06 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 20
قسط نمبر 6
حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کی سادگی
حضرت یحییٰ علیہ السلام انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔اور بنی اسرائیل کو بھی اِسی کی تلقین کرتے تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے سورہ آل عمران اور سورہ مریم کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ6 مہینے بڑے تھے۔اُن کی والدہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ قریبی رشتہ دار تھیں۔تقریباً تیس سال کی عُمر میں آپ علیہ السلام نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرق اُردن کے علاقے میں دعوت الی اﷲ کا کام شروع کیا۔آپ علیہ السلام فرماتے تھے؛”میں بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔“مرقس کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں سے گناہوں کی توبہ کرواتے تھے اور توبہ قبول کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے۔یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہوجائیں۔سلطنت ِ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ اُن کے معتقد ہوگئے تھے اور اُن کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے۔اِسی بنا پر اُن کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا مشہور ہو گیا تھا۔عام طور سے بنی اسرائیل اُن کی نبوت کو تسلیم کر چکے تھے ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا قول تھا کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔آپ علیہ السلام اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا ۔اِس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی(قیامت) قریب آ گئی ہے۔وہ لوگوں کو روزے کی تلقین کرتے تھے ۔وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ”جس کے پاس دو قمیص ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو اُسے بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔“محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ہم کیا کریں ؟تو انہوں نے فرمایا ”جو تمہارے لئے مقرر ہے ،اُس سے زیادہ (یعنی رشوت)نہ لینا۔“سپاہیوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے کیا ہدایت ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ناحق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر ہی کفایت کرو۔“بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے(دنیا پرست )علماءفریسی اور صدوقی اُن کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا؛”اے سانپ کے بچو !تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟....اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے....اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے،پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی روایات
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن ہر روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا ہے۔بنی اسرائیل نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کردیا ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔دنیا میں صرف یہودی (بنی اسرائیل) ہی وہ بد ذات قوم ہے جس نے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔کُل چار سو (400) انبیائے کرام یا چار سوستر(470)یا صرف ستر(70)انبیاءعلیہم السلام شہید کئے گئے۔جن میں سے پانچ کا نام مشہور ہوا۔(1) یوشا (2) یسعیا یا شعیا(3) شعیب (4) زکریا (5) یحییٰ علیہم السلام۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوبھی انہوں نے قتل کرنا چاہا،مگر رب تعالیٰ نے ان کو آسمان پر بلا لیا۔آقائے کائنات سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اِن بد بختوں نے دو دفعہ شہید کرنے کی کوشش کی،مگر ناکام رہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی کچھ روایات ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بادشاہ کو منع کیا
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بد بخت بنی اسرائیلیوں نے شہید کیا ہے،پہلی روایت علامہ غلام رسول سعیدی ”البدایہ و النہایہ“کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیںکہ اُس زمانے میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اُس بادشاہ کو اِس کام سے منع کیا۔اِس وجہ سے اپس عورت کے دل میں آپ علیہ السلام کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔جب اُس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہو گئی تو اُس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیابادشاہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر کے اُن کا سر اُس عورت کے سامنے پیش کردیا۔کہاجاتا ہے کہ وہ عورت بھی اُسی ساعت مر گئی۔ایک قول یہ ہے کہ اُس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ علیہ السلام پر فریضة ہوگئی تھی ،اُس نے آپ علیہ السلام سے اپنی مقصد براری کرنا چاہی ،آپ علیہ السلام نے انکار کر دیا ۔جب وہ آپ علیہ السلام سے مایوس ہو گئی تو اُس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرایا اور اُن کا مبارک سر کاٹ کر ایک طشت میں لکھ کر اُس عورت کو پیش کر دیا۔
بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔”کیونکہ ہیرودیس نے اپنا آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب اسے قید خانے میں باندھ رکھا تھا ،کیونکہ ہیرودیس نے اُس سے نکاح کر لیا تھا۔اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں ہے۔پس ہیرودیاس اُس سے دشمنی رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ اُسے قتل کرائے ،مگر نہ ہوسکا۔کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اُس سے ڈرتا اور اُسے بچائے رکھتا تھااور اُس کی باتیں سن کر بہت حیران ہو جاتا تھا،مگر سنتا خوشی سے تھا۔اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور رئیسوں کی ضیافت کی اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی ۔اور ناچ کر ہیرودیس اور اُس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اُس لڑکی سے کہا ؛جو چائے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔اور اُس نے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے آدھی سلطنت بھی مانگے تو دے دوں گا۔اور اپس نے باہر آکر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں؟ اُس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔وہ فوراً بادشاہ کے پاس اندر آئی اور کہا کہ میں چاہتی ہو ں کہ تُو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔پس بادشا نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اُس کا سر لائے۔اس نے قید خانے میں جاکر اُس کا سرکاٹا اور ایک تھال میں لاکر لڑکی کو دے دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔پھر اُس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اُٹھا کر قبر میں رکھی۔
جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی ایک اور روایت میں امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن زبیررضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے اپنے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“اُس عورت نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیا ۔بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی طرف اپنے سپاہی بھیجے ۔آپ علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ اُن سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کا سر تن سے جدا کیا اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے ۔اُس وقت بھی وہ سر کہہ رہا تھا؛”جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں؛وہ عورت جس نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو شہید کرایا تھا ۔وہ بادشاہت کی اپنے آباءسے وارث ہوئی تھی ،اُس کے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر لایا گیا تو وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھی تھ۔آپ علیہ السلام کے سر سے آواز آئی ؛”اے زمین !اِس عورت کو نگل جا ۔“پس زمین اس عورت کو شاہی تخت سمیت نگل گئی۔
قاتل بادشاہ کا انجام
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے ایک عورت کے کہنے پر شہید کروا دیا تھا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اسے اور بنی اسرائیل کو سزا دی۔کیونکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بھی آپ علیہ السلام کو شہید کر دینا چاہتی تھی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا واقعہ اِس طرح ہے کہ ہیرودیس یہودی( اسرائیلی بادشاہ)اپنی سگی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔اُس کی بیوہ بھابھی بھی اِس پر لالچ میں آکر راضی تھی اور یہ بیوہ عورت اپنے خاوند کی موت کے بعد فاحشہ و کافرہ بھی ہو چکی تھی۔لیکن شریعت ِ توریت اور شریعت ِ زکریا و یحییٰ علیہم السلام میں یہ نکاح قطعاً حرام تھا ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام سختی سے منع فرماتے تھے ۔بیوہ بھابھی نے مشورہ دیا کہ اُن کو قتل کر دیا جائے ۔ہیرودیس نے جوش عشق میں ایک آدمی کو مقرر کر دیا کہ جب رات کو آپ علیہ السلام بیت المقدس میں اپنی عبادت میں مشغول ہوں تو خفیہ انداز سے اُن کو قتل کر دینا اور سر کاٹ کر میرے پاس لے آنا۔چند دن بعد اُس ظلم کافر نے آپ علیہ السلام کو رات میں سجدے کی حالت میں چہید کر دیا اور سر کاٹ کر بادشاہ کے پاس لایا۔بادشاہ نے وہ سر اپنی فاحشہ بھابھی کے پاس بھیج دیا۔اُس بیوہ کا نام نفرہ تھا ۔اپنے بالا خانے سے اُتر کر خوشی خوشی نیچے آرہی تھی کہ سیڑھیوں سے پاو¿ں پھسلا ،جس سے دماغ پھٹا اور وہ وہیں مر گئی اور قدرت ِ خداوند ی سے زمین میں دھنستی چلی گئی تھی۔اور آپ علیہ السلام کا سر مبارک بھی ساتھ ہی دھنس گیا ۔اس کی بیٹی یعنی ہیرودیس کی سگی بھتیجی فخرہ نامی کو اسی (80) یا نوے (90) دن بعد جنگل میں جاتے ہوئے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا ۔وہ اُس کے زہر سے تیسرے دن مر گئی ۔ہیر ودیس پر بخت نصر بادشاہ نے حملہ کر کے شکست دی اور قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔روزآنہ اُس کو اپنے غلاموں کے ذریعے کوڑے لگواتا تھا اور ذلیل کرنے کے لئے لونڈیوں سے سر پر جوتے لگواتا۔بھوکا رکھتا تھا ،جب وہ روتا بلبلاتا ،تب تھوڑا کھانا پانی دیتا۔اسی حالت میں نہایت ذلت آمیز ذخمی پیپ اور پھوڑوں کی حالت میں وہ کپڑے نہیں پہن سکتا تھا۔ننگا ایک کمرے میں پڑا رہتا ۔ایک سال بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔خود کہتا تھا کہ میری اور میرے خاندان کی یہ ذلت آمیز تباہی بربادی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے ۔
بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب
حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے شہید کر دیا۔اِس پر اﷲ کا غضب اُن پر بھڑکا۔اِس سے پہلے حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب بھڑکا تھااور اُس وقت کے بخت نصر نامی بادشاہ نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیا تھا۔اِ سکا ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت شعیا اور حضرت ارمیاہ علیہم السلام “میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔اُس وقت جس بادشاہ نے حملہ کر کے غلام بنایا تھا ۔اُس کا نام بھی بخت نصر تھااور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جس بادشاہ نے حملہ کیا اُس کا نام بھی بخت نصر تھا۔(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بابل کے بادشاہوں کا لقب ”بخت نصر“ہوتا ہوگا)مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔بخت نصر نے ایک دن میں ستر ہزار بنی اسرائیل قتل کروائے،بیت المقدس میں توڑ پھوڑ کی ،آگ لگوائی اور بقیہ تمام بنی اسرائیلی حکومتوں کو برباد کیا اور سب بنی اسرائیل کو قیدی بنا لیا۔لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کے گلے سے خون نکلنا بند نہیں ہوتا تھا۔اور بنی اسرائیل جانتے تھے کہ جب تک یہ خون بند نہیں ہوگا بنی اسرائیل کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہے گا۔اِسی لئے اُس دور کے ایک ولی اﷲ جو آپ علیہ السلام کی اُمت کے ہی ولی تھے ۔حضرت ارسیاہ رضی اﷲ عنہ ،اُن سے لوگوں نے عرض کیا کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدن سے خون بند نہیں ہو رہا ہے۔ اور جب تک خون بند نہیں ہوگا تب تک دفن نہیں کیا جاسکتا ۔اور نہ ہی بخت نصر کے حملے و قتل عام بند ہو سکتا ہے۔دمشق(فلسطین) تمام فتح ہوچکا تھا ،ظلم کا بازار گرم تھا ،بنی اسرائیل کی تمام بد معاشیاں فنا ہو چکی تھیں۔تب حضرت ارسیاہ نے جسم ِ مبارک کے عرض اور التجا کی کہ اے خون اب بند ہوجا۔بہت قتل عام و ذلت ہو چکی ہے ،تو خون بند ہوا۔اِن ہی یہودیوں نے تقریبا ً پچیس سال پہلے ولادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے دنوں میں حضرت زکریا علیہ السلام کی تبلیغ دین و ایمان اور شریعت کی پابندیوں سے تنگ آکر ایک بری تہمت لگا کر آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا تھا۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی شہادت یا وفات
حضرت زکریا علیہ السلام کے انتقال یا شہادت کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا انتقال یاشہادت حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت سے پچیس سال پہلے ہوچکا تھا۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب بادشاہ کا محل زمین میں دنس گیاتو تمام بنی اسرائیل نے حضرت زکریا علیہ السلا م کو قتل کرنے کے لئے گھیر لیا تو آپ علیہ السلام بھاگے اور جنگل میں ایک درخت پھٹا اور آپ علیہ السلام اُس میں چھپ گئے۔لیکن کپڑے کا کونہ درخت کے باہر رہ گیا ۔جسے پہچان کر بنی اسرائیل نے درخت کے ساتھ آپ علیہ السلام کو چیر دیا۔لیکن یہ روایت بڑی عجیب لگتی ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس پر شدید جرح کی ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کوہی ہے۔واﷲ و اعلم۔
اگلی کتاب
حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں