حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام مکمل
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 19
بنی اسرائیل کی غلامی
حضرت دانیال علیہ السلام کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم بنی اسرائیل کے کچھ حالات بیان کریں گے تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔ حضرت شعیا علیہ السلام کے ذکر میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بے رحمی سے شہید کردیا تھا اور اپنے اوپر اﷲ کے غضب کو مقدر بنا لیا تھا ۔ اِس کے بعد بھی اﷲ تعالیٰ نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو اپنا پیغام دے کر بھیجا اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا ۔ یوسیاہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت کی اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوا لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے مار پیٹ کر آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا ۔ تب بخت نصر کی شکل میں اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا اور اُس نے بے شمار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بے شمار بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ”بابل“ لے گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل بھاگ کر ملک مصر چلے گئے تھے ، بخت نصر نے ملک مصر کے بادشاہ کے پاس قاصد بھیجے اور کہا کہ میرے غلام بھاگ کر تمہارے ملک میں آگئے ہیں انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔ اِس کے جواب میں ملک مصر کے بادشاہ نے کہا کہ بنی اسرائیل تمہارے غلام نہیں ہیں بلکہ آزاد لوگ ہیں اور میں اُن کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا ۔ بخت نصر نے اتنا سخت جواب سنا تو ملک مصر پر حملہ کردیا اور بادشاہ کو شکست دے کر قتل کردیا لیکن جو بنی اسرائیل ملک مصر میں چھپے ہوئے تھے وہ اُسے نہیں مل سکے کیونکہ بخت نصر کی بابل سے فوج لیکر ملک مصر روانہ ہونے کی خبر سنتے ہی وہ لوگ ملک مصر سے نکل بھاگے تھے ۔ ان میں سے کچھ ”وادیٔ القریٰ“ میں آباد ہوگئے اور کچھ یثرب (مدینۂ منورہ) کے آس پاس آباد ہوگئے ۔ جبکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بدستور بخت نصر کی غلام بنی رہی اور بابل میں غلامی کی زندگی گزارتی رہی ۔
آگ کی پوجا کا بانی: زرتشت
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے کئی شاگرد تھے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے دورِ حکومت میں آپ علیہ السلام کے بے شمار شاگرد ہوگئے تھے ۔ اُن میں سے ایک زرتشت (زرادشت) بھی تھا اوریہ ارامی یا عمونی یا ادومی تھا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شوگردوں کے ساتھ یہ بھی علم سیکھتا تھا ۔ جب اُس نے اچھا خاصا علم سیکھ لیا تو اُسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے لگا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ خیانت کی اور جھوٹ باندھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کے خلاف دعا فرمائی تو وہ وہاں سے بھاگ کر آذربائیجان چلا گیا اور وہاں مجوسیت کے مذہب کی بنیاد رکھی ۔ اُس نے آگ جلائی اور لوگوں کو بتایا کہ یہ تمہارا معبود ہے اور اِس کی پوجا کرو اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی تعلیمات کو گڈ مڈ کرکے لوگوں کو بتائی جو لوگوں بھلی معلوم ہوئیں اور وہ لوگ آگ کی پوجا کرنے لگے ۔ پھر زرتشت وہاں سے بلخ آیا اور وہاں کے بادشاہ یشتاشب کو اپنے مذہب کی دعوت دی اور اپنے دین کی تشریح کی تو یشتاشب کو بہت پسند آئی ۔ اُس نے اپنی حکومت میں اعلان کروادیا کہ عوام زرتشت کے مذہب کو قبول کرے اور آگ کی پوجا کرے ۔ بہت سی عوام نے زرشت کے مذہب کو قبول کیا اور بہت سوں نے مخالفت کی اور یشتاشب کے خلاف بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا اور پورا ملک فارس آگ کی پوجا کرنے لگا ۔ یہاں ملک فارس کا ذکر ہم نے اِس لئے کیا ہے کہ آگے چل کر بنی اسرائیل کے ذکر میں ملک فارس کے بادشاہ کا ذکر بھی آئے گا ۔ یہ بات ذہن میں رتکھیں کہ اُس وقت ملک فارس ایران اور خراسان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی بعثت
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بخت نصر نے اُن کی خواہش کے مطابق یروشلم (بیت المقدس) کے کھنڈرات میں ہی چھوڑ دیا تھا اور تمام بنی اسرائیل کو غلا م بنا کر بابل لے گیا تھا ۔ اُس نے ”سلطنت یہودیہ“ اور سلطنت سامریہ“ (اسرائیل) کا خاتمہ کردیا ۔ سلطنت سامریہ اسرائیل تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی لیکن بعد میں بنی اسرائیل کے مختلف قبائل نے اِسے آباد کیا تھا لیکن مستحکم حکومت نہیں بنا سکے تھے ۔ بہرا حال بخت نصر نے بنی اسرائیل کی تمام حکومت کا خاتمہ کردیا تھا ۔ یہ سب ہم آپ کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں ۔ بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بخت نصر بابل لے گیا اور اُن کے ساتھ بہت ذلت آمیز سلوک کیا ۔ بنی اسرائیل اُس کی حکومت میں غلامی کی زندگی گزارنے لگے ۔ بخت نصر اُن کو ہر طرح سے ذلیل کرتا تھا اور ہر بیگاری کا کام اُن سے لیتا تھا ۔ بابل میں لگ بھگ ستر 70 سال تک بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزارتے رہے ۔ جن لوگوں کو بخت نصر قید کرکے لایا تھا اُن میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی تھے ۔ اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ تیرہ یا چودہ سال تھی ۔ آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک جب چالیس سال ہوئی اور بنی اسرائیل کو غلامی کی زندگی گزارتے ہوئے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت دانیال علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور نبوت سے سرفراز فرمایا تاکہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھائیں اور اُنہیں سیدھا اور سچا راستہ بتائیں ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھانا شروع کردیا اور اُن میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔
بخت نصر کا خواب
حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے اور ہمارے بزرگ صحیح راستے سے بھٹک گئے تھے جس کی اُنہیں سزا ملی ہے ۔ یہ تمام باتیں آپ علیہ السلام نوجوانوں کو سمجھاتے تو بوڑھے بنی اسرائیل اُن کی تائید کرتے تھے ۔ (بخت نصر نے جن جوانوں کو غلام بنایا تھا وہ ادھیڑ عُمر کے یا بوڑھے ہوچکے تھے) بخت نصر کا ظلم ابھی بھی بنی اسرائیل پر جاری تھا اور بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ نوجوانوں نے تو غلامی میں ہی آنکھ کھولی تھی اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلام ہی سمجھتے تھے ۔ حضرت دانیال علیہ السلام اُنہیں گزرے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بتاتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے تھے کہ بنی اسرائیل کا ماضی کتنا شاندار گزرا ہے ۔ اِسی دوران اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر پر حُجت قائم کرنے کے لئے اُسے ایک خواب دکھلایا اور بھلا دیا ۔ بخت نصر نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا لیکن جب صبح اُٹھا تو وہ خواب بھول گیا ۔ اُس خواب کی وجہ سے وہ بہت بے چین ہوگیا اور اُس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں اور کاہنوں کو بلایا اور کہا کہ میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ وہ بہت ہی عجیب خواب تھا اور اُس کی وجہ سے میں بہت بے چینی میں مبتلا ہوں ، مجھے اِس خواب کی تعبیر بتاؤ ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ ٹھیک ہے! آپ ہمیں خواب بیان کریں ،ہم اِس کی تعبیر بتائیں گے ۔بخت نصر نے کہا :” میں خواب تو بھول گیا ہوں مگر مجھے تم لوگ اس کی بتاو¿گے۔“ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا :” بغیر خواب سنے ہم اِس کی تعبیر کیسے بتا سکتے ہیں؟“ یہ سن کر اُسے غصہ آگیا اور اُس نے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا :”اب تم مجھے وہ خواب بھی بتاؤگے اور اُس کی تعبیر بھی بتاؤگے اور اگر نہیں بتا سکے تو میں تم سب کو قتل کردوں گا۔“
تمام لوگ حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں
حضرت دانیال علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ علیہ السلام کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ آپ علیہ السلام کا ادب اور عزت کرتے ہی تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ بابل کی عوام بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتی تھی ۔ جب بخت نصر نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا کہ مجھے میرا خواب بھی بتاو¿ ورنہ میں تم سب کو قتل کردوں گا تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے بخت نصر سے چند دنوں کی مہلت مانگی جو اُس نے دے دی ۔ تما نجومیوں اور کاہنوں نے آپس میں مشورہ کیا لیکن اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ آخر کار انہوں نے یہ طے کیا کہ یہ مصیبت بنی اسرائیل کے علما پر ڈال کر جان بچا لی جائے ۔ بنی اسرائیل میں زیادہ تر دنیا پرست علما تھے جنہوں نے چند رسومات کو دین کا نام دے رکھا تھا اور سیدھے سادھے بنی اسرائیل کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے بخت نصر سے کہا :”بنی اسرائیل کے علما کو ہم سے زیادہ علم ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آسمانی دین پرہیں ۔ اِس لئے وہ لوگ آپ کا خواب بھی بتائیں گے اور اُس کی تعبیر بھی بتائیں گے ۔ بخت نصر نے بنی اسرائیل کے علما کو دربار میں حاضر کرنے کا حُکم دیا ۔ جب سب حاضر ہوئے تو بخت نصر نے اپنا سوال دہرایا ۔ تمام علما پریشان ہوگئے اور آپس میں غوروخوض کرنے لگے ۔ آخر کار انہوں نے کہا کہ ہم بغیر خواب اُس کی تعبیر نہیں بتاسکتے ۔ بخت نصر نے کہا :”تم تو کہتے ہوکہ ہمارا دین آسمانی ہے ، کیا آسمان سے اِس کے بارے میں تمہارے لئے مدد نہیں آسکتی؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”وہ تو ٹھیک ہے ، لیکن بغیر خواب سنے کوئی بھی تعبیر نہیں بتا سکے گا ۔“ یہ سن کر بخت نصر کو غصہ آیا اور اُس نے کہا :”میں تم تمام علما اور تمام کاہنوں اور نجومیوں کو تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ اگر مجھے تین دن میں میرا خواب اور اُس کی تعبیر نہیں بتائی تو میں تم سب کو قتل کرادوں گا ۔“ یہ حُکم سن کر تمام بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے بجومیوں اور کاہنوں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں اور وہ سب مل کر مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح جان بچائی جائے؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”ہم میں سے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، چلو اُن کے پاس چلتے ہیں اورتمام علما اور نجومی اورکاہن آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے
حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں
حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں بنی اسرائیل کے تمام علما اور بخت نصر کے تمام نجومیوں اور کاہنوں نے حاضر ہوکر درخواست کی کہ ہمیں اِس مصیبت سے بچائیں ۔ اگر آپ علیہ السلام واقعی اﷲ کے نبی ہیں تو ہمیں ضرور اِس مسئلے کا حل بتائیں گے اور تمام ماجرا آپ علیہ السلام کو سنا دیا ۔ پورا واقعہ سننے کے بعد آپ علیہ السلام کافی دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے اور سب لوگ اُمید بھری نظروں سے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ۔ کافی دیر کے بعد آپ علیہ السلام نے سر اٹھایا اور فرمایا :”ٹھیک ہے! انشاءاﷲ میں بخت نصر کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا، تم لوگ اُس سے جا کر کہہ دو کہ میں فلاں دن دربار میں آکر اُس سے ملوں گا ۔“ بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے نجومیوں کاہنوں نے دربار میں حاضر ہو کر کہا :”بنی اسرائیل میں سے ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آسمان والے (اﷲ تعالی) کا نبی ہے ۔ اُس نے کہا ہے کہ میں بادشاہ کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا اور اُس نے فلاں دن آنے کا وعدہ کیا ہے ۔“ بخت نصر نے کہا :”ٹھیک ہے! میں اپس کا انتظار کروں گا۔“ جس دن کا آپ علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا اُس دن آپ علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں پہنچ گئے ۔
سجدہ نہیں کیا
حضرت دانیال علیہ السلام جب بخت نصر کے محل کے پاس پہنچے تو باہر ہی تمام علماء، نجومی اور کاہنوں نے آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور ساتھ لیکر بخت نصر کے دربار میں حاضر ہوئے ۔ سب لوگوں نے قاعدے کے مطابق بخت نصر کو سجدہ کیا لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے اُسے سجدہ نہیں کیا ۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تعظیمی سجدہ جائز تھا لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیا ہے اب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر اُمتی صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرسکتا ہے اور اﷲ رب العزت کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرسکتا ہے) یہ دیکھ کر بخت نصر نے تمام لوگوں کو دربار سے نکل جانے کا حُکم دیا ۔ جب سب لوگ چلت گئے تو اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام سے پوچھا :”تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میرے رب (اﷲ تعالیٰ) نے مجھے اِسی شرط پر یہ علم عطا فرمایا ہے کہ میں اُس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کروں گا ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے تجھ کو سجدہ کیا تو وہ مجھ سے میرا علم چھین لے گا اور تم میرے علم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکوگے اورجس کے نتیجے میں تم مجھے قتل کردوگے ۔ اِسی لئے میں نے قتل سے بچنے کے لئے اور تجھے اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے ۔ اِس طرح میں نے تجھ کو تیری پریشانی سے جنات دلانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے۔“
حضرت دانیال علیہ السلام نے صحیح خواب بتایا
حضرت دانیال علیہ السلام کا جواب سُن کر بخت نصر لاجواب ہوگیا اور بولا :”میں نے تم سے بڑھ کر تمہارے رب کا وفادار بندہ کائی نہیںدیکھا اور میں ایسے شخص کو پسند کرتا ہوں ۔ اب تم میرا خواب اور اُس کی تعبیر بتاؤ ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تم نے خواب میں ایک بہت بُت یا مجسمے کو دیکھا ہے جس کے پاو¿ں زمین میں اور سر آسمان میں تھا ۔اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے بخت نصر کی طرف دیکھا تو وہ حیرانی سے منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے بعد اُس نے بے تابی سے کہا :”ہاں ہاں! (آپ علیہ السلام) صحیح خواب بتا رہے ہیں، مجھے یاد آرہا ہے ۔ مجھے آگے بتایئے ۔“ حضرت دانیال علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا :”تم نے ددیکھا کہ اُس بُت یا مجسمے کا اوپر والا حصہ سونے کا ہے ، درمیان حصہ چاندی کا ہے اور نچلا حصہ تانبے کا ہے اور پنڈلیاں لوہے کی ہیں اور پنجے پتھر کے ہیں ۔ تم اُس کا ود اور خوبصورتی اور پختگی دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اُس بُت کے سر پر پڑا ۔ پتھر اتنبی زور سے لگا کہ وہ بُت ٹوٹ پھوٹ کر بھوسہ بھوسہ ہوگیا ۔ اس کے بعد اُس کے اندر کی تمام دھات یعنی سونا ،چاندی، تانبا، لوہا، اور پتھر اِس طرح مل گئے کہ تم نے خیال کیا کہ تم انسان مل کر بھی اِسے الگ نہیں کرسکیں گے ۔ پھر تم نے دیکھا کہ وہ پتھر جس نے اُس بُت کا بھوسہ بنا دیا تھا وہ بڑا ہوتا جا رہا ہے اور پھیلتا جارہا ہے یہاں تک کہ ساری زمین اُس سے بھر گئی تھی۔ اب تمہیں وہ پتھر اور آسمان ہی نظر آرہا تھااور اِس کے بعد تمہاری آنکھ کھل گئی ۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے اور بخت نصر کی طرف دیکھنے لگے جو حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔
خواب کی تعبیر
حضرت دانیال علیہ السلام کی طرف کافی دیر تک بخت نصر محویت کے عالم میں دیکھتا رہا ۔ پھر چونک کر سیدھا ہوا اور بولا :”بے شک! بے شک! آپ (علیہ السلام) سچ کہہ رہے ہیں ۔ میں نے بالکل یہی خواب دیکھا ہے ، کمال کا علم ہے آپ کا مگر اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”اِس بُت سے مُراد مختلف زمانوں میں مختلف قومیں اور اُن کے حکمراں ہیں ۔ سونے یعنی اوپری حصے سے مُراد تمہارا زمانہ اور حکومت ہے ۔ چاندی سے مُراد تمہارا بیٹا اور اُس کی حکومت ہے جو تمہارے بعد حکمراں بنے گا ۔ تانبے سے مُراد ”سلطنت روم“ کی طرف اشارہ ہے ۔ لوہے سے مُراد ”سلطنت فارس“ ہے اور پتھر سے مُراد دو قومیں ہیں جن پر دو عورتیں حکومت کریں گی ۔ ایک مشرقی یمن میں اور دوسری مغربی شام میں ۔“
سیدالانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت
حضرت دانیال علیہ السلام اتنا فرما کر خاموش ہوگئے ۔ بخت نصر کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ شاید آپ علیہ السلام آگے کچھ فرمائیں گے ۔ پھر اُس نے پوچھا :”وہ پتھر کیا تھا؟اور اُس کے بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”جو پتھر اُس بُت کو آکر لگا تھا اور اُس بُت کو ریزہ ریزہ کردیا تھا ۔ وہ اﷲ کا دین (اسلام) ہے جو آخری زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہوگا (یعنی تمام انسانوں کے لئے مکمل شریعت) ۔ اﷲ تعالیٰ ملک عرب میں ایک ”نبی اُمی“ کو مبعوث فرمائے گا جس کی وجہ سے دوسرے ادیان اور قوموں کا وہ حشر ہوگا جو اُس بُت کا ہوا تھا ۔ وہ دین تمہارے خواب کے پتھر کی طرح بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ (اسلام) ساری زمین پر پھیل جائے گا ۔ اِس طرح باطل کی جگہ حق ، گمراہی کی ہدایت آجائے گی ۔ جاہل لوگ علم کی دولت سے مالامال ہوجائیں گے ۔ ضعیفوں کو قوت ، ناکسوں کو عزت اور بے کسوں کو نصرت (مدد) عطا کی جائے گی ۔“ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے ۔ دراصل خواب کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر کو اشارہ دیا تھا کہ اگر وہ عقلمند اور صاف ستھرے ذہن کا ہوتا تو حقیقت کو پالیتا لیکن اُس پر شیطان سوار تھا اور وہ گمراہی میں ہی پڑا رہا ۔
بخت نصر کو اسلام کی دعوت
حضرت دانیال علیہ السلام کے علم سے بخت نصر بہت متاثر ہوا اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں آپ (علیہ السلام) کو یہ اعزاز دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) میرے مقربین (خاص مشیر یا دوست) میں شامل ہوجائیں۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے اُس کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے مجھے یہ علم دنیاوی فائدے اُٹھانے کے نہیں عطا فرمایا ہے بلکہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے عطا فرمایا ہے اور میں تمہیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام قبول کرلو ، دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجاو¿گے اور اِسی میں تمہاری بھلائی ہے اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو اور اُنہیں میرے ساتھ ہمارے علاقے میں واپس جانے دو۔“ لیکن بخت نصر نے انکار کردیا اور آپ علیہ السلام واپس آگئے ۔
حضرت دانیال علیہ السلام قید خانے میں
حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُس کی بدبختی کہ اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اُس کی انبیاءسے ملاقات ہوئی اور خواب کے ذریعے اشارہ بھی دیا گیا لیکن اُس بدنصیب پر شیطان سوار تھا ۔ اِسی لئے اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ حضرت دانیال علیہ السلام مسلسل اِس کوشش میں لگے رہے کہ بنی اسرائیل میں بیداری آجائے اور وہ اﷲ رب العزت کو اور اُس کی بارگاہ میں اپنے مقام کو پہچان لے ۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کو اپنی جدوجہد میں کامیابی ملنے لگی اور بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہونے لگی ۔ وہ غلامی کی زندگی سے نجات کے لئے جدوجہد کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے ۔ بخت نصر کے درباریوں اور وزیروں نے آپ علیہ السلام کی شکایت کی کہ وہ تمہارے غلاموں (بنی اسرائیل) میں بغاوت کا جذبہ پیدا کررہے ہیں ۔ بخت نصر نے حضرت دانیال علیہ السلام کو بلوا کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کردو اور میں اُنہیں لیکر ہمارے ملک واپس چلا جاو¿ں ۔“ بخت نصر نے کہا :”یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” تو پھر ٹھیک ہے! میں اپنا کام جاری رکھوں گا اور انشاءاﷲ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بنی اسرائیل تمہاری غلامی سے آزاد ہوجائیں گے ۔“ یہ سُن کر بخت نصر نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ اِس باغی کو گرفتار کرلو اور قید خانے میں ڈال دو۔
شیروں نے نہیں کھایا
حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید خانے میں ڈال دیا ۔ بنی اسرائیل کو جب آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ بغاوت پر اُتر آئے اور اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر نے آپ علیہ السلام سے کہا :”اِن غلاموں کو سمجھائیں ۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے انکار کردیا اور فرمایا :”بنی اسرائیل کو آزاد کردو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری حکومت کے زوال کا سبب بن جائیں گے ۔“ بخت نصر نے کہا :”آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو روکیں ، ورنہ میں آپ علیہ السلام کو شیروں کے آگے ڈال دوں گا اور بنی اسرائیل کو سختی سے کچل دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”برسوں بعد بنی اسرائیل جاگے ہیں اور میرا کام پورا ہوگیا ہے ۔ اگر تم نے مجھے قتل بھی کردیا تب بھی یہ تحریک جاری رہے گی اور تمہاری حکومت کے لئے چیلنج بنی رہے گی ۔“ بخت نصر کو یہ سن کر غصہ آگیا اور اُس نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پیر باندھ کر ایک گہرے کنویں میں دو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا لیکن یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھوکے شیر آپ علیہ السلام پر بری طرح سے جھپٹے لیکن قریب پہنچ کر آپ علیہ السلام کو سونگھنے لگے اور پھر خاموشی سے اپنی اپنی جگہ واپس جاکر بیٹھ گئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر کی آنکھ نہیں کھلی اور اُس نے کہا :”یہ شخص جادوگر ہے ۔اِس نے شیروں پر بھی جادو کر دیا ہے ۔“
اﷲ تعالیٰ نے رزق پہنچایا
حضرت دانیال علیہ السلام کو بھوکے شیروں نے نہیں کھایا اور بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو وہیں چھوڑ دیا اور بولا :”جب شیروں کے لئے بھوک ناقابل برداشت ہوجائے گی تو وہ آپ (علیہ السلام) کو کھا جائیں گے ۔“ اِس طرح آپ علیہ السلام وہیں شیروں کے ساتھ گہرے کنویں میں قید رہے ۔ کئی دن گزر جانے کے بعد آپ علیہ السلام بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ دعا کی ۔اﷲ رب العزت نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام ویران اور کھنڈر بیت المقدس میں رہ رہے تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”حضرت دانیال علیہ السلام کے لئے کھانے کا انتظام کرو ۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا :”اے اﷲ تعالیٰ ! میں یروشلم میں ہوں اور وہ بابل میں ہیں ۔“ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”ہم تمہیں وہاں پہنچا دیں گے ۔“ آپ علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام اور شیروں کے لئے کھانا لیا اور ایک فرشتے نے آپ علیہ السلام کو حضرت دانیال علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔ کنویں کی کگار پر پہنچ کر حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے آواز لگائی ۔
اﷲ کا شکر ادا کیا
حضرت ارمیا علیہ السلام کی آواز سن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے آواز لگائی :”کون ہے؟“ اوپر نے انہوں نے آواز دی :”میں ارمیاہ (علیہ السلام) ہوں اور آپ (علیہ السلام) کے لئے کھانا اور پانی لایا ہوں ۔ مجھے اﷲ رب العزت نے بھیجا ہے ۔“ یہ سُن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو اُمید رکھنے والوں کو جواب دیتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کائنات کے لئے ہیں کہ جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اُسے دوسروں کے سُپرد نہیں کرتا ۔ تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کریم کے ہیں جو صبر کی جزا نجات کی صورت میں عطا فرماتا ہے ۔“ اِس طرح حضرت دانیال علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ شیروں کو بھی رزق پہنچاتا رہا ۔ آپ علیہ السلام وہیں قید رہے لیکن آپ علیہ السلام کی بنی اسرائیل میں آزادی کی پیدا کی ہوئی چنگاری شعلہ بن گئی اور بنی اسرائیل نے بخت نصر سے بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا لیکن اس کے بعد بھی بنی اسرائیل کی جدوجہد جاری رہی اور اُس کے بعد بخت نصر کبھی سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ اندرونی خانہ جنگی نے اُسے اتنا کمزور کردیا کہ آس پاس کے ممالک میں اُس کی ہوا اُکھڑ گئی ۔ اِس دوران حضرت دانیال علیہ السلام کا اسی کنویں میں وصال ہوگیا ۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی دعا
حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین کے بارے میں کئی روایات ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام سے دعا کی تھی :”اے اﷲ رب العزت! وہ آخری نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جن کا بنی اسرائیل انتظار کررہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ’[اُس آخری نبی“ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے لوگ مجھے دفن کریں۔“ اﷲ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور آپ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب عراق ایران فتح ہورہے تھے ۔ اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے ”تستر“ فتح کیا تو ہرمزان کے خزانے میں ایک تخت پر ایک لاش رکھی ہوئی ملی اور لاش کے سرہانے ایک عبرانی زبان میں لکھا ہوا مصحف رکھا ہوا تھا ۔ لاش کی اُنگلی میں ایک انگوٹھی بھی تھی جس پر نقش بنا ہوا تھا کہ دو شیر ایک شخص کا پید چاٹ رہے ہیں ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے وہ مصحف حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کردیا ۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو عبرانی زبان میں لکھا ہوا وہ مصحف پہنچا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن احبار کو بلوایا ۔ وہ عبرانی زبان جانتے تھے ۔ وُنہوں نے اس مصحف کا وربی ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت دانیال علیہ السلام کی لاش ہے ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حُکم بھیجا کہ لاش مبارک کو خفیہ طور سے دفن کراو¿ ۔ اُس کے ساتھ جو خزانہ ملا ہے اُسے لشکر میں تقسیم کردو اور خمس بیت المال کے لئے بھیج دو اور انگوٹھی تم رکھ لو ۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی عنہ نے وہ انگوٹھی رکھ لی جو نسل در نسل اُن کی اولاد میں چلتی رہی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے حضرت دانیال علیہ السلام کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس کے بعد انتہائی خفیہ طریقے سے اُن کی تدفین کی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سزائے موت پاچکے قیدیوں کو لا کر قتل کرکے چار الگ الگ قبریں کھدوائیں اور ایک میں آپ علیہ السلام کو دفن کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ تیرہ الگ الگ قبریں کھدوائیں اور اُن میں سے ایک میں دفن کیا اور بھی کئی روایتیں ہیں ۔ اب حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے ۔
بنی اسرائیل کی جدوجہد
حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی غلامی کے چھبیسویں 26 ویں سال یا ستائسویں 27 ویں سال میں اعلان نبوت کیا تھا ۔ اُس کے ساتھ یا آٹھ کے بعد میں بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو شیروں کے ساتھ کنویں میں قید کردیا تھا ۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال ہی حکومت کرسکا تھا ۔ اس کے بعد اُس کا انتقال ہوگیا لیکن اِن پانچ سالوں میں وہ سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ بنی اسرائیل مسلسل اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور بخت نصر بزور ِ طاقت اُنہیں دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ بخت نصر نے چالیس 40 سال حکومت کی اور اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا المرودخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس نے تین یا چار سال حکومت کی اس کے بعد بہمن بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کو آزادی ملی اور وہ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ اپنے علاقے میں واپس آئے ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاءاﷲ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے ۔
بنی اسرائیل کی نافرمانیاں
حضرت شعیا علیہ السلام کے حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل اور اُن کے علما اور بادشاہ سب گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا اور اﷲ رب جلال کے عذاب سے ڈرایا لیکن بنی اسرائیل نافرمانیوں سے باز نہیں آئے اور اُلٹا آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے شہید کردیا ۔ اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور آپ علیہ السلام کی بات یوسیاہ بادشاہ نے مانی اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حکومت کی ۔ لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ پھر نافرمانی کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بہت سمجھایا اور بتایا کہ اگر تم لوگ برائیوں اور نافرماینوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تم پر کسی ظالم بادشاہ کو مسلط کردے گا اور وہ تمہیں غلام بنا کر لے جائے گا ۔ یہ سن کر بھی بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ کی آنکھ نہیں کھلی اور اُن کے علماءاور بادشاہ اور عوام سب لوگ خلاف ہوگئے اور آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا ۔
ستر 70 سال غلامی کی زندگی گزاروگے
حضرت ارمیاہ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو سمجھا رہے تھے تب انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر تم نافرمانیوں اور گمراہیوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دوسروں کا غلام بنا دے گا اور تم ستر 70 سال تک غلامی کی زندگی گزاروگے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکومت کے چوتھے سال میں بخت نصر بابل کا بادشاہ بنا ۔ اِن چار سالوں میں حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل اور یہویقیم کو سمجھاتے رہے لیکن دن بہ دن اُن کی نافرمانیاں اور گمراہیاں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا :”پچھلے تئیس 23 سال سے (یوسیاہ کی حکومت کے تیرہویں سال سے ) آج تک اﷲ کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا ہے اور میں بار بار تمہیں سناتا رہا ہوں ۔ یوسیاہ بادشاہ نے میری بات مانی اور کامیاب رہا ۔ لیکن اُس کے بعد تم لوگ اﷲ کی نافرمانی اور گمراہیوں میں مبتلا رہوگئے اور میری بات ماننے کے بجائے ،میری مخالفت کررہے ہو ۔ تم نے اﷲ کے کلام کو ٹھکرا دیا ۔ اب بھی وقت ہے تم میں سے ہت ایک برے راستوں پر چلنے سے اور برے اعمال کرنے سے باز آجائیں تاکہ تم اِس ملک میں رہ سکو جو اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو دیاہے ۔ غیر موبدوں کو پوجا اور عبادت سے باز آو¿ اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کرکے اﷲ کے غضب کو دعوت مت دو ۔ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرکے مجھے غضب ناک کردیا ہے اور خود اپنا نقصان کرلیا ہے ۔ اِس لئے اﷲ رب الافواج فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میرا کلام نہیں سنا ۔ اِس لئے ظالم بخت نصر بابل کے بادشاہ کو تم پر مسلط کردوں گا اور تمہارے اوپر چڑھا لاو¿ں گا اور تمہیں بالکل برباد کردوں گا تاکہ تم دہشت ، حقارت اور تباہی اور بربادی کی مثال بن جاؤ گے ۔ یہ تمام ملک غیر آباد اور ویرانہ بن جائے گا اور تم لوگ ستر 70 سال تک بال کے بادشاہ کے خدمت گزار بن جاو¿گے ۔
اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عذاب یا سزا
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی زبانی اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صاف لفظوں میں وارننگ دی تھی لیکن وہ بدبخت اتنے زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے ڈرانے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ اُلٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور زجو¿نجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا ۔ آخر کار بنی اسرائیل پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب یا سزا بخت نصر کی شکل میں نازل ہوا ۔ اُس نے لاکھوں بنی اسرائیل کا قتل عام کیا ۔ تمام شہروں اور بستیوں کو جلا دیا اور تباہ و برباد کرڈالا ۔ یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کو مسمار کردیا اور اُس میں کی تمام قیمتی چیزیں لوٹ لیں ۔ اور بچے کچے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بابل لے گیا ۔بخت نصر کی غلامی میں بنی اسرائیل نے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 گزارے تو حضرت دانیال علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے اور اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد یاد دلانے لگے اور اُنہیں غلامی کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کرنے لگے ۔ دھیرے دھیرے سات یا آٹھ سال کی جدوجہد کے بعد بنی اسرائیل نے اچھی خاصی بیداری پیدا ہوگئی ۔ بخت نصر کو خبر ہوئی تو اُس نے آپ علیہ السلام کو باغٰ قرادے کر بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید خانے میں ڈال دیا۔ جہاں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔
بنی اسرائیل کی کامیابی
حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید کر دیا لیکن آپ علیہ السلام نے ایسا بیج بو دیا تھا کہ آپ علیہ السلام کی تحریک مسلسل جاری رہی ۔ بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی قید کی وجہ سے پوری طرح جاگ گئے اور اپنی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے لگے ۔ بخت نصر طاقت سے اُنہیں دباتا رہا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر کار اُس کا انتقال ہوگیا اور اُس کا بیٹا المردوخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں پڑوسی ملک فارس (ایران) میں زرتشت کا مذہب پھیل گیا تھا اور وہاں آگ کی پوجا عام ہوگئی تھی ۔ (زرتشت حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک تھا اور گمراہ ہو کر فارس بھاگ گیا تھا ۔ اس کا تفصیلی ذکر حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھیں) اور دھیرے دھیرے ”سلطنت فارس“ کی حکومت عروج پر آرہی تھی ۔ المردوخ نے تئیس 23 سال حکومت کی اور اُس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رہی اور وہ طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ اِس طرھ پہلے بخت نصر اور پھر اُس کے بیٹے کی ساری توجہ اندرونی حالات درست کرنے پر مرکروز رہی اور پڑوسی ممالک پر سے توجہ ہٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے ملک فارس بہت مضبوط ہوگیا ۔ بنی اسرائیل کے علما نے فارس جا کر وہاں کے بادشاہ سے دوستی کرلی اور اُسے بابل کی حکومت کے خلاف اُکسانے لگے ۔ المردوخ کو قتل کرکے بہمن تب تک بابل کا بادشاہ بن گیا تھا ۔ اُس وقت تک فارس کی حکومت بہت طاقتور اور بابل کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی ۔ آخر کار فارس کا بادشاہ ”خواس“ فوج لیکر بابل پع حملہ کرنے آیا ۔ بہمن نے اُس سے صلح کرلی اور اُس کی اطاعت قبول کرلی ۔ تب خورس نے بہمن کو حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے علما اور معماروں کو یروشلم بھیجے ، جہاں وہ اُن کے معبود (اﷲ تعالی) کی عبادت کے لئے گھر (بیت المقدس) تعمیر کریں ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کی بعثت
حضرت ارمیہاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ستر 70 سال تک کی غلامی کے بعد اﷲ تعالیٰ تمہیں آزادی عطا فرمائے گا اور تم بیت المقدس کو دوبارہ آباد کروگے ۔ بخت نصر کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل غلاموں کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا حکمراں بنا تو اُس نے بھی بنی اسرائیل پر ظلم جاری رکھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اِس کے دورِ حکومت میں حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور آپ علیہ السلام نے آزدی کی تحریک کو جاری رکھا جس کی ابتدا حضرت دانیال علیہ السلام نے کی تھی ۔ بہمن کے بابل کا بادشاہ بننے کے وقت تک حضرت عُزیر علیہ السلام نے فارس کے بادشاہ ”خورس“ سے ملاقات کی اور وہ آپ علیہ السلام سے بہت متاثر ہوا تھا اور جب بابل کی حکومت اُس کے زیر اطاعت آگئی تو اُس نے بہمن کو حُکم دیا کہ دھیرے دھیرے کرکے وہ بنی اسرائیل کو مکمل طور سے آزاد کردے ۔خورس نے ایک تحریری فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”آسمان کے خدا نے زمین کی تمام مملکت مجھے عطا کردی ہیں اور مجھے مامور کیا ہے کہ میں یہوداہ (بنی اسرائیل) کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے ایک گھر تعمیر کرواو¿ں ۔ لہٰذا اُس کی اُمت میں سے جو کوئی ہمارے درمیان موجود ہے خدا اُس کے ساتھ ہو ۔ وہ یہوداہ کے شہر یروشلم چلا جائے اور وہاں بنی اسرائیل کے معبود (اﷲ) کا گھر تعمیر کرے ۔ جو بنی اسرائیل یہاں رہ جائیں وہ سب کے سب اﷲ کے گھر کے لئے چاندی ، سونا سامان ، مال اور مویشی دیں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ نسب
حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے ۔ یعنی آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں ۔ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے نماز کے امام تھے ۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے الیعزر بن ہارون بنی اسرائیل کے نماز کے امام بنے ۔ اِس طرح یہ سلسلہ اُن کی اولاد میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا ۔ چونکہ آپ علیہ السلام امامون کے خاندان سے تھے اِس لئے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے تھے اور صرف نماز کے امام مانتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح ہے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام بن سرایاہ بن عزریاہ بن سلوم بن صدوق بن اخیطوب بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت بن زرافیاہ بن عزیٰ بن قمی بن اہیسع بن فیخاس بن الیعزر بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ بائیبل میں حضرت عُزیر علیہ السلام کا نام ”’عزرائ“ لکھا ہو ہے لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عُزیر فرمایا ہے اِس لئے ہم عُزراءکے بجائے حضرت عُزیر علیہ السلام ہی کہیں گے ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کی وطن واپسی
حضرت عُزیر علیہ السلام بابل مین ہی مقیم رہے اور بنی اسرائیل کو مسلسل قافلوں کی شکل میں وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں تھے اِس لئے اِ ن کی وطن واپس میں کافی عرصہ لگ گیا ۔ جب بنی اسرائیل کی اکثریت وطن واپس لوٹ گئی تو آپ علیہ السلام آخری قافلے کو لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ فارس کے بادشاہ (بابل اُس وقت ”سلطنتِ فارس“ کے ماتحت آگیا تھا) سے وطن واپس جانے کی اجازت مانگی ۔ اُس وقت سلطنت فارس کا بادشاہ ایک روایت کے مطابق ”خورس“ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ”کیرش“ لکھا ہے اور ایک روایت کے مطابق اُس کا نام ”ارتخشتا“ تھا ۔ اُس بادشاہ نے اجازت دے دی اور ایک فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”شہنشاہ ارتخشتا کی جانب سے عُزیر اسرائیلوں کے امام کے نام! جو آسمان کے معبود (اﷲ تعالیٰ ) کی شریعت کا معلم ہے ! آپ سلامت رہیں! میں فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری مملکت میں سے جو بھی بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کے ساتھ وطن واپس جانا چاہتے ہیں وہ جاسکتے ہیں ۔ میں اپنے تمام گورنروں اور مُشیروں کی طرف سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) تمام بنی اسرائیل کو لیکر اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ میری طرف سے اور میرے گورنروں کی طرف سے وہ تمام سونا آپ (علیہ السلام) کی نذر ہے جو بابل صوبہ سے حاصل ہوا ہے ۔ اِس کے علاوہ نقد روپیہ ، بیل ، گھوڑے ، اونٹ ، مینڈھی اور اناج وغیرہ بھی ہدیہ کے طور پر پیش ہے ۔ یہ سب آپ (علیہ السلام) لے جائیں اور یروشلم میں اسرائیل کے معبود (اﷲ تعالیٰ) کے گھر کی نذر دیں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کے قافلے کے بنی اسرائیل کی تعداد
حضرت عُزیر علیہ السلام کی خدمت میں اتنا عرض کرنے کے بعد فارس کے بادشاہ نے آگے فرمان جاری کیا :”اب میں بادشاہ ارتخشتاس بابل کے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہوں کہ عُزیر (علیہ السلام) جو آسمان کے معبود کی طرف سے معلم ہیں ، جو کچھ بھی وہ طلب کریں وہ فوراً دیا جائے یعنی سونا ،چاندی ، گیہوں ، زیتون کا تیل اور نمک بھی فوراً دیا جائے ۔“ بابل کے گورنر نے فوراً بادشاہ کے فرمان پر عمل کیا اور ضروریات کی تمام چیزیں آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیں ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام بابل میں بچے ہوئے تمام بنی اسرائیل کو لیکر یروشلم کی طرف رووانہ ہوگئے ۔ اِس قافلے میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں کے لوگ تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور اُن بارہ بیٹوں کی اولاد کے مجموعہ کو ”بنی اسرائیل“ کہا جاتا ہے ۔ اِس بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ہر بھائی کے نام پر اُس کے قبیلے کا نام تھا ۔ اِس قافلے میں ہر قبیلے کے مرد عورتیں اور بچوں کو ملا کر سینکڑوں کی تعداد تھی اور تمام بارہ قبیلوں کے لوگوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ بنی اسرائیل کی اکثریت پہلے ہی اپنے وطن واپس آ کر بس چکی تھی ۔ اِس آخری قافلے کو لیکر حضرت عُزیر علیہ السلام بھی یروشلم پہنچ گئے۔ اِس طرح آپ علیہ السلام کی قیادت میں تمام بنی اسرائیل وطن واپس ہوگئے ۔
ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو
حضرت عُزیر علیہ السلام کی درخواست پر فارس کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو آزاد کردیا اور آپ علیہ السلام بابل میں ہی رہ کر مسلسل بنی اسرائیل کے قافلے وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں میں تھی اِس لئے اُنہیں تمام بنی اسرائیل کو واپس بھیجنے میں کافی عرصہ لگا ۔ اِس دوران آپ علیہ السلام مناسب ہدایات دیتے رہے اور جس قبیلے کا جو علاقہ تھا اُسے وہیں بھیج کر بساتے رہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد اُن کی حکومت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کرلیا تھا ۔ بنو بہود اور بنو بنیامن نے مل کر یروشلم اور اُس کے آس پاس کے علاقوں پر ”سلطنت ِ یہوداہ یا یہودیہ“ کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی تھی ۔ باقی دس قبائل نے فلسطین کا بقیہ حصہ ، لبنان اور اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوں پر ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“ کے نام سے قائم کرلی تھی ۔ جس کا نام بدل کر بعد میں ”سلطنت سامریہ“ رکھ دیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت وہ پورا علاقہ ”ملک کنعان“ کہلاتا تھا ۔ بعد میں اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے فلسطین ، لبنان اور اُردن نام کے ملک بنا دیئے گئے اور بقیہ علاقے کو ملک شام میں ضم کردیا گیا ۔ اِس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا ۔ بہرحال حضرت عُزیر علیہ السلام نے پہلے ہی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو کا کام شروع کروادیا تھا اور جب بھی یروشلم قافلہ بھیجتے تھے تو اُس کی تعمیر نو کے بارے میں مناسب ہدایات دیتے تھے ۔ جب آخری قبیلے کو لیکر آپ علیہ السلام بیت المقدس یعنی یروشلم پہنچے تو نذر کا تمام سامان ہیکل سیلمانی کے ذمی داروں کے حوالے کیا اور اپنءنگرانی میں تعمیر مکمل کرائی ۔ اِس کے بعد یروشلم سے لیکر لبنان ، اُردن اور ملک شام تک کے جن علاقوں میں بنی اسرائیل تھے ، ہر جگہ جا کر آپ علیہ السلام نے وہاں پر آباد بنی اسرائیل کے لئے رہنے ، کھانے اور پینے کے بہترین انتظامات کئے اور اُن کے سردار اور حکرماں مقرر کئے ۔ اُن کے لئے اسلامی تعلیم کا انتظام کیا اور اسلامی قانون نافذ کیا ۔اِسی دوران آپ علیہ السلام کے سو100 سال سونے کا واقعہ پیش آیا ۔
اﷲ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا
اﷲ رب العزت نے سورہ البقرہ میں فرمایا :”(ترجمہ) یا جیسے وہ شخص جو ایک بستی سے گزرا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی ۔ اُس نے کہا :”اِس بستی کو جب کہ وہ ختم ہو چکی ہے اﷲ تعالیٰ اِس کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اﷲ تعالیٰ نے اُس پر سو سال موت کو طاری کردیا پھر اُس کو زندہ کرکے دوبارہ اُٹھایا ، پوچھا :”تم کتنی مدت سوتے رہے ہو؟“ اُس نے کہا :”دن بھر یا آدھا دن سوتا رہا ہوں۔“ اﷲ نے فرمایا :”نہیں! بلکہ تم ایک سو سال تک پڑے سوتے رہے ہو ۔ اب اپنے کھانے کی طرف دیکھو کہ اُس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اپنے گدھے کو دیکھو (کس طرح گل سڑ گیا ہے) اور اِس سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ اب دیکھو اپنے گدھے کی (بکھری ہوئی ہڈیوں کی) طرف کہ ہم کس طرغ اُن کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں ۔“ پھر جب بات بالکل واضح ہوگئی تو کہنے لگا :”میں جانتا ہوں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے ۔“ (سورہ ابقرہ آیت نمبر 259 ) اِس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا اور کس بستی سے گزرے تھے؟ اِس کے لئے علمائے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضر عُزیر علیہ السلام تھے جو اُس بستی سے گزر رہے تھے جس کو بخت نصر نے تباہ و بارباد کردیا تھا اور وہاں رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا ۔ جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں دیکھا کہ اﷲ رب العزت نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کس طرح حضرت عُزیر علیہ السلام پر ایک سوسال تک موت کی کیفیت کو طاری رکھا ۔ وہ کھانا جو گل سڑ کر خراب ہوجانے والا تھا اُس کو محفوض رکھا اور گدھا جو عموماً دوچار دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بن جاتا ہے ۔ اُس کے اجزاءکع بکھیر دیا لیکن اپنی قدرت کاملہ سے اُس کجو دوبارہ زندہ کرکے دکھا دیا کہ موت کے بعد اِس طرح تمام انسان بھی زندہ کردیئے جائیں گے ۔ یہ بھی بتا دیا کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو نسانوں پر طاری کردی جاتی ہے ۔ صور پھونکے جانے کے بعد تمام انسان اِسی طرھ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے ۔ تیسری بات یہ فرمائی :جس طرح عموماً کھانا ایک دن دھوپ میں رکھے جانے سے سٹر جاتا ہے ، اﷲ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ اِس کو چاہے تو ایک سو سال تک اُسی طرح محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یہ تمام باتیں اُس اﷲ کی قدرت کی طرف اشارہ ہیں جو تمام چیزوں پر قادر مطلق ہے اور موت و حیات سب اُس کے قبضہ¿ قدرت میں ہے ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کا تعجب
حضرت عُزیر علیہ السلام مسلسل سفر میں تھے اور تمام بنی اسرائیل کے علقوں میں گھوم گھوم کر اُن کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کے مطابق ہدایت دے رہے تھے ۔ بخت نصر آزادی حاصؒ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی مجموعی اور مستحکم حکومت نہیں تھی بلکہ ہر علاقے میں ہر قبیلے نے اپنے اپنے حکمراں بنا لئے تھے جو حضرت عُزیر علیہ السلام کے ماتحت تھے۔ اِسی طرح سفر کرنے کے دوران آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اُلٹی پڑی تھی ۔ چاشت کا وقت ختم ہورہا تھا اور گرمی اور دھوپ کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تو آپ علیہ السلام نے اِسی بستی کے کھنڈرات میں قیام کرنے کا ارادہ فرمایا تاکہ جب دھوپ میں تیزی ختم ہوجائے تو آگے سفر جاری کیا جائے ۔ آپ علیہ السلام اُس اُلٹٰ ہوئی بستی میں داخل ہوگئے اور ایک سایے دار جگہ پر اپنی سواری یعنی خچر سے اُتر پڑے ۔ خچر گھوڑے سے کچھ کم قد کا اور گدھے سے کچھ زیادہ قد کا ہوتا ہے اور عربی میں اِسے گدھا ہی کہا جاتا ہے ۔ اِس لئے واقعہ میں ہم بھءگدھا ہی کہیں گے کیونکہ اکثر علمائے کرام نے جب بھی یہ واقعہ بیان کیا تو یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی سواری ایک گدھا تھا ۔ آپ علیہ السلام اپنے گدھے سے اُترے اور اسے ایک سائے دار جگہ پر باندھ دیا اور آس پاس سے اُس کے کھانے کے لئے چارہ لاکر اسے دے دیا ۔ اِس کے بعد سائے میں بیٹھ کر اپنا کھانا نکالا ۔ آپ علیہ السلام کے پاس انگور تھے اور سوکھی روٹیاں تھیں ۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالے میں انگوڑ کا رس نچوڑا اور سوکھی روٹیاں اُس میں ڈالیں تاکہ خوب اچھی طرح بھگو کر نرم ہاجائیں ۔ اِسی انتظا میں آپ علیہ السلام دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔ آپ علیہ السلام کے اطراف انسانوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی پڑی تھیں ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ، کہیں ہاتھ کی ہڈی پڑی تھی ، کہیں پیر کی ہڈی پڑی تھی اور کہیں کھوپڑی پڑی ہوئیں تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اِن انسانوں کی ہڈیوں کو دیکھ کر تعجب سے سوچا اور فرمایا :”اے اﷲ تعالیٰ! آپ اِن ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنائیں گے ، یقینا یہ تو بہت مشکل کام ہے ، مجھے اِس بات پر بہت تعجب ہورہا ہے ۔“ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا اور موت طاری کردی ۔
سوسال بعد جگایا
اﷲ رب العزت نے آپ علیہ السلام کو اُسی کھنڈر میں سُلا دیا یا موت طاری کردی اور آپ علیہ السلام سوتے رہے اور وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا ۔ دن ہفتوں میں بدلتے رہے ، ہفتے مہینوں میں بدلتے اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے ۔ اِس طرح برسوں گزر گئے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلائے رکھا اور ضرورت کے مطابق کروٹ بھی بدلواتا رہا ۔ آخر کار جب سو سال یعنی ایک صدی گزر گئی تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جگا دیا ۔ آپ علیہ السلام ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر سوچنے لگے کہ میں کتنی دیر سویا تھا؟ اﷲ رب العزت نے اسیک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنی دیر یہاں سوئے رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دن کا کچھ حصہ سویا رہا ہوں ، ایسا لگتا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی سوگیا ہوں جبکہ مجھے ایک یا دو گھنٹوں میں اُٹھ جانا چاہیئے تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ میں کئی گھنٹوں تک سوتا رہا ہوں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کی حیرانی
حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات سن کر فرشتہ مسکرانے لگا ۔ اُس نے اپما تعارف کرایا اور عرض کیا :”دراصل اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تھا اور آپ علیہ السلام دن کا کچھ حصہ نہیں بلکہ سو سال یعنی ایک صدی تک سوتے رہے ہیں ۔ یہ سُن کر حضرت عُزیر علیہ السلام حیرانی سے فرشتے ہو دیکھنے لگے ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ، حضرت کعب اور وہب بن منبہ رضی اﷲ عنہم کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے پُرانی ہڈیاں دیکھیں تو فرمایا :”اﷲ تعالیٰ انہیں اِس حال میں پہنچانے کے بعد زندہ کیسے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے یہ جملہ اﷲ تعالیٰ کے زندہ کرنے کے متعلق شک کی بنا پر نہیں فرمایا بلکہ تعجب کے طور پر کیا تھا ۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا اور اُس نے روح قبض کرلی پھر اُنہیں سو سال تک موت میں رکھا پھر جب سوسال گزر گئے اور اِس دوران بنی اسرائیل میں کئی نئے کام پیدا ہوگئے تب اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ´ اُس نے آپ علیہ السلام کے دل کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام معاملہ سمجھ سکیں اور آنکھوں کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام دیکھ سکیں کہ اﷲ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اُس نے آپ علیہ السلام کے دوسرے اعضاءمکمل کئے اور یہ سب آپ علیہ السلام دکھ رہے تھے ۔ پھر اُس نے ہڈیوں کو گوشت ، بال اور کھال پہنائی اور آپ علیہ السلام اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔ فرشتے نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنا عرصہ اِس حال میں رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ایک دن“ اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام دوپہر کے وقت سوئے تھے اور جب اُٹھے تو دن کا آخری حصہ تھا اور سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا :”نہیں؟ ایک دن بھی نہیں ، بلکہ دن کا کچھ حصہ سویا تھا اور ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا تھا ۔“ فرشتے نے کہا :”آپ علیہ السلام سوسال تک اِس حال میںرہے ۔“
کھانا بالکل تازہ رہا
حضرت عُزیر علیہ السلام ابھی فرشتے کی بات پر غور کررہے تھے کہ فرشتے نے آپ علیہ السلام کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروائی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس پیالے کی طرف دیکھا جس میں روٹیاں انگور کے رس میں بھگونے کے لئے رکھ دیا تھا ۔ وہ بالکل ویسا ہی تازہ تھا اور جو سوکھی روٹیاں اُس میں رکھی تھیں اُسے چھو کر دیکھا تو وہ تھوڑی بہت نرم ہوئیں تھی اور مکمل طور سے بھیگ کر نرم ہونا باقی تھیں ۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے فرشتے کو تکنے لگے کہ اس کے مطابق سو سال گزر چکے ہیں جبکہ ابھی روٹیاں مکمل طور سے بھیگی بھی نہیں ہیں ۔ فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ رب العزت نے سو سال سے اِس کھانے کع اِسی طرح تروتازہ رکھا ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے جب پیالے میں روٹی اور شیرہ کو دیکھا تو اُس میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔”لَم± یَتَسَنِّہ“ کا یہی مطلب ہے کہ اُس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ اِس بات کو آپ علیہ السلام نے عجیب سمجھا تو فرشتے نے عرض کیا ۔ ”آپ علیہ السلام تعجب کررہے ہیں۔ اچھا اُس جگہ دیکھیں ، جہاں اپنی سواری یعنی گدھے کو باندھا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس جگہ دیکھا تو آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا ۔
گدھا (خچر) کی ہڈیاں بوسیدہ ہوکر بکھر گئیں
حضرت عُزیر علیہ السلام کھانے کو تعجب سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہ بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ بس ابھی میں نے روٹیاں شیرے میں بھگوئی ہیں یعنی کچھ گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں ۔ لیکن جب فرشتے کے توجہ دلانے پر اپنی سواری یعنی گدھے کی طرف دیکھا تو یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا کہ گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہیں ۔ یعنی اُسے مرے ہوئے بہت زیادہ عرصہ بیت چکا ہے ۔ ہاں جس رسی سے آپ علیہ السلام نے اُسے باندھا تھا وہ اُسی طرح بندھی ہوئی ہے اور اُسی سے آپ علیہ السلام نے پہچانا کہ یہ گردن ہے ، یہ کھوپڑی ہے اور یہ سینے کا پنجر ہے ۔ آپ علیہ السلام کبھی تازہ کھانے کو دیکھتے اور کبھی گدھے کی بوسیدہ بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھتے ۔ کافی دیر تک دونوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا :”یقینا میں سو سال تک سوتا رہا یا موت میں مبتلا رہا اور سوسال بعد اﷲ رب العزت نے مجھے پھر سے جگایا ہے یا زندہ کیا ہے۔یقین تو مجھے پہلے بھی تھا بس یہ خیال تھا کہ بہت مشکل کام ہے اور اتنا مشکل کام اﷲ تعالیٰ سے اتنی آسانی سے کردے گا ۔“
گدھا زندہ ہوگیا
حضرت عُزیر علیہ السلام سے فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے یہ سوچا کہ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے دوباتہ زندہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام اﷲ رب العزت کس طرح آسانی سے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”بے شک! میں یہی غور کررہا تھا۔“ فرشتے نے کہا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اﷲ رب العزت کتنی آسانی سے دوبارہ زندہ کرے گا؟ اور آپ علیہ السلام کے گدھے کی بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے کس طرح زندہ کرے گا؟“ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ۔ فرشتے نے کہا :”اے ہڈیو! اﷲ تعالیٰ کے حُکم سے جمع ہوکر گدھے کے ڈھانچے کی شکل اختیار کرلو ۔“ آپ علیہ السلام نے ہڈیوں کی طرف حیرانی سے دیکھا کہ تمام ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوگئی اور دھیرے دھیرے گدھے کا ڈھانچہ بننے لگا ۔ یہاں تک کہ گدھے کا مکمل ڈھانچہ بن گیا ۔ اِس کے بعد ہڈیوں کے ڈھانچے پر گوشت چڑھنا شروع ہوا ، گوشت چڑھنے کے بعد اُس پر کھال چڑھنا شروع ہوئی اور کھال پر مکمل طور سے بال آگئے تو گدھا کان جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔
اﷲ کا شکر ادا کیا
حضرت عُزیر علیہ السلام متحیر سے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کررہے تھے کہ کس طرح تمام ہڈیاں ایکدوسرے سے جُڑیں اور گوشت چڑھا ، اُس پر کھال چڑھی اور بال آگئے اور گدھا آواز لگاتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔ آپ علیہ السلام فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور اﷲ رب العزت کی تعریف بیان فرمائی :”اے اﷲ تعالیٰ! بے شک تمام حقیقت مجھ پر روشن ہوگئی ہے اور میں جان گیا ہوں کہ اﷲ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ۔ یہ تو مجھے پہلے بھی اطمینان تھا لیکن براہ راست دیکھنے سے میرا یقین اور پختہ ہوگیا ۔ اے اﷲ رب العزت! آپ نے ہی اِس کائنات اور ہر مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا فرمایا ہے پھر موت دے گا پھر زندہ کریں گے اور بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے صحیح راستہ بتا کر میری رہنمائی فرمائی۔“
گھر واپس آئے
حضرت عُزیر علیہ السلام اکثر باہر کے دورے پر رہتے تھے اور بنی اسرائیل کی دینی تعلیم اور دنیاوی ضروریات کی رہنمائی کے لئے مسلسل سفر میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے نئے آباد شدہ علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہتے تھے ۔ اِسی لئے آپ علیہ السلام کا قیام اپنے گھر پر بہت کم رہتا تھا ۔ جب آپ علیہ السلام غائب ہوئے یعنی اﷲ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تو گھر والوں نے کچھ دنوں تو یہی سوچا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام دوسرے علاقوں میں گھوم گھوم کر بنی اسرائیل کی تربیت کررہے ہوں گے اِسی لئے یروشلم اپنے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور ”عید فسح“ بھی آگئی اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں اور گھر والوں کو فکر ہوئی اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی تلاش شروع کردی ۔ پورے سال بنی اسرائیل کے دورآباد قبیلوں کے ولگ ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) میں عبادت کرنے کے لئے مسلسل آتے رہتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بنی اسرائیل کے علماءنے عبادت کے لئے آنے والے ہر قبیلے سے آپ علیہ السلام کے متعلق دریافت کرنا شروع کردیا ۔ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے آنے والے قافلے یہی بتاتے تھے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے یہاں نہیں ہیں ۔ ”عید فسح“ پر تو تمام بارہ قبیلوں کے بڑے ذمہ دار یروشلم میں موجود تھے اور لاکھوں بنی اسرائیل ”عید فسح“ منانے کے لئے یروشلم کے آس پاس خیمہ زن تھے۔ اِس موقع پر تمام بنی اسرائیل نے یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ تمام لوگ حیران تھے کہ آخر آپ علیہ السلام کہاں غائب ہوگئے ہیں؟ ”عید مسح“ بنی اسرائیل سات دنوں تک مناتے تھے اور اِس کے بعد جب تمام قبائل اپنے اپنے علاقے واپس جانے لگے تو بنی اسرائیل کے یروشلم کے علمائے اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے درخواست کی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو ہر ممکن حد تک تلاش کیا جائے ۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی تلاش کرنے لگے ۔ ہر سال ”عید فسح“ کے اجتماع میں یہ اعلان کیا جاتا تھا لیکن آپ علیہ السلام کسی کو نہیں ملے ۔ سال پر سال گزرتے رہے یہاں تک کہ سو سال گزر گئے اور تما م لوگ آپ علیہ السلام کی واپسی مایس ہوگئے تھے ۔ اِدھر جاگنے کے بعد حضرت عُزیر علیہ السلام یروشلم کی طرف روانہ ہوئے ۔ اِن سو سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا اور بنی سارائیل کی نئی نئی بستیاں اور نئی نسل وجود میں آچکی تھیں۔ آپ علیہ السلام اِن بستیوں کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہوئے بالآخر یروشلم پہنچ گئے ۔ یروشلم شہر بھی کافی بڑا ہوچکا تھا۔ چلتے چلتے آپ علیہ السلام بیت لامقدس کے قریب اپنے محلے میں پہنچے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر پر پہنچے ۔ باہر سے اپنے ایک بیٹے کا نام لیکر پکارا تو ایک بوڑھی عورت گرتی پڑتی لڑکھڑاتی ہوئی دروازے پر آئی اور پوچھا :”کون ہے؟“ یہ بوڑھی عورت بڑھاپے کی وجہ سے اندھی بھی ہوچکی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” میں عُزیر (علیہ السلام) ہوں۔“ یہ سُن کر بوڑھی عورت نے حیرت سے کہا :” عُزیر! کون عُزیر؟ میرے مالک حضرت عُزیر علیہ السلام کو غائب ہوئے تو سو سال ہوچکے ہیں ۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے
حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات کا اُس بوڑھی عورت کو یقین نہیں آیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا :” میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، لیکن تم کون ہو؟“ بوڑھی اور اندھی عورت نے کہا :” میں حضرت عُزیر علیہ السلام کی کنیز ہوں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے فرمایا :” اچھا تم وہ ہو لیکن تم تو بہت بوڑھی ہوگئی ہو جبکہ میری کنیز تو جوان تھی ۔“ اُس بوڑھی نے کہا :” ہاں حضرت عُزیر علیہ السلام جب غائب ہوئے تھے تب میں جوان تھی اور میری عُمر لگ بھگ بیس سال تھی۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، اﷲ ربا لعزت نے مجھ پر سوسال تک موت طاری کردی تھی پھر مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے ۔“ بوڑھی نے تعجب سے ”سبحان اﷲ“ کہا اور بولی :”برسوں ہوگئے میرے مالک کو گُم ہوئے ، اب لوگوں نے اُن کا نام لینا بھی چھوڑ دیا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں وہی گُم گشتہ عُزیر ہوں۔“ بوڑھی کو تب بھی یقین نہیں آیا ۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے کہا :”حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے ۔ مریض کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ تعالیٰ اُسے شفا عطا فرما دیتا تھا اور ضرورت مندوں کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ اُس کی ضرورت پوری کردیتا تھا ۔ اگر آپ (علیہ السلام) وہی ہیں تو اﷲ رب العزت سے دعا کردیں کہ میری آنکھیں اچھی جائیں اور میں دیکھنے لگوں ۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اُس کی آنکھوں کے لئے دعا کی تو اُس کی آنکھوں کی روشنی آگئی اور وہ دیکھنے لگی ۔ اُس نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان لیا ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کو سب نے پہچان لیا
حضرت عُزیر علیہ السلام کو اُن کی کنیز نے پہچان لیا تھا اور بولی :” یقینا آپ ہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔“ بڑھاپے کی وجہ سے اُس کا بد اور ہاتھ اور پیر کمزور ہوگئے تھے اور وہ ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہوپارہی تھی اور زیادہ تر بیٹھ کر گھسٹ گھسٹ کر چلتی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کا ہاتھ تھاما اور فرمایا :”اﷲ کے حُکم سے کھڑی ہوجاو¿۔“ وہ کنیز تندرست و توانا ہوکر کھڑی ہوگئی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں ابھی سب کو جاکر آپ علیہ السلام کے آنے کی خبر دیتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ دوڑتی ہوئی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) تک گئی ۔ وہاں بنی اسرائیل کے تمام علماءاور آپ علیہ السلام کے بیٹے موجود تھے ۔ اُن میں سے ایک بیٹا یروشلم کا سردار تھا ۔ اُس کنیز نے سب سے کہا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام جو سو سال پہلے غائب ہوگئے تھے وہ واپس آگئے ہیں ۔وہاا موجود لوگوں نے اُس سے پوچھا :”تم کون ہو؟“ اُس نبے بتایا :” میں حضرت عُزیرعلیہ السلام کی کنیز ہوں اور اُنہوں نے آتے ہی میرے لئے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے میری ّنکھوں کی روشنی لوٹا دی اور مجھے تندرست کردیا ۔“ اِسی دوران حضرت عُزیر علیہ السلام دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے بوڑھے علمائے کرام اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے تو دیکھتے ہیں پہچان لیا کیونکہ وہ سب آپ علیہ السلام کو شکل سے پہچانتے تھے اور ساتھ میں کافی وقت گزارا تھا لیکن اُن سب کو حیرت اِس بات کی تھی کہ وہ سب تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور سب کے بال سفید ہوگئے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عُمر ایک سوبیس 120 سال تھی جبکجہ آپ علیہ السلام کے بال بھی کالے تھے اور عُمر بھی بہ مشکل پینتالیس 45 سال لگ رہی تھی ۔ اِس لئے سب لوگ حیرا ن تھے اور تمام لوگ پریشان تھے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام کے اُس بیٹے نے جو سردار تھا کہا کہ میرے والد محترم کے دونوں کاندوھوں کے درمیان کالا تل تھا اگر وہ نشان ان کے اوپر ہیں تو یہ میرے والد محترم ہیں۔“ آپ علیہ السلام ن ے اپنے کاندھے کھول کر دکھائے تو وہ کالا تل موجود تھا ۔سردار بیٹے نے کہ ا:” یہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کی آزمائش
حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بوڑھے بنی اسرائیل علماءنے تو آپ علیہ السلام کو پہچان لیا کیونکہ اُنہوں نے گُم ہونے کے وقت جس شکل میں آپ علیہ السلام کو دیکھا تھا وہی شکل تھی ۔ لیکن وہ علماءاور بنی اسرائیل جو سوسال کے اندر پیدا ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی بھی اطمینان نہیں ہوا ہے ۔ اِس لئے انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”چاہے جو آزمائش لے لو، میں اُس کے لئے تیار ہوں ۔“ کافی غوروخوض کے بعد علماءنے کہا کہ ہمیں یہ بات ہمارے والدین نے بتائی تھی کہ جب بخت نصر ہمیں غلام بنا کر بابل لے جارہا تھا تب حضرت عُزیر علیہ السلام کے والد محترم نے توریت کے چند صفحات کسی جگہ دفن کروائے تھے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ بات بتائی تھی ۔ اگر یہ بتا دیں کہ وہ صفحات کہاں دفن ہیں اور وہاں سے وہ نکل آئیں تو یہی ہمارے سردار کے والد حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ٹھیک ہے! چلو میں تمہیں وہ جگہ بتاتا ہوں ۔“ تب تک پورے یروشلم میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی تھی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور لوگ آکر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے چلے اور پورے یروشلم کے لوگ پیچھے پیچھے چلے اور ایک رک کر فرمایا :”’یہاں کھودو۔“ جب وہاں کھودا گیا تو واقعی رتوریت کے صفحات موجود تھے ۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ آپ ہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔
بنی اسرائیل کی حیرت
حضرت عُزیر اعلیہ السلام کو یروشلم کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کر لیا اور سچا مان لیا لیکن سب لوگ اِس بات پر حیرانی ظاہر کرہے تھے کہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 سال کی عُمر میں بھی آپ علیہ السلام جوان دکھائی دے رہے تھے اور سب لوگ اِس کی وجہ پوچھ رہے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا :”ابا جان! ہم آپ علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور ہمارے بال سفید ہوگئے ۔ ہمارے ہاتھ پیر آنکھیں اور پورا جسم کمزور ہوگیا ہے اور ہم بوڑھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ آپ علیہ السلام ہمارے والد والد محترم ہیں ۔ اِس کے باوجود آپ علیہ السلام کے بال کالے ہیں ، جسم انتہائی تندرست اور صحت مند ہے اور ہاتھ پیر اور آنکھیں وغیرہ سب طاقتور ہیں ، ایسا کیوں ہے؟“ تب آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو اور اپنے بیٹوں کو تفصیل سے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے سو سال تک مجھے سُلا دیا تھا ، موت طاری کردی تھی ۔ اِس لئے تمام لوگوں پر وقت گزرتا رہا تھا ، مجھ پر وقت رُکا ہوا تھا جس کی وجہ سے تم بوڑھے ہوگئے اور میں ویسا ہی رہا ۔
اﷲ تعالیٰ کی نشانی
اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 259 کے درمیان میں فرمایا :”ہمارا مقصد کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے ”دلیل“ (یعنی نشانی) بن گئے کیونکہ آپ علیہ السلام اپنے بیٹوں اور پوتوں میں بیٹھ کر میں بیٹح کر اُن کی تربیت کرتے تھے جو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے ۔ جبکہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی عُمر مبارک چالیس 40 یا پینتالیس 45 کے درمیان تھی ۔ کیونکہ آپ علیہ السلام جس حالت میں عارضی موت کی نیند سوئے تھے اُسی حالت میں دوبارہ زندہ ہوگئے تھے۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”حضرت عُزیر علیہ السلام کی دوبارہ زندگی کا واقعہ بخت نصر کے بعد پیش آیا ہے ۔“ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ امام ابوحاتم سجستانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ کی روایت کو عربی اشعار میں پیش کیا ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے :”اُس کے بال کالے ہیں حالانکہ وہ بڑے ہیں ، اُس کا بیٹا اور اُس کا پوتا اُس سے پہلے بوڑھے ہوگئے ہیں ، اُس کے بیٹے کو دیکھو تو ایک بوڑھا ہے جو لاٹھی کے سہارے چل رہا ہے ، حالانکہ اُس (عُزیر علیہ السلام) کی داڑھی مبارک اور بال سیاہ ہیں ، اُس کے بیٹے آب و تاب و تواں نہیں رہی ، وہ اُٹھتا جیسے بچہ چلتا ہے تو گر پڑتا ہے ، اُ س کے بیٹے کی عُمر ایک سو بیس 120 شمار ہوتی ہے ، وہ نہ تو چل سکتا اور نہ ٹہل سکتا ہے ، باپ کی عُمر چالیس سال ہے اور پوتے کو لوگوں میں رہتے نوے 90 سال گزر گئے ہیں ، اگر تُو جانے تو یہ بات قرین عقلمندی نہیں ہے ، اور اگر تُو نہیں جانتا جہالت کی وجہ سے معذور ہے۔
حضرت عُزیر علیہ السلام نے مکمل توریت لکھی
حضرت عُزیر علیہ السلام کو یروشل کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا ۔ دھیرے دھیرے یہ خبر بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں پھیلتی گئی کہ سو سال کے بعد کمشدہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور بوڑھے نہیں ہوئے بلکہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 کی عُمر بھی جوان ہیں ۔ جیسے جیسے یہ خبر بنی اسرائیل کے قبائل کو ملتی گئی ویسے ویسے اُن قبائل کے وفد اور قافلے آپ علیہ السلام کی زیارت کے لئے خدمت اقدس میں حاضر ہوتے گئے ۔ اِس طرح تمام بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی سچائی کو تسلیم کرلیا ۔ اِس کے بعد علمائے کرام نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ توریت مکمل شکل میں ہمارے پاس نہیں ہے اور بخت نصر نے توریت کے تمام نسخے جلا دیئے تھے ۔ ویسے تو الگ الگ اوراق میں چند نسخے ہیں اور آپ علیہ السلام کے والد محترم نے بھی جو نسخہ دفن کیا تھا وہ بھی مکمل نہیں ہے۔ اِس لئے آپ علیہ السلام سے ہماری درخواست ہے کہ ہمارے لئے مکمل توریت کتابی شکل میں لکھ دیں اور تمام بارہ قبیلوں میں نقول روانہ کردیں تاکہ تمام بنی اسرائیل پورے طور سے شریعت پر عمل کرسکیں ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے وعدہ کرلیا کہ انشاءاﷲ میں مکمل توریت تمہارے لئے کتابی شکل میں لکھ دوں گا ۔ اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں عبادت کے دوران سجدے میں رور و کر درخواست کی کہ اے اﷲ تعالیٰ! میری رہنمائی فرما اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے میری مدد فرما ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ کو آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل پر رحم آگیا ۔ آپ علیہ السلام اکیلے غوروفکت کرتے ہوئے بیٹھے تھی کہ ایک فرشتے کو اﷲ رب العزت نے انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے عرض کیا :”اے اﷲ کے نبی علیہ السلام! کس افسوس اور صدمے میں بیٹھے ہیں؟“ آپ علیہ السلام نے تمام ماجرا بتایا ۔ اُص فرشتے نے ایک پانی بھرا ہوا برتن آپ علیہ السلام کو دیا اور کہا :”پورا پانی پی جائیں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے پورا پانی پی لیا جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پوری توریت ازبر ہوگئی ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے
اﷲ تعالیٰ نے سوری توبی میں فرمایا :”ترجمہ ، یہود (بنی اسرائیل) کہتے ہیں ”عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ اور نصرانی (عیسائی) کہتے ہیں ”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ یہ قوم صرف اُن کے منہ کی بات ہے ، اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے ، اﷲ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹے جاتے ہیں؟ (سورہ توبہ آیت نمبر 30 ) اﷲ تعالیٰ نے اِس آیت میں بتایا کہ بدبخت یہودیوں نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا اور عیسائیوں نے حضرت عیسٰ مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا جبکہ وہ دونوں اﷲ کے نیک بندے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے ۔اِن بدبختوں نے خود ہی شرک کرکے اپنے آپ کو گمراہی میں ڈال لیا ہے ۔ اور اﷲ کے غضب کے مستحق بن گئے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”رسول اﷲ صؒی اﷲ علیہ وسلم کے پاس سلام بن مشکم ، نعمان بن اوفی ، ابو انس شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے اور کہنے لگے :”ہم آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی اتباع اور پیروی کیسے کریں؟ جبکہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا ہے اور آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) یہ نظریہ بھی نہیں رکھتے ہیں کہ عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہود (بنی اسرائیل) کے پاس توریت تھی اور وہ اُس سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن جب وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور اﷲ تالیٰ کی نفرمانی کرنے تو توریت اُن سے چھن گئی اور ”تابوت ِ سکینہ“ بھی اُتھا لیا گیا ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام نے نہایت عاجزی و انکساری سے اﷲ تعالیٰ سے عدا مانگی ۔ آپ علیہ السلام ابھی دعا میں مصروف تھے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نور اُترا اور آپ علیہ السلام کے اندر سما گیا اور پوری توریت آپ علیہ السلام کو زبانی یاد ہوگئی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا :”توریر مجھے حفظ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے یاد کرادیا ہے ۔“ بنی اسرائیل نے یقین نہیں کیا پھر بھی آپ علیہ السلام نے اُنہیں توریت لکھ کر دی ۔ پھر ”تابوت ِ سکینہ“ بھی واپس مل گیا جس میں توریت رکھی ہوئی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اُس توریت کو حضرت عُزیر علیہ السلام کی لکھی توریت سے ملایا تو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا :”اﷲ کی قسم! حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ اِس لئے یاد کرائی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں۔“ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : عُزیر سے مُراد عزراءہیں جن کو یہودی اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں ۔ ان کا زمانہ 450 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے ۔ اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سُلیمان علیہ السلام کے بعد جو دور ابتلاءبنی اسرائیل پر آیا اُس میں نہ صرف توریت دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری (غلامی) میں اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت ، اپنی روایات اور قومی زبان عبرانی تک سے ناآشنا کردیا تھا ۔ آخر کار اُنہیں عُزیر یا عزراءنے بائیبل کے پرانے عہدنامے کو مرتب کیا اور شریعت کی تجدید کی ۔ اِسی وجہ سے بنی اسرائیل اُن کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور یہ تعظیم اِس حد تک بڑح گئی کہ بعض یہودی گروہوں نے اُن کو ”ابن اﷲ“ تک بنا دیا ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام نے سمجھایا
حضرت عُزیر علیہ السلام کو بد بخت یہودں یعنی بنی اسرائیل نے پہلے تو سچا ماننے سے انکار کردیا اورجب سچا ماننے لگے تو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا کہ شرک میں مبتلا ہوگئے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اُسنہیں بار بار سمجھاتے رہے کہ اﷲ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اﷲ رب العزت اولاد وغیرہ سے پاک ہے ، میں تو صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں اور نبی ہوں اور تم لوگ شرک میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو گمراہ مت کرو۔“ لیکن بنی اسرائیل پر ایسا شیطان غالب آگیا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے اور گمراہی میں مبتلا رہے ۔ آپ علیہ السلام اُنہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور اُنہیں شرک سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اعلان کیا :”اے بنی اسرائیل! میں تمہارے شرک سے بری ہیں اور اے اﷲ تعالیٰ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ہمیشہ بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی ہے اور یہی سکھایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، وہ اکیلا اور اُس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اے بنی اسرائیل! میں نے کبھی یہ کہا کہ میں (نعوذ باﷲ) اﷲ کا بیٹا ہوں بلکہ یہ تم نے خود اپنے من سے بنا لیا ہے ۔ اے اﷲ تعالیٰ! میں اِن کے شرک سے بری ہوں۔“
بنی اسرائیل ایک بار پھر آزمائش میں ناکام ہوگئے
اﷲ رب العزت نے حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کے ایمان کی آزمائش کی کہ آپ علیہ السلام جوان دکھائی دیتے تھے اور آپ علیہ السلام کی عُمر صرف چالیس 40 یا پینتالیس 45 سال لگتی تھی ۔ آپ علیہ السلام اپنے بیٹے کو اور پوتوں کو توریت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان بیٹھے آپ علیہ السلام اپنے پوتوں سے بھی چھوٹے لگتے تھے ۔ بیٹے اور پوتے بوڑھے ہوچکے تھے ۔ بنی اسرائیل اﷲ تعالیٰ اِ سآزمائش میں ناکام ہوگئے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو جو معجزہ اﷲ رب العزت نے عطا فرمایا تھا اُس کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالت
حضرت عُزیر علیہ السلام اُس وقت تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا ۔ اِس کے بعد اُنہیں اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ بنی اسرائیل کی اپنی کوئی مستحکم حکومت نہیں تھی اور پورا علاقہ ”سلطنت فارس“ کا ماتحت تھا ۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز بدستور رہا ۔ اِسی طرح لگ بھگ سو سال سے زیادہ کا وقت گزر گیا اور بنی اسرائیل پھر سے گمراہیوں اور بُرائیوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اِسی دوران ملک یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اُٹھا اور اُس نے ”سلطنت فارس“ پر قبضہ کرلیا ۔ اِس طرح بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بن گے اور وہ یونانیوں کے اثرات قبول کرنے لگے ۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک یونانی اُن پر حاوی رہے پھر لگ بھگ ایک سو پچھتر 175 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایک سوپچھتر 175 سال پہلے بنی اسرائیل نے ہیونانیوں سے آزادی حاصل کرلی اور اپنی آزاد حخومت قائم کرلی ۔ اِس اسرائیلی حکومت نے بہت ترقی کی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنی حکومت چلاتے رہے ۔ پھر اُن پر رومی حاوی ہوگئے 67 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 67 سال پہلے بنی اسرائیل پر رومیوں کی حکومت ہوگئی اور رومیوں کے دورِ حکومت میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا ۔حضرت عُزیر علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے۔
٭....٭....٭
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں