01 سیرت سید الانبیاء ﷺ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد
شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
امامت کی منتقلی
اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کر چکے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل (یہودیوں ) نے اپنی سمجھ کے مطابق صلیب پر چڑھوا کر قتل کر دیا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی حفاظت میں اٹھا لیا۔ اور آپ علیہ السلام کے دھوکے میں بنی اسرائیل نے کسی دوسرے شخص کو صلیب دیکر قتل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی بنی اسرائیل بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر چکے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُن میں مبعوث کر کے اللہ تعالیٰ نے اُن کو آخری موقع دیا تھا۔ لیکن ان بدبختوں نے یہ آخری موقع بھی گنوا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے ’’امامت ‘‘کا مرتبہ چھین لیا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے اور آپ علیہ السلام کے پیر وکاروں کو موقع دیا۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں’’ نصاریٰ‘‘ فرمایاہے۔ اور یہ اپنے آپ کو’’ عیسائی ‘‘کہلواتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں لگ بھگ پونے چھ سو برس تک موقع دیا۔لیکن ان لوگوں نے غلو کیا۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا ڈالا۔ اس طرح یہ لوگ بھی نا کام ہو گئے۔ اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی ’’امامت ‘‘کا مرتبہ چھیننے کا ارادہ فرمایا تو بنی اسماعیل میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اور’’ امامت‘‘ کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو سونپ دیا۔
بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل :
اس سے پہلے جب ہم نے آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر پیش کیا تھا تو اُس میں ہم نے بتایا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کئی بیٹے ہیں۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور صرف دو بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد’’ بنی اسرائیل‘‘ کہلائی۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ’’بنی اسماعیل‘‘ کہلائی۔ بنی اسرائیل ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان وغیرہ) میں رہے۔ اور اللہ تعالیٰ اُن میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث کرتے رہے۔ اس دوران’’ بنی اسماعیل ‘‘میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عرب میں مکہ مکرمہ میں آباد کر دیا تھا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی اولاد’’ بنی اسماعیل ‘‘عرب کے حجاز اور نجد کے علاقوں اور آس پاس کے علاقوں میں آباد رہی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آبأ و اجداد
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں چھوڑا تو وہ بالکل ویران علاقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں پر زمزم کا کنواں پیدا فرمایا۔ اور پانی کی وجہ سے یمن کا ایک قبیلہ جرہم یہاں آکر آبا د ہو گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو کر جرہم ، عمالقہ اور اہلِ یمن کی طرف مبعوث ہوئے۔ اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تمام نے اسلام قبول کیا۔ ایک سو تیس سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ اور حطیم میں آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ کے بازو میں دفن کیا گیا۔ حضرت اسماعیل کے بیٹے قیدار کو خانۂ کعبہ کی ذمہ داری دی گئی۔ اور تب سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک خانہ کعبہ کی ذمہ داری’’ بنی اسماعیل‘‘ سنبھالتے رہے اور بہترین طریقے سے حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔
رسول اللہ ﷺ کا سلسلہ ٔ نسب عدنان تک
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنا سلسلہ ٔ نسب اس طرح بیان فرماتے تھے ۔’’ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لَوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمۃ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ( صحیح بخاری) حضور صلی اللہ علیہ وسلم عدنان تک فرماتے تھے اور رک جاتے تھے اور فرماتے تھے ۔ نسب والوں نے غلط کہا یعنی عدنان کے آگے نسب میں غلطی ہو سکتی ہے۔ بہر حال اس پر سبھی کا اتفاق ہے کہ عدنان ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔
تمام والدین پاک و صاف تھے
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام والدین کی طہارت اور پاکیزگی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا ۔ جب بھی (اللہ تعالیٰ نے) نسل ِ انسانی کو دو طبقات تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے بہتر طبقہ میں رکھا گیا۔ پس میرے نسب کو ہر جگہ ایسے والدین میں سے نکالا گیا جن کو دورِ جاہلیت کی کسی برائی نے چھوا تک نہیں ہے۔ میرے سلسلۂ نسب میں ہمیشہ نکاح قائم رہا ہے۔ کبھی بھی میری پیدائش میں غلط کاری کا دخل نہیں ہوا ہے۔ یہ پاکیزگی اور طہارت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر میرے والدین ( حضرت عبدا للہ اور سیدہ آمنہ) تک برقرار رہی۔ یہاں تک کہ میری پیدائش ہوئی۔ پس میں اپنے ذاتی شرف اور نسبی شرف دونوں میں تم سب سے بہتر ہوں۔
تمام والدین سجدہ کرنے والے عبادت کرنے والے تھے
اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ء آیت نمبر219میں فرمایا۔ترجمہ:’’ اور (اللہ تعالیٰ) ساجدین میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا اٹھنا بیٹھنا( دیکھتا ہے) ۔‘‘ اس آیت کی تفسیر میں سید المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نور انبیائے کرام کی پاکیزہ پشتوں میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کے یہاں پیدا ہوئے۔‘‘ اس باب میں دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ بڑی پاکیزہ اور مہذب حالت میں میرے نور کو طیب و طاہر پُشتوں سے پاکیزہ شکموں میں منتقل فرماتا رہا ۔ جوں ہی کوئی خاندان دو حصو ں میں تقسیم ہوتا تھا، مجھے بہترین خاندان میں رکھ دیا جاتا تھا۔‘‘ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نسل در نسل انبیاء کے پاکیزہ نسب میں گزارا گیا ہے ،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ِ نبی پیدا فرمایا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی آدم کے طبقات اور زمانے گزرتے رہے یہا ں تک کہ مجھے اس طبقے سے بھیجا گیا جو سب سے بہترین تھا۔
سب سے بہترین قبیلہ اور خاندان سے
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چنا ،بنو کنانہ میں سے قبیلہ قریش کو چُنا، قریش میں سے خاندان بنی ہاشم کو چُنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چُن لیا۔‘‘ جامع ترمذی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں،بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا،پھر جوبہترین مخلوق تھی اُس میں مجھے رکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو دو گروہوں میں تقسیم کیا، جو بہترین گروہ تھا اُس میں مجھے رکھا۔ پھر اُس گروہ کو قبائل میں تقسیم کیا تو جوبہترین قبیلہ تھا اُس میں مجھے رکھا۔پھر اس قبیلے کو خاندان میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین خاندان میں رکھا ۔میں ذات اور خاندان دونوں حوالوں سے سب سے بہتر ہوں۔ ‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جبرئیل امین میرے پاس آئے اور عرض کیا ! میں نے مشرق اور مغرب چھان ڈالے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ اور افضل کسی کو نہیں پایا۔ ان تمام احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام والدین بہت ہی نیک اور ہر کوئی اپنے اپنے زمانے میں سب سے بہتر اور معزز رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام والدین میں خیر ہی خیر اور نیکی اور شرافت اور اخلاق و کردار کی بلندی سب سے زیادہ ہے۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ سب سے اعلیٰ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان سب سے اعلیٰ ہے۔
قبیلہ قریش
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جاننے سے پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ قریش کے بارے میں کچھ تفصیل جان لیتے ہیں۔تاکہ آگے ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔جس وقت مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت پورے مکہ مکرمہ میں قبیلہ قریش کے ہی خاندان رہا کرتے تھے۔اس سے پہلے ہم ان دو احادیث کا ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن یہاں دوبارہ ذکر کر رہے ہیںتاکہ ادھورہ پن محسوس نہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاـ: ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چن لیا۔ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنعانہ کو چن لیا، پھر بنو کنعانہ میں سے قریش کو بزرگی عطا فرمائی۔ پھر قریش میں سے خاندان بنو ہاشم کو فضیلت عطا فرمائی اور بنو ہاشم میں سے مجھے (نبوت اور رسالت کے لئے) چن لیا۔‘‘حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنعانہ کو چن لیا،بنو کنعانہ میں سے قریش قبیلہ کو پسند فرمالیا ۔ قبیلہ قریش میں سے خاندان بنو ہاشم کو فضیلت عطا فرمائی اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔ ان دو احادیث سے یہ معلو م ہوا کہ کنانہ کی اولاد میں ہی قبیلہ قریش ہے۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلئہ نسب کو ایک بار پھر غور سے دیکھیں ۔جو ہم نے پہلے ذکر کر دیا ہے ۔اس سلسلئہ نسب میں آپ کو کنانہ کے بیٹے نضر اور نضر کے بیٹے مالک اور مالک کے بیٹے فہر کا نام دکھائی دے گا،اکثر روایات سے ثابت ہوتا ہے فہر کا لقب قریش تھا۔
قریش نام کیوں؟
اوپر ہم نے بتایا کہ فہر بن مالک کا لقب قریش تھا۔اور فہر بن مالک کی اولاد قریش کہلائی ۔ یعنی فہر بن مالک کی اولاد سے قبیلہ قریش بناہے۔ اس کے علاوہ بھی قریش نام کیوںہے؟ اس سلسلے میں کئی روایات آئیں ہیں۔ کچھ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ’’ قریش ‘‘بمعنی’’ تفتیش ‘‘کے ہے۔اس قبیلے کے لوگ غریب اور نادارلوگوں کو تلاش کرکے ان کی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ اور حجاجِ کرام(حاجیوں) کے حالات دریافت کرکے ان کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔ اس لئے ان کا نام’’ قریش‘‘ پڑگیا۔ زبیر بن بکار روایت کرتے ہیں کہ’’ قریش قرش‘‘ کی تصغیر ہے اور’’ قرش‘‘ ایک سمندری جاندار ہے جو تمام سمندری جانداروں کو کھا جاتا ہے۔ یہ تمام جانداروں پر غالب آجاتا ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں آپاتا، گویا کہ’’ قرش‘‘ سب سے زیادہ قوی اور طاقتور ہے۔ چونکہ قریش قبیلہ پورے عرب میںدوسرے قبائل سے بزرگ و برتر اور زبردست قوت اور طاقت والا ہے ، اس لئے اسے قریش کہتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قریش ، ’’تقرش ‘‘سے ہے۔ جس کے معنی کسب کرنے اور کمانے کے ہیں۔ یہ لوگ تجارت میں بہت مہارت اور دسترس رکھتے تھے اور اس میں ان کو عالمی شرت حاصل تھی۔ اس بنا ء پر یہ قبیلہ’’ قریش‘‘ کے لقب سے معروف ہوا۔ ( روض الانف) قبیلہ قریش میں بہت سے خاندان تھے، ان میں چند مشہور خاندان یہ ہیں۔ بنو عبد الدار ، بنو عبد مناف ، بنو عبد قصی ، بنو سہم ، بنو عدی ، بنو ہاشم ، بنو اُمیہ ، بنو نوفل ، بنو حارث ، بنو مخزوم ، بنو زہرہ ، بنو تمیم ، بنو اسد وغیرہ۔
حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام جد امجد
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی اولاد میں آخری رسول ﷺ ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ کے والدین میں چونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عدنان تک کا ہی ذکر فرمایا ہے ،اِس لئے ہم بھی عدنان تک ہی کا ذکر کریں گے۔لیکن چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اپنے آپ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کا بیٹا بتایا ہے اور فرمایا کہ میں اپنے والد حضرت ابراہیم علیہم السلام کی دعا ہوں ۔اِس دعا کا اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں سورہ البقرہ میں ذکر فرمایا ہے ،جس کا ذکر ان شاء اﷲ ہم آگے کریں گے۔بہر حال تمام علمائے کرام کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام ہمارے پیارے رسول سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین ہیں۔اِس لئے ہم عدنان سے پہلے اِن دونوں مقدس ہستیوں کی اُس دعا کا ذکر کریں گے جو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کی تھی۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی دعا
اللہ رب العزت نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اپنی کتابوں میں اور انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے اتنی کثرت سے کیا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت اور تعلق جوڑنے کی تمنا کرنے لگے تھے۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ’’وہ آخری رسول ‘‘میری اولاد میں سے ہو۔اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا : ترجمہ ’’ابراہیم (علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام )کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار!تُو ہم سے قبول فرما ،تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے،اے ہمارے رب!ہمیں اپنا فرما نبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جما عت کو اپنا اطاعت گذار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما،تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب !اِن میں اِنہیں میںسے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے اِنہیں کتاب و حکمت سکھائے اور اِنہیں پاک کرے۔یقینا تُو غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔‘‘(سورہ البقرہ آیت نمبر ۱۲۷؎ سے ۱۲۹؎تک)مولانا سید ابو الاعلیٰ مودوی آیت نمبر ۱۲۹؎ کی تفہیم میں لکھتے ہیں کہ ’’اس سے بتانا مقصود ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جواب ہے۔‘‘علامہ محمد بن جُریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیںحضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں’’ اُم الکتاب ‘‘میں ’’خاتم النبین‘‘ تھا ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام اپنی مٹی میںگوند ھے ہوئے تھے۔میں تمہیں اپناابتدائی امربتاؤں؟میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ محترمہ کا وہ خواب ہوں جو اُنھوںدیکھا تھا،انبیاء کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔‘‘علامہ عماد الدین ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ کا خواب عرب میں پہلے ہی مشہور ہو گیا تھااور وہ کہتے تھے کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہو گا۔‘‘
دُعا میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات
اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جاننے کے بعد ہر نبی علیہ السلام کی یہ تمنا تھی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نہ کسی طرح ان کی نسبت ہو جائے۔اسی لئے ’’خانہء کعبہ‘‘کی تعمیر کرتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ دعا مانگی کہ ’’وہ آخری رسول‘‘ہماری اولاد میں ہو۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔یہاں’’ رسول‘‘ سے مراد صرف ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ہی ہیںاور یہ دعا خاص اُنہیں کے لئے ہے۔اس کی چند وجہ ہیں(1)پہلی وجہ یہ کہ اس سے ’’بنی اسماعیل‘‘اور ’’مکہء مکرمہ ‘‘کا پیغمبر مُراد ہے اور وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔کیونکہ ’’بنی اسماعیل اور مکہء مکرمہ‘‘میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی بن کر آئے ہیں۔(2)دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاںرسول’’واحد‘‘فرمایا ہے یعنی صرف ایک رسول بھیج ااور ’’بنی اسرائیل ‘‘میں تو صدہا رسول تشریف لائے ہیں،جبکہ ’’بنی اسماعیل‘‘ میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تشریف لائے ہیں۔(3)تیسری وجہ یہ کہ ’’اس رسول‘‘کی یہ صفت بیان کی کہ ’’جو لوگوں کو آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ ء نفس کرے‘‘جس سے معلوم ہوا کہ جس نبی کی باقاعدہ’ ’کتاب ‘‘پڑھی جائے گی اور اس کے بعد سلسلۂ نبوت ختم ہو کر ولایت باقی رہ جائے گی۔یہ دونوں صفتیں رسول اللہ ﷺ ہی کی ہیں کہ تلاوت اور قرات دھوم دھام سے آپ ﷺ کی ہی کتاب کی ہوتی ہے اور آپ ﷺ ہی ’’خاتم النبیین‘‘ہیں۔(4)چوتھی وجہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کی یہ ہی صفت بیان فرمائی ہے۔معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو عرض کیا وہی رب تعالیٰ نے بھی فرمایا۔(5)پانچویں وجہ یہ ہے کہ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں’’دعائے ابراہیم‘‘ اور بشارت عیسی‘‘علیہم السلام ہوں۔(6)چھٹی وجہ یہ ہے کہ اسی پر تمام اُمت کا اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’دعائے خلیل‘‘ہیں۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے خلیل اللہ علیہ السلام کا دین اور نام پھیلا ہے۔پھر عرض کیا "منھم" یعنی اے مولا ’’وہ شاندار رسول‘‘ اس ذریت میں سے ہی ہو۔ "فیھم" اور "منھم" کہہ کر یہ بتایاکہ یہاں ہی پیدا ہو اور میری ہی اولاد میں ہو۔تاکہ اُس کے طفیل اس مکاں(علاقے)کو اور مجھ کو اور میرے سارے خاندان کو’’شرف‘‘ حاصل ہو۔اور ہر شخص اپنی اولاد کی خیریت کا حریص ہو تا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی یہ تمنا کی کہ ’’نبی آخر الزماں‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر مجھ کو اور میری اولاد کو حاصل ہواور یہ پھول میرے ہی چمن میں کھلے۔اس کے بعد مفتی صاحب ’’خلاصہء تفسیر ‘‘میں آگے لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب سارے کام کر چکے اور خانہء کعبہ بنا اور مکہء مکرمہ بسا چکے تو اخیر میں’’ اُن صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا ذکر کیا جن کے طفیل دعائیں قبول ہوتی ہیںاور جن کے دم سے یہ ساری بہار ہے۔جن کے طفیل خلیل اور کعبہ ،مقام و منیٰ دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔عرض کیا کہ اے مولیٰ،ان لوگوں میں ایک ایسا جلیل القدر پیغمبر بھیج دے ،جن میں یہ سات صفتیں ہوں۔ (1)ان مکہء مکرمہ والوں میں سے ہو(2)ابراہیمی "فیھم" یعنی مکی ، مدنی ، ہاشمی ، مطلبی ہو (3)اپنی شان رسالت میں اکیلا ہو "رسولہ" یعنی’’خاتم النبیین‘‘اور ’’امام المرسلین‘‘ ہو (4)سب کو اور خصوصاً میری اولاد کوآیتیں سنائے،بتائے اور پڑھنا سکھائی "یتلو آیتہ" یعنی اُنہیں حفظ کرائے اور علم قرات سکھائے (5)انہیں تیری کتاب کے مضامین سکھا کر عالم ،فقیہ اور مجتہد بنادے ویعلمھم الآیتہ (6)انہیں قرآنی اسرار سکھائے اور تیرا راز دار بنا دے اور طریقت کے مدارج طے کرادے "والحکمتہ" یعنی انہیں صاحب ِحال و قال کردے (7)ان کے دل اور روح پاک و صاف کر کے غیوب سے خبر دار کردے ،اور بے پڑھوں کو اپنے فیض سے علماء کا سردار بنادے۔
سید الانبیاء ﷺ کے لئے خصوصی دعا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور فضائل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت اچھی طرح سے جانتے تھے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی دعا مانگی۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی کہ مکہء مکرمہ میں اہل مکہ میں سے ایک’’عظیم رسول‘‘بھیج دے۔اس سے مُراد حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں(1)تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ ’’اس رسول‘‘سے مُراد حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیںاور یہ اجماع حجت ہے۔(2)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’بے شک میں اللہ کے نزدیک ’’خاتم النبیین‘‘لکھا ہوا تھااور اُس وقت حضرت آدم علیہ السلام مٹی میں گندھے ہوئے تھے اور میں تم کو اپنی ابتداء کی خبر دیتا ہوں۔میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوںاور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوںاور میں اپنی والدہ محترمہ کا وہ خواب ہوں جو اُنہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھاتھا،ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے(3)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا اہل مکہ کے لئے کی ہے اور مکہء مکرمہ میں اللہ رب العزت نے حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی کو مبعوث نہیں فرمایا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی کہ مکہء مکرمہ میں اہل ِمکہ میں سے ایک ’’عظیم رسول‘‘مبعوث فرما۔اس میں ایک بات تو یہ بتائی کہ یہ ’’رسول‘‘انسانوں کی جنس سے ہے،فرشتوں یا جنات کی جنس سے نہیں ہے۔کیونکہ اگر وہ ’’رسول‘‘ فرشتہ یا جنات ہوتا تو انسان اس کو نہیں دیکھ سکتے،اس کا کلام نہیں سن سکتے تھے اور اس کی سیرت انسانوں کے لئے نمونہ اور حجت نہیں ہوتی۔دوسری بات یہ کہ جب وہ رسول اہل مکہ میں سے ہوگا،تو اہل مکہ اس کی پیدائش ،اس کی تربیت اور اس کی نشو و نما سے واقف ہوں گے۔اس کا صدق ،اس کی امانت اور اس کی زندگی کا ایک ایک گوشہ ان پر عیاں ہو گا۔اور پھر اس کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لئے خود اس کی زندگی میں ہی ان کو قرائن اور دلائل مل جائیں گے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ ان کافروں سے کہیئے۔’’میںاس سے پہلے تم میں عُمر (کا ایک حصہ )گزار چکا ہوںتو کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘ (سورہ یونس آیت نمبر 16)نیز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ میں سے اپنی ذریت کے لئے دعا کی تھی اور ان کو یہ علم تھا کہ جب ’’وہ رسول‘‘مکہء مکرمہ میں پیدا ہو گا تو ان کی ذریت کے لئے ’’باعث فخر ‘‘ہو گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا دو ہزار سات سو پچھتر 2775 سال بعد قبول ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا کا دیر سے قبول ہونا مقبولیت کے منافی نہیں ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں:اس ’’عظیم رسول‘‘کی صفت بیان کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔وہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) تیری آیات کی تلاوت کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح کرے۔آیات کی تلاوت سے مُراد یہ ہے کہ وہ ان پر قرآن پاک کی تلاوت کریں یا مُراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر جو دلائل ،آیات اور علامات ہیں ان کو بیان کریں۔کتاب کی تعلیم سے مُراد یہ ہے کہ’’وہ رسول‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )قرآن پاک میں بیان کئے ہوئے احکام پر عمل کر کے دکھائیں اور جن آیات کی تفصیل کی ضرورت ہے اُن کی تفصیل بیان کریں اور جن آیات کے شرعی معنی بیان کرنے کی ضرورت ہے ان کے شرعی معنی بیان کریں۔’’حکمت ‘‘کا معنی ہے ’’معرفت الموجودات اور فعل الخیرات‘‘اور یہا ں اس سے مُراد ہے :قرآن پاک کے ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کو جاننا،قرآن پاک کے اسرار ودقائق کو جاننا،یا حکمت سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔اور ’’اصلاح نفس‘‘سے مُراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو معصیت کی آلودگی سے پاک کرتے ہیں۔ان کے ظاہر اور باطن کو رزائل اور نقائص سے دور کرتے ہیںاور ان کی عبادات میں خلوص،للٰہیت اور دوام کو اجاگر کرتے ہیں،جس سے ان کا دل تجلیات الٰہیہ کا آئینہ بن جا تا ہے۔
عدنان
رسول اللہ ﷺ نے اپنے آباء و اجداد کا ذکر فرماتے ہوئے عدنان تک ذکر فرمایا اور عدنان تک کا نسب نامہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔عدنان کے بارے میں تمام علمائے کرام اور مورخین کا اتفاق ہے کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں۔عدنان کے والد کا نام’’ اُدَد‘‘ ہے ،انہیں’’اُد‘‘بھی کہا جاتا ہے۔عدنان کے کئی بیٹے(1) معدبن عدنان (2) عک بن عدنان(3) عدن بن عدنان ( 4) ابین بن عدنان (5) حارث بن عدنان(6)مُذھب بن عدنان(7) ضحاک بن عدنان ہیں،جو الگ الگ علاقوں میں آباد ہو گئے۔امام محمد بن اسحاق کے مطابق ’’عدنان‘‘سے ’’حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد مختلف قبائل میں منقسم ہو گئی۔’’عک‘‘کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ’’یمن‘‘میں جا کر بس گیا۔’’عدن ‘‘اور ’’ابین ‘‘بھی دوسرے علاقوں میں جاکر بس گئے اور وہاں اُن دونوں کے نام پر دو بڑے شہر ’’عدن اور ابین‘‘مشہور ہیں۔عدنان کے تمام بیٹوں میں سے صرِف ’’معد بن عدنان ‘‘مکۂ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے اور اُن کی اولاد ’’مکۂ مکرمہ ‘‘اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہوگئی۔
معد بن عدنان
امام محمد بن اسحاق کے مطابق ’’معد بن عدنان ‘‘کے چار بیٹے ہیں (1) نزار بن معد (2) قضاعہ بن معد، اِن کا نام ’’بکر‘‘بھی ہے اِسی وجہ سے معد بن عدنان کو ’’ابو بکر‘‘کی کنیت سے بھی یاد کیا جا تا تھا۔ (3) قنص بن معد ( 4) ایاد بن معد ۔اِس کے علاوہ معد بن عدنان کو ’’ابو نزار ‘‘کی کنیت سے بھی پکارا جاتا تھا۔معد بن عدنان بہت ہی بہادر اور جنگ جو تھے اور اکثر بنی اسرائیل سے اُ ن کی جنگ ہوتی تھی،جس میں انہیں ہی فتح حاصل ہوتی تھی۔معد بن عدنا ن کے صرف ایک بیٹے ’’نزار‘‘ہی مکۂ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے اور اُن کے باقی تینوں بھائی ’’حجاز‘‘(ملک عرب کا پہاڑی علاقہ) میں الگ الگ علاقوں میں بس گئے۔
سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت
علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں کہ معد بن عدنان بخت نصر کے زمانہ میں بارہ سال کے تھے ۔اُس زمانہ کے نبی ’’حضرت ارمیاہ علیہ السلام پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ بخت نصر کو اطلاع کر دو کہ ہم نے اُسے عرب پر مسلط کیااور آپ علیہ السلام معد بن عدنان کو اپنے براق پر سوار کر الیں تاکہ معد کو کوئی صدمہ نہ پہنچے ۔کیونکہ میں ’’معد‘‘کی صلب سے ’’ایک محترم نبی ‘‘(صلی اﷲ علیہ وسلم ) پیدا کرنے والا ہوں، جس سے پیغمبروںکا سلسلہ (نبوت کا سلسلہ ) ختم کروں گا۔حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی نگرانی میں معد بن عدنان نے تربیت حاصل کی اور پھر مکۂ مکرمہ میں آکررہائش پذیر ہو گئے ۔
نزار بن معد
معد بن عدنان کے بیٹے نزار بن معد چونکہ اپنے زمانے میں یکتا تھے یعنی اُن کی مثال کم تھی ،اِس لئے نزار اُن کا نام ہو گیا۔امام عبد الرحمن بن عبد اﷲ سہیلی فرماتے ہیں کہ جب ’’نزار بن معد‘‘پیدا ہوئے تو اُن کی پیشانی ’’سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم ‘‘کے نور سے چکم رہی تھی۔والد محترم معد بن عدنان نے یہ دیکھا تو بہت مسرور ہوئے اور اِس خوشی میں سب لوگوں کی دعوت کی اور یہ کہا؛’’یہ سب اِس مولود کے حق کے مقابلہ میں بہت قلیل ہے۔‘‘اِس لئے ’’نزار‘‘نام رکھا گیا۔نزار اپنے زمانے کے سب سے زیادہ عاقل اور دانشمند تھے۔نزار بن معد کے چار بیٹے (1) مُضر بن نزار ( 2) ربیعہ بن نزار (3) انمار بن نزار( 4) ایاد بن نزارہیں۔
مُضر بن نزار
نزار بن معد کے بیٹے مُضر کا اصل نام ’’عَمرو‘‘ہے اور کنیت ابو الیاس ہے،مُضر اُن کا لقب ہے۔ترشی اور دہی آپ کو بہت پسند تھی ،اِسی لئے مضر کے نام سے مشہور ہو گئے۔آپ بہت ہی خوش الحان تھے اور سفر میں چلتے وقت اونٹوں پر حدی خوانی کرنا آپ ہی نے ایجاد کیا۔مضر کے دو بیٹے (1)الیاس بن مضر (2) عیلان بن مضرہیں۔امام محمد بن سعد مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مُضر کو بُرا مت کہو وہ مسلمان تھے۔‘‘
الیاس بن مُضر
مُضر بن نزار کے بیٹے الیاس بن مضر مکہ مکرمہ میں رہے۔خانہ کعبہ کی طرف ھدی بھیجنے کی سنت سب سے پہلے الیاس بن مضر نے جاری کی۔کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی صُلب (پشت) سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا تلبیۂ حج سنا کرتے تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’الیاس کو بُرا مت کہو وہ مومن تھے۔‘‘(فتح الباری)الیاس بن مضر کے تین بیٹے (1) مدرکہ بن الیاس(2) طابخہ بن الیاس (3) قمعہ بن الیاس ہیں۔
مدرکہ بن الیاس
الیاس بن مضر کے بیٹے مدرکہ بن الیاس کا نام ’’عمرو‘‘ ہے۔ایک دن وہ اپنے بھائی کے ساتھ اونٹ چرا رہے تھے اور ایک جانور شکار کر کے اُسے پکانے لگے کہ کسی شخص نے اونٹوں پر حملہ کر دیا مدرکہ نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم اونٹوں کو بچانے جاؤ گے یا کھانا پکاؤ گے؟بھائی نے کہا تم اونٹوں کی حفاظت کے لئے جاؤ۔مدرکہ گئے اور تمام اونٹوں کو حفاظت سے لے آئے اور رات کو جب گھر آئے تو تمام واقعہ اپنے والد الیاس بن مضر کو سنایا تو انہوں نے آپ کو مدرکہ(پا لینے والا) اور آپ کے بھائی کو طابخہ ( پکانے والا) کہہ کر پکارا ۔جب سے دونوں کے یہ نام پڑگئے۔مدرکہ کے دو بیٹے (1) خزیمہ بن مدرکہ(2) ہذیل بن مدرکہ ہیں۔
خزیمہ بن مدرکہ
مدرکہ بن الیاس کے بیٹے خزیمہ بن الیاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہمیشہ رہے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ خزیمہ بن مدرکہ کا ملتِ ابراہیمی پر انتقال ہوا۔خزیمہ بن الیاس کے چار بیٹے (1) کنانہ بن خزیمہ (2) اسدبن خزیمہ (3) اسدہ بن خزیمہ(4) ہون بن خزیمہ ہیں۔
کنانہ بن خزیمہ
خزیمہ بن الیاس کے بیٹے کنانہ بن خزیمہ ملک عرب میں بہت مشہور ہوئے اور آپ کی اولاد ’’بنو کنانہ یا بنی کنانہ ‘‘کہلائی ۔اوپر جو صحیح مسلم کی حدیث میں ’’بنو کنانہ‘‘کا ذکر آیا ہے وہ انہی کنانہ کی اولاد ہے اور آپ کے نام پر آپ کی اولاد بنو کنانہ کہلائی۔کنانہ بن خزیمہ کا دبدبہ پورے ملک عرب میں تھا اور ہر علاقے کے لوگ آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آتے تھے۔کنانہ بن خزیمہ کے چار بیٹے (1) نضربن کنانہ (2) مالک بن کنانہ(3) عبد مناۃ بن کنانہ (4) ملکان بن کنانہ ہیں۔
نضر بن کنانہ
کنانہ بن خزیمہ کے بیٹے نضر بن کنانہ بہت ہی خوب صورت اور دور اندیش تھے۔آپ نے مکہ مکرمہ میں بہت سے فلاحی کام کئے ہیں۔امام عبد الملک بن ہشام اپنی ’’سیرت النبی ابن ہشام ‘‘میں لکھتے ہیں کہ نضر بن کنانہ کو ’’قریش ‘‘کہتے ہیں،جو نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہو گا اُس کو ’’قریشی‘‘کہیں گے اور جو اُن کی اولاد میں سے نہیں ہو گا اُس کو ’’قریشی ‘‘نہیں کہیں گے۔لیکن اکثر علمائے کرام کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ فہر بن مالک کا لقب ’’قریش‘‘ہے۔نضر بن کنانہ کے دو بیٹے (1) مالک بن نضر (2) یخلدبن نضر ہیں۔
مالک بن نضر
نضر بن کنانہ کے بیٹے مالک بن نضر بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین میں سے ہیں۔آپ کے والد نضر بن کنانہ اور آپ کے بیٹے فہر بن مالک نے ملک عرب میں بہت نام کمایا اور ’’قریش‘‘نام بھی انہی دونوں کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔مالک بن فہر کے کئی بیٹے ہیں ،لیکن اِن میں فہر بن مالک سب سے زیا دہ مشہور ہیں ۔بعض علمائے کرام کے مطابق صرف فہر ہی مالک بن نضر کے اکلوتے بیٹے ہیں اور فہر کی جو اولاد ہے وہی نضر کی بھی اولاد ہے۔
فہر بن مالک
مالک بن نضر کے بیٹے فہر بن مالک ہیں اور یہ بھی بتایا کہ’’ فہر‘‘ کا لقب’’ قریش‘‘ ہے۔ ان میں فہر بن مالک کا لقب قریش ہے۔ فہر نسب کے حوالے سے کنانہ کے پڑ پوتے ہیں۔ خاندانی روایات کے پیکراور قبائلی فضائل کے مظہر اتم تھے۔ قوت اور طاقت وراثت میں ملی تھی۔ اور شجاعت اوربہادری میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ بڑے سے بڑا دشمن بھی مقابلے پر ٹھہر نہیں پاتا تھا۔ اور میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا تھا۔فہر بن مالک کے چار بیٹے(1) غالب بن فہر (2) محارب بن فہر (3) حارث بن فہر (4) اسد بن فہر ہیں۔
یمن کے حکمراں کا مکہ مکرمہ پر حملہ
یمن کا حکمراں حسان ایک جاہ طلب ، توسیع پسند اور شان و شوکت کا دلدادہ متکبر شخص تھا۔ وہ تمام دنیا کے انسانوں کو اپنا فرماں بردار اور غلام دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے مزاج میں اتنی رعونت اور طبیعت میں اس قدر خشونت تھی کہ وہ اپنے درباریوں اور وزیروں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا۔ اس کے دماغ میں یہ خیال سمایا کہ یمن کو تمام دنیا کا مرکز بنانا چاہیئے۔ جہاں دنیا بھر کے لوگ حاضر ہوں اور اسے سلام کریں ۔ اور اپنا مقتدا اور خدامانیں۔ اُس نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ لوگوں کا مرکز ہے۔ تو اس نے سوچا کہ خانہ کعبہ کے اینٹ اور پتھر اکھاڑ کر یمن میں لا کر لگائیں جائیں۔ اور ایک گھر بنایا جائے تو تمام لوگ مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یمن آیا کریں گے۔ یہ سوچ کر اس نے فوج لے کر مکہ ٔ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔
فہر بن مالک کی قیادت اور بہادری
ادھر مکہ مکرمہ میں فہر بن مالک کو خبر مل چکی تھی کہ حسان فوج لے کر مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے آرہا ہے۔ اس لئے انھوں نے بھی مقابلے کی تیاری شروع کر دی۔ اور مکہ مکرمہ کے قرب و جوار کے تمام قبائل کو اکٹھا کر کے فوج کی تشکیل کی۔ اور میدان ِ جنگ میں آگئے۔ دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں فہر بن مالک نے بڑی ہوش مندی سے اور تدبر سے اپنی فوج کو لڑایا۔ اور خود بھی جوش وجذبہ اور بہادری سے لڑے۔ اور ایسی جنگی حکمت عملی اپنائی کہ حسان کو شکست ہو گئی۔ اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ وہ تین سال تک فہر بن مالک کی قید میں رہا۔ پھر یمن والوں نے فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا۔ لیکن یمن پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا۔( تاریخ کامل ابن اشیر)۔ اس کامیابی نے فہر بن مالک کی نیک نامی اور شہرت میں اضافہ کیا۔ اور تمام عرب نے اُن کی قیادت پر اتفاق کر لیا۔ اس طرح فہر بن مالک تمام عرب پر حاوی ہو گئے۔ اور مورخین بتاتے ہیں کہ اسی لئے آپ کو لقب قریش دیا گیا۔ کیوں کہ آپ تمام عرب قبائل میں سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے تھے۔
غالب بن فہر
فہر بن مالک کے بیٹے غالب بن فہر بہت مشہور ہوئے ۔آپ بہت ہی معاملہ فہم اور سمجھ دار تھے۔غالب بن فہر کے تین بیٹے (1) لوی بن غالب (2) تیم بن غالب (3) قیس بن غالب ہیں۔اِن میں لوی بن غالب سب سے زیادہ مشہور ہوئے اور یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین میں سے ہیں۔
لوی بن غالب
غالب بن فہر کے بیٹے لوی بن غالب کی اولاد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے ۔لوی بن غالب انتہائی نیک اور ذمہ دار انسان تھے اور مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالتے تھے۔آپ کے پانچ بیٹے (1) کعب بن لوی (2) عامر بن لوی (3) سامہ بن لوی (4) عوف بن لوی (5) حارث بن لوی ہیں۔
کعب بن لوی
لوی بن غالب کے بیٹے کعب بن لوی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آبا و اجداد میں سے ہیں۔کعب بن لوی نے سب سے پہلے جمعہ کے دن جمع ہونے کا طریقہ جاری کیا۔آپ جمعہ کے روز لوگوں کو جمع کر کے خطبہ پڑھتے تھے۔سب سے پہلے اﷲ کی حمد و ثنا بیان کرتے کہ آسمان اور زمین اور چاند اور سورج یہ سب چیزیں اﷲ ہی کی بنائی ہوئی ہیں ۔پھر پند و نصائح کرتے ،صلہ رحمی کی ترغیب دیتے اور یہ فرماتے کہ میری اولاد میں ایک نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم ) ہونے والے ہیں ۔اگر تم اُن کا زمانہ پاؤ تو ضرور اُن کی اتباع کرنا اور کہتے تھے :’’کاش میں بھی اُن (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے اعلان نبوت کے وقت حاضر ہوتا ،جس وقت قریش اُن کے خلاف ہو ں گے۔‘‘کعب بن لوی کے تین بیٹے (1) مُرّہ بن کعب (2) عدی بن کعب (3) ہصیص بن کعب ہیں۔
مُرّہ بن کعب
حضرت مُرّہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چھٹے دادا ہیں۔ اور اسی طرح مُرّہ بن کعب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بھی چھٹے دادا ہیں۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت مُرّہ کے دو بیٹوں کی اولاد میں سے ہیں اور مُرّہ بن کعب دونوں کے والد ہیں۔مُرّہ بن کعب کے بھائی عدی بن کعب کی اولاد میں حضرت عُمر فاروق بن خطاب رضی عنہ ہیں۔مُرّہ بن کعب کے تین بیٹے (1) کلاب بن مُرّہ (2) تیم بن مُرّہ (3) یقطہ بن مُرّہ ہیں۔کلاب بن مُرّہ کی اولاد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔تیم بن مُرّ ہ کی اولاد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں۔یقطہ بن مُرّہ کی اولاد میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ہیں۔
کلاب بن مُرّہ
حضر ت کلاب بن مُرّہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کے چوتھے دادا ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کے تیسرے دادا ہیں۔ اس طرح سیدہ آمنہ اور حضرت عبداللہ کا سلسلہ نسب حضرت کلاب بن مُرّہ پر آکر مل گیا۔ یعنی حضرت عبداللہ اور سیدہ آمنہ ، حضرت کلاب بن مُرّہ کے دو بیٹوں کی اولاد میں سے ہیں۔ حضر ت کلاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے عربی مہینوں کے نام رکھے۔ یعنی ہم جو نام لیتے ہیں محرم ، صفر ، ربیع الاول سے لے کر ذی الحجہ تک۔ ان تمام بارہ مہینوں کے نام حضرت کلاب بن مُرّہ کے رکھے ہوئے ہیں۔کلاب بن مُرّہ کے دو بیٹے (1) قُصی بن کلاب (2) زہرہ بن کلاب ہیں۔
قُصی بن کلاب
حضرت قُصی بہت ہی دور اندیش سردار تھے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کا انتظام بہت خوبی سے سنبھالا ۔ حاجیوں کی ضروریات کا جائزہ لے کر چار محکمے بنائے۔ ان کے نام 1) سقایہ 2) رفادہ ، 3) ندوہ، 4) حجابہ ہے۔ (1)سقایہ کے محکمے کا کام تھا حاجیوں کو پانی پلانا۔ آج خانہ کعبہ کے پاس جو زم زم کا کنواں ہے وہ حضرت قصی بن کلاب کے وقت میں نہیں تھا۔ قبیلہ بنو جرہم کے لوگوں نے مکہ مکرمہ چھوڑ کر جاتے ہوئے زم زم کے کنویں کو بند کر دیا تھا۔ ( اس کی تفصیل انشاء اﷲ حضرت عبد المطلب کے ذکر میں آئے گی) اس لئے مکہ مکرمہ میں پانی کی شدید قلت تھی۔ حضرت قصی بن کلاب نے اس کے انتظامات کئے اور’’ سقایہ ‘‘کے محکمے کی وجہ سے حاجیوں کوا ٓسانی سے پانی ملنے لگا۔ (2)رفادہ حضرت قصی بن کلاب نے دوسرا محکمہ’’ رفادہ ‘‘کا قائم کیا۔ اس محکمہ والوں کاکام یہ تھا کہ وہ تمام قریش سے چندہ وصول کریں۔ اور اس سے حاجیوں کے کھانے کا انتظام کریں ۔ (3)تیسرا محکمہ’’ ندوہ ‘‘کا قائم کیا۔ حضرت قصی بن کلاب نے مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑی عمارت کا نام ’’دارالندوہ‘‘ رکھا اور مکہ مکرمہ کے خاندانوں کے سرداروں کو ’’ندوہ‘‘ کا ممبر بنایا ۔ اور یہ تمام ممبران مل کر مکہ مکرمہ کی حکومت کا انتظام چلاتے تھے اور تمام اہم فیصلے کرتے تھے۔ اس طرح دارالندوہ ایک طرح سے اسمبلی ہال یا پارلمینٹ ہاوس تھا۔ (4)چوتھا محکمہ حضرت قصی بن کلاب نے ’’حجابہ‘‘ کا بنایا۔ اس کا کام خانہ کعبہ اور اس کے اطراف میں بنی مسجد الحرام کی صاف صفائی اور دیکھ ریکھ تھا۔ حضرت قصی کے تین بیٹے تھے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ ابن ِ خلدون میں تین بیٹو ں کا ذکر کیا ہے۔ ان تین بیٹوں کے نام(1) عبد العزیٰ (2 ) عبد مناف (3)عبد الدار ہیں۔ عبد الدار سب سے چھوٹے اور غریب تھے، جب کہ دونوں بڑے بھائی امیر تھے ، اسی لئے قصی بن کلاب نے اپنے بعد عبد الدار کو مکہ مکرمہ کا ذمہ دار بنا دیا۔
عبد مناف بن قصی
قصی بن کلاب کے انتقال کے بعد عبد الدار نے مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالا۔ لیکن صلاحیت کی کمی کی وجہ سے انتظام میں بد نظمی ہونے لگی۔ جس کی وجہ سے قریش کے دوسرے خاندانوں کو تکلیف ہونے لگی۔ سب سے بڑھ کر حاجیوں کے لئے جو انتظامات قصی بن کلاب نے کئے تھے وہ تہس نہس ہو نے لگے۔ یہ دیکھ کر دوسرے خاندانوں نے فیصلہ کیا کہ مکہ مکرمہ کی ذمہ داری عبد الدار سے لے کر عبد مناف کو دے دی جائے۔ عبد الدار کے ساتھ بھی قریش کے کچھ خاندان ہو گئے۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ رفادہ اور سقایہ کا انتظام عبد مناف سنبھالیں گے۔ یعنی حاجیوں کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے کا انتظام عبد مناف کریں گے۔ اور ندوہ اور حجابہ کے ذمہ دار عبد الدار رہیں گے۔ عبد مناف نے رفادہ اور سقایہ کی ذمہ داری اتنی خوبی سے نبھائی کہ پورے مکہ والوں کے ساتھ ساتھ حج کے لئے آنے والے بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔عبد مناف بن قصی کا نام ’’مغیرہ‘‘ہے۔
ہاشم بن عبد مناف :
عبد مناف بن قصی کے چار بیٹے ہیں۔ سب سے بڑے ہاشم تھے ،پھر عبد شمس تھے، پھر نوفل تھے اور سب سے چھوٹے مُطلب تھے۔ عبد شمس کے بیٹے کا نام اُمیہّ تھا اور اُمیہ کی اولاد میں حضرت ابو سفیان ، حضرت معاویہ اور یزید ہیں۔ مُطلّب کے نام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کا نام عبد المطلب پڑ گیا۔ ( اس کی تفصیل عبد المطلب کے ذکر میں آئے گی۔ )ہاشم مُلک شام سے تجارت کرنے لگے۔ عبد شمس حبشہ سے تجارت کرنے لگے۔ نوفل عراق سے تجارت کرنے لگے۔اور ُمطّلِب یمن سے تجارتے کرنے لگے۔ اس طرح چاروں بھائی الگ الگ علاقوں سے تجارت کر کے بہت امیر ہو گئے۔ ( الکامل ابن اثیر ) ہاشم اور مطلب میں بہت محبت تھی۔ ان کی محبت کی وجہ سے انھیں بدران یعنی دو چاند کہا جاتا تھا۔ ( الکامل تاریخ ابن اثیر) ہاشم کا نام’’ عمرو‘‘ ہے اور لقب’’ ہاشم‘‘ ہے۔ ہاشم لقب اس لئے پڑا کہ ایک سال مکہ مکرمہ میں قحط پڑ ا تو ہاشم نے حاجیوں کو اور ضرورت مندوں کو روٹی چورہ کر کے سالن میں ڈال کر کھلائی تب سے لوگ انھیں ہاشم کہہ کر پکارنے لگے۔ یعنی چورہ کرنے والے۔
سید الانبیاء ﷺ کا نور نبوت پیشانی میں چمکتا تھا
ہاشم بن عبد مناف بہت ہی سخی اور رحمدل تھے ،غریب مسافروں کو سفر کے لئے اونٹ عطا فرماتے تھے۔نہایت حسین و جمیل تھے اور سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا نور ِ نبوت ہاشم بن عبد مناف کی پیشانی پر چمکتا رہتا تھا ۔علمائے بنی اسرائیل جب آپ کو دیکھتے تو سجدہ کرتے اور آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے۔قبائل ِ عرب اور علمائے بنی اسرائیل نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں کے پیغام ہاشم کو دیتے تھے ۔حتیٰ کہ ایک مرتبہ ہرقل شاہ روم نے ہاشم کو خط لکھا کہ میں اپنی شہزادی جو بے حد حسین ہے ،اُسے آپ کی زوجیت میں دینا چاہتا ہوں ۔اگر آپ یہاں آجائیں تو میں آپ سے شہزادی کا نکاح کر دوں گا ،لیکن ہاشم بن عبد مناف نے انکار کر دیا۔ہرقل شاہ ِ روم کا اصلی مقصد یہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ نور نبوت جو ہاشم کی پیشانی میں چمک رہا تھا ،اُس کو اپنے گھرانے میں منتقل کیا جائے ۔لیکن سیدہ سلمیٰ سے نکاح کے بعد وہ نور نبوت حضرت ہاشم بن عبد مناف کے ماتھے سے ہٹ گیاتو باقی سب لوگ مایوس ہو گئے ۔
سیدہ سلمیٰ سے نکاح
ہاشم بن عبد مناف کا نکاح مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار کے سردار عمرو بن لبید کی بیٹی سلمیٰ سے ہوا۔ نکاح کے بعد سیدہ سلمیٰ مدینہ منورہ میں ہی رہیں اور وہیں حضرت عبد المطلب پیدا ہوئے۔ ہاشم چونکہ عبد مناف کے بڑے بیٹے تھے، اس لئے رفادہ اور سقایہ کی ذمہ داری اُن پر ہی تھی اور وہ اس کا انتظام اتنا اچھا سنبھالتے تھے کہ ہر کوئی اُن کی تعریف کرتا تھا۔ لیکن ہاشم کے بھائی عبد شمس کا بیٹا اُمیہ ہمیشہ اُن کی مخالفت کرتا تھا اور ہاشم کے کام میں نقص نکالتا تھا۔ ہاشم سے سلمیٰ کا نکاح کرتے وقت عمرو بن لبید نے یہ شرط پیش کی تھی کہ میری بیٹی نکاح کے بعد مکہ مکرمہ نہیں جائے گی، بلکہ مدینہ منورہ ( اُ س وقت نا م یثرب تھا) میں ہی رہے گی۔ ہاشم نے شرط قبول کر لی تھی اور کچھ دنوں کے لئے اجازت لے کر سلمیٰ کو مکہ مکرمہ لائے اور تمام خاندان والوں سے ملوایا۔ اس کے بعد جب تجارتی قافلہ لے کر شام جانے لگے تو راستے میں سلمیٰ کو مدینہ منورہ چھوڑتے ہوئے گئے۔
تجارتی سفر کا قاعدہ
مکہ مکرمہ والوں کے ملک شام ،ملک حبشہ ،ملک عراق اور ملک یمن سے تجارت کرتے تھے،لیکن اُن کا کوئی تجارتی نظم نہیں تھا،جس کی وجہ سے انہیں بہت پریشانی ہوتی تھی۔ہاشم بن عبد مناف نے جب مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالا تو تجارتی سفر کا یہ قاعدہ بنایا کہ گرمی کے موسم میں مکہ مکرمہ کے تجارتی قافلے ملک شام اور ملک عراق جا کر تجارت کی جائے اور سردی کے موسم میں ملک یمن اور ملک حبشہ جا کر تجارت کی جائے۔اِس قاعدے کی وجہ سے مکہ مکرمہ والوں کے لئے تجارتی سفر بہت آرام دہ ہوگئے اور انہیں بہت سی آسانیاں میسر آگئیں۔اِسی دستور کے مطابق ہاشم بن عبد مناف جب اپنا تجارتی قافلہ لیکر لق و دق بیابانوں اور خشک ریگستانوں اور بر و بحر کو پار کرتے ہوئے سردی کے موسم میں ملک حبشہ پہنچتے تو نجاشی شاہِ حبشہ ہاشم بن عبد مناف کی بہت خاطر مدارت کرتا اور ہدایا پیش کرتا تھا۔ اورجب آپ اپنا تجارتی قافلہ لیکر گرمی کے موسم میں ملک شام اور ملک عراق کا تجارتی سفر کر تے تو قیصر روم بھی آپ کے ساتھ نہایت احترام سے پیش آتا تھا۔ہاشم بن عبد مناف نے سلطنت روم و فارس اور یمن کی حکومتوں سے قریش کے تجارتی قافلوں کے لئے خصوصی حفاظت کا حکم حاصل کیا ۔ملک عرب کے تجارتی راستے عام طور سے غیر محفوظ تھے اور اکثر لوٹ مار کا شکار ہو جاتے تھے ۔اِس سے قریش کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے ہاشم بن عبد مناف نے ملک عرب کے تمام قبائل سے ،عاہد کیا کہ ہم تمہاری ضرورتیں پوری کیا کریں گے اور بدلے میں تم ہمارے تجارتی قافلوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچانا۔سورہ القریش میں اﷲ تعالیٰ نے قریش کے لئے اِسی خصوصی انعام کا ذکر کیا۔
اُمیہ بن عبد شمس کا ہاشم بن عبد مناف سے حسد
ہاشم بن عبد مناف حج کے ایام میں حاجیوں کی بہت زبردست خدمت کیا کرتے تھے اور تمام حاجیوں کو گوشت ،روٹی، ستو اور کھجور کھلاتے اور پانی پلاتے۔اُس وقت چونکہ زمزم کا کنواں بند تھا اِسی لئے حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا قریش کے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا ۔ہاشم بن عبد مناف اپنی مدبرانہ صلاحیتوں سے حاجیوں کے لئے پانی کا ایسا انتظام کرتے کہ تمام حاجی آرام سے سیراب ہو جاتے تھے ۔ تمام حاجی ہاشم بن عبد مناف کی تعریف اور عزت کرتے تھے اور اپنے علاقوں میں جا کر اُن کی تعریف کرتے تھے۔ہاشم بن عبد مناف کے بڑے بھائی عبد شمس بن عبد مناف کا بیٹا اُمیہ بن عبد شمس بہت امیر تھا اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ حاجیوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔لیکن زیادہ مال و دولت خرچ کرنے کے بعد بھی اُسے وہ تعریف اور عزت نہیں ملتی تھی جو ہاشم بن عبد مناف کو ملتی تھی۔اِسی لئے امیہ بن عبد شمس حسد کرنے لگا اور امیہ خاندان کا ہاشمی خاندان سے یہ حسد چلتا رہا ،یہاں تک کہ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر جا کر ختم ہوا۔
ہاشم بن عبد مناف کا انتقال
ہاشم بن عبد مناف انتہائی کم عمری میں بہت دوراندیشی اور سمجھ داری سے مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھال رہے تھے۔جب سیدہ سلمیٰ سے آپ کا نکاح ہوا تو اُس وقت آپ کی عُمر بہ مشکل چوبیس یا پچیس سال تھی۔نکاح کے ہاشم بن عبد مناف اپنی زوجہ سیدہ سلمیٰ کو لیکر مکہ مکرمہ آئے اور چند مہینے اُن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں گذارے ۔پھر جب ملک شام کی طرف تجارتی قافلہ لیکر جانے لگے تو چونکہ مدینۂ منورہ راستے میں ہی پڑتا تھا ،اِس لئے وعدے کے مطابق سیدہ سلمیٰ کو مدینۂ منورہ اُن کے والد ِمحترمکے پاس چھوڑ دیا اور خود تجارتی قافلہ لیکر ملک شام چلے گئے۔اُس وقت فلسطین ایک ملک نہیں تھا بلکہ ملک شام کا ایک صوبہ تھا۔اُس کے ایک شہر غزہ میں ہاشم بن عبد مناف تجارت کر رہے تھے ،وہیں آپ کا انتقال ہو گیا،وہیں آپ کو دفن کر دیا گیا۔
حضرت عبد المطلب بن ہاشم
عبدالمطلب بن ہاشم مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔پیدائش کے وقت آپ کے سر میں کچھ بال سفید تھے ،اس لئے آپ کا نام شیبہ رکھا گیا۔ شیبہ اسی شخص کو کہتے ہیں جس کے سر کے کچھ بال سفید ہوں۔شیبہ بچپن ہی سے اپنی گفتگو،رکھ رکھائو اور وضع داری میں ممتاز نظر آتے تھے۔کھیل کے دوران وہ اپنے ساتھی بچوںسے ایسے تحکّمانہ انداز میں بات کرتے تھے جیسے وہ بادشاہ ہواور ان کے ساتھی بچے ان کی رعایا ہوں۔ تیر اندازی میں بھی بہت ماہر تھے، جب تیر کمان میں لگاتے تھے تو کہتے تھے :’’میں بطحاء کا سردار ہوں ،میں ہاشم کا بیٹا ہوں،کس کی ہمت ہے کہ میرا مقابلہ کرسکے؟ ‘‘اور جب تیر چلاتے تو ان کے دوستوں کے تیر جہاں جاکر گرتے تھے، اس جگہ سے بہت آگے جاکر ان کا تیر گرتا تھا۔ اسی طرح آپ ایک دن اپنے دوستوںکے ساتھ کھیل رہے تھے اور اپنی عادت کے مطابق کہہ رہے تھے ۔ اسی وقت مکہ مکرمہ کا ایک شخص جو ہاشم کے چھوٹے بھائی مُطَّلِب کا گہرا دوست تھا وہ گذر رہا تھا۔ جب اس نے شیبہ کی تحکّمانہ آواز اور الفاظ سنے کہ میں ہاشم کا بیٹا ہوں تو ٹھٹھک کر رک گیا اور شیبہ کو غور سے دیکھنے لگا۔اس نے تحقیق کی اور معلوم کرلیا کہ شیبہ ان کے سردار ہاشم کا بیٹا ہے۔
مُطَّلِب کا شیبہ کو لیکر مکہ مکرمہ آنا
تمام تحقیق کرنے کے بعد مطلب کا ودست مکہ مکرمہ میں آیا اور مُطَّلِب سے بولا:’’میں یثرب(مدینہ منورہ ) سے آرہا ہوں وہاں میں نے ہمارے سردار ہاشم کے بیٹے کو دیکھاہے۔ وہ لڑکا بہت شان والا ہے، اسکا انداز سرداروں والا ہے اور وہ بڑی شان سے اظہار کرتا ہے کہ وہ سردار ہاشم کا بیٹا ہے۔ اس بچے میں ایک اعلیٰ پائے کا سردار ہونے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ تم نے اتنے دنوں تک اپنے پیارے مرحوم بھائی کی یادگار پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ میری تو رائے ہے فوراًجاکر اس بچے کولے آؤ۔مطلب کو اپنے بڑے بھائی ہاشم سے بہت محبت تھی۔ شیبہ کا ذکر سن کر وہ اس سے ملنے کے لئے بے چین ہوگئے اور جلد سے جلد تیاری کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ جب شیبہ کو دیکھا تو آنکھو میں آنسو آگئے، کیونکہ بھتیجے میں بڑے بھائی کی شکل نظر آرہی تھی۔ بھابھی سلمیٰ سے کہا:’’ میںاسے اپنے گھر مکہ مکرمہ لے جانا چاہتا ہوں ،تاکہ یہ اپنے والد کے کام کو سنبھال سکے۔‘‘ ماں کی آنکھوں آنسو آگئے ،پھربھی بیٹے کی بھلائی کے لئے اسے مکہ مکرمہ بھیجنے پر راضی ہوگئیں ۔
شیبہ کا نام عبد المُطَّلِب پڑنا
مکہ مکرمہ میں مُطَّلِب جب شیبہ کو لے کر داخل ہوئے تو شیبہ کے کپڑے اور چہرہ دھول اور گرد میں اٹے ہوئے تھے۔ راستے میں لوگ مُطَّلِب سے پوچھتے کہ یہ کون ہے؟ تو مطلب کو شاید حیاآئی کہ ایسی حالت میں لوگوں کو بتائوں کہ یہ میرا بھتیجا اور ہاشم کا بیٹا ہے۔ وہ جلد از جلد گھر پہنچ کر شیبہ کو نہلا دھلا کر صاف ستھر ا کر کے قریش کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے جو بھی شیبہ کے بارے میں پوچھتا تھا تو مطلب جلدی سے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے تھے کہ یہ میرا عبد ( غلام) ہے۔ جلد ہی سارے مکہ مکرمہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ مکہ مکرمہ میں مطلب کا ’’عبد‘‘ آیا ہے جو بہت خوب صورت ہے۔ پھر سب لوگ یعنی سارے مکہ مکرمہ کے لوگ اس خوب صورت ’’عبد ‘‘کو دیکھنے آنے لگے۔ مطلب نے شیبہ کو نہلا دھلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنائے اور تمام قریش کے سامنے لے کر آئے ۔ تو تمام لوگ شیبہ کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ تب مطلب نے بتایا کہ یہ میرا عبد نہیں ہے بلکہ میرا بھتیجا شیبہ ہے اور میرے بڑے بھائی ہاشم کا بیٹا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی لوگ شیبہ کو عبد المطلب ہی کہتے رہے اور شیبہ اسی نام سے مشہور ہوگئے۔
عبد المطلب مکہ مکرمہ کے سردار
مُطَّلِب نے چچا بن کر نہیں بلکہ باپ بن کر اپنے بھتیجے کی ذہنی اور جسمانی تربیت کی، اس خصوصی توجہ کی وجہ سے عبد المطلب میں نکھار آگیا۔ جب عبد المطلب بڑے ہوئے تو اُن کے چچا مطلب نے اپنے بھائی ہاشم کی اور اپنی اپنی تمام جائیداد اور مکہ مکرمہ کی سرداری عبد المطلب کو سونپ دی اور کہا :’’بیٹے تم ہر طرح سے اس کے اہل ہو، اب قبائیلی سرداری سنبھالو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ہمارا جو فرض تھا وہ ہم نے پورا کر دیااور کچھ عرصہ بعد مطلب کا انتقال ہو گیا۔ عبد المطلب کے چچا نوفل نے آپ کو اکیلا سمجھ کر جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو آپ نے مدینہ منورہ سے اپنے ماموں کو بلایا۔ جنھوں نے عبد المطلب کو جائیدا د واپس دلا دی۔
زم زم کا کنواں بند کرنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی بیوی اور بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران علاقے میں چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں زم زم کا کنواں پیدا فرما دیا۔ اسی دوران یمن میں قحط پڑا تو قبیلہ بنوجرہم پانی اور روزی کی تلاش میں نکل پڑا۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک جگہ آسمان میں پرندے اڑ رہے ہیں۔ تحقیق ِ حال کے لئے وہاں پہنچے تو سیدہ ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور زم زم کا کنواں تھا۔ پانی دیکھ کر قبیلہ جرہم نے سیدہ ہاجرہ سے یہیں بس جانے کی اجازت مانگی جو انھوں نے دے دی وہ لوگ یہیں بس گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام انھیں میں بڑے ہوئے اور اسی قبیلہ میں نکاح کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور جرہم عمالقہ اوریمن کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام کے بعد آپ کے بیٹے قیدار کو مکہ مکرمہ کا ذمہ دار بنایا وقت گزرتا رہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد مکہ مکرمہ کی ذمہ داری سنبھالتی رہی۔ لیکن بعد میں بنوجرہم بنی اسماعیل پر حاوی ہو گئے اور مکہ مکرمہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مجبوراً بنی اسماعیل کو مکہ مکرمہ کے اطراف و جوانب میں آباد ہونا پڑا۔ قبیلہ جرہم نے جب خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنی شروع کی تو تمام عرب کے قبائل بنی اسماعیل کے ساتھ مل گئے۔ مجبوراً قبیلہ جرہم کو مکہ مکرمہ سے نکلنا اور بھاگنا پڑا ۔ لیکن مکہ مکرمہ سے نکلنے کے وقت قبیلہ جرہم نے زم زم کے کنویں کو بند کر دیا اور مٹی ڈال کر زمین کے برابر کر کے چلے گئے اور زم زم کے کنویں کا نام و نشان مٹ گیا۔ بنی اسماعیل دوبارہ مکہ مکرمہ میں آباد ہو گئے لیکن زم زم کے کنویں پر کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ ہی تلاش کرنے کی کو شش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ زم زم کو بھول گئے۔
عبد المطلب کا خواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا زمانہ قریب آرہا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے زم زم کے کنویں کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا اور زمزم کے کنویں کو ظاہر کرنے کا شرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کو عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے عبد المطلب کو سچے خواب کے ذریعے آگاہ فرمایا۔ عبد المطلب کہتے ہیں:’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہا اِحفِر بَرَّۃَ (برہ کو کھودو)میں نے پوچھا وَ مَا بَرَّۃ ؟ (برہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا۔ عبدالمطلب دن بھر غور وفکر میں رہے کہ برہ کیا ہے؟ دوسری رات خواب میں وہ شخص آیا اور کہا اِحفر المضنونۃ ( مصنونہ کو کھودو)میں نے دریافت کیا وما المضنو نۃ ؟( مضنونہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا ۔ آپ دن بھر اسی غور و فکر میں رہے کہ برہ اور مضنونہ کیا ہے؟ تیسری رات خواب میں پھر وہ شخص آیا اور بولا اِحفِر طیبۃ ( طیبہ کو کھودو) میں نے پوچھا ۔ وما طیبہ؟( طیبہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا ۔ وہ پورا دن بھی غور و فکر اور پریشانی میں گزر گیا۔ چوتھی رات خواب میں وہ شخص آیا اور بولا احفِرزم زم میں نے پوچھا وما زم زم ؟( زم زم کیا ہے؟) تو اس شخص نے کہا زم زم بِیئر ( کنواں ) ہے اور یہ مقدس پانی کا کبھی نہ ختم ہونے والا کنواں ہے جو حاجیوں اور مکہ مکرمہ کے باشندوں کی ضروریات پوریکرتا تھا اور پوری کرے گا۔ یہ کنواں تمہارے آبائو اجداد کی مقدس میراث ہے اگر تم اسے کھودو گے تو اسے پا لو گے اور تمہیں مایوس اور پشیمان نہیں ہونا پڑے گا۔ وہ اساف اور نائلہ کے چبوترے کے سامنے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس ہے اور اس جگہ کی نشانی یہ ہے کہ جب تم وہاں پہنچو گے تو ایک کوّا زمین پر آکر اپنی جونچ سے کریدے گا، اُسی کے نیچے جاہِ زم زم ہے۔
قریش سرداروں کا انکار
دوسرے دن حضرت عبدالمطلب چبوترے کے پاس پہو نچے۔ اور اسکے سامنے کی جگہ کا جائزہ لینے گے کہ چاہِ زم زم کہاں ہوسکتا ہے؟ اسی دوران آپ نے دیکھا کہ ایک کوا چبوترے کے سامنے کی زمین پر ایک جگہ آکر کریدنے لگا۔ یہ دیکھ کر آپ سمجھ گئے کہ میرا خواب سچا ہے اور یقین ہوگیا کہ اسی جگہ زم زم کا کنواں ہوگا۔ آپ نے اسی جگہ نشان لگادیا اور قریش کے سرداروں کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا اور تمام نشانیاں بتائیں ۔قریش کے سردار پہلے تو حیران ہوئے اور انھیں یقین نہیں آیا۔کیونکہ چاہِ زم زم کے کنویں کو بند کئے ہوئے کئی سو برس یعنی کئی صدیاں گذرچکی تھیں اور لوگ زم زم کے کنویں کو بھو ل گئے تھے۔ لیکن چونکہ ان کے سب سے بڑے سردار کہہ رہے تھے ۔اس لئے وہ لوگ غور کرنے لگے اور کافی غور کرنے کے بعد حضرت عبدالمطلب سے کہا۔یہ تو بہت مشکل کام ہے ۔سینکڑوں من ریت کو ہٹانا اور اس کے نیچے سے کنویں کو کھولنا اور اسے استعمال کے قابل بنانا لگ بھگ نا ممکن کام ہے اسلئے ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ۔قریش کے سرداروں کا جواب سن کر حضرت عبد المطلب کو بہت افسوس ہوا ۔
حضرت عبد المطلب کااپنے بیٹے حارث کے ساتھ چاہِ زم زم کا کھودنا
قریش کے سرداروں کا جواب سن کر حضرت عبدالمطلب کو بہت افسوس ہوا۔ لیکن آپ مایوس نہیں ہوئے اورآپ کو یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو اللہ تعالیٰ مدد ضرور کرے گا۔ آپ نے عہد کیا کہ قریش کی مدد کے بغیر ہی چاہِ زم زم کی خدائی کریں گے۔اس وقت حضرت عبد المطلب کے ایک ہی بیٹے تھے اور ان کا نام حارث تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے چاہِ زمزم کا ذکر کیا تو حار ث اپنے والد کا ساتھ دینے کو تیار ہو گئے۔ دونوں باپ بیٹے اس جگہ پہنچے، تمام قریش کے سرداران جمع تھے۔ اُن سرداروں نے دونوں باپ بیٹوں کو سمجھانا چاہا کہ یہ پاگل پن ہے ،تم یہ نہیں کر سکو گے ،لیکن دونوں باپ بیٹے نے صاف جواب دیا:’’ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور ہم ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
قریش کے سرداروں کا مذاق اڑانا اور حضرت عبد المطلب کی دعا
حضرت عبد المطلب اور اُن کے بیٹے حارث یہ دونوں نشان لگائی ہوئی جگہ پر کھدائی کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر قریش کے سردار اِن دونوں کو مذاق اڑانے لگے کہ دونوں باپ بیٹے پاگل ہو گئے ہیں۔ حضرت عبد المطلب خاموشی سے کھدائی کرتے رہے اور حارث مٹی اٹھا کر دور لے جا کر پھینکتے رہے۔ صرف دو لوگ تھے اس لئے کام بہت دھیرے چل رہا تھا اور اس میں کئی ہفتے لگ سکتے تھے۔ لیکن دونوں باپ بیٹے ہمت سے لگے رہے، روزآنہ صبح آتے اور کھدائی میں لگ جاتے ۔ کھدائی کے دوران حضرت عبد المطلب کو بار بار احساس ہوتا تھا کہ اگر میرے اور بیٹے ہوتے تو چاہِ زم زم کی کھدائی میں آسانی ہوتی اور جلدی کام مکمل ہو جاتا ۔ اس دوران قریش کے سردار آکر مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ حضرت عبد المطلب کو ان کے مذاق پر احساس ہوتا کہ اگر میری اور زیادہ اولاد ہوتی تو میں ان کے مذاق کا منہ توڑ جواب دیتا۔ چاہ زمزم کی کھدائی کے دوران آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ !تو مجھے اگر دس بیٹے عطا فرمائے گا تو میں ایک بیٹے کو تیرے لئے قربان کر دوں گا۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی تھی۔
چاہ زم زم کا ظاہر ہونا
دونوں باپ بیٹے مسلسل محنت کرتے رہے اور کنواں گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن اچانک کنویں کی اینٹیں نظر آنے لگیں ۔ حضرت عبد المطلب نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور کہا :’’یہی حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے۔‘‘ آناً فاناً پورے مکہ مکرمہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ عبد المطلب کو صدیوں پرانا کنواں مل گیاہے، سب زیارت کے لئے امڈ پڑے ۔ اس کے بعد حضرت عبد المطلب نے چاہ زم زم کے کنویں کو نئے سرے سے بنوایا اور کنویں کے قریب کچھ حوض بنوائے جن میں آب زم زم بھر کر حاجیوں کو اور مکہ مکرمہ والوں کو پانی پلاتے اور استعمال کے لئے بھی دیتے۔ چند حاسدوں نے شرارت شروع کی کہ رات میں اُن حوضوں کو خراب کر دیتے تھے اور صبح کو عبد المطلب اُن حوضوں کو درست کرتے تھے۔ آخر کار آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو خواب میں حکم ہوا کہ اس طرح دعا مانگو :’’اے اللہ !میں اس زم زم سے لوگوں کو غسل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں،صرف پینے کی اجازت دیتا ہوں۔ صبح اٹھتے ہی آپ نے اعلان کر دیا جو بھی حوضوں کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے کسی بیماری میں مبتلا کر دے گا۔ کئی لوگوں کے بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد لوگوں نے حوضوں کو خراب کرنا چھوڑ دیا۔
حضرت عبدالمطلب کی دعا قبو ل ہوئی
چاہِ زم زم کی کھدائی کے وقت حضرت عبد المطلب نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ !تو اگر مجھے دس بیٹے عطا فرمائے گا تو میں ایک کو تیرے لئے قربان کر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی اور آپ کو دس بیٹے عنایت فرمائے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ 1) حارث 2) ضرار 3) مقوم 4) ابو طالب 5) ابو لہب 6) زبیر 7) غیداق 8) عباس 9) حمزہ اور 10) عبداللہ ۔ کچھ علمائے کرام نے بارہ بیٹوں کا ذکر کیا ہے اور بقیہ دو نام قشم اور مغیرہ بتائے۔ علامہ عبد الرزاق بھترالوی نے اپنی معرکتہ آراء کتاب تذکرۃ الانبیاء میں حضرت عبد المطلب کے تیرہ بیٹوں کا ذکر کیا ہے اور تیرھواں نام عبد الکعبہ لکھا ہے۔ حضرت عبد المطلب کی چھ بیٹیاں ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں1) صفیہ،2) اُم حکیم، 3) عاتکہ،4) امیمہ، 5) ارویٰ اور 6) برّہ۔ بیٹوں میں حضرت عبداللہ اس وقت سب سے چھوٹے تھے۔
قرعہ حضرت عبداللہ کے نام کھلا
حضرت عبدالمطلب کے بیٹے جوان ہوئے تو آپ نے تمام بیٹوں سے اپنی دعا کا ذکر کیااور کہا :’’ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی ہے۔ اب مجھ پر فرض ہے کہ میں بھی اپنا وعدہ پورا کروں ۔‘‘ تمام بیٹوں نے کہا :’’ ابا جان !آپ اپنا وعدہ پورا کریں اور ہم میں سے جسے چاہیں قربان کر دیں ۔‘‘ تمام بیٹوںکو لے کر آپ خانہ کعبہ کے پاس آئے۔پیچھے پیچھے آپ کی بیٹیاں بھی آئیں۔ آپ نے قرعہ نکالنے والے سے کہا کہ وہ قرعہ نکالے۔ قرعہ سب کے لاڈلے حضرت عبداللہ کے نام کا نکلا۔ حضرت عبد المطلب کی جان نکل گئی ،مگر زبان سے اُف تک نہیں کی اور چپ چاپ حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑا چھری لی اور قربان گاہ کی طرف جانے لگے۔ تمام بیٹے آپ کو روکنے لگے، تمام بیٹیوں نے لپک کر حضرت عبداللہ کو پکڑ لیا اور تمام قریش آپ کو سمجھانے لگے کہ اے ہمارے سردار اگر آپ نے آج بیٹا قربان کر دیا تو یہ رسم ہو جائے گی اور لوگ تکلیف میں آجائیں گے۔ آپ اس کی کوئی متبادل صورت نکالیں، آخر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی بھی تومتبادل صورت نکل آئی تھی۔
حضرت عبداللہ کی دیت 100( سو ) اونٹ
حضرت عبد المطلب بہت ہی دانا، عقلمند اور زیرک انسان تھے۔ قریش کے سرداروں کے مشورے پر غور و فکر کر کے ایک متبادل صورت اُن کے ذہن میں آئی۔ آپ نے قرعہ نکالنے والے سے کہا ۔ ایک شخص کی دیت ( خون بہا) دس اونٹ ہے۔ دس اونٹ اور عبداللہ کے نام کا قرعہ ڈالو،اس مرتبہ بھی حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ حضرت عبد المطلب نے کہا بیس اونٹ ڈالو پھر حضرت عبداللہ کا نام کھلا۔ اس طرح دس دس اونٹ ہر مرتبہ بڑھاتے گئے۔ جب 100اونٹ ہو گئے تو قرعہ اونٹوں کے نام کھلا، تمام لوگوں نے اطمینان کی سانس لی۔ لیکن حضرت عبدالمطلب نے کہا تین مرتبہ اور سو اونٹوںاورعبداللہ کا نام ڈالو۔ اگر تینوں مرتبہ اونٹوں کانام کھلے گا تو میں سمجھوں گا کہ اللہ تعالیٰ اونٹوں کی قربانی پر راضی ہے۔ تین مرتبہ اور قرعہ ڈالا گیا اور تینوں مرتبہ اونٹوں کے نام قرعہ نکلا۔ تب جا کر آپ کو اطمینان ہوا اور آپ نے حضرت عبداللہ کے بدلے سو اونٹوں کی قربانی کی۔ اس کے بعد ایک آدمی کی دیت سو اونٹ قرار دے دی گئی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ کا لقب’’ ذبیح اللہ ‘‘پڑ گیا۔ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ کسی کاہنہ نے یہ رائے دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ دو ذبیح کے بیٹے ہیں
حضرت عبداللہ کا لقب ’’ذبیح ‘‘تھا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کو ’’ابن الذبیحین‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی دو ذبیح کے بیٹے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی) آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے عرض کیا؛’’اے ابن الذبیحین ‘‘یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور چہرہ اقدس سے خوشی کا اظہار ہونے لگا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مکمل کیا تو کسی نے پوچھا کہ یہ دو ذبیح کون کون ہیں؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پہلے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ہیں۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ کی قربانی کا پورا واقعہ بیان فرمایا۔
حضرت عبداللہ کا سیدہ آمنہ سے نکاح
حضرت عبداللہ پورے قریش میں سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آنے والے نوجوان تھے۔ اُن کے رخِ انور میں نورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم روشن ستارے کی طرح چمکتا تھا۔ اسی وجہ سے قریش کی لڑکیاں اُن سے شادی کرنے کی آرزو مند تھیںاور حضرت عبداللہ کو ان کی وجہ سے خاصی دِقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے پیارے بیٹے کے نکاح کے لئے لڑکی تلاش کرنی شروع کی۔ بالآخر نگاہِ انتخاب بنو زہرہ کے سردار وہب کی بیٹی سیدہ آمنہ پر پڑی۔ اُن کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور اُن کے والد کی جگہ بنو زہرہ کے سردار اُن کے چچا وہیب تھے۔ حضرت عبدا لمطلب نے سیدہ آمنہ کے چچا سے بات کی اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کا نکاح اُن کی بھتیجی سیدہ آمنہ سے کرنے کی درخواست کی۔ جو انھوں نے قبول کر لی اور پھر دونوں کا نکاح ہو گیااور سیدہ آمنہ ، حضرت عبداللہ کے گھر آگئیں۔ نکاح کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر لگ بھگ چوبیس سال اور کچھ مہینے تھی۔ عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔
حضرت عبداللہ کا شام کی طرف تجارتی سفر اور وفات
حضرت عبداللہ اور سیدہ آمنہ نے ایک ساتھ ازدواجی زندگی کتنی مدت گزاری اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ اور تمام روایات کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں ایک ساتھ شادی شدہ زندگی زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ گزار ی اور کم سے کم تین دن گزاری۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ اپنا تجارتی قافلہ لے کر شام کے سفر پر چلے گئے۔ یہ بات یہاں ذہن میں رکھیں کہ قریش تجارت کرتے تھے اور اسی سلسلے میں کچھ لوگ شام جاتے تھے۔ کچھ یمن ، کچھ عراق اور کچھ تو کافی دور کا سفر بھی کرتے تھے۔ اس وقت سفر کاسب سے بہترین ذریعہ اونٹ، گھوڑے اور خچر تھے۔ اس لئے ان تجارتی قافلوں کو کبھی تین مہینہ ، کبھی پانچ مہینہ اور کبھی اس سے زیادہ بھی لگ جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ شام میں اپنا سامان فروخت کر کے اور مکہ مکرمہ میں فروخت کرنے کے لئے سامان لے کر اپنے قافلے کے ساتھ واپس آرہے تھے کہ راستے میں آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور سفر کرنے کی طاقت نہیں رہی۔ آپ نے مدینہ منورہ میں قیام کر لیا اور قافلے والوں کو مکہ مکرمہ روانہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ اپنی دادی یعنی حضرت عبدا لمطلب کی والدہ سلمیٰ کے رشتہ داروں کے یہاں ٹھہر گئے۔ جب قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو اسمیں حضرت عبداللہ موجود نہیں تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے قافلے والوں سے حضرت عبداللہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایاکہ اُن کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اور سفر نہیں کر سکتے ہیں۔ اسی لئے آپ کی والدہ کے رشتہ داروں میں رُک گئے ہیں۔ حضرت عبدا لمطلب نے فوراً بڑے بیٹے حارث کو مدینہ منورہ بھیجا وہ وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا اور انھیں دفن کیا جا چکا تھا۔ حارث نے واپس آکر یہ اندو ہناک خبر سنائی۔ حضرت عبداللہ سبھی کے پیارے تھے، اس لئے سب کو صدمہ ہوگیا اور سیدہ آمنہ کا تو یہ حال ہو گیا تھا کہ انھوں نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔حضرت عبد المطلب نے بہو کا غم دیکھا تو اپنے آپ کو سنبھالا اور بیٹوں سے کہا اپنے آپ کو سنبھالو اور آمنہ کی دلجوئی کرو۔ اس کا غم تم سے زیادہ ہے اور پھر وہ ایسی حالت میں ہے کہ اسے خوش رہنا چاہیئے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ حضرت عبداللہ نے ترکہ میں بکریوں کا ایک ریوڑ اور پانچ اونٹ چھوڑے اور ایک کنیزسیدہ اُم ایمن بھی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کے بشری پیکر ( جسم) کی تخلیق
حضرت عبداللہ کا جب انتقال ہوا تو سیدہ آمنہ اُس وقت حاملہ تھیں اور یہ حمل کئی ماہ کا تھا اور سیدہ آمنہ کے شکم مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشری پیکر تخلیق پا رہا تھا۔ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بشری پیکر( جسم مبارک ) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو جبرئیل امین علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایسی مٹی لے آئو جو میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس اور جسدِ اطہر کی تخلیق کے لائق ہو۔ جبرئیل امین زمین پر آئے اور اُس جگہ سے جہا ں آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں وہاں سے سفید مٹی لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُس مٹی کو جنت کی نہر تسنیم کے پانی سے گوندھا گیا اور دھویا گیا۔ (پھر نورِ نبوت اُس میں رکھ کر ) اس کو عرش و کُرسی ، لوح و قلم ،اور آسمانوں اور زمین میں پھرایا گیا۔ تا کہ فرشتوں سمیت تمام مخلوق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و کمال کو پہچان لے۔
واقعہ اصحاب ِ فیل
رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا وقت قریب آتا جا رہا تھا ۔ اور جیسے جیسے وقت قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے برکات ظاہر ہوتی جا رہی تھیں۔ اُن میں سے ایک واقعہ چاہِ زم زم کا واپس مل جانا ہے اور ایک واقعہ اصحاب ِ فیل کا بھی ہے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ( پیدائش) سے پچاس یا پچپن روز پہلے پیش آیا۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ والوں کی مدد کی اور خانہ کعبہ کو دشمنوں سے بچایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو مختصراً سورہ الفیل میں بیان فرمایا : ترجمہ’’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟کیا اُن کے مکر کو بے کار نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جُھنڈ بھیج دیئے جو انھیں کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انھیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ ( سورہ الفیل آیت نمبر1سے نمبر5 تک ۔)
ابرہہ کا کلیسا بنانا
حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( یہ یاد رکھیں کہ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا) نے یمن کا حکمراں یا گورنر ابرہہ کو بنایا۔ یہاں آکر اس نے دیکھا کہ پورے عرب کا مرکز مکہ مکرمہ ہے اور دور دور سے لوگ مکہ مکرمہ آتے ہیں۔ اس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں ایک اللہ کا گھر ہے، جسے’’ خانہ کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے اور لوگ آکر اس کا طواف کرتے ہیں۔ اس نے یمن کی راجدھانی صنعاء میں ایک بہت ہی خوب صورت گرجا گھر بنایا اور اعلان کیا کہ لوگ سادہ کعبہ چھوڑ کر اس پُر تکلف اور خوب صورت کعبہ کا طواف آکر کریں۔ عرب میں جب یہ خبر مشہور ہوئی تو قبیلہ بنو کنانہ کا کوئی شخص اس گرجا گھر میں گیا اور پاخانہ کر کے بھاگ آیا۔ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی ہے کہ عرب کے کچھ نوجوانوں نے اس کلیسا کے قُرب جوار میں آگ جلائی ہوئی تھی جو ہوا سے اڑ کر اس کلیسا یعنی گرجا گھر میں لگ گئی اور وہ پورا کلیسا جل کر خاک ہو گیا۔
ابرہہ کا مکہ مکرمہ پر حملہ
ابرہہ نے کلیسا کا یہ حال دیکھا تو غصہ سے بھر گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ خانہ کعبہ کو منہدم اور مسمار کر دے گا۔ اس نے لشکر جمع کیا، اس لشکر میں ہاتھی کافی تعداد میں تھے۔ وہ یمن سے لشکر لے کر چلا۔ راستے میں جو عرب قبیلہ ملتا گیا انھیں قتل کر کے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا اور لشکر کو پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا۔ مکہ کے اطراف میں قریش کے مویشی چرتے تھے۔ ابرہہ نے قریش کے تمام مویشیوں کو پکڑ لیا۔ ان میں حضرت عبدا لمطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ ادھر قریش کو ابرہہ کے لشکر کی خبر ہوئی تو وہ سب اپنے سردار حضرت عبدا لمطلب کے پاس آئے اور کہا کہ ابرہہ خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کے ارادے سے آیا ہے۔ آپ نے قریش کو سمجھایا کہ گھبرائو مت !خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے اور اسے کوئی منہدم یا مسمار نہیں کر سکتا، میں ابرہہ سے ملاقات کے لئے جار ہا ہوں ۔
ابرہہ حضرت عبدالمطلب سے مرعوب ہو گیا
حضرت عبدا لمطلب نے قریش کے چند سرداروں کو ساتھ لیا اور اپنی سواری پر سوار ہو کر ابرہہ کے لشکر میں پہنچے ۔ ابرہہ کو اطلاع دی گئی کہ مکہ مکرمہ کے بڑے سردار ملنے کے لئے آئے ہیں۔ اُس نے حضرت عبدا لمطلب کا شاہانہ استقبال کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالمطلب کو بے مثال حسن و جمال ، عظمت وہ ہیبت اوروقار و دبدبہ عطا فرمایا تھا۔ جس کو دیکھ کر ہر شخص مرعوب ہو جاتا تھا۔ ابرہہ بھی آپ کو دیکھ کر مرعوب ہو گیا اور بہت عزت و احترام سے پیش آیا۔ یہ تو مناسب نہ سمجھا کہ کسی کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ البتہ آپ کے اعزاز و اکرام میں یہ کیا کہ خود تخت سے اتر کر فرش پر آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے قریش کے مویشیوں اور اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ متعجب ہوگیا اور بولا بڑے تعجب کی بات ہے ۔آپ نے مجھ سے مویشیوں اور اونٹوں کے بارے میں بات کی ہے اور’’ خانہ کعبہ ‘‘جو آپ کا اور آپ کے آباو اجداد کا دین ہے، اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا:’’ میں میویشیوں اور اونٹوں کا مالک ہوں اس لئے میں نے اونٹوں کا سوال کیا اور خانہ کعبہ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، وہ اپنے گھر کو خود بچا ئے گا۔ ابرہہ کچھ دیرخاموش رہا پھر تمام مویشیوں اوراونٹوں کو واپس کر دینے کا حکم دیا۔ حضرت عبدالمطلب تمام مویشیوں اور اونٹوں کو لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اعلان کر وادیا کہ تمام مکہ مکرمہ کے باشندے اپنے اہل و عیال کے ساتھ پہاڑوں میں چلے جائیں اور مکہ مکرمہ کو خالی کر دیں۔
حضرت عبد المطلب کی دعا
حضرت عبدالمطلب نے پورے مکہ مکرمہ میں اعلان کر وادیا کہ تمام لوگ مکہ مکرمہ کو خالی کر کے پہاڑوں میں چلے جائیں اور اپنی نگرانی میں تمام لوگوں کو بحفاظت پہاڑوں میں بھیجنے لگے۔ اپنے تمام اونٹوں کو خانہ کعبہ کے لئے اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ اس دوران تمام لوگ پہاڑوں میں پہنچ چکے تھے اور مکہ مکرمہ خالی ہو چکا تھا۔ حضرت عبد المطلب قریش کے خاندانوں کے چند سرداروں کے ساتھ خانہ کعبہ کے دروازے پر حاضر ہوئے۔ سب نے خانہ کعبہ کا غلاف اور دروازہ پکڑ کر رو رو کر دعا مانگی۔ حضرت عبد المطلب نے یہ دعا کی:’’ اے اللہ تعالیٰ! بندہ اپنی جگہ کی حفاظت کرتا ہے پس تو اپنے مکان یعنی گھر کی حفاظت فرما اور اہل صلیب اور صلیب کی عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اپنے اہل کی مدد فرما۔ ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر کبھی غالب نہیں آسکتی۔ لشکر اور ہاتھی چڑھا کر لائے ہیں تا کہ تیرے عیال کو قید کریں اور تیرے حرم(خانہ کعبہ) کو بربا د کر دینے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ جہالت کی بنا پر یہ ارادہ کیا ہے اور تیری عظمت اور جلال کا خیال نہیں کیا۔‘‘یہ دعا کرنے کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ جہاں مکہ مکرمہ کی تمام آبادی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ موجود تھی اور دیکھ رہے تھی۔ حضرت عبدالمطلب بھی پہاڑ پر چڑھ کر ابر ہہ کا لشکر اور خانہ کعبہ کو دیکھنے لگے۔
ابرہہ کے ہاتھیوں والے لشکر پر اللہ تعالیٰ کا حملہ
ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت عبدالمطلب کو دعا مانگتے اور تمام مکہ مکرمہ والوں کو پہاڑ وں پر چڑھتا دیکھتا رہا۔ جب تمام مکہ مکرمہ خالی ہو گیا اور حضرت عبدالمطلب بھی پہاڑ پر چڑھ گئے تو ابرہہ نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور کہا :’’آگے بڑھو! اور اس گھر کو جسے یہ لوگ اللہ کا گھر کہتے ہیں توڑدو۔‘‘ اور اپنے لشکر اور ہاتھیوں کو لے کر آگے بڑھا۔ وہ خود بھی ہاتھی پر سوار تھا ۔ تمام مکہ مکرمہ والے پہاڑوں پر سے ابرہہ کے لشکرکو خانہ کعبہ کی طرف بڑھتے دیکھ رہے تھے۔ ان میں حضرت عبدالمطلب بھی تھے اور ان کے ساتھ سیدہ آمنہ بھی ابرہہ کے لشکر کو اور خانہ کعبہ کو دیکھ رہی تھیں۔ سب نے دیکھا کہ اچانک ابرہہ کے لشکر کے اوپر بے شمار چھوٹے چھوٹے پرندے آگئے اور ان کے اوپر اڑنے لگے۔ ہر پرندے کی چونچ میں ایک کنکری تھی۔ وہ کنکری کو ابرہہ کے لشکر پر چھوڑتے اور پلٹ جاتے۔ جیسے ہی ایک پرندہ کنکری چھوڑ کر پلٹتا دوسرا پرندہ اس کی جگہ لے لیتا۔ تمام مکہ مکرمہ والے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔
ابا بیلوں کے کنکریوں کے حملے سے ابرہہ کا لشکر تباہ
ابرہہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اپنے لشکر کو لے کر خانہ کعبہ کو تباہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا۔ ابھی وہ حرم کی حدود میں داخل بھی ہونے نہیں پایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے بے شمار پرندے بھیج دیئے ۔ ان ابابیلوں کی چونچ میں کنکریاں دبی ہوئی تھیں۔ اتنی ابابیلیں آگئی تھیں کہ ابرہہ اور اس کے لشکر کو آسمان دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اچانک ابابیلوں نے کنکریوں کو ابرہہ اور اس کے لشکر پر چھوڑنا شروع کر دیا اور اُن پر کنکریوں کی بارش ہونے لگی۔ یہ کنکریاں بندوق کی گولی سے زیادہ خطرناک تھیں۔ جس کے سر پر لگتی تو اس کے بدن کو چیرتی ہوئی پار نکل کر زمین پر گر جاتی اور اس شخص کا بدن پگھلنے لگتا تھا۔ ہاتھی کے اوپر کنکری گرتی تو اس کے بدن کو پھاڑتی ہوئی پار ہو جاتی تھی اور ہاتھی وہیں گر کر پگھلنے لگتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ابرہہ کا پورا لشکر ختم ہو گیا۔ کسی کو واپس بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ خود ابرہہ نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا ۔ اس کے پورے بدن پر چیچک کے دانے نکل آئے اور اس کا پورا بدن سڑ گیا اور بدن سے خون اور پیپ بہنے لگا۔ اس کے ہاتھ اور پائوں سڑ کر الگ ہونے لگے۔ آخر کار اس کا سینہ پھٹ گیا اور دل باہر آکر گرا۔ اس طرح اس کی بے حد دردناک موت ہوئی۔ جب ابرہہ اور اس کا پورا لشکر ہاتھیوں سمیت ختم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک سیلاب بھیجا جو سب کو بہا کر دریا میں لے گیا۔
اگلی کتاب
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کا ذکر یہاں مکمل ہوا۔ اب انشاء اللہ آپ کی خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) کا ذکر کریں گے اور بچپن کے حالات بیان کریں گے۔ حالانکہ آگے بھی حضرت عبد المطلب کا ذکر آئے گا۔ لیکن مجموعی طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کا ذکر مکمل ہو چکا ہے۔
٭……٭……٭

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں