ہفتہ، 17 جون، 2023

06 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


06 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 06

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں 

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) !میں نے آسمانوں اور زمین بنانے کے دن سے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو میری عبادت کرے گا اور تم ماں بیٹا کے بارے میں وہی کہے گا جو میں کہتا ہوں( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور ایک انسان ہیں) تو میں جنت میں اسے تیری پڑوسی ، درجات میں تیرا رفیق اور کرامت میں تیرا شریک بنا دوں گا۔اور میں نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو تجھ کواور تیری والدہ طاہرہ مریم کو ( نعوذ باللہ ) خدا بنائے گا تو میں اسے دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں پھینکوں گا۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی میں نے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ میں اس فرق کو اپنے بندے” محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم “کے ذریعے ثابت کروں گا“

انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت 

اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ؛” میں اپنے اُس بندے” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دوں گا۔ وہ” خاتم النبیّن “ہو گا۔ اس کی پیدائش کی جگہ مکہ¿ مکرمہ ہوگی۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہجرت فرمائے گا۔ اور ملک شام تک اس کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ وہ نہ بد خو ہو گا اور نہ ہی ترش رو ہوگا۔ اور نہ ہی بازاروں میں شور کرنے والا ہوگا۔ اور نہ ہی بری بات کو خوب صورت انداز میں بیان کرے گا۔ نہ کسی سے بدکلامی کرے گا میں ہر خوب صورت اور بہترین کام کی طرف اس کی راہنمائی کروں گا۔ اور اس کو بہترین اخلاق سے نوازوں گا۔ میں تقویٰ کو اس کا ضمیر بناﺅں گا۔ حکمت کو اس کی عقل بناﺅں گا۔ وفا کو اس کی طبیعت میں رکھوں گا۔ عدل کو اس کی سیرت بناﺅں گا۔ حق کو اس کی شریعت اور اسلام کو اس کا دین بناﺅں گا۔ اور اس کا نام” احمد صلی اللہ علیہ وسلم“ ہوگا۔ میں اس کے ذریعے گمراہی کے بعد ہدایت کو عام کردوں گا۔ جہالت کے بعد علم و مغفرت کو اس کے ذریعے پھیلاﺅں گا۔ اس کے ذریعے تنگدستی کے بعد فراخی اور غناءاور ذلت کے بعد بلندی عطا کروں گا۔ میں اس کے وسیلے سے لوگوں کو ہدایت دوں گا۔ اس کے ذریعے سے بہرے کانوں کو سنواﺅں گا اور غافل دلوں کو بیدار کر وں گا۔ اور ہوا و ہوس کی گندگی کو دور کروں گا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بشارت اور خوبیاں 

اللہ تعالیٰ اس کے بعد آگے فرماتا ہے؛” میں اس کی اُمّت کو بہترین اُمت بناﺅں گا۔ جو نیکی کا حکم کرے گی۔ اور برائی سے روکے گی۔ اِس اُمت کے لوگوں کا عمل خالص میرے لئے ہوگا۔ وہ پہلے کے رسولوں اورنبیوں کی تعلیمات کی تصدیق کریں گے۔ میں انھیں الہام کروں گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں اپنی مجلسوں میں اور اپنے گھروں میں میر ی تسبیح اور میری حمد کریں گے۔ وہ صرف میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر اور سجدہ اور رکوع کر کے میری عبادت کریں گے۔ میرے لئے صفیں باندھ کر لڑیں گے۔ اور لشکروں کی صورت میں قتال کریںگے۔ اُن کی قربانی خون بہانا ہو گی۔ ( پہلے کی امتوں کی قربانی یہ تھی کہ وہ اپنی قربانی ایک اونچی جگہ رکھ دیتے تھے جس کی قربانی قبول ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آکر اُس قربانی کو کھا جاتی تھی) اُن کی کتاب ( قرآن پاک) اُن کے سینوں میں ہوگی۔ اور ان کے دل نیکی سے معمور ہوں گے۔ راتوں کو راہب (عبادت کرنے والے ) ہوں گے۔ اور دن میں شیر ( اللہ کے لئے لڑنے والے) ہوں گے۔ یہ میرا فضل ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔ اور میں ”فضل عظیم“ کا مالک ہوں۔“

رسول اللہ ﷺ کے آنے کی بشارت دی 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الصف کی آیت نمبر6اور7میں فرمایا ؛ترجمہ” اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا؛ اے بنی اسرائیل !میں تمہاری طرف اللہ کا ( بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ میں تو ریت کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور ( میں تم کو) بشارت دیتا ہوں۔ ایک رسو ل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے۔ اُن کا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہو گا۔ پس جب وہ (احمد صلی اللہ علیہ وسلم) اُن کے پاس ( بنی اسرائیل یعنی مدینہ منورہ کے یہودیوں کے پاس) روشن نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹے بہتان لگائے۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ( سورہ الصف آیت نمبر 6اور7) یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ان بدبخت بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلایا تھا۔ اور ان کے دشمن بن گئے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کی اپنی سمجھ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انتہائی دردناک موت سے ہمکنار کر وایا۔ یعنی صلیب پر چڑھوادیا۔ اسی پر بنی اسرائیل نے بس نہیں کیا اور ان بدبختوں نے جن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا انھیں کی بات مان کر اس” آخری رسول احمدصلی اللہ علیہ وسلم “کا بے چینی سے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لگ بھگ پونے چھ سو برس بعد” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “تشریف لائے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی تو ان بدبختوں نے وہی روش اختیا ر کی جو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ کی تھی ۔ بنی اسرائیل نے قرآن پاک کو نعوذ باللہ جادو کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف صاف پہچان لینے کے باوجود جھٹلایا اور دشمنی بھی کی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ ایک مرتبہ اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑا پتھر گرا کر مارنا چاہااور دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ لیکن دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”مگر جب عیسیٰ(علیہ السلام) نے اُن کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے ؛اﷲ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی راہ کے مدد گار ہیں۔ہم اﷲ پر ایمان لائے اور آپ(علیہ السلام) گواہ رہیئے کہ ہم تابعدار ہیں۔اے ہمارے رب!ہم تیری اُتاری ہوئی وحی(انجیل)پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی ،پس تُو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 52اور 53)حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلسل بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے ۔ اُن کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت آپ علیہ السلام کو جھٹلاتی رہی۔ لیکن کچھ نیک اور سلیم الفطرت لوگ بھی بنی اسرائیل میں تھے۔ ان لوگوں نے آپ علیہ السلا م پر نہ صرف ایمان لائے بلکہ آپ علیہ السلام کی مدد بھی کی۔ ان میں آپ علیہ السلام کے بارہ حواری قابل ذکر ہیں۔ کیو نکہ یہ بارہ حواری ہر وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے نام پطرس ، یعقوب بن زبدی ، یعقوب کا بھائی یوحنا ، اندریاس ، فلپس ، ابر تلمائی، متیٰ ، توماس ، یعقوب بن حلفائی ، تدواس ، شمعون قانوی اور یہودا ہے۔

” المائدہ “(آسمانی دستر خوان) کا واقعہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ، کیا آپ کا رب (اللہ تعالیٰ) ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( دستر خوان ) اتار سکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ گر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ ( اور ایسی عجیب فرمائش مت کرو) تو حواریوں نے کہا ؛ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے ہم کھائیں۔ اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان حاصل ہو جائے۔ اور ہمارا یہ یقین اور بڑھ جائے کہ آپ (علیہ السلام) نے سچ فرمایا ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں۔عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) نے دعا کی ۔ اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ، ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( کھانے کا دستر خوان ) نازل فرما۔ کہ وہ ہمارے لئے یعنی جو اول ہیں اور جو بعد میں ہیں سب کے لئے عید ہو جائے۔ اور تیری طرف سے ایک نشانی بن جائے۔ اور تو ہم کو رزق عطا فرما دے۔ اور تو سب سے بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانے کا دستر خوان تم پر نازل کرنے والا ہوں پھر تم میں جو بھی شخص کفر کرے گا۔ ( پلٹ جائے گا یا انکار کر دے گا) تو میں اس کو ایسی سزادوں گا کہ وہ سزا عالمین میںکسی کو نہیں ملی ہوگی۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر112سے 114تک)

حواریوں کی المائدہ کی فرمائش

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو تیس دن روزے رکھنے کا حکم دیا۔ جب تیس روزے مکمل ہوئے تو حواریوں نے فرمائش کی کہ اُن کے لئے آسما ن سے دستر خوان اُترنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ آسمانی خوان سے کھانا کھا کر وہ یہ اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے روزے قبول کر لئے ہیں۔ اور ان کی دعاﺅں کو قبول کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اُن کی یہ تمنا تھی کہ اس خوشی کے موقع پر وہ بہترین کھانا کھائیں۔ تا کہ اُن کی خوشی میں اضافہ ہو ۔ اور یہ بابرکت کھانا اول و آخر اور فقیر و غنی سب کے لئے کافی ہو۔ اور اُس روز عید منا کر اس دن کو اپنے لئے عید مقرر کر لیں۔بنی اسرائیل اپنے ہر نبی علیہ السلام سے عجیب عجیب فرمائشیں کرتے تھے۔حواریوں نے بھی عجیب سی فرمائش کی ۔اور اﷲ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب وہ فرمائش پوری کرتا ہے تو اِس کے ساتھ کچھ شرائط بھی لاگو کر دیتا ہے۔بندہ اگر اُن شرائط پر پورا نہیں اُتر پاتا تو سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔اِسی لئے ہر نبی علیہ السلام نے اپنی اپنی اُمت کو سمجھایا کہ اﷲ تعالیٰ سے عجیب عجیب فرمائشیں نہ کیا کرو۔

٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کو سمجھایا 

 حواریوں کی اس عجیب و غریب فرمائش پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی فرمائش نہ کرو جس کی وجہ سے تم مصیبت میں آجاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ اور رزق کی تلاش کرو۔ اور ایسے انوکھے سوالات نہ کرو کہ تم فتنے میں مبتلا ہو جاﺅ۔ اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ درا صل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ اُن شرائط کو پورا نہیں کر سکے جو” المائدہ “کے نازل ہونے کی تھیںاور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد پر قائم نہ رہ سکے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر سکے تو بڑے سخت عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام اپنے حواریوں کو سمجھا رہے تھے لیکن وہ لوگ بار بار آپ علیہ السلام سے درخواست کر رہے تھے۔ اور ایسے وقت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ بھی جمع ہو گئے تھے جنھوں نے آپ علیہ السلا م پر ایمان نہیں لایا تھا۔ ان میں وہ تمام علماءبھی تھے جو آپ علیہ السلام کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ بہر حال حواریوں کے باربار اصرار کرنے پر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں