ہفتہ، 17 جون، 2023

12 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


12 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 12

بنی اسرائیل کی آزادی

یونانیوں کے بے جا دباو¿ نے بنی اسرائیل کو مذہب کی طرف راغب کیا اور انہوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔175 قبل مسیح میں انٹیوکس چہارم(جس کا لقب ایپی فائیس یعنی مظہر خدا تھا) جب تخت نشین ہوا تو اُس نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لیکر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی ۔اُس نے بیت المقدس کے ہیکل میں زبردستی بُت رکھوائے اور یہودیوں کو مجبور کیا کہ اُن کو سجدہ کریں ۔اُس نے قربان گاہ پر قربانی بند کرائی اور یہودیوں کو مشرکانہ قربان گاہوں پر قربانیاں کرنے کا حکم دیا ۔اُس نے توریت کے نسخے گھر میں رکھنے والوں کو سزائے موت دی۔سبت پر عمل کرنے اور ختنہ کرنے کی ممانعت کر دی۔لیکن یہودی اِس جبر سے مغلوب نہیں ہوئے اور اُن کے اندر ایک زبردست تحریک اُٹھی جو تاریخ میں ”مکابی بغاوت“کے نام سے مشہور ہے۔اگرچہ اِس کشمکش میں یونانیت زدہ یہودیوں کی ساری ہمدردیاں یونانوں کے ساتھ تھیں اور انہوں نے مکابی بغاوت کو کچلنے کی کوشش میں انطاکیہ کے ظالموں کا پورا ساتھ دیا ۔لیکن عام یہودیوں میں حضرت عزیر علیہ السلام کی پھونکی ہوئی روح ِ دینداری کا اتنا زبردست اثر تھا کہ وہ سب مکابیوں کے ساتھ ہو گئے اور آخر کار انہوں نے یونانیوں کو نکال کر ایک آزاد دینی ریاست قائم کر لی۔جو 67 قبل مسیح تک قائم رہی۔اِس ریاست کی حدود پھیل کر رفتہ رفتہ اُس پورے رقبے پر حاوی ہو گئی جو کبھی یہودیہ اور سامریہ کی ریاستوں کے زیر نگین تھے۔بلکہ فلستیہ کا بھی ایک بڑا حصہ اُس کے قبضے میں آگیا جو حضرت داو¿د اور سلیمان علیہم السلام کے زمانے میں بھی مسخر نہیں ہوا تھا۔

بنی اسرائیل پر رومیوں کا قبضہ 

اﷲ تعالیٰ کے احکامات پر بنی اسرائیل نے متحد ہو کر عمل کرنا شروع کیا تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔لیکن بعد میں وہ پھر تفرقہ کا شکار ہوگئے اور دنیا میں مگن ہو گئے تو لگ بھگ ایک سو دس سال کے بعد رومیوں نے اُن پر قبضہ کر لیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔دوسرے فساد اور اُس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اُٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اُس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی۔آخر کار اُن کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔چنانچہ پومپی 63 قبل مسیح میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اُس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا۔لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے زریعے سے بالواسطہ کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔اِس لئے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک ویسی ریاست قائم کردی جو باآخر 40 قبل مسیح میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی یہ شخص ”ہیرود اعظم“کے نام سے مشہور ہوا۔اِس کی فرمانروائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 قبل مسیح سے 4 قبل مسیح تک رہی۔اس نے ایک طرف مذہبی پیشواو¿ں کی سرپرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دیکر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصلی کی۔اُس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ گئی۔

سب سے بڑا فساد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا

آخر کار بنی اسرائیل نے دنیا کا سب سے بڑا فساد برپا کیا اور تین سو تیرہ رسولوں میں سے پانچ بڑے رسولوں میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں درد ناک موت دینے کی کوشش کی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ہیرود کے بعد اُس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔اُس کا ایک بیٹا ارخلاو¿س سامریہ ،یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرمانروا ہوا۔مگر 6 عیسوی قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور 41 عیسوی تک یہی انتظام رہا ۔یہی وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان نبوت کیا۔اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواو¿ں نے مل کر اُن کی مخالفت کی اور رومی گورنر پیلاطس سے اُن کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا اور یہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کر کے اُس کی نذر کیا۔اُس کا تیسرا بیٹا فلپ کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میںغرق تھا۔اس کے علاقے میں کلمہ¿ خیر کے پنپنے کی اتنی گنجائش بھی نہیں تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی۔41 عیسوی میں ہیرود اعظم کے پوتے اگرپّا کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرمانروا بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمراں تھا ۔اس شخص نے بر سراقتدار آنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروو¿ں پر مظالم کی انتہا کردی اور اپنا پورا زور خدا ترسی و اصلاح اخلاق کی اِس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی۔اُس دور میں عام یہودیوں اور اُن کے مذہبی پیشواو¿ںکی جو حالت تھی اُس کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے اُن تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خطبوں میں اُن پر کی ہیں۔یہ سب خطبے اناجیل اربعہ میں موجود ہیں ۔پھر اِس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ امر کافی ہے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے پاکیزہ انسان کا سر قلم کر دیا گیا ،مگر ایک آواز بھی اِس” ظلم عظیم “کے خلاف نہیں اُٹھی ۔ اور پوری قوم کے مذہبی پیشواو¿ں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ۔مگر تھوڑے سے راستباز انسانوں کے سوا کوئی نہیں تھا جو اِ س بد بختی پر ماتم کرتا۔حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے اِن شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں ،بتاو¿ عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑوں یا برابّا ڈاکو کو؟ تو اُن کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دو۔یہ گویا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت تھی جو اِس قوم پر قائم کی گئی۔

دوسرے فساد کی سزا

آخر کار بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا کر اپنی بد نصیبی پر آخری مُہر لگوا لی۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایسی سزا دی کہ آج دو ہزار سال بعد بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس پر تھوڑا زمانہ ہی گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور 64 عیسوی اور 66 عیسوی کے درمیان یہودیوں نے کھل کر بغاوت کر دی۔ہیرود اگرپّا ثانی اور رومی پروکیوریٹر فلورس ،دونوں اِس بغاوت کو ختم کرنے میں ناکام ہوئے۔آخر کار رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کاروائی سے اِس بغاوت کو کچل ڈالا اور 70 عیسوی میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا۔اِس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ تینتس ہزار یہودی مارے گئے۔ساٹھ ہزار یہودی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ۔ہزارہا یہودی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لئے بھیج دیئے گئے۔ہزاروں یہودیوں کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا تاکہ ایمفی تھیٹروں اور کلوسیموں میں اُن کو جنگلی جانوروں سے بھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختہ¿ مشق بننے کے لئے استعمال کیا جائے۔تمام درازقامت حسین لڑکیاں فاتحین کے لئے چن لی گئیں۔اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کر دیا گیا۔اِس کے بعد فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار ایسا مٹا کہ دوہزار سال تک اس کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہیں ہو سکا۔بعد میں قیصر ہیڈریان نے اِس شہر کو دوبارہ آباد کیا ،مگر اس کا نام ایلیا تھا اور اس میں مدت ہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے ”فساد عظیم“کی پاداش میں ملی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث

یہاں پر حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کے ساتھ ذکر مکمل ہوگیاہے ۔ لیکن امت مسلمہ کے ساتھ ذکر ابھی باقی ہے۔ اسلئے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشادات پیش کررہے ہیں۔ تاکہ ذکر مکمل ہوجائے۔ 

حدیث نمبر1

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اُس اﷲ کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے۔وہ زمانہ قریب ہے کہ مریم رضی اﷲ عنہا کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم لوگوں میں عادل حکمراں بن کر اُتریں گے تو وہ صلیب کو توڑ دیں گے،خنزیر کو ختم کر دیں گے،جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اِس کثرت سے ہو گا کہ اُسے کوئی آدمی قبول نہیں کرے گا۔ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اگر تم چاہو تو سورہ النساءکی یہ آیت پڑھ لو۔اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس پر گواہی نہ دیں۔“(صحیح بخاری کتاب الانبیائ)

حدیث نمبر 2

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیسے ہوگے تم (اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا)جب تمھارے درمیان عیسیٰ بن مریم اتریں گے ۔اور تمھارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔(صحیح بخاری، کتا ب الانبیا، صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد)

حدیث نمبر3

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رواےت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛”پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوگے ۔مسلمانو ں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام! آپ علیہ السلام نماز پڑھایں۔ مگر وہ کہیں گے نہیں تم لوگ خود ہی ایکدوسرے کے امیر ہو ۔یہ وہ اس عزت کا لحاظ کر تے ہو ئے کہیں گے ۔جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔“(صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد، مرویات جابر بن عبداللہ) 

حدیث نمبر4

حضرت جابر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دجّال کا قصہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت یکایک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا؛”اے روح اللہ علیہ السلام !آگے بڑھئے۔ (اور نماز پڑھائےے) “مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تمھارے امام کو ہی آگے بڑھنا چاہئے۔ وہی نماز پڑھائے۔پھر صبح کی نماز پڑھ کر دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔جب وہ کذاب(دجّال ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا۔ تو گھلنے لگے گا۔ جےسے نمک پانی میں گھلتا ہے ۔ پھر آپ علیہ السلام اس کی طرف بڑھیں گے۔اور اسے قتل کردیں گے۔ اور یہ حالت ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھےں گے کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ یہودی (بنی اسرائےل ) میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجّال کے پیروﺅں میں کوئی نہیں بچے گا۔ جسے وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) قتل نہ کردیں۔(مسند احمد ، روایات جابر بن عبداللہ) 

حدیث نمبر 5

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛” میرے اور اُن (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ اُترنے والے ہیں ۔پس جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا۔ وہ ایک درمیانہ قد آدمی ہیں ۔رنگ سرخی مائل اور سفیدی ہے۔دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہونگے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہونگے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوگے ۔اور اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو توڑدیں گے ۔خنزےر کو قتل کر دیں گے۔ جزیہ ختم کر دیں گے ۔اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر ان کا وصال ہوجائے گا۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں

 گے۔(سنن ابو داﺅد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ، مسند احمد مرویات ابو ہریرہ)

حدیث نمبر 6

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے یہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کئے جائیں گے۔ ابو مودود نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے توریت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے بازومیں دفن کئے جائےں گے۔(مختصر تاریخ دمشق )

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں احادیث بہت ذیادہ ہیں ۔ہم اتنے پر ہی بس کرتے ہیں ۔ان احادےث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئےں گے۔ تو تمام عیسائی (نصارےٰ) ایمان لاکر مسلمان ہوجائےں گے۔ اور تمام یہودی (بنی اسرائیل ) دجال کے ساتھ ہوجائےں گے ۔اور آپ علیہ السلام ان سب کو قتل کر دےںگے۔ یعنی یہودیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور زمین پر تمام لوگ مسلمان ہوجائےں گے۔ اور پوری زمین پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔

  ٭............٭............٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں