05 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 20
قسط نمبر 5
نشانی مانگنے کی وجہ
حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ملہ پر پورا یقین تھا۔ لیکن جب انھوں نے والد بننے کی بشارت سنی تو خوشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے نشانی مانگی کہ جب میری بیوی حاملہ ہو گی تو مجھے کس طرح معلوم ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نشانی بتائی کہ جب تمہاری حاملہ بیوی ہو گی توتم تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکو گے۔ اور تین دنوں میں تم اکیلے میں میرا ذکر اور تسبیح کر سکو گے۔ تمہاری زبان درست کام کرے گی۔ لیکن لوگوں کے سامنے جاﺅ گے تو زبان بند ہو جائے گی۔ اور اشارے سے لوگوں کو بتاﺅ گے پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ علیہ السلام پنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے ۔ باہر بنی اسرائیل کے لوگ اپنے مسائل لے کر آئے ہوئے تھے۔ اُن کے مسائل کو حل کر نے کے لئے آپ علیہ السلام باہر نکلے اور بات کرنی چاہی تو زبان بند ہو گئی۔ آپ علیہ السلام کچھ دیر کے لئے حیران ہوئے کہ ابھی تو میں حجرے میںاچھا خاصا بول رہا تھا۔ یہا ں زبان کیسے بند ہو گئی۔ تو آپ علیہ السلام کو یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔اور مجھے والد بننے کی خوشی عطا فرمادی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”کہنے لگے اے رب !میرے لئے اِس کی کوئی نشانی مقرر کر دے۔فرمایا ؛نشانی یہ ہے کہ تین دنوں تک تم لوگوں سے بات نہیں کع سکو گے۔صرف اشارے سے سمجھاو¿ گے۔تب تم اپنے رب کا ذکر کژرت سے کرنا،اور صبح و شام اُس کی تسبیح بیان کرتے رہنا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر41)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(اﷲ کا) ارشاد ہوا،کہ وعدہ اِسی طرح ہوچکا ہے۔تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر یہ بالکل آسان ہے اور تُو خود جب کہ کچھ نہیں تھا تو میں تجھے پیدا کر چکا ہوں۔کہنے لگے ،میرے رب !میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ بھلا چنگا ہونے کے باوجود تُو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہیں سکے گا۔اب زکریا(علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کراپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔(سورہ مریم آیت نمبر 9سے11 تک)
اﷲ تعالیٰ نے خود نام رکھا
حضرت زکریا علیہ السلام کو جو نشانی اﷲ تعالیٰ نے بتائی تھی ،اُس کاظہور ہوا تو آپ علیہ السلام کومعلوم ہو گیاکہ اﷲ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت عطا فرما دی ہے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔جب حضرت زکریا علیہ السلام کی عُمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی ۔اُس وقت آپ علیہ السلام نے عاجزی و انکساری سے اﷲ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اﷲ !مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیئے ،تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کر سکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت جب کہ وہ بڑھاپے کی انتہائی عُمر تک پہنچ چکے تھے۔اُن کی بیوی بانجھ تھیں یعنی ظاہری اسباب میں اس کو کوئی امکان نہ تھا کہ اِس عُمر میں ان کے گھر اولاد پیدا ہو۔مگر اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہارکرتے ہوئے اِس نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔اﷲ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جب اولاد کی خوش خبری سنائی تو اس خبر پر انہیں خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔انہوں نے عرض کیا ،الہٰی !میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجیئے،جس سے مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے گھر ولادت ہونے والی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِس کی علامت اور نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک تندرست ہونے کے باوجود کسی سے بات نہیں کر سکو گے۔جب ایسا ہو تو سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔یہ واقعہ جہاں حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا تھا ،وہیں پوری قوم بنی اسرائیل کے لئے بھی نہایت سکون ،خوشی اور مسرت کا پیغام تھا۔اِسی لئے جب حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے وقت آیا اور بات چیت سے زبان رک گئی تو آپ علیہ السلام نے اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قوم بنی اسرائیل کو اشاروں سے بتایا کہ وہ بھی صبح و شام اﷲ کی حمد وثناءکرتے رہیں۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعاکو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری عطا فرمائی ۔جن کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کا کے ارشاد فرمایاکہ اِس سے پہلے یحییٰ کسی کا بھی نام نہ تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام جو اﷲ کے نبی تھے ،بچپن ہی سے نبوت کی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن ہی سے نہایت ذہین و ذکی سمجھدار دانا و بینا تھے۔بچپن کی عمر میں بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں ،لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کا کھیل کود میں دل نہیں لگتا تھا ۔انہیں فضول اور غلط باتوں سے سخت نفرت تھی اور جس بات میں سنجیدگی اور وقار نہیں ہوتا وہ اس بات کے قریب بھی نہ جاتے تھے۔اُن کا دل پیدائشی طور پر اﷲ کے خوف سے بھرا ہوا تھا وہ ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔وہ توریت کے ہر حکم پر پوری طرح عمل فرماتے تھے۔جن باتوں سے پرہیز کے لئے کہا گیا تھا اُس سے پرہیز کرتے تھے۔نہایت متین ،سنجیدہ اور باقار تھے۔اﷲ تعالیٰ نے زندگی میں اور موت کے بعد امہیں سلامتی عطا فرمائی ہے اور قیامت میں بھی اُن کو سلامتی عطا کی جائے گی۔وہ مشکل وقت میں صحیح رائے قائم کرتے اورہر معاملہ میں فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو جب اولاد کی بشارت دی تھی تو اس اولاد کا نام یحییٰ بتا یا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے توریت کا علم حاصل کرنے لگے تھے۔ اور لگ بھگ سات سال کی عمر تک توریت کو ختم کر لیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کو اتنی کم عمر میں توریت کے تمام احکام یاد ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی اپنا زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار تے تھے۔ آپ علیہ السلام کی عمر کے لڑکے کہتے کہ آﺅ چلو کھیلیں تو آپ علیہ السلام فرماتے نہیں چلوپڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت نرم دل اور محبت کرنے والا بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے والدین کی بہت خدمت کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے لوگوں کی بھی بہت زیادہ مدد کرتے تھے۔ اور اُن کے مشکل سے مشکل مسائل کو توریت کے مطابق حل کر دیتے تھے۔ بنی اسرائیل اس بچے کی فہم و فراست اور علم اور عقل پر حیران ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے پورے بنی اسرائیل میں آپ علیہ السلام کے علم اور فہم و فراست اور بہترین اخلاق کا یہ اثر ہو ا کہ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی بے پناہ عزت کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کی بات کو حرفِ آخر ماننے لگے۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام آپ علیہ السلام کے پاس آکر توریت کا درس لینے لگے۔ اور نوجوانی کے عالم میں ہی آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے بڑے بڑے بوڑھے علمائے کرام کے استاد بن گئے۔
حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہم عُمر تھے
اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمایا،اور اُسی وقت سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بھی اﷲ کی شان سے بغیر کسی مرد کے چھوئے حاملہ ہوگئیں تھیں۔یہاں ہم صرف حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا ذکر تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے۔حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے لگ بھگ ایک ساتھ اعلان نبوت کیا تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے پہلے اعلان نبوت کیا اور بیت المقدس میں ہی مقیم رہے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ عرصہ بعد اعلان نبوت کیا اور وہ ایک جگہ رک کر نہیں رہتے تھے، بلکہ بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں ایک بہت اچھا مقام تھا ۔اِس لئے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تو بنی اسرائیل حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور بنی اسرائیل سے فرمایاکہ میں تو صرف نبی ہوں ،جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول بھی ہیں۔علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ پہلے فرد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اُن کی تصدیق کی۔اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے اور کہا جاتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے اور دونوں خالہ ذاد بھائی تھے۔پس جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اُٹھے اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حاملہ ہوئیں تو اُسی وقت اُن کی بہن (حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ کی بہن ہیں)حضرت یحییٰ علیہ السلام سے حاملہ تھیں تو اپنی بہن سے ملنے کے لئے آئیں تو کہا؛”اے مریم !کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ میں حاملہ ہوں؟“تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے اُسے کہا؛”کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ میں بھی حاملہ ہوں؟“تو انہوں نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے ،میں اُس کے بارے میں محسوس کر رہی ہوں کہ جو تیرے پیٹ میں ہے اُسے وہ سجدہ کر رہا ہے۔اِسی وجہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے جنین کو محسوس کیا کہ وہ اپنا سر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پیٹ کی طرف جھکا رہا ہے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کا اعلان نبوت
اﷲ تطعالیٰ سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے یحییٰ (علیہ السلام) !میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی۔ اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وہ پرہیز گار شخص تھا ۔اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا ۔وہ سرکش اور گنہ گار نہیں تھا۔ اُس پر سلام ہے جس دن وہ پید ہوا ،اور جس دن مرے گا، اور جس دن وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 12سے 15تک)تمام بنی اسرئیل میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ایک مقام پیدا ہو چکا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو نیکیوں کا حکم دینے لگے اور برائیوں سے روکنے لگے۔ شروع میں ہم نے آپ کو بنی اسرائیل کے تمام حالات بتائے تھے۔ کہ اُن کے تمام قبیلے آپس میں لڑنے لگے تھے۔ اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے رومیوں سے مدد مانگی تھی۔ تو رومیوں نے تمام بنی اسرائیل پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایک گمراہ شخص ہیرو دیاس کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا تھا۔ یہ بہت ہی گمراہ شخص تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 12کی تفہیم میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی ہے کہ اِس فرمان ِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلامپیدا ہوئے اور جوانی کی عُمر کو پہنچے ۔اب بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رُشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔یہاں صرف ایک فقرے میں بیان کر دیا گیا ہے۔جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔یعنی وہ توریت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو بھی اِس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔
بچپن میں اﷲ کی کتاب (توریت) کی سمجھ
اﷲ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایسا بنایا تھا کہ آپ علیہ السلام کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا شوق تھا اور آپ علیہ السلام بچوںکے ساتھ کھیلنے کے بجائے توریت کو پڑھتے اور اُس کی آیات پر غورو فکر کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔بمطابق ِ بشارت الہٰی حضرت زکریا علیہ السلام کے یہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام پید ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں توریت سکھا دی ،جو اُن(بنی اسرائیل) میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیائے کرام علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔اُس وقت اُن کی عُمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اِس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اُسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص،اجتہاد،کوشش و خلوص کے ساتھ اﷲ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔بچے آپ علیہ السلام سے کھیلنے کو کہتے تھے تو یہ جواب پاتے تھے کہ میںکھیل کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا وجود حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر سوائے ہمارے اور کوئی قادر نہیں ہے۔آپ علیہ السلام ہر میل کچیل سے ،ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے ۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عُمر کا خلاصہ تھا۔آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اﷲ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ساتھ ہی والدین کے فرمانبردار ،اطاعت گزار اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے۔کبھی کسی بات میں والدین کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔کبھی اُن کے فرمان کے باہر نہیں ہوئے۔کبھی اُن کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا۔کوئی سرکشی ،کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہیں تھی۔اِن اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔یعنی پیدائش والے دن،موت والے دن اور حشر والے دن ۔یہی تینوں گھبراہٹ کی اور انجان جگہیں ہوتی ہیں۔اِن تینوں وقتوں میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں