جمعرات، 15 جون، 2023

حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام مکمل Life of Prophet Zakaria and Yahya


حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام مکمل

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات 

حضرت عزیر علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل دوبارہ کنعان( حالیہ فلسطین ) میں آباد ہو گئے اور حضرت عزیر علیہ السلام نے توریت دوبارہ لکھ کر انھیں دی تھی۔ اور بنی اسرائیل کو تمام احکامات اور فرائض وغیرہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل ، آپ علیہ السلام کو ہی ( نعوذ باللہ) اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بہت سمجھایا کہ تم لو گ گمراہی میں مبتلا ہو رہے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت اسی گمراہی میں مبتلا رہی۔ اور بہت کم بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کو تسلیم کیا۔ اور اسلام پر ڈٹے رہے۔

حضرت عزیر اور حضرت زکریا علیہم السلام کا درمیانی عرصہ 

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کا درمیانی عرصہ لگ بھگ 461چارسو اکسٹھ سال ہے۔ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت عزیر علیہ السلام کے لگ بھگ 461سال بعد آئے۔ یہ درمیانی عرصہ بنی اسرائیل نے کس طرح گزارا اور وہ کیسی کیسی برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اور کن کن بادشاہوں نے اُن پر حکومت کی یہ سب مختصراً ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے انشاءاللہ ۔ اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر کی طرف آئیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان 461برسوں میں اس دوران اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں اپنا کوئی بھی نبی نہیں بھیجا۔ تو جواب یہ ہے کہ اس دوران بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو بنی اسرائیل میں مسلسل بھیجتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ ان کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں اس لئے ہم ان تفصیلی ذکر نہیں کر سکتے۔ بائبل ( توریت اور انجیل) کے الگ الگ نسخوں میں بہت سے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہ نسخے مستند نہیں ہیں۔ اور ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں ملاوٹ ہو چکی ہے۔ اس لئے ہم نے انھیں چھوڑ دیا ہے۔

سکندر کا فارس ( حالیہ ایران ) پر قبضہ 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔ اس کی شروعات تو آپ علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ لیکن تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا تھا۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز رہا۔ اور بنی اسرائیل آس پاس کے تمام علاقے (فلسطین اورشام) میں آباد تھے۔ ان کی اپنی کوئی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ ان پر سلطنت ِ فارس ( آج کا ایران) کا مقرر کیا ہوا حکمراں ان پر حکومت کرتا تھا۔ اس طرح لگ بھگ سو برس (100) برس یعنی ایک صدی گزر گئی اس دوران اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل میں انبیائے کرام بھیجتے رہے۔ لیکن وہ مسلسل نافرمانیوں اور گمراہیوں میں مبتلا رہے۔ اس کے بعد یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اٹھا ۔ سکندر کی فارس کے حکمراں سے رشتہ داری تھی۔ اور اس حکمراں نے سکندرکو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجے میں سکندر نے اپنی فوج لیکر فارس پر حملہ کر دیا ۔ اور اس کے حکمراں کو شکست دے کر فارس اور آس پاس کے تمام علاقوں جن میں حالیہ عراق اور سابقہ بابل اور حالیہ فلسطین اور شام جو سابقہ کنعان تھا۔ ان سب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح بنی اسرائیل پر یونانیوں یعنی سکندر کی حکومت ہوگئی۔ اس کے بعد سکندر اپنی فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہندوستان تک آگیااور وہیں اس کی موت ہو گئی۔ اس نے 14سال حکومت کی اور انتقال کے وت اس کی عمر 36برس تھی۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کے اثرات 

سکندر کا تو انتقال ہو گیا۔ لیکن بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بنے رہے۔ سکندر کے بعد اس کے بیٹے کو یونانیون نے حکمراں بنانا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ تو یونانیوں نے بطلیموس کو حکمراں بنا دیا۔ اس کا نام کچھ اور تھا۔لیکن اس نے بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ اس کے بعد ہر یونانی بادشاہ بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ جس طرح فارس کا ہر حکمراں کِسریٰ کا لقب اختیار کرتا تھا۔ اور روم کا ہر حکمراں قیصر کا لقب اختیار کرتا تھا۔ یونانی بہت عرصے تک بنی اسرائیل پر حاوی رہے اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل یونانیوں سے متاثر ہونے لگے۔ اچھے خاصے یہودی (بنی اسرائیل) یونای کلچر میں ڈھل گئے۔ بہت ممکن تھا کہ بنی اسرائیل پوری طرح سے یونانی افکار و خیالات کو اپنا لیتے لیکن یونانی بادشاہ کی غلطی کی وجہ سے بنی اسرائیل جاگ گئے۔

بنی اسرائیل کی آزادی اور حکومت 

ایٹیوکس چہارم جب یونان کا حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل (یہودیوں) پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔ اور یہودی ( بنی اسرائیل) کا قتل کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے سوئے ہوئے بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہو گئی۔ اور انھوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ حالانکہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک حصہ یونانیوں کا حامی تھا لیکن بنی اسرائیل کی عوام اور ایک بڑا طبقہ یونانیوں کے خلاف تھا۔ نتیجے میں 175قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 175سال پہلے بنی اسرائیل نے یونانیوں سے آزادی حاصل کر لی۔ اور اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ اور بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر ترقی کرنے لگے۔ اور ان کی حکومت بڑھتے بڑھتے ان علاقوں تک پہنچ گئی جن علاقوں تک حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتیں تھیں۔

بنی اسرائیل کا دوسرا زوال 

بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر عروج پر آگئے تھے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا جو رقبہ تھا اُس سے بھی بڑے علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی لیکن پھر دھیرے دھیرے ان میں اختلافات ہوئے اور وہ ٹکڑوں میں بٹنے لگے۔ اور تمام بارہ قبیلوں نے اپنی اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن میں بے شمار برائیاں اور گمراہیاں بھی پیداہو گئی تھیں۔ ان قبیلوں کے آپسی جھگڑے اتنے بڑھے کہ ان میں سے کچھ قبیلوں نے رومیوں سے ساز باز کر لی۔ بنی اسرائیل کی یہ حالت ایک صدی میں یعنی 100برسوں میں ہوئی۔ ان سو برسوں کے دوران یونانیوں کو شکست دے کر رومی اُن پر حاوی ہو چکے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے کچھ قبیلوں نے اپنے مخالف قبیلوں کے مقابلے میں رومیوں سے مدد مانگی۔ تو رومی اُن کی طرف متوجہ ہو گئے اور بنی اسرائیل کے علاقوں میں رومی افواج کو داخل کر دیا۔ اور دھیرے دھیرے رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر کے انھیں محکوم بنا لیا۔ بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ 67قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے ہوا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی 

رومیوں نے بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ کر دیا لیکن وہ خود حکومت کرنے نہیں آئے بلکہ بنی اسرائیل کے غداروں ( جو رومیوں کے وفادار تھے) میں سے ایک کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا۔ اس طرح حکومت تو بنی اسرائیل کا ایک شخص کر رہا تھا لیکن اصل حکومت رومیوں کی تھی۔ ان حالات میں حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی تھے۔ بنی اسرائیل میں کُل بارہ قبیلے تھے۔ ان میں سے بنی لاوی مذہبی امور کے لئے مخصوص تھے۔ اور باقی قبیلے الگ الگ علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔ رومیوں کے قبضے کے بعد بھی مذہبی امور بنی لادی کے ہی ذمہ رہے۔ بنی لادی میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام اُن کی ہی اولاد میں سے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کا کام بیت المقدس کی تمام ذمہ داریاں اٹھانا اور بنی اسرائیل کو سمجھانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا تھا۔آسان الفاظ میں یوں سمجھیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے مذہبی رہنماتھے۔ اور تما م بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کرتے تھے۔

حضرت زکریاعلیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت زکریا علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بن اذن بن مسلم بن صدون ۔صدون حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔سلیمان علیہ السلام بن داو¿د علیہ السلام بن ایشا بن حویل بن سلمون بن عرابن بن ممثون بن عمیاد بن حضروم بن فارض بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا بن حنا اور حضرت زکریا بن دان بھی کہا جا تھا ہےاور یہ بھی کہا گیا ہے حضرت زکریا بن ادن بن مسلم بن صدوف۔اِن کا نسب حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داو¿د علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔آپ علیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔اور بنی اسرائیل سے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زکریا علیہ السلام نجار(بڑھئی،مستری) تھے۔مورخین نے بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا بن دان علیہ السلام انبیائے کرام علیہم السلام کے بیٹوں میں سے ہیں۔جو بیت المقدس میں وحی لکھتے تھے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔عمران نام ہے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد صاحبکو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔اُن کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق کے یہ ہے۔عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیت بن ایاز بن رخیعم بن حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داؤود علیہ السلام۔

بنی اسرائیل کے سب سے بڑے مذہبی رہنما

حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی اور اپنے زمانے میں سب سے بڑے مذہبی رہنما تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی”تفسیر عالمانہ “میں لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔زکریا بن آذن یا اُون یا اخیاہ بن مسلم بن صدون ۔آپ علیہ السلام کی ولدیت میں تین قول ہیں۔اسلامی تاریخ میں زکریا بن آذن ہے،بائیبل میں زکریا بن اُون ہے،اور اسرائیلیات میں زکریا بن اخیاہ ہے۔مطابقت اِس طرح ہے کہ آذن صحیح لفظ ہے،اُون کا بگڑا ہوا لفظ ہے اور اخیاہ لقب ہے۔تقریباً ستر ہزار انبیا علیہم السلام آپ علیہ السلام کی خاندانی سلسلے اور لڑی سے ہوئے۔آپ علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے خالو تھے۔یہ علاقہ فلسطین کا تھا،یہاں ہی ”بیت المقدس“ ہے۔اُس وقت فلسطین بارہ صوبوں میں تقسیم تھا اور تمام صوبوں پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں میں بٹی ہوئی تھی ۔اِن بارہ صوبوں میں اُن کے علحٰیدہ علحٰیدہ بادشاہ تھے۔اِس طرح فلسطین اُس وقت بارہ سلطنتوں کا نام تھا۔لیکن پورے فلسطین کا مذہبی ادارہ الگ تھا۔یہ ادارہ قبیلہ بنو لاوی بن یعقوب کے سپرد تھا ۔بنو لاوی قبیلے کے چار بیٹوں کی نسل چار شعبوں میں تقسیم تھی۔تین شعبے پورے ملک کی تمام عبادت گاہوں (کنیسوں)اور ہیکلوں کے انتظام اور دیگر مذہبی ذمہ داریوں پر مقرر تھے۔جن میں امامت ،خطابت ،درس وتدریس کے علاوہ دینی تبلیغ بھی شامل تھی ۔لیکن مذہبی صدر مقام ”بیت المقدس“کا تمام انتظام ،دیکھ بھال ،زینت وچراغاں اور خوشبو جلانا۔یہ سب کام صرف شعبہ قبیلہ بنو ہارون سپرد تھا۔اِن کے علاوہ کسی بھی موقع پر بیت المقدس کے اندر کسی بھی قبیلے کا کوئی فرد نہیں جاسکتا تھا۔دیگر بنو لاوی کے تین شعبوں کے افراد بھی بیت المقدس کے صحن ،باغیچہ اور زائرین ،مسافرین،عابدین اور راہبین کی رہائش گاہوں کی دکھ بھال صفائی و انتظامات کرتے تھے۔ہر شعبے کا ایک سردار ہوتا تھا جس کی ذمہ داری اپنے عملے کے ساتھ پانچ قسم کی تھی۔1)مہمان داری،2) یوم ِ سبت کی عبادت کا انتظام،3) سالانہ عیدین پر قربانی کرانا،4)پہاڑوں پر جاکر قدرتی آگ سے جلانے کے لئے رکھنا،5)اور بیت المقدس کی چوکیداری کرنا۔بنو لاوی کے چار شعبوں میں سب سے معزز و محترم شعبہ بنو ہارون تھا۔اِس کے افراد چوبیس خاندانوں میں تقسیم تھے جن میں سے ایک خاندان ”ابیاہ “تھا۔اِس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے،بیت المقدس کی خدمت کے لئے اِن چوبیس خاندانوں کی پندرہ پندرہ دن کی ڈیوٹیاں اور باریاں مقرر تھیں۔یعنی ہر دو ہفتے بعد باری بدلتی تھی۔ہر سردار اپنی باری پر اپنے گیارہ خاندانی راہبوں اور نوکروں کے ساتھ بیت المقدس میں عبادت اور چراغاں و خوشبو جلانے کا انتظام کرتا تھا۔جس کا خرچہ تمام بارہ سلطنتیں ادا کرتی تھیں۔خاندان ابیاہ کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام ہی اپنے عملے کے ساتھ اپنی باری پر بیت المقدس میں تشریف لے جاتے تھے۔قانون یہ تھ کہ ہر سردار کا بیٹا اپنا جانشین بنا سکتا تھا۔اُس وقت پورے بنی اسرائیل کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام ہی تھے۔مگر بہت تھوٹے آپ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اکژیت مرتدین اور فاسقین و فاجرین کی تھی۔بیت المقدس کی سرداری کے لئے پوری دینی تعلیم ،طریقہ ،تبلیغ و عبادت ضروری شرط تھی ،جس کے لئے جانشین کو پہلے سے تیار کیا جاتا تھا۔مگر حضرت زکریا علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی۔نہ بیٹا ،نہ بیٹی،اور نہ اپنے خاندان میں کوئی ایسا نیک ،پاک اور متقی شخص نظر آتا تھا کہ جس کو جانشینی کے لئے نامزد اور تیار کیا جاسکے۔تب آپ علیہ السلام نے یہ خفیہ دعا مانگی۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی ذمہ داریاں

حضرت زکریا علیہ السلام اﷲ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی سب سے مقدس مسجد(بیت المقدس)کے ذمہ دار بھی تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہا نت کا اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے بارہ قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا۔اور بنو لاوی مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا۔پھر بنو لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو”مقدس میں خداوندکے آگے بخور جلانے کی خدمت “اور ”پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام“کرتا تھا،وہ حضرت ہارون علیہ السلام کا خاندان تھا۔باقی دوسرے بنو لاوی مقدس کے اندر نہیں جاسکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھریوں میں کام کرتے تھے۔سبت کے دن اور عیدین کے موقع پر سختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنو ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔بنو ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حضر ہوتے تھے۔انہی خاندانوں میں سے ایک ایبا ہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے۔اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے تھے اور خداوند کے حضور بخور جلانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ 

اﷲ نے منتخب فرمایا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میںآدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کو اور آل عمران کا انتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۳)اِس آیت میں آل عمران (عمران کی اولاد )یعنی سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔یہاں ”عمران “سے مُراد سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔عمران بن ماثان ،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے والد ہیںاور بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے بیٹوں میں سے تھے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔امام مقاتل کے مطابق” عمران“ سے مُراد عمران بن یصہر بن قاہت بن لاوی بن حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں،جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔ایک قول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”عمران“سے مُراد عمران بن ماثان ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔اور عمران کی اولاد میں سے بعضوں کو۔اگر یہ ”عمران “حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ہیں۔اور اگر یہ”عمران“سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔عمران دو ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ماجد،اور دوسرے عمران بن ماثان،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا۔پھر اُن کا سلسلہ¿ نسب لکھنے کے بعد لکھتے ہیں۔یہاں یا تو پہلے عمران مُراد ہیں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد یا دوسرے عمران یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا ،اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ آگے سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ آرہا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ کی منت 

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام ایشاع ہے۔ ایشاع کی بہن کا نا م حَنّہ ہے۔ اور حنّہ کے شوہر کا نام عمران ہے۔ اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران ہم زُلف ہیں۔ عمران کی بیوی حنہ نے بیت المقدس میں آکر اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ مجھے جو اولاد ہو گی اسے میں اللہ تعالیٰ کے حوالے یعنی بیت المقدس کی خدمت میں دے دوں گی۔ انھوں نے یہ سوچ کر منت مانی کہ اگر مجھے بیٹا ہوا تو اسے بیت المقدس کے وقف کردوں گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے کام کو آگے بڑھائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اپنی نشانی بنانا چاہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آ ل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے،اُسے میں نے تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی ہے۔تُو میری طرف سے قبول فرما،یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۳)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد محترم کا نام عمران ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے دعا کی الٰہی اگر مجھے آپ اولاد عطا فرما دیں گے تو میں اُس کو دین کے لئے آزادر رکھوں گی۔اُس زمانہ میں اِس بات کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اِس طرح اﷲ کے گھر اور اُس کی عبادت کے لئے آزاد کر دیا جائے کہ وہ زندگی کی تمامذمہ داریوں سے الگ رہتے ہوئےصرف اُسی کی بند گی میں لگا رہے۔اِس دعا میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے گویا اشارةً بیٹے کی تمنا کی تھی۔اﷲ نے اُن کی دعا کو قبول فرمایا اور اُن کے گھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پیدائش 

حضرت عمران کی بیوی سیدہ حنّہ نے منت مانی تھی کہ وہ اپنی اولااد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بیٹی عطا فرمائی۔اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ تھا کہ صرف لڑکوں کو ہی بیت المقد س کی خدمت کے لئے وقف کیا جاسکتا تھا اس لئے سیدہ حنّہ کچھ مایوس ہو گئیں ۔ لیکن انھیں اپنی منت پوری کرنی ضروری تھی اسی لئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے اللہ تعالیٰ ، میں یہ لڑکی پیش کر رہی ہوں اور میں نے اس کانام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود کے شر سے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس کی خدمت میں وقف کر دیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب بچی پیدا ہوئی تو کہنے لگیںکہ پروردگار!مجھے تو لڑکی پیدا ہوئی،اﷲ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے؟اور لڑکا ،لڑکی جیسا نہیں،میں نے اِس کا نام ”مریم “رکھا ،اور میںاِسے اور اِس کی اولاد کوشیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 36)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ سخت پریشان ہوئیںکہ یہ لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔اِس کو اﷲ کے لئے میں کیسے آزاد کروں گی؟اﷲ نے اُن کے دل میں اِس بات کو القا فرمایا کہ اے مریم کی والدہ تمہیں معلوم نہیں ہے یہ لڑکی کتنی با عظمت ہے۔اِس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمائیں گے۔

شیطان ہر بچے کو چھوتا ہے

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے عرض کیا کہ ”میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے اُن کی یہ عرض بھی قبول فرمائی۔مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔پھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا ،انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو بچہ ہے،میں نے اُس کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی ہے۔آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اُس کو صرف ”بیت المقدس“کی خدمت کے لئے فارغ رکھوں گی اور دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے۔اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچے کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی،جب اُس حمل کی پیدائش ہوئی تو وہ لڑکا نہیں بلکہ لڑکی تھی۔عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیںاور کہنے لگیں کہ اے میرے رب!میرے تو لڑکی پیدا ہوئی ہے،لڑکی ”بیت المقدس“کی خدمت گذارکیسے بنے گی؟اﷲ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ کیا پیدا ہوئی ہے؟لیکن یہ انہوں نے حسرت کے طور پر کہا تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیں ۔عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہو نے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اِس لڑکی کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

مریم ۔بمعنی عابدہ

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی ”خلاصہ¿ تفسیر“میںلکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم وہ وقت بھی یاد کرو اور انہیں سناو¿۔جبکہ عمران کی بیوی ”حنہ“نے حاملہ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا۔اے میرے مولا !چونکہ تُو نے مجھے نا اُمیدی کے بعد اولاد کی اُمید دکھائی ہے۔اِس لئے میں نذر مانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں اولاد ہے ،وہ ”بیت المقدس “کی خدمت کے لئے وقف ہے۔نہ میں اس سے اپنی خدمت لوں گی ،اور نہ ہی گھر کے کام کاج کراو¿ں گی۔اے مولا!یہ میرا حقیر ہدیہ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمالے،تُو کلام سننے والا اور میری نیت و اخلاص کو جاننے والا ہے۔وہ لڑکے کی اُمید پر بہت خوش و خرم تھیں،جب ولادت کا وقت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پید ہوئیں تو حنہ حیران رہ گئیں۔عرض کرنے لگیں کہ اے مولیٰ !یہ کیا ہو گیا؟میرے تو لڑکی پید ہو گئی ،اب میں اپنی نذر کیسے پوری کروں؟اے محبوب (صلی اﷲ علیہ وسلم)! حنہ کیا جانیں کہ لڑکی کیسی ہے؟ یہ تو رب ہی جانتا ہے کہ وہ لڑکی کس درجہ کی ہے؟لڑکا اِس لڑکی کی طرح ہوسکتا ہی نہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ اے مولیٰ !چونکہ اِس کے باپ تو پہلے ہی وفات پا چکے ہیں ،اِس لئے میں اِس لڑکی کا نام ”مریم“رکھتی ہوں۔بمعنی ”عابدہ“۔اور میری نیت یہ ہے کہ یہ ”بیت المقدس “میں رہ کر تیری عبادت کرے ،تاکہ بقدر طاقت میری منت پوری ہو۔اے مولیٰ !چونکہ میں اسے اپنے الگ ”بیت المقدس‘]میں رکھوں گی، اِس لئے اِس کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تُو اسے شیطان سے بچا اور اسے صالح پرہیز گار بنا۔اس کے بعد ”اصل واقعہ“کے تحت لکھتے ہیں۔فاقوزا کی دو بیٹیاں تھیں۔حنہ اور ایشاع۔حنہ عمران کے نکاح میں آئیں،ایشاع حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔دونوں بہن بے اولاد تھیں۔یہاں تک کہ انہیں بڑھاپا آگیا اور اولاد سے مایو سی ہو گئی ۔ایک دن سیدہ حنہ نے ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی ہے۔اُن کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور دعا کی۔اے مولیٰ ! یہ چڑیا بچے سے دل بہلا رہی ہے مجھے بھی ایک فرزند دے جو میرے دل بہلانے کا ذریعہ ہو۔تو اُسی وقت ”وقف“کی منت مان لی یا حمل کے بعد۔غرض یہ کہ دعا مانگنے کے بعد حاملہ ہو گئیں اور عمران سے کہنے لگیںکہ میں نے منت مانی ہے۔عمران نے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا،اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کیا کرو گی؟تب بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا کہ اے مولا ! میں منت مان چکی ہوں کہ جو کچھ میرے شکم میں ہے وہ ”بیت المقدس“ کی خدمت کے لئے وقف ہے۔اِس سے نہ خدمت لوں گی نہ گھر کا کام کاج کراو¿ں گی۔اُس زمانے میں ”وقف“کا رواج تھاکہ لوگ اپنی اولاد کو بیت المقدس کی خمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔اور بچے وہاں ہی رہتے سہتے اور وہاں کی خدمت کرتے تھے۔اِس قاعدہ سے آ پ نے منت مانی اور خوش تھیں کہ جب میری دعا پر رب نے یہ اُمید دکھائی ہے تو بیٹا ہی ہو گا،کیونکہ میں نے بیٹا ہی مانگا تھا۔اِسی اثناءمیں حضرت عمران وفات پاگئے۔جب وقت ولادت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیںتو حنہ کو خلاف اُمید لڑکی پیدا ہونے اور اپنی نذر پورا نہ کر سکنے پر بہت افسوس ہوا۔تب اﷲ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی ،جو اِس آیت میں مذکور ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کے لئے قرعہ

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اُن کی والدہ نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں اس وقت لگ بھگ 24خاندان تھے۔ اور ہر خاندان سے کئی کئی علماءاور قراءبیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کرے گا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کی پرورش میرے ذمہ کر دو۔ کیوں کہ میری بیوی اس کی خالہ ہے یہ سن کر تمام علماءنے کہا ہم قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ اس بچی کی پرورش کر ے گا۔ اُس وقت بیت المقدس کے ذمہ دار علمائے کرام کی کل تعداد 27ستائیس تھی ۔قرعہ نکالا گیا تو وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا ہی نکلا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پرور دگار نے اچھی طرح قبول فرما لیا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا (علیہ السلام) کو بنایا۔........آیت کے آخر تک(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں۔جب سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا پیدا ہوئیں تو اُن کی والدہ نے اُن کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُن کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں۔جو اُس زمانے میں ”بیت المقدس“کے دربان تھے اور اُن سے کہا کہ اِس نذر مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو۔یہ میری بیٹی ہے ،میں نے اس کو اپنی ذمہ داری اور ولایت سے آزاد کیا۔عبادت گاہ میں حائض داخل نہیں ہوسکتی اور میں اِس کو اپنے گھر نہیں لے جاو¿ں گی۔انہوں نے کہا یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے اور عمران اُن کو نمازیں پڑھاتے تھے اور اُن کی قربانیوں کے منتظم تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لڑکی مجھے دے دو،کیونکہ اِس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔باقی لوگوں نے کہا کہ ہم اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے،پھر انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش کے لئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی۔یہ وہ قلم تھے جن سے وہ ”توریت“لکھتے تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکل آیااور انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کہ کفالت کی۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ اُن کو لیکر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین اور عابدین سے جن میں حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے،جا کر کہا کہ اِس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے۔اِس لئے میں اِسے اپنے نہیں رکھ سکتی ،سو اِس کو لائی ہوں آپ لوگ رکھیئے۔حضرت عمران اس مسجد کے امام تھے اور حالت ِ حمل میں اُن کی وفات ہو چکی تھی۔ورنہ سب سے زیادہ مستحق اُس کے لینے کے وہ ہی تھے،لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی۔اِس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص اُن کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے گھر میں اس کی خالہ ہیںاور وہ بمنزلہ¿ ماں کے ہوتی ہے۔اِس لئے ماں کے بعد وہی رکھنے کی مستحق ہے۔مگر اور لوگ اِس ترجیح پر راضی اور متفق نہیں ہوئے۔آخر قرعہ اندازی پر اتفاق قرار پایا،اور صورت قرعہ کی بھی عجیب و غریب خلاف عادت ٹھہری۔جس کا بیان آگے آئے گا،اِس میں بھی حضرت زکریا علیہ السلام کامیاب ہوئے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم دونوں سمت تیرا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کے قرعہ سے تمام علماءغیر مطمئن رہے اور کہا کہ دریا میں چل کر قرعہ نکالتے ہیں۔ جس کا قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام علمائے کرام دریا کے کنارے آئے اور تمام بنی اسرائیل بھی آگئے۔ سب ہی دیکھ رہے تھے ۔ حضرت زکریا علیہ السلام اور تمام علمائے کرام نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ اس مرتبہ بھی قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ تمام علمائے کرام نے کہا ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام لوگوں نے پھر اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگے اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ اس طرح ہر مرتبہ قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ اور تمام علمائے کرام نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی چاہتے ہیں کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام ہی کریں ۔ قاضی ثناءاﷲ پانی پتی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اسے پروان چڑھایااور بہترین پرورش کی۔پس وہ اچھی طرح پروان چڑھی ،وہ ایک دن میں اتنی بڑھتیں جتنا بچہ ایک سال میں بڑھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت عکرمہ،قتادہ اور سدی سے نقل کیا ہے کہ جب حنہ نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو کپڑے میں لپیٹ کرمسجد کی طرف لے گئیںاور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کے علما ءکے پاس رکھا،اور بولیں کہ اِس نذر کو قبول کرو۔علماءنے اِس میں باہم مقابلہ شروع کر لیا،کیونکہ یہ اُن کے امام اور قربانیوں والے کی بیٹی تھی۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا؛”میں تم سب سے اس کو کفالت میں لینے کا زیادہ حق رکھتا ہوں،کیونکہ اس کی خالہ میرے عقد میں ہے۔جن کا نام ایشاع بنت قاقودا تھا،جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔علماءنے قرعہ کے بغیر اسے حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دینے سے انکار کر دیا۔وہ سب دریا کی طرف چل پڑے اور اُن کی تعداد ستایئس (۷۲) تھی ۔امام سدی نے کہا یہ دریائے اُردن تھا۔انہوں نے اپنے اپنے قلم اس شرط پر دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی پر ٹھہر جائے گا یا پانی پر بلند ہو جائے گا،یہ بچی اُسی کی کفالت میں رہے گی۔ایک قول کے مطابق جن قلموں سے وہ لوگ توریت لکھتے تھے،وہی قلم دریا میں ڈالے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیااور پانی کے اوپر چڑھ آیا۔باقی قلم نیچے اُتر گئے اور دریا میں بہہ گئے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم اپنی جگہ تیرتا رہااور پانی پر اِس طرح کھڑا رہا،گویا وہ مٹی میں گڑا ہوا ہے۔جبکہ دوسروں کے قلم بہہ گئے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کی اوپر والی سطح کی طرف بلند ہوا اور باقی قلم پانی کے بہاو¿ کے ساتھ بہہ گئے۔اِس طرح سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی کفالت آپ علیہ السلام نے کی۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو رزق عطا فرمانا 

اس طرح سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت کی ذمہ داری حضرت زکریا علیہ السلام پر آگئی۔ آپ علیہ السلام نے بڑی محبت سے انھیں پالا پوسا ۔ جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بڑی ہو گئیں تو گوشہ نشین ہو گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کسی سے نہیں ملتی تھیں۔ بلکہ صرف اپنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی رہتی تھیں۔ دن میں ایک آدھ مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام ملاقات کے لئے آتے تھے۔ جب بھی آپ علیہ السلام آتے تو دیکھتے تھے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس پھل فروٹ اور کھانا رکھا رہتا تھا۔آپ علیہ السلام نے پوچھا یہ رزق تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ کیونکہ سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے کوئی بھی سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نہیں جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہاں پر رزق پہنچ جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کے جواب میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ یہ اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایااور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام) کو بنایا۔جب کبھی زکریا(علیہ السلام) اُس کے حجرے (محراب)میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37 )

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش

حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میںسیدہ مریم رضی اﷲ عنہا آگئیں۔اور آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی نگرانی اور حکم کے مطابق بہت اچھی پرورش کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”محراب“کے بارے میںروایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ایک بالا خانہ بنوایا،جس کے سات دروازے تھے اور وہاں ان کو رکھا۔یا اِس سے بیت المقدس کی کوئی اعلیٰ جگہ مُراد ہے یا مسجد ہی مُراد ہے۔اس زبان میں ساری مسجد کو ”محراب“کہتے تھے۔جیسے اب مسجد کے غربی دیوار کے درمیانی حصے کو ”محراب “کہا جاتا ہے،جہاں کمان نما طاق بنا ہوتا ہے۔جیسے آج ”بیت اﷲ“(خانہ¿ کعبہ) ،مسجد حرام اور پورے مکہ¿ مکرمہ کی حدود کو”حرم“کہتے ہیں۔بلکہ مسجد نبوی شریف اور حدود مدینہ¿ منورہ کو بھی ”حرم“کہا جاتا ہے۔یعنی حرمت والی جگہ۔ایسے ہی لفظ ”محراب“بہت معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں بیت المقدس کا بالا خانہ ،وہاں کا کوئی خاص مقام مُراد ہے جو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاپرورش کے لئے منتخب ہوا تھا۔یعنی جب حضرت زکریا علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس اُن کے بالا خانے یا مسجد میں جاتے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔لفظ ”محراب“سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے بنائی جاتی ہے۔لیکن یہاں ”محراب“سے مُراد یہ چیز نہیں ہے۔صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے متصل سطح زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں،جن میں عبادت گاہ کے مجاور،خدام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں۔انہیں ”محراب“کہا جاتا ہے۔اسی قسم کے کمروں میں سے ایک میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا معتکف رہتی تھیں۔

اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا حضرت زکریا علیہ السلام کی نگرانی میں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بڑی ہورہی تھیں۔سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کچھ بڑی ہوئیں تو منت کے مطابق اُن کو عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔حضرت زکریا علیہ السلام جو اُسوقت عبادت خانہ(بیت المقدس ) کے متولی بھی تھے اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے خالو بھی تھے،اُن کی نگرانی میں دے دی گئیں۔ایک علحیدہ کمرہ میں اُن کو رکھا گیا۔ جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جوان ہو گئیں تو حضرت زکریا علیہ السلام باہر سے تالا ڈال کر جایا کرتے تھے۔مگر جب واپس آتے تو دیکھتے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا عبادت میں مشغول ہیں اور اُن کے پاس بے موسم کے طرح طرح کے پھل رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنے اچھے اور تاز پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا کہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور” اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ بیٹی مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟سیدہ مریم صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرما کہ یہ اﷲ کے پاس سے آتا ہے۔”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“مسند ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے۔بھوک سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تکلیف ہو نے لگی۔اپنی سب ازواجِ مطہرات رضی اﷲ عنہما کے گھر ہو آئے،لیکن کہیں بھی کچھ نہیں پایا۔اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا؛”بیٹی تمہارے پاس کچھ کے کہ میں کھالوں؟مجھے بھوک لگ رہی ہے۔وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ بھی نہیں ہے۔اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز نے دو روٹیاں اور چند گوشت کے ٹکڑے آپ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں لا کر پیش کئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اسے لیکر برتن میں رکھ لیا اور بسمہ اﷲ پڑھکر ڈھانک دیا۔پھر فرمایا کہ حالانکہ میں اور میرے شوہر اور بچے بھی بھوکے ہیں،لیکن ہم سب آج فاقے سے ہی گذاریں گے اور اﷲ کی قسم ! آج تو یہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہی خدمت میں پیش کروں گی۔پھر حضرت حسن یا حسین رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بلا لائیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم راسے میں ہی تھے کہ مل گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیاکہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اﷲ تعالیٰ نے کچھ بھجوا دیا ہے،جسے میں نے آپ صلی اﷲ علیہ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری پیاری بیٹی!لے آؤ۔“اب جو برتن کھولا تو دیکھتی ہیں کہ روٹی اور سالن اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ برتن بھرگیا ہے۔دیکھ کر حیران ہوئیں،لیکن فوراًسمجھ گئیں کہ اﷲ کی طرف سے ہے اِس میں برکت نازل ہو گئی ہے۔اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد ِ پاک پڑھا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے لا پیش کر دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ کر اﷲ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی !یہ کہاں سے آیا؟“سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا مسکرائیں اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲوسلم !اﷲ کے پاس سے آیا ہے۔اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی!اﷲ تعالیٰ نے تجھے بھی نے اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا ہے۔انہیں جب بھی کوئی چیز عطا فرماتا اور اُن سے پوچھا جاتا تھا تو وہ بھی یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ ”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اور بچوں کو بلوایا۔اور سب ازواج مطہرات کو بھی بھیجا۔سب نے شکم سیر ہو کر کھایا۔پھر بھی اتنا ہی باقی رہا ،جتنا پہلے تھے۔پھر آس پاس کے پڑوسیوں کے یہاں بھیجا گیا ۔علامہ غلام رسول سعید لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں امام ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس سردیوں میں گرمیوں کے موسم کے بھی پھل آتے تھے،اور گرمیوں میں سردیوں کے موسم کے بھی آتے تھے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے پھل رزق میں عطا فرمائے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی خدمت کے لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو قبول کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کوکوئی اولاد نہیں تھی۔ یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی خدمت کے لئے لڑکے کی بجائے لڑکی کو بھی قبول کر سکتا ہے تو مجھے بڑھاپے میں ضرور اولاد عطا فرمائے گا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطا فرما۔ بے شک تو ہی سب کی سننے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اِسی جگہ زکریا(علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی۔کہا کہ اے میرے رب!مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بے شک تُو دعا کا سننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 38)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے،جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام ) پر کی ۔جب اُس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی ۔اے میرے رب !میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے۔لیکن میں کبھی بھی دعا کر کے محروم نہیں رہا۔مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔میری بیوی بھی بانجھ ہے،پس تُو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔“(سورہ مریم آیت نمبر 2سے6تک)

حضرت زکریا علیہ السلام کا اﷲ پر یقین

حضرت زکریا علیہ السلام کو اﷲ کی ذات پر مکمل یقین تھا،اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کرآپ علیہ السلام کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ اِس بڑھاپے میں بھی مجھے اولاد عطا فرما دے گا۔مولانا مفتی محمد شفیع سورہ آل عمران کی آیت نمبر 38کی تفسیر میںلکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام کے اُس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی اور زمانہ بھی بڑھاپے کا آگیا تھا،جس میں عادةً اولاد نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرتِ خداوندی کا اُن کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات بڑھاپے میں بھی اولاد دے سکتی ہے۔لیکن چونکہ اﷲ کی عادت آپ علیہ السلام نے مشاہد نہیں فرمائی تھی کہ وہ بے موقع بے موسم چیزیں عطا کرتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام کو اولاد کے لئے دعا کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔لیکن اُس وقت جب آپ علیہ السلام نے دیکھ لیا کہ اﷲتعالیٰ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو بے موسم پھل اور میوے عطا فرما رہا ہے تو اب آپ علیہ السلام کو بھی سوال کرنے کی جرا¿ت ہوئی۔کہ جو قادرِ مطلق بے موقع پھل عطا کر سکتا ہے وہ بے موقع اولاد بھی عطا فرمائے گا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے۔اِس نوجوان صالحہ لڑکی رضی اﷲ عنہا کو دیکھ کر فطرةً اُن کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش !اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا فرمائے۔اور یہ دیکھ کر کہ اﷲ تعالیٰ کس طرح اپنی قدرت سے اِس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے ،انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اﷲ چاہے تو اِس بڑھاپے میں بھی اُن کو اولاد عطا فرما سکتا ہے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر پہلے بھی پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اپنے لئے بڑھاپے میں اولاد کی دعا اسی لئے کی کہ اللہ تعالیٰ میری بانجھ بیوی کو بھی اولاد کا سکھ دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ آپ علیہ السلام اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کا پیغام سنانے ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ فرشتے نے کہا۔ اے حضرت زکریا علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ تمہیں یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں۔ وہ یعنی یحییٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا۔ وہ سردار ہو گا۔ اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔ اور نبی ہوگا۔ اورہمارے خاص بندوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس فرشتوں نے انہیں آواز دی ،جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے،کہ اﷲ تعالیٰ تجھے یحییٰ (علیہ السلام ) کی یقینی خوش خبری دیتا ہے۔جو اﷲ کے کلمہ(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہے۔سردار،ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے نبی ہے۔۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 39)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے زکریا(علیہ السلام )!ہم تجھے ایک بچے کی خوش خبری دیتے ہیں۔جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام) ہوگا۔ہم نے اِس سے پہلے اس کا نام بھی کسی کو نہیں دیا ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 7)

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما لیااور آپ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے مولیٰ !مجھے اِس بڑھاپے میں خاص طور سے اپنی طرف سے ایک پاک و صاف و ستھرا بیٹا عطا فرما۔تُو دعاو¿ں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُونے حنہ کی دعا قبول فرما لی تو میری دعا کوبھی ضرور قبول فرمائے گا۔آپ علیہ السلام بہت بڑے عالم تھے اور بارگاہِ الہٰی میں قربانیاں پیش کرتے تھے۔مسجد شریف میں آپ علیہ السلام کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ علیہ السلام ایک دن مسجد میں نماز میں مشغول تھے اور باہر لوگ اجازت کے منتظر تھے۔دروازہ بند تھا کہ اچانک آپ علیہ السلام نے ایک سفید پوش جوان کو دیکھا ۔وہ جبرئیل علیہ السلام تھے۔انہوں نے آپ علیہ السلام کو اِس حال میں خوش خبری سنائی کہ اے زکریا علیہ السلام ! تمہاری دعا قبول ہوئی۔رب تعالیٰ تمہیںایک صالح متقی بیٹا عطا فرمائے گا۔جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گااور وہ بہت سی خوبیوں کا مالک ہوگا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوبیاں

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بشارت دی کہ تمہارا بیٹا یحییٰ علیہ السلام بہت ساری خوبیوں کا مالک ہوگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں ہی تھے کہ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ علیہ السلام کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا ،جس کا نام یحییٰ رکھنا۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اﷲ کی طرف سے ہے۔یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی حیا ایمان کی وجہ سے ہو گی۔وہ اﷲ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے۔حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ سبسے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ہیں۔اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔سید کے معنی حلیم ،برد بار ،علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیز گار، فقیہ ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل،جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں۔حصور کے معنی عورتوں سے دور رہنے والا،حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام ہی اﷲ سے بے گناہ ملیں گے،(کیونکہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے)قاضی ثناءاﷲ پانی پتی ”سید“کے معنی میں لکھتے ہیں۔آپ (حضرت یحییٰ )علیہ السلام اپنی قوم میں رئیس تھے،علم ، عبادت ، تقویٰ اور تمام بھلائی کے کاموں میں اُن سے بڑھکر تھے۔امام مجاہد(جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں کہ ”سید “کا معنی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے ،اِس کا معنی حلیم ہے،جسے کوئی چیز غصہ نہیں دلا سکتی ۔امام سفیان نے کہا جو حسد نہیں کرتا ایک قول ہے کہ معنی قناعت کرنے والا۔”حصورا “کے معنی میں لکھتے ہیں۔اس کی اصل ”حصر“ہے۔جس کا معنی روکنا منع کرنا ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے۔ایک قول کیا گیا ہے کہ وہ اِس خواہش سے بے نیاز تھے،جس طرح ایک روایت میں آیا ہے۔میں (قاضی ثناءاﷲ پانی پتی) کہتا ہوں کہ بہتر بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ انہیں روک دیا گیا۔(وہ محفوظ تھے)اپنے نفس کو خواہشات اور لہو لعب کے کاموں سے روکنے والے تھے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا تعجب

فرشتے نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور بشارت سنائی تو آپ علیہ السلام سجدہ¿ شکر ادا کرنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد عرض کیا کہ اے اللہ تعالیٰ ، یہ تعجب کی بات ہے کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اور میر ی بیوی بانجھ ہے۔ اس کے باوجود تو مجھے لڑکا عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ بے شک ایسا ہی ہوگا۔ اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیںکر سکے گا۔ صرف اشارے سے بات کر سکے گا۔ اور اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح اور شام اس کی خوب پاکی بیان کرو۔ اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 120برس تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی زوجہ ایشاع اُس وقت 90نوّے سال سے زیادہ عمر کی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(حضرت زکریا علیہ السلام) کہنے لگے ،اے میرے رب !میرے یہاں بچہ کیسے ہوگا؟میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔فرمایا،اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 40)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے ،میرے رب !میرے یہاں لڑکا کیسے ہو گا؟میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے ک انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں۔(سورہ مریم آیت نمبر8)مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے جب فرزند کی بشارت سنی تو عرض کیا کہ اے مولیٰ !میرے فرزند کیونکر ہوگا ؟میں تو ایک سو بیس120سال کا بوڑھا ہوں اور میری بیوی اٹھانوے98سال کی بوڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ بانجھ بھی ہے۔آیا ہماری حالتوں میں تبدیلی کی جائے گی یا ہم دونوں اسی طرح رہیں گےاور فرزند ہو جائے گا۔جواب ملا کہ اے زکریا علیہ السلام !تمہارے اولاد ایسے ہی ہوگی نہ تمہاری جوانی لوٹے گی اور نہ تمہیں دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ تمہاری بیوی میں تبدیلی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ جا چاہتا ہے کرتا ہے وہ ہر طرح سے قادر ہے۔

نشانی مانگنے کی وجہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ملہ پر پورا یقین تھا۔ لیکن جب انھوں نے والد بننے کی بشارت سنی تو خوشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے نشانی مانگی کہ جب میری بیوی حاملہ ہو گی تو مجھے کس طرح معلوم ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نشانی بتائی کہ جب تمہاری حاملہ بیوی ہو گی توتم تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکو گے۔ اور تین دنوں میں تم اکیلے میں میرا ذکر اور تسبیح کر سکو گے۔ تمہاری زبان درست کام کرے گی۔ لیکن لوگوں کے سامنے جاﺅ گے تو زبان بند ہو جائے گی۔ اور اشارے سے لوگوں کو بتاﺅ گے پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ علیہ السلام پنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے ۔ باہر بنی اسرائیل کے لوگ اپنے مسائل لے کر آئے ہوئے تھے۔ اُن کے مسائل کو حل کر نے کے لئے آپ علیہ السلام باہر نکلے اور بات کرنی چاہی تو زبان بند ہو گئی۔ آپ علیہ السلام کچھ دیر کے لئے حیران ہوئے کہ ابھی تو میں حجرے میںاچھا خاصا بول رہا تھا۔ یہا ں زبان کیسے بند ہو گئی۔ تو آپ علیہ السلام کو یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔اور مجھے والد بننے کی خوشی عطا فرمادی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”کہنے لگے اے رب !میرے لئے اِس کی کوئی نشانی مقرر کر دے۔فرمایا ؛نشانی یہ ہے کہ تین دنوں تک تم لوگوں سے بات نہیں کع سکو گے۔صرف اشارے سے سمجھاو¿ گے۔تب تم اپنے رب کا ذکر کژرت سے کرنا،اور صبح و شام اُس کی تسبیح بیان کرتے رہنا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر41)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(اﷲ کا) ارشاد ہوا،کہ وعدہ اِسی طرح ہوچکا ہے۔تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر یہ بالکل آسان ہے اور تُو خود جب کہ کچھ نہیں تھا تو میں تجھے پیدا کر چکا ہوں۔کہنے لگے ،میرے رب !میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ بھلا چنگا ہونے کے باوجود تُو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہیں سکے گا۔اب زکریا(علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کراپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔(سورہ مریم آیت نمبر 9سے11 تک)

اﷲ تعالیٰ نے خود نام رکھا

حضرت زکریا علیہ السلام کو جو نشانی اﷲ تعالیٰ نے بتائی تھی ،اُس کاظہور ہوا تو آپ علیہ السلام کومعلوم ہو گیاکہ اﷲ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت عطا فرما دی ہے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔جب حضرت زکریا علیہ السلام کی عُمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی ۔اُس وقت آپ علیہ السلام نے عاجزی و انکساری سے اﷲ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اﷲ !مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیئے ،تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کر سکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت جب کہ وہ بڑھاپے کی انتہائی عُمر تک پہنچ چکے تھے۔اُن کی بیوی بانجھ تھیں یعنی ظاہری اسباب میں اس کو کوئی امکان نہ تھا کہ اِس عُمر میں ان کے گھر اولاد پیدا ہو۔مگر اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہارکرتے ہوئے اِس نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔اﷲ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جب اولاد کی خوش خبری سنائی تو اس خبر پر انہیں خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔انہوں نے عرض کیا ،الہٰی !میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجیئے،جس سے مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے گھر ولادت ہونے والی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِس کی علامت اور نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک تندرست ہونے کے باوجود کسی سے بات نہیں کر سکو گے۔جب ایسا ہو تو سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔یہ واقعہ جہاں حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا تھا ،وہیں پوری قوم بنی اسرائیل کے لئے بھی نہایت سکون ،خوشی اور مسرت کا پیغام تھا۔اِسی لئے جب حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے وقت آیا اور بات چیت سے زبان رک گئی تو آپ علیہ السلام نے اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قوم بنی اسرائیل کو اشاروں سے بتایا کہ وہ بھی صبح و شام اﷲ کی حمد وثناءکرتے رہیں۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعاکو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری عطا فرمائی ۔جن کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کا کے ارشاد فرمایاکہ اِس سے پہلے یحییٰ کسی کا بھی نام نہ تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام جو اﷲ کے نبی تھے ،بچپن ہی سے نبوت کی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن ہی سے نہایت ذہین و ذکی سمجھدار دانا و بینا تھے۔بچپن کی عمر میں بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں ،لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کا کھیل کود میں دل نہیں لگتا تھا ۔انہیں فضول اور غلط باتوں سے سخت نفرت تھی اور جس بات میں سنجیدگی اور وقار نہیں ہوتا وہ اس بات کے قریب بھی نہ جاتے تھے۔اُن کا دل پیدائشی طور پر اﷲ کے خوف سے بھرا ہوا تھا وہ ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔وہ توریت کے ہر حکم پر پوری طرح عمل فرماتے تھے۔جن باتوں سے پرہیز کے لئے کہا گیا تھا اُس سے پرہیز کرتے تھے۔نہایت متین ،سنجیدہ اور باقار تھے۔اﷲ تعالیٰ نے زندگی میں اور موت کے بعد امہیں سلامتی عطا فرمائی ہے اور قیامت میں بھی اُن کو سلامتی عطا کی جائے گی۔وہ مشکل وقت میں صحیح رائے قائم کرتے اورہر معاملہ میں فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام 

اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو جب اولاد کی بشارت دی تھی تو اس اولاد کا نام یحییٰ بتا یا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے توریت کا علم حاصل کرنے لگے تھے۔ اور لگ بھگ سات سال کی عمر تک توریت کو ختم کر لیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کو اتنی کم عمر میں توریت کے تمام احکام یاد ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی اپنا زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار تے تھے۔ آپ علیہ السلام کی عمر کے لڑکے کہتے کہ آﺅ چلو کھیلیں تو آپ علیہ السلام فرماتے نہیں چلوپڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت نرم دل اور محبت کرنے والا بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے والدین کی بہت خدمت کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے لوگوں کی بھی بہت زیادہ مدد کرتے تھے۔ اور اُن کے مشکل سے مشکل مسائل کو توریت کے مطابق حل کر دیتے تھے۔ بنی اسرائیل اس بچے کی فہم و فراست اور علم اور عقل پر حیران ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے پورے بنی اسرائیل میں آپ علیہ السلام کے علم اور فہم و فراست اور بہترین اخلاق کا یہ اثر ہو ا کہ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی بے پناہ عزت کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کی بات کو حرفِ آخر ماننے لگے۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام آپ علیہ السلام کے پاس آکر توریت کا درس لینے لگے۔ اور نوجوانی کے عالم میں ہی آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے بڑے بڑے بوڑھے علمائے کرام کے استاد بن گئے۔

حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہم عُمر تھے

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمایا،اور اُسی وقت سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بھی اﷲ کی شان سے بغیر کسی مرد کے چھوئے حاملہ ہوگئیں تھیں۔یہاں ہم صرف حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا ذکر تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے۔حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے لگ بھگ ایک ساتھ اعلان نبوت کیا تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے پہلے اعلان نبوت کیا اور بیت المقدس میں ہی مقیم رہے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ عرصہ بعد اعلان نبوت کیا اور وہ ایک جگہ رک کر نہیں رہتے تھے، بلکہ بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں ایک بہت اچھا مقام تھا ۔اِس لئے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تو بنی اسرائیل حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور بنی اسرائیل سے فرمایاکہ میں تو صرف نبی ہوں ،جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول بھی ہیں۔علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ پہلے فرد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اُن کی تصدیق کی۔اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے اور کہا جاتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے اور دونوں خالہ ذاد بھائی تھے۔پس جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اُٹھے اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حاملہ ہوئیں تو اُسی وقت اُن کی بہن (حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ کی بہن ہیں)حضرت یحییٰ علیہ السلام سے حاملہ تھیں تو اپنی بہن سے ملنے کے لئے آئیں تو کہا؛”اے مریم !کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ میں حاملہ ہوں؟“تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے اُسے کہا؛”کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ میں بھی حاملہ ہوں؟“تو انہوں نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے ،میں اُس کے بارے میں محسوس کر رہی ہوں کہ جو تیرے پیٹ میں ہے اُسے وہ سجدہ کر رہا ہے۔اِسی وجہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے جنین کو محسوس کیا کہ وہ اپنا سر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پیٹ کی طرف جھکا رہا ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا اعلان نبوت 

اﷲ تطعالیٰ سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے یحییٰ (علیہ السلام) !میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی۔ اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وہ پرہیز گار شخص تھا ۔اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا ۔وہ سرکش اور گنہ گار نہیں تھا۔ اُس پر سلام ہے جس دن وہ پید ہوا ،اور جس دن مرے گا، اور جس دن وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 12سے 15تک)تمام بنی اسرئیل میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ایک مقام پیدا ہو چکا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو نیکیوں کا حکم دینے لگے اور برائیوں سے روکنے لگے۔ شروع میں ہم نے آپ کو بنی اسرائیل کے تمام حالات بتائے تھے۔ کہ اُن کے تمام قبیلے آپس میں لڑنے لگے تھے۔ اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے رومیوں سے مدد مانگی تھی۔ تو رومیوں نے تمام بنی اسرائیل پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایک گمراہ شخص ہیرو دیاس کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا تھا۔ یہ بہت ہی گمراہ شخص تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 12کی تفہیم میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی ہے کہ اِس فرمان ِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلامپیدا ہوئے اور جوانی کی عُمر کو پہنچے ۔اب بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رُشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔یہاں صرف ایک فقرے میں بیان کر دیا گیا ہے۔جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔یعنی وہ توریت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو بھی اِس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔

بچپن میں اﷲ کی کتاب (توریت) کی سمجھ

اﷲ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایسا بنایا تھا کہ آپ علیہ السلام کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا شوق تھا اور آپ علیہ السلام بچوںکے ساتھ کھیلنے کے بجائے توریت کو پڑھتے اور اُس کی آیات پر غورو فکر کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔بمطابق ِ بشارت الہٰی حضرت زکریا علیہ السلام کے یہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام پید ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں توریت سکھا دی ،جو اُن(بنی اسرائیل) میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیائے کرام علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔اُس وقت اُن کی عُمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اِس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اُسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص،اجتہاد،کوشش و خلوص کے ساتھ اﷲ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔بچے آپ علیہ السلام سے کھیلنے کو کہتے تھے تو یہ جواب پاتے تھے کہ میںکھیل کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا وجود حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر سوائے ہمارے اور کوئی قادر نہیں ہے۔آپ علیہ السلام ہر میل کچیل سے ،ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے ۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عُمر کا خلاصہ تھا۔آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اﷲ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ساتھ ہی والدین کے فرمانبردار ،اطاعت گزار اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے۔کبھی کسی بات میں والدین کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔کبھی اُن کے فرمان کے باہر نہیں ہوئے۔کبھی اُن کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا۔کوئی سرکشی ،کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہیں تھی۔اِن اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔یعنی پیدائش والے دن،موت والے دن اور حشر والے دن ۔یہی تینوں گھبراہٹ کی اور انجان جگہیں ہوتی ہیں۔اِن تینوں وقتوں میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کی سادگی

حضرت یحییٰ علیہ السلام انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔اور بنی اسرائیل کو بھی اِسی کی تلقین کرتے تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے سورہ آل عمران اور سورہ مریم کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ6 مہینے بڑے تھے۔اُن کی والدہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ قریبی رشتہ دار تھیں۔تقریباً تیس سال کی عُمر میں آپ علیہ السلام نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرق اُردن کے علاقے میں دعوت الی اﷲ کا کام شروع کیا۔آپ علیہ السلام فرماتے تھے؛”میں بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔“مرقس کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں سے گناہوں کی توبہ کرواتے تھے اور توبہ قبول کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے۔یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہوجائیں۔سلطنت ِ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ اُن کے معتقد ہوگئے تھے اور اُن کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے۔اِسی بنا پر اُن کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا مشہور ہو گیا تھا۔عام طور سے بنی اسرائیل اُن کی نبوت کو تسلیم کر چکے تھے ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا قول تھا کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔آپ علیہ السلام اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا ۔اِس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی(قیامت) قریب آ گئی ہے۔وہ لوگوں کو روزے کی تلقین کرتے تھے ۔وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ”جس کے پاس دو قمیص ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو اُسے بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔“محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ہم کیا کریں ؟تو انہوں نے فرمایا ”جو تمہارے لئے مقرر ہے ،اُس سے زیادہ (یعنی رشوت)نہ لینا۔“سپاہیوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے کیا ہدایت ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ناحق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر ہی کفایت کرو۔“بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے(دنیا پرست )علماءفریسی اور صدوقی اُن کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا؛”اے سانپ کے بچو !تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟....اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے....اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے،پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی روایات

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن ہر روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا ہے۔بنی اسرائیل نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کردیا ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔دنیا میں صرف یہودی (بنی اسرائیل) ہی وہ بد ذات قوم ہے جس نے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔کُل چار سو (400) انبیائے کرام یا چار سوستر(470)یا صرف ستر(70)انبیاءعلیہم السلام شہید کئے گئے۔جن میں سے پانچ کا نام مشہور ہوا۔(1) یوشا (2) یسعیا یا شعیا(3) شعیب (4) زکریا (5) یحییٰ علیہم السلام۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوبھی انہوں نے قتل کرنا چاہا،مگر رب تعالیٰ نے ان کو آسمان پر بلا لیا۔آقائے کائنات سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اِن بد بختوں نے دو دفعہ شہید کرنے کی کوشش کی،مگر ناکام رہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی کچھ روایات ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بادشاہ کو منع کیا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بد بخت بنی اسرائیلیوں نے شہید کیا ہے،پہلی روایت علامہ غلام رسول سعیدی ”البدایہ و النہایہ“کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیںکہ اُس زمانے میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اُس بادشاہ کو اِس کام سے منع کیا۔اِس وجہ سے اپس عورت کے دل میں آپ علیہ السلام کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔جب اُس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہو گئی تو اُس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیابادشاہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر کے اُن کا سر اُس عورت کے سامنے پیش کردیا۔کہاجاتا ہے کہ وہ عورت بھی اُسی ساعت مر گئی۔ایک قول یہ ہے کہ اُس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ علیہ السلام پر فریضة ہوگئی تھی ،اُس نے آپ علیہ السلام سے اپنی مقصد براری کرنا چاہی ،آپ علیہ السلام نے انکار کر دیا ۔جب وہ آپ علیہ السلام سے مایوس ہو گئی تو اُس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرایا اور اُن کا مبارک سر کاٹ کر ایک طشت میں لکھ کر اُس عورت کو پیش کر دیا۔

بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔”کیونکہ ہیرودیس نے اپنا آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب اسے قید خانے میں باندھ رکھا تھا ،کیونکہ ہیرودیس نے اُس سے نکاح کر لیا تھا۔اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں ہے۔پس ہیرودیاس اُس سے دشمنی رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ اُسے قتل کرائے ،مگر نہ ہوسکا۔کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اُس سے ڈرتا اور اُسے بچائے رکھتا تھااور اُس کی باتیں سن کر بہت حیران ہو جاتا تھا،مگر سنتا خوشی سے تھا۔اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور رئیسوں کی ضیافت کی اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی ۔اور ناچ کر ہیرودیس اور اُس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اُس لڑکی سے کہا ؛جو چائے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔اور اُس نے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے آدھی سلطنت بھی مانگے تو دے دوں گا۔اور اپس نے باہر آکر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں؟ اُس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔وہ فوراً بادشاہ کے پاس اندر آئی اور کہا کہ میں چاہتی ہو ں کہ تُو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔پس بادشا نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اُس کا سر لائے۔اس نے قید خانے میں جاکر اُس کا سرکاٹا اور ایک تھال میں لاکر لڑکی کو دے دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔پھر اُس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اُٹھا کر قبر میں رکھی۔

جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی ایک اور روایت میں امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن زبیررضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے اپنے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“اُس عورت نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیا ۔بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی طرف اپنے سپاہی بھیجے ۔آپ علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ اُن سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کا سر تن سے جدا کیا اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے ۔اُس وقت بھی وہ سر کہہ رہا تھا؛”جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں؛وہ عورت جس نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو شہید کرایا تھا ۔وہ بادشاہت کی اپنے آباءسے وارث ہوئی تھی ،اُس کے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر لایا گیا تو وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھی تھ۔آپ علیہ السلام کے سر سے آواز آئی ؛”اے زمین !اِس عورت کو نگل جا ۔“پس زمین اس عورت کو شاہی تخت سمیت نگل گئی۔

قاتل بادشاہ کا انجام

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے ایک عورت کے کہنے پر شہید کروا دیا تھا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اسے اور بنی اسرائیل کو سزا دی۔کیونکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بھی آپ علیہ السلام کو شہید کر دینا چاہتی تھی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا واقعہ اِس طرح ہے کہ ہیرودیس یہودی( اسرائیلی بادشاہ)اپنی سگی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔اُس کی بیوہ بھابھی بھی اِس پر لالچ میں آکر راضی تھی اور یہ بیوہ عورت اپنے خاوند کی موت کے بعد فاحشہ و کافرہ بھی ہو چکی تھی۔لیکن شریعت ِ توریت اور شریعت ِ زکریا و یحییٰ علیہم السلام میں یہ نکاح قطعاً حرام تھا ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام سختی سے منع فرماتے تھے ۔بیوہ بھابھی نے مشورہ دیا کہ اُن کو قتل کر دیا جائے ۔ہیرودیس نے جوش عشق میں ایک آدمی کو مقرر کر دیا کہ جب رات کو آپ علیہ السلام بیت المقدس میں اپنی عبادت میں مشغول ہوں تو خفیہ انداز سے اُن کو قتل کر دینا اور سر کاٹ کر میرے پاس لے آنا۔چند دن بعد اُس ظلم کافر نے آپ علیہ السلام کو رات میں سجدے کی حالت میں چہید کر دیا اور سر کاٹ کر بادشاہ کے پاس لایا۔بادشاہ نے وہ سر اپنی فاحشہ بھابھی کے پاس بھیج دیا۔اُس بیوہ کا نام نفرہ تھا ۔اپنے بالا خانے سے اُتر کر خوشی خوشی نیچے آرہی تھی کہ سیڑھیوں سے پاو¿ں پھسلا ،جس سے دماغ پھٹا اور وہ وہیں مر گئی اور قدرت ِ خداوند ی سے زمین میں دھنستی چلی گئی تھی۔اور آپ علیہ السلام کا سر مبارک بھی ساتھ ہی دھنس گیا ۔اس کی بیٹی یعنی ہیرودیس کی سگی بھتیجی فخرہ نامی کو اسی (80) یا نوے (90) دن بعد جنگل میں جاتے ہوئے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا ۔وہ اُس کے زہر سے تیسرے دن مر گئی ۔ہیر ودیس پر بخت نصر بادشاہ نے حملہ کر کے شکست دی اور قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔روزآنہ اُس کو اپنے غلاموں کے ذریعے کوڑے لگواتا تھا اور ذلیل کرنے کے لئے لونڈیوں سے سر پر جوتے لگواتا۔بھوکا رکھتا تھا ،جب وہ روتا بلبلاتا ،تب تھوڑا کھانا پانی دیتا۔اسی حالت میں نہایت ذلت آمیز ذخمی پیپ اور پھوڑوں کی حالت میں وہ کپڑے نہیں پہن سکتا تھا۔ننگا ایک کمرے میں پڑا رہتا ۔ایک سال بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔خود کہتا تھا کہ میری اور میرے خاندان کی یہ ذلت آمیز تباہی بربادی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے ۔

بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے شہید کر دیا۔اِس پر اﷲ کا غضب اُن پر بھڑکا۔اِس سے پہلے حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب بھڑکا تھااور اُس وقت کے بخت نصر نامی بادشاہ نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیا تھا۔اِ سکا ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت شعیا اور حضرت ارمیاہ علیہم السلام “میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔اُس وقت جس بادشاہ نے حملہ کر کے غلام بنایا تھا ۔اُس کا نام بھی بخت نصر تھااور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جس بادشاہ نے حملہ کیا اُس کا نام بھی بخت نصر تھا۔(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بابل کے بادشاہوں کا لقب ”بخت نصر“ہوتا ہوگا)مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔بخت نصر نے ایک دن میں ستر ہزار بنی اسرائیل قتل کروائے،بیت المقدس میں توڑ پھوڑ کی ،آگ لگوائی اور بقیہ تمام بنی اسرائیلی حکومتوں کو برباد کیا اور سب بنی اسرائیل کو قیدی بنا لیا۔لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کے گلے سے خون نکلنا بند نہیں ہوتا تھا۔اور بنی اسرائیل جانتے تھے کہ جب تک یہ خون بند نہیں ہوگا بنی اسرائیل کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہے گا۔اِسی لئے اُس دور کے ایک ولی اﷲ جو آپ علیہ السلام کی اُمت کے ہی ولی تھے ۔حضرت ارسیاہ رضی اﷲ عنہ ،اُن سے لوگوں نے عرض کیا کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدن سے خون بند نہیں ہو رہا ہے۔ اور جب تک خون بند نہیں ہوگا تب تک دفن نہیں کیا جاسکتا ۔اور نہ ہی بخت نصر کے حملے و قتل عام بند ہو سکتا ہے۔دمشق(فلسطین) تمام فتح ہوچکا تھا ،ظلم کا بازار گرم تھا ،بنی اسرائیل کی تمام بد معاشیاں فنا ہو چکی تھیں۔تب حضرت ارسیاہ نے جسم ِ مبارک کے عرض اور التجا کی کہ اے خون اب بند ہوجا۔بہت قتل عام و ذلت ہو چکی ہے ،تو خون بند ہوا۔اِن ہی یہودیوں نے تقریبا ً پچیس سال پہلے ولادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے دنوں میں حضرت زکریا علیہ السلام کی تبلیغ دین و ایمان اور شریعت کی پابندیوں سے تنگ آکر ایک بری تہمت لگا کر آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی شہادت یا وفات 

حضرت زکریا علیہ السلام کے انتقال یا شہادت کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا انتقال یاشہادت حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت سے پچیس سال پہلے ہوچکا تھا۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب بادشاہ کا محل زمین میں دنس گیاتو تمام بنی اسرائیل نے حضرت زکریا علیہ السلا م کو قتل کرنے کے لئے گھیر لیا تو آپ علیہ السلام بھاگے اور جنگل میں ایک درخت پھٹا اور آپ علیہ السلام اُس میں چھپ گئے۔لیکن کپڑے کا کونہ درخت کے باہر رہ گیا ۔جسے پہچان کر بنی اسرائیل نے درخت کے ساتھ آپ علیہ السلام کو چیر دیا۔لیکن یہ روایت بڑی عجیب لگتی ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس پر شدید جرح کی ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کوہی ہے۔واﷲ و اعلم۔

اگلی کتاب

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں