08 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 08
بنی اسرائیل کا مکر اور اﷲ کی تدبیر
اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور کافروں نے مکر کیا اور اﷲ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔اور اﷲ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔جب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ(علیہ السلام)!میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر قیامت کے دن تک رکھنے والا ہوں۔پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 54اور55)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ سازش کی اور آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کی بھر پور کوشش کی۔اور اپنی دانست میں اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کواپنی سمجھ کے مطابق(نعوذباﷲ)صلیب پر چڑھا کر درد ناک موت سے بھی ہمکنار کر دیا۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے آپ علیہ السلام کو بچا لیا اور آسمان میں اُٹھا لیا۔بنی اسرائیل کی اِس خفیہ سازش کی خبر اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دے دی تھی کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اور میں تمہیں اپنی طرف اُٹھا لوں گا۔اور تمہارے تابعداروں کو اِن بنی اسرائیل پر حاوی کر دوں گا۔اِن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اُٹھاے جانے کا ذکر ہے ۔اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب آپ علیہ السلام کا آسمان سے دوبارہ نزول ہوگا۔اِس سلسلے کی چند احادیث انشاءاﷲ ہم آگے پیش کریں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گرفتاری کی خبر دے دی تھی
بنی اسرائیل کے علماءاور امراءکا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو انھوں نے رومی حکمرا ں پیلاطس کو آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ لگا تار اس کے کان بھرتے رہے۔ آخر کار رومی حکمراں نے آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ اب تمام بنی اسرائیل ( یہود ) آپ علیہ السلام کی تلاش میں نکل پڑے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی مستقل گھر نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام پورے کنعان میں ( حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں آباد بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ صرف آپ علیہ السلام کے حواریوں کو معلوم رہتا تھا کہ آپ علیہ السلام سے کہاں ملاقات ہوگی۔ جب تمام یہودی ( بنی اسرائیل) آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے ۔ا س وقت آپ علیہ السلام اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ ایک جگہ چھپے ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا؛” چرواہے کو لے جایا جائے گا۔ اور بھیڑیں منتشر ہو جائیں گی ، “حواری بات کا کچھ مطلب نہیں سمجھ سکے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ بات سچ ہے کہ تم میں سے ایک شخص مرغ کی اذان سے پہلے تین بار میرا انکار کر ے گا۔ اور تم میں سے ایک شخص صبح ہونے سے پہلے تھوڑی سی رقم کے عوض مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت لے کر کھالے گا۔ اب تم جاﺅ اور ہوشیار رہنا ۔“
حواری کی غداری سے آپ علیہ السلام کی گرفتاری
تمام حواری باہر نکلے اور چھپتے چھپاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔ کیوں کہ رات کے اندھیرے میں بھی بنی اسرائیل رومی پولس کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تلاش کر رہے تھے اور یہ ہر جگہ موجود تھے۔ شمعون چھپتا چھپاتا جا رہا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے اسے پکڑ لیا اور کہا ؛تُوحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ شمعون نے انکار کر دیا۔ اور کہا میں اُن کا ساتھی نہیں ہوں اس گروہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ کچھ ہی آگے گیا تھا کہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے دوسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ وہاں بھی اس نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ کچھ ہی آگے بڑھا تو تیسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ ان لوگوں کے سامنے بھی شمعون نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ آگے بڑھا تو مرغ کی اذان دینے کی آواز آئی۔ یہ سن کر وہ رونے لگے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی یہوداہ نام کا حواری بنی اسرائیل کی پکڑ میں آگیا ۔ انھوں نے کہا؛یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھی ہے۔ اسے ضرور اُن کا پتہ معلوم ہوگا۔ اور اسے دھمکی دی کہ اگر تو پتہ نہیں بتائے گا تو تجھے جان سے مار دیں گے۔ اس نے کہا اگر میں پتہ بتاﺅں تو مجھے کیا ملے گا۔ یہودیوں نے کہا ہم تمہیں تیس درہم دیں گے۔تو اس نے تیس درہم لئے اور آپ علیہ السلام کا پتہ بتا دیا۔ بنی اسرائیل نے اپنے تمام ساتھیوں کو خبر کی اور تمام بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے اس مکان کو گھیر لیا۔ جس میں آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔
رومی دربار میں آپ علیہ السلام کی پیشی
بنی اسرائیل نے رومی پولس کے ساتھ اس مکان کا محاصر ہ کر لیا جس میں آپ علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے۔ دروازہ توڑ کر وہ لوگ اندر داخل ہوئے ۔اور آپ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے چلے۔ اور رومی حکمراں پیلاطس ( پوئنیش پائلٹ ) کے دربار میں پیش کیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءنے آپ علیہ السلام پر الزام لگانا شروع کیا۔ کہ یہ تمام بنی اسرائیل کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتا ہے۔ اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے۔ وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام پر الزام لگا رہے ہو۔اور آپ علیہ السلام خاموش کھڑے تھے۔ پیلاطس نے کہا ۔ تم لوگ اس معصوم شخص پر الزام لگا رہے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ اس کے خلاف ہے؟ کچھ دیر کے لئے تمام بنی اسرائیل پر سکتہ چھا گیا۔ پھر علماءنے کہا ۔ ہم کل تک ضرور گواہ پیش کر دیں گے۔ تب تک آپ اسے قید خانے میں رکھیں۔ پیلاطس نے کہا میں تو اس شخص کو بے قصور پاتا ہوں ۔لیکن بنی اسرائیل بار بار اصرار کرتے ہیں اور آخر کار پیلاطس نے آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔
بنی اسرائیل کا اصرار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سزائے موت
حضرت عیسیٰ علیہ السلام قید خانے میں تھے۔ اسی دوران رومیوں کا تہوار آگیا۔ اور جشن منایا گیا ۔اس جشن مین تمام بنی اسرائےل بھی شرےک تھے۔ اس جشن میں رومی حکمراں پیلاطس نے اعلان کیا۔ اے بنی اسرائےل تمھاری قوم کے دو شخص ہماری قید میں ہیں ایک تو ”بر ابّا “ڈاکو ہے ۔جس نے سو( 100)سے ذیادہ لوگوں کا قتل کیا ہے۔ اور دوسرے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )ہیں ۔آج خوشی کا دن ہے ۔اسلئے میں تمھاری خاطر ان دو لوگوں میں سے ایک کو آزاد کروں گا۔ تم کہو میں کسے آزاد کروں؟ تمام بنی اسرائےل نے ایک ساتھ پکار کر کہا۔بر ابّا کو چھوڑدو۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی پر لٹکا دو۔ بلکہ اسے تڑپا تڑپا کر مارو اور صلیب پر چڑھا دو۔ سب مل کر چلاتے رہے اوراصرار کر تے رہے ۔آخر کار پیلاطس نے علیہ السلام کو صلیب پرچڑھانے کا حکم دے دیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا
پیلاطس کے حکم کے مطابق جب پیلاطس کے سپاہی آپ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے لئے لینے آئے ۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام کی شکل کا دوسرے آدمی کو بنادیا۔ اور اسی ہم شکل کو بنی اسرائےل اور رومیوںنے صلیب پر چڑھا دیا۔ اس ہم شکل کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کے جس حواری نے آپ علیہ السلام کو بیچا تھا۔ اسی کو آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ ایک حواری نے خود اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ اور کچھ روایات میں ایسا ہے کہ بنی اسرائےل کے علماءکا بڑا آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے کے لئے آیا ۔تو اسے ہی آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ اور رومی سپاہی اسے ہی پکڑ کر لے گئے۔ وہ چیختا چلاتا رہا کہ میں فلاں ہوں۔ مگر کسی نے اسکی بات نہیں مانی اور صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ کچھ روایات ہیں ۔اب حقیقت کیا ہے ؟اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال ایک بات تو قرآن پاک سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اور بد بخت یہود (بنی اسرائےل) آپ علیہ السلا م کو قتل نہیں کرسکے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں(بنی اسرائیل ) نے اپنی سمجھ کے مطابق بہت ہی درد ناک موت دینے کی کوشش کی،لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بچا لیا۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے واقعہ میں مفسرین کا قدرے اختلاف ہے۔ہم اِن میں سے قوی روایت تفسیر خازن و روح المعانی و روح البیان وغیرہ سے نقل کرتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تبلیغ فرمائی تو انہوں نے آپ علیہ السلام کے مقابلہ سے عاجز ہو کر آپ علیہ السلام کی شان میں بکواس کرنا،آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ پر تہمت لگانا اور آپ علیہ السلام کو ایذادینا شروع کردی۔ایک دن آپ علیہ السلام شہر میں گشت لگا رہے تھے کہ شہر کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو بہت پریشان کیا ۔تب آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی کہ مولیٰ اب صبر کا پیالہ بھر چکا ہے ۔اب سب کو سور بنا دے ۔آپ علیہ السلام کے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ وہ سب سور ہو گئے۔لوگوں پر اِس واقعہ سے ہیبت طاری ہو گئی ۔کسی نے بادشاہ وقت یہود کو خبر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ”مقبول الدعا“ہیں کہ انہوں نے اتنی جماعت کو سور بنا دیا۔تُو بھی اُن کا مخالف ہے ،اپنی خیر منا۔کبھی اُن کی بد دعا سے تیرا بھی یہی حال ہونا ہے ۔اُس نے کہا کیا کیا جائے ۔ایسے مقبول ِ بارگاہ کے مقابلہ میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی ۔وہ بولا کہ انہیں کسی حیلہ سے شہید کردیا جائے تاکہ اُن کی بد دعا کا اندیشہ جاتا رہے۔چنانچہ ایک شخص طفیانوس کو اِس کام کے لئے منتخب کیا گیا۔طفیانوس ایک منافق آدمی تھا جو بظاہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت کا دم بھرتا تھا اور در پردہ یہود سے ملا ہوا تھا۔جب یہ واقعہ ہونے والا تھا ،تب ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرما دیا تھا کہ آج صبح سے پہلے ایک شخص مجھے چند درہم کے عوض فروخت کر دے گا۔ہمیشہ ہی سے پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی رہتے ہیں۔اور ”مخلصین“کے ساتھ ”منا فقین“بھی رہتے ہیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسے ہی مار آستین دوست نما دشمن تھے۔وہ حضرات اِن منافقین کو پہچانتے تھے ۔مگر چشم پوشی سے کام لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرمان سے معلوم ہو رہا ہے۔چنانچہ طفیانوس کو یہود کی طرف سے تیس درہم یعنی ساڑھے سات روپے دینے کا وعدہ کیا گیا۔اِس شرط پر کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اچانک شہید کر دے یا کرادے ۔چنانچہ طفیا نوس جماعت یہود کو اپنے ساتھ لیکر اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کی قیام گاہ پر گیا ۔اُن سب کو اُس گھر کے آس پاس کھڑا کر کے خود اندر داخل ہوا ۔کیا دیکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اچانک کھڑکی کے ذریعہ اس حجرہ سے نکل کر آسمان پرتشریف لے گئے۔یہ حیران رہ گیا ۔باہر کے یہودی سمجھے کہ شاید طفیانوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جنگ کر رہا ہے۔اِس لئے واپسی میں دیر ہوئی ۔رب تعالیٰ نے طفیانوس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا ۔اب باہر آیا ۔اُس کے نکلتے ہی اُن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں پکڑ لیا ۔یہ لاکھ چیخا چلایا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے گیا تھا ۔مگر کسی نے ایک نہ سنی ۔بولے کہ اے عیسیٰ !تُو نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ۔اب ہمیں دھوکہ دینا چاہتا ہے۔یہ کہہ کر اسے سولی پر چڑھا دیا ۔آج بھی عیسائی اِس وہم میں مبتلا ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پرسولی دے دی گئی اور پھر انہیں دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر پہنچا دیا گیا۔اِس لئے سارے عیسائی صلیب کو پوجتے ہیںاور اس سولی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ طفیانوس کو سولی دی گئی نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں