پیر، 5 جون، 2023

حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام مکمل Life of Prophet Ilyaas and Ysaa


حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام مکمل

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو اپنا جا نشین نہیں بنایا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ یہ بہت ہی نا اہل اور مطلب پرست تھا ۔ بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس ، بیت لحم ، غزہ ( غازہ ) صور اور ایلہ کی عمارتوں کی توسیع کی۔ لیکن وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگا تھا اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس لاد دیئے تھے۔ بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میں کمی کی مانگ کی رعایت کی مانگ کی تو اس نے رعایت کرنے کے بجائے ٹیکس اور بڑھادیئے۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل اس سے بد ظن ہو گئے اور اکثریت اس کے خلاف ہو گئی۔

سلطنت دو حصوں میں یہودیہ اور اسرائیل میں تقسیم

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے آپ علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تھی۔ جسے آپ علیہ السلام نے سختی سے کچل دیا تھا۔ اس باغی کا نام یر یعام بن نباط تھا۔ وہ جان بچا کر مصر بھاگ گیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کے وصال تک وہیں رہا۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رجعام سے بد ظن ہو گئے ہیں تو وہ ملک کنعان واپس آیا۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فلسطین ، لبنان ، اردن اور شام کا کچھ حصہ اس وقت ملک کنعان میں آتا تھا) اور بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ اب حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ رجعام بیت المقدس اور آس پاس کے علاقوں کا حکمراں تھا۔ اور بنی اسرائیل کے صرف دو قبیلے بنو یہوداہ اور بنو بن یامن اس کے ساتھ تھے۔ اور اس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت یہودیہ “ رکھا۔ اور لبنان ، اردن اور شام کے کچھ علاقوں پر یربعام بن نباط کی حکومت تھی اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے اس کے ساتھ تھے۔ اس نے اپنی سلطنت کا نام ” سلطنت اسرائیلیہ “ یا ”سلطنت اسرائیل “ رکھا۔ اب حالت یہ ہو گئی تھی کہ بنی اسرائیل دو ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے اور دو حکومتیں چل رہی تھیں۔

سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ میں بُت پرستی کی شروعات 

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لیکن بنی اسرائیل اتنے بد بخت ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بت بنا دیں۔ آپ علیہ السلام انہیںڈانٹا تھا تو خاموش بیٹھ گئے تھے۔ لیکن جب آپ علیہ السلام توریت لینے کےلئے چالیس دنوں تک کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سامری نے بچھڑے کا بت بنایا تھا۔ اور بہت سارے بنی اسرائیل اس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ ایسا ہی معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد پیش آیا اور پہلے تو آپ علیہ السلام کی سلطنت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک سلطنت یہودیہ تھی اور دوسری سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ تھی۔ جو بعد میں سلطنت سامریہ بن گئی۔ سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بادشاہ یربعام بن نباط نے جب دیکھا کہ سلطنت یہودیہ میں بیت المقدس کو آج بھی تمام بنی اسرائیل مقدس مانتے ہیں تو اس نے سوچا کہ اسی طرح میری سلطنت کے بنی اسرائیل بیت المقدس جاتے رہے تو دھیرے دھیرے سلطنت یہودیہ سے متاثر ہو کر کہیں مجھ سے بغاوت نہ کرنے لگیں اور مجھے قتل کر کے بادشاہ رجعام کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اسی لئے اس نے اپنے وزراءسے مشورہ کیا اور سونے کے دو بچھڑے بنائے اور اپنی سلطنت میں اعلان کروا دیا کہ تم لوگوں کو ملک مصر سے نکال کر یہی بچھڑے کے بت لائے تھے۔ ایک بت کو بیت ایل میں نصب کروایا اور دوسرے بت کو بنو دان کے علاقے میں نصب کروایا اور اپنی سلطنت کے بنی اسرائیل کے دس قبیلوں کو کہا کہ بیت المقد س دور ہے اور وہاں جانے میں تمہیں پریشانیاں ہوتی ہیں۔ اسلئے تم ان دونوں مقامات پر آکر اپنی قربانیاں چڑھا سکتے ہو اور جہاں دونوں بتوں کو نصب کیا تھا وہاں بہت ہی شاندار مندربنوا دیئے۔ اس طرح سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ میں بت پرستی کو شروعات ہو گئی اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ یربعام بن نباط نے دونوں بتوں کو بلند پہاڑوں پر نصب کر وایا تھا اور دونوں جگہ عالیشان مندر تعمیر کروائے اور کاہن ( پجاری ) مقرر کر دیئے اور آٹھویں مہینے کی پندرہویں تاریخ کو ایک عید شروع کر دی ۔ جیسی کہ عید سلطنت یہودیہ میں منائی جاتی تھی۔

رجعام کی جگہ ابیاہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب” اسرائیل“ ہے اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر حضرت یوشع علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل متحد رہے۔ پھر ان میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس کے سینکڑوں برسوں بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک بار پھر بنی اسرائیل متحد ہو گئے۔ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پھر سے بکھر گئے۔ سلطنت یہودیہ کے حکمراں رجعام کی حکومت کے پانچویں برس میں مصر کے بادشاہ سیسق نے سلطنت یہودیہ کی راجدھانی یروشلم ( بیت المقدس) پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی اور شاہی محل کے سارے خزانے لوٹ کر لے گیا جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنوائی دو سو سونے کی ڈھالیں بھی تھیں۔ رجعام بادشاہ نے ان کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنوائیں اور ان کی جگہ رکھوائیں۔ ادھر سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کا بادشاہ یربعام آرام سے حکومت کر رہا تھا۔ رجعام اور یربعام میں اکثر جنگ ہوتی تھی اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل ہی مرتے تھے۔ رجعام نے سترہ سال حکمرانی کی۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا تو اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ اُس کا بیٹا ابیاہ بنا۔

آسا اور بعشا کی بادشاہت 

اپنے باپ رجعام کی طرح ابیاہ بھی ظالم اور نااہل تھا۔ وہ جب سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا تو سلطنت اسرائیلیہ کی حکمرانی کرتے ہوئے یربعام کو سترہ سال ہو چکے تھے۔ ان دونوں میں بھی جنگ ہوتی رہی اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل کا خون بہتا رہا۔ تین سال حکومت کرنے کے بعد ابیاہ کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ اس کا بیٹا آسا بنا اس وقت یربعام کو سلطنت اسرائیلیہ پر حکومت کرتے ہوئے بیسواں 20واں سال چل رہا تھا۔ آسا بن ابیاہ ایک اچھا، نیک اور سمجھدار انسان تھا۔ اس نے سلطنت یہودیہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نافذ کئے۔ اس کے دادا رجعام اور باپ ابیاہ کے دور حکومت میں ہم جنس پرستی کا بہت زور ہو گیا تھا۔ آسانے انہیں ملک بدر کر دیا اور جو نہیں گئے انہیں قتل کر دیا۔ سلطنت یہودیہ میں تمام بتوں کو توڑ دیا اور اپنی دادی کو راج ماتا کے عہدے سے معزول کر دیا۔ اور وہ جس بت کی پوجا کرتے تھی اسے توڑ دیا۔ آسا کی حکومت کو ابھی دو سال ہوئے تھے کہ سلطنت اسرائیلیہ کے بادشاہ یربعام کا انتقال ہو گیا ۔ اس نے بائیس 22یا تیئیس23سال حکومت کی۔ اس کے بعد سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ اس کا بیٹا ندب بن یربعام بنا ۔ ابھی اس نے ایک ہی سال حکومت کی تھی کہ بنو اشکار کے بعثانے اسے قتل کر دیا اور سلطنت ِ اسرائیلیہ کا بادشاہ بن گیا۔

سلطنت اسرائیلیہ کی جگہ سلطنت سامریہ

اللہ تعالیٰ کے احکامات ہر عمل کرتے ہوئے آسا بن ابیاہ سلطنت یہودیہ پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس دوران سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ بعثا بن گیا تھا اس نے بادشاہ بنتے ہی سب سے پہلے یربعام کے سارے خاندان والوں کو قتل کر دیا اور کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا۔ اس کے بعد اس نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا اور راملہ پر قبضہ کر لیا۔ آسا اس کے مقابلے پر فوج لے کر آیا۔ دونوں کا مقابلہ ہوا اور بعثا راملہ سے آگے نہیں بڑھ سکا تو وہاں اس نے ایسی دیوار بنانی شروع کر دی جو سلطنت یہودیہ اور سلطنت اسرائیلیہ کے درمیان سرحد کا کام کرے۔ دمشق کا بادشاہ ارام بن بدد سلطنت اسرائیلیہ کے بادشاہ بعثا کاساتھ دے رہا تھا۔ آسا بن ابیاہ نے بہت سارا سونا چاندی اور بہت سے تحائف اس کے پاس بھیجے اور پیغام دیا کہ میری والد کا تم سے جو معاہدہ تھا اس کو پھر سے جاری کراﺅ اور بعثا سے معاہدہ توڑ دو ۔ الام بن بدد نے آسا کی بات مان لی اور بعثا سے معاہدہ توڑ کر اپنی فوج کو حکم دیا کہ سلطنت اسرائیلیہ کے علاقوں پر حملہ کر دیں۔ اور اس فوج نے عیون ، دان ، ایبل ، بیت معکہ اور کزت پر قبضہ کر لیا۔ جب بعثا نے یہ سنا تو راملہ میں دیوار کی تعمیر روک کر واپس پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے بعد آسا نے حکم دیا کہ بعثا نے جو تعمیر کی تھی اسے توڑ کر لے آﺅ۔ اور اس نے ان پتھروں اور لکڑیوں سے بن یامن کے علاقے میں جبع اور مصفاہ کی تعمیر کی۔ بعثا نے چوبیس سال حکمرانی کی اور اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا ایلہ بادشاہ بنا اس نے دو سال حکومت کی اس کے سپہ سالار زمری نے اس کا قتل کر دیا اور اپنی بادشاہت کاا علان کردیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ عمری کو بنا دیا۔ اور اس نے فوج کے ساتھ مل کر زمری کو اس کے محل میں زندہ جلا دیا۔ اور اس طرح عمری جب بادشاہ بنا تو آسا بن ابیاہ کو سلطنت یہودیہ پر حکومت کرتے ہوئے اکتیس31سال ہو چکے تھے۔ عمری نے چھ سال حکومت کرنے کے بعد سمر سے دو قنطار چاندی پر سامریہ کی پہاڑی خرید لی اور اس پر ایک شہر تعمیر کیا اور اسے راجدھانی بنایا اور سلطنت اسرائیلیہ کا نام بدل کر سلطنت سامریہ رکھ دیا۔ اب بنی اسرائیل کی ایک سلطنت یہودیہ تھی اور دوسری سلطنت سامریہ تھی۔ بارہ سال حکومت کرنے کے بعد عمری کا انتقال ہو گیا۔

سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا

سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بانی یربعام بن نباط نے بچھڑوں کے بت بنوا کر ان کے مندر بنوا کو پوجا شروع کر وائی تھی۔ تب سے وہاں کے بنی اسرائیل بتوں کی پوجا کر رہے تھے۔ اس کے بعد عمری نے سلطنت اسرائیلیہ کا نام بدل کر سلطنت سامریہ رکھ دیا۔ عمری کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا اس وقت سلطنت یہودیہ کے بادشاہ آسا بن ابیاہ کو حکومت کرتے ہوئے اڑتیس 38 سال ہو چکے تھے۔اخی اب بھی بت پرست تھے۔ اور اس نے سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا کی شروعات کی۔ اس نے بت پرست صیدانیوں کے بادشاہ کی بیٹی ایزبل سے شادی کی۔ اور اس کے ساتھ بعل کی پوجا اور اسے سجدہ کرنے لگا۔ اس نے بعل کا بہت بڑا اور بہت عالیشان مندر بنوایا ۔ اور اس میں بعل کا ایک بہت بڑا بت نصب کیا۔ اس کے علاوہ اس نے پوری سلطنت سامریہ میں جگہ جگہ بعل کے مندر بنوائے اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے بعل کی پوجا کرنے لگے۔ اور پوری سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا کی جانے لگی۔ ایسے وقت میں سلطنت سامریہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ اب ہم حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر کریں گے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو تمام بنی اسرائیل کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔ لیکن چونکہ سلطنت یہودیہ کے مقابلے میں سلطنت سامریہ زیادہ گمراہی میں مبتلا تھی اس لئے آپ علیہ السلام کے ذکر میں سلطنت سامریہ کا ذکر زیادہ آئے گا۔ اور ہم سلطنت یہودیہ کے بادشاہ آسا بن ابیاہ کا ذکر فی الحال روک رہے ہیں۔ انشاءاللہ حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر مکمل کرنے کے بعد ہم آسا بن ابیاہ کا ذکر پھر کریں گے۔

حضرت الیاس علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں لگ بھگ تمام علمائے کرام یہی فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام بنو لاوی میں سے ہیں۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بن سنان بن فخاض بن عیزار بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ ایک روایت میں ہے کہ الیاس حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ہے۔ مگر یہ غلط ہے۔ کیوں کہ قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بتایا گیا ہے۔ اور حضرت ادریس علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام کے آباﺅ اجداد ( باپ داداﺅں )میں سے ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ الیاس سے مراد حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں انّ ادریس لمن المرسلین تھا۔ عکرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ اس قول میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منفرد ( اکیلے) ہیں۔ مگر دوسرے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ایسع علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بن بشر بن فخاض بن عیزار بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے سلسلہ نسب اور ان کے مصداق میں اختلاف ہے۔ اہل انساب نے یہ کہا کہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے جد امجد ہیں۔ علامہ محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت یسع علیہ السلام ، حضرت الیاس علیہ السلام کے شاگرد ہیں ۔ اور یہ دونوں ،حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے پہلے گزر چکے ہیں۔ علامہ سید محمد آلوسی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ 

حضرت الیاس علیہ السلام کا زمانہ اور علاقہ

حضرت الیاس علیہ السلام کا زمانہ اکثر علمائے کرام حضرت سلیمان علیہ السلام سے لگ بھگ 70یا 80یا100سال بعد کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 800یا 900سال پہلے کا بتاتے ہیں۔ مولانا سید ابوا لاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے محققین آپ علیہ السلام کا زمانہ 875 قبل مسیح سے لے کر850قبل مسیح متعین کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام جلعاد کے رہنے والے تھے۔ (قدیم زمانے جلعاد اس علاقے کا نام تھا جو آج کل موجودہ ملک اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے۔ او دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ ) بائیبل میں آپ علیہ السلام کا ذکر ”ایلیا تشبی“ کے نام سے کیا گیا ہے۔ جسٹس پیر محمد کرم شاہ لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل مختلف قبیلوں میں بٹ گئے اور ہر قبیلہ نے اپنی اپنی علیحدہ سلطنت بنا لی۔ بنی اسرائیل کے انہی قبائل میں سے ایک قبیلہ لبنان کے اس علاقے میں آباد ہو گیا۔ جہاں آج بھی مشہور تاریخ شہر بعلبک کے کھنڈرات موجود ہیں۔ اس قبیلہ نے توحید چھوڑ کر بت پرستی اختیار کی۔ ان کے بڑے بت کا نام بعل تھا۔ جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بیس گز لمبا سونے کا مجسمہ ( بت ) تھا۔ جس کے چار منہ تھے۔ جس کے مندر کے خدام ( پجاریوں ) کی تعداد 400تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو اس قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔

حضرت الیاس علیہ السلام ، اللہ کے نبی تھے

اللہ تعالیٰ نے سورہ صافات میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور بے شک الیاس ( علیہ السلام )رسولوں میں سے ہیں۔“ (سورہ صافات آیت نمبر123) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک الانعام میں جہاں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں آپ علیہ السلام کا اسم گرامی شمار کر دیا اور کوئی واقعہ مذکور نہیں کیااور دوسرے سورہ صافات میں جہاں نہایت اختصار سے آپ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کا بیان فرمایا ہے۔ چونکہ قرآن پاک میں حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات تفصیل سے مذکور نہیں ہیں۔ اور مستند احادیث میں بھی آپ علیہ السلام کے حالات بیان نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے بارے میں کتب تفسیر کے اندر مختلف اقوال اور متفرق روایات ملتی رہیں۔ جن میں سے زیادہ تر بنی اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ حضرت الیاس علیہ السلام کب اور کہاں مبعوث ہوئے تھے؟ لیکن تاریخی اور اسرائیلی روایات اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے بعد اور حضرت ایسع علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے جانشینوں کی بد کاری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصو ں میں بٹ گئی تھی۔ ایک حصہ سلطنت یہودیہ یا یہوداہ کہلاتا تھا اور اس کا مرکز ( راجدھانی) سامرہ ( موجودہ نابلس) تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام اردن کے علاقہ جلعاد میں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت سلطنت اسرائیل ( اسرائیلیہ) کا جو بادشاہ تھا اس کا نام بائبل میں اخی اب اور عربی تواریخ و تفاسیر میں اجب یا اخب مذکورہے۔ اس کی بیوی ایزبل ، بعل نامی ایک بت کی پوجا کرتی تھی اور اسی نے سلطنت اسرائیلیہ یا سامریہ میں بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے تما م بنی اسرائیل کو بت پرستی کے راستہ پر لگا دیا تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس خطے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں اور بنی اسرائیل کو بت پرستی سے روکیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بیٹے رجعام کی نا اہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا۔ وہ آل داﺅد کے قبضے میں رہا۔ اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا۔ اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہو گئی اور بعد میں سامریہ اس کا صد ر مقام قرار پایا۔ اگر چہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگر گوں تھے۔ لیکن اسرائیل کی ریاست ( جو بعد میں سلطنت سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی ) شروع سے ہی ایسے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جسکی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب اسرائیل کا بادشاہ اخی اب خود بھی مشرک بن گیا۔ اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا اور اللہ واحد کی عبادت کی بجائے بعل کی پوجا رائج کرنے کی بھر پورکوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں اعلانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس علیہ السلام ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جلعاد آکر اخی اب کو نوٹس دیا۔ ( اور اعلان نبوت کیا)

حضر ت الیاس علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ صافات میں فرمایا۔ ترجمہ ”بے شک الیاس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور یہ کیا تم بعل ( نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھو ڑ دیتے ہو؟ اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ داداﺅں کا رب ہے۔“ ( سورہ صافات آیت نمبر123سے 126تک) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام جنہیں بائیبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کےلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا۔ لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس کو چھوڑ کر بعل بت کی عبادت و بندگی کر رہے ہو۔ حالانکہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے۔ جو تمام پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعوت پر سوائے اللہ کی اطاعت و بندگی کرنے والوں کے بقیہ سب نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم جس بت بعل کی پوجا کرتی تھی اس کا معنی ہے۔ شوہر ، مالک، سردار اور زبردست ، کے تھے۔ بعل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اسی بعل کی پوجا کی گئی تھی۔ یہ ان کا مقبول ترین بت تھا ۔ جس سے وہ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے۔ شام کا شہر بعلبک جس کی اصلاح کےلئے ان کو بھیجا گیا تھا، اسی بت کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ بعض مفسرین کا تو یہ خیال ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو کفار و مشرکین کا سب سے بڑا بت ”ھُبل“ تھا ۔ شاید وہ بھی بعل کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔

بنی اسرائیل نے قتل کرنے کی کوشش کی

حضرت الیاس علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بعل بت کی پوجا کرنے سے منع فرمایا۔ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ لیکن بنی اسرائیل پر ابلیس شیطان اس طرح حاوی ہو گیا تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات کو سمجھنے کے بجائے جان کے در پے ہو گئے اور آپ علیہ السلام کی جان لینے کی کوشش کی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح حضرت الیاس علیہ السلام کو بھی اپنی قوم کے ساتھ شدید کشمکش سے دو چار ہو نا پڑا۔ قرآن پاک چونکہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ اس لئے اس میں اس کشمکش کا مفصل حال بیان کرنے کے بجائے صرف اتنی بات بیان فرمائی گئی جو عبرت اور موعظت حاصل کرنے کے لئے ضروری تھی۔ یعنی یہ کہ ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا۔ اور چند مخلص بندوں کے سوا کسی نے حضرت الیاس علیہ السلام کی بات نہیں مانی ۔ اسی لئے انہیں آخرت میں انہیں ہولناک انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ بعض مفسرین نے اس کشمکش کے مفصل حالات بیان فرمائے ہیں۔ مروجہ تفاسیر میں حضرت الیاس علیہ السلام کا سب سے مضبوط تذکرہ تفسیر مظہری میں قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی نے علامہ بغوی کے حوالے سے تحریرکیا ہے۔ ( انشا ءاللہ ہم آگے یہ تفصیل پیش کریں گے) اس میں جو واقعات مذکورہیں۔ وہ تقریباً تمام تر بائبل سے ماخوذ ہیں۔ دوسری تفسیروں میں بھی ان واقعات کے بعض اجزاءحضرت وہب بن منبہ اور حضرت کعب احبار وغیرہ کے حوالہ سے بیان ہوئے ہیں۔ جو اکثر اسرائیلی روایات نقل کرتے ہیں۔ ان تمام روایات سے خلاصہ کے طور پر جو قدر مشترک نکلی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام نے سلطنت اسرائیل( سلطنت سامریہ) کے بادشاہ اخی اب اور اس کی رعایا کو بعل نامی بت کی پوجا سے روک کر توحید کی دعوت دی۔ مگر دو ایک حق پسند افراد کے علاوہ کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں مانی۔ بلکہ وہ آپ علیہ السلام کو طرح طرح سے پریشان کرنے لگے۔ یہاں تک کہ اخی اب اور اس کی بیوی ایزبل نے آ پ علیہ السلام کو شہید کرنے کے منصوبے بھی بنائے اور شہید کرنے کی کوشش بھی کی۔ آپ علیہ السلام نے ایک دور افتادہ سنسنان غار میں پناہ لی۔ اور عرصہ داراز تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران اخی اب اور اس کی بیوی نے کئی مرتبہ آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔

حضرت الیاس علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا

حضرت الیاس علیہ السلام نے اس وقت اعلان نبوت کیا تھا جب بنی اسرائیل بکھر چکے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو بعلبک کی طرف مبعوث کیا۔ وہ قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے۔ الگ الگ علاقوں میں الگ الگ بادشاہ کی حکومت تھی۔ اورہر بادشاہ اپنے علاقے پر حاکم تھااور وہیں کی آمدنی کھاتا تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام جس علاقے میں پیدا ہوئے تھے اس علاقے کا بادشاہ آپ علیہ السلام کی پیروی کرتا تھا۔ اور وہ اپنے ساتھی بادشاہوں میں سے اکیلا ہدایت پر تھا۔ یہاں تک کہ بت پرستوں میں سے کچھ لوگ ان تک پہنچے انہوں نے اس بادشاہ سے کہا۔ یہ ( حضرت الیاس علیہ السلام ) تمہیں گمراہی کی طرف بلاتا ہے۔ اس لئے تم بھی اُن بتوں کی پوجا کرو جن کی دوسرے بادشاہ پوجا کرتے ہیں۔ اور وہ بہت خوش ہیں اور انہیں دنیا کی ہر نعمتیں میسر ہیں۔ اور وہ اپنے اپنے ملک میں مقبول ہیں۔ اور جس کے بارے میں یہ ( یعنی حضرت الیاس علیہ السلام ) باطل کہہ رہے ہیں وہ صرف ان کا گمان ہے اور تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو کہنے والے شخص کے سر اور جسم کے بال کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا۔ مجھے اپنے بادشاہ کے پاس لے چلو( آپ علیہ السلام اس بادشاہ کی طرف تشریف لے جانے لگے۔ اس بادشاہ کا نام اخی اب تھا) حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ آگے فرماتے ہیں۔ جس نے اس بادشاہ کے لئے اس معاملہ ( بُت کی پوجا) کو مزین کیا تھا ، وہ اس کی بیوی ( ایزبل) تھی۔ پہلے وہ ایک جابر بادشاہ کی بیوی تھی۔ وہ کنعانی تھا اور طویل قد اور جسیم اور حسین تھا۔ جب وہ مر گیا تو اس عورت (ایزبل) نے اس کا سونے کا ایک بت بنوایا۔ اس کی یاقوت کی دو آنکھیں بنوائی اور موتیوں اور جواہر کا تاج پہنایا۔ پھر اسے تخت پر رکھا۔ وہ اس کے پاس جاتی ، اس دھونی دیتی، اسے خوشبو لگاتی اور اس کے سامنے سجدہ کرتی تھی۔ پھر اس کے پاس سے باہر آجاتی تھی۔ اس کے بعد اس نے اس بادشاہ ( اخی اب) سے شادی کی ۔ جس کی طرف حضرت الیاس علیہ السلام سفر کر رہے تھے۔ وہ عورت مشرک اور فاجر تھی۔ اس نے اپنے شوہر پر غلبہ پا لیا اور بعل کے بت کو اس کے کمرے میں رکھ لیا تھا۔ اس نے ستر خدمت گار ( پجاری) رکھے تھے۔ اور اس کے شوہر نے پورے علاقے میں مندر بنوا کر اس بت کو رکھوا دیا تھا۔ اور سب اس کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام اس کے پاس پہنچے اور بادشاہ اور اس کی بیوی اور وہاں کی عوام کو اسلام کی دعوت دی ۔اور بعل بت کی پوجا کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن ان لوگوںنے آپ علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلا دیا اوربدستور بعل کی پوجا کرتے رہے۔ آپ علیہ السلام انہیں ہر طریقے سے سمجھاتے رہے۔ لیکن وہ بد بخت مسلسل آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے رہے۔

حضرت الیاس علیہ السلام پہاڑ کے غار میں روپوش

حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ کے حکمراں کو اور عوام کو اسلام کی مسلسل دعوت دیتے رہے۔ لیکن حکمراں کی بیوی نے اپنے شوہر اور عوام کو پوری طرح جکڑ رکھا تھا۔ اس نے سامریہ میں سے ایک بہت بڑا بیس ہاتھ کا بت بنا رکھا تھا۔ اس کے چار منہ اور سر تھے۔ اس نے اس کے اطراف بہت بڑا مندر بنوایا تھا۔ اور چار سو خدمت گار ( پجاری) مقرر کر رکھے تھے۔ جنہیں نعوذ باللہ انبیاکہا جاتا تھا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ بعلبک اور اور اس کے گرد و نواح میں قیام پذیر تھا۔ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اس وقت بعلبک کا بادشاہ اجب ( اخی اب) تھا۔ وہ بادشاہ خود بھی بت پرست تھا۔ اور لوگوں کو بھی بتوں کی پوجا کا حکم دیتا تھا۔ اس کی بیوی کا نام ازبیل تھا۔ اور وہ بادشاہ پر اور حکومت پر بہت اثر رکھتی تھی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا۔ لیکن وہاں کی عوام اپنے بادشاہ اور ملکہ کی بات مانتی تھی۔ حالانکہ آپ علیہ السلام بادشاہ کو سمجھاتے اور اسے شرک سے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن وہ اپنی بیوی کے بہکانے میں آگیا۔ اور آپ علیہ السلام کو سزا دینے اور قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ اس نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا اعلان کر دیا۔ سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے آبادی کو چھوڑ دیا۔ اور ویرانے میں جا کر پہاڑوں کے غار میں پناہ لی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام سات سال تک اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور غاروں میں بسر اوقات کرتے رہے۔ زمین کی جڑی بوٹیاں، درختوں کے پتے اور پھل کھا کر گزارا کرتے رہے۔ بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی تلاش کرتے رہے۔

حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کی والدہ سے ملاقات

حضرت الیاس علیہ السلام سات سال تک ویرانوں اور بہت سے گھروں والے علاقوں میں بھٹکتے رہے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام کی ملاقات یونس بن متیٰ علیہ السلام کی والدہ سے ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل کی مومنہ تھیں اور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئی تھی۔ آپ علیہ السلام چھ مہینے تک ان کے علاقے میں رہے۔ اس وقت حضرت یونس علیہ السلام دودھ پیتے بچے تھے۔ لگ بھگ چھ مہینے بعد بادشاہ اخی اب کو معلوم ہوا آپ علیہ السلام اس علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس نے گرفتاری کے لئے سپاہی بھیجے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی اور سپاہیوں کے آنے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام وہاں سے نکل کر پہاڑوں کے غاروں میں چلے گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی والدہ نے دودھ چھڑایا تو آپ علیہ السلام بیمار رہنے لگے۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی ، علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ اُن کے لئے یہ مصیبت ( بیٹے کی بیماری) بہت عظیم تھی۔ کچھ دنوں بعد بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی والدہ نے بیٹے کو کپڑے میں لپیٹ دیا اور حضرت الیاس علیہ السلام کی تلاش میں نکل گئیں۔ وہ پہاڑوں پر چڑھتی اترتی رہیں ۔غاروں میں تلاش کرتی رہیں۔ وادیوں میں آواز لگاتی رہیں۔ آخر کار سات دنوں کے بعد آپ علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے تمام باتیں بتائی اور درخواست کی ۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ واپس چلیں اور مجھ پر رحم فرمائیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ میرے بیٹے کو زندہ کر دے۔ میں نے ابھی تک اسے دفن نہیں کیا ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے فرمایا۔ بی بی جی، میرا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ مردے زندہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو بدلنا میرا کام نہیں ہے۔ وہ مومنہ عورت روتی رہی اور گڑ گڑاتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا دل اس کی طرف مائل کر دیا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے بیٹے کا کب انتقال ہوا ہے؟ تو اس مومنہ نے عرض کیا ۔ سات دن ہو چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چل پڑے اور سات دنوں تک چلتے رہے۔ جب بچے کے پا س پہنچے تو اس کا انتقال ہوئے چودہ 14دن گزر چکے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے پہلے وضو کیا اور نماز ادا کی اور پھر دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت یونس علیہ السلام کو زندہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام فوراً وہاں سے چلے آئے۔ اور پہاڑوں میں غاروں میں پناہ لی۔ کیوں کہ اخی اب کے سپاہی اس علاقے میں تلاش کر رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہ پر پکڑ

حضرت الیاس علیہ السلام کو پہاڑوں میں بھٹکتے ہوئے کئی سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے اخی اب کو سنبھلنے اور صحیح راستے پر آنے کا ایک اور موقع دیا۔ اور اس کے بیٹے کو بیمار کر کے اسے آزمائش میں مبتلا کیا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی آگے علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اخی اب کے بیٹے کو مریض کر دیا۔ وہ بہت پیار ا تھا اور اپنے باپ کی مشابہت رکھتا تھا۔ مرض اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ بادشاہ اس کی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ اس نے اور اس کی بیوی ایزیبل نے اپنے بت بعل سے دعا مانگی اس وقت کے لوگ بعل کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا تھے۔ وہ اس بت کا بہت احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بادشاہ کی بیوی نے اس کے شاہی مندر کے لئے 400چار سو خادم ( پجاری) مقرر کر رکھے تھے۔ ان مجاوروں اور خادموں کو انبیاءکہا جاتا تھا۔ ابلیس شیطان بعل بت کے اندر داخل ہو جاتا تھا اور باتیں کرتا تھا۔ یہ چار سو مجاور پورے انہماک سے شیطان کی باتیں سنتے تھے۔ اور اسی کے مطابق لوگوں کو بتاتے تھے۔ ( در اصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے شیطانوں اور جناتوں کو پہلے آسمان کے دروازے کے قریب جانا منع نہیں تھا ۔ اسلئے ابلیس شیطان اور اس کے ساتھی پہلے آسمان کے دروازے سے کان لگائے رہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ تقدیر کے جو فیصلے فرشتوں کو سناتے تھے وہ فرشتے ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے۔ اور پہلے آسمان کے فرشتے یہ پیغام سن کر دنیا میں آتے تھے۔ ان میںسے بہت سی باتیں ابلیس شیطان اور اس کے ساتھی سن کر ان فرشتوں سے پہلے زمین پر آکر انسانوں کو بتا دیتے تھے۔ اور کاہن اور دوسرے بتوں کے پجاری یہ باتیں انسانوں کو بتاتے تھے۔ کہ فلاں دن بعد یہ ہوگا اور فلاں وقت یہ ہوگا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کے دروازے پر بھی فرشتوں کو پہرے پر بٹھا دیا۔ اب اگر کوئی شیطان یا جنات چوری چھپے پہلے آسمان کے قریب جاتا ہے تو اسے شہاب ثاقب پھینک کر مارا جاتا ہے۔ جس سے وقتی طور پر وہ جل جاتا ہے لیکن چونکہ آگ سے بنا ہوا ہوتا ہے تو تھوڑی دیر بعد اپنی اصلی شکل میں واپس آجاتا ہے۔) جب لڑکے کا مرض شدت اختیا ر کر گیا تو بادشاہ نے ان مجاوروں سے درخواست کی کہ بعل کے سامنے میری سفارش کریں اور اسکے بیٹے کےلئے شفا طلب کریں۔ مجاروں نے دعائیں مانگیں۔ لیکن اس بت نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو روک دیا تھا۔ مجاور کافی عرصے تک دعا مانگتے رہے۔ جب بعل نے کچھ نہیں بتایا تو مجاوروں نے کہا کہ ملک شام میں چند اور بت ہیں۔ ان کی طرف مجاوروں کو بھیجو۔ شاید وہ تیرے معبود بعل سے سفارش کریں۔ کیوں کہ بعل تجھ سے ناراض ہے۔ اسی لئے کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ میں اس کی اطاعت اور پوجا کرتا ہوں، پھر کیوں وہ مجھ سے ناراض ہے۔ مجاوروں نے کہا۔ اس کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ تو نے الیاس ( علیہ السلام ) کو زندہ چھوڑ دیا ہے۔

بادشاہ کو ایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں مجاوروں نے بادشاہ کو بھڑکایاتو اس نے کہا کہ الیاس (علیہ السلام ) سے میں ضرور نبٹوں گا۔ لیکن اس سے پہلے مجھے اپنے بیٹے کی بیماری کی فکر ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی آگے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے کہا ۔ اگر میرے بیٹے کا مرض اچھا ہو گیا تو میں اسے ( حضرت الیاس علیہ السلام ) تلاش کر کے قتل کردوں گا۔ اور اپنے معبود ( بعل ) کو راضی کر وں گا۔ پھر اس نے چار سو انبیاء( مجاوروں) کو ملک شام کے دوسرے بتوں کے پاس بھیجا کہ وہ بت بادشاہ کے بت سے اس کی سفارش کریںگے کہ اس کے بیٹے کو شفا ہو جائے۔ جب وہ چار سو کا جتھہ ملک شام جا رہا تھا تو راستے میں اس پہاڑ کے پاس سے گزرا۔ جس کے ایک غار میں حضرت الیاس علیہ السلام نے پناہ لے رکھی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ اس پہاڑ سے اترو اور ان سے جا کر ایسا کہو۔ حضرت الیاس علیہ السلام غار سے باہر آئے۔ نیچے وہ لوگ وادی میں سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انہیں آواز لگائی تو وہ رک کر اوپر دیکھنے اور انہیں حضرت الیاس علیہ السلام نیچے اترتے نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ وہ خوف زدہ ہو کر آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے۔ قریب آنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اور تمہارے بادشاہ کی طرف بھیجا ہے۔ اے میری قوم، اپنے رب کا پیغام غور سے سنو تا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس جا کر یہ پیغام پہنچا دو۔ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے اجب ، کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں ہی بنی اسرائیل کا رب اور معبود ہوں۔ جس نے انہیں پیدا کیا، رزق عطا فرمایا۔ انہیں زندہ کرتا ہوں۔ تیرے ( بادشاہ کے ) کم علم نے تجھے اس بات پر ابھارا کہ تو میرا شریک ٹھہرائے اور میرے علاوہ دوسروں کو معبود بنا کر ان سے اپنے بیٹے کی شفا طلب کرتے ہو۔ جن کے پاس کچھ نہیں ہے اور اگر میں نہ چاہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس لئے اب بھی موقع ہے ۔ اُن بتوں کی پوجا چھوڑ کر میری عبادت کرو۔ اور اگر تو پھر بھی نہیں مانا تو تجھ پر اور بنی اسرائیل پر میرا غضب نازل ہو گا۔

بادشاہ آزمائش میں ناکام ہو گیا

حضرت الیاس علیہ السلام نے اُن چارسو مجاوروں کو اللہ تعالیٰ کی وحی سنا دی۔ اور وہ اس حالت میں واپس لوٹے کہ ان کے دل رعب سے بھرے ہوئے تھے۔ جب وہ بادشاہ کے پاس واپس پہنچے اور بتایا کہ ہم ملک شام کی طرف جا رہے تھے اور ایک وادی سے گزر رہے تھے کہ ایک پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے حضرت الیاس علیہ السلام نے ہمیں آواز لگائی۔ وہ لمبے قد کے دبلے پتلے جسم والے ہیں۔ اور انہوں نے بالوں کا جبہ بنا کر پہنا ہوا تھا اور کانٹوں سے اسے ٹانک رکھا تھا۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو ہمارے دل ہیبت سے بھر گئے اور خوف سے ہماری زبانیں گنگ ہو گئیں۔ ہم اتنی کثیر تعدا د میں ہوتے ہوئے بھی نہ تو ان سے بات کر سکے اور نہ ہی ان کو پکڑ کر لا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت الیاس علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ کا جو پیغام سنا تھا وہ بادشاہ کو سنا دیا۔ یہ سننے کے بعد ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ بادشاہ تو بہ کرتا اور بعل کی پوجا سے باز آکر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتے۔ لیکن اس بد بخت پر اس کی بیوی اور ابلیس شیطان کا ایسا قبضہ تھا کہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہو گیا اور ایک اور موقع کو گنوا دیا۔

حضرت الیاس علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش 

اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کے ذریعے سے اخی اب یا اجب کو توبہ کا ایک اور موقع دیا تھا لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اور اس نے آپ علیہ السلام کو دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کر کے اپنی بد نصیبی پر مہر لگالی۔ اس نے ایک سازش کے تحت پچاس طاقتور اور جنگجو سپاہیوں کو چنا اور انہیں آپ علیہ السلام کی گرفتاری اور قتل کے لئے مقرر کیا۔ اس نے تاکید کی کہ سادے لباس میں حضرت الیاس علیہ السلام کے پاس جاﺅ۔ اور ان سے کہنا کہ تم ان پر ایمان لانے کے لئے آئے ہو۔ تا کہ وہ تم سے مانوس ہو جائیں اور دھوکہ کھا جائیں۔ جب انہیں تم پر اعتماد ہو جائے تو انہیں گرفتار کر کے لے آنا اور اگر نہ لا سکو تو قتل کر دینا۔ وہ لوگ جب آپ علیہ السلام کے غار کے پاس پہنچے تو الگ ہو کر آپ علیہ السلام کو پکارنے اور تلاش کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، ہماری طرف تشریف لائیے۔ ہم پر اپنی زیارت کا احسان فرمائیے۔ ہم سب آپ علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں ۔ ہمارا بادشاہ اجب اور تمام لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام اپنے متعلق بے خوف ہو جائیے۔ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں اور دل و جان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں۔ اور اسلام قبول کیا ہے۔ آپ علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائیں اور ہم میں اپنے احکام نافذ فرمائیں۔ آپ علیہ السلام جو حکم دیں گے پوری قوم اس کی تعمیل کرے گی اور جس کام سے منع کریں گے، پوری قوم رک جائے گی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے جب ان کی باتیں سنیں تو دل میں امید جاگی اور آپ علیہ السلام نے سوچا اگر اب بھی ان سے چھپا رہوں گا کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر الہام فرمایا اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ ، اگر یہ سچے ہیں تو مجھے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔ اور اگر یہ سب جھوٹے ہیں تو ان پر اپنا غضب نازل فرما اور انہیں ہلاک کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان سب پر آگ کے گولے برسنے لگے۔ جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ بادشاہ کو جب ان کی ہلاکت کی خبر ملی تو اس نے ایک گروہ کو بھیجا تو اس کا بھی یہی حشر ہوا۔

بادشاہ اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام پہاڑوں کے غاروں میں زندگی گزار رہے تھے۔ اور سلطنت سامریہ کا بادشاہ اس کی بیوی اور بنی اسرائیل بعل کی پوجا کر تے رہے۔ بادشاہ اخی اب کا بیٹا مر گیا اور اس کی بیوی نے بیٹے کی موت کا الزام حضرت الیاس علیہ السلام پر لگایا۔ اور بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی اور زورو شور سے تلاش کرتے رہے ۔ آپ علیہ السلام وقت موقع کے مطابق آبادی میں آتے تھے۔ اور عوام (بنی اسرائیل )میں اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل کی اکثریت تو بعل کی پوجا میں غرق تھی لیکن تھوڑے سے لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام پر قائم تھے۔ لیکن بادشاہ اور اس کی بیوی کے ڈر سے اسلام کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ان لوگوں سے وقتا ً فوقتا ً آپ علیہ السلام ملتے رہتے تھے۔ اور کچھ دن ان کے ساتھ گزار کر اسلام کی تعلیمات دیتے تھے۔ پھر پہاڑوں میں واپس آجاتے تھے۔ اس طرح سات سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، تین سال کے لئے ان پر بارش روک دے۔ تا کہ یہ تیری قدرت کو پہچانیں اور مانیں اور ہو سکتا ہے کہ بتوں کی پوجا چھوڑ کر تیری طرف رجوع کریں اور لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور بارش کو تین سال کے لئے روک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل تین سا ل قحط میں مبتلا رہے۔ اسی دوران ایک دفعہ حضرت الیاس علیہ السلام ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ۔ کھانے کو کچھ ہے؟ تو اس بوڑھی نے کہا۔ کچھ تھوڑا سا آٹا اور تھوڑا سا زیتون ہے۔ آپ علیہ السلام نے دونوں چیزیں منگوائیں اور ان پر برکت کی دعا کی۔ اور آٹے کی بوری پوری بھر گئی اور مٹکا زیتون کے تیل سے بھر گیا۔ جب بنی اسرائیل کے لوگوں نے اس بوڑھی عورت سے پوچھا کہ یہسب تیرے پاس کہاں سے آیا؟ اس نے بتایا کہ حضرت الیاس علیہ السلام آئے تھے اور برکت کی دعا کی تھی۔ 

حضرت یسع علیہ السلام شاگرد بنے

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں تحقیقات کرنے کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ اخی اب کے سپاہی آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ایک عورت نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ اس کا ایک بیٹا جس کا نام یسع بن اخطوب تھا وہ نوجوان سخت تکلیف میں مبتلا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس نوجوان کے لئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے تندرستی عطا فرمائی۔ حضرت یسع بن اخطوب علیہ السلام نے حضرت الیاس علیہ السلام کی پیروی اختیار کی اور شاگر دبن گئے۔ اور اپنی والدہ محترمہ سے اجازت لے کر آپ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ اور جہاں جہاں آپ علیہ السلام تشریف لے جاتے تھے وہاں وہاں حضرت یسع ساتھ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے بڑھاپے تک ساتھ رہے۔

بادشاہ اور بنی اسرائیل کوایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل پر بارش روک لینے کی دعا فرمائی تھی۔ جب تین سال گزر گئے تو آپ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اجازت دے کہ میں بنی اسرائیل کے پا س جا کر انہیں ایک مرتبہ اور سمجھاﺅں تا کہ وہ تیری طرف رجوع کریں اور بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی اور فرمایا۔ تمہاری دعا پر ہم بارش برسائیں گے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب یا اجب کے پاس آئے۔ بنی اسرائیل بھی جمع ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل اور بادشاہ اور اس کی بیوی سے فرمایا۔ تم لوگوں نے دیکھا کہ بعل کی پوجا کی وجہ سے تم پر اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی ہے۔ جس کی وجہ سے تم بھوک سے بے حال ہو اور مشقت میں مبتلا ہو چکے ہو۔ تمہاری سیاہ کاریوں کی وجہ سے جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے اور درخت سب ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان تین سال میں تم نے بعل کی بہت پوجا کی ۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک اور موقع دے رہا ہے۔ آﺅ تم اپنے بتوں کے سامنے قربانی پیش کرو۔ اور اس سے بارش کی دعا مانگو ۔ اس کے بعد میں اپنے اور تمہارے رب اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگوں گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ میری دعا پر بارش برسا دے گا تو تم لوگ بعل کی پوجا سے توبہ کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے۔ اس بات کا مجھ سے وعدہ کرو۔ بادشاہ نے اور بنی اسرائیل نے وعدہ کیا۔ 

ایک اور موقع گنوادیا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور بادشاہ کو ایک اور موقع دیا۔ بادشاہ اور بنی اسرائیل نے کہا۔ یہ آپ (علیہ السلام )نے انصاف کی بات کی ہے۔ اور اپنے بتوں کو کھلے میں پہاڑ کے اوپر لے آئے۔ اور اس کے سامنے قربانی کی اور رو رو کر اپنے بتوں سے دعائیں مانگنے لگے۔ لیکن بارش نہیں ہوئی۔ بعل کے شاہی مندر کے چار سو مجاور ( جو اپنے آپ کو انبیاءکہلواتے تھے) بڑے زور و شور سے بعل کی پوجا کر رہے تھے۔ اور بادشاہ اور اس کی بیوی اور بنی اسرائیل دعا مانگ رہے تھے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام بھی اپنا مصلّا بچھا کر بیٹھ گئے۔ اور ان سب کو دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ آخر کار جب وہ سب ناکام ہو گئے تو آپ علیہ السلام سے کہا اب تم کوشش کرو۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے ساتھ ان کے شاگرد حضرت یسع علیہ السلام بھی تھے۔ آپ علیہ السلام نے وضو بنایا اور اپنے شاگرد کے ساتھ نماز پڑھی اور دعا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھادیئے۔ حضرت یسع علیہ السلام نے بھی اپنے ہاتھ اٹھا دیئے۔ آپ علیہ السلام دعا مانگتے جا رہے تھے اور حضرت یسع علیہ السلام آمین فرماتے جا رہے تھے۔ تمام بنی اسرائیل ، بادشاہ اور اس کی بیوی اور تمام مجاور دم سادھے دیکھ رہے تھے۔ کبھی وہ لوگ دونوں انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف دیکھتے اور کبھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ کچھ دیر بعد سب نے حیرانی سے آسمان کی طرف دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے ایک بادل ڈھا ل کے برابر نمودار ہو رہا تھا۔ جو دھیرے دھیرے بڑا ہوتا جا رہا تھا ۔ تمام لوگ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ دونوں انبیائے کرام علیہم السلام پوری لگن سے دعا میں مشغول تھے۔ وہ بادل دھیرے دھیرے پورے آسمان پر چھا گیا۔ اور پھر بارش شروع ہو گئی۔ بادشاہ اور اس کی بیوی اور تمام مجاور (مندروں کے پجاری) اور تمام بنی اسرائیل حیران سے کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی دعا مکمل کی اور سب لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اس سے پہلے کہ بارش تیز ہو جائے ، تم لوگ پہاڑ سے اتر کر اپنے اپنے گھر چلے جاﺅ۔ سب لوگ اپنے گھروں کی طرف تیزی سے بھاگے۔ اس طرح کچھ دنوں میں ہر طرف ہریالی ہو گئی اور ان کی پریشانیاں ختم ہو گئیں۔ لیکن ان بد بختوں نے اپنے وعدے کو توڑ دیا۔ اور آپ علیہ السلام کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا۔

آپ علیہ السلام نے پھر پہاڑوں میں پناہ لی

حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے بنی اسرائیل اور بادشاہ اخی اب کی تکلیفیں دو ہو گئیں۔ اور اب وعدے کے مطابق انہیں بعل کی پوجا چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی تھی۔ لیکن بنی اسرائیل دنیا میں مبتلا ہو چکے تھے اور ان کے رہبر بعل کے مندروں کے پجاری تھے اور ان کی سب سے بڑی ذمہ دار ملکہ یعنی اخی اب کی بیوی تھی۔ اس نے جب دیکھا کہ بعل کی پوجا ختم ہونے والی ہے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ فوراً حضرت الیاس علیہ السلام کو گرفتار کر لیا جائے اور تمام سلطنت میں اعلان کروا دیا کہ بعل کی اسی طرح پوجا کی جائے گی جیسے پہلی کی جاتی تھی۔ بادشاہ اخی اب اس کی ہر بات پر آنکھ بند کر عمل کر تا تھا۔ اور عوام بھی اتنی گمراہ ہو چکی تھی کہ اسے آپ علیہ السلام کی نصیحتیں اچھی نہیں لگتی تھیں۔ اسلئے ہر کوئی آپ علیہ السلام کا دشمن بن گیا ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کا ایک اور موقع دیا تھا۔ لیکن ان بد نصیبوں نے اپنی بد بختی سے اسے گنوا دیاا ور الٹا اللہ کے نبی علیہ السلام کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے جب ان کی دشمنی دیکھی تو ایک مرتبہ پھر پہاڑوں کی طرف چلے گئے اور غاروں میں رہنے لگے۔ اس مرتبہ حضرت یسع علیہ السلام بھی ساتھ تھے۔

یہو سفط ( یہو شاط) اور اخزیا کی بادشاہت

حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ ( اسرائیل) کے بادشاہ اخی اب اور وہاں کے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دیتے رہے تھے۔ اس لئے سلطنت یہودیہ کا ذکر نہیں ہو سکا تھا۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے تھے کہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ آسا بن ابیا اسلامی حکومت چلا رہا تھا۔ اس کی حکومت کے اڑتیس38ویں سال میں اخی اب سلطنت سامریہ ( اسرائیل) کا حکمراں بنا تھا۔ اکتالیس 41سال حکومت کرنے کے بعد آسا بن ابیا کا انتقال ہو گیا۔ آسا بن ابیا کے تفصیلی حالات انشاءاللہ ہم آگے بیان کریں گے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا یہو سفط( یہو شاط) سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔ جس وقت وہ بادشاہ بنا تو سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) کے بادشاہ اخی اب کو حکومت کرتے ہوئے چار 4سال ہو چکے تھے۔ یہوسفط اور اخی اب نے آپس میں صلح کر لی تھی۔ اس لئے بنی اسرائیل کی دونوں حکومتوں میں اس دوران کوئی جنگ نہیں ہوئی ۔ اور اسی دوران حضرت الیاس علیہ السلام کے مذکورہ واقعات پیش آئے۔ جب اخی اب کو حکومت کرتے ہوئے اکیس21سال اور یہو سفط کو حکومت کرتے ہوئے 17سال ہو چکے تھے تب سلطنت سامریہ کے پڑوسی بادشاہ ارام نے اخی اب پر حملہ کر دیا۔ اس نے مدد کے لئے یہو سفط( یہو شاط) کو بلایا۔ اور دونوں نے مل کر ارام کا مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں اخی اب مارا گیا۔ اور اس کی جگہ اس کا بیٹا اخز یا بن اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا ۔ جب اخزیا بادشاہ بنا تو یہو سفط کو سلطنت یہودیہ پر حکومت کرتے ہوئے سترہ 17سال ہو چکے تھے۔

سلطنت یہودیہ میں بھی بُت پرستی کی شروعات

سلطنت یہودیہ کے بادشاہ یہو سفط یا یہو شاط کو حکمرانی کرتے ہوئے سترہ سال گزر چکے تھے۔ تب اخزیا سلطنت سامریہ ( اسرائیل ) کا بادشاہ بنا۔ یہ بھی اپنے باپ اخی اب کی طرح بت پرست تھا۔ اور اس نے بھی حضرت الیاس علیہ السلام سے دشمنی کی۔ دو سال تک حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی جگہ اس کا بھائی یہورام بن اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا۔ یہ بھی بت پرست تھا۔ اس کی حکمرانی کرتے ہوئے جب پانچ سال ہوئے تو سلطنت یہودیہ کا بادشاہ یہو سفط یا یہو شاط کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا حکمراں یہورام بن یہوسفط بن گیا۔ اب بنی اسرائیل کی دونوں مملکتیں یعنی سلطنت یہودیہ اور سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) پر یہورام نام کے بادشاہوں کی حکومت تھی۔ آسا بن ابیاہ نے جو بت پرستی کا خاتمہ کر کے اسلامی حکومت قائم کی تھی وہ اس نے اکتالیس41سال تک چلائی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یہو سفط بادشاہ بنا اور اس نے بھی سلطنت یہودیہ میں بت پرستی نہیں ہونے دی اور پچیس سال تک اسلامی حکومت چلائی۔ اس دوران حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) کے بادشاہ اخی اب ، اس کے بعد اخزیا اور پھر اس کے بعد یہورام بن اخی اب کو سمجھاتے رہے لیکن وہ مسلسل بت پرستی میں مبتلا رہے۔ سلطنت یہودیہ کی طرف سے آپ علیہ السلام کو اطمینان تھا کیوں کہ ابھی تک وہ بت پرستی سے بچی ہوئی تھی۔ لیکن جب یہورام بن یہو سفط سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا تو ا س نے سلطنت سامریہ کے بادشاہ یہورام بن اخی اب کی بہن سے شادی کرلی اور اخی اب کی بیٹی وداع ہو کر سلطنت یہودیہ میں آئی تو اپنے ساتھ بعل کا بت بھی لے کر آئی اور دھیرے دھیرے اس نے اپنے شوہر کو بعل کی پوجا پر راضی کر لیا۔ اور پھر سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی ہونے لگی۔ اب حضرت الیاس علیہ السلام کی ذمہ داری اور بڑھ گئی تھی۔

حضرت الیاس علیہ السلام بیت المقدس میں

حضرت الیاس علیہ السلام کو جب معلوم ہوا کہ سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی ہونے لگی ہے تو آپ علیہ السلام یروشلم ( بیت المقدس) کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یسع علیہ السلام بھی ساتھ تھے۔ سلطنت یہودیہ میں گھوم گھوم کر آپ علیہ السلام وہاں کی عوام ( بنی اسرائیل ) کو سمجھاتے رہے۔ اور ساتھ ہی بادشاہ یہورام بن یہو سفط کو بھی سمجھاتے رہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن سورہ الصافات میں لکھتے ہیں ۔ اُسی زمانہ میں بیت المقدس کی یہودی ریاست ( سلطنت یہودیہ) کے بادشاہ یہورام بن یہو سفط نے اسرائیل ( سلطنت سامریہ ) کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اور اس مشرک شہزادی کے اثر سے وہی تمام خرابیاں جو اسرائیل ( سلطنت اسرائیلیہ یا سامریہ ) میں پھیلی ہوئی تھیں وہ یہودیہ کی ریاست ( سلطنت یہودیہ ) میں بھی پھیلنے لگیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے یہاں بھی فریضہ¿ نبوت ادا کیا۔ اور یہو رام بن یہو سفط کو ایک خط لکھا، جس کے الفاظ بائیبل میں اس طرح ہیں۔ ”خدا وند تیرے باپ داﺅد ( علیہ السلام )کا خدا یوں فرماتا ہے۔ اس لئے کہ تو نہ اپنے باپ یہوسفط کے راستے پر اور نہ ہی اپنے دادا آسا بن ابیا ہ کے راستے پر چلا ۔ بلکہ اسرائیل ( سلطنت سامریہ) کے بادشاہوں کے راستے پر چلااور یہودہ (سلطنت یہودیہ) اور یروشلم (بیت المقدس) کے باشندوں کو زناکار بنایا۔ جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا۔ سو دیکھ خدا وند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا۔ اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی۔“

حضرت الیاس علیہ السلام کا وصال

حضرت الیاس علیہ السلا م نے برسوں بنی اسرائیل کی دونوں حکو متوں کے بادشاہوں اور عام بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے۔ بادشاہوں نے تو مخالفت ہی کی ، البتہ عوام میں سے بہت سے لوگوں نے چوری چھپے آپ علیہ السلام کی بات کو مانا لیکن اکثریت بت پرستی میں مبتلا رہی۔ اس دوران حضرت یسع علیہ السلام مسلسل آپ علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور حضرت یونس علیہ السلام کو بھی حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ”قوم نینوا “ کی طرف بھیجا۔ اس کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت یونس علیہ السلام کے حالات میں کریں گے۔ اس طرح مسلسل حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آگیا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں۔ اور یقینی طور سے صرف اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال کس طرح ہوا ہے؟ اس بارے میں بائیبل میں کچھ ذکر ملتا ہے جو قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ اور یہ واقعہ کافی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ ہمیں صرف اتنا یقین رکھنا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ کیسے ہوا؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔

حضرت یسع علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت الیاس علیہ السلام کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یسع علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔ حضرت یسع علیہ السلام کے سلسلہ ¿ نسب کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حافظ ابو القاسم ابن عسا کر اپنی تاریخ میں حرف ”یائ“ کے تحت حضرت یسع علیہ السلام کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کا اصل نام اسباط ہے۔ اور آپ علیہ السلام اخطوب بن عدی بن شو تلم بن افرائیم بن حضرت یوسف علیہ السلام بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت یسع علیہ السلام ،حضرت الیاس علیہ السلام کے چچا زادبھائی ہیں۔ 

حضرت یسع علیہ السلام کی بعثت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط ( علیہم السلام) کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔“ (سورہ الانعام آیت نمبر86) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو ، اور سب اچھے ہیں۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر 48) حضرت الیاس علیہ السلام کے بعد نبوت کی ذمہ داری حضرت یسع علیہ السلام پر آگئی۔ اور آپ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل یعنی سلطنت یہودیہ اور سلطنت سامریہ ( اسرائیل) دونوں عوام اور حکمرانوں کو سمجھانے لگے۔ اور اس کے لئے آپ علیہ السلام مسلسل سفر میں رہتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام علاقوں میں گھوم گھوم کر انہیں بت پرستی سے روکتے رہے۔ بہت سے بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور بہت سے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام پر ایمان لائے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام ایک شہر سے گزرے تو وہاں کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہمارے علاقے میں زمین بنجر ہے اور پانی بہت خراب ہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالہ منگوایا اور تھوڑا سا نمک منگوا کر پانی میں ڈا ل دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پیالے کا پانی چشمے میں ڈال دیا۔ چشمے کا پانی بالکل صاف اور اچھا ہو گیا۔

موآبیوں کو شکست

حضرت یسع علیہ السلام کے دورِ نبوت میں بنی اسرائیل نے مو آبیوں کو شکست دی۔ سلطنت سامریہ کے سابق بادشاہ اخی اب کے دور ِ حکومت میں موآب کا بادشاہ اسے سالانہ خراج دیاکرتا تھا۔ اخی اب کے انتقال کے بعد جب اس کا بیٹا بادشاہ بنا تو موآب کے بادشاہ نے خراج دینے سے انکار کر دیا۔ اور بنی اسرائیل پر حملے کی تیاری کرنے لگا۔ اخی اب کے بیٹے کو جب اس کی جنگی تیاری کا علم ہو اتو اس نے بھی اپنی فوج کو تیار کیا۔ اور حضرت یسع علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ سے ہماری کامیابی کے لئے دعا کردیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے رہے ہو، اور اس لائق نہیں ہو کہ تمہارے لئے دعا کی جائے لیکن میں اس امید پر تمہارے لئے دعا کروں گا کہ ہو سکتا ہے ، تم لو گ سنبھل جاﺅ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی۔ اور شدید جنگ کے بعدمو آبیوں کو شکست ہو گئی۔

بنی اسرائیل کو ایک اور موقع

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو موآبیوں پر فتح عطا فرمائی۔ لیکن وہ بد بخت اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں آئے۔ اور گمراہی میں مبتلا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے نتیجے میں انہیں قحط میں مبتلا کر دیا اور ارامیوں کے ظالم بادشاہ کو ان پر مسلط کر دیا۔ سلطنت ارام کے بادشاہ نے سلطنت سامریہ پر حملہ کر دیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ اور یہ اتنا لمبا چلا کہ بنی اسرائیل کے لوگ بھوکے مرنے لگے۔ عوام بادشاہ کے پاس آئے اور کہا ۔ ہمارے لئے کچھ کرو کیوں کہ اب ہمارے بھوکے مرنے کی نوبت آگئی ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں اور امیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا حضرت یسع علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی جائے۔ بادشاہ اس بات کو منظور کر لیا اور اپنا ایک آدمی آپ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اپنے بادشاہ سے جا کر کہو کہ ایک میدان میں تمام بنی اسرائیل کو جمع کرے اور خود بھی وہاں حاضر رہے ۔ حکم کے مطابق بادشاہ تمام بنی اسرائیل کے ساتھ وہاں حاضر ہو گیا۔ آپ علیہ السلام اُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے کے بعد فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیا ہے اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سنبھلنے اور سدھرنے کا ایک اور موقع عطا فرما رہا ہے۔

ارامی لشکر بھاگ گیا

حضرت یسع علیہ السلام نے آگے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری گمراہیوں کی وجہ سے قحط اور ارامی لشکر کو مسلط کر دیا ہے۔ تمہارے پاس ابھی بھی موقع ہے، اگر تم گمراہیوں سے نکل آﺅ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر سے قحط اور ارامی لشکر کو ہٹا لے گا۔ تمام بنی اسرائیل نے ایک زبان ہو کر عرض کیا۔ ہم تمام برائیوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت یسع علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اس کے بعد فرمایا۔ کل صبح سلطنت سامریہ کے پھاٹک پر ایک مثقال ( بنی اسرائیل کا ایک روپیہ) میں ایک پیمانہ میدہ اور ایک ہی مثقال میں دو پیمانہ جو بِکے گا۔ یہ سن کر بادشاہ کے خاص آدمی نے کہا۔ اگر اللہ تعالیٰ آسمان کے دروازے بھی کھول دے گا تو بھی کل ایسا نہیں ہوگا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کل تُو خود اپنی آنکھوں سے یہ دیکھے گا، مگر اس میں کھانے نہیں پائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام چلے گئے اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں ہر شہر کے اطراف میں ایک اونچی دیوار ہوتی تھی۔ جسے ”شہر پناہ“ یا ”فصیل “ کہا جاتا تھا۔ اس دیوار میں ہر سمت بڑے بڑے گیٹ (دروازے یا لوہے کے پھاٹک) ہوتے تھے۔ سلطنت سامریہ کے پھاٹک کے پاس کوڑھیوں کے رہنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں پر چار کوڑھی رہتے تھے۔ انہوں نے رات میں یہ طے کیا کہ ویسے ہی ہم یہاں بھوک سے مر رہے ہیں جب مرنا ہی ہے تو ارامیوں کے لشکر میں جا کر اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اگر وہ ہمیں زندہ چھوڑ دیں گے تو کم سے کم ہمیں کھانے کو تو مل جائے گا۔ شہر پناہ کے اطراف میں ارامیوں کا لشکر محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ رات میں انہیں اچانک شہر پناہ کی طرف سے ہزاروں گھوڑوں کے تیزی سے دوڑنے کی آواز سنائی دی۔ پوری شہر پناہ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اور ارامیوں کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ایک بہت بڑا لشکر ان پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اور وہ اتنے مرعوب ہو ئے کہ گھبرا کر اپنے خیمے ویسے ہی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پہلے کچھ لوگ بھاگے ۔ اندھیرے میں ان کے گھوڑوں کی ٹاپ سن کر دوسرے لشکری سمجھے کہ بنی اسرائیل شب خون مارنے آرہے ہیں۔ اور اس طرح پورا ارامی لشکر اپنے خیموں کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔

بنی اسرائیل کی آزمائش میں ناکامی

حضرت یسع علیہ السلام کی بات پر تمام بنی اسرائیل کو بھروسہ تھا۔ اور وہ رات کے گزرنے کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ادھر ان چاروں کوڑھیوں نے چپکے سے پھاٹک تھوڑا سا کھولا اور شہر پناہ کے باہر آگئے۔ باہر ہر طرف ارامیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ یہ چاروں خاموشی سے چھپتے چھپتے خیموں کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کوئی پہریدار نہیں تھا۔ ان کی ہمت کھلی اور وہ آگے بڑھ کر خیموں میں جھانکنے لگے تو دیکھا کہ تمام خیمے خالی ہیں۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرانی اور بڑھ گئی ، چونکہ وہ بہت بھوکے تھے اسی لئے پہلے انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اس کے بعد شہر پناہ کے اندر واپس آئے اور بادشاہ کے محل کے پاس جا کر پہریداروں سے کہا کہ ہمیں بادشاہ سے ملنا ہے ۔پہریداروں نے ان کوڑھیوں کو دیکھا تو انہیں بھگانے لگے۔ لیکن ان چاروں نے کہا کہ ہمیں ارامی لشکر کے بارے میں بادشاہ کو بہت اہم اطلاع دینا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے چاروں کو بلوایا انہون نے بتایا کہ ہم شہر پناہ کے باہر ارامیوں کے لشکر میں گئے تو دیکھا کہ تمام خیمے خالی پڑے ہیں۔ خبر بہت اہم تھی۔ اس لئے بادشاہ نے فوراً دربارلگانے کا حکم دیا۔ جب تمام درباری آگئے تو بادشاہ نے چاروں کوڑھیوں کی بتائی گئی بات سب کو بتائی۔ درباریوں نے کہا۔ ہو سکتا ہے یہ ارامیوں کی کوئی چال ہو۔ اور وہ آس پاس اندھیرے میں چھپے ہوئے ہوںاور جیسے ہی ہم ان کے خیموں میں داخل ہوں تو وہ ہم پر حملہ کر دیں۔ بادشاہ نے تحقیق کے لئے گھڑ سواروں کو شہر پناہ کے باہر بھیجا۔ ان گھڑ سواروں نے ارامیوں کے لشکر کے خیموں کا اور آس پاس کے جنگل کا جائزہ لیا اور پوری شہر پناہ کا چکر لگا کر واپس آئے اور بادشاہ کو بتایا کہ کہیں بھی ارامیوں کا پتہ نہیں ہے۔ اور وہ یقینا بھاگ گئے ہیں۔ بادشاہ نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ ارامیوں کے خیموں اور سامان پر قبضہ کر لو۔ جب صبح بنی اسرائیل اٹھے تو دیکھا کہ شہر پناہ کے ہر طرف پھاٹک کھلے ہوئے ہیں۔ اور بادشاہ کے سپاہی ہر جگہ تعینات ہیں۔ بادشاہ نے اعلان کروایا کہ ارامی بے شمار مال ِ غنیمت اور کھانے پینے کا سامان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس لئے تمام لوگ آ کر اپنے حصے کا سامان لے لیں۔ یہ اعلان سن کر بنی اسرائیل خوش ہو گئے اور بڑے پھاٹک کی طرف بڑھے۔ بادشاہ کے خاص آدمی ( جس نے حضرت یسع علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی تھی) نے عوام کو روکنے کی کوشش کی تو عوام نے اسے گرا دیا اور کچل ڈالا اور وہ مر گیا۔ بنی اسرائیل کو اتنا کھانے پینے کا سامان ملا کہ سال بھر کےلئے کافی ہو گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل حضرت یسع علیہ السلام پر ایمان لائے ۔لیکن بہت سے گمراہیوں میں مبتلا رہے اور وہ آزمائش میںناکام ہو گئے۔

حزائیل ارام کا بادشاہ

حضرت یسع علیہ السلام کی پیشن گوئی کے مطابق ارامی محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اور سلطنت سامریہ میں بنی ا سرائیل چین سے رہنے لگے۔ بہت سارے بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام پر ایمان لا کر بت پرستی چھوڑ دی تھی۔ لیکن بادشاہ کی ماں ایزبل جس نے سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا شروع کروائی تھی۔ وہ مسلسل اپنی کوششوں میں لگی رہی اور اسی کی وجہ سے اس کا بیٹا بھی بت پرستی میں مبتلا رہا۔ ار اپنی ماں ایزبل کے کہنے پر ان لوگوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا جو حضرت یسع علیہ السلام پر ایمان لا کر بت پوجنا چھوڑ دیا تھا۔ بادشاہ کے ظلم سے گھبرا کر وہ لوگ پھر بت پرستی کی طرف مائل ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی، اسی دوران ارام کا بادشاہ بن ہد جس نے سلطنت سامریہ پر حملہ کیا تھا وہ شدید بیمارہو گیا تو حضرت یسع علیہ السلام ارام گئے۔ بن ہُد آپ علیہ السلام سے واقف تھا۔ بلکہ تمام ارامی آپ علیہ السلام کو ایک بہت ہی بزرگ کی حیثیت سے جانتے تھے۔ بن ہد نے اپنے خاص آدمی حزائیل سے کہا کہ وہ نیک بزرگ آئے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جاﺅ اور دریافت کرو کہ میں اس بیماری سے اچھا ہوجاﺅں گا یا اسی بیماری میں مر جاﺅں گا۔ حزائیل آپ علیہ السلام کی خدمت میں بادشاہ کی طرف سے تحفے تحائف لے کر حاضر ہوا اور اپنے بادشاہ کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس بیماری سے تو وہ اچھا ہو جائے گا، لیکن اس کی زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں۔ حزائیل نے حیرت سے پوچھا ۔ کیا ہمارا بادشاہ تندرست ہونے کے بعد مر جائے گا؟ تو آپ علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور فرمایا۔ وہ خود سے نہیں مرے گا بلکہ تُو اسے قتل کردے گا اور ارام کا بادشاہ بن جائےگا۔ حزائیل نے توبہ کرتے ہوئے کہا۔ میں یہ کام کبھی نہیں کر سکوں گا۔ حضرت یسع علیہ السلام کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر رونے لگے۔ اس نے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تو جب بادشاہ بنے گا تو بنی اسرائیل کا قتل عام کرے گا۔ اب تو یہاں سے چلا جا۔ حزائیل حیران ہوتا ہوا وہاں سے بن ہد کے پاس واپس آیا ۔ اس نے پوچھا کہ ان نیک بزرگ نے کیا کہا؟ حزائیل نے کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس بیماری سے آپ اچھے ہو جائیں گے اور باقی باتوں کو چھپا لیا۔ بن ہد اچھا ہو گیا۔ لیکن کافی عرصہ گزر نے کے بعد حزائیل نے اسے قتل کر دیا اور خود ارام کا بادشاہ بن گیا۔

یاہو سلطنت سامریہ کا بادشاہ

حضرت یسع علیہ السلام سلطنت سامریہ میں آکر پھر سے بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے۔ بادشاہ یہورام بن اخی اب اپنی ماں ایزبل کے کہنے پر آپ علیہ السلام سے دشمنی رکھتا تھا۔ لیکن کھل کر آپ علیہ السلام کی مخالفت نہیں کرتا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے ماننے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ اور وہ طاقتور بھی تھے۔ ادھر سلطنت یہودیہ پر یہورام بن یہو سفط کی حکومت تھی۔ جو سلطنت سامریہ کے بادشاہ کا بہنوئی تھااور ایزبل کا داما د تھا۔ اس کے ذریعے ایزبل نے سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی شروع کروادی تھی۔ یہورام بن یہو سفط نے آٹھ 8سال حکومت کی۔ اسکے دور حکومت کے آخری دنوں میں ادوم کے بادشاہ نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا۔ یہورام بن یہو سفط نے اپنے سالے یہو رام بن اخی اب کو مدد کےلئے بلایا۔ لیکن اس کے آنے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیااور اس کی جگہ اس کا بیٹا اخزیاہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔ یہورام بن اخی اب اپنے بھانجے کی مدد کےلئے فوج لے کر آیا اور ادوم کے بادشاہ کو شکست دے دی۔ اسکے بعد وہ سلطنت سامریہ واپس آگیا۔ لیکن ایک سال بعد ارام کے بادشاہ حزائیل نے سلطنت سامریہ پر حملہ کر دیا اور بنی اسرائیل کا قتل عام شروع کر دیا۔ یہورام بن اخی اب کو اس حملے کی خبر ملی تو لشکر تیار کر کے آگے بڑھا اور اپنے بھانجے سلطنت یہودیہ کے بادشاہ اخزیاہ کو بھی مدد کے لئے بلایا۔ ادھر حزائیل سلطنت سامریہ کے علاقوں پر قبضہ کر تے اور بنی اسرائیل کا قتل عام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ جب وہ رامات جلعاد پہنچا تو اس کا سامنا یہورام بن اخی اب کے لشکر سے ہوا۔ دونوں میں مقابلہ چل رہا تھا کہ چند دنوں بعد اخزیاہ بھی لشکر لے کر پہنچ گیا اور ان دونوں نے مل کر اتنا شدید حملہ کیا کہ حزائیل کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ لیکن اس مقابلے میں یہورام بن اخی اب اتنا شدید زخمی ہو گیا کہ سفر کرنے کے قابل نہیں رہا۔ حزائیل تو ارام واپس چلا گیا۔ لیکن یہورام بن اخی اب اپنے زخموں کے اچھے ہونے کے انتظار میں وہیں رکا رہا۔ اور خزیاہ بھی اپنے ماموں کے پا س وہیں رک گیا تھا۔ ادھر حضرت یسع علیہ السلام نے یاہو بن یہو سفط بن عمسی کو مسح کیا اور اس کی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ یاہو بن یہوسفط آپ علیہ السلام کے پیرو کار وں میں سے تھا۔ اور اللہ پر ایمان رکھتا تھا۔ 

ایزبل کا قتل اور بت پرستی کاخاتمہ

حضرت یسع علیہ السلام نے یاہو بن یہوسفط بن عمسی کو بادشاہ بنانے کے بعد فرمایا کہ تمہارا سب سے پہلا کام بنی اسرائیل میں بت پرستی کا خاتمہ کرنا ہے۔ حضرت یسع علیہ السلام کے پیرو کار اس کے ساتھ تھے۔ وہ رامات جلعاد گیا اور یہورام بن اخی اب اور اخزیاہ بن یہورام یعنی دونوں ماما بھانجے کو قتل کر دیا۔ بنی اسرائیل کے تمام فوجی اس کے ساتھ ہو گئے اور وہ سلطنت سامریہ کی راجدھانی سامریہ میں آیا۔ اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ جب وہ شاہی محل کے پاس اپنی فوج لے کر پہنچا تو ایزبل بن سوز کر محل کے جھروکے میں آکر یاہو کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ تا کہ وہ متاثر ہو کر اسے اپنی ملکہ بنا لے۔ یاہوبن یہو سفط جانتا تھا کہ بنی اسرائیل کو بعل کی پوجا میں اسی نے مبتلا کیا ہے۔ اس لئے اس نے ایزبل کے پیچھے کھڑے خواجہ سراﺅں کو اشارہ کیا تو انہوں نے ایزبل کو جھروکے سے نیچے پھینک دیا۔ وہ گزرتے ہوئے فوجیوں کے گھوڑوں کے درمیان گری اور بہت بری طرح سے کچلی گئی۔ یاہو بن یہو سفط نے محل میں رہائش اختیار کر لی اور اخی اب کے پورے خاندان والوں کو قتل کر دیا تا کہ بت پرستی کی جڑ ہی کٹ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلطنت سامریہ میں بعل کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔ اور تمام مندروں کو بھی مسمار کروادیا۔ شاہی مندر کو بھی توڑ ڈالا اور وہاں بیت الخلاءبنا دیا۔ اور بعل کی پوجا کرنے والے تمام پجاریوں کو چن چن کر قتل کر وادیا۔ کسی بھی مندر کا کوئی بھی پجاری زندہ نہیں بچا۔ اس کے بعد یاہو بن یہوسفط نے اعلان کروادیا کہ سلطنت سامریہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو گی اس طرح بنی اسرائیل میں بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا۔

عتلیاسلطنت یہودیہ کی حکمراں

حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے یاہو بن یہو سفط نے سلطنت سامریہ میں بت پرستی کا خاتمہ کردیا تھا۔ لیکن بادشاہ بننے کے بعد وہ دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گیا اسی لئے اس نے اسلامی حکومت قائم نہیں کی۔ بلکہ بادشاہی حکومت چلاتا رہا۔ سلطنت سامریہ پر اس نے توریت کے احکامات نافذ نہیں کئے۔ اور اپنے بنائے ہوئے قوانین نافذ کئے۔ ہاں اتنا ضرور اس نے کیا بت پرستی نہیں ہونے دی۔ ادھر سلطنت یہودیہ میں اخزیاہ بن یہورام کو یاہو بن یہو سفط نے قتل کر دیا تھا تو اخزیا ہ کی ماں عتلیا نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا تھا۔ اورسلطنت یہودیہ کی حکمراں بن گئی تھی۔ اس نے پورے شاہی خاندان کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ۔ یہاں تک کہ اپنے پوتے یہو آس کو بھی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن عتلیا کی بیٹی نے اپنے بھتیجے کو چھپا کر دایہ کے حوالے کیا۔ اور اسے حکم دیا کہ سیدھے ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) لے جاﺅ اور وہاں کے سب سے بڑے کاہن بنی اسرائیل کا سب سے بڑا عالم یا امام)کے حوالے کر دو۔ اور اپنی ماں عتلیا سے کہا کہ تیرے پوتے یہوا ٓس کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کے کاہن یہویدع نے یہو آس بن اخزیا کو بیت المقدس کے ایسے حجرے ( کمرے ) میں رکھا جہاں کوئی بھی نہیں جاتا تھا۔ اور صرف یہو یدع ہی جاتا تھا۔ اس طرح عتلیا سلطنت یہودیہ پر حکمرانی کرتی رہی اور چھ سال گزر گئے ان چھ سالوں میں یہو آس بیت المقدس میں چھپا رہا۔

یہو آس بن اخزیا ہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے سلطنت سامریہ ( اسرائیل) میں تو بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ لیکن سلطنت یہودیہ میں عتلیا کی حکمرانی میں بعل کی پوجا کی جارہی تھی۔ جب چھ سال گزر گئے اور یہو آس بن اخزیاہ بڑا ہو گیا تو حضرت یسع علیہ السلام نے بیت المقدس کے بڑے کاہن یہو یدع کو حکم دیا کہ اب یہو آس کو مسح کرو اور اسے سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا دواور اسے حکم دو کہ سلطنت یہودیہ میں بت پرستی کا خاتمہ کرے۔ یہ حکم سن کر یہو یدع نے حکومت کے تمام عہدے داروں ، وزیروں اور سپہ سالاروں کو ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) میں جمع کیا اور اعلان کیا کہ تمہارے بادشاہ کا بیٹا ابھی بھی زندہ ہے اور میں نے اسے حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ اب حکم آیا ہے کہ میں اس کا مسح کر کے اسے بادشاہ بنادوں تا کہ وہ سلطنت یہودیہ سے بت پرستی کا خاتمہ کر دے۔ تمام امرائ، وزراءاور سپہ سالاروں نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ہمارے بادشاہ کو سامنے لاﺅ۔ یہو یدع نے یہو آس بن اخزیاہ کو تاج پہنایا اور شاہی لباس پہنا کر باہر لایا۔ جسے دیکھ کر تمام امراءوزراء، سپہ سالار ، تمام بنی اسرائیل اور فوج نے زور دار نعرہ لگایا اور نر سنگھے پھونکے جانے لگے۔ عتلیا کو یہ آواز اپنے محل میں سنائی دی تو ہو حیران ہو ئی اور اپنے رتھ پر سوار ہو کر بیت المقدس آئی اور وہاں سب لوگوں کو جمع دیکھا اور یہو آس بن اخزیاہ کو بادشاہ بنے دیکھا تو سارا معاملہ سمجھ گئی اور زور سے چلائی، غداری ، مجھ سے غداری کی گئی ہے ۔ تمام سپہ سالاروں نے اس پر تلوار تان لی لیکن یہو یدع نے کہا یہ سب ہیکل پاک جگہ ہے۔ ا سلئے اسے چھوڑ دو اور ہیکل کے دروازے کے باہر قتل کرنا۔ اس کےلئے راستہ چھوڑ دیا گیا اور جب وہ بیت المقدس کے باہر آئی تو اسے قتل کر دیا گیا۔

سلطنت یہودیہ سے بت پرستی کا خاتمہ

حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے یہو آس بن اخزیاہ کو سلطنت یہو دیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد بڑے کاہن یہو یدع نے بادشاہ اور تمام امراء، وزراء، سپہ سالاروں ، فوجیوں اور تمام بنی اسرائیل سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور بت پرستی سے توبہ کریں۔ بادشاہ اور درباریوں اور تمام بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت اور بندگی نہیں کریں گے۔ اس کے بعد شاہی محل میں بادشاہ نے رہائش اختیار کر لی۔ یہو آس بن اخزیاہ سلطنت یہو دیہ کا بادشاہ بنا تو یاہو بن یہو سفط کو سلطنت سامریہ پر بادشاہت کرتے ہوئے چھ سال گزر چکے تھے۔ ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کا بڑا کاہن یہو یدع بادشاہ کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا۔ اور اس کی ہدایت کے مطابق بادشاہ نے سلطنت یہودیہ میں بعل کے تمام مندروں اور بتوں کو تڑوادیا ۔ لیکن دور کے پہاڑی علاقوں میں چوری چھپے بت پرستی ہو رہی تھی۔ بہر حال مجموعی طور سے سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ لیکن یہو آس بن اخزیاہ نے توریت کے احکامات نافذ نہیں کئے اور اسلامی حکومت قائم نہیں کی، بلکہ اپنے بادشاہی قوانین نافذ کئے۔

ہیکل سلیمانی( بیت المقدس) کی تعمیری توسیع

حضرت یسع علیہ السلام کی عمر مبارک زیادہ ہو چکی تھی۔ اور آپ علیہ السلام کا وصال اسی بادشاہ یہو آس بن اخزیاہ کے دور حکومت میں ہوا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ ہم آگے کریں گے۔ یہو آس جب بادشاہ بنا تو اس کی عمر صرف سات سال تھی۔ وہ اپنے استاد یہو یدع کی ہدایات کے مطابق حکومت کر رہا تھا۔ اس طرح کہنے کو تو یہو آس کی حکومت تھی لیکن اس کی باگ ڈور بیت المقدس کے بڑے کاہن یہو یدع کے ہاتھ میں تھی۔ اس لئے یہو آس نے ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کی تعمیری تو سیع کا کام بہت کیا۔ اور ہیکل کو بہت مضبوط بنا دیا۔ اسی دوران ارام کے بادشاہ حزائیل نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا۔ اور جات پر قبضہ کر لیا۔ یہو آس نے اسے بہت سارا سونا اور تحفے تحائف اس کی خدمت میں دے کر صلح کر لی اور حزائیل جات کا علاقہ چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ ورنہ اس کا ارادہ یر وشلم پر بھی حملہ کرنے کا تھا۔یہو آس نے چالیس 40سال تک سلطنت یہودیہ پر حکومت کی۔

حضرت یسع علیہ السلام کا وصال

حضرت یسع علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب آچکا تھا۔ سلطنت سامریہ کا بادشاہ یاہو بن یہو سفط نے اٹھائیس 28سال تک حکومت کی۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یہو آخز بن یاہو سلطنت سامریہ ( اسرائیل یا اسرائیلیہ ) کا بادشاہ بنا۔ اس وقت تک سلطنت یہو دیہ کے بادشاہ یہو آس کو حکومت کرتے ہوئے بائیس22سال گزر چکے تھے۔ یاہو بن یہو سفط کے دور حکومت میں ارام کا بادشاہ مسلسل سلطنت سامریہ پر حملہ کرتا رہا اور یاہو اس کا مقابلہ کرتا رہا۔ یہو آخز بن یاہو جب بادشاہ بنا تو اس نے بھی حزائیل کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اور ارام کا بادشاہ حزائیل ایک ایک کر کے اس سے سلطنت سامریہ کے علاقے چھیننے لگا اس کی وجہ سے یہو آخز گھبرا گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا باپ یاہو ، حضرت یسع علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا اور اکثر ان سے حکومت کے معاملے میں مشورہ لیتا رہتا تھا۔ اور ان پر عمل کر کے کامیاب بھی رہتا تھا۔ اسی لئے وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ علیہ السلام مرض الموت میں مبتلا تھے۔ یہو آخز نے عرض کیا۔ آپ علیہ السلام میرے والد صاحب کو مناسب مشورے دیا کرتے تھے آج میں بھی مصیبت میں ہوں، اللہ کے واسطے مجھے مشورہ دیں میں کیا کروں۔ تب آپ علیہ ا لسلام ، یہو آخز کا سہار ا لے کر باہر آئے اور اس کے ساتھ اس کے رتھ پر سوار ہوئے اور حکم دیا کہ کھلے میدان میں چلو۔ سنسان علاقے میں آنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اپنا تیر کمان اٹھا اور مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول کر تیر چلا۔ یہو آخز نے رتھ کی مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول کر تیر چلایا۔ آپ علیہ السلام تیر کو جاتے اور زمین پر گرتے دیکھتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ تو ارام کے بادشاہ حزائیل پر حاوی ہو گیا۔ اس کے بعد فرمایا۔ اب زمین پر تیر چلاﺅ۔ یہو آخز نے زمین پر تین تیر چلائے اور پھر رک کر آپ علیہ السلام کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم زمین پر پانچ تیر چلاتے تو ہمیشہ کے لئے ارام کے بادشاہ حزائیل کو مکمل تباہ کر دیتے لیکن تم نے تین تیر چلائے اس لئے تین مرتبہ حزائیل کو شکست دو گے اور اس پر حاوی ہو گے۔ اس کے بعد وہ تم پر حاوی ہو جائےگا۔ یہ سن کر یہو آخز واپس چلا گیا اور حضرت یسع علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ یہو آخز نے سولہ 16سال سلطنت سامریہ پر حکومت کی پھر اس کا بھی انتقال ہو گیا۔ (ختم شدہ)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں