10 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 10
حضرت داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت
اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت داو¿د علیہ السلام نے اُن کو تنبیہ کی؛”انہوں نے اُن قوموں کو ہلاک نہ کیا ،جیسا کہ اﷲ نے اُن کو حکم دیا تھا۔بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور اُن کے کام (کفر و شرک)سیکھ گئے۔اور اُن کے بتوں کی پرستش کرنے لگے،جو اُن کے لئے پھندہ بن گئے۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قربان کیا۔اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا۔جن کو انہوں نے ملک کنعان کے بتوں کے لئے قربان کردیا اور ملک ناپاک ہو گیا۔یوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلودہ ہو گئے اور اپنے فعلوں سے بے وفا بنے۔اِس لئے اﷲ کا قہر اُن لوگوں پر بھڑکا اور اُسے اپنی میراث سے نفرت ہو گئی اور اُس نے اُن کو قوموں کے قبضے میں دے دیا ۔اور اُن سے عداوت رکھنے والے اُن پر حکمراں ہو گئے۔اُن کے دشمنوں نے اُن پر ظلم کیا اور وہ اُن کے محکوم ہو گئے۔اُس نے تو بار بار اُن کو چھڑا یا۔لیکن اُن کا رویہ باغیانہ ہی رہا اور وہ اپنی بد کاری کے باعث پست ہو گئے۔(زبور باب 106آیت 34سے44تک)
حضرت شعیا علیہ السلام کی تنبیہ
اﷲ تعالیٰ بار بار نافرمان اور گمراہ بنی اسرائیل پر رحم کرتے رہے اور انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کے لئے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے۔اور وہ بار بار بنی اسرائیل کو تنبیہ کرتے رہے اور اﷲ کی سزا سے ڈراتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت شعیا علیہ السلام نے فرمایا؛”لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پراور ہر ایک اپنے ہمسایہ پر ظلم و ستم کرے گااور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گستاخی کریں گے۔جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھر میں اپنے بھائی کا دامن پکڑ کر کہے گا کہ تُو پوشاک والا ہے۔آتُو ہمارا حاکم ہو ،اِس اجڑے دیس پر قابض ہو جا۔اُس روز وہ بلند آواز سے کہے گا کہ مجھ سے انتظام نہیں ہوگا۔کیونکہ میرے گھر میں روٹی ہے نہ کپڑا ،مجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔ کیونکہ یروشلم کی بربادی ہوگئی اور یہوداہ (بنی اسرائیل)گِرگیا۔اِس لئے اُن کے بول چال اور چال چلن اﷲ کے خلاف ہیں کہ اُس کی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔اُن کے منہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے۔وہ اپنے گناہوں کو سدوم (حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم میں اعلان نبوت کیا تھا۔وہ قوم اتنی بے حیا تھی کہ کھلے عام بے حیائی کے کام کرتی تھی) کی مانند ظاہر کرتے ہیں اور چھپاتے نہیں ہیں۔اُن کی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں۔راست بازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا ،کیونکہ وہ اپنے کاموں کے پھل کھائیں گے۔شریروں پر واویلا ہے!کہ ان کو بدی پیش آئے گی ،کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائیں گے۔“ (شعیا ،باب 3 آیت 6سے 12تک)
یرمیاہ (ارمیاہ) نبی کی تنبیہ
اﷲ تعالیٰ کے بار بار سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل اتنے زیادہ گمراہی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ انبیائے کرام کی سچی باتیں انہیں بری لگنے لگی تھیںاور وہ اُن کی جان کے دشمن بن گئے تھے۔انہوں نے حضرت شعیا (یسعیاہ) علیہ السلام کو قتل کر دیا تب بھی اﷲ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت یر میاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کو سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔یرمیاہ(ارمیاہ) نبی نے فرمایا؛”میں بزرگوں کے پاس جاو¿ں گااور اُن سے کلام کروں گا۔کیونکہ وہ اﷲ کی راہ اور اپنے اﷲ کے احکام کو جانتے ہیں۔لیکن اُنہوں نے عہد بالکل توڑ دالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے۔اِس لئے جنگل کا شیر ببر اُن کو پھاڑے گا ،یا بیابان کا بھیڑیا اُن کو ہلاک کرے گا۔چیتا اُن کے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہے گا ،جو کوئی اُن میں سے نکلے گا پھاڑا جائے گا۔کیونکہ اُن کی سر کشی بہت ہوئی اور اُن کی بر گشتگی بڑھ گئی۔میں تجھے کیوں معاف کردوں؟تیرے فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا اور اُن کی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں۔جب میں نے اُن کو سیر کیا تو انہوں نے بد کاری کی اور پرے باندھ کر قحبہ خانوں میں اکٹھے ہوئے۔وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہو گئے اور ہر ایک صبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی پر ہنہنانے لگا۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے !کیا میں اِن باتوں کے لئے سزا نہیں دوں گا؟اور کیا میری روح ایسی قوم سے انتقام نہیں لے گی؟“(یرمیاہ،ارمیاہ باب نمبر 5،آیت نمبر 5سے9تک)اِس کے آگے حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام فرماتے ہیں۔”اﷲ فرماتا ہے؛اے اسرائیل کے گھرانے دیکھ !میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاو¿ں گااور اﷲ فرماتا ہے کہ وہ زبردست قوم ہے ،وہ ایسی قوم ہے ،جس کی زبان تُو نہیں جانتا ہے اور اُن کی بات کو نہیں سمجھتا ۔اُن کے ترکش کھلی قبریں ہیں۔وہ سب بہادر مرد ہیں۔اور وہ تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے۔تیرے گائے بیل اور تیری بکریوں کو چٹ کر جائیں گے۔تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے۔تیرے حسین شہروں کو جن پر تیرا بھروسہ ہے ،تلوار سے ویران کر دیں گے۔(یرمیاہ(ارمیاہ) باب 5آیت نمبر 15 سے 17تک)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی لعنت
اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79اوپر علامہ غلام رسول سعیدی نے جو تنبیہات پیش کی ہیں ،وہ پیش کرنے کے بعد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یہ تھیں وہ تنبیہات جو بنی اسرائیل کو پہلے ”فساد ِ عظیم “کے موقع پر کی گئیں تھیں۔پھر دوسرے ”فساد ِ عظیم “اور اِس کے ہولناک نتائج پر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے خبردار کیا۔آپ علیہ السلام اپنی قوم کے شدید اخلاقی زوال پر تنقید کرنے کے بعد فرماتے ہیں؛”اے یروشلم!اے یروشلم!تُو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ،اُن کو سنگسار کرتا ہے۔کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے،اِسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں،مگر تُو نے نہ چاہا۔دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“(متیٰ باب23 آیت 37,38)اِس کے بعد آگے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں؛”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہیں رہے گا ،جو گرایا نہ جائے۔“(باب 24آیت 2)پھر جب رومی حکومت کے اہلکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے جارہے تھے ،اور لوگوں کی بھیڑ میں عورتیں بھی تھیں،جو روتی پیٹتی اُن کے پیچھے جا رہی تھیں تو انہوں نے آخری خطاب کرتے ہوئے مجمع سے فرمایا؛”اے یروشلم کی بیٹیو!میرے لئے نہیں رو¿و،بلکہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے رو¿و۔کیونکہ دیکھو !وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور وہ چھاتیاں جنہوں نے دودھ نہ پلایا۔اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑ و اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپا لو۔“(لوقا۔باب 23آیت 28سے30تک)
بنی اسرائیل کی ساتھی قومیں اور اُن کی بد کاریاں
اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ملک کنعان میں آباد ہونے کا حکم دیا،اور حکم دیا تھاکہ وہاں کی کافر قوموں کو یا تو ملک بدر کر دینا یا پھر قتل کر دینا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔پہلے فساد سے مُراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔اِس کا تاریخی پس منظر سمجھنے کے لئے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاءعلیہم السلام سے نقل کر چکے ہیں۔بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے ۔تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں،جن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو ”امامت اقوام“کے منصب سے گرا کر ایک شکست خوردہ ،غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔حِتّی ،اَموری،کنعانی ،فِرزی،حوی،یبوسی،فلستی وغیرہ ۔اُن قوموں میں بد ترین قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔اُن کے سب سے بڑے معبود کا نام ”ایل“تھا۔جسے یہ دیوتاو¿ں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموماًسانڈ سے تشبیہ دی جاتی تھی۔اُس کی بیوی دیوی کا نام ”عشیرہ“تھا۔اور اُس سے دیوتاو¿ں اور دیویوں کی ایک پوری نسل چلی تھی ،جن کی تعداد ستر70تک پہنچتی تھی۔اُس کی اولاد میں سب سے زبردست ”بعل“تھا ۔جس کو بارش اور روئید گی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔شمالی علاقوں میں اُس کی بیوی دیوی”اُناث “کہلاتی تھی۔اور فلسطین میں دیوی ”عستارات“۔یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔اِن کے علاوہ ”کوثی “دیوتا موت کا مالک تھا۔کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی ،کسی دیوتا کو وبا ءاور قحط لانے کے اختیارات تفویض کئے گئے تھے اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔اِن دیوتاو¿ں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی اِن کے ساتھ مشہور ہونا پسند نہیں کرے گا۔اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسے بد کرداروں کو خدا بنائیں اور اُن کی پرستش کریں تو وہ اخلاق کی ذلیل ترین ہستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے جو حالات آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں،وہ اخلاقی گِراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔اُن کے یہاں بچوں کی قربانی کا رواج عام تھا۔اُن کی عبادت گاہیں (مندریں)زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔عورتوں کو دیو داسیاں بنا کر عبادت گاہوں (مندروں)میں رکھنا اور اُن سے بد کاریاں کرنا عبادت کے اجزاءمیں داخل تھااور اِسی طرح کی بہت سی بد اخلاقیاں اُن میں پھیلی ہوئیں تھیں۔
بنی اسرائیل نے اﷲ کا حکم نہیں مانا
اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل نے اپنے علاقوں سے شرک کا خاتمہ نہیں کیا،اور وہاں آباد مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے۔ جس کی وجہ سے مشرک قوموں کے اثرات لا شعوری طور سے بنی اسرائیل میں بھی آگئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔توریت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں ۔اُن میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم اُن قوموں کو ہلاک کر کے اُن کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور اُن کے ساتھ رہنے بسنے اور اُن کی اخلاقی و اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا۔لیکن بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوئے تو وہ اِس ہدایت کو بھول گئے۔انہوں نے اپنی کوئی متحدہ سلطنت قائم نہیں کی۔وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا تھے ۔اُن کے ہر قبیلے نے اِس بات کو پسند کیا کہ مفتوح علاقے کا ایک حصہ لیکر الگ ہوجائے۔اِس تفرقے کی وجہ سے اُن کا کوئی بھی قبیلہ اتنا طاقتور نہیں ہوسکا کہ اپنے علاقے کو پوری طرح مشرکین سے پاک کر دیتا۔آخر کار انہیں یہ گوارا کرنا پڑا کہ مشرکین اُن کے ساتھ ہی رہیں بسیں۔نہ صرف یہ،بلکہ اُن کے مفتوحہ علاقوں میں جگہ جگہ اِن مشرک قوموں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی موجود رہیں،جن کو بنی اسرائیل مسخر نہ کر سکے تھے۔اِسی بات کی شکایت زبور کی اُس عبارت میں کی گئی ہے ،جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں