پیر، 5 جون، 2023

06 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام. Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


06 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 06

ارامی لشکر بھاگ گیا

حضرت یسع علیہ السلام نے آگے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری گمراہیوں کی وجہ سے قحط اور ارامی لشکر کو مسلط کر دیا ہے۔ تمہارے پاس ابھی بھی موقع ہے، اگر تم گمراہیوں سے نکل آﺅ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر سے قحط اور ارامی لشکر کو ہٹا لے گا۔ تمام بنی اسرائیل نے ایک زبان ہو کر عرض کیا۔ ہم تمام برائیوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت یسع علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اس کے بعد فرمایا۔ کل صبح سلطنت سامریہ کے پھاٹک پر ایک مثقال ( بنی اسرائیل کا ایک روپیہ) میں ایک پیمانہ میدہ اور ایک ہی مثقال میں دو پیمانہ جو بِکے گا۔ یہ سن کر بادشاہ کے خاص آدمی نے کہا۔ اگر اللہ تعالیٰ آسمان کے دروازے بھی کھول دے گا تو بھی کل ایسا نہیں ہوگا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کل تُو خود اپنی آنکھوں سے یہ دیکھے گا، مگر اس میں کھانے نہیں پائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام چلے گئے اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں ہر شہر کے اطراف میں ایک اونچی دیوار ہوتی تھی۔ جسے ”شہر پناہ“ یا ”فصیل “ کہا جاتا تھا۔ اس دیوار میں ہر سمت بڑے بڑے گیٹ (دروازے یا لوہے کے پھاٹک) ہوتے تھے۔ سلطنت سامریہ کے پھاٹک کے پاس کوڑھیوں کے رہنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں پر چار کوڑھی رہتے تھے۔ انہوں نے رات میں یہ طے کیا کہ ویسے ہی ہم یہاں بھوک سے مر رہے ہیں جب مرنا ہی ہے تو ارامیوں کے لشکر میں جا کر اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اگر وہ ہمیں زندہ چھوڑ دیں گے تو کم سے کم ہمیں کھانے کو تو مل جائے گا۔ شہر پناہ کے اطراف میں ارامیوں کا لشکر محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ رات میں انہیں اچانک شہر پناہ کی طرف سے ہزاروں گھوڑوں کے تیزی سے دوڑنے کی آواز سنائی دی۔ پوری شہر پناہ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اور ارامیوں کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ایک بہت بڑا لشکر ان پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اور وہ اتنے مرعوب ہو ئے کہ گھبرا کر اپنے خیمے ویسے ہی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پہلے کچھ لوگ بھاگے ۔ اندھیرے میں ان کے گھوڑوں کی ٹاپ سن کر دوسرے لشکری سمجھے کہ بنی اسرائیل شب خون مارنے آرہے ہیں۔ اور اس طرح پورا ارامی لشکر اپنے خیموں کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔

بنی اسرائیل کی آزمائش میں ناکامی

حضرت یسع علیہ السلام کی بات پر تمام بنی اسرائیل کو بھروسہ تھا۔ اور وہ رات کے گزرنے کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ادھر ان چاروں کوڑھیوں نے چپکے سے پھاٹک تھوڑا سا کھولا اور شہر پناہ کے باہر آگئے۔ باہر ہر طرف ارامیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ یہ چاروں خاموشی سے چھپتے چھپتے خیموں کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کوئی پہریدار نہیں تھا۔ ان کی ہمت کھلی اور وہ آگے بڑھ کر خیموں میں جھانکنے لگے تو دیکھا کہ تمام خیمے خالی ہیں۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرانی اور بڑھ گئی ، چونکہ وہ بہت بھوکے تھے اسی لئے پہلے انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اس کے بعد شہر پناہ کے اندر واپس آئے اور بادشاہ کے محل کے پاس جا کر پہریداروں سے کہا کہ ہمیں بادشاہ سے ملنا ہے ۔پہریداروں نے ان کوڑھیوں کو دیکھا تو انہیں بھگانے لگے۔ لیکن ان چاروں نے کہا کہ ہمیں ارامی لشکر کے بارے میں بادشاہ کو بہت اہم اطلاع دینا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے چاروں کو بلوایا انہون نے بتایا کہ ہم شہر پناہ کے باہر ارامیوں کے لشکر میں گئے تو دیکھا کہ تمام خیمے خالی پڑے ہیں۔ خبر بہت اہم تھی۔ اس لئے بادشاہ نے فوراً دربارلگانے کا حکم دیا۔ جب تمام درباری آگئے تو بادشاہ نے چاروں کوڑھیوں کی بتائی گئی بات سب کو بتائی۔ درباریوں نے کہا۔ ہو سکتا ہے یہ ارامیوں کی کوئی چال ہو۔ اور وہ آس پاس اندھیرے میں چھپے ہوئے ہوںاور جیسے ہی ہم ان کے خیموں میں داخل ہوں تو وہ ہم پر حملہ کر دیں۔ بادشاہ نے تحقیق کے لئے گھڑ سواروں کو شہر پناہ کے باہر بھیجا۔ ان گھڑ سواروں نے ارامیوں کے لشکر کے خیموں کا اور آس پاس کے جنگل کا جائزہ لیا اور پوری شہر پناہ کا چکر لگا کر واپس آئے اور بادشاہ کو بتایا کہ کہیں بھی ارامیوں کا پتہ نہیں ہے۔ اور وہ یقینا بھاگ گئے ہیں۔ بادشاہ نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ ارامیوں کے خیموں اور سامان پر قبضہ کر لو۔ جب صبح بنی اسرائیل اٹھے تو دیکھا کہ شہر پناہ کے ہر طرف پھاٹک کھلے ہوئے ہیں۔ اور بادشاہ کے سپاہی ہر جگہ تعینات ہیں۔ بادشاہ نے اعلان کروایا کہ ارامی بے شمار مال ِ غنیمت اور کھانے پینے کا سامان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس لئے تمام لوگ آ کر اپنے حصے کا سامان لے لیں۔ یہ اعلان سن کر بنی اسرائیل خوش ہو گئے اور بڑے پھاٹک کی طرف بڑھے۔ بادشاہ کے خاص آدمی ( جس نے حضرت یسع علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی تھی) نے عوام کو روکنے کی کوشش کی تو عوام نے اسے گرا دیا اور کچل ڈالا اور وہ مر گیا۔ بنی اسرائیل کو اتنا کھانے پینے کا سامان ملا کہ سال بھر کےلئے کافی ہو گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل حضرت یسع علیہ السلام پر ایمان لائے ۔لیکن بہت سے گمراہیوں میں مبتلا رہے اور وہ آزمائش میںناکام ہو گئے۔

حزائیل ارام کا بادشاہ

حضرت یسع علیہ السلام کی پیشن گوئی کے مطابق ارامی محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اور سلطنت سامریہ میں بنی ا سرائیل چین سے رہنے لگے۔ بہت سارے بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام پر ایمان لا کر بت پرستی چھوڑ دی تھی۔ لیکن بادشاہ کی ماں ایزبل جس نے سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا شروع کروائی تھی۔ وہ مسلسل اپنی کوششوں میں لگی رہی اور اسی کی وجہ سے اس کا بیٹا بھی بت پرستی میں مبتلا رہا۔ ار اپنی ماں ایزبل کے کہنے پر ان لوگوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا جو حضرت یسع علیہ السلام پر ایمان لا کر بت پوجنا چھوڑ دیا تھا۔ بادشاہ کے ظلم سے گھبرا کر وہ لوگ پھر بت پرستی کی طرف مائل ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی، اسی دوران ارام کا بادشاہ بن ہد جس نے سلطنت سامریہ پر حملہ کیا تھا وہ شدید بیمارہو گیا تو حضرت یسع علیہ السلام ارام گئے۔ بن ہُد آپ علیہ السلام سے واقف تھا۔ بلکہ تمام ارامی آپ علیہ السلام کو ایک بہت ہی بزرگ کی حیثیت سے جانتے تھے۔ بن ہد نے اپنے خاص آدمی حزائیل سے کہا کہ وہ نیک بزرگ آئے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جاﺅ اور دریافت کرو کہ میں اس بیماری سے اچھا ہوجاﺅں گا یا اسی بیماری میں مر جاﺅں گا۔ حزائیل آپ علیہ السلام کی خدمت میں بادشاہ کی طرف سے تحفے تحائف لے کر حاضر ہوا اور اپنے بادشاہ کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس بیماری سے تو وہ اچھا ہو جائے گا، لیکن اس کی زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں۔ حزائیل نے حیرت سے پوچھا ۔ کیا ہمارا بادشاہ تندرست ہونے کے بعد مر جائے گا؟ تو آپ علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور فرمایا۔ وہ خود سے نہیں مرے گا بلکہ تُو اسے قتل کردے گا اور ارام کا بادشاہ بن جائےگا۔ حزائیل نے توبہ کرتے ہوئے کہا۔ میں یہ کام کبھی نہیں کر سکوں گا۔ حضرت یسع علیہ السلام کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر رونے لگے۔ اس نے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تو جب بادشاہ بنے گا تو بنی اسرائیل کا قتل عام کرے گا۔ اب تو یہاں سے چلا جا۔ حزائیل حیران ہوتا ہوا وہاں سے بن ہد کے پاس واپس آیا ۔ اس نے پوچھا کہ ان نیک بزرگ نے کیا کہا؟ حزائیل نے کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس بیماری سے آپ اچھے ہو جائیں گے اور باقی باتوں کو چھپا لیا۔ بن ہد اچھا ہو گیا۔ لیکن کافی عرصہ گزر نے کے بعد حزائیل نے اسے قتل کر دیا اور خود ارام کا بادشاہ بن گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں