اتوار، 30 جولائی، 2023

31 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


31 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 31

22 ھجری، فتح ہمدان، فتح وادیٔ حراج روذ، فتح کی خوش خبری، رے کی طرف پیش قدمی، فتح رے، اہل رے سے معاہدہ، اہل دینا وند سے معاہدہ، فتح قومس، فتح جرجان، فتح طبرستان، آذربائیجان کی پہلی فتح، آذربائیجان کی دوسری فتح، آذربائیجان کا معاہدہ، فتح باب، معاہدہ آرمینیہ

22 ھجری

اس سال 22 ھجری میں خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے بہت کام کئے۔اِس کے علاوہ سلطنت فارس میں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔حالانکہ 12 ہجری میں حضرت نعمان بن مقرن،حضرت طلیحہ بن خویلد،حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اﷲ عنہم جیسے بڑے بڑے مجاہدین اسلام شہید ہو گئے تھے۔اور حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ جیسے جلیل القدر سپہ سالاروں کا انتقال ہوا تھا۔ اِس کے باوجود مسلمانوں کی پیش قدمی جاری مسلسل جاری رہی۔

فتح ہمدان

مسلمانوں سے ہمدان کے خسرو شنوم نے صلح کر لی تھی،لیکن بعد میں اہل ہمدان نے صلح توڑ دی۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھ کر ہمدان پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا،اور تحریر فرمایا؛”تم روانہ ہو کر ہمدان پہنچو،تم اپنے ہر اول دستے (مقدمة الجیش)پر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بھیجو۔اور میمنہ (دائیں بازو)پر حضرت ربعی بن عامر طائی کو اور میسرہ (بائیں بازو) پر حضرت مہلہل بن زید تمیمی کو کمانڈر مقرر کرو۔“اِس حکم کے مطابق حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ”ثنیة العسل“کے درّے سے گذر کر ہمدان کے قریب پہنچے۔اہل ہمدان کو مسلمانوں کے آنے کی خبر مل چکی تھی،اِس لئے وہ شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔اور ”شہر پناہ “کے دروازوں کو بند کر لیا۔مسلمانوں نے اُن کا محاصرہ کرلیا۔محاصرہ کئی دن تک چلا،اِس دوران مسلمانوں نے ہمدان اور جرنیدان کے درمیان کا علاقہ فتح کرلیا۔اور ہمدان کے آس پاس کے تمام علاقے پر قبضہ کر لیا۔جب اہل ہمدان نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے صلح کی درخواست پیش کی۔جسے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔اور دستبی پراہل کوفہ کے چند افسران کو مقرر کردیا۔اِن کے نام حضرت عصمة بن عبداﷲ ضبی،حضرت مہلہل بن زید طائی،حضرت سماک بن عبید عبسی،حضرت سماک بن محرمة اسدی،اور حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی اﷲ عنہ ہے۔

سیرت سید الانبیاء ﷺ قسط نمبر 1 پڑھنے کے لئے کلک کریں

فتح وادیٔ حراج روذ

ہمدان کی فتح کے بعد مسلمان مجاہدین ابھی وہیں تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ دشمنوں کا ایک بڑا لشکر وادیٔ حراج روذ میں جمع ہو رہا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ ہمدان میں بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ مقیم تھے،تو اہل دیلم،اہل رے،اور اہل آذربائیجان نے آپس میں خط و کتابت کی،اور اپنے اپنے لشکر لیکر مسلمانوں سے مقابلے کے لئے نکلے۔اہل دیلم کے لشکر کا سپہ سالار ”موتا“تھا۔اہل رے کے لشکر کا سپہ سالار ”ابوالقرخان زینبی“تھا۔اور اہل آذربائیجان کے لشکر کا سپہ سالار رستم کا بھائی اسفند یار تھا۔یہ تینوں لشکر اپنے اپنے علاقے سے نکلے،اور وادی¿ حراج روذ میں جمع ہو گئے۔ دستبی کے فوجی مرکزوں کے مسلمان افسر قلعہ بند ہو گئے،اور انہوں نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو اطلاع دی۔انہوں نے ہمدان میں حضرت یزید بن قیس کو اپنا نائب بنایا،اور لشکر لیکر روانہ ہوئے،اور وادی¿ حراج روذ میں پہنچ گئے۔دونوں لشکر صف آرا ہوئے،اور گھمسان کی جنگ ہوئی،جو نہاوند کے برابر کی جنگ تھی۔اور کسی طرح اُس سے کم نہیں تھی۔اِس جنگ میں دشمنوں کے بہت زیادہ سپاہی قتل ہوئے،اتنے کہ شمار نہیں کرسکتے تھے۔آخر کار مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی لشکر میں تقسیم کر دیا۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری مدینہ¿ منورہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔

فتح کی خوش خبری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کے بہت بڑے اجتماع کی خبر مل چکی تھی،اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ بے چینی سے کسی خوشخبری کا انتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کے اجتماع کی خبر دے دی تھی،اور وہ اِس کی وجہ سے پریشان تھے۔اِسی لئے انہیں جنگ کی فکر لاحق تھی،اور وہ اس کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔اچانک ایک قاصد اُن کے پاس فتح ونصرت کی بشارت لیکر آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے پوچھا؛”کیا تم بشیر(خوشخبری کی بشارت دینے والے)ہو؟“وہ بولا؛”نہیں،میں عُروہ ہوں۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ فرمایا؛”کیاتم بشیر ہو؟“تو وہ صحیح بات سمجھ گیا،اور بولا؛”ہاں میں بشیر ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تم حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے قاصد ہو؟“وہ بولا؛”ہاں،میں اُنہی کا قاصد ہوں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا خبر ہے؟“وہ بولا؛”اﷲ تعالیٰ کاشکر ہے کہ فتح و نصرت کی بشارت ہے۔“پھر اُس نے تمام واقعہ بڑی تفصیل سے سنایا۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ تعا لیٰ کا شکر ادا کیا،اور تعریف بیان کی۔اور پھر خط پڑھنے کا حکم دیا،جب مسلمانوں نے خط کو سنا،تو سب نے اﷲ کی حمد و ثناءبیان کی۔پھر حضرت سماک بن محرمہ،حضرت سماک بن عبید،اور حضرت سماک بن خرشہ (تینوں کے نام سماک ہیں)مال غنیمت کا خمس لیکر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے۔اور سب نے اپنا نام سماک بتایا،تو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ تمہیں مبارک کرے،اے اﷲ !تُو اِن کے ذریعے اسلام کو مستحکم کر،اور اِن کے ذریعے اسلامی کی مدد فرما۔“

حضرت ابو بکر صدیق قسط نمبر 1 پڑھنے کے لئے کلک کریں

رے کی طرف پیش قدمی

حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ ہمدان اوردستبی اور آس پاس کے علاقوں کا انتظام کر رہے تھے،اور ساتھ ہی امیر امومنین رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔اِسی دوران ”رے “کا بادشاہ”سیاہ و خش“نے مسلمانوں سے مقابلے کے لئے لشکر جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دستبی اور اُس کے فوجی مراکز ہمدان کے تابع ہو گئے،پھرحضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا خط لیکر ایلچی آیا،اُس میں لکھا تھا؛”تم ہمدان پر اپنا نائب مقرر کرو،اور حضرت بکیر بن عبداﷲ سے حضرت سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ کے ذریعے امدا دفراہم کرو۔پھر وہاں سے کوچ کر کے ”رے“آو¿،وہاں دشمن کی فوج سے مقابلہ کرو۔کیونکہ یہ شہر ملک فارس(ایران)کے تمام شہروں کے درمیان ہے،اور اِن سب پر حاوی ہے۔اور عین ہمارے مقصد کے مطابق ہے۔“یہ حکم ملنے کے بعد حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن قیس ہمدانی کو ہمدان میں اپنا نائب بنایا۔اور مسلمان مجاہدین کو لیکر ”رے“کی طرف روانہ ہوئے۔”رے “میں دشمن کی فوجیں اکٹھا ہو رہی تھیں۔راستے میں ابوالقرخان زینبی اپنا بھگوڑا لشکر لیکر آیا۔اُس نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کی،اور صلح کی درخواست کی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔زینبی ”رے“کے بادشاہ سیاہ وخش کا مخالف تھا،اور مسلمانوں کے کارناموں کا مشاہدہ کر چکا تھا۔اور سیاہ وخش کے خاندان سے دشمنی کی وجہ سے اُس نے درخواست کی کہ اُسے بھی اُس کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر میں شامل کرلیا جائے۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُسے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔

فتح رے

حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمان مجاہدین کولیکر ”رے“کی طرف بڑھ رہے تھے۔اور ”رے“کا بادشاہ بھی مسلمانوں سے مقابلے کے لئے مسلسل تیاری کر رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس وقت ”رے“کا بادشاہ سیاہ و خش بن مہران بن بہرام چوبین تھا۔اُس نے دیناوند،طبرستان،قومس،اور جرجان سے فوجی امداد طلب کی،اور کہا؛”تمہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ ”رے“تک پہنچ رہے ہیں۔اب تمہارے لئے کوئی مقام نہیں ہے،اِس لئے تم متحد ہو جاو¿۔“مسلمان مجاہدین نے ”رے “کے پہلو میں ایک پہاڑ کے دامن میں پڑاو¿ ڈال دیا۔سیاہ و خش اپنا لشکر لیکر میدان میں نکلا،اور فریقین میں زبردست جنگ ہونے لگی۔دن بھر جنگ چلتی رہی،اور شام کے وقت سیاہ وخش اپنالشکر لیکراور اپنے مقتولوں کو میدان جنگ میں چھو ڑکر شہر ”رے“میں چلا گیا۔کئی دن کی جنگ میں دشمن کے کافی فوجی قتل ہوئے۔پھر زینبی نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”دشمنوں کی تعداد زیادہ ہے،اور ہماری تعداد کم ہے۔تم میرے ساتھ گھڑسواروں کا ایک دستہ بھیجو،تاکہ میں انہیں لیکرشہر کے ایک ایسے پوشیدہ راستے سے داخل کراو¿ں،جس کا انہیں کوئی علم نہیں ہے۔اِس دوران آپ لوگ اُن سے مقابلہ کرتے رہنا۔پھر جب ہم دشمن پر پیچھے سے حملہ کریں گے،تو اُن کے پیر اُکھڑ جائیں گے۔“حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے رات کے وقت اپنے بھتیجے منذر بن عمرو کی سرکردگی میں گھڑ سواروں کا ایک دستہ روانہ کر دیا۔زینبی نے انہیں شہر میں داخل کر دیا،جس کا دشمنوں کو علم نہیں ہو سکا۔پھر حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے شہر پر شبخون مارا،اور اچانک صبح صادق کے وقت حملہ کردیا۔شہر والے ابھی تک نیند میں تھے،اِس لئے انتظام نہیں کر سکے،اور ہنگامی حالت میں جسے جو بنا وہ لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔اور جنگ کرنے لگے،لیکن کچھ دیر بعد جب انہوں نے پیچھے سے نعرہ¿ تکبیر کی آواز سنی ،تو اُن کے حوصلے ٹوٹ گئے۔اور شکست کھا کر بھاگے،اور بری طرح قتل ہوئے۔سیاہ وخش قتل ہوا یا بھاگ گیا،اور شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

اہل رے سے معاہدہ

مسلمانوں کا ”رے“پر قبضہ ہو گیا،اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے ”رے“کا حکمراں زینبی کو بنا دیا۔اُس سے اہل رے نے صلح کرنے کی درخواست کی،جو اُس نے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے کی،اور انہوں نے منظور کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ”رے“میں مدائن کے برابر مال غنیمت عطا فرمایا۔زینبی نے اہل رے کی طرف سے صلح کی،اِسی لئے حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُسے وہاں کا نگران حاکم بنا دیا۔اور ایک صلح نامہ لکھ کر دیا۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔نعیم بن مقرن نے زینبی بن قولہ کو یہ صلح نامہ لکھ کر دی ؛ ”میں اہل رے کو اور جو اُن کے ساتھ ہیں پناہ دیتا ہوں،بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔جو ہر بالغ اپنی حیثیت کے مطابق ہر سال ادا کرے گا۔انہیں چاہیئے کہ وہ وفادار اور خیر خواہ ثابت ہوں،راستہ بتائیں،چوری نہ کریں،اور مسلمانوں کو ایک رات اور دن کھانا کھلائیں۔اور اُن کی عزت کریں،اور جو کوئی مسلمان کو گالی دے گا،یا اُس کی بے عزتی کرے گا،وہ سزا کا مستحق ہو گا۔اور جو کوئی مسلمانوں کو ذدو کوب کرے گا،تو وہ قتل کر دیا جائے گا۔اور جو کوئی مسلمانوں کی مخالفت کرے گا،تو سمجھو کہ اُس نے تمہاری جماعت کو بد ل دیا۔اور مسلمانوں پر اُس کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں رہے گی۔“حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اِس معاہدے کو لکھا،اور گواہی کے دستخط کئے۔

اہل دینا وند سے معاہدہ

حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اہل رے کو امان دے دی،اور امان نامہ لکھ کر دیا۔یہ دیکھ کر ”دیناوند“ کے بادشاہ نے بھی صلح کی درخواست کی ،اور اہل رے کی شراط پر ہی امان نامہ چاہا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔عصمنان نے بھی اُن سے خط و کتابت کی،تاکہ فدیہ دیکر اُن سے صلح کر لے۔اُس نے معاونت اور حفاظت کی درخواست نہیں کی تھی،اُس کی درخواست منظور کر لی گئی۔اور اُس کے لئے ایک معاہدہ لکھ دیا گیا،جس کا مضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔نعیم بن مقرن کی طرف سے مردان شاہ،عصمنان دیناوند اور اہل نہاوند،اخوارالارز اور شرانک کے لئے یہ معاہدہ ہے۔میں تمہیںاور تمہارے ساتھ جو اِس معاہدے میں شریک ہوں،پناہ دیتا ہوں۔بشرطیکہ تم اپنے لوگوں کو لڑائی سے باز رکھو۔اور جو سرحد کے حاکم ہوں،اُن کو دولاکھ درہم سالانہ ادا کرو۔تم پر حملہ نہیں کیا جائے گا،اور جب تک تم اِس معاہدے پر قائم رہو گے،تو تمہارے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہو گا۔اور اگر تم میں سے کسی نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی،تو معاہدہ برقرار نہیں رہے گا۔“

فتح قومس

حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس اور فتح کے تما م حالات خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیئے،اور اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت مضارب عجلی کے ہاتھ ”رے“کی فتح کی خبر بھجوائی،اور مال غنیمت کاخمس بھی بھیجا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں تحریر فرمایا؛”تم حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ”قومس“بھیجو،اُن کے ہراول(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت سماک بن محرمہ کو بناو¿،اور میمنہ (دائیں بازو) پر حضرت عتبہ بن نہاس کو مقرر کرو،اور میسرہ (بائیں بازو) پر حضرت ہند بن عمرو جملی کو مقررکرو۔“اِس حکم کے مطابق حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر قومس روانہ ہوئے۔وہاں کوئی بھی مسلمانوں کے مقابلے پر نہیں آیا،شہر کے لوگ جنگلوں میں اور طبرستان بھاگ گئے تھے۔مسلمانوں نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا۔جب مجاہدین نے دریا کا پانی پیا جس کا نام ”ملاذ“تھا،تو اس کی وجہ سے اُن میں بیماری پھیلی۔اِس پر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تم اپنا پانی تبدیل کر لو،ورنہ یہاں کے باشندوں کی طرح ہو جاو¿ گے۔انہوں نے پانی تبدیل کیا تو انہیں خوش گوار معلوم ہوا۔جو لوگ جنگلوں میں اور طبرستان کی طرف بھاگ گئے تھے،انہوں نے مسلمانوں سے خط وکتابت کی،اور صلح کی درخواست کی۔

اہل قومس سے معاہدہ

قومس کے لوگ اپنے شہر میں واپس آنا چاہتے تھے،اور اِس کے لئے مسلمانوں سے خط و کتابت کی ،اورانہیں کامیابی ملی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُن سے صلح کا معاہدہ کر لیا،جس کا مضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔سوید بن مقرن کی طرف سے اہل قومس کے لئے۔سوید بن مقرن نے اہل قومس اور اُس کے ساتھیوں کو اُن کے جان و مال اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔جسے ہر بالغ اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق ادا کرے گا۔اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں،اور فریب نہ دیں۔اور راستہ بتائیں ،اور مسلمانوں ایک رات اور دن کا کھانا کھلائیں۔اگر انہوں نے اِس کی خلاف ورزی کی،یا معاہدہ کی پابندی نہیں کی۔تو ہم ان کی حفاظت سے بری الذمہ ہوں گے۔“

فتح جرجان

حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد ”جرجان“کی طرف بڑھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے بسطام میں پڑاو¿ ڈالا۔جرجان کے بادشاہ نے وہیں پر اپنا قاصد بھیجا،اور خط و کتابت کی۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان کے قریب پہنچے ،تو جرجان کے بادشاہ”رزبان صول“نے قاصد کے ذریعے صلح کر لی،اور جزیہ دینے کا وعدہ کیا۔اِس طرح اُس نے جرجان کو جنگ سے بچا لیا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے صلح کی درخواست منظور کرلی،اور امان دے دی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان کے قریب پہنچے تو رزبان صول خود مسلمانوں کا استقبال کرنے شہر کے باہر آیا،اور حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ساتھ میں لیکرمسلمانوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے وہاں ایک دستہ چھوڑ دیا،جو اُن کی سرحدوں کو مستحکم کرتا تھا،اور سرحد کی حفاظت کرتا تھا۔

فتح طبرستان

حضرت نعیم بن سوید رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر جرجان سے آگے بڑھے،اور طبرستان کی طرف کوچ کیا۔طبرستان کے بادشاہ ”اصبہبذ“نے جرجان کے بادشاہ کی طرح پہلے ہی قاصد بھیج کر صلح کی درخواست کردی ۔جو حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے منظور کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اصبہبذ نے بھی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے صلح کے بارے میں خط وکتابت کی کہ فریقین صلح کرلیں،اور ایکدوسرے سے اقرار کر کے جزیہ دے گا۔حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے یہ بات منظور کر لی۔اور ایک تحریری معاہدہ بھی لکھ کر دیا،جس کامضمون یہ تھا؛”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ تحریر سوید بن مقرن نے فرحان اصبہبذ کو لکھ کر دی ہے۔تم اﷲ بزرگ وبرتر کی امان میں ہو،اِس شرط پر کہ تم ہمارے خلاف بغاوت نہیں کرو گے۔اور جو تمہارے سرحدی علاقے پر ہمارا حاکم ہو گا،اُسے ملک کے سکے کے حساب سے پانچ لاکھ درہم سالانہ ادا کرو گے۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہم میں سے کوئی تم پر حملہ نہیں کرے گا۔اور نہ ہی تمہاری اجازت کے بغیر کوئی تمہارے علاقے میں داخل ہوگا۔ہمارا طریقہ تمہارے ساتھ با اجازت ہوگا،اور تمہارا رویہ یہ ہوگا کہ تم ہمارے باغیوں کو پناہ نہیں دو گے۔اور ہمارے دشمن کی حمایت نہیں کرو گے،اور خیانت و غداری کروگے۔اور اگر تم ایسا کرو گے تو ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں رہے گا۔“

آذربائیجان کی پہلی فتح

اوپر ہم ذکر کر چکے ہیں کہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے حضرت بکیر بن عبداﷲ کی امداد کے حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی ا ﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیج دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ روانہ ہو کر جرمیذان کے سامنے پہنچے،وہاں وادی¿ حراج ردذسے شکست کھا یا اسفند یاربھاگ کر چھپاہوا تھا۔وہ لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا،اور آذربائیجان کی سب سے پہلی جنگ مسلمانوں نے اسفند یار کے خلاف لڑی۔دونوں لشکروں میں زبردست مقابلہ ہوا،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے اسفندیار کو گرفتار کرکے قیدی بنا لیا۔اسفند یار نے اُن سے پوچھا؛”آپ کو جنگ زیادہ پسند ہے یا صلح؟“انہوں نے جوان دیا؛”مجھے صلح زیادہ پسند ہے۔“اِس پر وہ بولا؛”آپ مجھے اپنے ساتھ رکھیئے،کیونکہ اہل آذربائیجان اُس وقت تک آپ کے پاس نہیں آئیں گے،جب تک کہ میں اُن کی طرف سے صلح نہ کروں،یا اُن کے پاس نہ جاو¿ں۔“اہل آذربائیجان آس پاس کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔اور جوقج اور رومیوںکے تھے،وہاںوہ قلعہ بند ہو گئے۔بہر حال آس پاس کے علاقوںپر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا،اور اسفند یار بدستور قید میں رہا۔اُس وقت حضرت سماک بن خرشہ انصاری رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر پہنچ گئے۔

آذربائیجان کی دوسری فتح

حضرت بکیر بن عبداﷲ کے ساتھ حضرت عتبہ بن فرقد بھی اپنے لشکر کے ساتھ تھے،اور جب حضرت سماک بن خرشہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے،تو انہوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ انہیں آذربائیجان کی مہم سے سبکدوش کر دیا جائے۔ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ آذربائیجان میں اپنا نائب کسی کو بنائیں،پھر اپنا لشکر لیکر”باب“کے علاقے کی طرف پیش قدمی کریں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ نے حضرت عتبہ بن فرقد کو پورے آذربائیجان کا سپہ سالار بنایا،اور اسفند یار کو اُن کے حوالے کر کے ”باب“کے علاقے کی طرف اپنا لشکر لیکر رونہ ہو گئے۔ادھر بہرام (اسفند یار کا بھائی)لشکر لیکر آیا ،اور مسلمانوں کا راستہ روک لیا۔حضرت عتبہ بن فرقدنے صف بندی کرلی،اور فریقین میں جنگ شروع ہوگئی۔مسلمانوں نے ایک ساتھ اتنا زبردست حملہ کیا کہ دشمنوں کو شکست ہو گئی۔بہت سے قتل ہوئے،اور بہت سے بھاگ گئے۔بہرام بھی اپنی جان بچا کر بھاگ گیا۔جب اسفند یار کو بہرام کی شکست اور فرار کی خبر ملی تو اُس نے کہا؛”اب صلح مکمل ہو گئی ،اور جنگ کی آگ بجھ گئی۔“اِس کے بعد اُس نے حضرت عتبہ بن فرقد سے اجازت لیکراہل آذربائیجان سے بات کی،اور دونوں فریقین صلح پر راضی ہو گئے۔اور صلح کا معاہد لکھا گیا۔

آذربائیجان کا معاہدہ

حضرت عتبہ بن فرقد سے اہل آذربائیجان نے صلح کرلی،اور امان نامہ اور معاہدہ لکھا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت عتبہ بن فرقد سے پہلے حضرت بکیر بن عبداﷲ آذربائیجان کے علاقوں کو فتح کر چکے تھے۔مگر صلح اُس وقت مکمل ہوئی ،جب حضرت عتبہ بن فرقد نے بہرام کوشکست دی۔اُس وقت جو معاہدہ لکھا گیا،اُس کی تحریر یہ تھی؛”یہ معاہدہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حاکم عتبہ بن فرقد کی طرف سے اہل آذربائیجان کے لئے ہے۔اُن کے تمام میدانوں، پہاڑوں، مضافات اور تمام اقوام کے لئے ہے۔اُن کے جان و مال ،مذہب و ملت اور رسوم وقانون کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے۔بشرطیکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق جزیہ ادا کرتے رہیں۔یہ جزیہ بچوں،عورتوںاور ایسے مفلس و اپاہج پر عائد نہیں ہوگا ،جس کے پاس دنیاوی مال و متاع کی کوئی چیز نہیںہو۔اور ایسے راہب اور مذہبی رہنما پر بھی عائد نہیں ہوگا،جس کے پاس دنیاوی مال و متاع نہیںہو۔اور جو اُن کے ساتھ رہتے ہیں،اُن کے لئے بھی یہی حکم ہے۔مگر عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسلامی لشکر کے کسی شخص کی ایک دن اور ایک رات مہمان داری کریں۔اور اُسے راستہ بتائیں،اور جو قحط سالی کا شکار ہو گا،تو اُس سے اِس سال کا جزیہ نہیں لیا جائے گا۔جو کوئی یہاں آکر رہے گاتو اُس کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے،جو اس سے پہلے کے باشندوں کو حاصل ہوں گے۔اور جو یہاں سے نکلنا چائے گا،اُسے مسلمان اُس وقت تک پناہ دیں گے ،جب تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ نہیں جائے گا۔“

فتح باب

حضرت بکیر بن عبداﷲ اپنے لشکر کو لیکر ”باب“کی طرف روانہ ہوئے۔بحیرہ خزر کے پاس ایک بہت بڑا شہر آباد تھا،جو طبرستان کے قریب تھا،اس کا نام”باب“تھا۔یہ نام اس لئے تھا کہ یہ شہر سمندر میں آنے جانے کا دروازہ تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِدھر حضرت بکیر بن عبداﷲ کو روانہ ہونے کا حکم دیا،اور اُدھر بصرہ سے حضرت سراقہ بن عمرو کو لشکر لیکر روانہ ہونے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوحکم دیا کہ وہ بصرہ جا کر حضرت سراقہ بن عمرو کو لشکر دیکر ”باب “کی طرف بھیجیں۔اور اِس کے ہراول (مقدمة الجیش) پر حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنائیں۔اور میمنہ پر حضرت حذیفہ بن اُسید غِفاری کو ،اور میسرہ پر حضرت بکیر بن عبداﷲ کو سپہ سالار مقرر کریں،جو ”باب“پہنچ رہے ہیں۔حضرت سراقہ بن عمرو لشکر لیکر روانہ ہوئے،اور ہر اول کے سپہ سالار حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ ”باب“پہنچ گئے،اور وہاں پر پڑاو¿ ڈالے حضرت بکیر بن عبداﷲ کے لشکر کے ساتھ مل گئے۔اِسی دوران امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے الجزیرہ کے گورنر حضرت حبیب بن مسلمہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ حضرت زیاد بن حنظلہ کو گورنر بنا کر لشکر لیکر ”باب“کے لئے روانہ ہو جائیں۔”باب“کے بادشاہ ”شہربراز“کو مسلمانوں کے لشکر کے جمع ہو نے کی اطلاع ملی ،تو اُس نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ سے پناہ طلب کی،اور ملاقات کرنے آیا،اور بولا؛”میں آپ لوگوں سے دوستی کرنا چاہتا ہوں،میری یہ درخواست ہے کہ آپ لوگ مجھ پر جزیہ عائد نہ کریں ،بلکہ ہمارا جزیہ ہم اِس طرح ادا کریں گے کہ ہم آپ کی جنگی امداد کریں گے۔“حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”اِس کے لئے تمہیں ہمارے سپہ سالار حضرت سراقہ بن عمرو کے پاس جان پڑے گا۔“وہ حضرت سراقہ بن عمرو کے پاس آیا،اور اپنی درخواست دہرائی،تو انہوں نے منظور کر لی،اور فرمایا؛”میں نے یہ بات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے منظور کرلی،بشرطیکہ وہ اِس پر قائم رہیں۔مگر جو ہمارے ساتھ جنگ میں دشمن کے خلاف شریک نہیں ہوگا،اُسے جزیہ دینا ہوگا۔“اُس نے یہ بات تسلیم کر لی،اور اسکے بعد یہی رواج ہو گیا۔حضرت سراقہ بن عمرو نے یہ معاملہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجا،توآپ رضی اﷲ عنہ نے اِسے پسند فرمایا۔اور اِس تجویز کو مستحسن قرار دیا۔

معاہدہ آرمینیہ

باب کی فتح کے بعد حضرت سراقہ بن عمروآرمینیہ کی طرف بڑھے۔یہ پہاڑی علاقہ تھا،اور یہاں لاقانونیت تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس علاقہ کے پہاڑوں میں آبادی نہیں تھی،اور یہاں کے آرمینی باشندے گرد ونواح کے مقامات میں رہتے تھے۔مسلسل غارت گری کی وجہ سے اِس کی آبادی ویران ہو گئی تھی،اور یہاں کے لوگ دوسرے مقامات کی طرف چلے گئے تھے۔اِس لئے یہاں صرف فوج رہتی تھی،یا وہ لوگ مقیم تھے جو اُن کے مدد گار تھے،اور اُن کے ساتھ کاروبار کرتے تھے۔اُن لوگوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کیا،جس کی تحریر یہ تھی؛”امیر المومنین حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے حاکم سراقہ بن عمرو کی طرف سے شہر براز اور باشندگان ِآرمینیہ کو پناہ دی جاتی ہے۔اُن کے جان و مال اور مذہب و ملت کی حفاظت کی جائے گی،اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔اِس کے بدلے میں یہ لوگ مسلمانوں کی جنگ میں مدد کریں گے،اور ہر اہم و غیر اہم مہم کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کے لئے تیار رہیں گے۔جو لوگ جنگ میں مدد دیں گے،اُن کاجزیہ معاف کردیاجائے گا،اور جو گھر بیٹھا رہے گا،اُسے آذربائیجان والوں کی طرح جزیہ دینا ہو گا۔اور مسلمانوں کو راستہ بتائے گا،اور ایک دن اُن کی مہمان داری کرے گا۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


واقعہ کربلا پی ڈی ایف مکمل Waqia Karbala pdf all episodes


 

واقعہ کربلا پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں

Download Waqia Karbala Qist 1

Download Waqia Karbala Qist 2

Download Waqia Karbala Qist 3

Download Waqia Karbala Qist 4

Download Waqia Karbala Qist 5

Download Waqia Karbala Qist 6

Download Waqia Karbala Qist 7

Download Waqia Karbala Qist 8

Download Waqia Karbala Qist 9

Download Waqia Karbala Qist 10

Download Waqia Karbala Qist 11

Download Waqia Karbala Qist 12

Download Waqia Karbala Qist 13

Download Waqia Karbala Qist 14

Download Waqia Karbala Qist 15,16

Download Waqia Karbala Qist 17

Download Waqia Karbala Qist 18

Download Waqia Karbala Qist 19



ہفتہ، 29 جولائی، 2023

32 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


32 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 32

پہاڑوں کی مہمات، ترکوں سے جنگ، کسریٰ یزد گرد کی بوکھلاہٹ، خراسان کی طرف پیش قدمی، مرو شاہ جہاں کی فتح، بلخ کی فتح، کسریٰ کی یلغار، مسلمان مجاہد کا مشورہ، حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی بہادری، کسریٰ کا فرار، سلطنت فارس کاخاتمہ، 22 ھجری کے متفرق واقعات، فتح توج، فتح اصطخر، شہرک کی بغاوت، جنگ”فسا“اور”درابجرد“، اﷲ نے میدان جنگ سامنے کر دیا، سینکڑوں کلو میٹر دور آواز سنی، 

پہاڑوں کی مہمات

حضرت سراقہ بن عمرو نے اِس کے بعد آس پاس کے پہاڑوں کی طرف لشکر روانہ کئے،تاکہ پورا علاقہ محفوظ ہو جائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سراقہ بن عمرو نے کئی سپہ سالاروں کو لشکر دیکر اُن پہاڑوں کے باشندوں کی طرف بھیجا،جو آرمینیہ کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت بکیر بن عبداﷲ کو ”موقان “کی طرف بھیجا۔حضرت حبیب بن مسلمہ کو ”تفلیس“کی طرف بھیجا۔حضرت حذیفہ بن اسد کو اُن لوگوں کی مخالف سمت بھیجا۔اور حضرت سلیمان بن ربیعہ کو ”کوہِ لان “کی طرف بھیجا۔حضرت سراقہ بن عمرو نے فتح کا حال اور پہاڑوں میں بھیجے گئے لشکر کے حالات لکھ کر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجے۔انہوں نے ہدایت کی کہ یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے،کیونکہ پہاڑی سرحدیں بہت بڑی ہیں۔اِس لئے تم وہیں رکو اور لشکروں کے آنے کا انتظار کرو۔پہاڑوں میں بھیجے گئے تمام لشکر واپس آگئے،اور اُن میں سے صرف حضرت بکیر بن عبد اﷲ نے موقان کا علاقہ فتح کیا،اور باقی لشکر ایسے ہی واپس آگئے۔اِسی دوران حضرت سراقہ بن عمرو کا انتقال ہو گیا۔اور امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنا دیا۔

ترکوں سے جنگ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو سپہ سالار بنا کر حکم دیا کہ وہ ترکوں سے جنگ کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت سراقہ بن عمرو کے انتقال کی خبر ملی،تو انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار بنایا۔اور انہیں حکم دیا کہ وہ ترکوں سے جنگ کریں۔حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ مسلمانوں کو لیکر روانہ ہوئے،تو شہر براز نے پوچھا؛”آپ کہاں جانا چاہ رہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا؛”ہم بلخ جر جانا چاہتے ہیں۔“اُس نے کہا ؛”ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر کے قریب جنگ کریں۔“حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے گھر میں اُن سے جنگ کریں۔اﷲ کی قسم !ہمارے ساتھ وہ لوگ ہیںکہ اگر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت دیں،تو میں انہیں لیکر ”روم“تک پہنچ جاؤں گا۔“اُس نے پوچھا ؛”وہ کون لوگ ہیں؟ “ حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ نے فرمایا؛”یہ وہ لوگ ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں۔اور وہ خلوص نیت سے مسلمان ہوئے ہیں۔ وہ عہد جاہلیت میں بھی حیادار اور شریف تھے،اور اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شرافت اور حیا میں اور اضافہ ہو گیا۔اِس لئے فتح ہمیشہ اِن کے ساتھ رہے گی،یہاں تک کہ مفتوح اقوام انہیں تبدیل نہ کر دیں،اور انہیں اپنے رنگ میں نہ رنگ لیں۔“اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ اپنے لشکر کو لیکر بلخ جر تک گئے،بلکہ اس کے آگے دو سو فرسخ کے فاصلے تک گئے۔ترکوں پر مسلمانوں کا رعب چھا گیا۔اور انہوں نے آپس میں کہا؛”مسلمانوں نے ہم پر حملہ کرنے کی جرأت اِس لئے کی کہ اُن پر فرشتوں کا سایہ ہے،جو انہیں موت سے بچاتے ہیں“وہ قلعہ بند ہو گئے،اور پھر بھاگ گئے،اور حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ مال غنیمت اور فتح و نصرت لیکر واپس آگئے،یہ واقعہ حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا ہے۔

کسریٰ یزد گرد کی بوکھلاہٹ

مسلمان مسلسل سلطنت فارس میں پیش قدمی کر رہے تھے،اور کسریٰ مسلسل اپنی جان بچاتا بھاگ رہا تھا۔اور اُس کی گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے کسی محل میں نہیں رہ پارہا تھا۔حالانکہ سلطنت فارس میں کسریٰ کے بہت زیادہ محل تھے،لیکن وہ جس محل میں بھی جاتاتھا،وہاں مسلمان پہنچ جاتے تھے۔کسریٰ کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ وہ اونٹ کے اوپر ہودج میں سوتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کا دارالحکومت ایوان سلطنت،بساط مشاورت”مدائن “فتح کیا،اور اُس کے ذخائر چھین لئے۔تب کسریٰ یزد گرد حلوان بھاگ گیا،پھر مسلمان حلوان کا محاصرہ کرنے آئے تو وہ رے بھاگ گیا۔جب مسلمان رے کی طرف بڑھے تو کسریٰ اصفہان یا اصبہان بھاگ گیا۔اس کے جب مسلمانوں کے اصفہان آنے کی خبر ملی تو وہ کرمان بھاگ گیا۔اور جب مسلمان کرمان کی طرف بڑھے تو کسریٰ خراسان بھاگ گیا،اور وہاں فروکش ہو گیا۔اِس سب کے باوجود وہ آگ جسے وہ پوجتا تھا،اُسے اپنے ساتھ ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا تھا۔اور ہر شہر میں ایک آتش کدہ بناتا تھا،اور دستور کے مطابق اس میں آگ جلاتا تھا۔اور وہ اکژ رات میں اونٹ پر سوار ہو کر سفر کرتا تھا،جس پر اُس کا ہودج تھا۔وہ اس میں سویاکرتا تھا۔

خراسان کی طرف پیش قدمی

مسلمانوں کے ڈر سے کسریٰ بھاگتا رہا،اور سب سے آخر میں خراسان میں جا کر رُکا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ کرمان کی طرف روانہ ہوا،جب وہ کرمان پہنچا تو اُس کی مقدس آگ اُس کے ساتھ تھی۔پھر اُس نے وہاں سے خراسان منتقل ہونے کا ارادہ کیا،اور ”مروشاہ جہاں “میں آکر مقیم ہو گیا۔اُس نے اُس کی مقدس آگ کو بھی وہیں منتقل کر لیا،اور ایک بہت بڑا آتش کدہ تعمیر کرایا،اور باغ لگایا۔وہ باغ ”مرو شاہ جہاں“سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا،یہاں آکر وہ امن سے رہنے لگا،اور جن علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔اُن سے خط و کتابت کر کے مسلمانوں کے خلاف اُکسانے لگا۔اِس کی خبر مسلمانوں کو ملی تو خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا،اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کا لشکر دیکر خراسان کی طرف روانہ کیا۔انہوں نے ”مہرجان“پر قبضہ کر لیا،پھر وہ اصفہان کی طرف روانہ ہوئے۔اُس وقت کوفہ اور بصرہ کے مسلمان ”جی“کا محاصر ہ کئے ہوئے تھے،اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”طبین “کے راستے خراسان میں داخل ہوئے۔

مرو شاہ جہاں کی فتح

مسلمانوں نے کسریٰ یزد گرد کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ایک طرف سے کرمان اور آذربائیجان کی طرف سے اُس کی طرف بڑھ رہے تھے۔اور دوسری طرف سے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر خراسان پہنچ چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر خراسان میں داخل ہوئے،اور ”ہرات“پر قبضہ کر لیا،اور وہاں حضرت صحار عبدی کو اپنا نائب بناکر ”مرو شاہ جہاں“کی طرف بڑھے۔درمیان میں کوئی جنگ نہیں ہوئی،اِس لئے” نیشا پور“ کی طرف حضرت مطرف بن عبداﷲ بن شخیر کو ایک لشکر دیکر بھیجا۔اور ”سرخس“کی طرف حضرت وارث بن حسان کو لشکر دیکر روانہ کیا۔جب حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر مرو شاہجہاں پہنچے تو کسریٰ یزد گرد ”مرو روز“چلاگیا،اور وہیں رہنے لگا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ مرو شاہ جہاں میں ہی پڑاو¿ ڈال دیا۔اُدھر کسریٰ نے ”مو روز“پہنچنے کے بعد خاموش نہیں بیٹھا،اور اُس نے مسلمانوں کے خلاف ”خاقان “سے امداد کی درخواست کی۔اور شاہ صغد کو بھی تحریر کیا کہ وہ بھی فوج کے ذریعے مدد مسلمانوں کے خلاف کسریٰ کی امداد کرے۔

بلخ کی فتح

حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مرو شاجہان میں خیمہ زن تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے مرو شاہ جہاں میں حضرت حارثہ بن نعمان باہلی کو اپنا نائب بنایا،اور آگے بڑھنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اہل کوفہ کے چار سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر پہنچ گئے۔اِن کے نام حضرت علقمہ بن نضر نضری،حضرت ربعی بن عامر تمیمی،حضرت عبدا ﷲ بن عقیل ثقفی اور حضرت ابن اُم غزال ہمدانی ہیں۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر”مرو روز“کی طرف روانہ ہوئے۔اور اہل کوفہ کے چاروں سپہ سالاروں کو اُن کے لشکر لیکر سیدھے ”بلخ“پہنچنے کا حکم دیا۔جب کسریٰ کو مسلمانوں کی روانگی کی خبر ملی،تو وہ ”بلخ “کی طرف روانہ ہو گیا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مرو روز میں رک گئے،اور اہل کوفہ کے سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ بلخ پہنچ گئے۔مروروز میں تمام انتظامات کرنے کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ روانہ ہو گئے۔بلخ میں اہل کوفہ کے لشکروں اور کسریٰ یزد گرد کی فوج کا مقابلہ ہوا،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔کسریٰ شکست کھا کر فارسیوں کو لیکردریا کی طرف بھاگا،اور دریا پار کر کے بھاگ گیا۔اِسی دوران حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔اِس کے بعد اہل خراسان جو بھاگ گئے تھے،یا قلعہ بند ہو گئے تھے۔وہ سب مسلمانوں کے پاس صلح کے لئے آنے لگے۔اِن میں شاہ فارس کی مملکت میں سے ”نیشا پور “سے لیکر” طخارستان “تک کے علاقے کے جتنے باشندے تھے،وہ سب شامل تھے۔مسلمانوں نے اُن سب سے صلح کرلی۔اِس طرح پورا خراسان فتح ہو گیا۔

امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی ہدایات

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خبر اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔فتح کی خبر سن کر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”احنف رضی اﷲ عنہ مشرق کے سردار ہیں۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو لکھا؛”تم دریا پار نہیں کرنا،بلکہ اُس کے پہلے کے علاقے میں مقیم رہنا۔تمہیں معلوم ہے کہ تم کن خصوصیات کے ساتھ خراسان میں داخل ہوئے تھے۔اِس لئے آئندہ بھی ان عادات پر قائم رہنا۔اِس طرح تمہیں ہمیشہ اﷲ کی مدد اور فتح حاصل ہوتی رہے گی۔تم دریا کو پار کرنے سے پرہیز کرو،ورنہ نقصان اُٹھاو¿ گے۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے اِس حکم کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ ”مرو روز “واپس چلے گئے،اور وہیں رہنے لگے۔انہوں نے طخارستان کے علاقے پر حضرت ربعی بن عامر کو اپنا نائب بنایا۔

کسریٰ کی یلغار

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو دریا کے اِس پار رہنے کا حکم دیا تھا۔اُدھر کسریٰ کے دونوں قاصد خاقان اور غوزک کے پاس پہنچے،تو وہ دونوں اُس وقت تو کسریٰ کی فوجی امداد نہیں کر سکے تھے۔یہاں تک کہ وہ شکست کھا کر دریا پار کر کے خود اُن دونوں کے پاس پہنچ گیا۔اُس وقت اُس کی فوجی امداد کی تکمیل ہوئی،ترک اور اہل فخانہ اور اہل صغد اُس کی مدد کے لئے جمع ہو گئے۔کیونکہ وہ سلاطین کی امداد کو ضروری سمجھتے تھے۔کسریٰ امدادی لشکر لیکر خراسان کی طرف روانہ ہوا۔خاقان بھی اپنی ترک فوج کے ساتھ خراسان روانہ ہوا۔اور اُن دونوں لشکروں نے دریا عبور کیا،اور بلخ پہنچ گئے۔اُس وقت اہل کوفہ کے لشکر اور اُن کے سپہ سالار مروروز میں حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔اِس لئے مشرکین کا لشکر بھی کوچ کر کے مرو روز پہنچ گیا،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔

مسلمان مجاہد کا مشورہ

مسلمانوں کو کسریٰ کی یلغار کی خبر پہلے ہی مل چکی تھی،اور وہ پہلے سے ہی تیاری کرنے لگے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو یہ خبر ملی کہ خاقان اور صغد نے کسریٰ کے ساتھ بلخ کے دریا کو عبور کر لیا ہے،اور وہ لوگ جنگ کرنے کے لئے آرہے ہیں۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ جاننے کے لئے رات میں مسلمان مجاہدین کے درمیان گشت کیا کہ اُن کے خیالات کیا ہیں۔اِسی دوران وہ دو مجاہدین کے پاس سے گذرے ،جو چارہ صاف کر رہے تھے،وہ چارہ یا بھوسا تھا یا جو تھے۔ان دونوں میں سے ایک مجاہد دوسرے سے کہہ رہا تھا؛”اگر ہمارے سپہ سالار ہمیں اس پہاڑ کے پاس لے آئے تو یہ دریا ہمارے اور دشمنوں کے درمیان خندق کا کام دے گا۔اس وقت یہ پہاڑ ہماری پشت پر ہو گا،اس وجہ سے ہمارے پیچھے کی طرف سے کوئی حملہ آور نہیں ہو گا،اور ہماری جنگ صرف ایک طرف سے ہو گی۔پھر یہ توقع کی جا سکے گی کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں فتح و نصرت عطا کرے گا۔“یہ بات سن کر آپ رضی اﷲ عنہ لوٹ آئے،اور چونکہ رات تھی ،اِس لئے یہی مشورہ اُن کے لئے کافی ثابت ہوا۔جب صبح ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمان مجاہدین کو جمع کیا،اور فرمایا؛”تمہاری تعداد کم ہے،اور تمہارے دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔مگر تمہیں اِس بات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ اﷲ کے حکم سے ایک چھوٹی جماعت اکثر بڑی تعداد کی جماعت پر غالب آجاتی ہے۔اور اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔تم اس مقام سے کوچ کرو،اور اس پہاڑ کا سہارا حاصل کرو،یہ پہاڑ تمہاری پشت پر ہونا چاہیئے۔اور یہ دریا تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان رہے،اور تم صرف ایک سمت سے جنگ کرو۔“

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی بہادری

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق مسلمانوں نے پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے اُن کی ہدایات پر عمل کیا،اور مناسب طریقے سے جنگ کی تیاری کر لی۔بصرہ کے لشکر کی تعداد دس ہزار تھی،اور کوفہ کی فوج بھی تقریباً اتنی ہی تھی۔ترک سپاہیوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا،اور مسلمان بھی اُن کا جم کر مقابلہ کرنے لگے۔شام تک جنگ ہوتی رہی ،اور رات کو ترک اپنے پڑاو¿ میں واپس چلے گئے۔اِس طرح یہ جنگ کئی دنوں تک چلتی رہی۔اِدھر مروزور میں ترک مسلمانوں سے مقابلہ کر رہے تھے،اور ادھرکسریٰ اُن سے الگ ہو کرمرو شاہ جہاں گیا،کیونکہ وہاں اُس کا خاندانی خزانہ دفن تھا،اور مسلمانوں کامحاصرہ کر لیا۔وہاں حضرت حارث بن نعمان اُس سے مقابلہ کر رہے تھے۔ادھر مرو زور میںحضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ اِس تاک میں تھے کہ ترکوں کی کوئی کمزوری اُن کے ہاتھ آجائے۔اِسی سلسلے میں ایک رات وہ خبر رسانی کے لئے نکلے،اور جب وہ ترکوں کے لشکر کے قریب پہنچے،تو وہیں ٹھہر گئے۔جب صبح کا وقت آیاتو ایک ترک سوار اپنا طوق لیکر نکلا،اور وہ طبلہ بجانے لگا،پھر وہ اپنے لشکر کے ایک مقررہ مقام پر جا کر ٹھہر گیا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے اُس پر نیزے سے حملہ کیا،دونوں نے ایک دوسرے پر نیزے سے وار کئے۔اور آخرکا رآپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے مار دیا۔پھر اُس ترکی سوار کا لباس پہن کر اُس کے مقام پر کھڑے ہو گئے،اور اُس کے بگل پر قبضہ کر لیا۔پھر دوسرا تک سوار نکلا،اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا،اور اُسے قتل کر کے اُسکی جگہ کھڑے ہو گئے،اور اُسکا بھی بگل لے لیا۔اور اس کے بعد جب تیسرا سوار نکلا،تو اُسے بھی قتل کر دیا۔ترکوں کا یہ قاعدہ تھا کہ وہ اُسوقت تک جنگ کے لئے نہیں نکلتے تھے،جب تک کہ یہ تینوں سوار بگل نہیں بجاتے تھے۔ترکی لشکر جب نکلے،اور انہوں نے اپنے تینوں سواروں کو قتل ہوا دیکھا،تو خاقان نے اِس سے بد شگونی لی،اور بولا؛”ہمارا یہاں قیام طویل ہو گیا ہے،اور یہ سوار ایسے مقام پر مارے گئے ہیں،جہاں کبھی انہیں نقصان نہیں پہنچا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا،اِس لئے ہمیں لوٹ جانا چاہیئے۔“اِس کے بعد ترکی فوج واپس چلی گئی۔

کسریٰ کا فرار

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی چالاکی سے ترکی فوج واپس چلی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دن چڑھا تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ترکی لشکر پڑاو¿ اُٹھا کر واپس جا رہا ہے تو انہیں بہت حیرت ہوئی۔مسلمانوں نے ترکوں کا تعاقب کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے انہیں منع کر دیا۔خاقان واپس آکر اپنے لشکر کے ساتھ بلخ میں مقیم ہو گیا تھا۔کسریٰ یزد گرد نے ترکوں کو مروزور میں چھوڑا ،اور خود لشکر لیکر مرو شاہ جہاں پہنچ کر حضرت حارث بن نعمان اور مسلمانوں کامحاصرہ کرلیا۔اور اِس دوران اپنا خاندانی خزانہ نکلواتا رہا۔جب کسریٰ نے پورا خزانہ نکلوا لیا،تو اُسے معلوم ہوا کہ خاقان ترکوں کے ساتھ واپس بلخ میں آگیا ہے۔اِسی لئے وہ بھی خزانہ لیکر ترکوں کے پاس جانے کی تیاری کرنے لگا۔فارسیوں نے اُس سے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟اُس نے کہا؛”میں ترکوں کے پاس چلا جاو¿ں گا،اور وہیں رہوں گا،یا پھر چین چلاجاو¿ں گا۔“فارسی (ایرانی) عوام نے اُس سے کہا؛”آپ ٹھہر جایئے ،یہ بری تجویز ہے۔اِس طرح آپ دوسری قوم کے پاس چلے جائیں گے،اور اپنی قوم اور اپنے وطن کو چھوڑ دیں گے؟اِس سے تو بہتر یہ تھا کہ آپ ہمیں مسلمانوں کے پاس لے جائیں۔وہ با وفا اور دین دار قوم ہے،اور یہ ہمارے ملک کے قریب رہتے ہیں۔ایسا دشمن جو ہمارے ملک کے قریب رہتا ہو،ہمیں اُس دشمن سے زیادہ محبوب ہے،جو دور کے ملک میں رہتا ہو۔اور جس کا کوئی دین اور ایمان نہ ہو،اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہو کہ وہ کتنے باوفا ہیں۔جب کسریٰ نے اُن کی بات نہیں مانی تو انہوں نے کہا؛”آپ ہمارے خزانے چھوڑ جائیں،تاکہ وہ ہمارے ملک میں رہے،آپ اسے نکال کر دوسرے ملک نہیں لے جاسکتے۔“جب فارسیوں نے دیکھا کہ کسریٰ نہیں مان رہا ہے،تو اُنہوں نے مسلمانوں کو خبر کردی،اور مسلمانوں کے ساتھ ملکر اُس کے لشکر پر حملہ کردیا۔کسریٰ کے محافظ دستے نے اُس کی حفاظت کی،اور وہ خزانہ چھوڑ کر فرارہو کر دریا عبور کر کے فرغانہ چلا گیا،اور وہیں ترکوں کے ساتھ رہنے لگا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں وہ وہیں رہا۔اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں واپس آیا۔انشاءاﷲ ہم وہاںاِس کا ذکر کریں گے۔ادھر فارسیوں نے تمام خزانے پر قبضہ کر لیا،اور حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو لاکر سب دے دیا۔مسلمانوں نے فارسیوں کو امان دے دی،اور فارسی امن و سکون سے رہنے لگے۔اور وہ سلاطین فارس دورِحکومت سے زیادہ خوش حال اور فارغ البال ہو گئے،کیونکہ مسلمانوں نے اُن کے ساتھ عدل و انصاف کا سلوک کیا،اور اُن کا ہر طرح سے خیال رکھا۔

سلطنت فارس کاخاتمہ

حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ نے ترکوں کے حاصل ہوئی فتح کی تفصیل اور مال غنیمت کا خمس خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کسریٰ یزد گرد کے چلے جانے کے بعد اُس کے اراکین سلطنت حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور تمام خزانہ دیکر صلح کرلی۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے خمس نکال کر باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا،مال ِغنیمت میں سے ہر مسلمان کو اتنا ہی حصہ ملا،جتنا جنگ قادسیہ میں ملا تھا۔اِس کے بعد حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ بلخ آئے،اور سرحد پر فوجی چوکیوں کی تعیناتی کر کے خود مرو روز میں قیام کیا،اور فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو بشارت نامہ لکھ کر خمس کے ساتھ بھیجا۔امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے مسلمانوں جمع کر کے فتح کی خبر سنائی،اور ایک پُر اثر تقریر کی،جس سے سامعین کے دل دہل گئے۔آخر میں آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آگاہ ہو جاو¿!بے شک آج مجوسیوں(فارسیوں،ایرانیوں،آگ کی پوجا کرنے والوں)کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔پس وہ اپنے ملک میں بالشت بھرزمین کے بھی مالک نہیں رہے،جس سے مسلمانوں کو ضرر پہنچا سکیں۔آگاہ رہو کہ اﷲ تعالیٰ نے تم کو اُن کی زمین،اُن کے ملک،اُن کے اموال اور اُن کے لڑکوں کا وارث و مالک تمہارے اعمال کو جانچنے کی غرض سے بنایا ہے۔پس تم لوگ اپنی حالت تبدیل نہیں کرنا،ورنہ اﷲ تعالیٰ تم سے حکومت چھین کر دوسروں کو دےدے گا۔مجھ کو اِس اُمت پر اِسی کا خوف ہے کہ اُن پر بھی وہی حالت طاری نہ ہو جائے،جو اُن سے پہلے والوں پر طاری ہوئی تھی۔اور اُن کاحشر بہت برا ہوا تھا۔“

22 ھجری کے متفرق واقعات

اِس سال خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ایک روایت کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال اِسی سال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اِس سال ۲۲ ہجری میں یزید بن معاویہ پیدا ہوا،جس کے دورِ حکومت میں حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اپنے مع اہل و عیال کے شہید کئے گئے۔اور عبد الملک بن مروان پیدا ہوا،جس کے دورِ حکومت میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید کئے گئے۔

23 ھجری

23 ھجری کا سال اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے لئے بہت ہی اہمیت کا سال ہے۔کیونکہ اِس سال خلیفۂ دوم امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ دنیا میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،قبر میں بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس میں ہیں،میدان حشر میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ میں رہیں گے۔اور جنت میں بھی سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہیں گے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دور خلافت میں سب سے زیادہ فتوحات ہوئی ہیں،اور اسلام بہت تیزی سے پھیلا ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ انشاءاﷲ ہم آگے تفصیل سے بیان کریں گے۔

فتح توج

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے فرمان کے مطابق سلطنت فارس کا خاتمہ ہو چکا تھا،اور اب وہ سلطنت اتنی برُی طرح سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی کہ پھر کبھی کھڑی نہیں ہوسکی۔لیکن ابھی بھی کچھ علاقے ایسے تھے،جو مسلمانوں کے قبضے میں نہیں آئے تھے۔اُن علاقوں کی طرف خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے کئی اطراف میں لشکروں کو روانہ فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بصرہ کے سپہ سالاروں کوختم ہوتی ہوئی سلطنت فارس کے مختلف علاقوں کی طرف جنگی مہم کے لئے روانہ کیا گیا۔اِن میں حضرت ساریہ بن زنیم بھی شامل تھے۔وہ لوگ اپنے لشکر لیکر مقررہ علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔اہل فارس ”توج“کے مقام پر اکٹھے ہو گئے تھے،مگر مسلمان سپہ سالاروں نے اُن کی طرف توجہ نہیں کی،اور ہر مسلمان سپہ سالار اُس مقام کی طرف روانہ ہوا،جو اُس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔جب فارسیوں کو اِس بات کا علم ہوا تو وہ اپنے اپنے علاقے کی مدافعت کے لئے منتشر ہو گئے،اور اُن کا اتحاد ٹوٹ گیا۔حضرت مجاشع بن مسعود اپنے لشکر کے ساتھ سابور اور ارد شیر خرہ کے مقامات پر پہنچے،پھر توج پہنچے تو وہاں مسلمانوں کا فارسیوں سے مقابلہ ہوا،جب تک اﷲ نے چاہا جنگ کرتے رہے،پھر اﷲ بزرگ و برتر نے مسلمانوں کے مقابلے میں اہل فارس کو شکست دی،اور مسلمانوں کو اُن پر مسلط کر دیا۔انہوں نے فارسیوں کا صفایا کر دیا ،اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔

فتح اصطخر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن ابی العاص کو لشکر دیکر ”اصطخر“کی طرف بھیجا۔اُن کا اہل اصطخر سے مقام”جور“پر سامنا ہوا،فریقین میں زبردست جنگ ہوئی ۔ اور جب تک اﷲ نے چاہاجنگ ہوتی رہی ،پھر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔اہل اصطخر شکست کھا کر بھاگنے لگے،اور مسلمانوں نے جیسے چاہا اُن کا قتل عام کیا۔پھر بھی بہت سے لوگ بھاگ نکلے۔پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص نے اہل اصطخر کو دعوت دی کہ وہ اگر چاہیں تو جزیہ ادا کر کے امان حاصل کر سکتے ہیں،اور ذمی بن کر سکون سے رہ سکتے ہیں۔اُن کے حاکم ”ہربز“نے مسلمانوں سے صلح کرلی،اور اہل اصطخر جزیہ دیکر رہنے لگے۔

شہرک کی بغاوت

مسلمانوں نے اصطخر فتح کر لیاتھا،لیکن خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت کے آخری دنوں میں انہوں نے بغاوت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں شہرک نے بغاوت کی ۔اور اُس نے اہل فارس کا بھڑکایا،اور عہد شکنی کی دعوت دی تو حضرت عثمان بن ابی العاص کو پھر سے بھیجا گیا۔اور ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا دردناک واقعہ پیش آگیا۔اِس لئے اِس جنگ کو ہم یہیں روک دیتے ہیں۔اور انشاءاﷲ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں یہیں سے شروع کریں گے۔

جنگ”فسا“اور”درابجرد“

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جن لشکروں کو سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں بھیجا تھا،اُن میں سے ایک حضرت ساریہ بن زنیم کو ”فسا“اور درابجرد“کی طرف بھیجا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ساریہ بن زنیم مسلمان مجاہدین کا لیکر ”فسا“اور ”بجرد“پہنچے تو وہاں اہل فارس کا ایک بڑا لشکر موجود تھا،دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ،اور زبردست مقابلہ ہو نے لگا۔کئی دن جنگ چلنے کے بعد” کردستان “سے اور کمک آگئی،اور ”کردوں“کا ایک بڑا لشکر اہل فارس کی امداد کے لئے آگیا۔اِس وجہ سے مسلمانوں کو بہت زیادہ پریشانی پیش آگئی،لیکن حضرت ساریہ بن زنیم بڑی چالاکی سے مسلمانوں کو لڑا رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ساریہ بن زنیم کے مقابلے میں فارسیوں(ایرانیوں) اور کردوں کی عظیم افواج جمع ہو گئیں۔اور مسلمانوں کو ایک عظیم جنگ اور بہت سے فوج کا اچانک سامنا کرنا پڑا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رات میں خواب دیکھا کہ حضرت ساریہ بن زنیم مسلمانوں کے ساتھ ایک صحراءمیں ہیں۔ اور دشمنوں سے جنگ کر رہے ہیں ،اور دشمن صحراءمیں مسلمانوں کوگھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور مسلمانوں کے پیچھے کچھ دور پر پہاڑ ہے،اور اگر مسلمان اُس پہاڑکے دامن میں آجائیں،تو وہ دشمنوں کے گھیرے میں نہیں آئیں گے۔

اﷲ نے میدان جنگ سامنے کر دیا

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھاتو آپ رضی اﷲ عنہ اﷲ کا اشارہ سمجھ گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔دوسرے دن آپ رضی اﷲ عنہ نے ”الصلاة الجامعة“کا اعلان کر وایا۔حتیٰ کہ وہ وقت بھی آگیا،جب آپ رضی اﷲ عنہ نے میدان جنگ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا،اُس وقت آپ رضی ا ﷲ عنہ منبر پر کھڑے خطاب فرما رہے تھے،اچانک آپ رضی اﷲ عنہ نے بلند آواز سے تین مرتبہ فرمایا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“پھر سامعین سے فرمایا؛”بے شک اﷲ کے بہت سے لشکر ہیں،شاید کوئی لشکر انہیں یہ بات پہنچا دے۔“راوی بیان کرتے ہیںحضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے الفاظ حضرت ساریہ تک پہنچا دیئے گئے۔اور انہوں نے اُس پر عمل کیا اور اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں پر فتح عطا فرمائی۔ایک اور روایت میں ہے کہ جمعہ کے روز حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک آپ رضی اﷲ عنہ نے بلند آواز سے تین مرتبہ فرمایا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“پس مسلمانوں نے پہاڑ کی آڑ لے لی،اور دشمن اُن پر ایک ہی طرف سے حملہ کر سکے،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،اور بہت سارا مال غنیمت حاصل ہوا۔حضرت ساریہ بن زنیم نے فتح کی خوش خبری اور ملا غنیمت کا خمس حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اور اُس میں ایک جوہرات بھری ہوئی ٹوکری خاص طور سے آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے بھیجی۔

امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی سادگی اور قناعت

حضرت ساریہ بن زنیم کا ایلچی فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس لیکر مدینۂ منورہ آیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب ایلچی فتح کی خوش خبری لیکر آیا تو دیکھا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہاتھ میں عصا پکڑے ہوئے مسلمانوں کو صفوں میں کھانا کھلاتے ہوئے پایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بیٹھ جاو¿“اور اسے نہیں پہچانا۔اُس شخص نے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ فارغ ہو گئے تو اپنے گھر کی طرف چلدیئے۔اور وہ شخص بھی پیچھے پیچھے چل دیا،آپ رضی ا ﷲ عنہ نے سمجھا کہ شاید ابھی اور بھوکا ہے۔اور اسے اپنے گھر لے آئے،اور کھانا منگایا،ایلچی نے دیکھا کہ وہ کھاناروٹی،تیل اور نمک ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کھاو¿“اور خود بھی کھانے لگے۔ایلچی نے کہا؛”میں حضرت ساریہ بن زنیم کا ایلچی ہوں ،اور فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کاخمس لایا ہوں۔“اور جوہرات سے بھری ٹوکری پیش کی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ واپس لے جاو¿،اور ساریہ سے کہنا کہ خمس نکال کر بھیج دیں ،اور باقی مجاہدین میں تقسیم کردیں۔

سینکڑوں کلو میٹر دور آواز سنی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ میں مسجد میں سے حضرت ساریہ بن زنیم کو حکم دیا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی آواز سینکڑوں کلومیٹر دور میدان جنگ میں حضرت ساریہ اور مسلمانوں نے سنی۔آج انسان نے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ ایجاد کیا ہے،جو سینکڑوں کلومیٹر دور کی تصویر اور آواز ہمیں سنا دیتے ہیں۔جب انسانوں کا حال ہے تو اﷲ تعالیٰ کیا کر سکتا ہے؟۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور جب اہل مدینہ نے حضرت ساریہ بن زنیم کے ایلچی سے فتح کے متعلق پوچھا تو اُس نے فتح کی تفصیل بتائی۔پھر انہوں نے کہا؛”کیا تم نے جنگ کے دوران کوئی آواز سنی تھی؟“اُس نے جواب دیا؛”ہاں !ہم نے ایک آواز کو یہ تین بار کہتے سنا؛”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“اور اُس وقت ہم دشمنوں کے نرغے میں تھے۔لیکن حضرت ساریہ بن زنیم نے فوراًہمیں پہاڑ کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا۔اور ہم نے پہاڑ کے دامن میں جمع ہو کر جنگ کی تو اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرما دی۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ساریہ بن زنیم کو ایک لشکر دیکر روانہ کیا۔پھر ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے تین مرتبہ ”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“فرمایا۔لشکر کا ایلچی آیا اور اُس نے فتح کی خوش خبری دی،اور کہا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ہم شکست کے قریب تھے کہ ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز تین مرتبہ سنی”اے ساریہ پہاڑ کی طرف۔“تم ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کے ساتھ لگا لیں،اورشدید حملہ کیا تو اﷲ نے دشمنوں کو شکست دے دی۔“پھر ایلچی بولا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کیا آپ رضی اﷲ عنہ ہی یہ آواز دے رہے تھے؟“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......؟


33 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


33 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ


تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 


قسط نمبر 33


فتح کرمان، فتح سجستان یا سیستان، فتح مکران، فتح بیروذ، قاتل کی دھمکی، قاتلانہ حملہ، نماز کی فکر، مجلس شوریٰ(انتخابی مجلس) کا تقرر، خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ کے لئے ہدایات، رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کی درخواست، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی تدفین، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے انتظامات، نظام خلافت، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر، حاکموں(گورنروں) کے لئے سخت ہدایات، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی


فتح کرمان


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں الگ الگ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے ایک لشکر حضرت سہیل بن عدی کو دیکر ”کرمان“کی طرف بھیجا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کرمان کی طرف بھیجے لشکر کے سپہ سالار حضرت سہیل بن عدی تھے،اور وہ ایک لشکر لیکرکرمان پہنچے۔ اس کے ہراول (مقدمة الجیش)کے سپہ سالار بشیر بن عُمر عجلی تھے۔پیچھے سے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان بھی لشکر لیکر پہنچ گئے۔کرمان والوں نے ”فقض“وغیرہ سے مدد طلب کر کے مقابلہ کیا۔مسلمانوں نے چاروں طرف سے گھیر کر جنگ شروع کردی،دوران جنگ کرمان کا حاکم ”مر زبان“حضرت بشیر بن عُمر عجلی کے ہاتھوں مارا گیا۔جس کی وجہ سے دشمنوں میں بھگڈر مچ گئی،اور میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اور حضرت بشیر بن عُمر نے ”جے رفت“اور ”سیر ذاد“تک دشمنوں کا تعاقب کیا،اور مارتے چلے گئے۔بے شمار اونٹ اور بکریاں مال غنیمت کے طور پر ہاتھ آئیں۔


فتح سجستان یا سیستان


حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو سجستان یا سیستان کی طرف لشکر لیکر روانہ ہونے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔”سجستان“کو ”سیستان“بھی کہتے ہیں۔یہ ملک حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا۔جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت عبد اﷲ بن عُمیر آگئے تھے۔یہاں کے رہنے والے سیستان سے باہر نکل کر ایک خفیف جنگ لڑ کر بھاگے۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ برابر بڑھتے گئے،اور ”زرنج“پہنچ کر محاصرہ کرلیا۔یہ سجستان کا ایک اور اہم مقام ہے،۔چند دنوں کے محاصرہ کے بعد محصورین نے صلح کی درخواست کی،جو مسلمانوں نے منظور کر لی۔سجستان ملک خراسان سے بھی بڑا ہے،اور اس کی سرحدیںدور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔اِس ملک پر قبضہ کرنے سے قندھار سے لیکر ممالک ترک تک اور دوسری قوموں کے ممالک کی فتح کی کنجی ہاتھ آگئی،اور وقتاً فوقتاً اُن پر مسلمان حملے بھی کرتے رہے۔


فتح مکران


حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تمام سپہ سالار اپنے اپنے علاقے میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اسلامی لشکروں کے سپہ سالاروں میں سے حضرت حکم بن عمرو تغلبی نے ۳۲ ہجری میں ”مکران“کا قصد کیا۔اُن کے بعد حضرت شہاب بن مخارق،حضرت سہیل بن عدی،اور حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان بھی اپنے اپنے لشکر لیکر روانہ ہوئے۔سب نے ”دوین“پہنچ کر لشکروں کو مرتب کیا،اور مکران کا حاکم ”راسل“بھی اپنی فوج لیکر مسلمانوں کے سامنے آگیا۔اُس کی امداد کے لئے ”سندھ“(حالیہ پاکستان)سے بھی ایک بڑا لشکر ساتھ میں تھا۔جنگ شروع ہوئی ،اور مسلمانوں نے ایک بہت بڑی جنگ کے بعد راسل کو شکست دیکر مکران پر قبضہ کر لیا۔حضرت حکم بن عمرو تغلبی نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس دربار خلافت میں روانہ کیا۔قاصد حضرت صحار عبدی مدینہ منورہ آئے،اور تمام حالات تفصیل سے بیان کئے۔امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سہیل بن عدی اور حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کو لکھ کر حکم دیا کہ مسلمان جہاں تک پہنچے ہیں،وہیں رک جائیں۔اور جو بلاد اس وقت تک فتح ہو چکے ہیں،انہیں پر اکتفا کی جائے۔


فتح بیروذ


امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کے مختلف علاقوں میں الگ الگ لشکر روانہ فرمائے تھے۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے جس وقت سپہ سالاروں کو ایک ایک لشکر دے کرمقررہ سمتوں کی طرف روانگی کا حکم دیا تو یہ لوگ حکم پاتے ہی بلاد فارس(ایران)کی طرف بڑھے۔اسی زمانہ میں حفاظت کی غرض سے یہ انتظام کر دیا تھاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کثیر لشکر کا سپہ سالار بنا کر حدود ِ بصرہ پر قیام کرنے کا حکم دیا تھا۔”نہر تیری“اور ”مناور“کے درمیان مقام”بیروز“میں اہل اہواز کی مشہور قوم ”کرد“سالمی فتوحات کے سیلاب کی روک تھام کی غرض سے جمع ہوئی تھی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے لشکر کے ساتھ ”بیروذ“پر حملہ کر دیا۔فریقین نے جی توڑ کر مقابلہ کیا،حضرت مہاجر بن زیاد اِس جنگ میں شہید ہوگئے۔ایک بہت بڑی خونریز جنگ کے بعد مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی۔کردوں نے بھاگ کر قالعہ میں پناہ لی،اور قلعہ بند ہوکر لڑائی جاری رکھی۔اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر پر اپنے بھائی حضرت ربیع بن زیاد کو نائب مقرر کر کے چند دستہ لشکر لیکر اصفہان گئے،اور محاصرہ کر لیا۔جب وہ فتح ہو گیا تو بصرہ واپس آئے۔اور اِس عرصہ میں حضرت ربیع بن زیاد نے بیروذ کو فتح کر لیا تھا،اور مال غنیمت جمع کر کے اس کا خمس نکال کر مجاہدین میں تقسیم کردیا۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری دربارِ خلافت میں روانہ کر دیا۔


قاتل کی دھمکی


مسلمانوں نے جب نہاوند میں فتح حاصل کی،تو اُس جنگ میں بہت سے فارسیوں یعنی مجوسیوں کو قید کر لیا گیا تھا۔اِن قیدیوں میں بد بخت فیروز بھی تھا،اس کی کنیت ابولوالواةتھی۔اِسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے قید کیا تھا یا خرید لیا تھا،اور مدینہ¿ منورہ لیکر آگئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب نہاوند کے قیدی لائے گئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کا غلام ابو لوالواةفیروز جب کسی بچے کو دیکھتا تھاتو اُس کے سر پر ہاتھ پھرتا تھااور روتا تھا،اور کہتا تھا؛”حضرت عُمر(رضی اﷲ عنہ ) نے میرا کلیجہ کھا لیا ہے۔“ایک دن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بازار میں گشت کر رہے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو لوالواةملا،وہ عیسائی تھا،وہ بولا؛”اے امیر المومنین (رضی اﷲ عنہ)!آپ میرے مالک مغیرہ بن شعبہ(رضی اﷲ عنہ ) سے میری سفارش کر دیں،کیونکہ وہ مجھ سے میری طاقت سے زیادہ خراج لیتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم پر کتنا خراج ہے؟“وہ بولا؛”روزآنہ دو درہم۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے پوچھا؛”تمہارا پیشہ کیا ہے؟“وہ بولا؛”بڑھئی(مستری)ہوں،اور نقاش اور لوہار بھی ہوں۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”چونکہ تم کئی کام کرتے ہو،اِس لئے تمہارا خراج زیادہ نہیں ہے۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایسی چکی بنا سکتے ہو،جو ہوا سے چلے اور اناج پیس دے؟“اُس نے کہا؛”ہاں !میں بنا سکتا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پھر تم میرے لئے ایسی چکی بنادو۔“وہ بولا؛”اگر میں زندہ رہاتو آپ کے لئے ایسی چکی بناو¿ں گا،جس کا چرچا مشرق و مغرب میں رہے گا۔“یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس غلام نے مجھے دھمکی دی ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ واپس آگئے۔


حضرت کعب احبار کی پیشن گوئی


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں دوسرے دن حضرت کعب احبار حاضر ہوئے،اور پیشن گوئی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دوسرا دن ہوا تو حضرت کعب احبار نے آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میرا خیال ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا تین دن میںانتقال ہو جائے گا۔“(حضرت کعب احبار بہت بڑے یہودی عالم تھے،اور چند سال پہلے اسلام قبول کیا تھا)امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“وہ بولے؛”مجھے اﷲ بزرگ وبرتر کی کتاب توریت میں یہ بات لکھی نظر آئی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تمہیں عُمر بن خطاب کا نام بھی توریت میں ملا ہے؟“وہ بولے؛”آپ رضی اﷲ عنہ کا نام تو نہیں ہے،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کا حلیہ اور صفت ضرور موجود ہے۔اور اِس بات کا پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔“ راوی کا بیان ہے کہ اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کو کوئی بیماری اور تکلیف نہیں تھی۔دوسرے دن حضرت کعب آئے،اور بولے؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ایک دن گذر گیا ہے،اور دو دن باقی ہیں۔“پھر اگلے دن آکر بولے؛”دودن گذر گئے،اور صرف ایک دن باقی ہے،اب آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی صبح تک ہے۔“


قاتلانہ حملہ


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فیروز ابولوالواةبہت شدید دشمنی رکھتا تھا،اورپہلے سے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے خلاف کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،تیسرے دن فجر کی نماز کے وقت وہ مسجد میں چھپ گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اگلی صبح ہوئی تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فجر کی نماز کے لئے نکلے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کے لئے آدمی مقرر کر رکھے تھے۔جب صف بندی ہو گئی،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے تکبیر کہہ کر نماز پڑھانی شروع کر دی۔تب اُس وقت ابو لوالواة نمازیوں کی صفوں میں گھس گیا،اُس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔اُس کے دونوں طرف تیز دھاروں کے پھل تھے،اس کا دستہ درمیان میں تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز پڑھا رہے تھے،اُس بد بخت نے آپ رضی اﷲ عنہ پر خنجر سے وار کیا،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ اُس نے دوسرا وار کیا،لیکن جب دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھا رہے ہیںتو مسلسل وار کرتا چلا گیا۔اُس بد بخت نے آپ رضی اﷲ عنہ پر چھ وار کئے،تب تک آپ رضی اﷲ عنہ کا خون زیادہ بہہ چکا تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ چکرا کر گرنے لگے،تو فرمایا؛”حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں۔“اور گر گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے باقی کی نماز مکمل کی۔نماز پوری ہونے تک وہ بد بخت ابولوالواة مسجد سے باہر نکلنے کے لئے تیرہ (۳۱) نمازیوں کو زخمی کر چکا تھا۔لیکن مسجد سے باہر نہیں نکل پایاتھا،نماز مکمل ہونے کے بعد اُسے گرفتار کر لیا گیا،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُٹھا کر گھر پر لایا گیا۔اِس دوران زخمی حضرت کلیب بن ابی بکیر لیثی شہید ہو چکے تھے۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بے ہوش تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو پیچھے سے کھینچ کر اپنی جگہ کھڑا کر دیا،اور خود صدمہ¿ زخم سے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اِس حالت میں نماز پڑھائی کہ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ مسجد کے فرش پر تڑپ رہے تھے۔ابو لوالواةمسجد سے نکلنے کے لئے کئی نمازیوں کو زخمی کر چکا تھا،اور حضرت کلیب بن ابی بکیر لیثی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر چکا تھا۔بالآخر وہ گرفتار کر لیا گیاتو اُس نے خود کشی کرلی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور عجمی کافر خنجر لیکرواپس نکلنے لگا،اور وہ جس نمازی کے پاس سے گذرتا ،اُس پر وار کردیتا تھا۔حتیٰ کہ اُس نے تیرہ نمازیوں پر وار کئے،جن میں سے چھ نمازی شہید ہو گئے۔نماز مکمل ہونے کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے اُس پر اپنا کوٹ اُتار کر پھینکا تو اُس نے خود کشی کر لی۔اﷲ اُس بد بخت پر لعنت کرے۔


نماز کی فکر


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بے ہوشی کے عالم میں اُٹھا کر گھر لایا گیا۔جب ہوش آیا تو حملہ آور کے بارے میں دریافت فرمایا۔جب بتایا گیا کہ ایک عیسائی یا مجوسی نے حملہ کیا،تو اﷲ کا شکر ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہیں ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُٹھا کر اُن کے گھر لایا گیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے زخموں سے خون جاری تھا،اور یہ واقعہ سورج نکلنے سے پہلے کا ہے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ کو ہوش آتا پھر آپ رضی اﷲ عنہ بے ہوش ہو جاتے۔پھر لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس نماز کا ذکر کرتے تو آپ رضی اﷲ عنہ ہوش میں آجاتے،اور فرماتے ؛”بہت اچھا!اور اُس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے،جو نماز نہیں پڑھتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ اُسی وقت نماز پڑھتے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حملہ آور کے بارے میں دریافت فرمایاکہ وہ کون ہے۔لوگوں نے بتایا کہ ابو لوالواة ہے،یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اُس اﷲ کا شکر ہے ،جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں کروائی جو ایمان کا دعویدار ہے،بلکہ اس کے ہاتھوں ہوئی جس نے اﷲ کو ایک سجدہ بھی نہیں کیا۔“


مجلس شوریٰ(انتخابی مجلس) کا تقرر


حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی یہ کیفیت تھی کہ ہوش میں آتے ،کچھ دیر ہوش میں رہنے کے بعد خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے غنودگی طاری ہو جاتی یا غشی آجاتی یا بے ہوش ہو جاتے تھے۔لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس کیفیت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کا خیال تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر مسلمان آپ رضی اﷲ عنہ کا اُٹھا کر گھر لے آئے،جہاں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بلوایا،اور فرمایا؛”میں آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔“انہوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین !کیاآپ رضی اﷲ عنہ اس(خلیفہ نامزد کرنے )کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟“(خلیفہ¿ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا)آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”نہیں۔(بلکہ میں چھ لوگوں کو نامزد کروں گا،اُن میں سے کسی ایک کو چُن لینا)“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اﷲ کی قسم میں اس میں شامل نہیں ہوں گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ ذرا صبر کریں،یہاں تک کہ میں اُن لوگوں سے مشورہ کرلوں ،جن سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ساری زندگی خوش رہے۔“پھر فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ حضرت علی بن ابی طالب،حضرت عثمان بن عفان،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہم کو بلا لایئے۔“جب یہ سب لوگ آگئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہم اپنے بھائی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کاتین دن انتظار کرنا(غالباً وہ کسی سفر پر گئے ہوئے تھے)اگر وہ آجائیں(تو انہیں مشورے میں شامل کر لینا)ورنہ اپنے معاملے(خلیفہ چننے )کا خود فیصلہ کر لینا۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بعد خلافت کا مسئلہ اُن چھ آدمیوں کے مشورے سے طے پائے گا،جن سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وصال کے وقت راضی تھے۔اور وہ چھ آدمی یہ تھے،حضرت علی بن ابی طالب،حضرت عثمان بن عفان،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت عبد الرحمن بن عوف،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہم ۔


خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ کے لئے ہدایات


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے چھ بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی مجلس ِشوریٰ بنادی۔اور اُن چھ لوگوں کو حکم دیا کہ تین دن کے اندر اندر تم لوگ آپس میں مشورہ کر کے کسی ایک کو خلیفہ چُن لینا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سوم کو ہدایات دیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجلس شوریٰ کے ارکان سے فرمایا؛”اے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ بن جاو¿ تو بنو ہاشم کو لوگوں کے سروں پر مسلط نہیں کردینا۔اے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں اﷲ کو واسطہ دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ بن جاو¿ تو بنو ابو معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہیں کر دینا۔اے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ !اگر تم خلیفہ بنادیئے جاو¿ تو تم اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہیں کرنا۔اب تم سب کھڑے ہو جاو¿،اور آپس میں مشورہ کر کے اپنے معاملے کا تصفیہ کر لو۔اُس وقت تک مسلمانوں کو حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نماز پڑھائیں گے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ عنہ کو بلوایا،اور فرمایا؛”تم اِن کے دروازے پر کھڑے ہو جانا،اور کسی کو ان کے پاس جانے نہیں دینا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”میں اپنے بعد کے آنے والے خلیفہ کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ انصارکے ساتھ حسن سلوک کرے،جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام کی ہر طرح سے مدد کی۔اُن کے نیکوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے،اور بُروں سے در گذر کیا جائے۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو عربوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ چونکہ وہ اسلام کی بنیاد ہیں،اِس لئے اُن کے صدقات میں سے اُن کا حق وصول کر کے اُن کے غریبوں کو دیا جائے۔اورمیں اپنے بعد کے خلیفہ سے وصیت کرتا ہوں کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذمیوں کے معاہدات کو پورا کریں۔اے اﷲ تعالیٰ!میں نے اپنا پیغام پہنچا دیاہے ،اور میں نے آنے والے خلیفہ کو صاف ستھرے حالات میں چھوڑا ہے۔“


رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کی درخواست


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی تمنا تھی کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اِس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی ۔(کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ”حجرہ¿ عائشہ“میں دفن ہیں۔)انہوں نے فرمایا؛”یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی،لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مجھ سے زیادہ اِس جگہ کے حقدار ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!مجھ پر کس نے حملہ کیا ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”اے ابوجان!آپ رضی اﷲ عنہ پرحضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کے غلام نے حملہ کیا ہے۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛” اﷲ کا شکر ہے کہ میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہورہی ہے،جس نے ایک بھی سجدہ کیا ہو۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!تم اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جاو¿۔اور اُن سے درخواست کرو کہ مجھے اجازت دیں کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں دفن ہوجاو¿ں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ (بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)!اگر یہ لوگ(مجلس شوریٰ کے چھ ارکان)اختلاف کریںتو تم اکثریت کے ساتھ رہنااور دونوں طرف برابر یعنی تین تین ہوںتو تم اُن کے ساتھ رہنا،جس میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ ہوں۔


خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی تدفین


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اگلے خلیفہ کا انتظام کردیا،تب عام لوگوں کو ملنے کی اجازت دی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بیٹے عبداﷲ(بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ)اب تم لوگوں کو آنے کی اجازت دے دو۔“اجازت ملتے ہی مہاجرین اور انصار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم داضل ہوئے،اور سلام کرنے لگے۔اور لوگوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کسی طبیب(ڈاکٹر) کو بلوا لیں۔“حضرت حارث بن کعب طبیب رضی اﷲ عنہ کو لایا گیا۔انہوں نے دوا پلائی تو وہ ذخموں کے راستے نکل گئی۔پھر آپ رضی ا ﷲ عنہ کو دودھ پلایا گیا تو وہ بھی سفید رنگ کی حالت میں زخموں سے نکل گیا۔طبیب نے کہا؛”یہ اِن زخموں سے شہید ہو جائیں گے۔“لوگوں نے عرض کیا؛”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!(خلافت کے بارے میں)وصیت کردیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں فارغ ہو چکا ہوں۔“ رات میں آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے،اور صبح آپ رضی اﷲ عنہ کا جنازہ اُٹھایا گیا۔حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور ”حجرہ¿ عائشہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔اور ارکان شوریٰ کے پانچ ممبران نے قبر میں اُتارا۔چھٹے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ موجود نہیں تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی مدت خلافت دس سال پانچ مہینے یا چھے مہینے رہی۔اورآپ رضی اﷲ عنہ ذی الحجہ ۳۲ ہجری کے آخری دنوں میں یا ایک محرم الحرام ۴۲ ہجری میں شہید ہوئے۔


خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے انتظامات


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اﷲ کے قانون کو ہر طرح سے نافذ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں،جنہیں ”امیر المومنین “کہا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی اسلامی تا ریخ ہجری کی شروعات کی،اور مسلمانوں کو تراویح پر جمع کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں ،جنہوں نے رات کو مدینہ¿ منورہ میں پاسبانی کی،اور درہ اُٹھایا۔اور اس سے تادیب کی،اور شراب نوشی کی سزا میں اسی(۰۸)کوڑے لگائے۔اور روزینے جاری کئے،اور شہر تعمیر کئے،اور فوجوں کو منظم کیا،اور ٹیکس ساقط کیا۔اور رجسٹر بنائے،اور عطیات پیش کئے،اور قاضی مقرر کئے،اور ضلعے بنائے۔جیسے کہ سواد،اہواز،جبال،اور فارس وغیرہ۔اور پورا ملک شام ،الجزیرہ،موصل،میا فارقین،آمد،آرمینیہ،ملک مصر اور اسکندریہ فتح کیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت مسلمانوں کے لشکر ”بلادرے“پر چڑھائی کئے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں ملک شام میں ”سلطنت روم“ میںیرموک، بصریٰ، دمشق، اردن،بیسان،طبریہ،جابیہ،فلسطین،رملہ،عسقلان،غزہ،سواحل اور ”بیت المقدس“کو فتح ہوا۔اور الجزیرہ اور”سلطنت فارس“ میں، حران، رہا، رقہ، نصیبن ،راس عین،شمشاط،عین وردہ،دیار بکرربیعہ، بصرہ،بلاد موصل،اور تمام آرمینیہ فتح ہوا۔اس کے علاوہ سلطنت فارس میں ملک عراق میں قادسیہ،حیرہ،دریائے سیر،ساباط، مدائن،فرات،دجلہ،ابلہ،اہواز،نہاوند،ہمدان ، رے ، قومس ، خراسان، اصطخر،اصبہان یا اصفہان، سوس، مرو، نیشاپور، جرجان، اور آذربائیجان وغیرہ فتح ہوا۔


نظام خلافت


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں فتوحات بہت زیادہ ہوئیں،اور مملکت اسلامیہ بہت وسیع ہوگئی۔اِس کا حدودِاربعہ مکہ¿ مکرمہ سے شمال کی طرف ایک ہزار چھتیس (۶۳۰۱)میل تھا۔مکہ¿ مکرمہ کے مشرق میں ایک ہزار ستاسی(۷۸۰۱)میل تھا۔جنوب میں چار سو تراسی(۳۸۴) میل تھا۔اور مغرب میںجدہ تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مملکت اسلامیہ میں صوبے اور ضلع بنا کر بہترین انتظامات کئے۔ملک عرب میںمکہ¿ مکرمہ ،مدینہ¿ منورہ، طائف، یمن اور بحرین کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک شام میں دمشق،حمص،ایلیاہ(بیت المقدس) رملہ،اور فلسطین کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک مصر میں زیریں حصہ میں پندرہ ضلع بنائے،اور بالائی حصہ میں اٹھائیس ضلع بنائے۔ملک عراق میں الجزیرہ،بصرہ ،کوفہ اور دوآبہ کو صوبے یا ضلع بنائے۔ملک ایران میں مدائن ،خراسان،آذربائیجان ،فارس،آرمینیہ،خوزستان اور کرمان کو صوبے یا ضلع بنائے۔ ہر صوبہ یا ضلع میں گورنر(حاکم) مقرر فرمائے،جن پرملکی نظم و نسق قائم رکھنے کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ہر صوبہ یا ضلع میں سات عہدے دار یا ذمہ دار ہوتے تھے۔(1) گورنر،جو صوبہ یا ضلع کا حاکم ہوتا تھا(2)کاتب یعنی حکومت کے تمام معاملات لکھنے والا۔(3) کاتب دیوان(4)خراج یا جزیہ وصول کرنے والا(5)صاحب احداث یعنی پولیس کا اعلیٰ افسر(6)صاحب بیت المال یعنی خزانچی(7)قاضی یعنی سپریم کورٹ کا جج۔اِن سب کا تقرر خود حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کرتے تھے۔اور ہر کسی کو یہ احساس دلاتے تھے کہ اُسے اﷲ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔


رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر


خلیفۂ دوم حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئی اعزازات عطا فرمائے ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وزیر ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ” میری اُمت میں اﷲ کے دین کے بارے میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سب سے سخت گیر ہیں۔“اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہیں،اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہیں۔آسمان والوں میں سے جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام ہیں۔اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ہیں۔اور یہ دونوں بطور سمع و بصر کے ہیں۔“اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”بے شک شیطان حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ڈرتا ہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری اُمت کے سب سے ”رحیم “انسان حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں۔اور اﷲ کے دین کے بارے میں سب سے زیادہ”سخت گیر“انسان حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں۔“


حاکموں(گورنروں) کے لئے سخت ہدایات


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اﷲ کے دین کے معاملے میں بہت سخت تھے،اور ایسی اُمید وہ اپنے گورنروں(حاکموں) سے بھی رکھتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب کسی کو گورنر(حکم) مقرر کرتے تھے تو اُس کے لئے ”عبد “ لکھتے تھے۔اور اِس پر مہاجر صحابہ کے ایک گروہ کی گواہی دلواتے تھے،اور یہ شرط عائد کرتے تھے کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہو گا۔اور بہت ہی نفیس کھانے نہیںکھائے گا،اور باریک لباس نہیں پہنے گا۔اور ضرورت مندوں کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے گا،اور اگر اُس نے اِن میں سے کسی بھی ہدایت کی خلاف ورزی کی تواُس پر سزا واجب ہو جائے گی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔گورنروں کی تقرری کے وقت یہ عہد ضرور لیا جاتا تھا۔(۱)ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہونا۔(۲)باریک کپڑے نہیں پہننا ۔ (۳) چھنا ہوا آٹا نہیں کھانا۔(۴)دروازے پر دربان نہیں رکھنا (۵) اہل حاجت کے لئے ہمیشہ دروازے کو کھلا رکھنا۔گرونروں کو تمام فرائض سے تفصیل سے واقف کرایا جاتا تھا۔ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے خطبے میں گورنروں سے فرمایا؛”آگاہ ہو جاو¿کہ میں نے تمہیں حکمراں اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجا ہے،بلکہ امام بنا کر بھیجا ہے کہ لوگ تم سے ہدایت پائیں۔تم لوگ عام مسلمانوں کے حقوق ادا کرواور ان کو ذدو کوب نہ کروکہ وہ ذلت محسوس کریں،اور نہ ہی اُن کی بے جا تعریف کرو،کہ وہ غلطی میں پڑیں۔اور نہ اُن کے لئے اپنے دروازوں کو بند کرو کہ زبردست کمزور کو ستائیں۔اور نہ ہی اُن سے کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح دو کہ یہ اُن پر ظلم کرنا ہے۔تمام گورنروں کو حج کے دنوں میں حاضر ہونے کا حکم تھا۔اور زمانہ¿ حج میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ عوام سے یہ دریافت کرتے کہ اگر انہیں اپنے گورنر(حاکم )سے کوئی شکایت ہو تو بتائے۔


خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی سادگی


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ انتہائی سادہ زندگی گذارتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کپڑے پر دونوں کندھوں کے درمیان چار پیوند لگے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی تہبند میں چمڑے کے پیوند لگے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی چادر میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حج میں سولہ دینار خرچ کئے،اور اپنے بیٹے سے فرمایا؛”ہم نے فضول خرچی کی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ کسی چیز کا سایہ نہیں لیتے تھے،ہاں اپنی چادر کو درخت پر ڈال کر اس کے نیچے سایہ لیتے تھے۔،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس کوئی خیمہ نہیں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا فرش مینڈھے کی اون کا تھا،اور جب اترتے تھے تو وہی آپ رضی اﷲ عنہ کا بچھونا ہوتا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ چھال سے بھرا ہوا ایک تھیلہ رکھتے تھے،اور وہی آپ رضی اﷲ عنہ کا تکیہ ہوتا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک چادرکھردرے کپڑے کی تھی،جو بوسیدہ ہو چکی تھی۔


بچوں کا خیال


حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ عوام کی خدمت کے لئے ہمہ وقت حاضر رہتے تھے،اور کوشش کرتے تھے کہ عوام کو ہر طرح کی سہولت ملے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مدینہ¿ منورہ میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا،اُس میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔انہوں نے نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب قیام کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”کیاآپ رضی اﷲ عنہ رات کو ان کی حفاظت کر سکتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا؛”ہاں“پس دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کی حفاظت کرتے اور نماز پڑھتے رات گزاری۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس کی طرف گئے۔اور اُس کی ماں سے فرمایا؛”اﷲ سے ڈر ،اور اپنے بچے سے حسن سلوک کر۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے۔کچھ دیر بعد پھر بچے کے رونے کی آواز سنی تو دوبارہ گئے،اور سمجھا کر آگئے۔لیکن پھر کچھ دیر بعد بچہ رونے لگاتو آپ رضی ا ﷲعنہ اُس عورت کے پاس گئے،اور فرمایا؛”تم بہت بُری ماں ہو،میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بچے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔“اُس عورت نے کہا؛”اے اﷲ کے بندے!میں اِس کا دودھ چھڑا رہی ہوں ،اسی لئے یہ رو رہا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیوں؟“اُس عورت نے کہا؛”وہ اِس لئے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قاعدہ ہے کہ جب بچے کا دودھ چھڑا دیا جائے تواُس کا روزینہ(وظیفہ)جاری کیا جائے۔میں بہت غریب عورت ہوں،وظیفے سے میری کچھ مدد ہو جائے گی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے پوچھا؛”بچہ کتنا بڑا ہے؟“اُس عورت نے بتایا کہ اتنے ماہ کا ہے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اسے اس کی مدت پوری ہونے تک دودھ نہ چھڑاو¿۔“اور جب صبح آپ رضی اﷲ عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی تو رونے کے باعث واضح قرا¿ت نہیں کر سکے۔نماز مکمل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”عُمر (رضی اﷲ عنہ) کی شدت نے مسلمانوں کے نہ جانے کتنے بچوں کو تکلیف میں مبتلا کیا ہوگا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے منادی کو اعلان کرنے کا حکم دیا کہ اپنے بچوں کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کرو،امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے بچہ پیدا ہوتے ہی اُس کا روزینہ مقرر کر دیا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ بات لکھ کر تمام گورنروں کو بھی بھیج دی۔


احساس ذمہ داری


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ اُن کے دورِخلافت میں عوام کو ہر طرح سکون آرام اور سہولت میسر ہو۔ورنہ کہیں ایسانہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ناراض ہوجائیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم فرماتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اکثر راتوں میں اُٹھ کر گشت کرتے تھے،اور یہ دیکھتے تھے کہ کہیں کوئی تکلیف یا پریشانی میں تو نہیں ہے۔ایک دن ہم گشت پر تھے،کہ ہم نے دیکھا کہ ایک نسبتاً اونچے مقام پر آگ جلنے کی روشنی دکھائی دی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم ! مجھے لگتا ہے کہ کوئی قافلہ آکر وہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ تحقیق کے لئے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ خیمے لگے ہیں،اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔اور ایک کنارے خیمے کے باہر ایک عورت چولہے پر آگ جلائے کچھ پکا رہی ہے،اور اُس کے بچے رو رہے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اسلام علیکم !اے روشنی والو۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے ”اصحاب النار“(آگ والو) نہیں فرمایا۔اُس عورت نے سلام کا جواب دیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیاہم قریب آسکتے ہیں؟“وہ عورت بولی؛”اگر شرافت کے ساتھ آنا چاہتے ہو تو آجاو¿۔“اُس کے قریب آکر فرمایا؛”کیاحال ہے؟“اُس نے کہا ”بہت برا حال ہے،رات اور سردی کی وجہ سے ہمیں یہاں پڑاو¿ ڈالنا پڑا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟“اُس عورت نے کہا؛”یہ بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں،اور میرے پاس اِن کو کھانے کے لئے دینے کو کچھ نہیں ہے۔میں یونہی ہینڈیا چڑھائے ہوئے ہوں کہ بچوں کو تسلی رہے کہ کچھ پک رہاہے۔اور اِسی اُمید میں انہیں نیند آجائے۔بہر حال اﷲہی ہمارے اور امیر المومنین کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ تم پر رحم فرمائے،عُمر کو تمہاری حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟“وہ بولی؛”وہ ہم پر حکومت کرتے ہیں،اور ہم سے غافل ہیں۔“اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم ذرا انتظار کرو۔“اور مجھے ساتھ لیکرتیزی سے ”بیت المال “میں آئے،اور وہاں سے ایک آٹے کی بوری نکالی،اور ایک تیل کی کپی لی،اور مجھ سے فرمایا؛”اے اسلم !اسے میری پیٹھ پر لاد دو۔“میں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اسے میں اُٹھا لیتا ہوں۔“اور جب میں نے اُٹھانے پر بار بار اصرار کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم! کیا قیامت کے دن تم میرے گناہوں کا بوجھ بھی اُٹھاو¿ گے؟یہ بوجھ مجھے ہی اُٹھانے دو،ورنہ جب اﷲ تعالیٰ عُمر (رضی اﷲ عنہ)کی پیشانی کے بال پکڑ کر پوچھے گا، تو عُمر کیا جواب دے گا؟“لہٰذا وہ بوری میںنے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی پیٹھ پر لاد دی،اور ہم اُس عورت کے پاس پہنچے۔آپ رضی اﷲ عنہ آٹا نکال کر گوندھنے لگے،اُس عورت نے کہاکہ میں کرتی ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا؛”نہیں مجھے کرنے دو۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے روٹی پکائی ،اور چولہے میں پھونکے مارتے تھے،تو دھواں آپ رضی اﷲ عنہ کی گھنی داڑھی میں سے نکلتا تھا۔اور جب شوربہ بھی بن گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے عورت اور بچوں کو کھانا دیا،اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔اُس عورت نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دعائیں دیں،اور بولی؛”اﷲ تعالیٰ آپ (رضی اﷲ عنہ) کا بھلا کرے۔امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ سے زیادہ تو آپ اِس کام(خلافت) کے حقدار ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اچھی بات کہنا،جب تم امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس آو¿ گی تو انشاءاﷲ مجھے وہاں موجود پاو¿ گی۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ کچھ دور جا کر بیٹھ گئے۔میں آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کر رہا تھا،لیکن وہ بالکل خاموش بیٹھے تھے۔پھر جب انہوں نے دیکھا کہ بچے کھیل رہے ہیں،اور ہنس رہے ہیں،تو مسکرانے لگے۔پھر جب وہ سو گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کا شکر ادا کیا،اور کھڑے ہوئے،اور مجھے چلنے کا اشارہ کیا۔واپسی میں آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اسلم!وہ بھوک کی وجہ سے رو رہے تھے،اور جاگ رہے تھے۔“


ہر وقت عوام کی خدمت کے لئے تیار


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہر وقت عوام کی خدمت کے لئے تیار رہتے تھے۔اور ضرورت پڑنے پر عوام کی خدمت بھی کرتے تھے،جبکہ عوام کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ میری مدد کرنے والے ”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ“ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم فرماتے ہیں۔ایک رات میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ گشت پر تھا،اور ہم مدینہ منورہ کے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک قافلہ اپنا پڑاو¿ ڈال رہا ہے۔اور ایک خیمے کے اندر سے ایک عورت کے کراہنے کی آواز آ رہی تھی،اور خیمے کے باہر ایک شخص پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا ہے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اُس شخص سے خیریت دریافت کی تو اُس نے کہا کہ ہم مسافر ہیں،اور میری بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم ذرا انتظار کرو۔“اور دوڑتے ہوئے گھر آئے،اور اپنی بیوی سیدہ اُم کلثوم بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”کیا آپ رضی اﷲ عنہا کو اُس اجر میں دلچسپی ہے؟جسے اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس لایا ہے۔“اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔انہوں نے فرمایا؛”میں ضرور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چلوں گی۔“پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کھانے پینے کا سامان لیا،اور سیدہ اُم کلثوم بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہا نے ولادت کے مناسب حال سامان لیا،اور دونوں جلدی سے پڑاو¿ میں آئے۔سیدہ اُم کلثوم رضی اﷲ عنہا تو خیمے میں چلی گئیں،اور ہم باہر اُس شخص کے پاس بیٹھ گئے،اور باتیں کرنے لگے۔جب اُس عور ت کے یہاں ولادت ہوئی تو سیدہ اُم کلثوم بن علی رضی اﷲ عنہا نے خیمے کا پردہ اُٹھا کر آواز لگائی؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!اپنے ساتھی کوبچے کی بشارت دیجیئے۔“جب اُس شخص نے ”امیر المومنین “کا لفظ سناتو آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچان گیا ،اور معذرت کرنے لگا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ارے کوئی ہرج نہیں۔“ اُن کی تمام ضروریات پوری کر کے واپس آگئے۔


اولیات ِ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے دین کی بہت اچھی سمجھ عطا فرمائی تھی۔اِدھر زمین پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنی رائے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ ِ اقدس میں عرض کرتے تھے۔اور اُدھر آسمان سے اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں آپ رضی اﷲ عنہ کی تائید میں آیات ناز ل فرماتے تھے۔صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ تین مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تائید میں آیات نازل فرمائیں۔اور صحیح مسلم کی روایت میں چار مقامات کا ذکر ہے۔ایک روایت میں سترہ(17)مقامات کا ذکر ہے،اور ایک روایت میں تو اکیس(21) مقامات کا ذکر ہے۔ہم یہاں اُن باتوں کو پیش کر رہے ہیں،جو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جاری کیں۔(1)آپ رضی اﷲ عنہ ہی وہ پہلے شخص ہیں،جنہوں نے تاریخ و سال ھجری جاری فرمایا۔ (2)بیت المال قائم کیا۔(3)ماہِ رمضان میں تراویح کی نماز با جماعت جاری فرمائی۔(4) عوام کے حالات معلوم کرنے کے لئے راتوں میں گشت کیا۔(5)ہجو(مذمت)کرنے والے لوگوں پر حد جاری فرمائی یعنی سزائیں دیں۔(6)شراب پینے والے کو اسی(80) کوڑے لگوائے۔(7) مُتعہ کی حرمت کو عام کیا،اور اسے کسی فرد کے لئے بھی جائز نہیں کیا۔(8)جن لونڈیوں سے اولاد ہو جائے،اُن کی خرید و فروخت ممنوع قرار دی۔(9)نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا حکم دیا۔(10) دفاتر قائم کئے،وزارتیں متعین و مقرر فرمائیں۔(11)سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں۔(12) ملک مصر سے سجر ِاَیلہ کے راستے مدینہ¿ منورہ غلہ پہنچانے کا بندوبست فرمایا۔(13)ترکہ اور وراثت کے مقررہ حصوں کا نفاذ فرمایا۔(14)گھوڑوں پر ذکوٰة وصول کی۔(15)سب سے پہلے ”دُرّہ“ایجاد کیا۔(تاریخ الخلفاءامام جلال الدین سیوطی)


اگلی کتاب


خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ابھی بھی بہت سی باقی ہیں۔لیکن ہم اتنے پر ہی بس کرتے ہیں۔اور اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حالات پیش کریں گے۔

ختم شد


بدھ، 26 جولائی، 2023

غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں Relationship with Non Muslim


غیر مسلموں سے روابط کیسے رکھیں

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود، ترکِ موالات کا حکم، ان آیات میں احکامات، مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے، غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت، غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں، غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے ، غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں، غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم ، غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال، خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

غیرمسلموں سے تعلقات کی حدود

اہل اسلام کا غیرمسلم سے تعلق کسی نوعیت کا اور کسی  حدتک ہو؟ اس میں ہمارے معاشرہ میں بڑی افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ذہن یہ ہے کہ غیرمسلم سراپا ناپاک ہیں؛ اس لئے ان سے کسی بھی قسم کا میل جول نہ رکھا جائے، جب کہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو غیرمسلموں سے جگری دوستی رکھتے ہیں اور ان سے ” فیملی روابط“ رکھ کر فخر کرتے ہیں، ماڈرن  معاشرہ میں یہ وبا کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی ہے، حالانکہ اسلام کی تعلیم اس بارے میں افراط وتفریط کی دونوں حدوں کے درمیان میں ہے کہ نہ تو غیرمسلموں سے ایسی نفرت ہوکہ ان سے انسانی اور اخلاقی طور پر بھی رابط نہ رہے اور نہ ان سے اتنا گہرا اور مخلصا نہ میل جول ہو کہ وجہ سے دین یا اہل دین پر حرف آجائے۔

اسلام نے غیرمسلموں سے تعلق میں دراصل دوباتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھاہے: اول یہ کہ ان سے رابط وضبط کی وجہ سے ایمان وعمل میں بگاڑ نہ آئے پائے، اسی وجہ سے غیرمسلموں کے مذہبی شعائر ورسومات اور خالص مذہبی تقریبات میں شرکت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ تعلق قومی وملی حیثیت سے مسلمانوں کےلئے نقصان دہ نہ ہو، یعنی تعلق اس حدتک نہ بڑھے کہ وہ غیرمسلم آپ کا راز دار بن کر آپ کی خفیہ باتیں دشمن تک نہ پہنچادے، اور بالآخر یہی جاسوسی قومی وملی نقصان کا ذریعہ نہ بن جائے، وغیرہ۔

اگر یہ دو باتیں نہ ہوں تو پھر کسی شخص کے محض غیرمسلم ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ برا سلوک ہرگز نہیں کیا جائے گا، چنانچہ اہل ذمہ کے ساتھ قومی حیثیت سے انصاف اور رواداری کا برتاؤ عین اسلامی تعلیم ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 2

ترکِ موالات کا حکم

اسلام کی نظر میں انفرادی فوائد کے مقابلہ میں قومی وملی مفادات کی اہمیت زیادہ ہے، اس لئے غیرمسلموں سے بےمحابا تعلقات کے جو نقصانات یقینی طور پر پیش آسکتے ہیں ان سے آگاہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں متعدد جگہ بڑی صراحت کے ساتھ مخالف کفار سے دلی دوستی (جس کی قرآنی تعبیر ” موالات “ ہے) کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور اس وضاحت کی ضرورت خاص کر اس لئے پیش آئی کہ ابتدائے اسلام میں بعض مسلمانوں کی پرانے غیرمسلم دوستوں سے گہری دوستیاں قائم تھیں، وہ کفار اگرچہ اپنے اس دوست سے ظاہری طور پر بہت اچھی طرملتے تھے، لیکن اسلام کی ترقی سے وہ اندرہی اندر کڑھتے رہتے تھے، اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ کب موقع ملے اور اہل اسلام کو ملی حیثیت سے نقصان پہنچائیں؛ لہٰذا اندیشہ تھا کہ بڑی محنت اور قربانیوں کے بعد جو دین حق کا رنگ جمنا شروع ہواہے، کہیں ان جھوٹی دوستیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ وہ محنتیں رائیگاں نہ چلی جائیں؛ اس لئے اللہ تعالٰی نے قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو اس کے متعلق متنبہ فرما دیا، چند آیات ملاحظہ فرمائیں: 

ترجمہ: مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یارومددگار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو، اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔[ سورۂ آل عمران ۲۸]

ترجمہ:اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔[ سورۂ آل عمران ۱۱۸ ]

ترجمہ:اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصرانیوں کو یارومددگار نہ بناؤ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یارومددگار ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔[ سورۃ المائدۃ ۵۱] 

ترجمہ:اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یارومددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔[ سورۃ المائدۃ ۵۷]

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 3

ان آیات میں احکامات

درج بالا آیات سے چند امور مستفاد ہوئے:

الف:—— کسی بھی کافر سے ایسی گہری دوستی جو دل وجان اور ایمان پر اثر انداز ہو، جائز نہیں ہے۔

ب:—— البتہ دفع مضرت یا کسی مصلحت سے کفار کے ساتھ ظاہری طور پر حسن معاملہ کر سکتے ہیں، نیز انسانی ناطے سے مدارات ومواسات سب درست ہے جیسا کہ سورۂ ممتحنہ کی آیت نمبر ۸ سے واضح ہے۔

ج:—— اسلامی حکومت میں بالخصوص راز دارانہ عہدوں پر کسی کافر کو مقرر نہ کیا جائے، اور امور مملکت میں ان کو خاص مشیر نہ بنایا جائے۔

د:—— یہود ونصاریٰ سے زیادہ دوستیاں نہ بڑھائی جائیں؛ اس لئے کہ ان کی سرشت میں دین اسلام سے دشمنی پیوست ہے، اور جوان سے دلی دوستی رکھے گا گویا اس کا شمار انہیں میں سے ہوگا۔

ہ:—— جو لوگ دین کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کےلئے دل میں نرم گوشہ رکھنا کسی مسلمان کےلئے قطعاً جائز نہیں ہے۔

مذکورہ امور میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں دین کی قیمت پر کسی غیرمسلم سے تعلق قائم نہیں رکھا جاسکتا، اور غیروں سے تعلق قائم کرتے ہوئے دینی اور ملی مفاد کو کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ساری دُنیا پر یہ بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہونی چاہئے کہ مسلمان کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت اس کے دین کو حاصل ہے، اس کی پوری معاشرت، معاملات اور روابط سب دین کے اردگرد ہی گھومنے چاہئیں؛ حتی کہ وطن سے تعلق بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ دین میں حائل اور رکاوٹ نہ ہو؛ لہٰذا جہاں وطن اور دین میں ٹکراؤ ہوگا تو دین کو ترجیح ہوگی۔ اسی لئے ناگزیر حالات میں ” ہجرت “ (یعنی دین کے تحفظ کےلئے ترک وطن) کا حکم دیا گیا ہے جو اسلام کا اہم ترین عمل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 4

مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے               

چونکہ اسلام میں عقیدہ کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لئے مشرک (بت پرست اور آتش پرست وغیرہ) عورتوں سے نکاح کو قطعاً ممنوع قرار دے دیا گیا، ارشاد خداوندی ہے:

ترجمہ: اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔[ سورۃ البقرۃ ۲۲۱]

اپنے حکم لوگوں کو؛  تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

اس آیت میں اس ممانعت کی وجہ بھی ساتھ ساتھ بیان کردی گئی کی مشرک عورتوں کے اثر سے ایمان سے محروم ہوجانے کا خطرہ ہے، البتہ اگر مشرکہ عورت بصدق دل اسلام قبول کرلے تو پھر اس کو نکاح میں لایا جاسکتاہے اس میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 5

پاک دامن یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کی گنجائش   

قرآن پاک میں اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے؛ لیکن اس میں ” محصن“ کی شرط لگی ہوئی ہے، اب اس  ” محصن“ کے مصداق کے بارے میں حضرات مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بہت سے حضرات نے اس سے آزاد عورتیں مراد لی ہیں خواہ وہ عفت ماٰب ہوں یا نہ ہوں، جب کہ دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے وہ اہل کتاب عورتیں مراد ہیں جن کی پاک دامنی کا پہلے سے علم ہو، اور عفت کے خلاف کوئی بات ان کی طرف مشہور نہ ہو۔ اس رائے کی تائید اس واقعہ  سے ہوتی ہے کہ صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے بعض رومی (عیسائی یا یہودی) عورتوں سے شادی کرلی تو امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں نے لکھا کہ وہ اس بیوی کو چھوڑ دیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا ان عورتوں سے نکاح ناجائزہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نکاح ناجائز تو نہیں ہے؛ لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر ان عورتوں سے نکاح کا سلسلہ (بلاروک  ٹوک) جاری ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ فاحشہ اور بدکار عورتوں کے ساتھ معاشرت ہونے لگے گی (جومسلم معاشرہ کےلئے خطرناک ہے)[ احکام القران للجصاص، تفسیرطبری وغیرہ]

اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرتے وقت اپنے اسلامی معاشرہ اور اس کے امیتازات سے صرف نظر کسی طرح رو انہیں ہے؛ الہٰذا اگر یہ اندیشہ ہوکہ اس سے گھر کا ایمانی یا عملی ماحول بگڑجائے گا جیسا کہ آج کل صورت حال ہے تو ایسی عورتوں سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، باقی نفس جواز اپنی جگہ ہے جو بہت سی صورتوں میں دینی اور دعوتی اعتبار سے مفید بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ شوہر دین میں پختہ اور بیوی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 6

غیرمسلموں کے ساتھ تشبہ کی ممانعت

اسلام ایک کامل ومکمل اور جامع مذہب ہے، اس کے اپنے شعائر اور تشخصات ہیں، اسے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی حالت میں تشخص کو فراموش کرے یا دوسرے مذاہب کے مخصوص شعائر کو استعمال کرے، بریں بنا اسلام میں انسانی بنیادوں پر غیرمسلموں سے رواداری، ہمدردی اور مساوات کی تعلیم کے باوجود ان سے اتنی حدتک دوری بنائے رکھنے کا حکم ہے کہ عقائد، اعمال، معاشرت اور رہن سہن وغیرہ میں ان سے متأثر نہ ہوں، اس لئے کہ تشخص کی حفاظت کے بغیر دینا میں کوئی قوم نہ کبھی محفوظ رہی ہے اور نہ رہ سکتی ہے۔

نبی اکرم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک اصولی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ [ ابوداؤد ۲/ ۵۵۹ رقم:۴۰۴۱، مسنداحمد رقم: ۵۱۱۴] 

ترجمہ: جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے اس کا شمار اسی قوم میں سے ہوگا۔

یعنی اگر مسلمانوں کے ساتھ تشبہ ہے تو وہ مسلمانوں میں شمار ہے اور غیرمسلموں کے ساتھ مشابہت ہے تو انہی میں شامل ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 7

غیرمسلموں کے مذہبی شعائر استعمال نہ کریں

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی ایسے عمل کو اختیار نہ کرے جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہو، مثلاً:

الف:—— نمستے، یا رام رام:— یہ ہندوؤں کا مذہبی شعار ہے، جسے یہ لوگ ملاقات کے وقت استعمال کرتے ہیں؛ لہٰذا کسی مسلمان کےلئے سلام کی جگہ پر یہ الفاظ کہنا کسی حال میں ہرگز جائز نہیں ہے؛ بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کے وقت سلام کا لفظ استعمال کریں، اور غیر مسلموں سے ضرورت کے وقت ” آداب “ جیسے الفاظ استعمال کریں۔

افسوس ہے کہ آج بہت سے مسلمان (بالخصوص سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ) اپنے ہندولیڈروں کے ایسے رعب میں رہتے ہیں کہ ان کے سامنے آتے وقت اپنا مسلمان ہونا بھی ان کے ذہن سے نکل جاتاہے، اور چاپلوسی میں ان کے سامنے ایسے جھکے چلے جاتے ہیں، گویا زندگی کا مقصود بس وہی ہوں، یہ نہایت کم ظرفی اور حماقت کی باتیں ہیں۔ آدمی کو کسی بھی حال میں مذہبی تقاضے کو نظر انداز نہیں چاہئے، ورنہ جس جھوٹی اور معمولی عزت کے حصول کےلئے یہ سب خلاف شرع باتیں کی جاتی ہیں وہ سب رائیگاں چلی جائیں گی اور دُنیا وآخرت کی ذلت ورسوائی الگ ہوگی۔ اللّٰهم احفظنامنه۔

ب:—— سلام کے وقت جھک کر ہاتھ جوڑنا:— اسلام میں سلام اصل میں زبان سے ہی ہوتاہے؛ لیکن ہندؤوں میں سلام کرتے وقت ہاتھوں کو مخصوص انداز میں جوڑ کر اور جھک کر سلام کیا جاتاہے؛ اس لئے کسی مسلمان کےلئے ہندؤوں کی طرح ہاتھ جوڑنا یا جھکنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ بہت سے مسلمان ذہنی مرعوبیت کی وجہ سے اپنے غیرمسلم آقاؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظرآتے ہیں، وہ دراصل اپنے ہی ہاتھوں اپنے دین کی توہین کرنے والے ہیں، ان کو اپنے برے انجام سے یقیناً ڈرنا چاہئے۔

ج:—— کلائی میں ڈورے باندھنا یا مخصوص کڑے پہننا:— آج کل مشرکین کی ایک ظاہری علامت یہ ہے کہ وہ اپنی کلائی میں لال رنگ کے کچھ ڈورے باندھے رہتے ہیں، ان میں سے اکثر ان کے مذہبی تیوہار ” راکھی بندھن “ کے وقت باندھتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ مندروں میں جاکر بھی یہ ڈورے بندھوائے جاتے ہیں، جب کہ سکھ لوگ ایک خاص قسم کا کڑا علامت کے طور پر پہنتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ جاہل مسلم معاشرہ بالخصوص نوجوانوں میں بعینہٖ اسی طرح ڈورے باندھنے کا رواج پڑگیا ہے، اور مزارات پر بیٹھے ہوئے دین فروشوں نے اس ہندوانہ رسم کو خوب فروغ دیا ہے، اور برابر دے رہے ہیں، ان ڈوروں کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہین لگا سکتاہے کہ یہ کسی مزار کا ڈوراہے یا راکھی بندھن کا ڈوراہے؟ اسی طرح طبقہ میں سکھوں جیسے کڑے پہننے کا بھی رواج ہوتا جارہاہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام ایسی تشبہ والی باتوں کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخون لیں اور ٹونے ٹوٹکے والے عقیدوں سے باز آئیں اور مشرکین کے شعائر کو اختیار کر کے اپنے لئے جہنم نہ مول لیں۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 8

غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا حرام ہے 

اسلام کی ایک امتیازی تعلیم یہ بھی ہے کہ کسی مسلمان کےلئے غیرمسلموں کے مخصوص رنگ والے لباس پہننا جائز نہیں ہے۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ گیروے (زعفرانی) رنگ کا لباس پہن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا:إِنَّ هٰذِهٖ مِنْ ثِيَْابِ الْكُفَّارِ فَلاَ تَلْبِسْهَا [ مسنداحمد ۲/ ۲۰۷] 

ترجمہ:یہ کافروں کے (خاص) لباسوں میں ہے؛ اس لئے تم اسے مت پہنو۔

اس روایت میں رسول اللہ ﷺ  نے ایک اصول  بتلا دیا کہ ہر وہ لباس جو کسی غیر قوم کا مذہبی شعار ہو وہ کسی مسلمان کےلئے پہننا جائز نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج اپنے کو مسلمان کہلانے والے بعض لوگ اپنے مزعومہ پیروں اور مزاروں کی عقیدت میں بالکل سادھوؤں کی طرح لباس پہنے پھر تے ہیں، حالانکہ کہ اسلام میں ایسے تشبہ کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 9

غیرمسلموں کے تیوہاروں میں شرکت جائز نہیں

آج کل ایک فیشن سیاسی مرعوبیت کی وجہ سے یہ چل پڑاہے کہ غیرمسلموں کے تیوہاروں کے موقع پر مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد کے بڑے بڑے اشتہارات اور باتصویر ہورڈنگ لگائے جاتے ہیں، جب کہ اسلامی شریعت میں کسی غیرمسلم کو ان کے مذہبی تیوہار پر خوشی کا اظہار کرنا اور ان کی مذہبی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں، امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی ہدایت ہے:اِجْتَنِبُوْا اَعْدَاءَ اللّٰهِ فِی عِيْدِهِمْ [ تحفة الاخوان للشيخ التويجری، الشاملة]

ترجمہ: اللہ کے دشمنوں کے تیوہاروں کے موقع پر ان سے دور ہی رہو۔

بلکہ بعض فقہاء نے تو اس عمل پر کفر کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ فتاویٰ بزاز یہ میں امام ابوحفص کبیرؒ کے حوالہ سے منقول ہے: لَوْأَنَّ رَجُلاً عَبَدَرَبَّهٗ خَمْسِيْنَ سَنَةً ثُمَّ جَاءَ يَوْمَ النَّيْرُوْزِ فَأَهْدیٰ إِلیٰ بِعْضِ الْمُشْرِكِيْنَ هَدْيَةً يُرِيْدُ تَعْظِيْمَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ فَقَدْكَفَرَ  [ البزازیۃ 6/ 334] 

ترجمہ: اگر کوئی شخص پچاس سال اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہے پھر مشرکین کے تیوہار نو روز کے دن اس کی تعظیم کے بطور بعض مشرکین کو ہدیہ (مٹھائی وغیرہ) بھیجے تو ایسے شخص پر کفر کا اندیشہ ہے۔

اور مجمع لانہر میں لکھا ہے کہ: ” جو شخص مجوسیوں (آتش پرستوں) کے تیوہار نو روز میں ان کے مذہبی اعمال میں شریک ہو، اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا“۔ [ مجمع الانہر 4/ 513]

اسی طرح کی صراحت شرح فقہ اکبر 86 پر بھی درج ہے، اور کنزالعمال میں ارشاد نبوی منقول ہے:مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ كَانَ شَرِيْكاً فِيْ عَمَلِهٖ [ کنزالعمال 9/ 11 رقم: 24730] 

ترجمہ: جوشخص کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرے وہ انہی میں سے ہے، اور جوشخص کسی قوم کے عمل پر راضی ہو وہ گویا ان کے عمل میں شریک ہے۔

مذکورہ بالا ہدایات بالخصوص ان لوگوں کےلئے قابل عبرت ہیں جو ہمارے ملک میں غیر مسلموں کے خوشی کے مواقع (ہولی ـ دیوالی وغیرہ) پر عملاً آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اور اسے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں ہوش میں آنا چاہئے اور وقتی موہوم مصالح کی وجہ سے اپنے دین وایمان کو ہرگز داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 10

غیرمسلموں کی تقریبات میں شرکت کا حکم 

اگر طہارت اور حلت کا گمان غالب ہو تو فی نفسہٖ غیرمسلم کے یہاں کھانے میں حرج نہیں؛ لیکن آج کل کئی باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے:

الف:—— غیرمسلموں کی تقریبات میں دیگر منکرات ناچ گانے کے علاوہ عموماً شراب کا چلن عام ہوگیاہے، اور جس مجلس اور تقریب میں برملا منکرات ہو رہے ہوں اور شراب پی جارہی ہو، وہاں کسی مسلمان کا موجود رہنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دسترخوان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے جہاں شراب کا دور چل رہاہو۔

[ ابوداؤد شریف ۲/ ۵۳۰ حدیث: ۳۷۷۴]

ب:—— عموماً غیرمسلموں کے یہاں جھٹکے کا گوشت استعمال ہوتاہے، اور پکانے والے اس کی احتیاط نہیں کرتے کہ ایک دیگچی کاکف گیر دوسری میں نہ ڈالیں، جس کی وجہ سے ایسی تقریبات میں پکی ہوئی سبزیاں وغیرہ بھی پاکی کے اعتبار سے مشتبہ ہوجاتی ہیں؛ اس لئے بہر حال احتیاط اسی میں ہے کہ جب تک طہارت کا گمان غالب یا مشاہدہ نہ ہو، ایسا مشتبہ کھانا نوش نہ کیا جائے۔

ج:—— بعض غیرمسلم برتن دھونے میں پاکی ناپاکی کا قطعاً خیال نہیں کرتے؛ اس لئے شبہ کی جگہوں پر ان کے دھونے پر اعتماد نہ کیا جائے؛ بلکہ موقع ہو تو برتن خود اپنے ہاتھ سے دھوکر صاف کر لیا جائے۔

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 11

غیرمسلموں کے ہوٹلوں کا استعمال

تقریباً یہی معاملہ غیرمسلموں کے ہوٹلوں اور ڈھابوں کا بھی ہے، جن ہوٹلوں میں شرابیں پی جاتی ہوں اور جہاں حلال وحرام کھانے مخلوط پکائے جاتے ہوں، وہاں مسلمانوں کا کھانا تو دور رہا، ان میں داخل ہونا بھی شرم کی بات ہے۔ آج کل ماڈرن معاشرہ میں فائیواسٹار ہوٹلوں کا کلچر رواج پارہاہے، یعنی محض تفریح طبع اور موج مستی کےلئے اپنا گھر یا مسلمانوں کے ہوٹل دستیاب ہونے کے  بجائے فائیواسٹار ہوٹلوں کے ریسٹوران میں ” لنچ“ یا ”ڈنر“ لیا جاتاہے، حالانکہ وہاں وہی سب خرابیاں عملاً موجود ہوتی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے؛ اس لئے بلاسخت ضرورت یا واقعی مجبوری کے ایسی جگہوں پر جانے یا وہاں اپنی تقریبات منعقد کرنے سے مسلمانوں کو احتراز کرنا لازم ہے۔ 

 خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں رہنے سے اجتناب 

انسان چوں کہ سب سے زیادہ اپنے پاس پڑوس رہنے والوں کے حالات سے متأثر ہوتا ہے؛ اس لئے اسلام کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ مسلمان خالص غیرمسلموں کی آبادیوں میں بود وباش اختیار نہ کریں۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے: لاَتُسَاكِنُوْا الْمُشْرِكِيْنَ وَلاَ تُجَامِعُوْهُمْ فَمَنْ سَاكنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَلَيْسَ مِنَّا [ الحاکم فی المستدرک 2627] 

ترجمہ: شرک کرنے والوں کے ساتھ بود وباش اور یکجائی مت کرو، پس جوشخص ان کے ساتھ رہنا سہنا اور اٹھنا بیٹھنا کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے 

مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهٗ فَإِنَّهٗ مِثْلُهٗ [ ابوداؤد 2/ 385 رقم: 2787]

ترجمہ: جس شخص نے مشرک کے ساتھ میل جول اور رہائش اختیار کی وہ گویا اسی جیسا ہے۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 

أَنَابَرِيْءٌ مِّنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ  [ ابوداؤد 2/ 355، حدیث: 2645] 

ترجمہ: میں ہر ایسے مسلمان سے بےزار ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام پذیر ہو۔

اور ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مشورہ دیا: لاَ تَسْتَضِيْئُوْا الْمُشْرِكِيْنَ [مسنداحمد 3/ 99] 

ترجمہ: مشرکین کی آگ سے اپنی آگ مت جلاؤ۔

یعنی مشرکین کے مکانات کے قریب اپنے گھر مت بناؤ کہ وقت وقت پر ان سے ضرورتیں وابستہ رہیں؛ بلکہ ان سے الگ ہٹ کر رہا کرو۔

یہ ہدایات ان لوگوں کی آنکھ کھولنے کےلئے کافی ہیں جو غیرمسلموں کی کالونیوں میں رہنا اپنے لئے فخر کی چیز سمجھتے ہیں، انہیں مسلم آبادیوں میں رہتے ہوئے کڑھن ہوتی ہے، کبھی صفائی ستھرائی نہ ہونے کا بہانہ بناکر اور کبھی بھیڑ بھاڑ کا عذر پیش کر کے وہ مسلمانوں کے علاقہ سے نکل کر غیروں کے ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں، ایسے حضرات  سے گذارش ہے کہ وہ پیغمبر علیہ السلام کی مذکورہ بالا ہدایات بار بار پڑھیں، اور پھر فیصلہ کریں کہ ان کے حق میں وہ بہتر ہے جو انہوں نے اپنی عقل سے سمجھا ہے یا وہ بہتر ہے جس کی تعلیم محسن انسانیت فخر دو عالم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دی ہے؟ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں بہر حال پیغمبر علیہ السلام کی ہدایات کو مقدم رکھنا چاہئے۔

اس ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان گھرانہ چوبیس گھنٹہ غیروں کے ساتھ رہے گا اور ان کی عورتوں اور بچوں کی آمدورفت گھروں میں ہوگی تو رفتہ رفتہ ان کفر یہ جراثیم محسوس اور غیر محسوس طریقہ پر مسلم گھرانوں میں داخل ہوتے چلے جائیں گے، اور نہ صرف ظاہری لباس، تراش خراش، معاشرت؛ بلکہ عقائد پر بھی نہایت منفی اثرات پڑیں گے، اور یہ کوئی محض خیال نہیں؛ بلکہ عینی مشاہدہ ہے، آپ کسی بھی ایسی کالونی کے مسلمان مکینوں کے گھروں کا جائزہ لےکر دیکھ لیجئے، تو ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو بیان کے قابل نہیں، حتی کہ آج اتنی دعوتی محنتیں ہونے کے باوجود مشرکین کے دبد بہ والے گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بعض گھروں میں مورتیاں تک رکھی دکھائی دیتی ہیں اور گھر والے مسلمانوں جیسے نام رکھنے کے باوجود پڑوسی ہندؤوں سے متأثر ہوکر یا ان کے دباؤ میں آکر مورتیوں کا اکرام کرتے ہیں، العیاذ باللہ۔ ان حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاقبت اندیشی پر مبنی درج بالا ہدایات نہایت قابل توجہ ہیں۔

علاوہ ازیں ملکی حالات کے اعتبار سے بھی عافیت اسی میں ہے کہ مسلمان اپنی آبادیوں میں مجتمع رہیں اور غیروں کی کالونیوں میں متفرق طور پر رہائش اختیار نہ کریں؛ کیونکہ جب فرقہ وارانہ حالات بگڑتے ہیں تو سب سے پہلے زیادتیوں کا نشانہ وہی لوگ بنتے ہیں جو متفرق طور پر غیروں کی کالونیوں میں مقیم ہوتے ہیں، جب کہ ٹھوس مسلم آبادیوں میں رہنے والوں کو پھر ایک گونہ تحفظ حاصل ہوتاہے۔

تاہم جن مسلمانوں کو کسی مجبوری کی وجہ سے ایسے ماحول میں رہنا پڑے (مثلاً سرکاری ملازموں کو حکومت کی بنائی ہوئی کالونیوں میں رہنا پڑتاہے) تو انہیں خصوصی طور پر اپنے گھرانہ کو دین پر ثابت قدم رہنے اور عقیدے اور اعمال میں پختگی قائم رکھنے پر توجہ دینی چاہئے، اور پاس پڑوس کے اثرات قبول کرنے کے بجائے اپنے اخلاق وکردار اور حکمت عملی کے ساتھ ان کے سامنے دین اسلام کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی فکر کرنی چاہئے؛ تاکہ وہاں کا قیام دعوتی اعتبار سے مفید بن جائے، اس سلسلہ میں خاص طور پر گھر کی خواتین کو تربیت دینے اور انہیں ہمیشہ بیدار رکھنے کی ضرورت ہے

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 12

خلاصۂ کلام

خلاصہ یہ ہے کہ غیرمسلموں سے مدارات ومواساۃ اور دعوتی وانسانی بنیادوں پر خیر خواہی تو مطلوب ہے؛ لیکن ان سے ایسے روابط قائم کرنا یا ان سے مرعوب ہو کر رہنا یا رسم ورواج اور معاشرت میں ان کی تہذیب اور طور طریقوں کو اپنانا ہرگز درست نہیں ہے۔ آج ہر فکر مند شخص کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے معاشرہ میں غیرمسلموں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جو غلط باتیں درآئی ہیں، اُن کا خاتمہ کیسے ہو؟ اس بارے میں سنجیدہ کوششیں کرنی ضروری ہیں۔ یوم پیدائش (سال گرہ) یوم عاشقاں (ویلن ٹائن ڈے) بسنت (پتنگ اڑانے کا تیوہار) اور کسی کے مرنے پر سوگ کرنا اور تیجہ، دسواں، چہلم منانا، خوشی اور غمی کے موقع پر ٹونے ٹوٹکے والی رسومات یہ سب غیروں کی باتیں ہیں، جو آج مسلم گھرانوں میں داخل ہوگئی ہیں، ان کے خلاف ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین اسلام ایسی سطح اور کچی باتوں کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا، ہمارے لئے نمونہ اور قابل تقلید صرف اور صرف قرآنی تعلیمات اور نبوی ہدایات اور سلف صالحین کے آثار ہیں، ان کے علاوہ کی طرف ہمیں نظر اٹھانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ان میں ہمارے لئے نجات ہے۔

اللہ تعالٰی پوری امت کو صلاح وفلاح سے نوازیں، دین پر استقامت عطا فرمائیں اور غیروں کی مشابہت سے ہر سطح پر محفوظ رکھیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں