جمعہ، 14 جولائی، 2023

03 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


03 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 3


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر، اسود عنسی کی بغاوت، اسود عنسی کا انجام، خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی، نبوت کے جھوٹے دعویدار، مُرتدین کے نام تفصیلی خط، باغیوں کو صاف جواب، باغیوں سے جنگ، مسلمانوں کی فتح


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حجتہ الوداع“ہونے کے بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہی ملک یمن کی امارت کا انتظام فرمایا۔اسے کئی اشخاص میں تقسیم کردیا اور ہر شخص کو ملک یمن کے خاص خاص رقبوں کا عامل(گورنر)مقرر فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حضر موت “میں بھی گورنروں کا تقرر کیا۔حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ عنہ کو نجران کا گورنر مقرر کیا۔حضرت خالد بن سعیدبن عاص رضی اﷲ عنہ کو بحران،رمع اور زبید کے درمیانی علاقے کا والی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن شہر رضی اﷲ عنہ کو ہمدان کا والی مقرر کیا۔حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا والی مقرر کیا۔حضرت طاہر بن ابی ہالہ کو عک اور اشعرین کاوالی،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو مارب کا والی،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو جند کا والی مقرر فرمایا تھا۔اسی طرح حضر موت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والی(گورنر)مقرر فرمائے تھے۔حضرت عکاشہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو عکاسک اور سکون کا والی مقرر فرمایااور حضرت عبد اﷲ بن مہاجر کو بنو معاویہ بن کندہ کا والی مقرر فرمایا تھا،جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔اُن کی جگہ عارضی طور سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن لبید رضی اﷲ عنہ کو والی مقرر کیا تھا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اُنہیں بھیجا۔ان سب کے علاوہ حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک یمن اور حضر موت کا معلم(اسلام کی تعلیمات دینے والا) بنایا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل ملک یمن اور حضر موت کا دورہ کرتے رہتے تھے ،اور اسلام کی اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔(تاریخ طبری ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کی بغاوت


   اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے اسود عنسی نے مسلح بغاوت کی۔اس کا نام عبہلةبن کعب بن غوث ہے اور اُس کے شہر کو کہف حنان کہا جاتا تھا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔عبید بن مخر سے مروی ہے کہ ہم جند میں تھے اور ہم نے وہاں کے باشندوں کا معقول انتظام کرلیا تھااور اُن سے معاہدے لکھوا لئے تھے کہ اتنے میں اسود عنسی کا خط ہمارے پاس آیا۔جس میں لکھا تھا کہ ”اے لوگو!جو ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اُس علاقے کو جس پر تم نے قبضہ کرلیا ہے ہمارے حوالے کر دو۔ جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ ہمیں دے جاو¿ کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیںاور تم کو کوئی حق نہیں ہے۔“ہم نے اُس کے پیامبر سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے کہا ۔کہف حنان سے۔اس کے بعد اسود نے نجران کی طرف رُخ کیا اور اپنے خروج کے دس دن بعد اُس نے نجران پر قبضہ کر لیا۔مذحج کے عوام اُس کے ساتھ ہو گئے۔ہم ابھی اپنی حالت پر غور کر رہے تھے اور اپنی جماعت کو جمع کر رہے تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ اسود ”شغوب “میں آچکا ہے اور حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکل چکے ہیں۔یہ اسود کے خروج کے بیس دنوں بعد کا واقعہ ہے۔ہم اُن دونوں کے مقابلے کے نتیجے کے منتظر تھے کہ دیکھیں کسے شکست ہوتی ہے؟کہ ہمیں خبر ملی کہ اسود عنسی نے حضرت شہر بن باذام کو شہید کر دیا ہے اور ابناءکو شکست ہوئی ہے۔اسود عنسی نے اپنے خروج کے پچیس دنوں بعد صنعاءپر بھی قبضہ کر لیا ہے اور حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ وہاں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے جو ”مارب “میں تھے۔ وہ دونوں یمن کو چھوڑ کر حضر موت میں داخل ہو گئے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ قبیلہ سکون میں ٹھہر گئے اور حضرت ابو بوسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ عکاسک کے پاس اُس علاقے میں جو مفور اور مغازہ جو اُن کے اور مارب کے درمیان متصل تھاوہاں فروکش ہو گئے۔حضرت عمرو اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہم مدینہ منورہ لوٹ آئے اور بقیہ یمن کے عاملین حضرت طاہررضی اﷲعنہ کے پاس چلے آئے۔وہ اُس وقت صنعا کے گرد ”عک“کے علاقے کے وسط میں مقیم تھے۔اُس وقت تک حضر موت کے صحراءصہیہ سے لیکر طائف کے علاقے سے عدن کی جانب بحرین تک کا علاقہ اسود عنسی کے قبضے میں آ چکا تھا۔پورا یمن اُس کے ساتھ ہو گیا تھا۔البتہ تہامہ کے قبائل ”عک“اُس کے مخالف تھے۔اُس کی کیفیت ایک جہاں سوز آگ کے جیسی تھی،کہ جدھر بھی اُس نے رُخ کیا سب کو جلا دیا۔اُس کی حکومت قائم ہو گئی تھی اور اُس کی شان و شوکت بہت بڑھ گئی تھی۔سواحل میں سے حاز،شارجہ،حردہ،غلافقہ،عدن اور جند پر اُس کا قبضہ ہو گیا تھا۔ممالک میں صنعاءسے لیکر طائف کی جانب اخسیہاور علیب تک کا علاقہ اُس کے قبضے میں تھا۔مسلمانوں نے اُس سے رحم کی درخواست کر کے امان حاصل کی اور مرتدین نے اُس سے کفر اور اسلام کو چھوڑ دینے کے وعدے پر معاملہ کرلیا۔مذحج میں اُس کا نائب عمرو بن معدی کرب تھا،اسی طرح اُس نے اپنے اُمور سلطنت کو کئی آدمیوں کو تفویض کیا تھا۔(تاریخ طبری جلد ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کا انجام


   یمن میں اسود عنسی اپنی حکومت قائم کرچکا تھا۔قیش بن عبد یغوث اُس کی فوج کا سپہ سالار تھا،ابناءکی سرداری فیروز اور دازویہ کے سپرد تھی۔یہاں اسود عنسی نے ایک بہت بڑی غلطی کی۔اس نے حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کی بیوہ سے شادی کرلی۔جس کی وجہ سے فیروز اُس سے بد ظن ہو گیاکیونکہ وہ فیروز کی چچا زاد بہن تھی۔دوسری بڑی غلطی اُس نے یہ کی کہ قیس اور دازویہ پر باغی ہونے کا شک کرنے لگا۔ہم اسی پریشانی میں حضر موت میں مقیم تھے اور ہم اس اندیشے میں مبتلا تھے کہ پتہ نہیں اسود خود ہم پر حملہ کرے گا یاہمارے مقابلے پر فوج بھیجے گایا پھر حضر موت میں بھی کوئی شخص اسود کی طرح جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے خروج کرے گا۔ہم حیران وپریشان تھے کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط ملا۔جشیش بن الدیلمی سے مروی ہے کہ حضرت دبر بن یحسنس رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط لیکر ہمارے پاس آئے۔اس خط میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اسلام پر قائم رہیںاور لڑائی یا حیلے سے اسود کے خلاف جنگی کاروائی کریں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیغام کو اُن لوگوں تک بھی پہنچائیں جو اِس وقت اسلام پر جمے ہوئے ہیں۔حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ اُسی وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنے نکل پڑے اور گھوم گھوم کر راسخ مسلمانوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے لگے۔ہم نے فیروزاور قیس سے ملکر اُنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔فیروز تو پہلے ہی اسود سے بد ظن تھا۔ادھر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کی کوششوں سے اچھے خاصے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہو گئے۔اسود عنسی پر اس کا بہت اثر ہوا ،اور اُسے اپنی موت نظر آنے لگی۔


خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی


   ادھر یمن میں مسلمانوں کی کاروائی جاری تھی۔جشیش بن الدیلمی آگے فرماتے ۔ہم لوگ قیس سے ملے اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔وہ بہت خوش ہوا کیونکہ وہ اسود عنسی کے برتاو¿ کی وجہ سے اُس سے بد ظن ہو گیا تھا۔فیروز اور قیس کو بلا کر اسود عنسی نے کہا کہ تم مسلمانوں سے مل گئے ہواور قتل کی دھمکی دی۔(یہاں ہم مختصر ذکر کر رہے ہیں،مفصّل ذکر آپ تاریخ طبری اور تاریخ ابن کثیر میں پڑھ سکتے ہیں۔)اس کے بعد فیروز نے طے کرلیا کہ کسی بھی صورت میں اسود عنسی کو قتل کردے گا۔اس کے لئے وہ اپنی چچا زاد بہن سے ملا اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام سنایااور یہ بتایا کہ اگر میں اسود کو قتل نہیں کروں گا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔وہ اسود کی بیوی تھی لیکن سچی مسلمان تھی،اُس نے بتایا کہ محل میں بہت زبردست پہرہ رہتا ہے لیکن یہاں میرے محل کی پچھلی دیوار پر پہرہ نہیں رہتا ہے۔ فلاں رات کو اسودعنسی میرے پاس آئے گا،اُس رات کو تم پچھلی دیوار میں نقب لگا کر آجانا اور اُسے قتل کر دینا۔اس کے بعد فیروز ہمارے پاس آیا اور اس نے ساری منصوبہ بندی بتائی۔قیس اور دازویہ اُس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔یہ تینوں رات میں نقب لگا کر اندر پہنچے۔فیروز کی چچا زاد بہن نے اُن کی مدد کی۔اسود عنسی بہت طاقتور اور سخت جان تھا اور اُس نے بہت مزاحمت کی لیکن ان چاروں نے ملکر کسی نہ کسی طر ح اُسے قتل کردیا ۔صبح دازویہ نے اذان دی تو سب لوگ حیران ہو کر محل کے اطراف جمع ہو گئے (کیونکہ اسود نے اذان بند کرا دی تھی)فیروز محل کی فصیل پر اسود کا سر لیکر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکارا:”میں اعلان کرتا ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور یہ بد بخت اسود عنسی عبہلہ کذاب(جھو ٹا)تھا۔“پھر اُس نے اسود کا سر اُن کے سامنے ڈال دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جس رات اسود عنسی مارا گیا اُسی وقت اُسکے قتل کی اطلاع اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صبح ہم کو بشارت دی کہ کل رات اسود عنسی کو قتل کردیا گیا ہے۔اُسے ایک مبارک آدمی جو ایک مبارک خاندان کا فرد ہے نے قتل کیا ہے۔ہم نے عرض کیا :”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ کون ہے؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:فیروز!فیروز کامیاب ہوا۔“لیکن باقاعدہ قاصد کے ذریعے اسود کے قتل کی اطلاع خلیفہ ءاول کو اُس وقت ملی جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر اُسامہ کو بھیج چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ربیع الاول کے آخری دنوں میں لشکر اُسامہ کو روانہ کیا تھا ۔اور اس کے بعد ہی اسود عنسی کے خاتمے کی خبر لیکر یمن سے قاصد آیا۔لشکر اُسامہ کے جانے کے بعد یہ پہلی فتح کی بشارت تھی جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں ملی۔(تاریخ طبری)


نبوت کے جھوٹے دعویدار


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کے بعدحالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اس دوران کئی نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوگئے ۔اسود عنسی کا انجام ذکر ہو چکا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے والد محترم حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اورلشکرِاُسامہ کی روانگی کے بعدتمام خاص و عام عرب مرتدہوگئے۔مسیلمہ اور طلیحہ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا،اُن کی جماعت اور طاقت بہت بڑھ گئی،قبیلہ بنو طے اور بنو اسد، طلیحہ اسدی کے ساتھ ہو گئے۔ اسی طر ح بنو اشجع اور بنو غطفان کے بعض خاندانوں کے خاص لوگوں کے علاوہ تمام غطفان مرتد ہوگئے۔قبیلہ بنو ہوازن متردد تھے،انہوں نے بھی ذکوٰة کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔البتہ بنو ثقیف اسلام پر قائم رہے اور اُن کی اقتداءمیں بنو جدلہ اور بنو اعجاز بھی عام طور پر اسلام پر قائم رہے ۔لیکن بنو سلیم کے خواص مرتد ہو گئے اور یہی حال تمام قبائل عرب کا تھا۔یمن ،یمامہ اور بنو اسد کے علاقوں سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے عاملین(گورنروں)اور اُن اشخاص کے نمائندے جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسود ،مسیلمہ اور طلیحہ کی مدافعت اور مقاو مت کا حکم بھیجا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس واقعات اور خطوط کے ساتھ آئے ۔یہ سب خط اُنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دیئے اور زبانی تمام حالات بیان کئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں ذرائع سے اُن سب کا مقابلہ شروع کیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم استعمال کر چکے تھے۔کہ مراسلت شروع کی ۔جو قاصد اب آئے تھے اُن کو تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حکم سے واپس بھیج دیا،مگر اُن کے عقب میں اپنے دوسرے قاصد اس غرض کے لئے روانہ کئے۔(تاریخ طبری)


مُرتدین کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مرتد قبائل کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا اور اپنے قاصدوں کو دیکر الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”قطع حجت “کے لئے مرتدین کی طرف بھی ایک ایک خط روانہ کیا تھا۔یہ تمام خطوط ایک ہی مضمون کے تھے،جس میں بسم اﷲ کے بعد یہ لکھا تھا۔”یہ ابوبکر خلیفة الرسول(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے! اُس شخص کے لئے ہدایت ہے جس کے پاس یہ فرمان پہنچے۔چاہے وہ عام ہو یا خاص اور اسلام پر قائم ہو یا نہ ہو۔اُس پر سلام ہو !جس نے ہدایت کی اتباع کی اور گمراہی اور خواہش نفس کی طرف نہیں لوٹا۔اُس اﷲ کی تعریف ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جو اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہ ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم جو دین لیکر آئے ہیںاُس پر ایمان لاتا ہوں اور انکار کرنے والے کو مردود سمجھتا ہوں اور اُس سے جہاد کے لئے تیار ہوں۔(اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نبوت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کو عمدہ طریقے سے بیان کیا اور خوب خوب نصیحتیں کیں۔)پھر لکھا ۔میں فلاں کو مہاجرین اور انصار اور تابعین کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنے والا ہوں۔ میرا حکم ہے کہ وہ کسی سے نہ لڑے اور کسی کو نہ مارے،جب تک کہ اسلام کی دعوت نہ دیدے۔پھر جس نے کلمہ پڑھ لیا ،اسلام قبول کر لیااور برائیوں سے رُک گیا اور نیک اعمال میں لگ گیا،اُس کا اسلام قابل قبول ہے اُس کی مدد کی جائے گی اور جو اسلام سے انکار کرے گا،اُس سے لڑنے کی اجازت اُس وقت تک ہے،جب تک کہ اُس میں کفر کا اثر باقی ہے۔پھر جو اسلام لے آئے گا اُس کے لئے بہتری ہے اور جو اسلام نہیں لائے گا تو وہ اﷲ کو عاجز کرنے سے رہا۔میں نے قاصد کو حکم دے دیا ہے کہ وہ یہ خط مجمع ¿ عام میں پڑھ کر سنائے اور تمہاری اذان کے ذریعے دعوت دے ۔پھر اگر مسلمان کی اذان سُن کر لوگ بھی اذان دینے لگیں تو اُن سے رُک جاو¿ اور اگر اذان نہ دیں تو اُن سے اذان نہ دینے کی وجہ پوچھو۔اگر وہ انکار کر دیں تو اُن کے بارے میں جلدی کرو اور اگر یہ اقرار و توبہ کرلیںتو اُن کی توبہ قبول کر لی جائے اور اُن کے لئے مناسب احکام جاری کر دیئے جائیں۔ (تاریخ ابن خلدون،جلد ۱)


مُرتدین کے نام تفصیلی خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کے نام ایک ہی طرح کا خط لکھا تھا۔اوپر ہم نے جو علامہ عبد الرحمن ابن خلدون کی روایت کا خط پیش کیا ،وہ مختصر تھا۔اس خط کو علامہ محمد بن جریر طبری نے بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے۔وہ بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔امام طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا،وہ حسب ذیل ہے۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔یہ خط ابو بکر خلیفہ ¿ رسول اﷲ(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی جانب سے! اُن تمام عام اور خاص لوگوں کے نام ہے۔جن کو یہ موصول ہو،چاہے وہ اسلام پر قائم ہوں یا مُرتد ہو گئے ہوں۔سلامتی ہو اُن پر جنہوں نے راہِ راست کی اتباع کی اور ہدا یت کے بعد گمراہی اختیار نہیں کی۔میں تمہارے سامنے اُس معبود ِ حقیقی کی جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے تعریف کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اﷲ وحدہُ لا شریک ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں۔اﷲ کا جو پیام وہ ہمارے لئے لائے ہیںہم اُس کا اقرار کرتے ہیں اور جو انکار کرے ہم اُسے کافر سمجھتے ہیں اور اُس سے جہاد کریں گے۔ا ﷲ تعالیٰ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو واقعی اپنی جانب سے اپنی مخلوق کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اﷲ کی جانب سے اُس کے حکم کی دعوت دینے والا اور ایک روشن شمع بنا کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ جو زندہ ہوںاُن کو اﷲ کا خوف دلائیں اور اس طرح منکرین کے خلاف بات پکی ہو جائے۔جس نے اُن (صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بات مانی اﷲ نے اُسے راہ راست بتا دی اور جس نے انکار کیا،رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے اُسے اچھی طرح سزا دی۔یہاں تک کی اُس نے خوشی سے یا بادل نخواستہ اسلام قبول کر لیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا مگر وہ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے حکم کو پوری طرح نافذ کر چکے تھے اور اِس اُمت کے ساتھ مخلصانہ خیر خواہی کر چکے ہیں۔(اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وسال کے بارے میں قرآن پاک کی آیات لکھیں،اس کے بعد آگے فرمایا)میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس طرح اپنا حصہ اور نصیبہ اُس سے حاصل کرتے رہو۔تاکہ تمہارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جو اﷲ کا پیغام تمہارے پاس لائے ہیں اُس سے بہرہ ور ہو سکو،اور اﷲ کی ہدایت پر گامزن رہو۔ جسے اﷲ نے گمراہ کر دیاوہ بالکل گمراہ ہے اور جب تک کوئی اسلام قبول نہ کرلے نہ دنیا میں اُس کا کوئی عمل قبول ہو گااور نہ آخرت میں کوئی بدلہ یا معاوضہ قبول کیا جائے گا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگ اسلام لانے اور اُس پر عمل پیرا ہونے کے بعد اُس سے مُرتد ہو گئے ہیں۔اُن کو یہ جسارت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے متعلق غلط اندازہ قائم کیا ہے اور اُس کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیںاور انہوں نے شیطان کے اغوا کو قبول کرلیا۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔اُس کی جماعت تم کو اس لئے اغوا کرتی ہے کہ تم دوزح میں جاو¿۔“میں نے فلاں شخص کو مہاجرین، انصار اور تابعین کی جمیعت کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا ہے اور اُن کو حکم دیا ہے کہ جب تک وہ اﷲ کا پیغام تم تک نہ پہنچا دیںتب تک نہ تو کسی سے جنگ کریں اور نہ ہی کسی کو قتل کریں۔لہٰذا جو اِس دعوت کو قبول کرکے اس کا اقرار کرلے اور اپنے موجودہ طرز عمل سے باز آ جائے ،اور عمل صالح کرنے لگے تو اس کے اقرار اور عمل کو قبول کر کے اُس پر بقاءاور قیام کے لئے اُس شخص کی اعانت کی جائے۔ جو اِس پیغام کو رد کردے ،اُس کے متعلق میں نے حکم دیا ہے کہ اِس انکار کی وجہ سے اُس سے جنگ کی جائے اور پھر جس پر قابو چلے ،اُس کے ساتھ ذرا بھی رحم نہ کیا جائے اور بُری طرح قتل کیا جائے۔اُس کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیا جائے اور اسلام کے سوا کسی بات کو قبول نہیں کیا جائے۔جو اسلام کی اتباع کرے گاوہ اُس کے لئے بہتر ہے اور جو انکار کرے تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اﷲ سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیامبر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اِس خط کو ہر مجمع میں پڑھ کر سنا دیںاور ہمارا شعار اذان ہے،لہٰذا جب مسلمان اذان دیں اور مرتدین بھی اذان دیں تو خاموشی اختیار کی جائے۔ اگر وہ اذان نہ دیں تو فوراً اُن کی خبر لی جائے اور اذان دینے کے بعد بھی اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کس مسلک پر ہیں؟اگر وہ اسلام سے انکار کریں تو فوراً اُن سے جنگ شروع کر دی جائے اور اگر وہ اسلام کا اقرار کر لیں تواُن کے بیان کو قبول کر کے اُن پر اسلام کی خدمت عائد کی جائے۔“


باغیوں کو صاف جواب


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شدید بے چینی سے لشکر اُسامہ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔اسی دوران قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان ،بنو اسد،اور بنو کنانہ اچھا خاصہ لشکر لیکر آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں،قبیلہ بنو عبس اور بنوذیبان جوش مردانگی سے اُبل پڑے بنو عبس نے” ابرق “میں اور بنو ذیبان نے ”ذی القصہ “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ بنو اسد اور بنو کنانہ کے بھی کچھ لوگ تھے۔اُن لوگوںنے متفق ہو کر چند آدمیوں کو بطور وفد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اس وفد نے نماز کی کمی اور ذکوٰة کی معافی کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر ایک عقال(جس رسی سے اونٹ کے پاو¿ں باندھتے ہیں۔)بھی کم دیں گے تو میں تم سے جنگ کروں گا اور پانچ وقت کی نماز میں سے ایک رکعت کی بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔(تاریخ ابن خلدون،جلد نمبر ۲)امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرما تے ہیںکہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ملک عرب کے بعض لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن ذکوٰة نہیں دیں گے۔پس میں خلیفہ¿ اول کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا:”یا خلیفہ¿ رسول !لوگوں کی تالیف قلوب کیجیئے اور اُن کے ساتھ مرو¿ت اور نرمی کا برتاو¿ کیجیئے“۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے توتم سے بھر پور تعاون کی اُمید تھی اور تُم مجھے ہی پست کئے دے رہے ہو۔تم زمانہءجاہلیت(اسلام سے پہلے)میں تو بڑے جری اور بہادر تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد اس قدر کمزور پڑ گئے۔بتاو¿ میں کس طرح اُن کی تالیف قلب کروں؟اُن کے ساتھ باتیں بناو¿ں یا اُن پر افسوں اور جادو کر دوں؟افسوس صد افسوس،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے ہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے ،میں ذکوٰة نہ دینے والوں سے اُس وقت تک جنگ کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ ذکوٰة دینے میں راضی نہ ہو جائیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اِس معاملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو میں اپنے سے ذیادہ مستعد اور اجرائے احکام پر سخت پایا ہے۔امام ذہبی بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر جب چاروں طرف عام ہوئی توملک عرب کے بہت سے قبیلے مُرتد ہو گئے اور ادائیگی زکوٰة سے گریز کرنے لگے۔یہ صورت حال دیکھکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے جنگ کا ارادہ کیا۔اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ اِس وقت اِن سے جنگ کرنا مناسب نہیں ہے۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر یہ لوگ ایک رسی یا ایک بکری کا بچہ بھی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں زکوٰة میں دیا کرتے تھے ،اب اُسے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔“اِس پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کس طرح اُن لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے جب کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ فرما چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُس وقت تک لڑوں ،جب تک وہ لا الٰہ الا ا ﷲ نہ کہیں(یعنی ایمان نہ لے آئیں)اور جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا(یعنی ایمان لے آئے)اُس کا مال ،اُس کی جان اور اُس کا خون بہانامجھ پر منع کر دیا گیا ہے۔سوائے ادائے حق کے اور اُس کا حساب اﷲ کے ذمہ ہے۔جب یہ حکم موجود ہے تو آپ رضی اﷲ عنہ ان سے کس طرح جنگ کر سکتے ہیں؟“اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ا ﷲ کی قسم !میں اُن سے نماز اور زکوٰة میں فرق کرنے کی وجہ سے جنگ کروں گاکیونکہ زکوٰة بھی بیت المال کا حق ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حق پر جنگ کی جائے۔“یہ سُن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم !مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق پر ہیںاور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دل کواِس جنگ کے لئے آگاہ کر دیا ہے۔(تاریخ الخلفائ،امام جلا ل الدین سیوطی،تاریخ ابن کثیر)


باغیوں سے جنگ


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا دو ٹوک جواب سُن کر باغیوںاور منکرین زکوٰة کا وفد واپس چلا گیا اور ساتھ ہی یہ جائزہ بھی لیتا گیا کہ مدینہ منورہ میں بہت کم مسلمان ہیں۔(کیونکہ زیادہ تر لشکر اُسامہ کے ساتھ گئے تھے۔)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ ءکرام رضی اﷲ عنہم کو جمع کر کے فرمایا:”تمہارے چاروں طرف دشمن ڈیرے ڈالے ہوئے ہے اور اُسے تمہاری کمزوریوں کا علم ہو گیا ہے۔نہ معلوم دن اور رات کے کس حصے میں وہ تم پر چڑھ آئیں،وہ تم اے ایک منزل کے فاصلے پر خیمہ زن ہیں۔ابھی تک وہ اِس اُمید میں تھے کہ شاید تم اُن کی شرائط قبول کر لو گے لیکن اب ہم نے اُن کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اس لئے وہ ضرور ہم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کریں گے،تم بھی اپنے آپ کو لڑائی کے لئے تیار رکھو۔“(صدیق اکبر،خلفائے راشدین)اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم کو ایک دستہ دے کر مدینہ منورہ کے بیرونی راستوں پرمتعین کر دیااور باقی تمام لوگوں کوجنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس طرح مدینہ منورہ کا ہر فرد ہنگامی حالات کے لئے تیار تھا اور باغی بھی تاک میں تھے۔آخرکا ر تین دنوں بعد باغیوں نے اچانک مدینہ منورہ پر حملہ کردیا۔بیرونی راستوں پر متعین دستوں نے فورا ً آپ رضی اﷲ عنہ کو خبر کردی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ہنگامی طور سے جنگ کا اعلان کروا دیا اورفوراً مسلمانوں کا لشکر تیار ہو گیا۔ باغیوں اور منکرین زکوٰة کا خیال تھا کہ مسلمان غفلت میں ہوں گے اور ہم انہیں آسانی سے قتل کر دیں گے لیکن اُن کا استقبال مسلمانوں کے تیار اور تر وتازہ لشکر نے کیا۔جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔مسلمانوں نے ذی حشب تک اُن کا پیچھا کیا۔وہاں باغیوں کی تازہ کمک موجود تھی۔


مسلمانوں کی فتح


   علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمادی الآخر میں ذی القصہ پہنچے تو بنو عبس،بنو ذیبان،بنو مرہ،اور بنو کنانہ سے سامنا ہوا ۔اور طلیحہ نے اپنے بیٹے حبال کے ذریعے اُنہیں مدد دی۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے دھوکہ بازی کی اور لڑنے کے بجائے آس پاس کے پہاڑوں میں چھپ گئے اور اوپر سے آگ جلا جلا کر نیچے پھینکنے لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اونٹ اور گھوڑے اتنی بُری طرح سے بھڑکے کہ سیدھے مدینہ منورہ پہنچ کر ہی دم لیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہی کا وار اُنہی پر پلٹانے کا منصوبہ بنایااور لشکر تیار کر کے خاموشی سے ذی القصہ تک پہنچے اور صبح تڑکے اچانک اُن پر حملہ کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،میسرہ پر اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا اور ساقہ پراُن دونوں کے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔دشمنوں کو کوئی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی اور مسلمان اُن پر ٹوٹ پڑے اور قتل کرنے لگے۔ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی زیادہ تر سواریوں پر قبضہ کر لیااور حبال قتل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں یہ پہلی فتح تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں