جمعرات، 8 جون، 2023

06 حضرت یونس اور حضرت حزقیل Story of Prophet Yunis and Hazqeel علیہم السلام



06 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 6

حضرت حزقیل علیہ السلام 

حضرت حزقیل علیہ السلام کا زمانہ

حضرت حزقیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں،اِس پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے۔لیکن اُن کے زمانے کے متعلق اختلاف ہے،کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام مبعوث ہوئے۔اور پھر اُن کے بعد لگ بھگ چارسو ساٹھ(460)سال تک بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔پھر اﷲ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔اور حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا ہے۔چونکہ ہم بھی حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کر رہے ہیں۔اِس لئے یہاں ہم آپ کی خدمت میں پہلے بنی اسرائیل کے حالات بیان کریں گے ،پھر انشاءاﷲ حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔

بنی اسرائیل میں تفرقہ

اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد تفرقہ پڑ گیا تھا۔اور حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ایک حکومت کا نام ”سلطنت یہودیہ “تھا،اور دوسری حکومت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ “تھا،جس کانام بعد میں بدل کر ”سلطنت سامریہ “رکھ دیا گیا تھا۔حضرت الیس علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ“ کا تفصیل سے ذکر کیا تھا ۔کیونکہ حضرت الیاس علیہ السلام کا زیادہ وقت ”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “میں گزرا تھا۔،اور بہت کم وقت ”سلطنت یہودیہ “میں گزرا تھا۔اِسی لئے ہم نے سلطنت یہودیہ کا ذکر کم کیا تھا۔یہاں ہم انشاءاﷲ ’[سلطنت یہودیہ “کا ذکر تفصیل سے کریں گے ۔اور اگر آپ کو ’[سلطنت اسرائیل یا سامریہ “کے تفصیلی حالات دیکھنے ہوں تو آپ ہماری کتاب ”حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام “کا مطالعہ کریں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔اِسی لئے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا،یہ بہت ہی نااہل اور مطلب پرست تھا۔بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس،بیت اللحم ،غزہ (غازہ)صور اور ایلہ کی عمارتو ں کی توسیع کی۔لیکن وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگاتھا،اور اُن پر بہت زیادہ ٹیکس لاد دیئے تھے۔بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میںکمی اور رعایت کی مانگ کی تو اُس نے رعایت کرنے کے بجائےٹیکس اور زیادہ بڑھا دیئے۔جس کی وجہ سے عوام یعنی بنی اسرائیل اُس سے بد ظن ہو گئے،اور اکثریت اُس کے خلاف ہو گئی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور ِنبوت اور حکومت میں ”بیت المقدس“(یروشلم)سلطنت کا مرکذ تھا،رجعام کے وقت بھی یہی مرکذتھا۔لیکن اُس کے دور ِ حکومت کے درمیان ہی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ہوا یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں اُن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے آپ علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تھی۔جسے آپ علیہ السلام نے سختی سے کچل دیا تھا،اُس باغی کا نام یُربعام بن نباط تھا۔وہ جان بچا کر ملک مصر بھاگ گیاتھا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال تک وہیں رہا۔لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رجعام سے بد ظن ہو گئے ہیں تو وہ” ملک کنعان “واپس آیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فلسطین،لبنان،اُردن اُس وقت ملک کنعان میں آتے تھے۔بعد میں ملک کنعان ختم کر دیا گیا،اور یہ علاقے ”ملک شام“میں ضم ہو گئے۔پھر یہودیوں اور عیسائیوں نے انہیں الگ الگ ملکوں کی شکل دے دی۔)اور بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنا لیا،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔رجعام ”بیت المقدس“اور آس پاس کے علاقوں کا حکمراں تھا،اور بنی اسرائیل کے صرف دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر اُس کی حکومت تھی۔اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت یہوداہ یا یہودیہ “رکھا۔اور بقیہ فلسطین،لبنان ،اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوںپر یُربعام بن نباط کی حکومت تھی۔اور اُس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“رکھا،جو آگے چلکر ”سلطنت سامریہ“کے نام سے مشہور ہوئی۔اب یہ حالت ہو گئی تھی کہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے تھے،اور دو حکومتیں چل رہی تھیں۔

بنی اسرائیل میں بت پرستی

اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ہر حال میں صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔لیکن بنی اسرائیل (یہودی) اتنے بدبخت ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بُت بنادیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ڈانٹا تو وہ خاموش بیٹھ گئے تھے۔لیکن جب آپ علیہ السلام چالیس دنوں کے لئے “کوہ طور“پر توریت لانے کے لئے تشریف لے گئے تو یہ بد بخت بنی اسرائیل چالیس دن بھی صبر نہیں کر سکے تھے۔اور سامری نے بچھڑے کا بُت بنایا تو یہ اُس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ایسا ہی معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد پیش آیا۔اور یربعام بن نباط نے سونے کے دو بچھڑوں کے بُت بنوائے،ایک کا ”بیت ایل“میں مندر بنوایا،اور دوسرے کا بنو دان کے علاقے میں مندر بنوایا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرئیلیہ “کے بنی اسرائیل اِن بتوں کی پوجا کرنے لگے۔اُن کے اثرات سلطنت یہودیہ میں بھی پڑے ،اور وہاں بھی بُت پرستی ہونے لگی۔

ایبا سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل“ہے ،اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ”بنی اسرائیل“کہلائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر حضرت یوشع علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل متحد رہے۔پھر اُن میں پھوٹ پڑ گئی،اس کے سینکڑوں برس بعد حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل متحد ہو گئے تھے۔لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بکھر گئے۔سلطنت یہودیہ کے حکمراں رجعام کی حکومت کے پانچویں سال میں ملک مصر کے بادشاہ سیسق نے یروشلم(بیت المقدس) پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی اور شاہی محل کے سارے خزانے لوٹ کر لے گیا۔جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنوائی ہوئی دو سو سونے کی ڈھالیں بھی بھی تھیں۔رجعام نے اُن کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنوایں ،اور اُن کی جگہ رکھوا دی۔اُدھر یُربعام نے سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ پر آرام سے حکومت کر رہا تھا۔ملک مصر کا بادشاہ سیسق اُس کا دوست تھا،اور اُسی کے اُکسانے پر اُس نے سلطنت یہوداہ یا یہودیہ پر حملہ کیا تھا۔رجعام اور یُربعام میں اکثر جنگ ہوتی تھی ،اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل مرتے تھے۔رجعام نے سترہ (۷۱) سال حکومت کی ،اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ایبا بن رجعام سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔اپنے باپ رجعام کی طرح ایبا بھی ظالم اور نااہل تھا۔اُس کی بیوی بُت پرست تھی،اور اُس کی وجہ سے ایبا بھی بُت پرستی میں مبتلا ہو گیا۔اور سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بادشاہ یُربعام کی طرح اُس نے بھی سلطنت یہودیہ میں بتوں کی پوجا شروع کرواد ی۔اِس طرح بنی اسرائیل کی دونوں سلطنتوں میں بُت پرستی ہونے لگی۔

آسا سلطنت یہودیہ کا بادشاہ 

بنی اسرائیل میں دو متوازی سلطنتیں چل رہیں تھیں،پہلی سلطنت یہودیہ جو بنی اسرائیل کے دو قبیلوں بنو یہودا اور بنو بن یامن پر مشتمل تھی۔اور دوسری سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ جو بنی اسرائیل کے دس قبیلوں پر مشتمل تھی۔سلطنت اسرائیل یا اسرائیلہ کے تفصیلی حالات ہم نے ”حضرت الیا س علیہ السلام “کے ذکر میں بیان کئے ہیں۔اگر آپ وہ حالات جاننا چاہتے ہیں تو ہماری کتاب”حضرت الیس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام “کا مطالعہ کریں۔یہاں ہم صرف سلطنت یہوداہ یا یہودیہ کے تفصیلی حالات بیان کریں گے۔ایبا بن رجعام نے صرف تین سال حکومت کی،اور اُس کا سب سے بُرا کام یہ تھا کہ اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی رائج کر دی تھی۔اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا سلطنت یہادیہ کا بادشاہ بنا۔جس وقت یہ بادشاہ بنا تو اُس وقت یربعام کو سلطنت اسرائیل پر حکومت کرتے ہوئے بیس سال ہو چکے تھے۔آسا نے بُت پرستی کا خاتمہ کردیا۔آسا بن ایبا ایک نیک اور اچھا انسان تھا۔اُس نے سلطنت یہودیہ میں بُت پرستی کا خاتمہ کیا،اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات نافذ کئے ۔اُس کے دادا رجعام اور باپ ایبا کے دورِ حکومت میں جنس پرستوںکا بہت زور ہو گیا تھا۔آسا نے انہیں ملک بدر کر دیا ،اور جو نہیں گئے انہیں قتل کردیا۔سلطنت یہودیہ کے تمام مندروں اور بتوں کو توڑ دیا،اور اﷲ کی حکومت کا اعلان کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ایبا بُت پرست انسان تھا ،وہ اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتا تھا۔اور لوگوں کو بھی اُن کی پوجا کی طرف بلاتا تھا،جس کی وجہ سے بنی اسرائیل کے اکثر لوگ گمراہ ہوئے تھے۔وہ موت تک بتوں کی پوجا کرتا رہا،اُس کے بعد اُس کا بیٹا آسا بن ایبا بادشاہ بنا تو اُس نے اعلان کرایا کہ کفر اپنے ماننے والوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔بتوں کو توڑ دیا گیا،اور ایمان اپنے پیرو کارںوں کے ساتھ زندہ ہوگیا۔اور اﷲ کی اطاعت نظر آنے لگی ۔ اُس نے اعلان کیا کہ آج سے کوئی کافر میری حکومت میں سر اُٹھائے گاتو میں اسے قتل کردوں گا۔آسمان سے آگ اور پتھروں کی بارش اُس وقت ہوتی ہے ،جب اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ترک کر دی جائے ،اور اُس کی نافرمانی عام ہوجائے ۔اِس لئے اب ہمیں اﷲ کی نافرمانی پر قائم نہیں رہنا چاہیئے،اور اُس کی اطاعت مقدور بھر کرنی چاہیئے۔تاکہ زمین نجاست سے پاک اور گند گیوں سے صاف ہو جائے۔اﷲ کی قسم !جو ہماری مخالفت کرے گا،ہم اُس کے ساتھ جہاد کریں گے،اور اپنے شہر سے نکال دیں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......,


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں