ہفتہ، 17 جون، 2023

07 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


07 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 07

”المائدہ“ کا نزول 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے وضو کیا ۔ دو رکعت نماز پڑھی اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا دیئے آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ روتے روتے دعا بھی کرتے جا رہے تھے۔ تمام حواری اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے دم بخود بیٹھے ہوئے تھے۔ اور تمام بنی اسرائیل اور ان کے علماءجنھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا وہ بھی منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ادھر آپ علیہ السلام کی گریہ وزاری اور دعا جاری تھی۔ اچانک حواریوں کے منہ سے مسرت آمیز آواز نکلی۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ دو بادلوں کے درمیان سرخ دستر خوان دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تما م بنی اسرائیل کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اوروہ پلکیں جھپکائے بغیر اُس” المائدہ“ کو دیکھ رہے تھے۔ جو دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تمام حواری اور ایمان والے خوش ہو رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام بار بار دعا کر رہے تھے؛” اے اللہ تعالیٰ ! اس خوان کو رحمت بنانا اور اسکو غضب نہ بنانا۔“ دھیرے دھیرے وہ دستر خوان آپ علیہ السلام کے سامنے آکر رک گیا۔ حواریوں کو ایسی خوشبو آئی جیسی اس سے پہلے انھوں نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر گئے۔اور آپ علیہ السلام کو جھٹلانے والے بنی اسرئیل اور علماءغیض و غضب میں جل بھن گئے۔

” المائدہ“ کا کھانا 

جب” المائدہ “نیچے آکر زمین پر ٹھہر گیا تو تمام حواریوں اور ایمان لانے والے اس سرخ دستر خوان کے گرد آکر بیٹھ گئے۔ یہ بہت بڑا تھال تھا اور سرخ کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” تم میں سے جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ عبادت گزار اور شکر گزار ہے وہ اس سرخ کپڑے کو ہٹائے۔“ حواریوں نے کہا؛” اے اللہ کے رسول علیہ السلام !آپ ہی اسے کھولنے کے لائق ہیں۔ “یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دوبارہ وضو کیا۔ دو رکعت نماز پڑھی اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور اپنی قوم کے لئے برکت کی دعا مانگی۔ پھر” المائدہ“ کو کھولا اس میں ایک بہت بڑی بھنی ہوئے مچھلی تھی۔ جس میں کانٹے نہیں تھے۔ اوراس سے گھی بہہ رہا تھا۔ اور اس کے گرد ہر قسم کی پکی ہوئی سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اور نمک اور سرکہ بھی رکھا ہوا تھا۔ اور پانچ بڑی بڑی روٹیاں تھیں۔ ایک روٹی پر زیتون ، ایک پر کھجور ، ایک پر انار اور باقی دو پر اسی طرح پھل اور میوہ جات رکھے تھے۔

حواری کھانے سے محروم رہ گئے 

تمام کھانا دیکھ کر ایک حواری شمعون نے پوچھا؛ اے اللہ کے رسول علیہ السلام !یہ کھانا دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا جنت کے کھانوں میں سے ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ نہ تو دنیا کا کھاناہے اور نہ ہی جنت کا ہے۔ بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آسمانوں اور زمین کے درمیان پیدا فرمایا ہے۔ “اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اب کھانا شروع کرو۔ “حواریوں نے کہا؛” آپ علیہ السلام کھانے کی شروعات کریں۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانا تم لوگوں نے منگوایا ہے اس لئے تم لوگ کھاﺅ۔“ لیکن حواری اصرار کرنے لگے کہ آپ علیہ السلام کھائیں۔ در اصل حواریوں کو یہ ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ اس کھانے سے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے تمام فقیروں اور بیماروں اور اپاہجوں کو بلایا۔ اور فرمایا۔ تم اللہ کے دیئے ہوئے رزق جو تمہارے رسول کی دعا سے آیا ہے اس میں سے بسم اللہ کر کے کھاﺅ۔ اور کھانے کے بعد الحمد للہ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرو۔ تم پر کوئی آفت نہیں آئے گی۔ یہ سن کر اُن ضرورت مندوں نے کھانا شروع کر دیا۔ اس” المائدہ “سے تیرہ سو 1300مردوں اور عورتوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد بھی وہ کھا نا اتنا ہی رہا۔اور اسمیں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ پھر وہ” المائدہ“ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ جس فقیر نے وہ کھانا کھایا وہ امیر ہو گیا۔ جس اپاہج نے وہ کھانا کھایا ، وہ صحت مند ہو گیا۔ اور جس بیمار نے وہ کھانا کھایا ۔ اس کی بیماری ختم ہو گئی۔ یہ دیکھ کر حواری افسوس کرنے لگے۔ کیونکہ وہ اس کھانے سے محروم ر ہ گئے۔

تمام بنی اسرائیل کا” المائدہ “سے فائدہ اٹھانا 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری” المائدہ “سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کا انھیں بہت افسوس تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ اُن پر مہربان تھا۔ اس لئے چند روز بعد پھر” المائدہ “نازل ہوا۔ اس بار حواریوں نے فائدہ اٹھایا۔ اور بنی اسرائیل کے لوگ بھی آگئے اور” المائدہ “میں سے کھانا کھایا۔ ہزاروں لوگوں نے اُس دن کھانا کھایا۔ پورا دن کھانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہا ں تک کہ شام ہو نے لگی اور لوگ باقی تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” انشاءاللہ” المائدہ “پھر نازل ہوگا اورآپ لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔“ اس کے بعد ایک دن چھوڑ کر” المائدہ“ نازل ہونے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے جو لوگ آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے تھے وہ بھی آکر” المائدہ “سے فائدہ اٹھانے لگے۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کے علماءبھی آکر” المائدہ“ سے فائدہ اٹھانے لگے۔ اسطرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اور ہر مرتبہ ہزاروں لوگ ”المائدہ “سے کھانا کھاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ جتنا کھانا ہو کھالیا کرنا دوسرے دن کے لئے نکال کر مت رکھنا۔ ورنہ ”المائدہ “کا نزول بند ہو جائے گا۔ پھر ایسا ہونے لگا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءیہاں بھی اپنی چلانے لگے۔ اور ضرورت مند رہ جاتے تھے۔اور علماءاور امیر لوگ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ 

” المائدہ “کا نزول بند ہوجانا 

جب بنی اسرائیل کے علماءاورامیر لوگ اپنا پیٹ بھر نے لگے اور ضرورت مند محروم رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب ”المائدہ “سے صرف ضرورت مند اور مستحق لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا کہ” المائدہ “صرف ضرورت مند اور مستحق لوگوں کے لئے ہے۔ اور امیروں کے لئے نہیں ہے۔ اور بنی اسرائیل کا ہر عالم بہت امیر تھا۔ اس طرح علماءاورامراءکے لئے” المائدہ“ کا کھانا بند ہو گیا۔ وہ لوگ تو پہلے ہی سے آپ علیہ السلام کے دشمن تھے۔” المائدہ “کی پابندی کے بعد تو یہ لوگ آپ علیہ السلام کی دشمنی میںکھل کر سامنے آگئے۔ اور بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے عوام میں ”المائدہ “کے متعلق شک وشبہ پھیلانے لگے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام ہمیں” المائدہ “کے نزول کے متعلق مطمئن کریں کیوں کہ بہت لوگ ا س میںشک کرتے ہیں۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اللہ کی قسم! اگر تم لوگ ”المائدہ“ کے نزول میں شک کرو گے تو ہلاک ہو جاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میں نے اسی شرط پر” المائدہ“ نازل کیا تھا کہ جو اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ! اگر تُو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو ان کی بخش دے تو تُو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ “”المائدہ “نازل ہونے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ جتنا کھا سکو کھا لو۔ کل کے لئے بچا کر نہ رکھنا۔ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بہکانا شروع کیا اور وہ لوگ بہکاوے میں آکر دوسرے دن کے لئے چھپا کر رکھنے لگے۔ کیوں کہ” المائدہ“ ایک دن نازل ہوتا تھا اور ایک دن نازل نہیں ہوتا تھا۔ جب بنی اسرائیل کے لوگ آپ علیہ السلام کے حکم کی نافرمانی کر نے لگے تو اللہ تعالیٰ نے” المائدہ “کا نزول بند کر دیا۔

٭ عام بنی اسرائیل کو علماءکے فریب سے خبردار کرنا 

 بنی اسرائیل کے علماءنے عام بنی اسرائیل کو بہت بری طرح گمراہ کر رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عام بنی اسرائیل کو سمجھاتے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ فقیہہ اور مفتی اور علماءحضرت موسیٰ علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہیں پس جو کچھ وہ تم کو بتائیں وہ کرو۔ لیکن جو کام وہ کرتے ہیں تم وہ مت کرو۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں ہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ تم لوگوں پر ڈال دیتے ہیں۔ جس کا اٹھانا بہت مشکل ہے۔ مگر خود اسے اٹھانے کے لئے انگلی بھی نہیں ہلانا چاہتے ۔ وہ سب کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ اپنے تعویذ بڑے بناتے ہیں،اپنی پوشاک چوڑی رکھتے ہیں اور دعوتوں میں صدر نشینی کرتے ہیں۔ اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ بازاروں میں تم سے سلام کرواتے ہیں اور اپنے آپ کو ربّی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام علماءکی ریا کاریوں پر ٹوکتے تھے 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ریا کار اور فریبی علماءکو بھی سمجھاتے تھے اور ان کی چالبازیوں اور مکر و فریب پر ٹوکتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جو حکم توریت میں تھے اُن پر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ علیہ السلا م فرماتے تھے؛” اے یاکار فقیہو اور علماء!تم پر افسوس ہے کہ تم آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو۔ ( یعنی توریت میں جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہو۔) نہ خود داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو اور علمائ! تم پر افسوس ہے کہ ایک مُرید کرنے کے لئے بحر و بر کا دورہ کرتے ہو۔ اور جب وہ تمہارا مرید بن جاتا ہے تو اسے دوگنا دوزخ کا حقدار بنادیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہواورعلمائ!اے اندھے راستے بتانے والو!تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ تم پر افسوس ہے۔ تم سفیدی پھیری ہوئی کی قبروں کی طرح ہوجو اوپر سے خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر اندر سے مردوں کی ہڈیاں اور نجاست بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تم لوگ بھی اسی طرح لوگوں کو نیک دکھائی دیتے ہو۔ مگر اندر سے تم میں مکاری ، ریاکاری اور بے دینی بھری ہوئی ہے۔“ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف بنی اسرائیل کے علماءکی سازش

بنی اسرائیل کے علماءاور فقیہ پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف تھے۔کیوں کہ آپ علیہ السلام کی تعلیمات کی وجہ سے علماءاور فیقہوں کو اپنی دکان بند ہوتی نظر آرہی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی عوام کو علماءکی چالبازیوں اور فریب کاریوں کے بارے میں بتانا شروع کیا تو بنی اسرائیل کے تمام علماءنے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بند ی شروع کر دی۔ وہ اپنے دوغلے کردار کے بے نقاب ہونے اور مکاریوں پرپڑے پردے کو اٹھتے ہوئے کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام علماءآپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کو خاموش کریں۔ اس وقت بنی اسرائیل پر رومی قابض تھے۔ بنی اسرائیل کے علماءنے اپنے شاگردوں کے ساتھ رومی خفیہ پولس کو یہ کہہ کر آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا کہ آپ علیہ السلام عوام کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچ کر پوچھا۔اے استاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے ہیں اور سچائی سے اللہ کی راہ کی تعلیم دیتے ہیں اور کسی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ہمیں بتائیے کیا قیصر ( سلطنت ِ روم کا بادشاہ کا لقب) کو جزیہ دینا جائز ہے؟ آپ علیہ السلام اُن کی شرارت فوراً سمجھ گئے اور فرمایا؛” اے مکارو!مجھے کیوں آزماتے ہو؟جزیہ کا سکہ مجھے دکھاﺅ انھوں نے سکہ دیا تو آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اس سونے کے سکے پر صورت اور نام کس کا ہے ۔انھوں نے جواب دیا قیصر کا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛” جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دے دو۔ اور جو اللہ کا ہے وہ اللہ کو ادا کردو۔“ یعنی قیصر کا نام اور صورت اسے واپس کر دو۔ اور سونا اللہ کے راستے میں خرچ کردو۔ اس طر ح بنی اسرائیل کے علماءکا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں