11 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 11
بنی اسرائیل پر ساتھی مشرک قوموں کے اثرات
اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے بنی اسرائیل مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے،جس کی وجہ سے اُن میں ساتھی مشرک قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے آنے لگے اور نئی نسل اُن مشرکانہ اعمال سے متاثر ہو کر کرنے لگی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کا پہلا خمیازہ تو بنی اسرائیل کو یہ بھگتنا پڑا کہ ان قوموں کے ذریعے اُن کے اندر شرک گھس آیا۔اور اِس کے ساتھ ہی بتدریج دوسری اخلاقی گندگیاں بھی راہ پانے لگیں۔چنانچہ اِس کی شکایت بائیبل کی کتاب ”قُضاة“میں یوں کی گئی ہے۔”اور بنی اسرائیل نے خداوند(اﷲ) کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے۔اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا (اﷲ) کو جو انہیں ملک مصر سے نکال لایا تھاچھوڑ دیا۔اور دوسرے معبودوں کی جو اُن کے اِرد گِرد قوموں کے دیوتاو¿ں میں سے تھے پیروی کرنے لگے اور اُن کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کو غصہ دلایا۔وہ خداوند(اﷲ) کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کا قہر اسرائیل پر بھڑکا۔“(قُضاة باب 2 آیت 11سے13تک)
بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت
اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل مسلسل گمراہی میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کے بعد دوسرا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ جن قوموں کی شہری ریاستیں انہوں نے چھوڑ دی تھیں ۔انہوں نے اور فلستیوں نے جن کا پورا علاقہ مغلوب رہ گیا تھا ،بنی اسرائیل کے خلف ایک متحدہ محاذ قائم کیا اور پے در پے حملے کر کے فلسطین کے بڑے حصے سے اُن کو بے دخل کر دیا۔حتیٰ کہ اُن سے ”تابوت سکینہ“ تک چھن لیا۔ آخر کار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اُن کی درخواست پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے 1020قبل مسیح میں طالوت کو اُن کا بادشاہ بنا دیا۔اِس متحدہ سلطنت کے تین فرمانروا ہوئے۔طالوت 1020سے1004قبل مسیح تک ،حضرت داو¿د علیہ السلام 1004 سے 965 قبل مسیح تک اور حضرت سلیمان علیہ السلام 965سے 926 قبل مسیح تک ۔اِن فرمانرواو¿ں نے اُس کام کو مکمل کیا ،جسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نا مکمل چھوڑ دیا۔صرف شمالی ساحل پر فنیقیوں کی اور جنوبی ساحل پر فلستیوں کی ریاستیں باقی رہ گئی تھیں،جنہیں مسخر نہیں کیا جا سکا اور محض باج گذار بنانے پر اکتفا کیا گیا۔
سلطنت دو حصوں میں تقسیم
حضرت طالوت کی حکمرانی میں بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت قائم ہوئی اور حضرت داو¿د علیہ السلام نے اسے اسلامی حکومت بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دورِ نبوت اور حکومت میںاتنی وسعت دی کہ لگ بھگ پورے فلسطین سے مشرکوں کا صفایا ہو گیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ بنی اسرائیل کا سب سے زیادہ عروج کا زمانہ تھا۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل پر دنیا پرستی کا پھر شدید غلبہ ہوا اور انہوں نے آپس میں لڑ کر دو الگ سلطنتیں قائم کر لیں۔شمالی فلسطین اور شرق اُردن میں ”سلطنت اسرائیل“،جس کا پایہ¿ تخت آخر کار ”سامریہ“قرار پایا۔اور جنوبی فلسطین اور اَدُوم کے علاقے میں ”سلطنت یہودیہ“، جس کا پایہ¿ تخت ”یروشلم“(بیت المقدس)رہا۔اِن دونوں سلطنتوں میں سخت رقابت اور کشمکش اول روز سے شروع ہو گئی اور آخر تک رہی۔اِن میں سے اسرائیلی ریاست کے فرمانروا اور باشندے ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور یہ حالت اپنی انتہا کو اُس وقت پہنچ گئی جب اس ریاست کے فرمانروا ”اخی اب“نے صیدا کی مشرک شہزادی ایزبل سے شادی کرلی۔اُس وقت حکومت کی طاقت اور ذرائع سے شرک اور بد اخلاقیاں سیلاب کی طرح اسرائیلوں میں پھیلنی شروع ہوئیں۔حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام نے اِس سیلاب کو روکنے کی انتہائی کوشش کی۔مگر یہ قوم جس تنزل کی طرف جارہی تھی ،اُس سے باز نہ آئی۔
بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “پر اﷲ کا غضب
اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور برائیوں میں بنی اسرائیل اتنے زیادہ آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے شرک کرنا شروع کردیا تھااور انبیائے کرا م علیہم السلام کو شہید کرنا شروع کردیا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔آخر کار اﷲ کا غضب ا شوریوں کی شکل میں سلطنت اسرائیل سامریہ کی طرف متوجہ ہوا اور نویں صدی قبل مسیح سے فلسطین پر ا شوری فاتحین کے مسلسل حملے شروع ہو گئے۔اس دور میں حضرت عاموس علیہ السلام اور حضرت ہوسیع علیہ السلام نے اُٹھ کر اسرائیلیوں کو پے در پے تنبیہات کیں۔مگر جس غفلت کے نشے میں وہ شرسار تھے اُس کی وجہ سے تنبیہ کی ترشی اور زیادہ ہو گئی ۔یہاں تک کہ حضرت عاموس علیہ السلام کو اسرائیل کے بادشاہ نے ملک بدر کردیا۔اِس کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ اﷲ کا عذاب اسرائیلی سلطنت اور اُس کے باشندوں پر ٹوٹ پڑا ۔721 قبل مسیح میں اشور کے سخت گیر فرمانروا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا خاتمہ کر دیا ۔ہزارہا اسرائیلی تہ تیغ کئے گئے،ستایئس 27ہزار سے زیادہ با اثر اسرائیلیوں کو ملک سے نکال کر اشوری سلطنت کے مشرقی اضلاع میں تیتّر بیتّر کردیا گیااور دوسرے علاقوں سے لا کر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا۔جن کے درمیان رہ کر بچا کچا اسرائیلی عنصر بھی اپنی قومی تہذیب سے روز بروز بیگانہ ہو تا چلا گیا۔
بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر ”سلطنت یہودیہ “پر اﷲ کا غضب
اﷲ تعالیٰ نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ پر اپنا غضب نازل فرمایا۔لیکن اُسے دیکھ کر بھی سلطنت یہودیہ کے لوگوں نے عبرت نہیں پکڑی اور آخر کار اُن پر بھی اﷲ کا غضب نازل ہوا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی ۔وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بہت جلد ی شرک اور بد اخلاقی میں مبتلا ہو گئی ۔مگر نسبتاًاُس کا اعتقادی اور اخلاقی زوال سلطنت اسرائیل یا سامریہ کی بہ نسبت سُست رفتار تھا،اِس لئے اس کو مہلت بھی کچھ زیادہ دی گئی۔اگر چہ سلطنت اسرائیل کی طرح اس پر بھی اشوریوں نے پے در پے حملے کئے ،اُس کے شہروں کو تباہ کیا اور اُس کے پایہ¿ تخت کا محاصرہ کر لیا۔لیکن یہ ریاست اشوریوں کے ہاتھوں ختم نہیں ہو سکی،بلکہ صرف باج گزار بن کر رہ گئی۔پھر جب حضرت یسعیاہ (شعیا) علیہ السلام اور حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام کی مسلسل کوششوں کے باوجود سلطنت یہودیہ کے لوگ بُت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری سلطنت یہودیہ کو مسخر کر لیا۔اور یہودیہ کا بادشاہ اُس کے پاس قیدی بن کر رہا۔یہودیوں کی بد اعمالیوں کا سلسلہ اِس پر بھی ختم نہیں ہوا اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔آخر کار 587قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے سلطنت یہودیہ کے تمام بڑے چھوٹ شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اِس طرح پیوند خاک کیا کہ اُس کی ایک بھی دیوار کھڑی نہ رہی۔یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو اُن کے علاقے سے نکال کر ملک ملک میں تیتّر بیتّر کردیا اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے تھے ،وہ ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بُری طرح پامال ہو رہے تھے۔یہ تھا پہلا فساد جس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا اور یہ تھی پہلی سزا جو اُس کی پاداش میں اُن کو دی گئی تھی۔
بنی اسرائیل کی وطن واپسی اور بیت المقدس کی تعمیر
اﷲ تعالیٰ نے پہلے فساد پر بنی اسرائیل کو سزا دی ۔اِس سزاسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ تو پورے طور پر مٹ گئی اور دوبارہ قائم نہیں ہوسکی ۔لیکن سلطنت یہودیہ بعد میں بیت المقدس کے آس آس قائم ہوئی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری سے رہائی بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔جہاں تک سلطنت سامریہ یا اسرائیل کے لوگوں کا تعلق ہے ،وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اُٹھ سکے۔مگر سلطنت یہودیہ کے باشندوں میں ایک بقیہ ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔اُس نے اُن لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو سلطنت یہودیہ میں بچے کچے رہ گئے تھے۔اور اُن لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیئے گئے تھے۔آخر کار اﷲ کی رحمت اُن کی مدد گار ہوئی ۔بابل کی سلطنت کا زوال ہوا ۔539 قبل مسیح میں ایرانی (فارسی) فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل فتح کیا اور اُس کے دوسرے ہی سال اُس نے فرمان جاری کر دیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔چنانچہ اِس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہو گئے،جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔سائرس نے یہودیوں کو دوبارہ ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کی تعمیر کی اجازت بھی دے دی۔مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہو گئیں تھیں ،مزاحمت کرتی رہیں۔آخر کار داریوس(دارا) اول نے 522 قبل مسیح میں یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور ہیکل مقدس کی نئے سرے سے تعمیر کی ۔458 قبل مسیح میں ایک جلا وطن گراہ کے ساتھ حضرت عُزیر (عزرا)علیہ السلام یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششا(ار ٹاکسر یا ارد شیر) نے ایک فرمان کی رو سے اُن کو مجاز کیا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام اپنے انتظامات خود کر سکتے ہیں اور انہیں اِس کا پورا اختیار دیا جاتا ہے۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کی اصلاحات
اﷲ تعالیٰ نے ایک بار پھر بنی اسرائیل کو سنبھلنے اور سدھرنے کا موقع دیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس فرمان سے فائدہ اُٹھا کر حضرت عزیر علیہ السلام نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام انجام دیا۔انہوں نے یہودی قوم کے تمام اہل خیر و صلاح کو ہر طرف سے جمع کر کے ایک مضبوط نظام قائم کیا۔بائیبل کی کتاب خمسہ کو ،جن میں توریت تھی ،مرتب کر کے شائع کیا۔یہودیوں کی دینی تعلیم کا انتظام کیا،قوانین شریعت کو نافذ کرکے اُن اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔اُن تمام مشرک عورتوں کو طلاق دلوائی جن سے یہودیوں نے بیاہ کر رکھے تھے۔اور بنی اسرائیل سے از سر نوا اﷲ کی بندگی اور اُس کے آئین کی پیروی کا میثاق لیا۔445قبل مسیح میں حضرت نحمیاہ علیہ السلام کے زیر قیادت ایک اور جلاوطن گروہ واپس آیا اور شاہِ ایران نے آپ علیہ السلام کو یروشلم کا حاکم مقرر کر کے اِس امر کی اجازت دی کہ وہ” شہر پناہ“ کی تعمیر کریں۔اِس طرح ڈیڑھ سو سال بعد ”بیت المقدس“پھر سے آباد ہوا اور یہودی مذہب و تہذیب کا مرکز بن گیا۔مگر شمالی فلسطین اور سامریہ کے اسرائیلیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کی اصلاح و تجدید سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ،بلکہ بیت المقدس کے مقابلہ میں اپنا ایک مذہبی مرکز ”کوہ جرزیم“پر تعمیر کر کے اُس کو قبلہ ¿ اہل کتاب بنانے کی کوشش کی۔اِس طرح یہودیوں اور سامریوں کے درمیان بُعد اور زیادہ بڑھ گیا۔
بنی اسرائیل پر یونانیوں کا قبضہ
بنی اسرائیل اپنی مستحکم اور الگ سلطنت نہیں بنا سکے تھے اور پہلے فساد کی سزا کے بعد کوئی نہ کوئی اُن پر حاوی رہتا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ایرانی سلطنت کے زوال کے اور سکندر اعظم کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لئے ایک سخت دھکہ لگا۔سکندر کی وفات کے بعد اُس کی سلطنت جن تین سلطنتوں میں تقسیم ہوئی تھی ،اُن میں ملک شام کا علاقہ اُس سلوقی سلطنت کے حصے میں آیا تھا جس کا پایہ¿ تخت ”انطاکیہ“ تھا۔اور اُس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198 قبل مسیح میں فلسطین پر قبضہ کر لیا۔یہ یونانی فاتح جو مشرک تھا اور اخلاقاً اباحیت پسند تھا ،یہودی مذہب و تہذیب کو سخت ناگوار محسوس کرتا تھا۔اُس نے اس کے مقابلے میں سیاسی اور معاشی دباو¿ سے یونانی تہذیب کو فروغ دینا شروع کر دیا اور خود یہودیوں میں سے ایک اچھا خاصا عنصر اُس کا آلہ¿ کار بن گیا۔اِس خارجی مدا خلت نے یہودی قوم میں تفرقہ ڈال دیا ۔ایک گروہ نے یونانی لباس ،یونانی زبان ،یونانی طرز معاشرت اور یونانی کھیلوں کو اپنا لیا۔ اور دوسرا گروہ اپنی تہذیب پر سختی سے قائم رہا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں