07 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام
سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر07
یاہو سلطنت سامریہ کا بادشاہ
حضرت یسع علیہ السلام سلطنت سامریہ میں آکر پھر سے بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے۔ بادشاہ یہورام بن اخی اب اپنی ماں ایزبل کے کہنے پر آپ علیہ السلام سے دشمنی رکھتا تھا۔ لیکن کھل کر آپ علیہ السلام کی مخالفت نہیں کرتا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے ماننے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ اور وہ طاقتور بھی تھے۔ ادھر سلطنت یہودیہ پر یہورام بن یہو سفط کی حکومت تھی۔ جو سلطنت سامریہ کے بادشاہ کا بہنوئی تھااور ایزبل کا داما د تھا۔ اس کے ذریعے ایزبل نے سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی شروع کروادی تھی۔ یہورام بن یہو سفط نے آٹھ 8سال حکومت کی۔ اسکے دور حکومت کے آخری دنوں میں ادوم کے بادشاہ نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا۔ یہورام بن یہو سفط نے اپنے سالے یہو رام بن اخی اب کو مدد کےلئے بلایا۔ لیکن اس کے آنے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیااور اس کی جگہ اس کا بیٹا اخزیاہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔ یہورام بن اخی اب اپنے بھانجے کی مدد کےلئے فوج لے کر آیا اور ادوم کے بادشاہ کو شکست دے دی۔ اسکے بعد وہ سلطنت سامریہ واپس آگیا۔ لیکن ایک سال بعد ارام کے بادشاہ حزائیل نے سلطنت سامریہ پر حملہ کر دیا اور بنی اسرائیل کا قتل عام شروع کر دیا۔ یہورام بن اخی اب کو اس حملے کی خبر ملی تو لشکر تیار کر کے آگے بڑھا اور اپنے بھانجے سلطنت یہودیہ کے بادشاہ اخزیاہ کو بھی مدد کے لئے بلایا۔ ادھر حزائیل سلطنت سامریہ کے علاقوں پر قبضہ کر تے اور بنی اسرائیل کا قتل عام کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ جب وہ رامات جلعاد پہنچا تو اس کا سامنا یہورام بن اخی اب کے لشکر سے ہوا۔ دونوں میں مقابلہ چل رہا تھا کہ چند دنوں بعد اخزیاہ بھی لشکر لے کر پہنچ گیا اور ان دونوں نے مل کر اتنا شدید حملہ کیا کہ حزائیل کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ لیکن اس مقابلے میں یہورام بن اخی اب اتنا شدید زخمی ہو گیا کہ سفر کرنے کے قابل نہیں رہا۔ حزائیل تو ارام واپس چلا گیا۔ لیکن یہورام بن اخی اب اپنے زخموں کے اچھے ہونے کے انتظار میں وہیں رکا رہا۔ اور خزیاہ بھی اپنے ماموں کے پا س وہیں رک گیا تھا۔ ادھر حضرت یسع علیہ السلام نے یاہو بن یہو سفط بن عمسی کو مسح کیا اور اس کی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ یاہو بن یہوسفط آپ علیہ السلام کے پیرو کار وں میں سے تھا۔ اور اللہ پر ایمان رکھتا تھا۔
ایزبل کا قتل اور بت پرستی کاخاتمہ
حضرت یسع علیہ السلام نے یاہو بن یہوسفط بن عمسی کو بادشاہ بنانے کے بعد فرمایا کہ تمہارا سب سے پہلا کام بنی اسرائیل میں بت پرستی کا خاتمہ کرنا ہے۔ حضرت یسع علیہ السلام کے پیرو کار اس کے ساتھ تھے۔ وہ رامات جلعاد گیا اور یہورام بن اخی اب اور اخزیاہ بن یہورام یعنی دونوں ماما بھانجے کو قتل کر دیا۔ بنی اسرائیل کے تمام فوجی اس کے ساتھ ہو گئے اور وہ سلطنت سامریہ کی راجدھانی سامریہ میں آیا۔ اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ جب وہ شاہی محل کے پاس اپنی فوج لے کر پہنچا تو ایزبل بن سوز کر محل کے جھروکے میں آکر یاہو کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ تا کہ وہ متاثر ہو کر اسے اپنی ملکہ بنا لے۔ یاہوبن یہو سفط جانتا تھا کہ بنی اسرائیل کو بعل کی پوجا میں اسی نے مبتلا کیا ہے۔ اس لئے اس نے ایزبل کے پیچھے کھڑے خواجہ سراﺅں کو اشارہ کیا تو انہوں نے ایزبل کو جھروکے سے نیچے پھینک دیا۔ وہ گزرتے ہوئے فوجیوں کے گھوڑوں کے درمیان گری اور بہت بری طرح سے کچلی گئی۔ یاہو بن یہو سفط نے محل میں رہائش اختیار کر لی اور اخی اب کے پورے خاندان والوں کو قتل کر دیا تا کہ بت پرستی کی جڑ ہی کٹ جائے۔ اس کے بعد اس نے سلطنت سامریہ میں بعل کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔ اور تمام مندروں کو بھی مسمار کروادیا۔ شاہی مندر کو بھی توڑ ڈالا اور وہاں بیت الخلاءبنا دیا۔ اور بعل کی پوجا کرنے والے تمام پجاریوں کو چن چن کر قتل کر وادیا۔ کسی بھی مندر کا کوئی بھی پجاری زندہ نہیں بچا۔ اس کے بعد یاہو بن یہوسفط نے اعلان کروادیا کہ سلطنت سامریہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو گی اس طرح بنی اسرائیل میں بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا۔
عتلیاسلطنت یہودیہ کی حکمراں
حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے یاہو بن یہو سفط نے سلطنت سامریہ میں بت پرستی کا خاتمہ کردیا تھا۔ لیکن بادشاہ بننے کے بعد وہ دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گیا اسی لئے اس نے اسلامی حکومت قائم نہیں کی۔ بلکہ بادشاہی حکومت چلاتا رہا۔ سلطنت سامریہ پر اس نے توریت کے احکامات نافذ نہیں کئے۔ اور اپنے بنائے ہوئے قوانین نافذ کئے۔ ہاں اتنا ضرور اس نے کیا بت پرستی نہیں ہونے دی۔ ادھر سلطنت یہودیہ میں اخزیاہ بن یہورام کو یاہو بن یہو سفط نے قتل کر دیا تھا تو اخزیا ہ کی ماں عتلیا نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا تھا۔ اورسلطنت یہودیہ کی حکمراں بن گئی تھی۔ اس نے پورے شاہی خاندان کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ۔ یہاں تک کہ اپنے پوتے یہو آس کو بھی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن عتلیا کی بیٹی نے اپنے بھتیجے کو چھپا کر دایہ کے حوالے کیا۔ اور اسے حکم دیا کہ سیدھے ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) لے جاﺅ اور وہاں کے سب سے بڑے کاہن بنی اسرائیل کا سب سے بڑا عالم یا امام)کے حوالے کر دو۔ اور اپنی ماں عتلیا سے کہا کہ تیرے پوتے یہوا ٓس کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کے کاہن یہویدع نے یہو آس بن اخزیا کو بیت المقدس کے ایسے حجرے ( کمرے ) میں رکھا جہاں کوئی بھی نہیں جاتا تھا۔ اور صرف یہو یدع ہی جاتا تھا۔ اس طرح عتلیا سلطنت یہودیہ پر حکمرانی کرتی رہی اور چھ سال گزر گئے ان چھ سالوں میں یہو آس بیت المقدس میں چھپا رہا۔
یہو آس بن اخزیا ہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ
حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے سلطنت سامریہ ( اسرائیل) میں تو بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ لیکن سلطنت یہودیہ میں عتلیا کی حکمرانی میں بعل کی پوجا کی جارہی تھی۔ جب چھ سال گزر گئے اور یہو آس بن اخزیاہ بڑا ہو گیا تو حضرت یسع علیہ السلام نے بیت المقدس کے بڑے کاہن یہو یدع کو حکم دیا کہ اب یہو آس کو مسح کرو اور اسے سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا دواور اسے حکم دو کہ سلطنت یہودیہ میں بت پرستی کا خاتمہ کرے۔ یہ حکم سن کر یہو یدع نے حکومت کے تمام عہدے داروں ، وزیروں اور سپہ سالاروں کو ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) میں جمع کیا اور اعلان کیا کہ تمہارے بادشاہ کا بیٹا ابھی بھی زندہ ہے اور میں نے اسے حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ اب حکم آیا ہے کہ میں اس کا مسح کر کے اسے بادشاہ بنادوں تا کہ وہ سلطنت یہودیہ سے بت پرستی کا خاتمہ کر دے۔ تمام امرائ، وزراءاور سپہ سالاروں نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ہمارے بادشاہ کو سامنے لاﺅ۔ یہو یدع نے یہو آس بن اخزیاہ کو تاج پہنایا اور شاہی لباس پہنا کر باہر لایا۔ جسے دیکھ کر تمام امراءوزراء، سپہ سالار ، تمام بنی اسرائیل اور فوج نے زور دار نعرہ لگایا اور نر سنگھے پھونکے جانے لگے۔ عتلیا کو یہ آواز اپنے محل میں سنائی دی تو ہو حیران ہو ئی اور اپنے رتھ پر سوار ہو کر بیت المقدس آئی اور وہاں سب لوگوں کو جمع دیکھا اور یہو آس بن اخزیاہ کو بادشاہ بنے دیکھا تو سارا معاملہ سمجھ گئی اور زور سے چلائی، غداری ، مجھ سے غداری کی گئی ہے ۔ تمام سپہ سالاروں نے اس پر تلوار تان لی لیکن یہو یدع نے کہا یہ سب ہیکل پاک جگہ ہے۔ ا سلئے اسے چھوڑ دو اور ہیکل کے دروازے کے باہر قتل کرنا۔ اس کےلئے راستہ چھوڑ دیا گیا اور جب وہ بیت المقدس کے باہر آئی تو اسے قتل کر دیا گیا۔
سلطنت یہودیہ سے بت پرستی کا خاتمہ
حضرت یسع علیہ السلام کے حکم سے یہو آس بن اخزیاہ کو سلطنت یہو دیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد بڑے کاہن یہو یدع نے بادشاہ اور تمام امراء، وزراء، سپہ سالاروں ، فوجیوں اور تمام بنی اسرائیل سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور بت پرستی سے توبہ کریں۔ بادشاہ اور درباریوں اور تمام بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت اور بندگی نہیں کریں گے۔ اس کے بعد شاہی محل میں بادشاہ نے رہائش اختیار کر لی۔ یہو آس بن اخزیاہ سلطنت یہو دیہ کا بادشاہ بنا تو یاہو بن یہو سفط کو سلطنت سامریہ پر بادشاہت کرتے ہوئے چھ سال گزر چکے تھے۔ ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کا بڑا کاہن یہو یدع بادشاہ کی تعلیم و تربیت کر رہا تھا۔ اور اس کی ہدایت کے مطابق بادشاہ نے سلطنت یہودیہ میں بعل کے تمام مندروں اور بتوں کو تڑوادیا ۔ لیکن دور کے پہاڑی علاقوں میں چوری چھپے بت پرستی ہو رہی تھی۔ بہر حال مجموعی طور سے سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ لیکن یہو آس بن اخزیاہ نے توریت کے احکامات نافذ نہیں کئے اور اسلامی حکومت قائم نہیں کی، بلکہ اپنے بادشاہی قوانین نافذ کئے۔
ہیکل سلیمانی( بیت المقدس) کی تعمیری توسیع
حضرت یسع علیہ السلام کی عمر مبارک زیادہ ہو چکی تھی۔ اور آپ علیہ السلام کا وصال اسی بادشاہ یہو آس بن اخزیاہ کے دور حکومت میں ہوا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ ہم آگے کریں گے۔ یہو آس جب بادشاہ بنا تو اس کی عمر صرف سات سال تھی۔ وہ اپنے استاد یہو یدع کی ہدایات کے مطابق حکومت کر رہا تھا۔ اس طرح کہنے کو تو یہو آس کی حکومت تھی لیکن اس کی باگ ڈور بیت المقدس کے بڑے کاہن یہو یدع کے ہاتھ میں تھی۔ اس لئے یہو آس نے ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کی تعمیری تو سیع کا کام بہت کیا۔ اور ہیکل کو بہت مضبوط بنا دیا۔ اسی دوران ارام کے بادشاہ حزائیل نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا۔ اور جات پر قبضہ کر لیا۔ یہو آس نے اسے بہت سارا سونا اور تحفے تحائف اس کی خدمت میں دے کر صلح کر لی اور حزائیل جات کا علاقہ چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ ورنہ اس کا ارادہ یر وشلم پر بھی حملہ کرنے کا تھا۔یہو آس نے چالیس 40سال تک سلطنت یہودیہ پر حکومت کی۔
حضرت یسع علیہ السلام کا وصال
حضرت یسع علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب آچکا تھا۔ سلطنت سامریہ کا بادشاہ یاہو بن یہو سفط نے اٹھائیس 28سال تک حکومت کی۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یہو آخز بن یاہو سلطنت سامریہ ( اسرائیل یا اسرائیلیہ ) کا بادشاہ بنا۔ اس وقت تک سلطنت یہو دیہ کے بادشاہ یہو آس کو حکومت کرتے ہوئے بائیس22سال گزر چکے تھے۔ یاہو بن یہو سفط کے دور حکومت میں ارام کا بادشاہ مسلسل سلطنت سامریہ پر حملہ کرتا رہا اور یاہو اس کا مقابلہ کرتا رہا۔ یہو آخز بن یاہو جب بادشاہ بنا تو اس نے بھی حزائیل کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اور ارام کا بادشاہ حزائیل ایک ایک کر کے اس سے سلطنت سامریہ کے علاقے چھیننے لگا اس کی وجہ سے یہو آخز گھبرا گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا باپ یاہو ، حضرت یسع علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا اور اکثر ان سے حکومت کے معاملے میں مشورہ لیتا رہتا تھا۔ اور ان پر عمل کر کے کامیاب بھی رہتا تھا۔ اسی لئے وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ علیہ السلام مرض الموت میں مبتلا تھے۔ یہو آخز نے عرض کیا۔ آپ علیہ السلام میرے والد صاحب کو مناسب مشورے دیا کرتے تھے آج میں بھی مصیبت میں ہوں، اللہ کے واسطے مجھے مشورہ دیں میں کیا کروں۔ تب آپ علیہ ا لسلام ، یہو آخز کا سہار ا لے کر باہر آئے اور اس کے ساتھ اس کے رتھ پر سوار ہوئے اور حکم دیا کہ کھلے میدان میں چلو۔ سنسان علاقے میں آنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اپنا تیر کمان اٹھا اور مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول کر تیر چلا۔ یہو آخز نے رتھ کی مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول کر تیر چلایا۔ آپ علیہ السلام تیر کو جاتے اور زمین پر گرتے دیکھتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ تو ارام کے بادشاہ حزائیل پر حاوی ہو گیا۔ اس کے بعد فرمایا۔ اب زمین پر تیر چلاﺅ۔ یہو آخز نے زمین پر تین تیر چلائے اور پھر رک کر آپ علیہ السلام کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم زمین پر پانچ تیر چلاتے تو ہمیشہ کے لئے ارام کے بادشاہ حزائیل کو مکمل تباہ کر دیتے لیکن تم نے تین تیر چلائے اس لئے تین مرتبہ حزائیل کو شکست دو گے اور اس پر حاوی ہو گے۔ اس کے بعد وہ تم پر حاوی ہو جائےگا۔ یہ سن کر یہو آخز واپس چلا گیا اور حضرت یسع علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ یہو آخز نے سولہ 16سال سلطنت سامریہ پر حکومت کی پھر اس کا بھی انتقال ہو گیا۔ (ختم شدہ)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں