منگل، 13 جون، 2023

06 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


06 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 6

گھر واپس آئے

حضرت عُزیر علیہ السلام اکثر باہر کے دورے پر رہتے تھے اور بنی اسرائیل کی دینی تعلیم اور دنیاوی ضروریات کی رہنمائی کے لئے مسلسل سفر میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے نئے آباد شدہ علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہتے تھے ۔ اِسی لئے آپ علیہ السلام کا قیام اپنے گھر پر بہت کم رہتا تھا ۔ جب آپ علیہ السلام غائب ہوئے یعنی اﷲ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تو گھر والوں نے کچھ دنوں تو یہی سوچا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام دوسرے علاقوں میں گھوم گھوم کر بنی اسرائیل کی تربیت کررہے ہوں گے اِسی لئے یروشلم اپنے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور ”عید فسح“ بھی آگئی اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں اور گھر والوں کو فکر ہوئی اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی تلاش شروع کردی ۔ پورے سال بنی اسرائیل کے دورآباد قبیلوں کے ولگ ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) میں عبادت کرنے کے لئے مسلسل آتے رہتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بنی اسرائیل کے علماءنے عبادت کے لئے آنے والے ہر قبیلے سے آپ علیہ السلام کے متعلق دریافت کرنا شروع کردیا ۔ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے آنے والے قافلے یہی بتاتے تھے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے یہاں نہیں ہیں ۔ ”عید فسح“ پر تو تمام بارہ قبیلوں کے بڑے ذمہ دار یروشلم میں موجود تھے اور لاکھوں بنی اسرائیل ”عید فسح“ منانے کے لئے یروشلم کے آس پاس خیمہ زن تھے۔ اِس موقع پر تمام بنی اسرائیل نے یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ تمام لوگ حیران تھے کہ آخر آپ علیہ السلام کہاں غائب ہوگئے ہیں؟ ”عید مسح“ بنی اسرائیل سات دنوں تک مناتے تھے اور اِس کے بعد جب تمام قبائل اپنے اپنے علاقے واپس جانے لگے تو بنی اسرائیل کے یروشلم کے علمائے اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے درخواست کی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو ہر ممکن حد تک تلاش کیا جائے ۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی تلاش کرنے لگے ۔ ہر سال ”عید فسح“ کے اجتماع میں یہ اعلان کیا جاتا تھا لیکن آپ علیہ السلام کسی کو نہیں ملے ۔ سال پر سال گزرتے رہے یہاں تک کہ سو سال گزر گئے اور تما م لوگ آپ علیہ السلام کی واپسی مایس ہوگئے تھے ۔ اِدھر جاگنے کے بعد حضرت عُزیر علیہ السلام یروشلم کی طرف روانہ ہوئے ۔ اِن سو سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا اور بنی سارائیل کی نئی نئی بستیاں اور نئی نسل وجود میں آچکی تھیں۔ آپ علیہ السلام اِن بستیوں کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہوئے بالآخر یروشلم پہنچ گئے ۔ یروشلم شہر بھی کافی بڑا ہوچکا تھا۔ چلتے چلتے آپ علیہ السلام بیت لامقدس کے قریب اپنے محلے میں پہنچے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر پر پہنچے ۔ باہر سے اپنے ایک بیٹے کا نام لیکر پکارا تو ایک بوڑھی عورت گرتی پڑتی لڑکھڑاتی ہوئی دروازے پر آئی اور پوچھا :”کون ہے؟“ یہ بوڑھی عورت بڑھاپے کی وجہ سے اندھی بھی ہوچکی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” میں عُزیر (علیہ السلام) ہوں۔“ یہ سُن کر بوڑھی عورت نے حیرت سے کہا :” عُزیر! کون عُزیر؟ میرے مالک حضرت عُزیر علیہ السلام کو غائب ہوئے تو سو سال ہوچکے ہیں ۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات کا اُس بوڑھی عورت کو یقین نہیں آیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا :” میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، لیکن تم کون ہو؟“ بوڑھی اور اندھی عورت نے کہا :” میں حضرت عُزیر علیہ السلام کی کنیز ہوں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے فرمایا :” اچھا تم وہ ہو لیکن تم تو بہت بوڑھی ہوگئی ہو جبکہ میری کنیز تو جوان تھی ۔“ اُس بوڑھی نے کہا :” ہاں حضرت عُزیر علیہ السلام جب غائب ہوئے تھے تب میں جوان تھی اور میری عُمر لگ بھگ بیس سال تھی۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، اﷲ ربا لعزت نے مجھ پر سوسال تک موت طاری کردی تھی پھر مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے ۔“ بوڑھی نے تعجب سے ”سبحان اﷲ“ کہا اور بولی :”برسوں ہوگئے میرے مالک کو گُم ہوئے ، اب لوگوں نے اُن کا نام لینا بھی چھوڑ دیا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں وہی گُم گشتہ عُزیر ہوں۔“ بوڑھی کو تب بھی یقین نہیں آیا ۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے کہا :”حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے ۔ مریض کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ تعالیٰ اُسے شفا عطا فرما دیتا تھا اور ضرورت مندوں کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ اُس کی ضرورت پوری کردیتا تھا ۔ اگر آپ (علیہ السلام) وہی ہیں تو اﷲ رب العزت سے دعا کردیں کہ میری آنکھیں اچھی جائیں اور میں دیکھنے لگوں ۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اُس کی آنکھوں کے لئے دعا کی تو اُس کی آنکھوں کی روشنی آگئی اور وہ دیکھنے لگی ۔ اُس نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان لیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کو سب نے پہچان لیا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو اُن کی کنیز نے پہچان لیا تھا اور بولی :” یقینا آپ ہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔“ بڑھاپے کی وجہ سے اُس کا بد اور ہاتھ اور پیر کمزور ہوگئے تھے اور وہ ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہوپارہی تھی اور زیادہ تر بیٹھ کر گھسٹ گھسٹ کر چلتی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کا ہاتھ تھاما اور فرمایا :”اﷲ کے حُکم سے کھڑی ہوجاو¿۔“ وہ کنیز تندرست و توانا ہوکر کھڑی ہوگئی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں ابھی سب کو جاکر آپ علیہ السلام کے آنے کی خبر دیتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ دوڑتی ہوئی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) تک گئی ۔ وہاں بنی اسرائیل کے تمام علماءاور آپ علیہ السلام کے بیٹے موجود تھے ۔ اُن میں سے ایک بیٹا یروشلم کا سردار تھا ۔ اُس کنیز نے سب سے کہا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام جو سو سال پہلے غائب ہوگئے تھے وہ واپس آگئے ہیں ۔وہاا موجود لوگوں نے اُس سے پوچھا :”تم کون ہو؟“ اُس نبے بتایا :” میں حضرت عُزیرعلیہ السلام کی کنیز ہوں اور اُنہوں نے آتے ہی میرے لئے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے میری ّنکھوں کی روشنی لوٹا دی اور مجھے تندرست کردیا ۔“ اِسی دوران حضرت عُزیر علیہ السلام دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے بوڑھے علمائے کرام اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے تو دیکھتے ہیں پہچان لیا کیونکہ وہ سب آپ علیہ السلام کو شکل سے پہچانتے تھے اور ساتھ میں کافی وقت گزارا تھا لیکن اُن سب کو حیرت اِس بات کی تھی کہ وہ سب تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور سب کے بال سفید ہوگئے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عُمر ایک سوبیس 120 سال تھی جبکجہ آپ علیہ السلام کے بال بھی کالے تھے اور عُمر بھی بہ مشکل پینتالیس 45 سال لگ رہی تھی ۔ اِس لئے سب لوگ حیرا ن تھے اور تمام لوگ پریشان تھے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام کے اُس بیٹے نے جو سردار تھا کہا کہ میرے والد محترم کے دونوں کاندوھوں کے درمیان کالا تل تھا اگر وہ نشان ان کے اوپر ہیں تو یہ میرے والد محترم ہیں۔“ آپ علیہ السلام ن ے اپنے کاندھے کھول کر دکھائے تو وہ کالا تل موجود تھا ۔سردار بیٹے نے کہ ا:” یہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کی آزمائش

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بوڑھے بنی اسرائیل علماءنے تو آپ علیہ السلام کو پہچان لیا کیونکہ اُنہوں نے گُم ہونے کے وقت جس شکل میں آپ علیہ السلام کو دیکھا تھا وہی شکل تھی ۔ لیکن وہ علماءاور بنی اسرائیل جو سوسال کے اندر پیدا ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی بھی اطمینان نہیں ہوا ہے ۔ اِس لئے انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”چاہے جو آزمائش لے لو، میں اُس کے لئے تیار ہوں ۔“ کافی غوروخوض کے بعد علماءنے کہا کہ ہمیں یہ بات ہمارے والدین نے بتائی تھی کہ جب بخت نصر ہمیں غلام بنا کر بابل لے جارہا تھا تب حضرت عُزیر علیہ السلام کے والد محترم نے توریت کے چند صفحات کسی جگہ دفن کروائے تھے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ بات بتائی تھی ۔ اگر یہ بتا دیں کہ وہ صفحات کہاں دفن ہیں اور وہاں سے وہ نکل آئیں تو یہی ہمارے سردار کے والد حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ٹھیک ہے! چلو میں تمہیں وہ جگہ بتاتا ہوں ۔“ تب تک پورے یروشلم میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی تھی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور لوگ آکر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے چلے اور پورے یروشلم کے لوگ پیچھے پیچھے چلے اور ایک رک کر فرمایا :”’یہاں کھودو۔“ جب وہاں کھودا گیا تو واقعی رتوریت کے صفحات موجود تھے ۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ آپ ہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔

بنی اسرائیل کی حیرت

حضرت عُزیر اعلیہ السلام کو یروشلم کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کر لیا اور سچا مان لیا لیکن سب لوگ اِس بات پر حیرانی ظاہر کرہے تھے کہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 سال کی عُمر میں بھی آپ علیہ السلام جوان دکھائی دے رہے تھے اور سب لوگ اِس کی وجہ پوچھ رہے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا :”ابا جان! ہم آپ علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور ہمارے بال سفید ہوگئے ۔ ہمارے ہاتھ پیر آنکھیں اور پورا جسم کمزور ہوگیا ہے اور ہم بوڑھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ آپ علیہ السلام ہمارے والد والد محترم ہیں ۔ اِس کے باوجود آپ علیہ السلام کے بال کالے ہیں ، جسم انتہائی تندرست اور صحت مند ہے اور ہاتھ پیر اور آنکھیں وغیرہ سب طاقتور ہیں ، ایسا کیوں ہے؟“ تب آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو اور اپنے بیٹوں کو تفصیل سے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے سو سال تک مجھے سُلا دیا تھا ، موت طاری کردی تھی ۔ اِس لئے تمام لوگوں پر وقت گزرتا رہا تھا ، مجھ پر وقت رُکا ہوا تھا جس کی وجہ سے تم بوڑھے ہوگئے اور میں ویسا ہی رہا ۔ 

اﷲ تعالیٰ کی نشانی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 259 کے درمیان میں فرمایا :”ہمارا مقصد کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے ”دلیل“ (یعنی نشانی) بن گئے کیونکہ آپ علیہ السلام اپنے بیٹوں اور پوتوں میں بیٹھ کر میں بیٹح کر اُن کی تربیت کرتے تھے جو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے ۔ جبکہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی عُمر مبارک چالیس 40 یا پینتالیس 45 کے درمیان تھی ۔ کیونکہ آپ علیہ السلام جس حالت میں عارضی موت کی نیند سوئے تھے اُسی حالت میں دوبارہ زندہ ہوگئے تھے۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”حضرت عُزیر علیہ السلام کی دوبارہ زندگی کا واقعہ بخت نصر کے بعد پیش آیا ہے ۔“ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ امام ابوحاتم سجستانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ کی روایت کو عربی اشعار میں پیش کیا ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے :”اُس کے بال کالے ہیں حالانکہ وہ بڑے ہیں ، اُس کا بیٹا اور اُس کا پوتا اُس سے پہلے بوڑھے ہوگئے ہیں ، اُس کے بیٹے کو دیکھو تو ایک بوڑھا ہے جو لاٹھی کے سہارے چل رہا ہے ، حالانکہ اُس (عُزیر علیہ السلام) کی داڑھی مبارک اور بال سیاہ ہیں ، اُس کے بیٹے آب و تاب و تواں نہیں رہی ، وہ اُٹھتا جیسے بچہ چلتا ہے تو گر پڑتا ہے ، اُ س کے بیٹے کی عُمر ایک سو بیس 120 شمار ہوتی ہے ، وہ نہ تو چل سکتا اور نہ ٹہل سکتا ہے ، باپ کی عُمر چالیس سال ہے اور پوتے کو لوگوں میں رہتے نوے 90 سال گزر گئے ہیں ، اگر تُو جانے تو یہ بات قرین عقلمندی نہیں ہے ، اور اگر تُو نہیں جانتا جہالت کی وجہ سے معذور ہے۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے مکمل توریت لکھی

حضرت عُزیر علیہ السلام کو یروشل کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا ۔ دھیرے دھیرے یہ خبر بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں پھیلتی گئی کہ سو سال کے بعد کمشدہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور بوڑھے نہیں ہوئے بلکہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 کی عُمر بھی جوان ہیں ۔ جیسے جیسے یہ خبر بنی اسرائیل کے قبائل کو ملتی گئی ویسے ویسے اُن قبائل کے وفد اور قافلے آپ علیہ السلام کی زیارت کے لئے خدمت اقدس میں حاضر ہوتے گئے ۔ اِس طرح تمام بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی سچائی کو تسلیم کرلیا ۔ اِس کے بعد علمائے کرام نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ توریت مکمل شکل میں ہمارے پاس نہیں ہے اور بخت نصر نے توریت کے تمام نسخے جلا دیئے تھے ۔ ویسے تو الگ الگ اوراق میں چند نسخے ہیں اور آپ علیہ السلام کے والد محترم نے بھی جو نسخہ دفن کیا تھا وہ بھی مکمل نہیں ہے۔ اِس لئے آپ علیہ السلام سے ہماری درخواست ہے کہ ہمارے لئے مکمل توریت کتابی شکل میں لکھ دیں اور تمام بارہ قبیلوں میں نقول روانہ کردیں تاکہ تمام بنی اسرائیل پورے طور سے شریعت پر عمل کرسکیں ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے وعدہ کرلیا کہ انشاءاﷲ میں مکمل توریت تمہارے لئے کتابی شکل میں لکھ دوں گا ۔ اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں عبادت کے دوران سجدے میں رور و کر درخواست کی کہ اے اﷲ تعالیٰ! میری رہنمائی فرما اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے میری مدد فرما ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ کو آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل پر رحم آگیا ۔ آپ علیہ السلام اکیلے غوروفکت کرتے ہوئے بیٹھے تھی کہ ایک فرشتے کو اﷲ رب العزت نے انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے عرض کیا :”اے اﷲ کے نبی علیہ السلام! کس افسوس اور صدمے میں بیٹھے ہیں؟“ آپ علیہ السلام نے تمام ماجرا بتایا ۔ اُص فرشتے نے ایک پانی بھرا ہوا برتن آپ علیہ السلام کو دیا اور کہا :”پورا پانی پی جائیں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے پورا پانی پی لیا جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پوری توریت ازبر ہوگئی ۔ 

حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے

اﷲ تعالیٰ نے سوری توبی میں فرمایا :”ترجمہ ، یہود (بنی اسرائیل) کہتے ہیں ”عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ اور نصرانی (عیسائی) کہتے ہیں ”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ یہ قوم صرف اُن کے منہ کی بات ہے ، اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے ، اﷲ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹے جاتے ہیں؟ (سورہ توبہ آیت نمبر 30 ) اﷲ تعالیٰ نے اِس آیت میں بتایا کہ بدبخت یہودیوں نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا اور عیسائیوں نے حضرت عیسٰ مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا جبکہ وہ دونوں اﷲ کے نیک بندے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے ۔اِن بدبختوں نے خود ہی شرک کرکے اپنے آپ کو گمراہی میں ڈال لیا ہے ۔ اور اﷲ کے غضب کے مستحق بن گئے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”رسول اﷲ صؒی اﷲ علیہ وسلم کے پاس سلام بن مشکم ، نعمان بن اوفی ، ابو انس شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے اور کہنے لگے :”ہم آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی اتباع اور پیروی کیسے کریں؟ جبکہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا ہے اور آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) یہ نظریہ بھی نہیں رکھتے ہیں کہ عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہود (بنی اسرائیل) کے پاس توریت تھی اور وہ اُس سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن جب وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور اﷲ تالیٰ کی نفرمانی کرنے تو توریت اُن سے چھن گئی اور ”تابوت ِ سکینہ“ بھی اُتھا لیا گیا ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام نے نہایت عاجزی و انکساری سے اﷲ تعالیٰ سے عدا مانگی ۔ آپ علیہ السلام ابھی دعا میں مصروف تھے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نور اُترا اور آپ علیہ السلام کے اندر سما گیا اور پوری توریت آپ علیہ السلام کو زبانی یاد ہوگئی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا :”توریر مجھے حفظ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے یاد کرادیا ہے ۔“ بنی اسرائیل نے یقین نہیں کیا پھر بھی آپ علیہ السلام نے اُنہیں توریت لکھ کر دی ۔ پھر ”تابوت ِ سکینہ“ بھی واپس مل گیا جس میں توریت رکھی ہوئی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اُس توریت کو حضرت عُزیر علیہ السلام کی لکھی توریت سے ملایا تو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا :”اﷲ کی قسم! حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ اِس لئے یاد کرائی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں۔“ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : عُزیر سے مُراد عزراءہیں جن کو یہودی اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں ۔ ان کا زمانہ 450 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے ۔ اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سُلیمان علیہ السلام کے بعد جو دور ابتلاءبنی اسرائیل پر آیا اُس میں نہ صرف توریت دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری (غلامی) میں اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت ، اپنی روایات اور قومی زبان عبرانی تک سے ناآشنا کردیا تھا ۔ آخر کار اُنہیں عُزیر یا عزراءنے بائیبل کے پرانے عہدنامے کو مرتب کیا اور شریعت کی تجدید کی ۔ اِسی وجہ سے بنی اسرائیل اُن کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور یہ تعظیم اِس حد تک بڑح گئی کہ بعض یہودی گروہوں نے اُن کو ”ابن اﷲ“ تک بنا دیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے سمجھایا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو بد بخت یہودں یعنی بنی اسرائیل نے پہلے تو سچا ماننے سے انکار کردیا اورجب سچا ماننے لگے تو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا کہ شرک میں مبتلا ہوگئے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اُسنہیں بار بار سمجھاتے رہے کہ اﷲ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اﷲ رب العزت اولاد وغیرہ سے پاک ہے ، میں تو صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں اور نبی ہوں اور تم لوگ شرک میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو گمراہ مت کرو۔“ لیکن بنی اسرائیل پر ایسا شیطان غالب آگیا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے اور گمراہی میں مبتلا رہے ۔ آپ علیہ السلام اُنہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور اُنہیں شرک سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اعلان کیا :”اے بنی اسرائیل! میں تمہارے شرک سے بری ہیں اور اے اﷲ تعالیٰ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ہمیشہ بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی ہے اور یہی سکھایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، وہ اکیلا اور اُس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اے بنی اسرائیل! میں نے کبھی یہ کہا کہ میں (نعوذ باﷲ) اﷲ کا بیٹا ہوں بلکہ یہ تم نے خود اپنے من سے بنا لیا ہے ۔ اے اﷲ تعالیٰ! میں اِن کے شرک سے بری ہوں۔“

بنی اسرائیل ایک بار پھر آزمائش میں ناکام ہوگئے

اﷲ رب العزت نے حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کے ایمان کی آزمائش کی کہ آپ علیہ السلام جوان دکھائی دیتے تھے اور آپ علیہ السلام کی عُمر صرف چالیس 40 یا پینتالیس 45 سال لگتی تھی ۔ آپ علیہ السلام اپنے بیٹے کو اور پوتوں کو توریت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان بیٹھے آپ علیہ السلام اپنے پوتوں سے بھی چھوٹے لگتے تھے ۔ بیٹے اور پوتے بوڑھے ہوچکے تھے ۔ بنی اسرائیل اﷲ تعالیٰ اِ سآزمائش میں ناکام ہوگئے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو جو معجزہ اﷲ رب العزت نے عطا فرمایا تھا اُس کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالت

حضرت عُزیر علیہ السلام اُس وقت تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا ۔ اِس کے بعد اُنہیں اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ بنی اسرائیل کی اپنی کوئی مستحکم حکومت نہیں تھی اور پورا علاقہ ”سلطنت فارس“ کا ماتحت تھا ۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز بدستور رہا ۔ اِسی طرح لگ بھگ سو سال سے زیادہ کا وقت گزر گیا اور بنی اسرائیل پھر سے گمراہیوں اور بُرائیوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اِسی دوران ملک یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اُٹھا اور اُس نے ”سلطنت فارس“ پر قبضہ کرلیا ۔ اِس طرح بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بن گے اور وہ یونانیوں کے اثرات قبول کرنے لگے ۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک یونانی اُن پر حاوی رہے پھر لگ بھگ ایک سو پچھتر 175 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایک سوپچھتر 175 سال پہلے بنی اسرائیل نے ہیونانیوں سے آزادی حاصل کرلی اور اپنی آزاد حخومت قائم کرلی ۔ اِس اسرائیلی حکومت نے بہت ترقی کی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنی حکومت چلاتے رہے ۔ پھر اُن پر رومی حاوی ہوگئے 67 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 67 سال پہلے بنی اسرائیل پر رومیوں کی حکومت ہوگئی اور رومیوں کے دورِ حکومت میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا ۔حضرت عُزیر علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے۔ 

٭....٭....٭ 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں