ مکۂ مکرمہ کے دس قریشی قبیلوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔وہ اِسی پریشانی میں بھٹک رہا تھا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس واقعہ کا علم ہوا ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے قریش کے نوجوانوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ ایک قریشی نے اس بدو (خانہ بدوش) کے ساتھ جو غلط حرکت کی ہے اِس پر ہمیں خامقش نہیں رہنا چاہیئے ۔اسی لئے قریش کے چند نوجوان خانۂ کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور سب نے یہ حلف اُٹھایا:’’ہم قسم اُٹھاتے ہیں کہ ہم مظلوم کی مدد کریں گے ،یہاں تک کہ ظالم سے وہ اپنا حق واپس لے لے اور ہم قسم اُٹھاتے ہیں کہ اِس حلف سے اس کے علاوہ ہمارا اور کوئی مقصد نہیں ہوگا ۔ہم اِس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ مظلوم غنی ہے یا فقیر۔‘‘جب اُنہوں نے قسم اُٹھائی تو سید الانبیاء صلی ا ﷲ علیہ وسلم اُن کے ساتھ تھے۔پھر انہوں نے حجر اسود کو زمزم کے پانی سے دھویا اور وہ پانی پی لیا۔مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ اپنی قسم پر پختہ رہیں گے۔حلف برداری کے بعد سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے نوجوان ساتھیوں کو لیکر اُس ظالم قریشی کے گھر گئے اور اُس کے مکان کا گھیراؤ کرلیا اور اُس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بچی کو عزت و آبرو کے ساتھ واپس کر دے۔قریشی نے کہا کہ ایک رات مجھے مہلت دو میں صبح وہ لڑکی اُس کے باپ کو لوٹا دوں گا ۔لیکن نوجوانوں نے اس تجویز کو ٹھکرا دیا اور اُس کو مجبور کی کہ وہ بچی کو فوراً اُس کے والد کے سپرد کر دے۔اب وہ مجبور ہو گیا اور بادل نخواستہ اسے بچی کو واپس کرنا پڑا۔( ضیاالنبی)

نوجوانی میں ہی انقلاب برپا کردیا

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا کردار اور عمل نوجوانی میں بھی اتنا شاندار اور اچھا تھا کہ مکہٗ مکرمہ کے تمام لوگ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے گرویدہ ہو گئے تھے۔نوجوانی میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کی جو تنظیم بنائی تھی اُس کے بارے میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ ازہری لکھتے ہیں اِس قسم کے واقعات سے ’’حلف الفضول ‘‘کو بڑی شہرت حاصل ہوئی اور وہ مظلوم و بے آسرا لوگ جن پر اثر و رسوخ والے لوگ ظلم کیا کرتے تھے اور کسی کو انہیں ٹوکنے کی بھی ہمت نہیں تھی اب اُن مظلوموں کو ایک سہارا مل گیا تھا ۔جب بھی کسی پر کوئی شخص زیادتی کرتا تو ’’حلف الفضول ‘‘کے ارکان اور اُن کے مسلح دستے کے نوجوان اُس کی فریاد رسی کے لئے آجاتے تھے۔یہ مصنف آگے لکھتا ہے :’’ اعلان نبوت سے پہلے سید الانبیاء کی طرف سے ’’حلف الفضول‘‘ کے منصوبہ کی تجویز بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اِس جدت سے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے لوگوں کے کھوئے ہوئے حقوق واپس دلانے میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور اِس تجویز کے ذریعہ سے سارے قبیلے کو ہدف ِ انتقام بنانے کے نظریہ کا قلع قمع کردیا۔‘‘جس طرح ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ ’’حلف الفضول ‘‘کا آغاز حضرت زبیر بن عبد المطلب کی تحریک سے ہوا اور اسکے بعد عبد اﷲ بن جدعان کے گھر چند مشہور قبائل کے سردار جمع ہوئے ااور انہوں نے مظلوم کی امداد کرنے کا معاہد کیا جو ’’حلف الفضول‘‘ کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوا۔لیکن اس میں صحیح قوت اور جان اُسوقت پیدا ہوئی جب سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِس میں سرگرم حصہ لیا اور آپ صلی اﷲ علیہ کی ترغیب پر قریشی نوجوانوں کا ایک ایسا مسلح جتھہ تیار ہو گیا جو اِس معاہدہ کے تحت کئے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر وقت سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار رہتے تھے ۔مکۂ مکرمہ کے بڑے بڑے رئیسوں کی مجال نہیں تھی کہ اُن کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار دیں۔اِسی لئے اس یورپین مورخ نے ’’حلف الفضول‘‘کے نظریہ کو سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی طر ف منسوب کیا ہے ۔( ضیا النبی)

سب سے بہتر اخلاق

   اﷲ تعالیٰ نے زمانۂ جاہلیت کی اُن تمام برائیوں اور عیبوں سے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے بچپن میں بھی اور نوجوانی میں بھی بلکہ پوری عُمر میں حفاظت فرمائی ،جو آخر کار آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت میں حرام قرار دی گئیں۔چونکہ اﷲ تعالیٰ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اعزاز مقصود تھا ،اِس لئے اﷲ کے فضل و کرم سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی قوم میں اخلاق و عادات کے لحاظ سے سب سے بہتر تھے۔اِسی طرح سب سے زیادہ سچے ،سب سے زیادہ امانت دار اور تمام برائیوں سے سب سے زیادہ دور تھے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی قوم میں سب سے زیادہ بامرّوت اور با اخلاق تسلیم کئے گئے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ایک بہترین دوست اور ایک بہترین پڑوسی ثابت ہوئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بے انتہا نرم دل ،انتہائی امانت دار اور اپنی بات میں سچے تھے۔چونکہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم میں نرم مزاجی ،صبر و شکر ،انصاف پسندی مزہد و تقویٰ ،توضع و انکساری ،پاک دامنی ،سخاوت و فیاضی ،شجاعت و بہادری ،شرم و حیا اور مروّت و رواداری جیسی بلند و بالا صفات اور شریفانہ عادتیں پید فرمائی تھیں ۔اِسی لئے قریش نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کس لقب ’’صادق ‘‘اور ’’امین‘‘یعنی سچا اور امانت دار رکھ دیا تھا۔

بُتوں سے نفرت اور پرہیز

   اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایسا بنایا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہمیشہ بُتوں سے نفرت رہی ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیشہ بُتوں کے پاس جانے سے پرہیز کیا ہے۔بچپن کا بُحیریٰ کا واقعہ ہم اِس سے پہلے کی کتاب’’رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بچپن‘‘ میں پیش کر چکے ہیں۔نوجوانی کا ایک واقعہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کنیز (جسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا تھا) سیدہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں:’’قریش کا ایک بُت تھا جس کا نام ’’بوانہ‘‘تھا۔قریش ہر سال اُس کے پاس حاضری دیا کرتے تھے اور اُس کی بے حد عزت و عظمت کرتے تھے۔اُس کے پاس یہ لوگ قربانی کا جانور ذبح کرتے ،سر منڈواتے اور پورا دن اُس کے پاس اعتکاف کیا کرتے تھے۔ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ اِس بُت کے پاس حاضری دیا کرتے تھے ۔(قریش اِس طرح عید مناتے تھے) سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہر سال ابو طالب کہا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلکر عید منائیں،لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہر سال انکار کر دیا کرتے تھے ۔آخر ایک سال ابو طالب کو غصہ آگیا۔‘‘سیدہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہاآگے فرماتی ہیں :’’اُس دن میں نے دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھیاں بھی بہت غصے میں تھیں اور انہوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہا :’’تم ہمارے معبودوں سے اِس طرح پرہیز کرتے ہو تو ہمیں تمہاری طرف سے ہی ڈر ہو گیا ہے۔محمد ! (صلی اﷲ علیہ وسلم)تم نہیں چاہتے کہ اپنی قوم کی عید میں شریک ہو اور مجمع میں اضافہ کرو۔‘‘وہ سب اِسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اصرار اور ناراضگی کا اظہا ر کرتی رہیں ۔یہاں تک کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کے پاس سے چلے گئے اور جب تک اﷲ نے چاہا غائب رہے ۔اِس کے بعد جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس آئے تو گھبرائے ہوئے تھے۔پھوپھیوں نے گھبرنے کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میں جب بھی کسی بُت کے پاس سے گزرتا ہوں تو میرے سامنے ایک سفید رنگ کا اور بہت ہی قد آوار آدمی ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے :’’اے محمد ! (صلی اﷲ علیہ وسلم) اِسے نہیں چھونا…!‘‘یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد سیدہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں :’’سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی بھی بُتوں کے قریب نہیں گئے اور نہ ہی عید کے میلے میں گئے یہاں تک کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘فرمایا۔‘‘(سیرت حلبیہ)

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاکی پیشکش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جیسے جیسے جوان ہوتے جار ہے تھے۔ ویسے ویسے مکہ مکرمہ والوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی نئی صلاحیتیں آشکارہ ہو تی جا رہی تھیں اور ان صلاحیتوں سے مکہ مکرمہ والوں کو زبردست فوائد حاصل ہو رہے تھے۔ اسلئے تمام مکہ مکرمہ کے لوگ ’’الصادق ‘‘اور’’ الامین‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرویدہ ہوتے جا رہے تھے اور مکہ مکرمہ کے لگ بھگ ہر گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں کا ذکر ہوتا۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی رہتی تھیں ۔آپ رضی اللہ عنہا عرب کے شریف خاندان کی بڑی دولت مند خاتون تھیں ۔ ان کی شرافت نسبی اور عفت و پاک دامنی کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں بھی اور زمانہ ء اسلام میں بھی لوگ انھیں’’ طاہرہ‘‘ کے لقب سے پکارتے تھے۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اتنی مالدار تھیں کہ جب مکہ مکرمہ سے تجارتی قافلہ نکلتا تھا تمام مکہ مکرمہ والوں کے سامان کے برابر اکیلے ان کا سامان تجارت ہوتاتھا۔ تمام کاروبار کی خود نگرانی کرتی تھیں اور ہر بار اپنا وکیل تجارت ( جسے مضاربت کہا جاتا ہے) خود مقرر کرتی تھیں ۔ جو سامان تجارت لیکر تجارتی قافلے کے ساتھ جاتا تھا اور تمام قاروباری امور کا ذ مہ دار ہوتا تھا۔ واپسی پر آپ رضی اللہ عنہا طے شدہ رقم اسے دے دیا کرتے تھے اور ملک شام سے آیا ہوا مال مکہء مکرمہ میں فروخت کر کے دوہرا منافع کماتی تھیں ۔ بیوہ ہو چکی تھیں عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی اور آپ رضی اللہ عنہا بہت خوبصورت تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جب باربار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت دیانت اور صداقت کا ذکر سنا تو انھوں نے ارادہ بنایا کہ اس مرتبہ اپنا تجارتی وکیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر کریں گی۔ کیو نکہ انہیں ایسے ہی ایمان دار شخص کی تلاش تھی۔

اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا سلسلۂ نسب اور خاندان

   اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے۔سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قُصی بن کلاب بن مُرّہ بن کعب بن لوی بن غالب۔قُصی بن کلاب پر آکر آپ رضی اﷲ عنہا کا سلسلۂ نسب سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہا کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدۃ بن اعصم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لوی بن غالب بن فہر ہے۔

رسول اللہ ﷺ  کا ملک شام کی طرف تجارتی سفر

   ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اپنا کاروبار چلانے کے لیئے ایک ایماندار شخص کی ضرورت تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح اپنے پیارے چچا ابو طالب کے بوجھ کو کم کر سکیں۔ ایسی حالت میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک قاصد کے ذریعے یہ کہلا بھیجا کہ اس مرتبہ میں شام کے تجارتی سفر کے لیے کثیر مال تجارت روانہ کرنا چاہتی ہوں ۔ اگر آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )میرا تجارتی مال ملک شام لے جائیں اور فروخت کر کے وہاں سے تجارتی سامان لے آئیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کے مقابلے میں دوہرا معاوضہ دوں گی یاپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی کے مطابق معاوضہ لے لیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیش کش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے چچا ابو طالب کی غریبی کا خیال کرکے یہ پیش کش قبول کر لی کہ اس تجارتی سفر سے جو معاوضہ ملے گا اس سے ابو طالب کی کچھ مدد ہو جائے گی۔ اس لیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک شام کا تجارتی سفر کرنے کے لیئے تیار ہو گئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کوقاصد کے ذریعے یہ کہلا بھیجا کہ میں تمہارا تجارتی سامان لے کرملک شام جانے کے لیے تیار ہوں۔ ابو طالب کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہا:’’بھتیجے !حالانکہ میں اِسے پسند نہیں کرتا کہ تم ملک شام جاؤ،کیونکہ وہاں یہود ی اور عیسائی رہتے ہیں ۔میں یہودیوں کی طرف سے تمہارے متعلق ڈرتا ہوں ،لیکن ساتھ ہی تمہارے لئے میرے نزدیک اِس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مکہ مکرمہ والے موسم کے مطابق سفر کرتے تھے اور اس کے لیے ان کے بزرگوں نے کافی غور و خوض کر کے ایسے دنوں کا انتخاب کیا تھا جن میں سفر کرنے میں آسانی ہو۔ اس طرح مکہ مکرمہ والے سال میں ایک یا دو تجارتی سفر کرتے تھے اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی یہ پورا سال اس سے گزارا کرتے تھے اور پورے مکہ مکرمہ کے لوگ ایک ساتھ تجارتی سفر کرتے تھے۔

میسرہ نے معجزے کا مشاہدہ کیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کی وجہ سے مکہ مکرمہ کا ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتا تھا۔ اسی لئے شام کے تجارتی سفر کیلئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک غلام میسرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے ساتھ کر دیا اور اسے حکم دیا کہ ان کی ہر طرح سے خدمت کرناا ور انھیں کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔روانگی کے وقت سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے میسرہ سے کہا:’’اِن (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی نافرمانی مت کرنا اور اِن (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی رائے سے اختلاف نہیں کرنا۔‘‘مکۂ مکرمہ سے قافلہ روانہ ہوا اور جب آگے بڑھا تو میسرہ نے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے معجزے کا مشاہدہ کیا۔اُس نے دیکھا کہ ایک بدلی ہمیشہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر سایہ کئے رہتی ہے۔ملک شام کے سفر میں میسرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی وہ اونچائی دیکھی جو کسی میں اسے نظر نہیں آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کی طرح حکم نہیں دیتے تھے ،بلکہ اپنا ہر کام خود کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔دوسرے لوگوں کی طرح حقارت سے پیش نہیں آتے تھے، بلکہ انتہائی محبت اور عزت سے بات کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر میسرہ دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوڑ دوڑکر خدمت کرنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرویدہ ہو گیا۔

نسطورا راہب ( عیسائی عالم) کی گواہی

   بالآخر تجارتی قافلہ ملک شام پہنچا اور اس کے مضافات میں پڑائو ڈا ل دیا۔ اس سے پہلے بھی میسرہ کئی مرتبہ شام کا سفر کر چکا تھا اور جس جگہ مکہ مکرمہ کے قافلہ والوں نے پڑائو ڈالا تھا وہاں ایک عیسائی راہب ( عیسائی عالِم جنھیں آج کل فادر یا پادری کہا جاتا ہے) نسطورا نام کا اپنی عبادت گاہ یا گرجا گھر میں رہتا تھا۔ اس نے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تواپنی عبادت گاہ سے ایک کتاب لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ دیکھ کر کتاب کے اوراق پلٹ پلٹ کر پڑھنے لگا۔ میسیرہ یہ سب دیکھ رہا تھا اور نسطورا راہب سے اس کی جان پہچان تھی۔ اُس نے پوچھا:’’یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ‘‘ نسطورا راہب نے جواب دینے کے بجائے اس سے الٹا پوچھا :’’یہ صاحب کون ہیں؟ ‘‘میسرہ نے کہا :’’ یہ ہمارے قبیلے اور علاقے کے سب سے اعلیٰ نسب ہیں اور سب سے زیادہ نیک ، ایمان دار، ہمیشہ سچ بولنے والے اور امانت دار ہیں۔‘‘ نسطورا یہ سب سن کر اثبات میں سر ہلاتا رہا اور پھر بولا :’’ یہ ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اﷲ علیہ وسلم )ہیں جن کا ہماری کتاب میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ بہت جلد یہ اعلانِ نبوت کریں گے۔‘‘ علامہ عبد المصطفیٰ اپنی معرکتہ آراء کتاب سیرت المصطفیٰ میں اس کے آگے لکھتے ہیں( نسطورا راہب نے کہا) :’’کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب یہ اعلان نبوت کریں گے تو میں ان کی مدد کرتا اور پوری جاں نثاری کے ساتھ ان کی خدمت گذاری میں اپنی تمام عمر گزار دیتا۔ اے میسرہ !میں تم کو نصیحت اور وصیت کرتا ہوں کہ خبردار ان سے ایک لمحہ کے لئے بھی جدا مت ہونا اور انتہائی خلوص و عقیدت سے ان کی خدمت کرتے رہنا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’خاتم النبیین ‘‘ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔‘‘

یہ اللہ کے نبی ہیں

   میسرہ نے نسطورا راہب کی تمام باتیں ذہن نشین کر لیں اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر وقت موجود رہنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت پر غور کرنے لگا تو اُسے بہت سے نئے نئے مشاہدے ہوئے۔ اُن میں سے ایک یہ تھا کہ ملک شام پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ایمانداری اور سچائی سے مالِ تجارت کو فروخت کیا اور مکہ مکرمہ میں فروخت کرنے کے لئے مال ِ تجارت خریدا۔ اسی دوران بازار میں ایک شخص ( جو عیسائی تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھ پڑا اور کہا :’’ میں آپ کی بات کا یقین اُس وقت کروں گا جب آپ لات و عُزّیٰ کی قسم کھا ئیں گے۔‘‘ ( یہ ہر کوئی جانتا تھا کہ مکہ مکرمہ والے ان نام کے بتوںکی پوجا کرتے ہیں۔ اسی لئے اس نے ایسا کہا ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے ان بتوں کی کبھی قسم نہیں کھائی ہے ۔اگر میں ان بتوں کے قریب سے گزرتا ہوں تو ان کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہوں اور تجھے بھی مشورہ دیتا ہوں کہ بتوں کی قسم نہ کھایا کر۔‘‘ اُس شخص نے کہا :’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کا مشورہ بالکل درست ہے۔‘‘ پھر اُس نے میسرہ سے کہا :’’ یہ اللہ کے’’ نبی آخر الزماں‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ ہمارے علماء ( راہبوں) نے آسمانی کتابوں میں ان کے یہ اوصاف پڑھے ہیں اور ہم کو یہ تمام اوصاف بتائے ہیں۔ ( جو اِن میں موجود ہیں)

ایک اور مشاہدہ

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے میسرہ کے سامنے ہر وقت نئے نئے مشاہدات آرہے تھے اور وہ دل وجان سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گرویدہ ہوتا جا رہا تھا۔ملک شام کے سفر میں میسرہ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کیا۔ راستے میں سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے اونٹوں میں سے دو اونٹ بہت زیادہ تھک گئے اور بہت آہستہ آہستہ چلنے لگے جس کی وجہ سے میسرہ بھی ان دونوں اونٹوں کے ساتھ قافلے سے پیچھے رہ گیا۔جبکہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم قافلے کے اگلے حصے میں چل رہے تھے،میسرہ کو اپنے اور اُن دونوں اونٹوں کے متعلق فکر ہوئی ،اِس لئے وہ بھاگتا ہوا قافلے کے اگلے حصے میں پہنچا اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس پریشانی کی خبر دی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے ساتھ اُن اونٹوں کے پاس تشریف لائے اور اُن کی کمر کے پچھلے حصے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کچھ پڑھا ۔اِس کا اثر یہ ہوا کہ اونٹ اُسی وقت بالکل ٹھیک ہوگئے اور اتنا تیز چلے کہ پھر قافلے کے اگلے حصہ میں پہنچ گئے اور چلنے میں اپنی چُستی اور جوش کا اظہار کرنے کے لئے منہ سے آواز نکالتے جاتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ  پر دو فرشتے سایہ کرتے تھے

   ملک شام میں تمام مالِ تجارت فروخت کر کے اور مکہ مکرمہ میں فروخت کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سامانِ تجارت خرید لیااور تمام قافلے والوں نے بھی اپنی خرید و فروخت مکمل کر لی تھی اور مکہ مکرمہ واپسی کے لئے روانہ ہو گئے۔ میسرہ پورے دل و جان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگا ہوا تھا۔ اُس نے غور کیا کہ جب بھی شدت کی دھوپ پڑتی تھی تو دو بڑے فرشتے بڑے بڑے پرندے کی شکل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کئے رہتے تھے ۔ واپسی کے پورے سفر میں یہ منظرمیسرہ دیکھتا رہا۔اﷲ تعالیٰ نے میسرہ کے دل میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی بہت زیادہ محبت ڈال دی تھی ۔ اس سفر میں اُس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شرافت ،نیکی ،سچائی ،ایمانداری اور خوش اخلاقی دیکھی تھی جس نے اُس کا دل موہ لیا تھااور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میسرہ خود آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا غلام ہو۔

میسرہ کا مشورہ

   ملک شام سے واپسی کے اِس سفر میں جب یہ قافلہ ’’مر الظہران‘‘کے مقام پر پہنچا جو مکۂ مکرمہ اور مقام ’’عسفان‘‘کے درمیان ایک وادی ہے اور جس کو عام طور سے ’’بطن مرو‘‘کہا جاتا تھا اور اب ’’وادیٔ فاطمہ ‘‘کے نام سے مشہور ہے تو میسرہ نے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے کہا:’’کیا آپ (صلی ا ﷲ علیہ وسلم) پسند کریں گے کہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) ہم سے آگے بڑھکر پہلے میری مالکہ خدیجہ (رضی اﷲ عنہا)سے ملاقات کر لیں اور تمام تفصیلات سے آگاہ کردیں۔‘‘ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) اُن کو بتائیں کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ہاتھوں کتنا زبردست فائدہ عطا فرمایا ہے۔‘‘سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے میسرہ کے مشورہ کو قبول فرمایا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مکۂ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے اور دوپہر کے وقت داخل ہوئے۔ادھر مکہ مکرمہ والوں کو اندازہ تھا کہ اب ملک شام کا تجارتی قافلہ واپس آنے والا ہے۔ اسلئے مکہ مکرمہ کی عورتیں اپنے اپنے بالا خانوں ( آج کل ہم اسے بالکنی یاٹیرس کہتے ہیں) پر سے ملک شام کی طرف سے آنے والے راستے کی طرف دیکھتی رہتی تھیں اور مرد پہاڑیوں پر سے دیکھتے تھے۔ جب ملک شام سے واپس آنے والا قافلہ مکہ مکرمہ کے قریب آیا تو پور ے مکہ مکرمہ میں شور مچ گیا کہ تجارتی قافلہ واپس آگیا۔

اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا مشاہدہ

   سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے گھرکے بالا خانے پر آکر قافلے کی واپسی کا منظر دیکھنے لگیں ۔ انھیں یہ دیکھ کربڑی حیرانی ہو ئی کہ صرف ایک اونٹ سوار مکۂ مکرمہ میں داخل ہوااور اُس کے اوپر دو بڑے پرندوں نے سایہ کیا ہوا ہے اور جیسے جیسے سوار آگے بڑھتا جا رہا ہے تو پرندے مسلسل اُس پر سایہ کئے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ( یہ در اصل فرشتے تھے جو پرندوں کی شکل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سایہ کئے رہتے تھے) جب وہ سوار قریب آیا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہا نے اندازہ کر لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یقینا کوئی برگزیدہ شخصیت ہیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے مکان پر پہنچے تو وہ جلدی نیچے آئیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تجارتی سامان کی تمام تفصیلات بتائیں اور مکمل حساب دے دیا۔سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے میسرہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ قافلے کے ساتھ مر الظہران میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔اِس کے بعد جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا جلدی سے دوڑتی ہوئی پھر بالا خانے پر آئیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو جاتا ہوا دیکھنے لگیں ۔ایک مرتبہ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم انہیں اسی کیفیت میں دکھائی دیئے کہ دو بڑے پرندے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بہت بڑی شان والے ہیں۔

ورقہ بن نوفل نے تصدیق کی

   سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ دو فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سایہ کئے ہوئے چل رہے ہیں تو انھیں اندازہ ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم شخصیت ہیں۔ انھوں نے اس کا ذکر میسرہ سے کیا تو اُ س نے کہا کہ میں تو پورے سفر میں یہی دیکھتا آیا ہوں اور پھر اُس نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نسطورا راہب ( عیسائی عالم) کی تمام باتیں بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ نبی آخر الزماں‘‘ ہیں اورملک شام کے عیسائی شخص کی بات بھی بتائی جس نے بتوں کی قسم دی تھی۔اِس کے علاوہ میسرہ نے اِس طویل سفر میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی عفت و دیانت ،سیرت کی پختگی، کردار کی بلندی ،اپنے ساتھیوں اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ،معاملہ فہمی اور کروباری مہارت کے روح پرور مناظر اپنی آبکھوں سے دیکھے تھے اُن کا تفصیل سے ذکر کیا۔ میسرہ کی بات سننے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بہت بڑا کا م سونپنے والا ہے۔ اس کی تصدیق کے لئے وہ اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں ورقہ بن نوفل عیسائی مذہب قبول کر چکے تھے اور توریت اور انجیل کے عالم تھے۔سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے جو نشانیاں خود دیکھیں اور جو اُن کے غلام میسرہ نے بتلائی تھیں ،وہ سب انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نفل کو بتائیں۔ انھوں نے تمام باتیں سننے کے بعد کہا :’’ اے خدیجہ !جو باتیں میسرہ نے بتائی ہیں اگر وہ سچی ہیں تو جان لے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اس امت کے نبی ہیں۔ مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ اس امت کا نبی آنے والا ہے،دنیا میں(یہودی اور عیسائی ’’وہ آخری نبی‘‘کے شدت سے منتظر تھے) اس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ ہے۔‘‘ اپنے چچا زاد بھائی سے یہ تمام باتیں سننے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاکو پختہ یقین ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی’’ آخری نبی ‘‘ہیں اور اس بات نے اُن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکا ح کرنے کا خیال پیدا کیا۔

اسلام کی ’’خاتون ِ اوّل‘‘

   اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہابہت ہی سمجھ دار خاتون تھیں۔ اُن کی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کہتی ہیں۔ سیدہ خدیجہ اس بزرگی اور برتری کے ہوتے ہوئے بھی جو اللہ نے ان کے لئے چاہی تھی (کہ وہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی پہلی شریک حیات اور اسلام کی ’’خاتون ِاوّل‘‘بننے والی تھیں اور اُن کا گھر اسلام کی ’’اولین پناہ گاہ‘‘بننے والا تھا) حقیقت میں ایک عاقبت اندیش ، مستقل مزاج اور انتہائی شریف تھیں۔ اس وقت تمام قریش میں خاندان کے اعتبار سے زیادہ شریف، عزت کے اعتبار سے سب سے بڑی اور مال و دولت کے اعتبار سے سب سے بڑھ کر تھیں۔اپنے زمانے میں سید ہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نسب کے لحاظ سے قریش میں ’’اوسط‘‘،مرتبہ کے لحاظ سے اونچی ، دولت کے لحاظ سے سب سے زیادہ امیر اور حسن و جمال کے لحاظ سے سب سے بلند تر تھیں اور اپنی پاکدامنی اور پاکبازی کی وجہ سے اُن کو ’’طاہرہ‘‘یعنی پاکباز خاتون کہا جاتا تھا۔ قوم کے بہت سے لوگ ان سے نکاح کے خواہش مند تھے اور سب درخواست کر چکے تھے۔ لیکن سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکاح کرنا پسند کیا اور اسلام کی ’’خاتونِ اوّل‘‘ہونے کا شرف حاصل کیا۔

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست

   سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور آپ رضی اﷲ عنہا بیوہ تھیں ۔اِس کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہا کو اِتنی خوبیاں عطا فرمائی تھیں کہ قریش کا ہر شخص آپ رضی اﷲ عنہا سے نکاح کا خواہش مند تھا اور اپنے رشتے بھیجتے تھے،مگر آپ رضی اﷲ عنہا نے کسی کا رشتہ قبول نہیں کیا ۔لیکن جب سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم ملک شام سے آپ رضی اﷲ عنہا کا تجارتی سامان لیکر ملک شام سے واپس آئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت اور خصوصیات انہوں نے دیکھی تو انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت زیادہ لگاؤ پیدا ہو گیا اور انہوں نے اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ سے ملاقات کی۔نفیسہ بنت منیہ کہتی ہیں:’’قریش کے بہت سے لوگ سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے نکاح کرنا چاہتے تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہا کا رجحان حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف تھا ۔ انھوں نے میرے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک اپنی بات پہنچائی اور میں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’اے محمد !(صلی اﷲ علیہ وسلم ) آپ نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟‘‘آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھ سے کون نکاح کرے گی؟‘‘میں نے عرض کیا :’’اگر کوئی ایسی خاتون آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) سے نکاح کرنا چاہے جو حسن وجمال میں اور کردار میں پختہ ہو ،عزت دار ہو ،شرافت اور پاکبازی میں یکتا ہو تو کیا آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم اُسے قبول کرلیں گے؟‘‘آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:’’وہ کون ہے؟‘‘میں نے عرض کیا :’’وہ خدیجہ بنت خویلد ہیں۔‘‘

اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے جب نفیسہ بن منیہ نے عرض کیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نکاح کرنا چاہتی ہیں ۔امام عبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں :سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا عقل مند اور ہوشیار عورت تھیں ۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت کے طفیل اُن کے لئے بھی سرفرازیاں چاہتا تھا تو جب میسرہ نے انہیں وہ عظیم الشان خبریں سنائیں تو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں قاصد بھیجا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہلا بھیجا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ! آپ ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ساتھ رشتہ داری ،اپنی قوم میں آپ ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی بے مثال امانت داری،سچائی ،آپ ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے حسن اخلاق اور مضبوط کردار کی وجہ سے آپ ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی جانب میرا میلان ِ خاطر ہے ،پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نکاح کی استدعا کی۔ (سیرت النبی ابن ہشام)سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِس بارے میں اپنے چچاؤں سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے اجازت دے دی اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا رشتہ لیکر سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے چچا کے پاس لے گئے جو انہوں نے قبول کیااور ایک تاریخ مقرر کرلی۔مقررہ تاریخ پر قبیلہ مضر کے رؤسا ،مکۂ مکرمہ کے شرفا اور امراء جمع ہوئے ۔سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی طرف سے اُن کے چچا عمرو بن اسد وکیل بنے اور ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور بیس اونٹ مہر پر دونوں کا نکاح کر دیا۔ نکاح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس 25سال تھی۔ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس40سال تھی۔

ابو طالب کا خطبۂ نکاح

   سید الانبیاء صلی ا ﷲ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح ابوطالب نے پڑھایا اور اُس وقت ایک فصیح و بلیغ خطبۂ نکاح بھی ارشاد فرمایا:’’سب تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کھیتی سے معد کی نسل سے اور مُضر کی اصل سے پیدا فرمایا ۔نیز ہمیں اپنے گھر کا پاسبان اور اپنے حرم کا منتظم مقرر کیا،ہمیں ایک ایسا گھر دیا جس کا حج کی جاتا ہے اور ایسا حرم بخشا جہاں امن میسر آتا ہے ،نیز ہمیں لوگوں کا حکمراں مقررفرمایا ۔حمد کے بعد میرا یہ بھتیجا جس کا نام محمد بن عبداﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) ہے ،اِس دنیا کے جس بڑے سے بڑے آدمی کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا تو اِسی کا پلڑہ بھاری ہوگا۔اگر یہ مالدار نہیں ہے تو کیا ہوا ،مال تو ایک ڈھلنے والا سایہ ہے اور بدل جانے والی چیز ہے۔محمد( صلی اﷲ علیہ وسلم) جس کی قرابت کو تم خوب جانتے ہو ،اُس نے خدیجہ بنت خویلد کا رشتہ طلب کیا ہے اور ساڑھے بارہ اوقیہ سونا مہر مقررکیا ہے اور اﷲ کی قسم ! مستقبل میں اِس کی شان بہت بلند ہو گی ،اِس کی قدرو منزلت بہت جلیل ہو گی ۔‘‘اِس کے بعد ورقہ بن نوفل کھڑے ہوئے جو سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے چچا زاد بھائی ہیں اور جوابی خطبہ دیا:’’ سب تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ان عزتو اور انعامات سے نوازا جن کا ذکر آپ نے فرمایا ہے اور ہمیں وہ فضیلتیں بخشیں جن کو آپ نے گِنا ہے ۔پس ہم سارے ملک عرب کے سردار اور رہبر ہیں اور تم بھی اِن صفات سے متصف ہو۔قبیلہ کا کوئی فرد ان کا اانکار نہیں کرتا اور کوئی شخص تمہاری فضیلت کو رد نہیں کرتا۔ہم اپنا تعلق تم سے استوار کرنے میں بڑا اشتیاق رکھتے ہیں ۔ اے خاندان ِ قریش کے سردارو ! گواہ رہو ،میں نے خدیجہ بنت خویلد کا نکاح محمد بن عبد اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ساتھ کر دیا ہے۔‘‘اِس کے بعد ابوطالب نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اِس اعلان ِ نکاح میں خدیجہ کے چچا بھی شریک ہوں ۔عمرو بن اسد نے کہا:’’اے قبائل ِ قریش !گواہ رہنا ،میں نے خدیجہ بنت خویلد کا نکاح محمد بن عبد اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم )کے ساتھ کر دیا ہے اور اِس پر قریش کے سردار گواہ مقرر ہوئے ہیں۔‘‘(ضیا النبی) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ولیمہ کی دعوت فرمائی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک قول کے مطابق دو اونٹ ذبح فرمائے اور لوگوں کو دعوت ِ ولیمہ کھلائی۔(سیرت حلبیہ)

رسول اللہ ﷺ  سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بے انتہا محبت

   اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ان کی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کہتی ہیں۔ سیدہ خدیجہ بڑی ہوشمند ، بہادر اور شریف خاتون تھیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اُن کو سلیم القلب اور خیر پسند بنایا تھا۔ وہ قریش میں حسب و نسب ، فضل و شرف اور مال و دولت میں افضل و اعلیٰ تھیں۔ انھیں’’ طاہرہ ‘‘اور’’ سیدۂ قریش ‘‘کے القاب سے پکارا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ ( بیوی) ہونے کا شرف حاصل ہے اور جب تک آپ رضی اللہ عنہا حیات رہیں تب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی تمام محبتیں ، چاہتیں اور مال و دولت سب کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور کر دیااور بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک وفاشعارزوجہ ( بیوی) ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غمگسار دوست اور مدد گار بھی تھیں۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ  کی اولاد

   محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام اولاد اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔ (1) حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ان کے نام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت’’ ابو القاسم ‘‘ہے۔(2) حضرت طاہر رضی اللہ عنہ (3) حضرت طیب رضی اللہ عنہ( 4) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (5) سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا(6) سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا(7) سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا بیٹوں میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ سب سے بڑے ہیں۔ پھر حضرت طیب رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت طاہر رضی اللہ عنہ کی ولادت ( پیدائش ) ہوئی۔ صاحبزادیوں یعنی بیٹیوں میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سب سے بڑی ہیں۔ پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پھر سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا پھر سیدہ فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی۔ حضرت طیب رضی اللہ عنہ اور حضرت طاہر رضی اللہ عنہ کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا اور حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کا تو ایّام رضاعت میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں دختران ( بیٹیاں) نے اسلام کا زمانہ پایا اور اسلام قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ہجرت کی بھی فضیلت حاصل کی۔

وعدے کے مطابق تین دن تک کھڑے رہے

رسول اللہ ﷺ  نے منافق کی چار پہچان بتائی ہے۔ (1) جھوٹ بولے گا(2) وعدہ خلافی کرے گا۔ (3) غصہ میں گالی گلوچ کرے گا۔ (4) امانت میں خیانت کرے گا۔ آج ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اگر ہم ہمارا جائزہ لیں تو ان چاروں میں سے ایک نہ ایک بُری عادت ہم میں پائی جائے گی۔ لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عالم تھا کہ اعلان نبوت سے پہلے بھی ان بری عادتوں سے کوسوں دور تھے۔ حضرت عبداللہ بن ابی الحماء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلانِ نبوت سے پہلے ( زمانہ جاہلیت میں ) خرید و فروخت کا معاملہ کیا تھا اور میرے ذمہ کچھ باقی رہ گیا تھا۔ میں نے کہا :’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ذرا یہیں ٹھہریں ۔میں ابھی لا کر دیتا ہوں۔‘‘ لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا اور بالکل بھول گیا۔ تیسرے دن مجھے یاد آیا تو میں (بھاگتا دوڑتا اسی مقام پر) پہنچاتو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقام پر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بس اتنا ہی فرمایا :’’ تمہاری وجہ سے مجھے بہت تکلیف پہنچی۔ ‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں بھی ان تمام بری عادتوں سے پاک تھے جب پورا ماحول گناہوں والا تھا اور تمام لوگ ان بری عادتوں میں مبتلا تھے اور نادانی کی وجہ سے اسے اپنی چالاکی سمجھتے تھے۔ آج ہم سب اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ہم یہ عہد کریں کہ ان چار بری عادتوں کو بالکل چھوڑ دیں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہمیشہ سچ بولیں گے۔ ہمیشہ وعدہ کریں گے تو اسے پورا کریں گے۔ کبھی گالی گلوچ نہیں کریں گے اور ہر امانت کی پوری حفاظت کریں گے۔ انشاء اللہ

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

   حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ قبیلہ امری ٔ القیس الکلبی کے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والدین خاندانی رئیس تھے اور پشت ہا پشت سے دولت مند تھے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام سعدی بنت ثعلبہ ہے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے ساتھ اُن کے میکے یعنی ننیھال جا رہے تھے۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ 8سال تھی۔ راستے میں بنو قین کے سو اروں نے قافلے پر حملہ کر دیا اور تمام سازو سامان لوٹ لیا اور بچوں کو لے جاکر مباحثہ کے بازار میں بیچ دیا۔ ان بچوں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حکیم بن حزام بن خویلد نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خرید لیا اور مکہ مکرمہ لے کر آگئے۔

حضر ت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ  کی خدمت میں

   ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حکیم بن حزام نے ملک شام سے چند غلاموں کو خریدا اورمکہ مکرمہ لے کر آئے۔ اُن میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حکیم بن حزام سے ملنے اُن کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو انھوںنے اپنی پھوپھی سے کہا کہ ان غلاموں میں سے کسی ایک کو اپنی خدمت کے لئے لے لیں۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لے لیااور لا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا اور آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں رہنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے اتنی محبت سے پیش آتے تھے اور اتنا اچھا سلوک کرتے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرویدہ ہو گئے۔

حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے والد کی بے چینی اور بیٹے کی تلاش

   حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اُن کے والد کو بیٹے کے چھینے جانے کیاطلاع دی تو اُن کے والد حارثہ اپنے بیٹے کی تلاش میں نکل پڑے اور ہر قافلے والوں کو کہا کہ جس علاقے میں بھی پہنچنا تو اس علاقے والوں تک میرا یہ پیغام پہنچا دینا ۔ ہو سکتا ہے کہ میرے بیٹے تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ وہ پیغام چند اشعار تھے۔ جن کا ترجمہ یہ ہے۔ میں نے زید پر گریہ وزاری کی۔ حالانکہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا وہ زندہ ہے کہ اس کی امیدکی جا سکے یا پھر اس کو موت آئی ہے؟ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا۔ میں سراپا سوال ہوں کہ تمہیں میدان نے اُچک لیا یا پہاڑ نے چرا لیاہے۔ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تو کبھی لوٹ کر آئے گا تو پھر تیر ایہ لوٹنا میری دنیاوی خوشی کے لئے کافی ہوتا۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو مجھے تیری ہی یاد دلاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو تیری یا د مجھے گھیر لیتی ہے۔ جب ہوائیں چلتی ہیں تو تیری یاد کو میرے دل میں اور زیادہ کردیتی ہیں اور تیری جدائی کے غم کا سلسلہ کتنا طویل ہے۔ میں اعلیٰ نسل کی سانڈنی ( اونٹنی) کو زمین پر چلاتا رہوں گا اور نہ میں تجھے تلاش کرنے سے تھکوں ا اور نہ ہی میری اونٹنی تھکے گی۔ مجھے اپنی زندگی کی قسم میں زید کی تلاش میں سفر جاری رکھوںگا۔ یہاں تک کہ مجھے موت آجائے۔ ہر شخص فانی ہے۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا اپنے والد کو جواب

   تمام قافلے والے جس علاقے میں پہنچتے تھے تو اس علاقے کے لوگوں تک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے و الد کا پیغام پہچاتے تھے۔اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی بے چینی اور تلاش کے بارے میں معلوم ہواتو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کو پیغام ان اشعار کی صورت میںدیا،جن کا ترجمہ یہ ہے۔ میرے دل میں اپنی قوم کا شوق موجزن رہتا ہے۔ حالانکہ میں اپنے وطن سے بہت دور ہوں۔ میںایسے گھر میں رہتا ہوں جو مشاعر(صفا اورمروہ)کے قریب ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایک شریف خاندان میں زندگی بسر کررہا ہوں۔ جو بڑے کریم النفس ہیں اور پشت باپشت سے اپنے علاقہ کے رئیس ہیں۔

حضرت زید بن حارثہ کے والد مکہ مکرمہ میں

   حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے والد کو جب آپ رضی اللہ عنہ کا پیغام پہونچا تو وہ اور ان کے بھائی کعب مکہ مکرمہ آئے اور انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ اے عبد المطلب کے نورِنظر! اے اپنی قوم کے سردار کے بیٹے !آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے پڑوسی ہیں ( یعنی حرم شریف میں اللہ کے گھر خانہ کعبہ کے پاس رہتے ہیں ) قیدیوں کو رہائی عطا کرتے ہیں ۔ بھوکوں کو خانہ کھلاتے ہیں۔ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی خدمت میں اسلئے حاضر ہوئے ہیں ۔ تاکہ فدیہ لیکر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے بیٹے زید کو آزاد کردیں۔

والد کے ساتھ جانے سے انکار

   حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے والد اور چچا کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا اسکے علاوہ بھی اور کوئی کام مجھ سے ہے؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا :’’نہیں ۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں زید کو بلاتا ہوںاور اسے اختیار دیتا ہوں کہ اگر وہ تمھارے ساتھ جانا چاہے توتم فدیہ ادا کئے بغیر ہی اسے لے جاسکتے ہو اور اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں اتنا ظالم نہیں ہوں کہ زبردستی اپنے آپ سے الگ کردوں۔‘‘ ان دونوں نے عرض کیا:’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تو لطف واحسان کی انتہا کردی۔‘‘ اسکے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے پوچھا:’’ یہ کون ہیں؟‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’یہ میرے والد اور چچا ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ تمھیں لینے آئے ہیں۔ تمھیں اختیار ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ جانا چاہو تو جا سکتے ہو اور اگر چاہو تو میرے ساتھ رہ سکتے ہو۔ ‘‘حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ رہوں گا۔‘‘ ان کے والد نے کہا:’’ اے زید !کیا تُو اپنی آزادی ، اپنے والد، اپنی والدہ ، اپنے شہر اور قوم کو چھوڑ کر ان کی غلامی اختیا ر کرے گا؟‘‘حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ اے ابا جان! آپ کو کیا معلوم جن کے کے لئے میں آپ کو اور اپنی آزادی کو چھوڑ رہا ہوں اور جس ہستی پر میں یہ سب قربان کررہا ہوں،وہ کتنی دلربا اور دلکش ہے ۔ میں ان سے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے) کبھی جدا نہیں ہوں گا۔(اور مجھے ان کی غلامی منظور ہے)۔‘‘ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور قریش کی مجلس میں تشریف لائے اور فرمایا :’’ اے سردارانِ قریش !گواہ رہنا ، یہ میرا بیٹا ہے۔ جو میرا وارث بھی ہے اور موروث بھی ہے۔ ‘‘یہ حیران کن منظر دیکھ کر حارثہ کا دل کھل اٹھا اور وہ اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اسکے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہا جانے لگا اور تمام لوگ انھیں زید بن محمد کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ کئی برسوں بعد مدینہ منورہ میں جب سورہ احزاب نازل ہوئی تب تک لوگ انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہی کہتے تھے۔ لیکن جب سورہ احزاب کی آیت نمبر5میں اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ منہ بولا بیٹا اصل بیٹا نہیں ہوتا۔ تو پھر تمام لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو زید بن حارثہ رضی اﷲعنہ کہنے لگے۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا

   اسکے بعد سے زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ آخری وقت تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب چھوٹے تھے اور اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت نہیں فرمایا تھا۔ تب کا ایک واقعہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے بیا ن فرمایا ہے:’’ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کررہا تھا۔ خانہ کعبہ کے پاس ایک تانبے کا بت رکھا ہوا تھا، جسے اساف یا نائلہ کہا جاتا تھا اور مشرکین طواف کے دوران اسے چھوا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کرتے ہوئے جب ہم اس بت کے کے قریب پہونچے تو میں نے اس بت کو چھوا۔ یہ دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ طواف جاری رکھا اور سوچا اگلے چکر ضرور اسے ہاتھ لگائوںگا اور پھر دیکھوں گا کہ کیا ہوتاہے؟ لہٰذا میں نے اگلے چکر میں بھی اسے چھوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’بیٹے اس سے پہلے میں تمھیں منع کرچکا ہوں کہ اس بت کو ہاتھ نہ لگانا۔ آئندہ اس بات کا خیال رکھنا۔ ‘‘اسکے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’قسم ہے اس ذات کی ،جس نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی۔ اسکے بعد سے میں نے کبھی اس بت کو نہیں چھوا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور میں نے اسلام قبول کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں

رسول اللہ ﷺ  کے معاشی حالات بھی کافی اچھے ہوچکے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچائوں کے بھی معاشی حالات کافی بہتر تھے۔صرف ابوطالب کے معاشی حالات بہت خراب تھے۔ اسی دوران مکہ مکرمہ میں قحط پڑا اور ابو طالب غریبی کی وجہ سے پریشانی کاشکار ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو اپنے دوسرے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔وہ عطر کی تجارت کرتے تھے اور کافی امیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’ چچا جان! آپ تو جانتے ہیں کہ ابوطالب بہت غریب ہیں اور ان کی اولاد زیادہ ہے اور اپنی خودداری کی وجہ سے وہ کوئی مد د نہیں لیں گے۔ تو ہم ایسا کیوں نہ کریں کہ ان کی کچھ اولاد کے کفیل بن جائیں ، تاکہ ان کا خرچ کم ہو۔ ‘‘حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ راضی ہوگئے ، دونوں ملکرابو طالب کے پاس گئے اور یہی درخواست کی ۔ابو طالب نے کہا:’’ عقیل کو میرے پاس چھوڑ دو اور باقی جسے چاہو لے لو۔‘‘ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابیطالب رضی اللہ عنہ کو لیکر اپنے گھر آگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر کفالت بڑے ہونے لگے۔

خانہ کعبہ کی تعمیر نو

   اللہ تعالیٰ نے جب سے یہ دنیا بنائی ہے تب سے لے کر آج تک خانۂ کعبہ کی مکمل تعمیر نو صرف پانچ مرتبہ ہوئی ہے۔ ویسے تو خانہ کعبہ کی مرمت تو بہت مرتبہ ہوئی ہے۔ لیکن مکمل خانہ کعبہ کی نئے سرے سے تعمیر پانچ مرتبہ ہوئی ہے۔ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوارضی اللہ عنہا نے کی ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے وقت جو طوفان آیا اس میں خانہ کعبہ بھی بہہ گیا تھا۔ایک روایت کے مطابق وہ خانۂ کعبہ اُٹھا لیا گیا تھا اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا ،یہی ’’بیت المعمور‘‘ ہے اور فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں۔ دوسری مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ تیسری مرتبہ خانہ ٔ کعبہ کی مکمل تعمیر نو قریش نے اُس وقت کی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس35برس تھی۔ چوتھی مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کی مکمل تعمیر نو کی اور پانچویں مرتبہ حجاج بن یوسف نے مکمل تعمیر نو کی۔ ان پانچ مواقع کے علاوہ بہت مرتبہ خانہ کعبہ کی ضمنی تعمیر یعنی کسی حصے کی مرمت کی گئی ہے۔ جن میں سے ایک مرمت اس وقت ہوئی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو عمر لڑکے تھے۔ خانہ کعبہ کے بارے میں یہ مختصراً حالات پیش ہیں۔ تفصیل کے لئے علامہ ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر اور علامہ ابن جریر طبری کی تفسیر طبری دیکھیں۔

خانہ کعبہ کا شکستہ ہو جانا

   حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کا تعمیر کردہ خانہ کعبہ کئی ہزار برس گزرنے پر بوسیدہ اور شکستہ ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اور قریش وقتاً فوقتاً اس کی مرمت کرتے رہتے تھے۔ لیکن چونکہ خانہ کعبہ کے اطراف پہاڑٰیاں تھیں اور وادی نشیب میں ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی پہاڑیوں پر سے بہہ کر خانہ کعبہ اور اس کے اطراف میں بھر جاتا تھا اور سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ اسی لئے قریش نے خانہ کعبہ کی نئے سرے سے مکمل تعمیر نو کا ارادہ بنایا اور شکستہ اور بوسیدہ خانہ کعبہ کو منہدم کر کے نئے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی۔

خانہ کعبہ کی تعمیر کی تقسیم

   خانہ کعبہ کی تعمیر قریش کے تمام خاندانوں یا شاخوں یا قبائل میں تقسیم کی گئی ۔ دروازے کی جانب کا حصہ بنو عبد مناف اور بنو زہرہ کو سونپا گیا کہ وہ اس کی تعمیر کرے۔ پشت کا حصہ بنو جمح اور بنو سہم کو تعمیر کے لئے سونپا گیااور حطیم کا حصہ بنو عبد الدار اور بنو اسد اور بنو عدی کو سونپا گیاکہ وہ اس کی تعمیر کریں۔ تقسیم کے مطابق سب لوگوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کر دی۔ تعمیر ہوتے ہوتے ’’حجر اسود‘‘ تک آگئی ۔ تب قریش کا ہر خاندان یا قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ’’ حجر اسود ‘‘وہ نصب کرے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کو مارنے کے لئے تلواریں نکل آئیں۔ اس طرح کئی دن گزر گئے ۔ تب قریش کے بزرگوں نے طے کیا کہ کل صبح سب سے پہلے جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو گا۔ اس کو حَکم ( فیصلہ کرنے والا) بنا لیا جائے گا اور وہ جو فیصلہ کرے گا اسے سب قبول کرلیں گے۔

رسول اللہ ﷺ  کا فیصلہ

   قریش کے تمام خاندان یا قبائل کو یہ رائے پسند آئی اور سب لوگ اس پر متفق ہو گئے۔ جب تمام لوگ صبح کے وقت مسجد حرام میں پہنچے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے حرم شریف میں موجود ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کود یکھتے ہیں تمام لوگوں نے بے ساختہ کہا۔ یہ محمد’’ امین ‘‘ہیں، ہم ان کو حَکم بنانے پر راضی ہیں، یہ تو محمد’’ امین‘‘ ہیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاکیزہ شخصیت اور بے داغ کردار کی وجہ سے قریش کے لوگ اپنے جھگڑوں میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہی اپنا ثالث (فیصلہ کرنے والا)بنایا کرتے تھے۔کیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نہ کسی کی بے جا حمایت کرتے تھے اور نہ ہی مخالفت کرتے تھے ۔بلکہ ہمیشہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا معاملہ کھرا اور انصاف و دیانت کے بالکل مطابق ہوا کرتا تھا۔ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ’’ حجر اسود‘‘ قریش کا کون سا قبیلہ یا خاندان رکھے گا، اس بارے میں فیصلہ فرمادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگائی اور’’ حجر اسود ‘‘کو اس میں رکھ کر یہ فرمایا کہ ہر قبیلہ یا خاندان کا سردار اس چادر کو تھام لے، تا کہ اس شرف سے کوئی بھی محروم نہ رہے۔ اس فیصلہ کو سب نے پسند کیا اور سب نے مل کر چاد راٹھائی جب تمام لوگ چادر کو اٹھائے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں ’’حجر اسود‘‘ نصب کرنا تھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو اس کی جگہ نصب کر دیا۔ اس طرح قریش کے تمام لوگ مطمئن ہو گئے اور لڑائی ٹل گئی۔

رسول اللہ ﷺ  ’’معصوم عن الخطا ‘‘

   اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ خاتم النبین‘‘ بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر انبیاء کرام کا سلسلہ ختم ہوجانا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے تمام انسانوں اور جناتوں کا نبی اور رسول بنانا مقدر کردیا تھا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرقسم کی خطائوں سے محفوظ رکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم’’ معصوم عن الخطا‘‘رہے۔حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’جب میری نشوونما شروع ہوئی ۔اس وقت سے بتوں کی شدید عداوت اور نفرت اور اشعار سے سخت نفرت میرے دل میں ڈال دی گئی۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ جو عظیم تر منصب عطا کرنے والا تھا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر نہ ہوں،کیونکہ شاعری میں مبالغہ آرائی کی جاتی ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ یا سین کی آیت نمبر69میں فرمایا۔ (ترجمہ) ’’ہم نے آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو شاعری کا علم نہیں عطا کیا اور یہ علم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مناسب بھی نہیں ہے۔‘‘ ایک ترجمہ یہ بھی کیا جاتا ہے :’’ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر گوئی نہیںسکھائی اور یہ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم)کے شایان شان نہیں ہے۔ ‘‘

رویائے صالحہ (سچے خواب)

   حجر اسود کا فیصلہ کرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس 35سال ہو چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کا وقت آرہاتھا۔ اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’رویائے صالحہ‘‘ یعنی سچے خواب دکھائی دینے لگے۔ رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوخواب دیکھتے تھے وہ دن میں روبہ عمل ہوتے تھے۔ رویائے صالحہ’’ وحی نبوت‘‘ کا ایک نمونہ ہے۔ جس سے انبیائے کرام علیھم السلام کی نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے انبیائے کرام کو جو چیز دی جاتی ہے وہ خواب ہوتے ہیں یعنی جو خواب کی صورت میں نظر آتے ہیں تاکہ اُن کے دل مطمئن رہیں ۔اِس کے بعد اُن کے پاس’’ وحی‘‘ آتی ہے جو جاگنے کی حالت میں آتی ہے ۔جہاں تک انبیائے کرام علیہم السلام کے خوابوں کا تعلق ہے تو وہ ’’وحی ‘‘ہوتے ہیں اور سچے اور حق ہوتے ہیں۔بد خوابی یا طبیعت کی گرانی کا نتیجہ ہرگز نہیں ہوتے ہیںاور نہ ہی وہ خواب شیطانی واہمے ہوتے ہیں۔یہ اِس لئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام تک شیطان کی پہنچ نہیں ہوتی ہے۔ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء رویائے صالحہ سے ہوئی جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوکر رہتا۔ ‘‘رویائے صالحہ صبح صادق کی خبر دے رہے تھے کہ عنقریب آفتابِ نبوت طلوع ہونے والا ہے۔

رویائے صالحہ سے ابتداء

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کا وقت قریب آتا جارہا ریا تھا اور اِس کیابتداء ’’رویائے صالحہ ‘‘یعنی سچے خوابوں سے ہوئی۔قاضی بیضاوی لکھتے ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کی ابتداء سچے خوابوں سے اِس لئے کی گئی تاکہ نبوت یعنی رسالت لیکر فرشتے کی اچزنک آمد سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دہشت نہ ہو جائے اور انسانی قویاِسجوجھ کو سنبھال نہ سکیں کیونکہ چاہے فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نہ آئے جس پر اﷲ تعالیٰ نے اُس کو پیدا کیا ہے ،مگر پھر بھی انسانی قوی میں فرشتے کو دیکھنے کی طاقت نہیں ہے ۔اِسی طرح انسانی قوی نہ فرشتے کی آواز سننے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اُن خبروں کو برداشت کرنے کی قوت رکھتے ہیںجو فرشتہ لیکر آئے ،خاص طور سے نبوت اور رسالت کی خبر۔اِسی لئے یہ سچے خواب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو رفتہ رفتہ عادی اور خوگر بنانے کے لئے تھے۔یہاں فرشتے سے مُراد جبرئیل علیہ السلام ہیں۔

رسول اللہ ﷺ  کا غار حرا میں غور فکر

   رویائے صالحہ لگاتار رسول اللہ ﷺ  کو دکھائی دینے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غور فکر شروع کردیا۔ اور اسکے لئے غارحرا میں تنہائی اختیار کی ۔کیونکہ تنہائی میں غور فکر کرنے سے دماغ یکسو رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کئی کئی دنوں کا کھانا لیکر کر غارحرا میں چلے جاتے تھے اور سچے خوابوں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور فکر کرتے رہتے تھے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو پہلے ہی اندازہ ہوچکاتھاکہ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بڑا کام لینے والا ہے ۔ اسکی طرف ورقہ بن نوفل نے اشارہ بھی کیا تھا اور خود ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس بات کا مشاہدہ بھی کرتی رہتیں تھیںکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہی نرالی ہے۔ اسلئے وہ دل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگی رہتی تھیں اور منتظر تھیں کہ اللہ تعالیٰ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منصب پرکب فائز کرتا ہے، جس کی طرف ورقہ بن نوفل نے اشارہ دیا تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غور وفکر کے لئے غار حرا جانے لگے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کے لئے کھاناپانی تیار کرتی تھیں اور کبھی کبھی تو خود بھی کھاناپانی پہونچا دیا کرتی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل غار حرا میںغور فکر میں لگے رہے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتاری اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا پیغام لیکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔

بعثت کے وقت دنیا کے حالات

رسول اللہ ﷺ  پر وحی نازل ہونے سے پہلے ابتداء میں رویائے صالحہ یعنی سچے خواب دکھائی دینے لگے۔ ان خوابوں کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غورو فکر کرنے لگے اور اس کے لئے غارِ حرا میں تنہائی اختیار فرمائی اور زیادہ وقت غارِ حرا میں تنہائی میں گزارنے لگے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو غارِ حرا میں رسول اللہ ﷺ  کی خدمت میں بھیجا اور رسول اللہ ﷺ کو اس منصبِ نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ ہزاروں برسوں سے اپنی آسمانی کتابوں میں کرتا رہا اور تمام انبیائے کرام کو حکم دیتا رہا کہ وہ اپنی اپنی امتوں کو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتائیںکہ اگر وہ یعنی اُن کی اُمتیں اگر رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پائیں تو انھیں نبی اور رسول تسلیم کریں۔ اُن پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کو بھی حکم دیا تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں رسول اللہ ﷺ اعلانِ نبوت کردیں تو تم بھی ان کی اتباع کرنااور ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے اعلان ِ نبوت کیا اس وقت کوئی نبی یا رسول موجود نہیں تھے ،لیکن اُن کی امُتیں موجود تھیں۔ یوں تو پوری دنیا میں جو امتیں تھیں وہ شرک و بت پرستی میں مبتلاء ہو چکی تھیں۔ لیکن دو امتیں ایسی تھیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں اور وہ یہود ( بنی اسرائیل) اور نصاریٰ ( عیسائی ) تھیں۔ انہیں’’ اہلِ کتاب‘‘ کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے بھی اپنی اپنی آسمانی کتابوں میں ملاوٹ کر دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ پوری طرح حق کو چھپا نہیں سکے تھے۔ چونکہ یہ دونوں امتیں اپنی اپنی کتا ب کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ ( حالانکہ ان کی بھی اصل کتابیں محفوظ نہیں تھیں) اور رسول اللہ ﷺ کی آمد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ اعلانِ نبوت ‘‘کی منتظر تھیں۔ اس لئے مختصراً کچھ واقعات پیش کرکے ہم رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہونے کے بارے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان ِ نبوت کا تفصیلی ذکر کریں گے۔ انشاء اللہ

یہود( بنی اسرائیل ) رسول اللہ ﷺ کے منتظر تھے

   محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ احبار ( یہودیوں کے بڑے عالم) اور رحبان ( عیسائیوں کے بڑے عالم ) اہلِ کتاب میں سے ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب پہچانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عرب کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ کیوں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اپنی اپنی کتابوں میں تفصیل سے پاتے تھے۔ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرماے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اُن کی کتابوں میں محفوظ اور ثابت تھا ۔ ( لیکن حسد کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ اعلان نبوت ‘‘کے بعد انھوں نے اپنی کتابوں میں سے مٹا دیا تھا) اور ان لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’عہد و میثاق‘‘ لیا جا چکا تھا۔ ان کے انبیائے کرام کے عہد میں اور ان کی کتابوں میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ( نقل) اور ایمان لانے اور مدد کرنے کا ’’میثاق ‘‘لیا گیا تھااور اسی بنا پر وہ مشرکوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے غلبہ حاصل کر نا چاہتے تھے اور اسی کی دعا کرتے تھے۔ وہ لوگ مشرکین کو اس بات کی خبر دیا کرتے تھے کہ’’ ایک نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث ہونے والے ہیں۔ ’’ دین ابراہیم‘‘ کے ساتھ مبعوث ہوں گے۔ اُن کا نام’’ احمد‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ کی خبر انصار کو ایک یہودی نے دی

   مدینہ منورہ میں’’ انصار‘‘ رہتے تھے۔ ان کے دو بڑے قبیلے’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘نام کے تھے۔ قبیلہ اوس کی ایک شاخ یا خاندان کا بنو عبد الاشہل ہے۔ اس شاخ یا خاندان سے حضرت سلمہ بن سلامتہ بن دقش رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ بدری صحابی ہیں محمد بن اسحاق ، حضرت سلمہ بن سلامتہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:’’ ایک یہودی شخص ہمارا پڑوسی تھا، وہ اپنے گھر سے نکل کر ایک روز ہمارے پاس آیا۔ بنی عبدا لاشہل کے لوگ ( انصار) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سب سے کم عمر میں تھا اور اپنے گھر کے صحن میں لیٹا اُن کی باتیں سن رہا تھا۔ اُس شخص نے قیامت ، حساب ، میزان ، جنت اور دوزخ کا ذکر کیا۔ اس وقت انصار شرک میں مبتلا تھے اور مرنے کے بعد کی زندگی کے قائل نہیں تھے۔ انھوں نے حیرت سے پوچھا:’’ کیا ایسا ہوگا؟‘‘ اس یہودی نے کہا :’’ یقینا ہوگا اور دوزخ کی آگ اتنی شدید ہے کہ اس کے مقابلے میں تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند کرو گے۔ ‘‘ بنو عبدالاشہل کے انصار نے پوچھا:’’ اس کی نشانی کیا ہے؟ ‘‘ اس یہودی نے مکہ مکرمہ اور یمن کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ ان شہروں میں سے کسی ایک شہر سے’’ ایک نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) اٹھایا جائے گا۔‘‘ انھوں نے پوچھا :’’ وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )کب اٹھایا جائے گا؟‘‘ اس یہودی نے میری طرف دیکھا اور کہا:’’ ہو سکتا ہے یہ لڑکا’’ اُن آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا زمانہ پالے گا۔ ‘‘حضرت سلمہ بن سلامتہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ لیکن وہ یہودی شخص گھمنڈ اورحسد کی وجہ سے ایمان نہیں لایا۔ ہم نے اس سے کہا:’’ تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے ہی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا اور اب تو خود ان کا انکار کر رہا ہے۔ ‘‘ اس نے کہا:’’ہاں میں نے ہی تمہیں بتایا تھا۔ لیکن یہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ نہیں ہیں۔‘‘

عیسائی ( نصرانی ) بھی رسول اللہ ﷺ کے منتظر تھے    

   اس سے پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے حالات میں بحیریٰ راہب کا ذکر کر چکے ہیں کہ وہ کس بے چینی سے رسول اللہ ﷺ کا منتظر تھا اور لگ بھگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 12بارہ برس تھی تو اس نے خدمت کرنے کا شرف بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد اعلان ِ نبوت سے پہلے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں آپ نسطورا راہب کا واقعہ بھی پڑھ چکے ہیں۔ انجیل میں تو رسول اللہ ﷺ کا بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ ہم یہاں قرآن پاک کی وہ آیت پیش کر رہے ہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا م نے اپنی امت کو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بشارت دی۔ ( ترجمہ) ’’اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ سے پہلے جو توریت نازل ہوئی ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک’’ عظیم الشان رسول ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) تشریف لائیں گے۔ جن کا نام’’ احمد‘‘ ہے۔ ( سورہ الصف آیت نمبر 61) اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے توریت اور انجیل میں اتنے زیادہ اوصاف بیان فرمائے ہیں کہ اگر انھیں تحریر کریں تو ایک بہت ضخیم کتاب بن جائے گی ۔ اس لئے ہم یہاں مختصر میں انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان تحریر کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:’’پس کاش’’ منحمنا‘‘( محمد) آگئے ہوتے ،جن کو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف بھیجے گااور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں گے اور میری تصدیق کریں گے۔‘‘ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ’’ منحمنا ‘‘سِریانی زبان کالفظ ہے۔ جس کا عربی معنی اور مفہوم ’’محمد‘‘ ہوتا ہے۔اسی طرح رومی زبان کا لفظ’’ پر قلیطس‘‘ یا ’’فار قلیط‘‘ ہے۔ جس کا معنی اور مفہوم عربی زبان میں ’’محمد‘‘ اور’’ احمد ‘‘ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں