09 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 09
حضرت عیسیٰ علیہ السلام محفوظ اُٹھا لئے گئے
اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور اُن کے کفر کے باعث اور مریم(رضی اﷲ عنہا) پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث۔اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اﷲ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کو قتل کر دیا۔حالانکہ نہ تو انہوں نے اُسے قتل کیا ،نہ سولی پر چڑھایا۔بلکہ اُن کے لئے وہی صورت بنا دی گئی تھی۔یقین جانو کہ عیسیٰ(علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے اُن کے بارے میں شک میں ہیں۔انہیں اِس کا کوئی یقین نہیں،سوائے تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔اتنا یقینی ہے کہ وہ انہیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)قتل نہیں کر سکے۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیااور اﷲ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہیں بچے گا ،جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لا چکے۔اور قیامت کے دن آپ (علیہ السلام) اُن پر گواہ ہوں گے۔“(سورہ النساءآیت نمبر 156سے159)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ بنی اسرائیل (یہود)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید نہیں کر سکے ہیں ،بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں محفوظ اُٹھا لیا ہے۔اُن کے دھوکے میں یہودیوں نے کسی اور کو صلیب پرچڑھا دیا ہے۔
بنی اسرائیل(یہود) انبیاءعلیہم السلام کے قاتل
اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءکی آیت نمبر 157میں بتایا کہ بنی اسرائیل یعنی یہود کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باﷲ ) قتل کردیا ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یعنی جرا¿ت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ”رسول“کو ”رسول“جانتے تھے اور پھر اُن کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اﷲ کے رسول علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔اُوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے ،اُس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی ۔پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے آپ علیہ السلام سے مشاہدہ کیں(جن کا ذکر سورہ آل عمران رکوع نمبر 5 میں گزر چکا ہے )ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہو چکا تھا کہ آپ علیہ السلام اﷲ کے رسول ہیں۔اِس لئے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیاوہ غلط فہمی کی بنا پر نہیں تھا۔بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اِس جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اُس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اﷲ کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں۔بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اُسے قتل کر دے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے اندازو اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں۔وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں جو اُن کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے اُن کو روکے۔ایسے لوگ چاہے نبی ہی کیوں نہ ہوں،ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزا پاتے رہیں گے۔تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اُس کی سیر کرنے لگا۔عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اُسے ایک تیر کا نشان نظر آیا۔اُس نے یہودیوں سے پوچھا کہ یہ نشان کیسا ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ”یہاں زکریا علیہ السلام نبی کو ہم نے قتل کیا تھا ،وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔آخر جب ہم اُس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اُسے مار ڈالا۔“بائیبل میں یرمیاہ(ارمیاہ) نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گذر گئیں اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ ) علیہ السلام نے اُن کا متنبہ کیا کہ اِن اعمال کی پاداش میں اﷲ تعالیٰ تم کو دوسری قوموں سے پامال کرا دے گا تو اُن پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں(کلدانیوں) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے۔اِس الزام میں اُن کو جیل بھیج دیا گیا۔خود حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے ”واقعہ¿ صلیب“سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ علیہ السلام کا معاملہ پیش آچکا تھا ۔یہودی بالعموم اُن کو نبی مانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ اُن کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں۔مگر جب انہوں نے(حضرت یحییٰ علیہ السلام نے) ہیرودیس (سلطنت ِ یہودیہ کا بادشاہ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہیں کیا گیا ۔پہلے جیل بھیج دیئے گئے اور پھر بادشاہ کی معشوقہ کے مطالبے پر اُن کا سر قلم کردیا گیا۔یہودیوں کے اِس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو سُولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو”ہم نے اﷲ کے رسول کو قتل کیا ہے۔“
بنی اسرائیل دو مرتبہ فساد کریں گے
اﷲ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا؛ترجمہ”ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے۔اِن دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے بندے بھیج دیئے،جو بڑے لڑاکے تھے۔پس وہ تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اﷲ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔پھر ہم نے اُن پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے والا بنایا۔اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدے کے لئے اور اگر تم نے برائیاں کیں تو اپنے ہی لئے۔پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ)وہ تمہارے چہرے بگاڑیں اور پہلی دفعہ کی طرح مسجد میں گھس جائیںاور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اُکھاڑ دیں۔(سورہ بنی اسرائیل یا سورہ اسراءآیت نمبر 4سے7تک)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل زمین پر دو بہت بڑے فساد کریں گے اور انہوں نے کیا بھی۔اِس دنیا میں سب سے بڑا فساد ایمان لانے کے بعدشرک کرنا ہے۔وہ بنی اسرائیل نے کیا،اور اُس سے بھی بڑا فساد انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل ہے ،اور وہ بھی بنی اسرائیل نے کیا۔جس کی وجہ سے اُن پر اﷲ کا غضب نازل ہوا اور وہ بری طرح رسوا ہوئے۔پہلا غضب حضرت شعیا علیہ السلام کے ناحق قتل کے بعد نازل ہوا اور دوسرا غضب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد نازل ہوا۔انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل اتنا بڑا”جرم عظیم “ہے اور وہ بھی پانچ سب سے بڑے رسولوں میں سے ایک رسول کا۔اور اِس کی سزا میں بنی اسرائیل کااتنی بری طرح قتل عام ہوا اور یہ حال ہوا کہ اُنہیںاپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بھاگنا پڑا ،اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔لگ بھگ دوہزار سال تک وہ پوری دنیا میں بھٹکتے رہے ،اور عیسائی اُن پر شدیدظلم کرتے رہے۔بعد میں بنی اسرائیل نے عیسائیوں میں فرقے پیدا کر کے ایک فرقے سے دوستی کر لی ،اور اُسی کے بل پر فلسطین میں اسرائیل ملک بنایا۔
بنی اسرائیل کے دوفساد اور سزا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی سمجھ کے مطابق صلیب پر چڑھا دیا تھا اور یہ اتنا بڑا فساد تھا کہ اِس کی بہت بڑی سزا انہیں ملی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔آج موجودہ بائیبل کی کتاب ارمیاہ ،یسعیاہ،زبور،احبار اور حزقی ایل کی سطروں میں تمام باتیں لکھی ہوئی ہیں۔جن کا ذکر قرآن پاک کی اِن آیات میں کیا گیا ہے ۔یہ غیبی اور مکتوبی خبر مکہ¿ مکرمہ کی سرزمین میں ایک اُمی لقبی صلی اﷲ علیہ وسلم شخص کی زبانی سننا اِس بات کا عظیم ثبوت ہے کہ یہ قرآن پاک ”کلام الہٰی “ہے۔اِسی لئے جب یہ آیات نال ہوئیں اور یہود و نصاریٰ نے سنیں تو بہت سے اسرائیلی مسلمان ہو گئے۔توریت میں لکھا ہے کہ اے بنی اسرائیل !تم آنے والے زمانوں میں دو مرتبہ بہت سخت فساد زمین ِ علاقہ میں مچاو¿ گے اور ہر طرح بہت سے انبیاءاور اولیاء کے سمجھانے کے باوجود بہت بڑا غرور ،تکبر، گھمنڈ ،سرکشی اور نافرمانی کرو گے۔اور اِس کی سزا میں اﷲ کی طرف سے تم پر زمینی عذاب و سزا اور ذلت آئے گی۔
بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو انکار
بنی اسرائیل (یہود)اتنی بد بخت قوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو پانچ بڑے رسولوں میں ہیں۔انہیں بھی صاف انکار کردیا اور اپن کی نافرمانی کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہواتھا کہ جب برادران یوسف علیہ السلام نے اپنے آبائی وطن فلسطین کو ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر چھوڑ کر ملک مصر میں سلطنت و حکومت کے ذریعے رہائش اختیار کی۔اور نیکیوں اور عبادتوں کی وجہ سے اُن کو ہزاروں سال تک بہت عزت و نعمت کی حیات طیبہ عطا ہوئی ۔پھر اُن میں گمراہی ،گناہ ،فسق و فجور ،بے غیرتی ،ظلم ،فرقے بازی اور بد کاری کی بیماریاں عام ہوئیں تو اُن پر فرعون کومسلط کیا گیا۔جس نے تقریباً تین سو سال تک بنی اسرائیل کو سخت ذلیل کئے رکھا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالاتو اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جاو¿ اپنے رب کے حکم سے اپنے آبائی علاقے فلسطین کو بذریعہ جہاد قوم جالوت سے پاک کرو اور فتح کر کے اُس میں سے کفرو شرک کو نکال کر شمع ِ توحید اور ہدایت ِ نبوت سے بقیعہ ¿ نور بنا دو۔قوم جالوت بہت دراز قد اور شہ زور تھی ،اُس کے پانچ گروہ تھے(1) قوم حِطی (2) فریذی (3) فُلُسطی (4) کنعانی (5) حموری یبوسی ۔سرداران بنی اسرائیل نے کچھ جاسوس اُن کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجے ۔جنہوں نے واپس آکر اُن کی شہزوری کا تذکرہ کیا تو بنی اسرائیل بزدل ہو گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم ِ جہادکو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اے موسیٰ !تم اور تمہارا رب اُن سے جا کر لڑو ،ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔
بنی اسرائیل کفر و شرک میں مبتلا
بنی اسرائیل نے اﷲتعالیٰ اور اُس کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کو ٹھکرا دیا تو اﷲ تعالیٰ نےانہیں چالیس سال تک صحراءمیں بھٹکنے کی سزا دی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔تب اُن کو مقام تیہ میں چالیس سال تک قید کیا گیا۔ پھر جب چالیس سال بعد من و سلویٰ سے اُکتا کر انہوں نے سبزیاں اور دالیں مانگیں تو ان کو مصر اور فلطین جانے کی اجازت ملی۔لیکن امیری اور دولت ،کھیتی ،باغات کی فروانی کی بنا پر قوم بنی اسرائیل پھر سرکش،بے غیرت ،ظالم اور نافرمان ہو گئی اور بجائے دوسرے کافروں کو درست کرنے اور مومن بنانے کے خود بھی کافروں کی طرح مشرک بننے لگے۔اور مشرک قوم کے مخصوص اور بڑے دیوتا اُبل بُت اور بعل کی پرستش کرنے اور اُن پر قربانیاں چڑھانے لگے۔بعل ایک پانچ سروں والا بت تھا۔جس کی پوجا وہاں کا بادشاہ بُک کیا کرتا تھا ۔اِسی لئے اس شہر کانام بعلبک ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کیا
بنی اسرائیل اپنی بد بختی میں اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرنے لگے ۔جبکہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام اُن کی دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی چاہتے تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اور جب اِن بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے تو ان پیاروں کو محبت کرنے والے انبیائے کرام علیہم السلام کی انہوں نے سخت مخالفت کی ۔اسی مخالفت کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔اور دو خصوصی واقعات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔پہلا واقعہ اور بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کا ظہور اُس وقت عروج پر پہنچا ۔جب اِن لوگوں نے زمین پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو نبی مبعوث ہوئے حضرت شعیا بن امصیاہ علیہ السلام کو شہید کیا۔یہ نبی توریت کی تبلیغ فرماتے تھے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارتیں سناتے تھے۔اور کفارِ بنی اسرائیل کو کفر و گناہ سے باز رہنے کی ہر وقت تلقین فرماتے رہتے تھے۔بنی اسرائیل نے اُن پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔
اﷲ تعالیٰ نے سزا دی
اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے ناحق قتل کی بنی اسرائیل کوسزا دی اور انہیں دنیا میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ اور آخرت کی ذلت ابھی باقی ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اِس قتل اور کفر و شرک گناہ کے بدلے میں ان کو قتل عام کی سزا ملی اور یکے بعد دیگرے رومی بادشاہ ”اوگس اینٹی“ اُسی کو جالوت کہا گیا ہے اور پومپی بادشاہ اور شاہ روم ٹیٹس نے ایسے سخت حملے کئے کہ بنی اسرئیل کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔یہ تینوں بادشاہ قوم عمالقہ کے تھے۔انوں نے بنی اسرائیل کی حکومت تباہ کی ،ملک اور ملکیت ویران کی ،لاکھوں اسرائیلوں کو قتل کیا اور ہزاروں ذلت کی غلامی میں چلے گئے۔صدیوں بعد رحمت الہٰی نے دستگیری فرمائی اور حضرت طالوت ،حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومتیں قائم فرمائیںاور اُن کو چین نصیب ہوا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پھر بنی اسرائیل شرک ،کفر اور ظلم و گناہ میں مبتلا ہو گئے ۔اور دوسری دفعہ فساد مچایا کہ حضرت زکریا علیہ السلام،حضرت ارمیاہ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا۔ایک روایت ہے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو قتل کیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو صرف قید کیااور وہ قید میں ہی فوت ہو گئے۔زخمی بھی کیا گیا(معاذ اﷲ)اِس قتل کے عذاب میں بخت نصر (بنو کونذر) بابل شہر کا بادشاہ حملہ آور ہوا اور بے انتہا تباہی مچائی ۔یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی کو بھی بالکل بنیادوں سے اُکھیڑ دیا ۔
بنی اسرائیل کو انبیائے کرام علیہم السلام کی تنبیہ
اﷲ تعالیٰ گمراہی میں مبتلا بنی اسرائیل کو سمجھانے کے لئے بار بار انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے اور وہ انہیں سمجھاتے اور تنبیہ کرتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7تک کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اِن آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق دو پیش گوئیاں کی ہیں۔پہلی پیش گوئی یہ کہ وہ ضرور زمین پر فساد کریں گے اور سرکشی کریں گے۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کے اِس فساد اور سرکشی کی سزا میں اُن پر ایسے دشمن مسلط کر دے گا ،جو اُن کو ڈھونڈ کر قتل کردیں گے ۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کی مدد فرمائے گااور اُن کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ پھر جب انہوں نے دوبارہ فساد اور سرکشی کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُن کو دوبارہ سزا دی اور اُن کے دشمنوں کو اُن پر مسلط کردیا ۔اِس کی تصدیق بائیبل میں بھی ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں