جمعرات، 8 جون، 2023

05 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



05 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہم السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 5

حضرت یونس علیہ السلام کی تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام مسلسل مچھلی کے پیٹ میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے۔اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا،جب تک آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ کے اندر رہے۔آخر وہ کون سی تسبیح تھی،جس نے آپ علیہ السلام کو اتنی فضیلت اور بلند مرتبہ عطا فرمایا۔وہ تسبیح”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“تھی۔جس کا اردو ترجمہ ”اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،وہ پاک ہے،اور میں ظالموں(یا اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں)میں سے ہوں۔“حضرت یونس علیہ السلام ہر حال میں چاہے وہ خوشی کا وقت ہو یا غمی کا وقت ہو،ہر وقت میں اﷲ تعالیٰ کی پاکی کرتے رہتے تھے۔اِسی لئے مچھلی کے پیٹ میں بھی اﷲ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے لگے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آرام اور راحت کے وقت اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو توسختی اور بے چینی کے وقت میں وہ تمہاری مدد کرے گا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کے پابند نہ ہوتے،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مچھلی کے پیٹ میں نماز نہ پڑھتے ،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ”لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین“ کی تسبیح نہ کرتے تو مچھلی کے پیٹ سے رہائی نہ ملتی۔اِسی لئے قرآن پاک کی آیتوں میں ہے کہ اُس نے(حضرت یونس علیہ السلام نے)اندھیروں میںیعنی(رات کا اندھیرا،پھر پانی کے اندر کا اندھیرا،پھر مچھلی کے اندر کا اندھیرا)یہی کلمات کہے ۔اور ہم نے اُن کی دعا قبول فرما کر غم سے نجات دی،اور اِسی طرح مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔امام ابن حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں اِن کلمات کو کہا تو یہ دعا اﷲ تعالیٰ کے عرش کے اِرد گِرد منڈلانے لگی،اور فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !یہ آواز تو کہیں بہت دور سے آرہی ہے۔اِس آواز سے ہمارے کان آشنا ضرورلیکن ہم اِس آواز کا پہچان نہیں پارہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”توجہ کرو ،اور بتاو¿!یہ کس کی آواز ہے؟“فرشتے پوری طرح ہوئے اور پھر عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !ہم نہیں پہچان سکے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ میرے نیک اور مخلص بندے یونس (علیہ السلام) کی آواز ہے۔‘]فرشتوں نے عرض کیا؛”وہی یونس علیہ السلام ،جن کے نیک اعمال اور مقبول دعائیں ہمیشہ آسمان پر چڑھتی رہتی تھیں؟اے اﷲ تعالیٰ اُن کی دعا ضرور قبول فرمائیں ،اور اُن کی ضرور مدد کریں ۔کیونکہ خوشحالی اور آسانی میں یہ ہمیشہ آپ کی تسبیح بیان کرتے رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ !انہیں نجات عطا فرما۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں !میں انہیں ضرور نجات عطا فرماو¿ں گا۔“

مچھلی نے اُگل دیا

حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح بیان کر رہے تھے،اور مچھلی انہیں لیکر سمندر میں تیرتی پھر رہی تھی۔حضرت یونس علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا اعزاز عطا فرمایا ہے کہ پوری کائنات میں کسی کو یہ اعزاز عطا نہیں ہوا۔وہ یہ کہ آپ علیہ السلام نے ایسی جگہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرمائی ہے کہ کسی نے اُس جگہ تسبیح نہیں کی ہے،اور وہ جگہ مچھلی کا پیٹ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر رحم فرمایا،اور مچھلی کو حکم دیا کہ اب حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دو۔مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی،اور آپ علیہ السلام کو اُن کی قوم کے قریبی ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام کتنے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے؟اَس بارے میں مختلف روایات امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔اِس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ آپ علیہ السلام کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔امام قلبی،امام سدی اور امام مقاتل بن سلیمان کے مطابق مچھلی کے پیٹ میں چالیس(40)دن رہے۔امام ضحاک کے مطابق بیس (20)دن ،اور امام عطا کے مطابق سات (7) دن،اور امام مقاتل بن حبان کے مطابق تین (۳)دن ،اور ایک اور قول کے مطابق ایک ساعت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ کا حکم رہا،تب تک وہ مچھلی آپ علیہ السلام کو لیکر تیرتی رہی۔پھر جب اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا تو مچھلی نے آپ علیہ السلام کو زمین پر اُگل دیا۔ایک روایت کے مطابق مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے ایک دیہات کے ساحل پر اُگل دیا۔

اﷲ تعالیٰ نے سایہ اور رزق عطا فرمایا

اﷲ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ساحل پر اُگل دیا۔آپ علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو ایک دن کے بچے سے بھی زیادہ نرم اور لجلجے ہوچکے تھے۔ایک دن کے بچے کے ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیاں ،پسلیاں اور سر کی ہڈیاں ذرا سخت ہوتی ہیں۔لیکن آپ علیہ السلام کی وہ سب ہڈیاں بھی انتہائی نرم ہو چکی تھیں،اور حالت یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے سایہ کا انتظام پہلے ہی کر دیا تھا۔اور جس جگہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تھا،اُس جگہ اﷲ تعالیٰ نے پہلے سے ہی چوڑے پتوں والی ”بیل“یا ”درخت“لگا دیا تھا۔اور اُس جگہ مسلسل سایہ رہتا تھا،اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے رزق کا بھی انتظام کر دیا تھا۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔مچھلی کو حکم ہوا کہ میدان میں حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دے،اور اُس نے اگل دیا۔اور وہیں پر اﷲ تعالیٰ نے اُن پر اُن کی نحیفی،کمزوری اور بیماری کی وجہ سے چھاو¿ں کے لئے کدو کی بیل اُگا دی،اور ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا۔جو صبح شام آپ علیہ السلام کے پاس آجاتی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کا دودھ پی لیتے تھے۔امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خالی جگہ پر اُگل دیا۔اور اﷲ تعالیٰ نے اُن پر کدو کی بیل اُگا دی۔اور اﷲتعالیٰ نے ایک جنگلی بکری کو مقرر کر دیا،جو امین پر گھاس پھونس چرتی تھی،اور اُن پر آکر اپنی ٹانگیں پھیلا دیتی تھی۔اور صبح شام آپ علیہ السلام کو دودھ پلایا کرتی تھی،یہاں تک کہ آپ علیہ السلام طاقتور ہو گئے۔

تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے

اﷲتعالیٰ نے جب مچھلی کو حکم دیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو زمین پر اُگل دے تو وہ ساحل پر آئی ۔جس جگہ مچھلی ساحل پر آئی تھی،اُس جگہ اﷲتعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیج دیا۔مچھلی منہ کھولے ہوئی تھی،اور آپ علیہ السلام اُس کے منہ میں اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان فرما رہے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔مچھلی دریا کے کنارے آئی اور جبرئیل علیہ السلام مچھلی کے منہ کے قریب پہنچے ،اور فرمایا؛”السلام علیک یانبی علیہ السلام!اﷲ رب العزت آپ علیہ السلام کو سلام کہتا ہے۔“حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا؛”اُس آواز کے لئے مرحبا ہو،جس آواز کے متعلق میرا گمان تھا کہ اب وہ مجھے نہیں سنائی دے گی۔“جبرئیل علیہ السلام نے مچھلی سے فرمایا؛”تم اﷲ تعالیٰ کا نام لیکر حضرت یونس علیہ السلام کو اُگل دو۔“مچھلی نے آپ علیہ السلام کو اُگلا تو جبرئیل علیہ السلام نے اُن کو اپنی گود میں لے لیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کا جسم مبارک اِس طرح ملائم تھا،جیسے نوازئیدہ بچہ کا ہوتا ہے۔مچھلی کے پیٹ کی گرمی کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے تمام بال اور ناخن جھڑ گئے تھے،اور جلد بہت زیادہ ملائم ہو گئی تھی۔آپ علیہ السلام چالیسیا پچاس دن میں اتنے طاقتور ہو گئے کہ قوم کے پاس واپس جاسکیں۔

قوم نے استقبال کیا

حضرت یونس علیہ السلام جب طاقتور ہو گئے تو اپنی قوم کی طرف واپس چلے۔جب نینویٰ کے قریب پہنچے تو ایک چرواہے نے آپ علیہ السلام کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔اُس نے آپ علیہ السلام سے یہ درخواست کی کہ مجھے یہ اعزاز دیں کہ میں اپنی قوم کو آپ علیہ السلام کی آمد کی خش خبری سناو¿ں۔آپ علیہ السلام نے اجازت دے دی،اور وہیں رک گئے۔چرواہا خوشی خوشی اپنی بکریوں کو لیکر اپنی قوم کے پاس آیا۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ایک چرواہے نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے پاس جاکر خبر دی کہ اُس نے ا ﷲکے نبی حضرت یونس علیہ السلام کو دیکھا ہے۔لوگوں نے اُس کو جھٹلایا،تب اُس نے کہا کہ میرے پاس دلیل ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس کی بکری کو گویائی (بولنے کی طاقت)دےدی،اور اُس نے کہا؛”ہاں!انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُن کے حق میں گواہی دوں۔“پھر اُن کی قوم چرواہے کے ساتھ اُس وادی میں گئی تو دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہیں۔پوری قوم آپ علیہ السلام کو دیکھ کر رونے لگی،اور آپ علیہ السلام سے درخواست کرنے لگی کہ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں،اِس لئے آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ چلیں،اور ہمیں اسلام کی تعلیم دیں،اور ہماری تربیت کریں۔پھر وہ سب آپ علیہ السلام کو اپنے ساتھ لیکر اپنے شہر میں آئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر آسمان سے برکت برلتیں نازل فرمائیں،اور زمین کے خزانے کھول دیئے۔حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو اﷲ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے رہے،اور اُن کے لئے سنتیں اور شریعتیں قائم کیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا وصال

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم میں کافی عرصہ رہے۔جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا،تب تک آپ علیہ السلام اپنی قوم کو تعلیم وتربیت دیتے رہے،اور اﷲ کے حکامات نافذ کرتے رہے۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔حضرت یونس علیہ السلام کےوصال کے بارے میں احادیث اور مستند روایات میں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ہاں کچھ روایات سے معلوم ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے حج کیا ہے۔لیکن وصال کب اور کہاں ہوا ؟اِس کے بارے میں یقینی بات نہیں کہی جاسکتی ہے۔


حضرت یونس علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا ۔اب حضرت حزقیل علیہ السلام کا ذکر ہیش خدمت ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں