جمعرات، 8 جون، 2023

08 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel


08 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 8

اﷲکی مدد

آسا خط پڑھنے کے بعداﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گیا ،اور رو رو کر دعائیں مانگنے لگا۔دعائیں مانگتے مانگتے اُس ے نیند آ گئی،اور اُسے خواب میں بشارت دی گئی کہ اﷲ تعالیٰ تیری مدد کرے گا،اور اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔تم اپنی فوج لیکر زرح کے مقابلے کے لئے میدان میں جاو¿۔آسا کی آنکھ کھل گئی اور وہ فوراً اُٹھ کر باہر آیا،اور اﷲ کی مدد کی خوش خبری سنائی۔ایمان والوں نے تصدیق کی اور منافقین نے جھٹلایا۔اور کہنے لگے کہ آسا جب عبادت کے کمرے میں گیا تب بھی لنگڑا تھا ،اور اب جبکہ خوش خبری لیکر باہر آیا ہے تب بھی لنگڑا ہے۔اگر یہ سچا ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اِس کی ٹانگ کو صحیح کر دیتا۔آسا نے کسی کی پرواہ نہیں کی ،اور فوج کو تیاری کا حکم دیا۔اور خود بھی جنگی لباس پہن کر ہتھیار لگا کر تیار ہو کر باہر آیا۔عوام نے انہیں اِس طرح رخصت کیا،جیسے آخری مرتبہ دیکھ رہے ہوں،اور اب دیکھنا نصیب نہیں ہو گا۔آسا اپنے سپاہیوں کو لیکر میدان میں آیا۔زرح نے آسا کا لشکر دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا،کیونکہ زرح کے لاکھوں کے لشکر کے سامنے آسا کے چند ہزار سپاہی چیونٹیوں کی طرح نظر آرہے تھے۔اس کے بعد زرح کو غصہ آگیا،اور اُس نے اپنے جاسوسوں کو بلایا ،اور اُن سے کہا کہ تم لوگوں نے جھوٹ کہا۔اور اِس چند ہزار کے لشکر کے لئے مجھے اتنے بڑے لشکر کے ساتھ اتنی دور کا سفر کرنے پر اُکسایا۔اِس کے بعد اُس نے غصے میں اپنے جاسوسوں اور غدار بنی اسرائیل سرداروں اور علماءکو قتل کرا دیا۔

زرح کو شکست فاش

اس کے بعد زرح اپنالشکر لیکر آسا کے لشکر کے سامنے آیا اور بولا؛”اے آسا تیری اتنی اوقات نہیں ہے کہ مجھ سے مقابلہ کرسکے،اور تیرا لشکر اتنا کم ہے کہ میں تُجھ سے مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں۔اور کہاں ہے تیرا وہ دوست جو تیری مدد کرتا ہے؟“آسا نے کہا؛”اے بد بخت !تُجھے معلوم نہیں ہے ،تُو کیا کہہ رہا ہے؟کیاتُو اپنی کمزوری کے ساتھ اپنے رب پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟یا تُو اپنے مقتولوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے؟وہ اﷲ ہر ایک سے معزز اور برتر ہے،اور ہر ایک پر غالب اور قاہر ہے۔جبکہ اُس کے بندے ذلیل اور کمزور ہیں،اِس جنگ میں وہ میرے ساتھ ہے۔اور جس کے ساتھ اﷲ ہو،اُس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ہے۔اے بد بخت!تُو اپنی پوری کوشش کر لے،تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ تیرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟“زرح نے جب یہ سنا تو اُسے بہت غصہ آیا۔اُس نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ایک ساتھ تیر چلاو¿،اور ایک ہی جھٹکے میں اِس معمولی لشکر کا صفایا کردو۔اِدھر اﷲ تعالیٰ نے آسا کی مدد کے لئے فرشتے اُتار دیئے،اور وہ آسا کے لشکر کے آگے زرح کے لشکر کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔زرح اور اُس کے لشکر کو ایسا لگا،جیسے اُن کے اور آسا کے لشکر کے درمیان بادل اُتر آیا ہو۔جس میں آسا کا لشکر چھپ گیا۔زرح اور اُس کے لشکر کے تیر انداز اُس بادل یا دھند کے اُس پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔اچانک اُس بادل میں سے ہزاروں تیر نکلے اور زرح کے لشکر کے تیر اندازوں کو لگے اور وہ سب مر گئے۔اس کے بعد اس دھند یا بادل میں سے فرشتے نکلے،جو اتنی زیادہ تعداد میں تھے کہ پورا میدان اور وادی اُن سے بھر گئے۔زرح نے فرشتوں کو دیکھا تو سخت مرعوب ہو گیا،اور اُس کے ہاتھ سے ہتھیار گر گیا۔اُس نے کہا؛”یہ تو جادو ہے،آسا نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔‘]اس کے بعد اُس نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ ایک ساتھ حملہ کر کے آسا اور اُس کے ساتھیوں کو ختم کردو تو یہ جادو بھی ختم ہو جائے گا۔اُس کا لشکر ایک ساتھ آگے بڑھا،لیکن زرح یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ فرشتوں نے آگے بڑھ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور کچھ ہی دیر میں اُس کا پورا لشکر قتل ہوگیا،اور میدان میں جگہ جگہ اُن کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔زرح نے یہ دیکھا تو ہمت ہار دی،کیونکہ اُسے بُری طرح شکست فاش ہو چکی تھی۔

زرح کی ہلاکت

اﷲ تعالیٰ نے آسا اور بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔زرح نے جب اپنے لشکر کو ختم ہوتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا،اور اُس کے ساتھ اُس کے وہ سپاہی تھے جو زندہ بچ گئے تھے۔وہ سب ساحل سمندر پر پہنچے اور جہازوں پر سوار ہو کر بھاگنے لگے۔جب پانی کے درمیان پہنچے تو سمندر میں طوفان آگیا،اور زرح اور اُس کے ساتھی سب کے سب ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔اِس جنگ سے سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو تنا مال غنیمت حاصل ہوا کہ وہ تین مہینے تک اسے جمع کرتے رہے۔اور سلطنت یہودیہ کی دولت میں بے حد اضافہ ہو گیا۔اس کے بعد آسا سکون سے حکومت کرتا رہا،اُس نے اکتالیس(۱۴)سال حکومت کی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا یہوشاط بن آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اُس نے پچیس (۵۲) سال حکومت کی،اُس کے بعد اُس کی چچا زاد بہن عتلیا نے سات سال حکمرانی کی۔اُس کے دور ِ حکومت میںحضرت الیاس علیہ السلام نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ میں اعلان نبوت کیا۔اس کے بعد یوآش سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا،اُس نے چالیس سال حکومت کی۔اب ہم حضرت حزقیل علیہ السلام کے ذکر کو شروع کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب

حضرت حزقیل علیہ السلام کا لقب”ابن العجور“ہے۔اِسکی وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ بانجھ تھیں،اور اُن کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔یہاں تک کہ والدہ محترمہ بوڑھی ہوگئیں۔والد محترم اکثر اپنی بیوی کو تسلی دیتے رہتے تھے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کو اولاد دینا منظور ہو گا تو ہمارے بڑھاپے میں بھی ہمیں اولاد عطا فرمادے گا۔آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ اپنی ہم عُمر عورتوں کے جوان بچوں کو دیکھتیں تو اُن کے دل میں ایک کسک سی اُٹھتی تھی۔آخر کار بُڑھاپے میں وہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں کہ اے اﷲ تعالیٰ مجھے اولاد سے نواز دے۔اُن کی یہ دعا بنی اسرائیل میں مشہور ہو گئی۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کو اُن پر رحم آیا ،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں بیٹا عطا فرمایا۔والدین نے ”حزقیل“نام رکھا،لیکن آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں ”ابن العجور“یعنی ”بڑھیا کا بٹا“کے نام سے مشہور ہو گئے۔

حضرت حزقیل علیہ السلام کی بعثت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام ستائیس(۷۲) سال تک بنی اسرائیل میں رہے۔اُن کے بعد حضرت کالب بن یوقنا نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھالے۔اُن کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت حزقیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔و¿پ علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو آگے بڑھایا،اور توریت کے احکامات نافذ کئے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں بنی اسرائیل صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے،اور اسلام پر قائم رہے۔آپ علیہ السلام کے زمانہ¿ نبوت میں آپ علیہ السلام کے سامنے ہزاروں لوگوں کی موت کے بعد زندہ ہونے کا معجزہ اﷲ تعالیٰ نے دکھایا۔

ہزاروں لوگوں کی ایک ساتھ موت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”کیا تم نے اُن کو نہیں دیکھا؟جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں فرمایا”مرجاؤ“۔پھر انہیں زندہ کیا۔اﷲ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے،لیکن اکژر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 243)اکثر علمائے کرام نے یہی فرمایا ہے کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے وقت میں پیش آیا۔ پہلے ہم آپ کی خدمت میں چند علمائے کرام کی مختصراًتفسیر اِس واقعے کے متعلق پیش کریں گے۔اِس کے بعد انشاءاﷲ اِس واقعہ کو تفصیل سے بیان کریں گے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چار ہزار تھے،ایک اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے۔بعض لوگ نو ہزار کہتے ہیں،بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں۔یہ لوگ ”درودان“نامی بستی کے تھے،جو واسط کی طرف ہے۔بعض کہتے ہیں اِس بسی کا نام ”ازرعات“تھا۔یہ لوگ طاعون کی بیماری کے ڈر سے اپنے شہر کو چھوڑ کر بھاگے تھے۔ایک وادی میں پہنچے تو وہیں اﷲ کے حکم سے سب مر گئے۔اتفاق سے ایک نبی علیہ السلام کا وہاں سے گزر ہوا،اُن کی دعا سے اﷲ تعالیٰ انہیں پھر دوبارہ زندہ کر دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں ایک چٹیل، صاف اور ہوادار کھلے پُر فضا میدان میں ٹھہرے تھے۔اور فرشتوں کی چیخ سے ہلاک کئے گئے تھے۔جب ایک لمبی مدت گزر گئی اور ان کی ہڈیوں کا بھی بھوسہ ہو گیا۔تب حضرت حقیل علیہ السلام وہاں سے گزرے۔انہوں نے دعا کی اور اﷲ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔اور حکم دیا کہ تم کہو:”اے بوسیدہ ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم سب جمع ہوجاو¿۔“ہر ہر جسم کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کھڑا ہوگیا۔پھر اﷲتعالیٰ کا حکم ہوا؛”تم کہو!اے ہڈیو!اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ گوشت پوشت ،رگیں پٹھے بھی جوڑ لو۔“جب یہ بھی ہو گیا تو حکم ہوا ؛”تم کہو !اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہےکہ ہر روح اپنے جسم میں داخل ہوجائے۔“جس طرح یہ سب ایک ساتھ مرے تھے،اُسی طرح ایک ساتھ زندہ ہوگئے۔اور بے ساختہ اُن کی زمان سے نکلا؛”اے اﷲ !تُو پاک ہے،اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“

طاعون کے ڈر سے بھاگ نکلے

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔کہ امام جلال الدین سیوطی بیان فرماتے ہی کہ علامہ محمد بن جریر طبریاور امام حاکم نے اِس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اُن لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی ۔اور یہ ”درودان“نام کے شہر کے رہنے والے تھے۔یہ شہر واسط کے قریب تھا۔اِس شہر میں طاعون پھیل گیا تھا،لوگوں کا ایک گروہ تو شہر میں ہی ٹھہرا رہا،اور ایک گروہ بھاگ گیاتھا۔جو لوگ شہر میں رکے رہے ،اُن میںسے کچھ مر گئے،اور بھاگنے والوں میں سے سب لوگ بچ گئے۔جب طاعون ختم ہوا تو وہ لوگ واپس آگئے،اِس شہر کے زندہ بچنے والوں نے کہا؛”ہمارے بھائی ہم سے زیادہ سمجھ دار نکلے،کاش ہم بھی اُن کی طرح شہر سے نکل جاتے تو ہمارے جو رشتہ دار مرگئے وہ بچ جاتے۔اور اگر اگلے طاعون تک ہم زندہ رہے تو ایسا ہی کریں گے۔اگلے سال پھر طاعون آیا،اِس مرتبہ سب لوگ شہر سے نکل بھاگے۔اُن کی تعدادتیس ہزار تھی،وہ لوگ دو پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی میں قیام پذیر ہوئے۔اﷲتعالیٰ نے اُن کے پاس دو فرشتے بھیجے،ایک فرشتہ وادی کے ایک طرف تھا،اور دوسرا دوسری طرف تھا۔اُن دونوں فرشتوں نے ایک ساتھ آواز لگائی،”مرجاو¿“تو وہ سب مر گئے۔جب تک اﷲ نے چاہا وہ اسی طرح مردہ پڑے رہے۔پھر وہاں سے حضرت حزقیل علیہ السلام گزرے،انہوں نے اتنی ساری ہڈیوں کو دیکھا تو حیران ہو گئے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی؛”تم آواز لگاو¿ کہ اے ہڈیو!ﷲتعالیٰ تمہیں جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے آواز لگائی تو تمام ہڈیوں پر گوشت آگیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ان سے کہو!اﷲ تعالیٰ تمہیں کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔“آپ علیہ السلام نے حکم کے مطابق فرمایا تو وہ سب زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے۔اور بے اختیار اُن کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوئے۔”اﷲ تعالیٰ پاک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“پھر وہ اپنے شہروں کی طرف روانہ ہو گئے ،اور وہاں رہنے لگے۔مگر وہ جب بھی کوئی نیا لبا س پہنتے تھے تو وہ اُن کے جسم پر جاتے ہی پُرانا ہو جاتا تھا،اور کفن کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔جس سے اُس زمانہ کے لوگ پہچان لیتے تھے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہوئے ہیں۔

موت کہیں بھی آجائے گی

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 243 کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اﷲ تعالی کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ وہ جہاں بھی جائے گااور جب اُسکی موت کا وقت آجائے گا تو وہ کہیں بھی آجائے گی۔اور اِس کے لئے بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔یہ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے،وہاںطاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔اس بستی کے لوگ اپنے رشتہ داروں کو تڑپتا دیکھ کر ایک بہت ہی وسیع وادی کی طرف بھاگ گئے،تاکہ موت سے بچ سکیں۔اُن لوگوں کی تعداد دس ہزار تھی،یہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع وادی میں ٹھہر گئے۔اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو دکھلانے کے لئے عبرت کا یہ سامان کیا کہ اِن دس ہزار بنی اسرائیلیوں پر موت طاری کر دی۔جب آس پاس کے لوگوں کو اطلاع ملی کہ دس ہزار کے قریب لاشیں بغیر کفن دفن کے پڑی ہیں،اور یہ سب سڑ رہی ہیں۔تو انہوں نے سوچا کہ اِن سب کو دفن کرنا بہت مشکل ہے،اِسی لئے اُن کے اطراف دیواریں اُٹھا دیں۔تاکہ لاشوں کی بے حرمتی نہ ہو۔اُن کی صرف ہڈیاں بچیں،بہت عرصہ بعد بنی اسرائیل کے رسول حضرت حزقیل علیہ السلام اُس مقام سے گزرے۔اتنی زیادہ تعداد میں ہڈیاں ریکھ کر آپ علیہ السلام حیران رہ گئے۔انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے ان کے زندہ ونے کی دعا کی،جو اﷲ تعالیٰ نے قبو ل کی ،اور انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں