09 حضرت یونس علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر17
قسط نمبر 9
طاعون کی وبا
سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں لگ بھگ سبھی علمائے کرام نے اِس واقعے کو پیش کیا ہے۔اِن میں سے چند ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب واقعہ کی تفصیل کی طرف آتے ہیں۔داوردان نام کے شہر میں طاعون کی وبا پھیلی۔آج کل ہمارے زمانے میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ زیادہ تر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے۔اور لگ بھگ تمام بیماریوں کو کنٹرول کر لیا گیا ہے،اور پھیلنے نہیں دیا جاتا ہے۔اِسی لئے نوجوان نسل یہ اِن وبائی امراض سے اتنا زیادہ واقف نہیں ہے۔آج سے ستر(70) یا اسی(80) سال پہلے الگ الگ بیماریوں کی وبائیں پھیلتی تھیں۔اِن میں سے کچھ کے نام طاعون ،کالرا،پلیگاور ہیضہ ہیں،اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔یہ بیماریاں جب آتی تھیں تو پورا علاقہ اس کی لپیٹ میں آجاتا تھا۔اور اُس علاقے کے زیادہ تر لوگوں کا وبائی بیماری سے انتقال ہو جاتا تھا۔ایسی ہی طاعون کی بیماری اس شہر میں بھی پھیلی ،اور لوگ موت کا شکار ہونے لگے۔یہ دیکھ کر بہت سے لوگ اس شہر کو چھوڑ کر بھگ گئے۔جو لوگ شہر میں رہے اُن میں سے بہت سے لوگ مر گئے،اور جو لوگ زندہ بچے تھے،وہ بھی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے،اور بہت تکلیف اُٹھا کر زندہ بچے تھے۔کیونکہ اُس زمانے میں دردکش (درد مٹانے والی)گولیاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں،اس لئے انہیں درد کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی۔
مر جاؤ
جب طاعون کی بیماری کی وبا ختم ہو گئی تو وہ لوگ واپس آگئے،جو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔وہ سب کے سب محفوظ تھے،اور کوئی بھی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا تھا۔نہ تو انہوں نے کوئی تکلیف اُٹھائی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی مرا تھا۔وہ لوگ اُن لوگوں کا مذاق اُڑاتے تھے جو اس شہر میں رہ گئے تھے۔اور کہتے تھے کہ تم بے وقوف لوگ ہو،جو یہیں رکے رہے،اور تکلیف بھی اُٹھائی اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھو دیا۔شہر میں رکنے والوں نے کہا کہ تم لوگوں نے واقعی عقلمندی کا کام کیا،اب طاعون کی وبا پھیلے گی تو ہم بھی یہی کریں گے۔دوسرے سال پھر طاعون کی وبا پھیلی تو پورے شہر کے کے لوگوں نے اپنے گھروں کو اُسی حال میں چھوڑ دیا اور نکل بھاگے۔یہ ہزاروں کی تعداد میں تھے،کافی دور آکر ایک پُر فضا مقام پر دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑی وادی کے میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا۔وہ سب وہاں قیام پذیر تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”مر جاو¿“اور اﷲ تعالیٰ نے سب کو ایک ساتھ موت دے دی۔یہاں تک کہ اُن کی سواری کے اور سامان اُٹھانے والے جانوروں کو بھی موت آ گئی۔پوری وادی کے وسیع میدان میں ہر جگہ انسانوں اور جانوروں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
حضرت حزقیل علیہ السلام کا تعجب
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جب طاعون کی وبا تمہارے علاقے میں پھیلے تو اﷲ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے وہیں رکے رہو اور اُس علاقے سے باہر نہ جاؤ۔اگر دوسرے علاقے میں طاعون پھیلا ہواور تمہارا علاقہ محفوظ ہو تو اُس علاقے میں نہ جاؤ،جہاں طاعون پھیلا ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کیا اور طاعون زدہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے تو اس کی انہیں سزا ملی اور سب کو ایک ساتھ اﷲ تعالیٰ نے موت دے دی۔وہ سب لاشیں اسی طرح پڑی رہیں اور اُن کے جسم سڑ گل گئے،اور صرف ہڈیاں بچیں۔کئی سال گزر گئے،اس دوران تیز ہواوؤں اور طوفان کی وجہ سے اُن کی ہڈیاں بکھر کر اِدھر اُدھر ہو گئیں،لیکن وادی کے اندر ہی رہیں۔کافی عرصے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کا گزر اُس وادی سے ہوا۔آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ پوری وادی ہڈیوں سے بھری ہوئی ہے اور جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔آپ علیہ السلام حیرت سے کھڑے ہو کر کچھ دیر اُن ہڈیوں کو دیکھتے رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ کیا ماجرا ہے؟اتنی ساری ہڈیاں اِس وادی میں بکھری پڑی ہیں ؟“اﷲ تعالیٰ نے اُن لوگوں کا واقعہ بتایا۔اس کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام یہ تعجب کرنے لگے کہ یہ سب ہڈیاں اِدھر اُدھر ہو گئی ہیں ،اب کون سی ہڈی کس جسم کی ہے یہ جاننا تو بہت مشکل ہے،آخر کار یہ کیسے ہوگا؟کہ جس جسم کی ہڈی ہے اُسی جسم پر برابر لگ سکے؟اور اگر ہو بھی گیاتو اس میں بہت پریشانی ہو گی۔
ہڈیوں کا اپنی جگہ پر آنا
حضرت حزقیل علیہ السلام اسی سوچ میں گم کھڑے ان ہڈیوں کو دیکھ رہے تھے کہ آخر کار اﷲ تعالیٰ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کر کے دوبارہ زندہ جسم کیسے بنائیں گے؟کیونکہ یہ تو بہت ہی پیچیدہ کام ہے۔اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”اے حزقیل(علیہ السلام)!تمہیں اﷲ کی قدرت پر تعجب ہو رہا ہے؟“آ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! مجھے آپ کی قدرت پر پورا یقین ہے،میں تو اِس کام کے پیچیدہ اور مشکل ہونے پر تعجب کر ہا ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”کیاتم چاہتے ہو کہ یہ دوبارہ زندہ ہو جائیں؟“حضرت حزقیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !کیا ان کی دنیا میں عمریں باقی ہیں؟“اﷲتعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں۔“یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ جو کچھ بھی ہیں آخر تیرے بندے ہی ہیں،اِن لوگوں نے جو بھی گناہ کیا ہو وہ اپنی جگہ ہے۔اِس کے باوجود یہ تیری رحمت کے اُمید وار ہیں،اِس لئے انہیں زندہ کر دے،اور انہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک موقع اور دیدے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو اﷲ کے حکم سے تمام ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آجاو¿اور اپنے اپنے جسموں سے لگ جاو¿۔“آپ علیہ السلام نے ایسا ہی فرمایا۔وہ منظر بڑا ہی حیرت انگیز تھا۔پوری وادی میں جگہ جگہ ہڈیوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ ہر طرف انسانوں اور جانوروں کے ہاتھوں اور پیروں اور سروںکی ہڈیاںپڑی ہوئی تھیں۔حکم سنتے ہی تمام ہڈیاں حرکت میں آگئیں،اور اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر اپنے جسموں کی طرف پہنچ کر جڑ رہی تھیں۔پوری وادی میں ہر طرف ہڈیوں کے سر اور ہاتھ اور پیر اُڑ رہے تھے اور آپ علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے حیرت سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔
تمام ہڈیوں پر گوشت اور کھال کا چڑھنا
حضرت حزقیل علیہ السلام کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور تما ہڈیاں اپنی جگہ سے اُڑ اُڑ کر آرہی تھیں اور اپنے جسموں سے جڑتی جارہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ڈھانچے مکمل ہو گئے اور ہڈیوں کا اُڑنا بند ہو گیا۔اب علیہ السلام کے سامنے پوری وادی میں انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچے لیٹے ہوئے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اب ان سے کہو کہ اﷲ کے حکم سے ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھ جائے۔“آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا حکم سنایا ۔حکم سنتے ہی تمام ڈھانچوں پر گوشت اور کھال بننا اور چڑھنا شروع ہوگئی۔حضرت حزقیل علیہ السلام تعجب سے اﷲ کی قدرت دیکھ رہے تھے ۔زمین پر پڑے ہوئے انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچوں پردھیرے دھیرے گوشت چڑھتا رہا اور کھال بھی چڑھتی رہی اور دیکھتے دیکھتے تمام جسم مکمل طور سے بن گئے۔اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اُن کے کپڑے جو پرانے ہو کر پھٹ کر چیتھڑے ہو گئے تھے۔اُن کپڑوں کو بھی بالکل ٹھیک اصلی حالت میں کر دیا اور پہنا دیا۔
مردے زندہ ہو گئے
حضرت حزقیل علیہ السلام وادی کے سرے پر کھڑے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہد کر رہے تھےاور اﷲ تعالیٰ کی شان اور تعریف بیان کر رہے تھے۔تمام جسم مکمل ہو چکے تھے اور وہ کپڑے بھی پہن چکے تھے جو انہوں نے مرتے وقت پہنا ہوا تھا۔پوری وادی میں ہزاروں انسانوں اور جانوروں کے جسم لیٹے ہوئے تھے۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام وادی میں اُتر آئے اور قریب سے لیٹے ہوئے جسموں کا جائزہ لینے لگے۔ہر انسان اور جانور کا جسم پورے طور سے مکمل نظر آرہا تھا ۔آپ علیہ السلام گھوم گھوم کرجھک کر ایک ایک جسم کا معائنہ کررہے تھے اور فرماتے جارہے تھے؛”بے شک اﷲ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھنے والا ہے،بے شک اﷲ تعالیٰ ہی مرنے کے بعد زندہ کرنے والا ہے۔تمام جسم لیٹے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ہزاروں انسان اور جانور وادی میں سوئے ہوئے ہیں۔لیکن اُن میں ابھی جان نہیں آئی تھی اور وہ سانس نہیں لے رہے تھے۔اب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اِن جسموں کو حکم دو کہ اُٹھ کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ کے حکم سے تمام روحیں اپنے جسموں میں داخل ہو جائیں اور تما جسم زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں۔“آپ علیہ السلام کا حکم سنتے ہی تمام مردے زندہ ہو گئے اور اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
زندہ ہوتے ہی اﷲ کی پاکی اور تعریف بیان کی
حضرت حزقیل علیہ السلام حکم دینے کے بعد تمام لیٹے ہوئے جسموں کے درمیان گھوم رہے تھے اور مشاہدہ کرتے جارہے تھے۔پہلے تمام انسانوں اور جانورں کے جسموں نے آنکھیں کھولیں۔پھر دھیرے دھیرے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگے۔اب آپ علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر زور زور سے فرما تے جا رہے تھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے،اُسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“دھیرے دھیرے تمام انسان اُٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے بے جان پیروں کو دیکھنے جن میں دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔وہ لوگ وہ کلمات سنتے جا رہے تھے جو آپ علیہ السلام بار بار دہرا رہے تھے۔پھر جب اُن سب کے پیروں میں جان آگئی تو وہ سب ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اورایک ساتھ پکار اُٹھے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہے۔“
اپنے شہر واپس آئے
حضرت حزقیل علیہ السلام اُن کے درمیان گھوم گھوم کر اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کر رہے تھے۔جب تمام انسان اور جانور زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے تو سب کے سب آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو گئے اور تمام حال دریافت کرنے لگے۔حضرت حزقیل علیہ السلام ایک اونچے پتھر پر کھڑے ہوگئے اور اُن کے شہر سے بھاگنے سے لیکر زندہ ہونے تک کے تمام حالات بلند آواز سے بیان کئے اور اپنا تعارف کرایا۔تمام حالات سن کر سب لوگ رونے لگے اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اُن سب کو لیکر اُن کے شہر میں آئے اور بنی اسرائیل سے تمام حالات بیان فرمائے۔یہ سب بھی بنی اسرائیل سے ہی تھے اور زندہ ہونے کے بعد اُن میں فرق یہ آگیا تھا کہ اُن کے جسم اور چہرے پیلے ہو گئے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے اُن کے جسم میں خون نہیں ہے اور جب بھی یہ لوگ نئے کپڑے پہنتے تھے تو وہ کفن کی طرح بوسیدہ ہو جاتے تھے۔اِن کے بدن سے ایک مخصوص بو آتی تھی ،جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔انہوں نے شادی بیاہ بھی کی اور اُن کی اولاد بھی ہوئی اور یہ سب دنیا میں اپنی اپنی عمریں پوری کر کے مرے۔اِن کی اولاد میں بھی یہ مخصوص بورہی اور آج بھی یہودیوں (بنی اسرائیل) کے مخصوص لوگوں میں یہ مخصوص بو آتی ہے۔
حضرت حزقیل علیہ السلام کا وصال
اﷲ تعالیٰ نے جب تک چاہا،تب تک حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ علیہ السلام کے حالات ِ زندگی اور وصال کے بارے میں زیادہ روایات نہیں ہیں۔اِس لئے ہم اِسی پر بس کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے ذکر کو مکمل کرتے ہیں۔
ختم شد
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں