02 سیرت سید الانبیاء ﷺ
سید الانبیاء ﷺ کا بچپن
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
والد ِ محترم کا انتقال
اس سے پہلے کی کتاب میں ہم آپ کی خدمت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائو اجداد کا ذکر پیش کر چکے ہیں۔ اِس کتاب میں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) اور بچپن کے حالات پیش کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائو اجداد کے ذکرمیں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ کا ملک شام سے تجارتی سفر کی واپسی پر مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا تھا۔حضرت عبد اﷲ کے انتقال کے کچھ مہینوں بعد سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اسکے بعد آپ نے اصحاب فیل کا واقعہ پڑھا۔ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش )سے پچاس یا پچپن دنوںپہلے پیش آیا۔
سیدہ آمنہ کو بشارت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کے کب سے میرے شکم میں ایک نیا جسم پرورش پارہاہے ۔خواتین کو جو تغیرات اور تکالیف ہوتی ہیں ۔وہ سب کچھ نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سب سے محفوظ رکھا۔ علامہ محمد بن سعد اپنی معرکتہ آراء کتاب طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں۔ سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ میں باردار ہوگئی تھی لیکن اول سے آخر تک میں نے کوئی دقت اور مشقت محسوس نہیں کی ۔ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ انھیں اس وقت پتہ چلا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے آپ کو بشارت دی۔ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں:’’ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھی کہ کوئی (فرشتہ) آنے والا آیا اور اس نے کہا:’’ کیا آپ کو علم ہے کہ آپ اس امت کے سردار اور نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم )کی والدہ بننے والی ہیں۔‘‘
ان کا نام ’’محمد‘‘اور ’’احمد‘‘ رکھنا
سیدہ آمنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی گئی۔ تب آپ کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے آخری رسول خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ بننے کا شرف عطاء فرمایا ہے۔ اسکے بعد تو لگاتار بشارات کا سلسلہ چلنے لگا اور ہر وقت سیدہ آمنہ کی رہنمائی کی جانے لگی۔ آپ بتاتی ہیں کہ میرے پاس آنے والا(فرشتہ) آیا، اس نے ہدایت کی کہ جب ان کی ولادت (پیدائش ) ہوجائے تو یہ دعا پڑھنا:’’ میں ہر حاسد اور بدخواہ (برا چاہنے والا) کے شر سے اسے وحدہ لاشریک کی حفاظت میں دیتی ہوں۔‘‘ پھر ان کا نام ’’محمد‘‘ رکھنا اور ان کا نام توریت اور انجیل میں’’ احمد‘‘ ہے۔ زمین والے اور آسمان والے سب ان کی تعریف کریں گے۔ قرآن میں ان کا نام محمد ہے اور قرآن ان کی کتاب ہے۔ ‘‘
محمد کے معنی
محمد کے معنی ہیں ’’تعریف کے قابل‘‘ اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس کائنات میں تمام مخلوق میں سے سب سے زیادہ تعریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ماضی میں کی گئی ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی ہے اور اپنی اپنی امتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں اور اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ ان کے علاوہ خود اللہ تعالیٰ نے جو تمام مخلوق کا خالق ہے، اس نے اپنی ہر آسمانی کتاب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعریف بیان فرمائی ہے۔یہاں تک کہ ’’سب سے اعلیٰ و افضل کتاب ‘‘ قرآن پاک میں جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے علماء پچھلے چودہ سوبرسوںسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کررہے ہیںاور لاکھوں کتابیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت اور تعریف میں لکھی جا چکی ہیں ۔ حد تو یہ ہے پچھلے چودہ سو برسوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو امتی قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتاہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ آج بھی پوری دنیا کے مسلمان علماء اورعام مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کررہے ہیں اور قیامت تک ’’اُمت ِمسلمہ ‘‘حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتی رہے گی۔
احمد کے معنی
احمد کے معنی اگر مفعول میں لیںگے تو معنی ہوگا ’’تعریف کیا گیا‘‘یہ حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کی اور پھر تمام فرشتوں نے کی، بلکہ بہت سے فرشتے اللہ تعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں،جن کا کام ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنا ہے۔ وہ فرشتے جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے لیکر آج تک بلکہ قیامت تک ہی نہیں قیامت کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے رہے گے۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنے کا ثبوت سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 56ہے۔ ترجمہ : ’’اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والوں تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔‘‘ (ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی) اللہ تعالیٰ کا درود یہ ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف فر ما تا رہتا ہے اور مرتبہ بڑھاتا رہتا ہے۔ فرشتوں کا درود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے اور مرتبہ بڑھانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دیتے رہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ بڑھانے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا درود یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور برکتیںبھیجنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔’’ احمد ‘‘کے معنی اگر فاعل میں لیں تو معنی ہوگا’’ اللہ تعالیٰ کی بے حد تعریف کرنے والا‘‘ یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی زیادہ اللہ کی تعریف کی ہے ۔اُتنی تعریف کسی نے نہیں کی ہے اور جتنے خوبصورت اندا ز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی ہے، اُتنے خوبصورت انداز میں کسی نے نہیں کی ہے۔اسکے علاوہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی تعریف کے ایسے ایسے کلمات ناز ل فرمائے گا۔ جن کلمات میں کبھی کسی نے تعریف نہیں کی ہوگی اور ان الفاظ کے ذریعے میدان حشر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف فرمائیں گے۔ جیسی نہ تو کبھی کسی مخلوق نے کی ہوگی اور نہ آئندہ کبھی کرے گی اور یہ اس وقت ہوگا۔ جب میدان حشر میں تمام انسان تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام ان تمام لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیج دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو ساتھ لیکر عرش کے سا منے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے۔ اُس وقت تمام لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کا کیا مقام ہے۔
کاملِ انسان ﷺ کی دنیا میں آمد
اس پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک ہی انسان کو’’ کامل اور مکمل ‘‘بنایا ہے اور وہ ہمارے پیارے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمی ہے۔ کوئی صرف اچھا لیڈر ہے ۔کوئی صرف اچھا مقرر ہے۔ کوئی صرف اچھا سائنسداں ہے۔ کوئی صرف اچھا سپہ سالار ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام خوبیاں ہیں او ر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح سے مکمل بنایا ہے۔ کسی بھی خوبی کو دیکھیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر خوبی میں ممتاز نظرآتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسم کی ولادت(پیدائش) کے وقت اس کائنات کی ہر شئے خوش ہورہی تھی۔حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ فاطمہ بن عبداللہ فرماتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت( پیدائش )کے وقت میں سیدہ آ منہ کے پاس موجود تھی ۔اس وقت میں نے دیکھا کہ تمام گھر نور سے بھر گیا اور دیکھا کہ آسمان کے ستارے جھکے چلے آرہے ہیں ۔ یہاں تک کہ مجھے ایسا گمان ہونے لگا کہ یہ ستارے میرے اوپر گر جائیں گے۔‘‘ دراصل یہ فرشتے اور حوریں اور سیدہ آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(فرعون کی مسلمان بیوی) اور سیدہ مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ) تھیں۔ جو ان کو ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کو صاف دیکھائی دے رہی تھیں۔
سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ کے انتقال پرفرشتوں نے غمگین ہو کر بڑی حسرت سے یہ کہا :’’اے اللہ تعالیٰ !تیرے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) یتیم ہوگئے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’کیا ہوا میں اسکا حامی وناصر ہوں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی مدد کے لئے سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ کو بھیجا۔سیدہ آمنہ بتاتی ہیں:’’میں نے کھجورکی طرح لمبی خواتین کو دیکھاجیسے قبیلہ عبد مناف کی عورتیں ہوتی ہیں۔ انھوںنے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے ان سے زیادہ روشن چہرے والی خوب صورت عورتیں نہیں دیکھی۔ ان میںسے ایک آگے بڑھی اور مجھے تھوڑا اٹھایا تو میں نے ان سے ٹیک لگالی۔ پھر دوسری آگے بڑھی، اس نے پینے کیلئے ایک شربت دیا۔ جو دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ وہ بڑے پیار سے بولیں :’’اسے پی لو۔‘‘ میں نے وہ پاکیزہ اور لذیذ شربت پی لیا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا :’’تم لوگ کون ہو؟تو ان خوبصورت عورتوں نے بتایاکہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ہمارے ساتھ جنت کی حوریں ہیں ۔‘‘
سرورِ دو عالم ﷺ دنیا میں تشریف لائے
جس وقت سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ فاطمہ بنت عبداللہ وہاں موجود تھیں۔ اس سے پہلے ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں ۔ یہاں ذرا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں ۔ آپ بتاتی ہیں:’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت میں موجود تھی، میں نے دیکھا کہ ہر جگہ نور ہی نور چھا گیا، ستارے قریب آتے جا رہے تھے، یہاں تک کہ میں سوچنے لگی کہ یہ مچھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب سرو رِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو اُن سے نور نکلا، جس سے گھر اورسب درو دیوار منور ہو گئے، حتی کہ ہر طرف نور ہی نور دکھائی دینے لگا۔‘‘ اسی طرح سیدہ آمنہ خود اپنا مشاہدہ بیان فرماتی ہیں :’’ولادت کے وقت میں نے محسوس کیا کہ ایک نور مجھ سے خارج ہوا ہے، جس کی روشنی میں شام کے محلات بھی نظر آنے لگے۔ دنیا میں تشریف لاتے وقت سرورِ دو عالم صلی اللہ علی وسلم بالکل پاک صاف تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:’’ میں نے دیکھا نور کا ایک منبع مجھ سے جدا ہوا، اس سے پوری زمین روشن ہو گئی تھی۔‘‘ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو بالکل پاک صاف تھے اور ختنہ شدہ تھے اور دونوں خواتین نے جو نور دیکھا ۔ وہ در اصل اسلام کی طرف اشارہ تھاکہ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نہ صرف مُلک شام تک بلکہ پوری زمین پر اسلام کا نور پھیلائے گا اور اسلام کے اس نور سے پوری دنیا منور ہو جائے گی۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ اگر تفصیل سے ذکر کرنے بیٹھیں تو ایک مکمل کتاب بن جائے گی، چونکہ ہم مختصراً ذکر کر رہے ہیں اس لئے ایک دو روایت اور پیش کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔
تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی خوبیاں عطا کی گئیں
امام زرقانی اپنی علی المواہب میں اور امام جلال الدین سیوطی اپنی الخصائص الکبریٰ میں لکھتے ہیں اور امام خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت پیش کی ہے کہ تمام انسانوں اور جناتوں بلکہ تمام مخلوق کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو سیدہ آمنہ بتاتی ہیں کہ ایک بہت بڑی بدلی آئی، جس میں بے انتہا روشنی تھی اور گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اڑنے کی آوازیں آرہی تھیں اور کچھ بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ پھر ایک دم حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے سے غائب ہو گئے اور میں نے سنا کہ ایک اعلان کر نے والا اعلان کر رہا تھا ۔’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق اور مغرب میں گشت کرائواور ان کو سمندروں کی بھی سیر کرائو،تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام اور حلیہ اور صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق انسان، جنات، فرشتوں ، حیوانات اور چرندوں اور پرندوں کے سامنے پیش کرو۔ انھیں حضرت آدم علیہ السلام کی صفوت ، حضرت نوح علیہ السلام کی شجاعت ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خُلّت ، حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زبان ، حضرت اسحاق علیہ السلام کی رضا ، حضرت صالح علیہ السلام کی فصاحت ، حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت ، حضرت شعیب علیہ السلام کی خطابت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شدت، حضرت ایوب علیہ السلام کاصبر ، حضرت یونس علیہ السلام کی اطاعت ، حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد، حضرت دائود علیہ السلام کی آواز، حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت ، حضرت الیاس علیہ السلام کا وقار، حضرت عُزیر علیہ السلام کی رِقّت، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی عصمت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زُہد عطا کر کے اِن کو تمام پیغمبروں کی خوبیوں اور کمالات اور اخلاق ِ حسنہ سے مزین کردو۔‘‘ اس کے بعد وہ بادل چھٹ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سبز کپڑے میں لپیٹے ہوئے ہیں اور اس کپڑے سے پانی ٹپک رہا ہے اور کوئی کہہ رہا تھا :’’واہ واہ ، کیا خوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا گیا اور کائنات کی کوئی چیز باقی نہ رہی جو اِن کے قبضہ اقتدار و غلبۂ اطاعت میں نہ ہو۔‘‘ اب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور کو دیکھا تو چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اور بدن سے پاکیزہ خوشبو آرہی تھی۔ پھر تین شخص نظر آئے ، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا تھا،دوسرے کے ہاتھ میں سبز ذَمَرُّد کا طشت تھا اور تیسرے کے ہاتھ میں ایک چمکدار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان ’’مُہرِ نبوت ‘‘لگا دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا اور میرے حوالے کر دیا۔ ‘‘
تمام بُت اوندھے منہ گر گر جاتے تھے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت اس عالم فانی میں تشریف لائے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ابلیس اور اس کے تمام شاگردوں کو ستر زنجیروں میں جکڑ کر بحرِ اخضر کے تیز و تند پانیوں میں الٹا لٹکا دیا اور تمام بت جن کی پوجا کی جاتی تھی وہ اوندھے منہ گر گر جاتے تھے۔ اُن کی پوجا کرنے والے انھیں اٹھا کر کھڑا کر تے تھے اور وہ پھر اوندھے منہ گر جاتے تھے۔ لات اور عُزیٰ( مکہ مکرمہ والوں کے بڑے بُت) کے شیطان بری طرح چیخ رہے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں پہنچ گئے ہیں، صادق اور امین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آگئے ہیں۔
سید الانبیاء ﷺ کی ولادت کے دنیا پر اثرات
جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس مٹ جانے والی دنیا میں تشریف لائے تو پوری دنیاپر اس کے اثرات پڑے۔ واقعات تو بہت ہیں ہم صرف چند واقعات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا اثر سلطنت فارس ( حالیہ ایران و اعراق اور آس پاس کا علاقہ ) کے حکمراں کسریٰ ( یاد رہے سلطنت فارس کے حکمرانوں کا لقب کسریٰ ہوتا تھا۔) کے محل کے چودہ کنگورے گر گئے اور سلطنت فارس کا سب سے بڑا آتش کدہ ( سلطنت فارس کے لوگ آگ کی پوجا کرتے تھے اور اسے مسلسل جلائے رکھتے تھے ،جو ہزار سال سے روشن تھا وہ بجھ گیا اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ سیرت میں اور بھی بہت سے واقعات مذکور ہیں۔
کسریٰ کے محل میں زلزلہ اور نہر ساوہ کا خشک ہونا
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت کسریٰ کے محل میں زلزلہ آگیا اور محل کے چودہ کنگورے گِر گئے۔سلطنتِ فارس کا اب سے بڑا آتش کدہ جو ہزار سال سے مسلسل روشن تھا یعنی جل رہا تھا ،وہ بجھ گیا اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔کسریٰ نے پریشان ہو کر دربار منعقد کیا ،اِسی دوران خبر ملی کہ سلطنت ِکا شاہی آتش کدہ بجھ گیا۔دربار میں کسریٰ کے شاہی موبذان(آگ کی پوجا کرنے والوں کا بڑا عالم)نے بتایاکہ اُس نے خواب دیکھا کہ سخت اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچے لے جا رہے ہیں اور دریائے دجلہ سے پار ہو کر تمام ممالک میں پھیل گئے۔ کسری نے موبذان سے پوچھا کہ اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟موبذان نے جواب دیا کہ شاید ملک عرب کی طرف سے کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آئیگا۔کسریٰ نے توثیق اور اطمینان کی غرض سے نعمان بن منذر کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ کسی بڑے عالم کو میرے پاس بھیجو جو میرے سوالات کے جواب دے سکے۔
سید الانبیاء ﷺ کی آمد کی خبر
نعمان بن منذر نے ایک بہت ہی بڑے عالم عبد المسیح غسّانی کو بھیجا۔عبد المسیح سے کسریٰ نے پوچھا کہ جو کچھ میں پوچھوں گا تم اس کا جواب دو گے ؟عبد المسیح نے کہا کہ آپ بیان کریں اگر مجھ کو جواب معلوم ہو گا تو بتا دوں گا اور اگر نہیں معلوم ہو گا تو کسی جاننے والے تک رہنمائی کر دوں گا۔کسریٰ نے تمام واقعہ بیان کیا تو عبد المسیح نے کہا کہ اِس واقعہ کی صحیح معلومات میرے ماموں سطیح دے سکتے ہیںجو آج کل ملک شام میں رہتے ہیں۔کسریٰ نے عبد المسیح کو حکم دیا کہ تم خود اپنے ماموں سطیح کے پاس جاؤ اور جواب لیکر آؤ۔عبد المسیح جب اپنے ماموں کے پاس ملک شام پہنچا تو اُس کا آخری وقت چل رہا تھا اور وہ غفلت میں تھا ۔عبد المسیح نے جاکر سلام کیا اور اشعار میں تما م واقعہ بیان کیا ،جواب میں سطیح نے کہا کہ عبد المسیح تیز اونٹ پر سوار ہو کر ایسے وقت سطیح کے پاس پہنچا ہے جب وہ مرنے والا ہے۔تجھ کو بنو ساسان (سلطنت فارس ) کے بادشاہ محل کے زلزلہ اور آتش کدہ کے بجھ جانے اور موبذان کے کے خواب کی وجہ سے بھیجا ہے کہ سخت اور قوی اونٹ عربی گھوڑوں کا کھینچے جا رہے ہیں اور دجلہ سے پار ہو کر تمام ممالک میں پھیل گئے ہیں۔اے عبد المسیح خوب سن لے!جب اﷲ کے کلام(قرآن پاک) کی تلاوت کثرت سے ہونے لگے اور صاحب ِعصا( سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم )ظاہر ہو اور وادیٔ سماوہ رواں ہو جائے اور دریائے ساوہ خشک ہو جائے اور ملک فارس کی آگ بجھ جائے تو سطیح کے لئے ملک شام ملک نہیں رہے گا۔ بنو ساسان(سلطنت فارس) کے چودہ لوگ یعنی چند مرد اور چند عورتیں کنگوروں کی طرح اپنی بادشاہت سے گر جائیں گے اور جو شئے (اسلام اور قرآن پاک) آنے والی ہے وہ گویا کہ آہی گئی ہے۔یہ کہہ کر سطیح مر گیا اور عبد المسیح نے آکر کسریٰ کو پورا جواب سنایا۔کسریٰ نے یہ سن کر کہا کہ چودہ بادشاہوں کو مرنے یا ختم ہونے میں ایک زمانہ لگے گا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ سلطنت فارس کا خاتمہ قریب آچکا ہے،دس بادشاہ تو چار سال میں ہی ختم ہو گئے اور باقی چار بادشاہ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے شروعاتی دور تک ہی ختم ہو گئے۔
حضرت عبد المطلب نے محمد نام رکھا
حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں تشریف فر ما تھے۔ کہ سیدہ آمنہ نے انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں شتریف لانے کی خبر بھیجی اور وہ خوشی خوشی گھر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور کپڑا ہٹا کر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختون ( ختنہ کئے ہوئے) اور ناف بریدہ تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے حیرانی سے دایہ کو دیکھا۔ تو اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل پاک صاف اور مختون پیدا ہوئے۔حضرت عبد المطلب نے کہا ۔ میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہوگی۔ (طبقات ابن سعد جلد 1)حضرت عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیقہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام’’ محمد‘‘ رکھا۔ قریش نے کہا اے ابو الحارث(یہ حضرت عبد المطلب کی کنّیت ہے)آپ نے ایسا نام رکھاہے جو آپ کے آباء و اجداد اور آپ کی قوم میں سے اب تک کسی نے نہیں رکھاہے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا: میں نے یہ نام اسلئے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں اور اللہ کی مخلوق زمین میں میرے اس بیٹے کی ’’حمدو ثنا ‘‘کرے گی۔
محمد اور احمد نام رکھنے کی وجہ ایک خواب اور بشارت
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) سے پہلے حضرت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا تھا۔ اور وہی خواب محمد نام رکھنے کا باعث بنا ۔حضرت عبدالمطلب نے دیکھا کہ ان کی پشت(پیٹھ) سے ایک زنجیر نکلی ۔جسکا ایک سرا آسمان میں اور دوسرا سرا زمین میں ہے۔ اور وہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ زنجیر درخت بن گئی۔ جس کے ہر پتہ پر ایسا نور تھا جو سورج کی روشنی سے ستر گنا(درجہ )زیادہ ہے۔ مشرق اور مغرب کے لوگ اسکی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں۔قریش میں سے کچھ لوگ اسکی شاخوں کو پکڑے ہوئے ہیںاور قریش میں کچھ لوگ اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ جب اس درخت کو کاٹنے کے لیئے درخت کے قریب آنا چاہتے ہیں تو ایک نہایت ہی حسین و جمیل نوجوان آکر ان کا مقابلہ کرتا ہے اور ان کو ہٹا دیتاہے۔ خواب کی تعبیر بتانے والوں نے آپ کو بتایا کہ تمہاری نسل سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کی اتباع مشرق سے لے کر مغرب تک کے لوگ کریں گے اور آسمان والے اور زمین والے اس کی حمد و ثنا کریں گے۔ اسی وجہ سے عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام’’ محمد‘‘ رکھا۔ حضرت عبدالمطلب کو اس خواب سے’’ محمد‘‘ نام رکھنے کاخیال پیدا ہوااور اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ کو سچے خوابوں کے ذریعے یہ بشارت دی گئی کہ تم ’’تمام مخلوق کے سردار‘‘ اور’’ تمام امتوں کے سردار‘‘ کی والدہ بننے والی ہو۔ اس کا نام ’’محمد‘‘ رکھنا اور ایک روایت میں ہے کہ’’ احمد‘‘ نام رکھنا۔ حضرت بُریدہ اور حضرت عبداللہ بھی عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ’’ محمد‘‘ اور’’ احمد‘‘ دونوں نام رکھنا۔
نبوت ’’بنی اسرائیل‘‘ سے ’’بنی اسماعیل ‘‘میں آگئی
ایک یہودی تجارت کی غرض سے مکہ مکرمہ آتا جاتا رہتا تھا۔ جس رات کی صبح صادق کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم فانی میں تشریف لائے ۔اس کی صبح وہ قریش کی مجلس میں آیا اور پوچھا :’’کیا آج رات تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے؟‘‘ قریش نے کہا: ’’ہم کو معلوم نہیں ‘‘ یہودی نے کہا:’’ اچھا ذرا تحقیق تو کر کے آئو، آج کی رات میں اس اُمت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک علامت ( مُہر نبوت) ہے اور وہ دو رات تک دودھ نہیں پیئے گا۔‘‘ لوگ فوراً مجلس سے اٹھے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ کا بیٹا( صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہوا ہے۔ یہودی نے کہا:’’ مجھے چل کر دکھلائو‘‘ جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی تو بے ہوش ہو کر گر پڑا،جب ہوش میں آیا تو اُ س نے کہا:’’ افسوس کہ بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی ہے، اے قریش !اللہ کی قسم یہ بچہ بڑا ہو کر تمہارے اوپر ایک ایسا حملہ ( فتح مکہ) کرے گا کہ اس کی خبرمشرق سے مغرب تک پھیل جائے گی۔‘‘ در اصل اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کے ذریعے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتایا ہے کہ وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے زیادہ پہچانتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بالکل صاف صاف پہچان لینے کے بعد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری نبی اور رسول ہیں جن کا ذکر توریت ، زبور اور انجیل میں ہے۔ ان یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا۔ یہودیوں کے انکار کی وجہ یہ حسد تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں نہیں بلکہ’’ بنی اسماعیل ‘‘میں تشریف لائے ہیں۔
نیک یہودی کا مشورہ
ایک بہت بڑا یہودی عالم ملک شام سے آکر مراالظہران میں آباد ہو گیا تھا۔ وہ علم و فضل کا پیکر اور آسمانی کتاب کا عالم تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا:’’ اے اہل مکہ !بہت جلد تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا اور عالم عرب اس کی اطاعت کر ے گا اورعجم ( عرب والے اپنے علاقے کو عرب اور اپنے علاقے کے علاوہ پوری دنیا کو عجم کہتے تھے)پر اسے غلبہ حاصل ہوگا ۔ اس کے ظہور کا زمانہ قریب ہے جو اسے پالے گا اور اس کی اطاعت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا اور جو مخالفت کرے گا، وہ خائب و خاسر اور نامراد ہوگا۔‘‘ حضرت عبد المطلب بھی اس کی باتوں سے متاثر تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پر غیر معمولی واقعات ظاہر ہوئے تو آپ اسی صبح اُ س راہب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ اپنی عبادت گاہ سے باہر آیا۔ اور خود ہی بولا:’’ جس عظیم بچے کی آمد کے تذکرے میںتم سے کیا کرتا تھا،وہ پیدا ہو گیا ہے اور پچھلی رات اس کی پیدائش کی اطلاع دینے والا ستارہ بھی طلوع ہو چکا ہے۔ اے عبدالمطلب ! اپنی زبان بند رکھنا اور اسے حاسدوں کے حسد سے بچانا۔ اس کے بہت سے بڑے بڑے دشمن ہوں گے اور اس کی جتنی مخالفت ہوگی اتنی مخالفت کسی کی نہیں ہوئی ہے۔ اسی لئے حضرت عبدالمطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت خیال رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :’’میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہے۔‘‘
ابو لہب نے سیدہ ثوبیہ کوآزاد کر دیا
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ سے اُن کے سبھی بھائی بہت محبت کرتے تھے۔ ابولہب بھی بہت محبت کرتا تھا، اس لئے اسے سیدہ آمنہ کی فکر لگی ہوئی تھی ۔ اس نے اپنی لونڈی سیدہ ثوبیہ سے کہا :’’دیکھو میرے بھائی کی بیوی کی تم جا کر خدمت کرو،کیوں کہ اس وقت اسے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو سیدہ ثوبیہ دوڑتی ہوئی آئیں اور کہا:’’ مبارک ہو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائی کے گھر بیٹا عطا کیا ہے۔‘‘ اپنے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے ابولہب نے کہا:’’ اپنے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں تجھے آزاد کرتا ہوں‘‘ اور اس نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عمروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ثوبیہ پہلے ابو لہب کی لونڈی تھیں۔ جب ابولہب مر گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا گزری؟ ابولہب نے جواب دیا ۔ تم سے جدا ہوتے ہی سخت عذاب میں پھنس گیا ہوں۔ بس اتنا ہے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے پانی پلا دیا جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری جلد نمبر۳،حدیث نمبر ۹۲ مطبوعہ اعتقاد پبلشنگ ہائوس، دہلی) ۔حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ابولہب مرگیاتو میں نے اس کو ایک سال بعد خواب میں بہت برے حال میں دیکھا اور یہ کہتے ہوئے پایا کہ’’ تم سے جد ا ہونے کے بعد آرام نصیب نہیں ہواہے۔ بلکہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں۔ لیکن ہر پیر کو میرے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے۔‘‘ حضرت عباس بن عبد المطلب اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’عذاب میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ پیر کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی اور ثوبیہ نے ابولہب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوش خبری سنائی تو اس نے اسی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ ( فتح الباری ، شرح صحیح بخاری جلد نمبر۹ )
سیدہ حلیمہ سعدیہ کی مکہ مکرمہ آمد
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو تین یا چار دن سیدہ آمنہ نے دودھ پلایا۔ اسکے بعد سیدہ ثوبیہ نے دودھ پلایا۔ عرب کے شرفا کا یہ دستور تھا کہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو شروع ہی سے دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے۔ تاکہ دیہات کی صاف و شفاف ہوا میں وہ صحت مند رہیں اور نکھر جائیں۔ ان کی زبان فصیح ہو اور عرب کا اصلی تمدن اور عربی خصوصیات ان میں موجود رہیں ۔کیونکہ شہروں میں ہر ممالک کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اسکی وجہ سے شہروں پر دوسرے ممالک کے لوگوں کی زبان ، چال ڈھال اور پوشاک وغیرہ کے اثرات پڑتے رہتے ہیں اور شہروں کا ماحول خالص نہیں رہ پاتا۔ سیدہ ثوبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ شرف حاصل ہواکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ آپ کا پورا نام سیدہ حلیمہ بنت ذویب ہے اور آپ کے شوہر کا نام حارث بن عبد ا لعزیٰ ہے اور قبیلہ بنو سعد بن بکر بن ھوازن ہے ۔ بنو سعد کی عورتیں ہرسال مکہ مکرمہ آتی تھیں اور بچوں کو لے جاکر پالتی تھیں اور اسکے بدلے میں بچوں کے والدین انھیں اچھا خاصہ معاوضہ دیتے تھے۔ اس سال بھی سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ مکرمہ آئیں ،تاکہ بچوں کو لیکر جاسکیں۔
سیدہ حلیمہ کمزور سواری کی وجہ سے پیچھے رہ گئیں
سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں، تمام عورتوں کے ساتھ ان کے شوہر بھی تھے۔ اس سال ان کے علاقے میں قحط پڑا تھا، سیدہ حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتاتی ہیں:’’ میں بنی سعد کی عورتوں کے ساتھ بچوں کی تلاش میں چلی میری گود میں میرا بچہ تھا۔ مگر فقر وفاقہ کی وجہ سے مجھے اتنا دودھ نہیں ہوتا تھا کہ میرے بچے کا پیٹ بھر سکے، وہ بھوک کی وجہ سے روتا رہتا تھا۔ ایک اونٹنی بھی ہمارے ساتھ تھی مگر اسکے بھی دود ھ نہیں تھا۔ سفر کے دوران میں اسی پر سوار تھی وہ اس قدر لاغر تھی کہ قافلہ والوں کے ساتھ چل نہیں پارہی تھی اور انھیں میری وجہ سے بار بار رکنا پڑ رہاتھا۔ میرے ہمراہی تنگ آگئے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے توسب آگے بڑھ گئے اور میں دھیرے دھیرے کافی دیر بعد مکہ مکرمہ پہو نچی تو دیکھا کہ تمام عورتیں شہر میں بچوں کی تلاش میں جا چکی تھیں۔‘‘
کسی عورت نے نہیں لیا
ادھر مکہ مکرمہ میں بنو سعد کی خواتین بچوں کو لینے کے لئے پہو نچ چکی تھیں اور سید الانبیاء صلی اﷲعلیہ وسلم کو کسی خاتون نے نہیں لیاکیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یتیم تھے۔ جب ان خواتین کو معلوم ہوتا کہ اس بچے کے والد کا انتقال ہو چکا ہے تو آپ صلی اﷲعلیہ وسلم کو لینے سے انکار کردیتیں۔ ہر خاتون یہی سوچ رہی تھی کہ اسکے والد نہیں ہیں تو ہمیں انعام واکرام کیا ملے گا، اس لئے انعام کی لالچ میں تمام عورتوں نے امیروں کے بچوں کو لے لیا اور سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ ادھر جب قافلے والوں کے پڑائو میں سیدہ حلیمہ پہو نچیں تو ان کے قبیلے کی عورتیں ایک ایک کرکے بچوں کو لیکر آرہی تھیں، ان خواتین کی مسرت اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ امیروں کے بچوں کو لیکر یہ تصور کر رہی تھیں کہ ان کا سفر رائیگاں نہیں گیااور انھیں ایسے بچے ملے جن کی پرورش سے انھیں اچھی اجرت مل سکتی تھی۔سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہاسے ان خواتین نے کہا:’’ حلیمہ !تم نے بہت دیر کردی ،اب صرف ایک یتیم بچہ رہ گیا ہے اور وہ عبدالمطلب کا پوتا ہے اگر چاہو تو اسے لاسکتی ہو۔‘‘
سیدہ حلیمہ نے آپ ﷺ کو لے لیا
سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہاکی یہ حالت ہو گئی کہ یا تو وہ خالی ہاتھ واپس جائیں یا تو وہ اس یتیم بچے کو لے کر جائیں۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حارث سے مشورہ کیاکہ خالی ہاتھ جانے سے بہتر ہے کہ اس بچے کو لے آئوں جسے کسی نے نہیں لیا۔ ان کے شوہر نے کہا: ٹھیک ہے لے آئوہو سکتا ہے وہ بچہ ہمارے لیئے خیر و برکت کا باعث بن جائے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ کے گھر پہو نچیں تو حضرت عبدالمطلب سے دروازے پر ملاقات ہوئی۔ آپ نے پوچھا:’’ تمہارا نام کیا ہے اور تم کس قبیلے سے ہو؟ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’میرا نام حلیمہ ہے اور قبیلہ بنو سعد سے میرا تعلق ہے۔ ‘‘یہ سن کر عبدالمطلب مسکرائے اور کہا :’’کیا تم ایک یتیم بچے کی پرورش کرنا پسند کرو گی ؟قدرت کا شاہکار اور بے مثال بچہ ہے جائو اندر جا کر بچے کو دیکھ لو۔ ‘‘سیدہ حلیمہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا انھیں سید الانبیاء صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس لیکر آئیںکیوں کہ وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں۔ جیسے ہی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو دم بخود سکتے کے عالم میں کھڑی رہ گئیں۔ اتنا خوب صورت اور پیارا بچہ اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا اور سوتا ہوا وہ انتہائی معصوم دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ وقت ایسے ہی گذر گیا پھر آپ رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں اور بچے کے سینے پر آہستہ سے ہاتھ رکھا۔ بچے نے آنکھیں کھولیں اور مسکرانے لگا، اس کی مسکراہٹ اتنی پیاری اور اتنی معصوم اور اتنی خوب صورت تھی کہ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اس بچے کے لئے بے انتہا محبت موجیں مارنے لگی اور آپ رضی اللہ عنہا نے بے تابی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں میں اٹھا کر پیشانی کا بوسہ لیا اوراپنے سینے سے لگا لیا اور طے کر لیا کہ چاہے کچھ ملے یا نہ ملے۔ میں ضرور اس بچے کی پرورش کروں گی۔ سیدہ آمنہ یہ سب دیکھرہی تھیں، انھوں نے فرمایا:’’بیٹھ جائو حلیمہ ! کیا تم میرے یتیم بچے کی پرورش کر نا پسند کروگی؟ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’جی ہاں میری سردار ! میں دل و جان سے اس بچے کی پرورش کروں گی۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ لیکن میرے پاس اس کی اُجرت کے لئے زیادہ مال اور دولت نہیں ہے۔ بس اللہ تعالیٰ ہی تجھے تیری خدمت کا اجر عطا فرمائے گا۔‘‘ سیدہ حلیمہ نے کہا:’’ اے میری سردار ! آسمان والا بڑا کریم ہے اور اس کی عطائوں اور برکتوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’مجھے ڈر ہے کہ میں تمہارا حق ادا کر سکوں گی یا نہیں؟‘‘سیدہ حلیمہ نے عرض کیا :’’آپ مطمئن رہیںاللہ کی قسم !میں اس بچے کو کسی اُجرت کے خیال سے نہیں لے جارہی ہوں اس بچے کو دیکھ کر اس سے اتنی محبت پیدا ہو گئی ہے کہ اب میں کسی اُجرت کے بغیر اس بچے کی ضرور پرورش کروں گی آپ بے فکر رہیئے‘‘ اور اجازت لینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے پڑائو میں آگئی۔
سیدہ حلیمہ سعدیہ پر اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا نزول
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے سیدہ حلیمہ رضی اﷲ عنہالے آئیں۔ بنو سعد کی عورتوں نے مخلوق سے اجر کی امید کی اور سیدہ حلیمہ نے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کی۔ سیدہ حلیمہ بتاتی ہیں:’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سینے سے لگایاتو اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ اتار دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور میرے بچے نے بھی پیٹ بھر کر پیا اور رات بھر سکون سے سوتا رہا۔ میرے شوہر حارث اونٹنی کا دودھ دوہنے لگے تو پورا برتن بھر گیا اور پھر بھی دودھ جاری تھا۔ میں نے اور میرے شوہر نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا۔ رات نہایت آرام سے گزری ۔ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا:’’ اے حلیمہ ، اللہ کی قسم ! تو نے بہت ہی مبارک بچہ لیا ہے۔ ‘‘
سیدہ حلیمہ سعدیہ کی سواری سب سے آگے
جب قافلہ کی روانگی کا وقت آیا تو سیدہ حلیمہ کے شوہر نے انھیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار کیا۔ اونٹنی نے اسی وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے سجدہ کیا پھر آسمان کی طرف سے سر اٹھایا اور چل پڑی۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ سب چونک پڑے۔ کیوں کہ سیدہ حلیمہ سعدیہ کی اونٹنی قافلے میں سب سے آگے چل رہی تھی ۔ تمام قافلے والوں نے اپنی اپنی سواریوں کو سیدہ حلیمہ سعدیہ کی سواری کے برابر لانے کی کوشش کی لیکن وہ سواری جیسے بار بار چابک مار مار کر آگے بڑھایا جاتا تھا وہ اتنی تیز رفتار ہو گئی تھی کہ بار بار اسے روکنا پڑ رہا تھا، تا کہ قافلے والے اس تک پہنچ سکیں۔ قافلے کی عورتوں نے کہا :’’ اے حلیمہ ! یہ تمہاری پرانی سواری ہے یا تم نے نئی سوار ی لی ہے۔ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’ سواری تو وہی ہے البتہ سوار بدلا ہے۔‘‘ اُن عورتوں نے کہا :’’ اگر یہ وہی سواری ہے تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’یہ اسی یتیم بچے کی برکت سے ہوا ہے جس کو تم سب نے لینا پسند نہیں کیا تھا۔ ‘‘یہ پورا واقعہ سیرت النبی کی مستند کتابوں میں تھوڑا تھوڑا مذکور ہے۔ ہم نے ان سب میں سے لے کر انھیں ملا کر ایک مکمل واقعہ کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔
سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر میں برکتوں کی بارش
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو لیکر جس وقت سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ عنہا اپنے قبیلے میں پہنچیں تواُس وقت قبیلہ بنو سعد کا علاقہ زبردست قحط کا شکار تھا اور جانوروں کو پیٹ بھر چارہ نہیں ملتا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے دودھ بہت کم ہو گئے تھے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ نے سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر میں برکتوں کی بارش کر دی۔ خود سیدہ حلیمہ سعدیہ بتاتی ہیں :’’ میری بکریاں جب چراگاہ سے واپس آتیں تو دودھ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں اور دوسروں کی بکریاں بہت تھوڑا دودھ دیتی تھیں۔ لوگوں نے اپنے چرواہوں سے کہا کہ تم بھی اسی جگہ بکریاں چرایا کرو جس جگہ حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں۔دوسرے چرواہے ایسا ہی کرتے پھر بھی میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتیں اور دوسروں کی بکریاں بہت کم دودھ دیتی تھیں۔‘‘
پورا قبیلہ بنو سعد محبت کرنے لگا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوب صورت اور اتنے پیارے اور اتنے معصوم تھے کہ جو بھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔ جن خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورتی اور معصومانہ حرکتوں کی وجہ سے بے انتہا محبت کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بچوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے بڑے ہو رہے تھے اور تمام قبیلہ بنو سعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔سیدہ حلیمہ سعدیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہال ہوئی جاتی تھیں۔اس طرح دو سال کا عرصہ گزر گیااور سیدہ حلیمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دودھ چھڑا دیا اور مکہ مکرمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آگئیں۔ سیدہ آمنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سال بعد چلتے پھرتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب صورتی میں اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ دو سال کی جدائی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سیدہ آمنہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور خوشی کی زیادتی کی وجہ سے آپ رو پڑیںاور اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے سے لگا کر کافی دیر تک روتی رہیں۔ ادھر سیدہ حلیمہ سعدیہ کا دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کے خیال سے بہت غمگین تھا۔
دوبار ہ بنو سعد میں جانا
سیدہ آمنہ اپنے لاڈلے بیٹے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوئی جا رہی تھیں۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور بچوں کے مقابلے میں کافی بڑے اور تندرست نظر آرہے تھے۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی برداشت کرنا محال ہو گیاتھا اُن دنوں مکہ مکرمہ میں وباء پھیلی ہوئی تھی۔ انھوں نے سیدہ آمنہ سے عرض کیا:’’سیدہ !یہ بچہ آپ کی امانت ہے ،میرا حق تو نہیں کہ زبان کھولوں ،مگر چونکہ مکہ مکرمہ میں وباء پھیلی ہوئی ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مزید کچھ عرصہ کے لئے اپنے نور نظر کو میرے پاس رہنے دیں۔ جب حالات سازگار ہو جائیں گے تو میں آپ کی امانت آپ کو لوٹا دوں گی۔‘‘ سیدہ آمنہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحے کے لئے بھی جدا نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھلائی کے لئے سیدہ حلیمہ سعدیہ کو لے جانے کی اجازت دے دی اور وہ خوشی خوشی سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر واپس آگئیں۔ سیدہ حلیمہ ، سعدیہ کا گھر انہ پانچ افراد پر مشتمل تھا۔ وہ اور اُن کے شوہر حارث اور دو بیٹیاں اُنیسہ اور شیما اور ایک بیٹا عبداللہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے سیدہ حلیمہ سعدیہ کا گھر پھر سے برکتوں کا گہوارہ بن گیا۔ جب ان کے بچوں نے اپنے قریشی بھائی( وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پکارتے تھے) کو دوبارہ اپنے درمیان پایا تو اُن کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
سید الانبیاء ﷺ کا بکریاں چَرانا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو سعد میں واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر بہت کم نکلتے تھے۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ بتاتی ہیں :’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے لیکن خود انھوں نے کبھی کھیل میں حصہ نہیں لیابلکہ ہر قسم کے کھیل کود سے علیٰحدہ رہتے تھے۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا:’’ امی جان !میرے بھائی بہن دن بھر نظر نہیں آتے، یہ روز صبح کہاں چلے جاتے ہیں؟‘‘ میں نے بتایا:’’ بیٹا وہ لوگ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ امی جان ! آپ مجھے بھی میرے بھائی بہنوں کے ساتھ بھیجا کریں۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل اصرار پر میں نے مجبور ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزآنہ اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جانے لگے۔ ‘‘بکریاں چرانا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ صلی اللہ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی نبوت کی ایک نشانی کا اظہار کر دیا۔
سرور کونین ﷺ پر بادل کا سایہ
سیدہ حلیمہ نے جب سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا تھا،تب سے ہی وہ طرح طرح کی برکات اور واقعات کامشاہدہ کر رہی تھیں اور انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ معصوم بچہ اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ بندہ ہے اور جب یہ بڑا ہو گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اس سے کوئی بہت بڑا کا م لے گا۔ بچپن میں سیدہ حلیمہ نے جن برکات اور واقعات کا مشاہدہ کیا اُن میں سے ایک یہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاتے تو سیدہ حلیمہ ان بچوں کو کافی دور تک جاتی ہوئی دیکھتی رہتیں اور وہ اکثر دیکھتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر نکلتے تو ایک بدلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر دیتی تھی۔ پہلے تو انھوں نے اس پر غور نہیں کیا لیکن جب روزآنہ ایسا دکھائی دینے لگا تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اس بدلی پر توجہ کی تو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو بدلی بھی چلتی تھی اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جاتے وہ بدلی بھی وہیں رک جاتی تھی۔
شقِ صدر
اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی ( دودھ شریک) بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے چلے جایا کرتے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں :’’ ایک دن میرا بیٹا عبداللہ بھاگتا ہوا آیا ۔ وہ بہت ہی گھبرایا ہوا تھا، اُ س نے مجھ سے اورمیرے شوہر سے گھبرائے ہو ئے ہکلاتے ہوئے بتایا کہ میرے قریشی بھائی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید کپڑے پہنے ہوئے دو شخص آئے اور اسے پکڑ کر لٹا کر اُ س کا پیٹ چاک کر ڈالا اور اس کو مار رہے ہیں ۔یہ سنتے ہی میں اور میرے شوہر دوڑتے ہوئے جائے حادثہ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے ہیں اور چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے۔ میں نے اور میرے شوہر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے سے لگا لیا اور ہم نے بڑے پیار سے پوچھا:’’پیارے بیٹے تجھے کیا ہوا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس دو شخص آئے ،وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، مجھے لٹایا اور میرا پیٹ چیر دیا اور انھوں نے اس میں سے کوئی چیز تلاش کی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا تھی۔ ‘‘پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھر آئے۔ میرے شوہر حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اے حلیمہ ! مجھے خوف ہے کہ ہمارا یہ پیارا بچہ کسی مصیبت میں نہ مبتلا ہو جائے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم اسے اس کی والدہ کے پاس پہنچا دیں۔
سیدالانبیاء ﷺ کی زبانی شق صدر کا واقعہ
محمد بن اسحاق کے شاگرد محمد بن ہشام نے اپنے استاد کی روایات کو جمع کر کے سیرت النبی کتاب لکھی ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مکمل کتاب ہے اور سب سے مستند مانی جاتی ہے۔ اس کتاب میں آگے ذکر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سب کی طرف سے ترجمان بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ذرا ہمیں اپنے بارے میں کچھ حالات بیان فرمائیں۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور فرمایا :’’ اچھا سنو! میں اپنے جد امجدحضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ ( اس دعا کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر127سے آیت نمبر129تک ذکر فرمایا۔ ان آیات کا ترجمہ ضرور پڑھیں) اور اپنے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ ( اس بشارت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ الصف کی آیت نمبر6میں ذکر فرمایا ہے) اور جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی والدہ کے بطن میں جلوہ گر فرمایا تو میری والدہ سے ایک نور خارج ہواجس کی روشنی میں انھوں نے شام کے محلات تک دیکھ لئے۔ میری پرورش قبیلہ بنو سعد بن بکر میں ہوئی ہے۔ میں اپنے رضاعی بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چَرایا کرتا تھا۔ ایک دن میں چراگاہ میں تھا کہ دو آدمی آئے ،انھوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ،ان کے پاس سونے کا طشت تھاجس میں برف بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے پکر کر لٹایا اور میرا پیٹ چیر کر دل کو نکالا اور دل کو چیرکر اُس میں سے خون کی پھٹکی نکال کر پھینک دی ۔پھر دل اور پیٹ کو برف سے دھو یا،پھر دل کو سی کر پیٹ میں رکھا اور اسے بھی سی دیا۔ پھر ایک نے کہا :’’ انھیں دس امتیوں کے ساتھ تولو۔‘‘ جب انھوں نے تولا تو میرا پلڑا بھاری نکلا۔ اس نے کہا :’’ اب سو امتیوں کے ساتھ تولو۔‘‘ تب بھی میرا پلڑا بھاری نکلا ۔ پھر انھوں نے ہزار امتیوں کے ساتھ تولا۔ تب بھی میرا پلڑا بھاری رہا۔ اُن میں سے ایک نے کہا رہنے دو۔ اگر انھیں پوری امت کے ساتھ تولو گے تب بھی ان کا ہی پلڑا بھاری رہے گا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان میں معراج کے بیان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے’’ شق ِ صدر‘‘ کی حد تک اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق ان دو فرشتوں میں سے ایک جبرئیل علیہ السلام تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے وہ نشان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ ٔ مبارک پر دیکھے ہیں ۔ شقِ صدر چار مرتبہ ہوا ہے۔ جن میں سے یہ پہلا چار سال کی عمر میں ہوا۔
والدہ محترمہ کی خدمت میں
شق صدر کے واقعہ کے بعد سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا اور اُن کے شوہر حضرت حارث رضی اللہ عنہ ڈر گئے کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے اور امانت میں خیانت نہ ہو جائے۔ اس لئے وہ دونوں سیدہ آمنہ کی خدمت میں سید الابرار صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ’’ آپ اپنی امانت واپس لے لیں۔ ‘‘سیدہ آمنہ حیران ہو کر بولیں:’’ کیا کوئی بات ہو گئی ہے ؟‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ‘‘لیکن جب سیدہ آمنہ نے بار بار پوچھا تو سیدہ حلیمہ نے شق صدر کا واقعہ بتا کر عرض کیا کہ’’ کہیں کوئی شیطانی طاقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچائے۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا :’’ کیا تم میرے اس بلند اقبال بیٹے کے متعلق شیطان سے خوف زدہ ہو ؟‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’جی ہاں۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ہر گز نہیں! اللہ کی قسم ! شیطان میرے اس فرزند کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ،میرے لخت جگر کی شان بڑی نرالی ہے۔ کیا میں تمہیں اس کی کچھ شان کے بارے میں بتائوں؟‘‘ سیدہ حلیمہ نے عرض کیا:’’ ضرور ۔‘‘ سیدہ آمنہ نے فرمایا :’’جب اس کا مبار ک نور میرے شکم میں قرار پذیر ہوا تو مجھ سے ایک نور کا ظہور ہوا،جس سے سر زمین شام و بصریٰ کے محلات جگمگا اٹھے اور دوسری خواتین کی طرح میں نے حمل کو کوئی بوجھ محسوس نہیں کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیکے ہوئے تھے اور سر ِ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ اب انھیں میرے پاس ہی رہنے دو۔ میں اب خود ان کی خبر گیری کروں گی۔‘‘
رسول اللہ ﷺ اپنی والدہ کی آغوش میں
سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی والدہ سیدہ آمنہ کی آغوش میں دیکر واپس چلی گئیں اور سیدہ آمنہ اپنے لاڈلے کو دیکھ دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چار برس تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام بچوں کی طرح شرارتیں کرنے کی بجائے پُر وقارانداز میں ہر کام اور ہر بات کرتے تھے ۔اس عمر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے اور کوئی بھی بات اتنی صاف اور فصیح و بلیغ کرتے کہ سیدہ آمنہ اور سیدہ اُم ایمن حیران رہ جاتیں اور سوچتیں کہ اتنی سی عمر میں اتنی سمجھداری اور خوبصورت باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کر لیتے ہیں ۔سیدہ آمنہ نے ماضی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو بشارت سنی اور دیکھی تھیں ۔اس کی وجہ سے آپ جانتی تھیں کہ میرے اس بیٹے کی ایک بہت بڑی شان ہو گی اور اس کا مظاہر ہ وہ اسی کم عمر میں ہی دیکھ رہی تھیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وقت خدمت کرتی رہتیں تھیں۔
اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے داد حضرت عبدا لمطلب کی والدہ کا گھر مدینہ منورہ میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ شام سے تجارتی سفر کی واپسی پر بیماری کی وجہ سے اپنی داد ی کے یہاں مدینہ منورہ میں ہی رک گئے تھے اور وہیں انتقال ہو گیا تھا اور وہیں’’ دارالنا بغہ ‘‘میں دفن کر دیا گیا۔ جب سیدالبشر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی آغوش میں رہتے ہوئے لگ بھگ سال دیڑھ سال گزر گئے تو سیدہ آمنہ نے اپنی خادمہ اُم ایمن اور سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کو لیااور حضرت عبدا لمطلب سے اجازت لے کر تجارتی قافلے کے ساتھ دشوار گزار سفر کرتی ہوئی مدینہ منورہ پہنچیں اور دارالنابغہ میں قیام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لگ بھگ کئی ماہ گزارے اور بنو عدی بن نجار کے تالاب میں تیرنا سیکھا اور ساتھ ہی عسکری تربیت بھی حاصل کی۔
سید الانبیاء ﷺ نے تیرنا سیکھا
لگ بھگ پانچ ساڑھے پانچ برس کی عمر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے اور کئی ماہ قیام فرمایا۔ برسوں بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے پہنچے اور وہیں رہائش اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچپن کی باتیں اور وہ حالات و واقعات صحابہ کرام کو بتایا کرتے تھے جو یہاں گزر چکے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ دارالنا بغہ‘‘ کو دیکھا تو فرمایا :’’امی جان یہاں آکر قیام پذیر ہوئی تھیں۔‘‘ اور بنو عدی کے تالاب کو دیکھا تو فرمایا :’’ اس تالاب میں، میں نے تیرنا سیکھا ہے۔‘‘ بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عرصے مدینہ منورہ میں قیام کیا اس بارے میں کئی روایات ہیں۔ ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم ایک ماہ ضرور مدینہ منورہ میں قیام کیا ہے۔ اس سے زیادہ عرصہ ہو سکتا ہے کم نہیں ہو سکتا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
یہودیوں ( بنی اسرائیل ) نے پہچان لیا
انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہ رہے تھے۔ مدینہ منورہ کے اطراف میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے کئی قبیلے آباد تھے اور وہ خرید وفروخت کے سلسلے میں اکثر مدینہ منورہ آتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے توریت ، زبور اور انجیل میں انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور بہت سی نشانیاں بتائی ہیں۔ ان یہودیوں نے مدینہ منورہ میں بچپن میں انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پہچا ن گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچپن کے مدینہ منورہ میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’میں نے ایک یہودی کو دیکھاجو بار بار آتا جاتا تھا اور مجھے غور سے دیکھتا رہتا تھا۔ آخر کار اس نے مجھ سے سوال کیا:’’ اے بچے، تیر انام کیا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا :’’احمد۔‘‘ ( یہ سن کر وہ بھونچکا رہ گیا) اس نے میری پُشت کو دیکھا ( جہاں مُہر نبوت لگی ہوئی تھی) پھر اس نے کہا :’’ یہ بچہ اِس اُمت کا نبی ہے۔‘‘ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے کی آسمانی کتابوں میں کیا ہے) پھر وہ یہودی میرے ماموئوں کے پاس آیا اور انھیں بھی یہ بات بتائی۔ میرے ماموئوں نے امی جان سے بات چیت کی( سیدہ آمنہ بشارات کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں جانتی تھیں) اسی لئے میری فکر امی جان کو لاحق ہو گئی اور انھوں نے مکہ مکرمہ واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ اسی طرح کا ایک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہا بتاتی ہیں، آپ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں:’’ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک روز دو یہودی دوپہر کے وقت میرے پاس آئے، ایک نے کہا :’’ ذرا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو باہر لائو۔‘‘ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر باہر آئی تو اُن دونوں یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غور سے دیکھنا شروع کر دیا اور نشانیاں تلاش کرتے رہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا :’’یہ بچہ اِس اُمت کا نبی ہے اور یہ مدینہ منورہ اس کا ’’دارا لحکومت ‘‘ہوگا۔‘‘ تمام بنی اسرائیل (یہودی) اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہوئی نشانیوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتے تھے۔ لیکن ان میں اکثریت بہت بد بخت تھی اور اکثریت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار کیااور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں نہیں بلکہ’’ بنی اسماعیل‘‘ میں آئے۔ صرف چند نیک بخت اور خوش قسمت یہودیوں نے اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
سیدہ آمنہ کا انتقال
یہودیوں کی اسی کھوج خبر کی وجہ سے سیدہ آمنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر لاحق ہوئی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اسی لئے اپنی طبیعت خراب ہونے کے باوجود سیدہ آمنہ اپنے نور نظر صلی اللہ علیہ وسلم اور خادمہ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا کو لے کر کسی قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئیں۔ سفر کے دوران بیماری بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر کار راستے میں ایک مقام پر آپ کی طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو گئی کہ آپ سفر کرنے کے قابل نہ رہیں، اسی لئے وہیں رک گئیں۔ اُس مقام کا نام’’ ابوا ء‘‘ ہے۔ امام ابو نعیم نے اپنی معرکتہ الارا ٔ کتاب دلائل النبوۃ میں امام زہری ( بہت جلیل القدر تابعی) کی سند سے نقل کیا ہے کہ وہ حضرت اسما بنت رہم سے اور وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتی ہیں :’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا، میں اُس میں موجود تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سال سے زیادہ لگ بھگ چھ سال کو عمر کے تھے اور پروان چڑھ رہے تھے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے سرہانے تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور کی طرف دیکھ کر یہ فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تجھے با برکت بنائے !اے اُس شخصیت کے بیٹے جو شدتِ موت سے انعام کرنے والے بادشاہ کی مدد سے محفوظ رہا جب قرعہ اندازی میں اس کانام نکلا تو ایک سو قیمتی اونٹ اس کے فدیہ کے طور پر دیئے گئے۔ اگر وہ بات سچی ہے جومیں نے خواب میں دیکھی ہے تو تُوجلال و اکرام والی ذات ( اللہ تعالیٰ) کی طرف سے مخلوق کی طرف مبعوث ہوگا۔تُو حلال و حرام کے بیان کے لئے اور احقاقِ حق او ر اسلام کے بیان کے لئے مبعوث ہوگا۔ جو تیرے مطیع و محسن باپ ( جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تجھے دوسرے لوگوں کی طرح بتوں کی تعظیم کرنے سے منع کیا ہے۔( یعنی تُو اور لوگوں کی طرح بتوں کی تعظیم مت کرنا) ۔‘‘ اس کے بعد آگے سیدہ آمنہ نے کچھ دیر خاموش رہ کرفرمایا :’’ہر زندہ شخص کو مرنا ہے، ہر نئی چیز پرانی ہو جاتی ہے اور بڑی عمر کو پہنچنے والے کے لئے فنا ہے۔ میں فوت ہونے والی ہوں اور میرا ذکر باقی رہے گا۔ میں نے بھلائی ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ) چھوڑا ہے۔ میں نے ایک پاک بچے کو جنم دیا ہے۔‘‘ اس کے بعد سیدہ آمنہ کا انتقال ہو گیا۔ راوی کہتی ہیں:’’ پھر ہم نے ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی :’’ہم اُس نوجوان خاتون( سیدہ آمنہ) پر روتے ہیںجو نیکو کار اور امانت دار تھیں۔ حسن و جمال ، پاک دامن اور وقار والی تھیں۔ حضرت عبداللہ کی زوجہ ٔ مبارکہ تھیں اور باوقار نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی والدہ ہیں۔ وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ منورہ میں صاحب منبر ہوں گے۔ آپ ( سیدہ آمنہ) اپنی قبر مبارک میں جا گزیں ہوگئیں۔‘‘ وہیں مقامِ ابواء میں سیدہ آمنہ کو دفن کر دیا گیا۔
دادا حضرت عبد المطلب کی کفالت میں
سیدہ آمنہ کے انتقال کے بعد اُن کی خادمہ اُم ایمن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر مکہ مکرمہ آئیں اور سیدہ آمنہ کے انتقال کی خبر دی۔ حضرت عبدا لمطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہودی اور عیسائی علماء سے سن چکے تھے اور تمام نشانیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھ چکے تھے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا کی خاص توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے با برکت ہونے کا حضرت عبد المطلب کو پورا احساس تھا۔ اس لئے جب کوئی بہت مشکل کام ہوتا تھا تو اسمیں اپنے پیارے پوتے صلی اللہ علیہ وسلم کو شریک کر لیتے تھے اور وہ کام آسانی سے مکمل ہو جایا کرتا تھا۔
حضرت عبدالمطلب کی بے قراری
ایک مرتبہ حضرت عبدالمطلب کے اونٹ گم ہو گئے تھے۔ آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو بھیجا مگر وہ ناکام واپس آئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک سات برس کے لگ بھگ یا کچھ ماہ زیادہ تھی۔ حضرت عبد المطلب نے اپنے پوتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹوں کی تلاش میں بھیجا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے واقف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آنے میں کچھ دیر ہو گئی تو حضرت عبد المطلب بہت بے قرار ہو گئے اور سب کچھ بھول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کی دعائیں مانگنے لگے۔ جب اور زیادہ دیر ہو گئی تو حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے پاس آئے اور رو رو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں طواف کرتے ہوئے دعا مانگنے لگے :’’ اے اللہ !میرے شہسوار اور نور ِ نظر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو لوٹا دے۔ اے رب کریم ! اسے بھیج دے، اپنے نا چیز بندے پر احسان کر ۔‘‘ وہ مسلسل دعاکرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے بیٹوں نے آکر اُنھیں بتا یا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اونٹوں کو تلاش کر کے لے آئے ہیں۔
حضرت عبدالمطب بہت عزت کرتے تھے
حضرت عبدالمطلب اپنے پوتے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت خیال رکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ حضرت عبد المطلب مکہ مکرمہ کے سب سے بڑے سردار تھے۔ اسی لئے خانہ کعبہ کے زیر سایہ آپ کے لئے مسند بچھائی جاتی تھی اور آپ کا کوئی بیٹا یا قریش کا کوئی بھی سردار ادب کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس مسند پر نہیں بیٹھتا تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تشریف لاتے تھے تو اس مسند پر آپ کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی چچا یا کوئی قریشی سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسند سے اتارنے کی کوشش کرتا تو حضرت عبد المطلب فرماتے :’’میرے بیٹے کو رہنے دو، اسے مسند سے نہ ہٹائو، اللہ کی قسم ! میرے بیٹے کی بہت بڑی شان ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے اور پُشت مبارک پر ہاتھ پھیرتے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومانہ حرکتیں دیکھ کر مسکراتے اور خوش ہوتے تھے۔
عیسائی عالم نے پہچان لیا
اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتابوں میں بار بار اور اتنی تفصیل سے سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا ہے کہ ہر یہودی اور عیسائی عالِم ( احبار اورراہب) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتا تھا۔ بلکہ بہت سے یہودی اور عیسائی عالموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کرنے اور نشانیاں بتانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔ وہ لوگ ہر سمجھ دار آدمی سے’’ اس آخری رسول‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر کرتے رہتے تھے اور اُن کی نشانیوں کو بتاتے رہتے تھے۔ ایسے ہی ایک عیسائی عالم سے حضرت عبد المطلب کے تعلقات تھے اور وہ اکثر آپ کے پاس آتا رہتا تھا اور آپ کو بتاتار ہتا تھا کہ توریت اور انجیل میں ’’ایک ایسے نبی ‘‘(صلی اﷲ علیہ وسلم)کا ذکر ہے جس کی تمام صفات اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں بہت تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔’’ وہ نبی‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم )حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولادمیں سے ہوگا۔ اب’’ اُس نبی‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ظاہر ہونے کا زمانہ بہت قریب ہے۔ ایک دن وہ عیسائی عالم حضرت عبد المطلب سے بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ حضرت عبدالمطلب نے بڑے پیار سے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اپنے بازو میں بٹھا لیا۔ وہ عیسائی عالم سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے دیکھتا رہا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں سرخ ڈوروں کو دیکھا، پھر پشت مبارک پر’’ مہر نبوت ‘‘دیکھی تو بے ساختہ بول اٹھا :’’ اے عبدالمطلب ! یہی’’ وہ آخری نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے، بتائو یہ تمہارا کیا لگتا ہے؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ وہ بولا :’’یہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ہماری کتاب میں اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ آخری نبی ’’یتیم ‘‘ہوگا۔ حضرت عبد المطلب نے فرمایا:’’یہ ’’یتیم‘‘ ہی ہے اور یہ میرا پوتا ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ عیسائی عالم بولا:’’ اس کی حفاظت کرو،کیوں کہ بہت سے لوگ اس سے دشمنی کریں گے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘حضرت عبدالمطلب نے قریب بیٹھے اپنے بیٹوں سے کہا :’’سُن رہے ہو، اپنے بھتجے کا خیال رکھنا، تاکہ کوئی دشمن اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔‘‘
حضرت عبدالمطلب کا انتقال
حضرت عبدالمطلب اسی طرح بڑے پیار و محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پر ورش کرتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک لگ بھگ آٹھ برس ہوئی تو حضرت عبدالمطلب کا بھی آخری وقت آگیا۔ اپنے آخری وقت میں انھوں نے تمام بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ ہر طرح سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا خیا ل رکھیں گے اور ابو طالب کی کفالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا،کیوں کہ ابو طالب اور حضرت عبداللہ سگے بھائی تھے۔ یعنی دونوں حضرت عبد المطلب کی ایک ہی بیوی کے بیٹے تھے۔ اسی لئے انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کو ہی سونپا اور فرمایا :’’میرے مرنے کے بعد اپنے بھتیجے کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دینا، اپنی اولاد سے بڑھ کر شفقت دینا۔ ہر آڑے وقت میں اس کے لئے جان لڑا دینا اور ہر میدان میں اس کی مدد کرنا۔‘‘ اس کے بعد حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہو گیا۔
ابو طالب کے گھر برکتوں کی بارش
ابو طالب اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر آگئے اوراُن کے گھر میں بھی برکتوں کی اسی طرح بارش ہونے لگی جیسی سیدہ حلیمہ رضی اﷲعنہا کے گھر ہوتی تھی۔ ابو طالب اپنے تمام بھائیوں میں سب سے غریب تھے۔ اسکے باوجود وہ اپنے بھتیجے کے ہر آرام کا خیال رکھتے تھے۔ امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ ابو طالب کہتے تھے:’’ مجھے میرے بھتیجے (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات سے حیرانی ہوتی تھی۔ ہم لوگ کھانے سے پہلے اور بعد میںاللہ کا نام نہیں لیتے تھے ۔لیکن میرا بھتیجا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کھانے سے پہلے بسمہ اللہ الاحد (اللہ کے نام سے جو ایک ہے) کہتا تھا اور کھانے کے بعد الحمد اللہ کہتا تھا۔ میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے اور نہ ہی کبھی میں نے اسے کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا ہے اور نہ ہی کبھی اس نے کھیل کود میں وقت ضائع کیا ہے۔
سب کا پیٹ بھر جاتا
بچپن ہی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قناعت پسند تھے اور خود سے کھانے کی فرمائش کبھی نہیں کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھ کر زم زم کے کنویں پر جاکر پانی پی لیتے تھے ۔ پھر جب ہم کھانے کے لئے بلاتے تو فرماتے تھے۔ مجھے کھانے کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ ابو طالب اور ان کی اولاد اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کھانا کھاتے تھے تو کھانا ختم ہوجاتا تھا ۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے تو سب کا پیٹ بھر جاتا تھا اور کھانا ختم نہیں ہوتا تھا۔ابو طالب ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ رکھتے تھے۔ یہ رغبت اتنی بڑھی کہ چچا بھتیجے کو ایکدوسرے سے محبت ہوگئی۔ ابو طالب اکثر کہتے تھے:’’ اے میرے بھتیجے تو بہت بابرکت ہے ۔‘‘صبح کو جب دوسرے بچے اٹھتے تو آنکھوں میں کیچڑ بھری ہو تی تھی، بال بکھرے ہوتے تھے۔ مگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے تھے تو بالوں میں تیل لگا ہوتا تھااور کنگھی کی ہوتی تھی اور آنکھوں میں سرمہ لگا ہوتا تھا۔
اللہ کی خاص رحمت
ابن عسا کر نے جلہمہ بن عرفطہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:’’ میں مکہ مکرمہ (تجارتکے سلسلے میں ) گیا تو وہاں قحط پڑا ہوا تھا اور لوگ بارش کے لئے ترس گئے تھے۔ ہر کوئی اپنے بتوں سے دعا مانگ کر تھک چکاتھا۔ ایسے میںایک شخص نے مکہ مکرمہ والوں سے کہا :’’ ہمارے بڑے سردار کے پاس چلو۔‘‘ تمام لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور کہا :’’اے ابوطالب قحط نے مکہ مکرمہ کو لپیٹ میں رکھا ہے، ہم اور ہمارے اہل وعیال کی بھکمری کا وقت آگیا ہے۔ آپ بارش کے لئے دعا کریں۔‘‘ ابو طالب سب کو لیکر خانہ کعبہ کی طرف چلے۔ ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔‘‘ راوی کہتے ہیں۔’’ اس لڑکے کو دیکھکر ایسا لگتا تھا جیسے سورج بادلوں میں سے نکل رہا ہو۔ ابو طالب نے اس بے انتہا خوبصورت اور بہت ہی روشن چہرے والے لڑکے کو خانہ کعبہ کی دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا کردیا۔اس جمیل و شکیل لڑکے نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر بادلوں کا نام و نشان نہیں تھا، لیکن اسکے ہاتھ اٹھتے ہی بادل آکر جمع ہونے لگے اور ابھی اس بے انتہا حسین لڑکے کے ہاتھ اوپر ہی اٹھے کہ موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔ ابو طالب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس واقعہ کے بعد کہتے تھے :’’ وہ روشن چہرے والا جس کے چہرئہ انور (کے صدقے) میں بارش عطاکی جاتی ہے۔ وہ یتیموں کو پناہ دینے والا ہے اور بیوائوں کا سہارا ہے۔
بحیریٰ راہب (عیسائی عالم )کا واقعہ
اس سے پہلے بھی ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابوں میں انتہائی تفصیل سے اور باربار اپنے’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا ذکر کیا ہے اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی نہیں بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بھی ذکر کیا ہے اور بہت تفصیل سے کیا ہے۔ اسکے علاوہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیھم السلام سے وعدہ لیا اور انھیںحکم دیا کہ اپنی اپنی امتوں کو میرے’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے بارے میں بتاتے رہنا۔ اسلئے ہر نبی اور ہر رسول نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت تفصیل سے بتایا تھا۔ جس وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے، اس وقت صرف دو قومیں یہودی اورعیسائی ایسی موجود تھیں جو اپنے پاس آسمانی کتاب رکھنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ حالانکہ ان دونوں قوموں نے اپنی اپنی کتاب توریت اور انجیل میں بہت سی ملاوٹ کردی تھی۔ لیکن اس ملاوٹ کے باوجود ان کتابوں میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا اور بہت سے یہودی علماء اور عیسائی علماء’’ اس آخری رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی نشانیوں کا ذکر اپنی اپنی کتابوں میں پڑھ کر ان علاقوں میں آکر آباد ہوگئے۔جن علاقوں میں’’اُن آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے آنے کی امید تھی۔ مثال کے طور پر مدینہ منورہ کے آس پاس جو یہودی قبائل تھے، اُن کے آباء و اجداد اِسی اُمید پر مدینہ منورہ آکر آباد ہو گئے تھے کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہجرت کر کے یہیں آئیں گے اور ہم اُن پر ایمان لا کر کامیابیاں حاصل کریں گے۔ اِسی طرح بحیریٰ راہب ( عیسائی عالم) نے بھی اپنی کتاب میں پڑھا تھا کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘جب سفر کریں گے تو فلاں مقام پر فلاں درخت کے نیچے آرام فرمائیں گے یا ٹھہریں گے۔ اسی لئے بحیریٰ راہب نے اپنا گرجا گھر ( عیسائیوں کی عبادت گاہ) اُس درخت کے سامنے بنائی اور’’ اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کا انتظار کرنے لگا کہ جب بھی’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘آئیں گے۔ میں ان کی خدمت کروں گا اور خدمت کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کروں گا۔
رسول اللہ ﷺ کا منتظر بحیریٰ راہب
ابو طالب بہت محبت اور لگن سے اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ ریکھ اور پرورش کر رہے تھے۔ اس طرح چار سال گزر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک لگ بھگ بارہ برس ہو گئی۔ قریش کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور اس سلسلے میں وہ اکثرملک شام ، یمن اور حبشہ کا سفر کرتے رہتے تھے۔ ابو طالب نے بھی ملک شام کے تجارتی سفر کی تیاری کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر ملک شام کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ ابو طالب نے بصریٰ پہنچ کر اُس کے مضافات میں قیام کیا۔ جس جگہ مکۂ مکرمہ کے قریش کا قافلہ رکا تھا، اس کے سامنے ایک عیسائی عالم ( راہب) کا صومعہ ( گرجا گھریا عبادت گاہ) تھا ۔ اُس راہب کا نا م جرجیس ( جر جیوس ) یا سر جیوس تھا اور اس کا لقب بُحیریٰ تھا۔ وہ زُہد ، تقویٰ اور علم میں بلند مقام والا تھا۔ اُس نے برسوں پہلے اپنی عبادت گاہ بنائی تھی۔ زیادہ وقت عبادت میں مصروف رہتا تھا اور بہت کم لوگوں سے بات کرتا تھا۔ اس نے انجیل میں’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی تعریف و توصیف اور حالات پڑھے ہوئے تھے اور یہ بھی پڑھا تھا کہ’’ اُن آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا گزر اس طرف سے ہوگا اوروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر تھا۔ اسے امید تھی کہ اس جگہ پر اسے ضرور اللہ تعالیٰ کے ’’آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا دیدار ہوگا اور اگر وہ اعلانِ نبوت کر چکے ہوں تو اُن پر ایمان لائے گا اور اگر نبوت و رسالت سے سرفراز نہیں ہوئے ہوں گے یعنی کم عمر ہوں گے تو ان کی خدمت کر کے اپنی آخرت سنوار لے گا۔
بُحیریٰ نے قافلے والوں کی دعوت کی
اس سے پہلے بھی مکہ مکرمہ والے اکثر اس جگہ قیام کرتے تھے۔ لیکن بحیریٰ نے کبھی ان کی طرف توجہ نہیں کی تھی اور نہ ہی کبھی ان لوگوں سے بات چیت کرنے کے لئے آیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ تو مکہ مکرمہ کے قافلے والوں کو بہت زیادہ حیرانی ہو گئی کہ بحیریٰ اس مرتبہ خود چل کر قافلے والوں کے پاس آیا اور پوچھا:’’ آپ لوگ کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ انھوں نے بتایا :’’ ہم حرم شریف ( مکۂ مکرمہ) سے آئے ہیں۔‘‘ اُس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا اور وہ متجسس نگاہوں نے ایک ایک کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا :’’قافلے کا سردار کون ہے؟ ‘‘ ابو طالب آگے بڑھے اور کہا:’’میں اس قافلے کا سردار ہوں۔ ‘‘بحیریٰ نے اُن سے کہا :’’ تم تمام قافلے والوں کی میری طرف سے دعوت ہے۔‘‘ قافلے والے حیران ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص نے پوچھا:’’ اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ یہاں قیام کر چکے ہیںلیکن آپ نے کبھی ہماری دعوت نہیں کی، اب ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ بحیریٰ راہب نے جواب دیا:’’ میں اپنی عبادت گاہ کی کھڑکی میں بیٹھا مکہ مکرمہ کی طرف سے آنے والے راستے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ آپ لوگوں کا قافلہ پہاڑی پر نمودار ہوا اور پہاڑی سے نیچے گھاٹی میں اترنے لگا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھاٹی کے تمام درخت ، پیڑ پودے اور پتھر قافلے کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اس قافلے میں ’’وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘سفر کر رہے ہیں۔ جن کا ذکر اور تعریف اور نشانیاں ہماری کتاب انجیل میں بیان کی گئی ہیںاور ان ہی کے انتظا رمیں برسوں سے میں یہاں رہ رہا ہوں۔‘‘
بادل اور درخت کا سایہ
اس کے بعد بحیرہ راہب متلاشی نگاہوں سے ہر ایک کو دیکھنے لگا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو چرانے گئے ہوئے تھے۔ قافلے کے تمام افراد کو غور سے دیکھنے کے بعد بحیریٰ نے کہا:’’ کیا اس قافلے کے تمام افراد یہاں موجود ہیں؟ ‘‘ اسے بتایا گیا:’’ ایک نو عمر لڑکا اونٹوں کو چرانے گیا ہوا ہے۔‘‘ بحیریٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ اس کی بے چینی اور بے تابی قافلے والوں کو حیران کر رہی تھی۔ آخر کار رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے، اُن کے اوپر ایک چھوٹا سا بادل سایہ کئے ہوئے تھا۔ بحیریٰ نے رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولا :’’دیکھو ! اُن پر ایک بادل کا ٹکڑا سایہ کئے ہوئے ہے۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو دیکھا کہ تمام لوگ پہلے ہی درخت کے سائے میں جگہ لے چکے ہیں اور اب سایہ میں کوئی جگہ باقی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دھوپ میں ہی ایک طرف بیٹھ گئے۔ بیٹھتے ہی درخت کی شاخیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھیں اور سایہ کر دیا۔ بحیریٰ راہب نے کہا :’’ دیکھو درخت نے کس طرح ان کے اوپر سایہ کر دیا ہے۔ ‘‘تب قافلے والوں نے یہ دونوں واقعہ دیکھا تو انہیں حیرت ہوئی اور انھوں نے کہا :’’ واقعی ہم نے ابھی تک غور نہیں کیا تھا۔‘‘
بحیریٰ راہب نے خدمت کی
بحیریٰ راہب نے تمام قافلے والوں کو دعوت دی تھی۔ تمام قافلے والے دعوت میں شریک ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیاتھاکہ ہم اُن کا کھانا لے کر آجائیں گے۔ بحیریٰ ہر ایک کا جائزہ لے رہا تھا اور استقبال کر رہا تھا۔ جب تمام لوگ آگئے تو اس نے پوچھا:’’ تمہارے ساتھ جو خوب صورت روشن چہرے والا نو عمر لڑکا تھا وہ کہاں ہے؟ ‘‘تمام لوگوں نے جواب دیا :’’ہم نے اسے سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘ اس نے کہا :’’یہ دعوت کا انتظام میں نے صرف اس خوب صورت روشن چہرے والے لڑکے کے لئے کیا ہے۔ سامان کی حفاظت میرا خادم کر ے گا۔ تم اسے لے آئو۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بحیریٰ راہب خود آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے لگا اور اپنے ہاتھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلانے لگا اور ساتھ ساتھ جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اُس آخری رسول کی تمام نشانیاں دیکھیںجو اس کی مقدس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو بحیریٰ نے کہا:’’ اے مبارک لڑکے! میں تم سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ٹھیک ہے۔‘‘
بُتوں سے نفرت
جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے کی اجازت دے دی تو بحیریٰ نے پوچھا :’’ میں تمہیں لات و عُزّیٰ کی قسم دیتا ہوں ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کی بات کاٹ کر ناگواری سے فرمایا:’’ اِن بتوں کی مجھے قسم نہ دیں،جتنی نفرت مجھے بتوں سے ہے کسی اور چیز سے نہیں ہے۔‘‘ ( مکۂ مکرمہ کے لوگوں نے بہت سے بت خانۂ کعبہ کے اندر اور باہر رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو بڑے بتوں کے یہ نام تھے اور بحیریٰ جانتاتھا کہ مکۂ مکرمہ کے لوگ ان کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے اس نے ان بتوں کی قسم دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بتوں سے نفرت ظاہر کرنے پر اس کی کتاب میں لکھی ہوئی یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘بتوں سے نفرت کرے گا اور انھیں توڑ دے گا۔
یہ لڑکا’’ رحمت اللعالمین ‘‘ہے
جب بحیریٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بتوں سے اتنی نفرت دیکھی توکہا :’’پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیکر عرض کرتا ہوں کہ آپ میرے سوالوں کا سچ سچ جواب دیں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمہارے ہر سوال کا صحیح جواب دوں گا۔‘‘ پھر اس نے مختلف سوال کئے اور جواب سنا اور تمام نشانیوں کی تحقیق کی اور’’ مہر نبوت ‘‘کو بھی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر بولا:’’ یہ لڑکا تمام عالموں کا سردار ہے اور اللہ رب العالمین کی طرف سے تمام عالموں کا رسول مبعوث ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے تمام عالمین کی طرف رحمت بنا کر بھیجے گا۔ ‘‘
اِس لڑکے کی حفاظت کرو
اتنا کہنے کے بعد بحیریٰ نے پوچھا :’’یہ لڑکاکس کے ساتھ ہے؟ ‘‘ ابو طالب نے کہا :’’میرے ساتھ ہے۔‘‘ اُ س نے کہا:’’ اس سے آپ کا کیا رشتہ ہے ؟‘‘ابو طالب نے کہا :’’ میر ا بیٹا ہے۔‘‘ اس نے کہا :’’ یہ نہیں ہو سکتا، یہ لڑکا یتیم ہونا چاہیئے۔ ‘‘ انھوں نے کہا :’’یہ میرا بھتیجا ہے لیکن بیٹے سے زیاد ہ پیارا ہے۔ ‘‘یہ سن کر بحیریٰ نے کہا :’’اس لڑکے کی حفاظت کرو، اگر بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے اس لڑکے کو دیکھ لیا تو پہچان لیں گے اور قتل کر نے کی کوشش کریں گے۔ آپ کے اس بھتیجے کی بہت بڑی شان ہوگی ،انھیں لے کر جلدی اپنے وطن لوٹ جائیں ۔ ‘‘یہ سن کر ابو طالب سفر کی تیاری کرنے لگے اور بحیریٰ اُن کی مدد کرنے لگا۔
اس مہینے’’ وہ آخری نبی ‘‘سفر پر نکلنے والا ہے
بحیریٰ سفر کی تیاری میں ابوطالب کی مدد کر رہا تھا۔ اسی وقت اس نے کچھ سوار دیکھے جو رومی حکومت(سلطنت روم) کی طرف سے آرہے تھے۔ بحیریٰ نے انھیں پہچان لیا کہ یہ رومی سپاہی ہیں۔ وہ آگے بڑھا اور رومی سپاہیوں سے بولا:’’ آپ لوگوں کا ادھر کیسے آنا ہوا؟‘‘ انھوں نے بتایا:’’ یہودی علماء اور عیسائی علماء نے بتایا کہ’’ وہ آخری نبی‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم) جس کا توریت اور انجیل میں ذکر ہے، وہ اس مہینے سفر پر نکلنے والا ہے۔ اس لئے رومی حکومت نے ہر طرف اس کی تلاش میں سپاہی بھیجے ہیں اور ہم لوگ اس طرف آئے ہیں ۔ ‘‘بحیریٰ نے کہا :’’اچھا یہ بتائو !جس کام کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ بنا لیا ہو ، کیا اس کو کوئی روک سکتا ہے؟‘‘ رومی سپاہیوں نے کہا:’’نہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ‘‘(چونکہ رومی سپاہی عیسائی تھے) تو بحیریٰ نے اُن سے وعدہ لیا کہ اگر ’’وہ آخری نبی ‘‘انھیں مل جائیں تو انھیں نقصان نہیں پہونچائیں گے۔انھوں نے وعدہ کیا۔ اس کے بعد ابو طالب جلدی جلدی اپنا سامان فروخت کرکے اور ضروری اشیاء لے کر مکہ مکرمہ واپس آگئے۔ لگ بھگ سیرت کی ہر کتاب میں بحیریٰ راہب کا واقعہ موجود ہے۔ ان تمام میں الگ الگ حصے ہیں۔ ہم نے ان سب کو جوڑ کر ایک مربوط واقعہ کی شکل میں پیش کر نے کی کوشش کی ہے۔
اگلی کتاب
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاء اللہ آپ کی خدمت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے کے حالات پیش کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں