07 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر17
قسط نمبر 7
آسا کی ماں کا بُت پرستی پر اصرار
آسا کے اعلان کو عام بنی اسرائیل اور سچے علمائے کرام نے جب سنا تو بہت خوش ہوئےاور بادشاہ کا سچے دل سے ساتھ دینے لگے ۔لیکن بہت سے دنیا پرست علماءبھی تھے اور مطلب پرست عہدے دار بھی تھے۔اُن لوگوں پر شیطان حاوی تھا،اِس لئے وہ بادشاہ کی مخالفت کرنے لگے۔اور اُس کے لئے بادشاہ کی ماں کے پاس گئے ،جو بُت پرست تھی،اور اُسے بادشاہ سے بات کرنے پر راضی کیا۔دراصل آسا جب بادشاہ بنا تو وہ نوجوان تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ آسا بن ایبا بہت ہی نیک آدمی تھا۔ایک ٹانگ سے معذور تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیںکہ جب قوم کے (مطلب پرست سرداروں اور دنیا پرستعلمائ) نے یہ اعلان سنا تو انہوں نے شور و غل مچایا،اور اعلان کو ناپسند کیا۔وہ بادشاہ کی ماں کے پاس آئے اور اُس سے شکایت کی کہ تمہارے بیٹے کا رویہ ہمارے معبودوں کے بارے میں بہت سخت ہے۔اُس نے ہمیں بتوں کو توڑنے کا اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔اُس کی ماں نے یہ سن کر بتوں کے بارے میں بادشاہ سے بات کرنے کی حامی بھر لی۔اور ایک دن دربار میں داخل ہوئی تو بادشاہ اور قوم کے سردار ،معززین اور رعایا بیٹھے ہوئے تھے۔اپنی ماں کو دیکھتے ہی بادشاہ کھڑا ہو گیا،اور اُسے عزت و احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا۔لیکن وہ بتوں کی پوجا پر اصرار کرنے لگی۔
اﷲ کے لئے ماں کو قتل کر دیا
آسا نے اپنی ماں کو عزتو احترام سے بیٹھنے کے لئے کہا تو اُس کی ماں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا،اور بولی کہ تُو اُس وقت تک میرا بیٹا نہیں ہے ،جب تک بتوں پوجا نہیں کرے گا۔اور اﷲ کی عبادت سے انکار نہین کرے گا،اور تم نوجوانی اور کم عقلی میں یہ غلط حرکت کر رہے ہو۔میری جان کی قسم !مجھے اِس عمل پر تمہاری کم عقلی ،نوعمری،اور کم علمی نے اُبھارا ہے۔اور اگر تُونے میری بات کو ٹھکرایا اور میرے حق کو نہیں پہچانا تو تُو اپنے باپ کی نسل سے نہیں ہے۔جب بادشاہ نے یہ کفریہ کلمات سنے تو وہ غصے سے بھر گیا،اُس کا سینہ تنگ ہونے لگا۔اُس نے کہا؛”اے امی جان ! یہ ناممکن ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کروں ،اور اگر تم میری بات مانو گی ،اور صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کروگی تو ہدایت پاو¿گی،ورنہ گمراہ ہو جاو¿ گی۔اگر تم بتوں کو چھوڑ کرصرف اﷲ کی عبادت کرو گی تو مجھے صرف وہی ملامت کرے گا ،جو اﷲ کا دشمن ہوگا۔اور میں تو صرف اﷲ کی رضا اور اُ س کی مدد چاہتا ہوں،کیوں کہ میں اُس کا غلام ہوں۔“اُس کی ماں نے کہا؛”میں اپنے بتوں کو اور اپنے آباءکے مذہب کو تیرے کہنے سے نہیں چھوڑوں گی۔اور جس اﷲ کی طرف تُو مجھے دعوت دے رہا ہے ،میں اُس کی عبادت نہیں کروں گی۔‘]بادشاہ نے کہا؛”یہ کہہ کر تم نے ہمارے رشتے کو ختم کر دیا ہے۔“اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُسے قتل کر دیں۔
ہندوستانی بادشاہ کو حملہ کرنے کی دعوت
آسا کے حکم سے اُس کی ماں کو قتل کر دیا گیا۔اِس کی وجہ سے مخالفت کرنے والوں پر بہت بُرا اثر پڑا۔اُن کے دلوں میں بادشاہ کا رعب بیٹھ گیا،اور وہ بادشاہ کے مطیع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ جب بادشاہ نے اپنی ماں کے ساتھ یہ سلوک کیا تو ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔اِس کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھے اور پوشیدہ طریقوں سے آسا کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے آسا اور اُس کی حکومت کی حفاظت کی،اور وہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکے۔سلطنت یہادیہ کے عام بنی اسرائیل اور سچے علماءآسا کے ساتھ تھے،اور اﷲ کے احکامات نافذ کرنے میں اُس کی بھرپور مدد کرہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب وہ(آسا کے مخالفین)اپنے پروگرام میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہیئے۔اور یہ مشورہ کیا کہ ہم ہندوستان میں جاکر وہاں کے بادشاہ کو بھڑکا کر لائیں گے،اور آسا کی حکومت کا خاتمہ کر دیں گے۔وہ لوگ ہندوستان میں وہاں کے بادشاہ ”زرح“کے دربار میں حضر ہوئے،اور سجدے میں گر گئے۔(اُس وقت ہندوستان ،پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال وغیرہ سب ہندوستا ن میں تھا،بعد میں انہیں الگ الگ ممالک بنایا گیا۔)اُس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟وہ بولے کہ ہم آپ کے غلام ہیں۔اُس نے پوچھ کہ تم میرے کون سے غلام ہو؟انہوں نے کہا کہ ہم سرزمین کنعان سے آئے ہیں،اور آپ کی بادشاہت کا احترام کرتے ہیں۔ہمارے یہاں ایک کم عقل اور نوجوان لڑکا بادشاہ بن گیا ہے۔اُس نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا ہے،اور ہماری عبادت کو غلط اور ہمارے آباءکو گمراہ کہتا ہے۔ہم اُس ملک کے سرداروں میں سے ہیں،اور ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں مال و دولت بہت زیادہ ہے،آپ حملہ کر کے اُس احمق نوجوان کو شکست دیکر اپنی حکومت کو وسیع کرلیں،ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔غرض انہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے زرح کو راضی کر لیا کہ وہ سلطنت یہودیہ پر حملہ کرے۔
زرح کے جاسوس
ہندوستان کے بادشاہ زرح نے کہا کہ پہلے میں اپنے جاسوس بھیج کر تمہاری بات کی تحقیق کروں گا کہ تم لوگ سچے ہو یا جھوٹے،اُس کے بعد آگے قدم اُٹھاو¿ں گا۔زرح نے اپنے جاسوسوں کو اپنے خزانے سے بہت سا مال دیا۔اور انہیں خشکی اور بحری سفر کا سامان دیا،اور انہیں تجروں کے بھیس میں روانہ کیا۔جاسوسوں کا یہ گروہ سلطنت یہودیہ میںتجارتی قافلے کی شکل میں پہنچا،اور بنی اسرائیل کے بادشاہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا۔انہوں نے اپنا تجارتی سامان سلطنت یہودیہ میں گھوم گھوم کر بیچنا شروع کر دیا۔اور حکومت کے داخلی اور خارجی پالیسیوں ،فوجی طاقت اور حکومت کی تحقیق کرنی شروع کردی۔انہیں معلوم ہوا کہ سلطنت یہودیہ کا ہر شخص مال دار ہے،اور بادشاہ کے پاس حضرت یوشع علیہ السلام کا خزانہ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا خزانہ موجود ہے۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ سلطنت یہودیہ سے بے اندازہ مال و دلوت حاصل ہو سکتا ہے۔
بادشاہ کا دوست
جاسوسوں نے عوام کی اور بادشاہ کی تحقیق کرنے کے بعد فوجی طاقت کی تحقیق شروع کی۔انہوں نے وہاں کی عوام سے دریافت کیا کہ بادشاہ کا جنگی انداز کیا ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اگر کوئی بادشاہ اُس پر حملہ کرے تو وہ کیا کرے گا؟کتنے لشکروں کا استعمال کرے گا؟گھوڑوں اور شہسواروں کی تعدا کتنی ہے؟لوگوں نے بتایا کہ بادشاہ کا لشکر ہے ،اور اُس کی جنگی طاقت بہت ہی کمزور ہے۔لیکن اُس کا ایک دوست ہے،جسے یہ پکارتا ہے تو وہ اُس کی مدد کرتا ہے۔اور اگر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹانا ہو تو وہ اُسے ہٹا دیتا ہے۔جب تک اُس کا دوست اُس کے ساتھ ہے،تب تک کوئی اُس پر غالب نہیں آ سکتا۔جاسوسوں نے پوچھا کہ وہ دوست کون ہے؟اُس کے لشکر کتنے ہیں؟اُس کے جنگجو اور بہادروں کی تعداد کتنی ہے؟سوار اور پیدل فوجی کتنے ہیں؟اور وہ کہاں رہتا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ اُس کا دوست آسمان کے اوپر رہتا ہے،عرش پر مستویٰ ہے۔اُس کے لشکر بے شمار ہیں،تمام مخلوقات اُس کی عبادت کرتی ہے۔دریا اور سمندر اُس کے حکم سے چلتے ہیں ،وہ کسی کو نظر نہیں آتا ہے۔اُس کا صحیح ٹھکانہ کسی کو معلوم نہیں ہے،وہ بادشاہ کا دوست اور مدد گار ہے۔
زرح کا غرور
زرح کے جاسوسو س تمام معلومات لیکر اُس کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور تمام معلومات اُسے پیش کردیں۔زرح نے کہا کہ جب بنی اسرائیل کو یہ معلوم ہوا کہ تم اُن کی پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہو،تو انہوں نے جھوٹ بول کر آسا کے دوست کا ذکر کیا۔جس سے اُن کا مقصد تم کو دہشت زدہ کرنا تھا،اور اگر اُس کا کوئی دوست ہے بھی تو وہ میرے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اُس نے پورے ہندوستان (جو افغانستان،پاکستان،نیپال،بنگلہ دیش،حالیہ ہندوستان،اور سری لنکا پر محیط تھا)میں اور اِس آس پاس کے علاقوں سے فوج جمع کی،اور اُس کا لشکر کئی لاکھ پر مشتمل تھا۔زرح نے جب اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ سفر شروع کیا تو اُس کی عزت اور عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی۔زرح نے یہ عظیم الشان لشکر دیکھ کر غرور سے کہا ؛”کہاں ہے آسا کا دوست؟کیاوہ مجھ سے بچ سکتا ہے؟کیاوہ مجھ پر غلبہ پا سکتا ہے؟اگر آسا اور اُس کا دوست مجھے اور میرے لشکر کو دیکھ لیں گے تو میرے ساتھ جنگ کرنے کی جرا¿ت نہیں کریں گے،اوربہت جلد آسا میرا قیدی بن جائے گا۔اِس طرح غرور کرتا ہوا زرح سلطنت یہودیہ کی طرف بڑھا۔
آسا کی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور عاجزی
زرح اِس طرح آسا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہوا،اپنی فوج لیکر آگے بڑھتا رہا۔آسا کو بھی یہ اطلاع مل چکی تھی کہ اُس پر حملہ کرنے کے لئے زرح ایک عظیم الشان لشکر لیکر آرہا ہے۔اُس نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ!آپ نے آسمان اور زمین اور اُن کے درمیان موجود چیزوں کو بنایا ،اور وہ سب آپ کے قبضے میں ہیں۔آپ حوصلی والے،بلند و برتر اور شدید غضب والے ہیں۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دیں،اور ہماری نافرمانیوں پر ہماری پکڑ نہ فرمائیں۔بلکہ ہم آپ سے اُس رحمت کا سوال کرتے ہیں،جو تمام مخلوقات پر عام ہے۔آپ ہماری کمزوری اور دشمن کی طاقت کودیکھیئے،ہماری قلّت اور دشمن کی کثرت کو دیکھیئے۔ہماری تنگی اور پریشانی کو ملاحظہ فرمایئے،اور دشمن کی عیش و راحت دیکھیئے۔اپنی قدرت سے آپ نے فرعون اور اُس کے لشکر کو سمندر میں ہلاک کیا،اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی۔اسی طرح زرح اور اُس کے لشکر کو بھی ہلاک کر دیجیئے۔میں آپ سے سوال کرتا ہوںکہ آپ زرح اور اُس کے لشکر پر اپنا عذاب نازل فرمایئے۔
خواب میں بشارت
آسا نے عاجزی سے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی،رات کو خواب میں بشارت ملی کہ اﷲ تعالیٰ نے تیری سن لی اور تیری پکار اﷲ تک پہنچ گئی۔بہت جلد اﷲ تعالیٰ زرح اور اُس کے لشکر کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا کہ لوگ دیکھیں گے اور عبرت حال کریں گے۔تیری طرف سے اﷲ اُن کے لئے کافی ہوجاےت گا،اور اُن کا مال غنیمت تیرے لئے حلال ہو گا۔اور اُس کا لشکر تیرے سامنے ذلیل کیا جائے گا۔ تاکہ زرح کو بھی پتہ چل جائے کہ آسا کے دوست کا مقابلہ کرنا اور اُس کے لشکر کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ناکام نہیں ہوتا ہے۔اﷲ اُسے مہلت دے رہا ہے کہ وہ اپنی ضروریات سے فارغ ہو جائے۔اور پھر اُسے غلام بنا کر تیرے سامنے لائے گا ،اور اُس کے جنگجو تیرے اور تیری قوم کے خادم ہوں گے۔
سلطنت یہودیہ کا محاصرہ
زرح اپنا لشکر لیکر آیا اور سلطنت یہودیہ کا محاصرہ کر لیا۔اُس کی فوج اتنی زیادہ تھی کہ تمام میدان اور تمام پہاڑوں کی وادیاں بھر گئیں۔اُس کی فوج کا اندازہ کر نے کے لئے آسا نے اپنے جاسوس بھیجے۔انہوں نے آکر زرح کے لشکر کے بارے میں ایسا بتایا کہ بنی اسرائیل پر اُس کی ہیبت بیٹھ گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اتنا بڑا لشکر کبھی نہیں دیکھا ہے۔اور اتنے ہاتھی سواروں اور گھوڑے سواروں کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہے۔وہ لشکر اتنا بڑا ہے کہ ہماری عقلیں انہیں شمار کرنے سے عاجز آگئیں۔اور ہماری تدابیر اُن کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں،ہماری ساری اُمیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔جب عوام نے زرح کے لشکر کا حال سنا تو بری طرح ڈر گئے،اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ آپ کا لشکر اِس عظیم الشان لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اور اگر آپ شکست کھاگئے توزرح کے سپاہی ہمارے ساتھ اور ہمارے بیوی بچوں کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔اِس سے تو بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو زرح کے حوالے کر دیں، شاید وہ ہم پر رحم کھا کر ہمیں قتل نہ کرے۔آسا نے کہا؛”ہم اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش نہیں کرسکتے،اور اﷲ کے گھر(بیت المقدس)کو اور اﷲ کی کتاب(توریت) کو دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔“عوام نے کہا؛”پھر اپنے دوست اور رب سے مدد مانگو،جس کی مدد کا تم ہم سے وعدہ کرتے تھے۔اور جس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو۔“
اﷲ سے دعا
آسا نے کہا؛”میرا رب اُس وقت تک مدد نہیں کرتا ،جب تک کہ خوب رورو کر گڑ گڑا کر اس سے دعا نہ مانگی جائے،اور اُس کے سامنے آہ و زاری نہ کی جائے۔بنی اسرائیل نے کہا؛”یہ کام آپ کر لیں،شاید وہ آپ کی دعا قبول کر کے ہماری کمزوروں پر رحم کرے۔آسا عبادت کے کمرے (بیت المقدس ) میں گیا۔اپنا تاج اور شاہی کپڑے اُتار کر عام لباس پہنا۔اور ریت پر بیٹھ کر ہاتھ اُٹھا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگا؛”اے اﷲ تعالیٰ ! اے ساتوں آسمان اور عرش عظیم کو بنانے والے،اے ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب علیہم السلام اور بنی اسرائیل کے رب!تُو اپنی مخلوق کو جہاں چاہتا ہے ٹھکانہ عطا فرماتا ہے۔تیرے ٹھکانوں کو کوئی نہیں جانتا،اور تیری عظمت کی حقیقت کسی کو نہیں معلوم ہے۔تُو ایسا بیدار ہے کہ جسے کبھی نیند نہیں آتی ہے،میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی،اور تُو نے اُن کے لئے آگ کو گلزار بنا دیا تھا۔اور میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مانگی توبنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کیا اور فرعون کو غرق کیا۔میں تُجھ سے وہی دعا مانگتا ہو جو حضرت داو¿د علیہ السلام نے مانگی توتُو نے جالوت کو قتل کرنے میں اُن کی مدد کی۔اور میں وہی دعا مانگتا ہوں جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے مانگی تو انہیں تُو نے تمام مخلوقات پر بادشاہت عطا فرمائی۔اے اﷲ تعالیٰ!تُو مُردوں کو زندہ کرنے والا ہے،دنیا کو فنا کرنے والا ہے۔اے اﷲ !تُو کبھی فنا نہیں ہو گا اور ہمیشہ رہے گا،کبھی بوسیدہ نہیں ہوگا۔ اے میرے اﷲ !تُجھ سے رحم کا سوال کرتا ہوں،مجھ پر رحم فرما،میں لنگڑا اور مسکین اور تیرا کمزور بندہ ہوں۔میرے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے،ہم پر بہت بُرا وقت آگیا ہے۔اے اﷲ !تیرے علاوہ کوئی اِس مصیبت کو دور نہیں کر سکتا ہے۔تیرے بغیر نیکی کرنا اور گناہوں سے بچنا ناممکن ہے۔اے اﷲ ! تُو جس طرح چاہے ہماری کمزوری پر رحم فرما،بے شک تُو جس طرح چاہتا ہے،جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔“
بنی اسرائیل کے سچے علماءکی دعا
بیت المقدس کے عبادت کے کمرے میں آسا رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔اور بڑے ہال میں بنی اسرائیل اور اُن کے سچے علمائے کرام اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے۔بنی اسرائیل کے زیادہ تر عوام اور علمائے کرام آسا کے ساتھ تھے۔کچھ تھوڑے بہت عوام اور دنیا پرست علماءمخالفت کر رہے تھے۔بنی اسرائیل کے سچے علمائے کرام اپنی دعا میں کہہ رہے تھے؛”اے اﷲ تعالیٰ!آج اپنے بندے کی مدد فرما،اور اُس کی دعا کو قبول فرما۔کیونکہ اُس نے صرف تُجھ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔اُسے دشمنوں کے حوالے نہ کر،دیکھ وہ تُجھ سے اِتنی محبت کرتا ہے کہ اپنی ماں کو اور تمام گمراہوں کو چھوڑ کر صرف تیری بات مانتا ہے۔“اِدھر بادشاہ اورعلمائے کرام دعا مانگ رہے تھے کہ زرح کا قاصد اُس کا خط لیکر آیا۔زرح نے خط میں آسا اور اُس کی قوم کو ذلیل کرنے کی دھمکی دی تھی۔اور لکھا تھا کہ اپنے دوست کو بلاو¿جس کی وجہ سے تو نے اپنی قوم کو گمرا کیا ہے۔اور تمہارے دوست سے کہو کہ مجھ سے آ کر مقابلہ کرے۔ تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ نہ تو تمہارا کوئی دوست اور نہ کوئی اور میرا مقابلہ کر سکتا ہے۔اِس لئے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ زرح ہوں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں