05 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 05
احیائے موتی ٰ کا واقعہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی معجزے عطا فرمائے تھے۔ اُن میں سے ایک معجزہ احیائے موتی ٰ ( مردے کا زندہ ہو جانا) ہے۔ یوں تو آپ علیہ السلا م نے یہ معجزہ بنی اسرائیل کو بہت دفعہ بتایا ہے۔ لیکن یہاں ہم صرف ایک ہی واقعہ ذکر کریں گے۔ احیائے موتی ٰ کا پہلا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔ وہ عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس عورت سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس عورت نے بتایا کہ میری بیٹی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ اس وقت تک اس جگہ سے نہیں ہٹوں گی جب تک مجھے موت نہیں آجاتی یا میری بیٹی زندہ نہیں ہو جاتی۔ میں اسی انتظار میں ہوں کہ دیکھوں اللہ تعالیٰ کیا کرتا ہے؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر تو ایک مرتبہ اس سے بات کر لے گی تو اسے واپس جانے دے گی؟ اس عورت نے کہا ۔ ہاں مجھے یہ شرط منظور ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز اداکی۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ پھر قبر کے پاس بیٹھ گئے اور آواز لگائی۔ اے فلاں ( بچی کا نام لے کر پکارا)اللہ رحمن کے نام سے کھڑی ہو جا ۔پہلی آواز پر قبر میں ایک لرزش پیدا ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے دوسری آواز لگائی تو قبر پھٹ گئی ۔ پھر آپ علیہ السلام نے تیسری آواز لگائی تو وہ بچی سر سے مٹی جھاڑتی ہوئی قبر سے باہر آگئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اتنی دیر کیوں لگی؟ تو اس بچی نے جواب دیا۔ آپ علیہ السلام کی پہلی آواز پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا ۔ اس نے میری بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کیں ۔دوسری آواز پر میری روح میرے بدن میں داخل ہو گئی۔ اور تیسری آواز جو آپ علیہ السلام نے لگائی تو میں ڈر گئی کہ یہ قیامت کی چیخ ( صور) ہے۔ اس کی وجہ سے میرے سر اور ابرو اور پتلیوں کے بال سفید ہو گئے۔ پھر وہ بچی اپنی والدہ کی طرف بڑھی اور بولی۔ امی جان ، آپ نے ایسا کیوں کیا کہ مجھے دو مرتبہ موت کا ذائقہ چکھنا پڑ رہا ہے۔ اے میری امی جان، صبر اور تحمل سے کام لیں مجھے دنیا کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ بچی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آخرت کی طرف لوٹا دے۔ اور مجھ پر موت کی سختی کو آسان کر دے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لڑکی کو دوبارہ موت آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسے دفن کر کے مٹی برابر کر دی۔ جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے علماءکو اس عورت نے یہ واقعہ بتایا تو ان کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اور نیک دل بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کا یقین حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور بڑھ گیا۔
مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو معجزات عطا فرمائے تھے ان میںسے ایک معجزہ مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا ہے۔ ایسے بہت سے واقعات کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ہم ایک ہی واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اسکول یا مدرسہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ کہ آپ علیہ السلام نے مٹی اٹھائی اوراپنے دوستوں سے کہا میں اس مٹی سے تمہارے لئے ایک پرندہ بنا دیتا ہوں۔ اُن کے دوستوں نے کہا ۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے مٹی سے ایک پرندہ بنایا۔اور اُس میں پھونک ماردی ۔ اور فرمایا؛تُو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے والا ہو جا۔ تو وہ پرندہ آپ علیہ السلام کے ہاتھوں سے نکل کر اڑنے لگا۔ بچوں نے جا کر اپنے استاد سے اس کا ذکر کیا تو استاد نے بنی اسرائیل میں یہ خبر پھیلا دی ۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں دیکھی تو دوسرے علاقے میں اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلانِ نبوت کیا تو بنی اسرائیل کے علماءنے مطالبہ کیا کہ آپ علیہ السلام چمگادڑ پیدا کر کے بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت کا پرندہ بنایا۔ اور پھونک مار کر فرمایا۔ اللہ کے حکم سے اڑ جا۔ تو وہ اڑنے لگا۔ جب تک لوگ دیکھتے رہے۔ وہ چمگادڑ اڑتی رہی اور جب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو ئی تو مر کر زمین پر گر گئی ۔
پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کا علاج
جس نبی یا رسول کے زمانے میں جس چیز کا زیادہ چلن ہو تا تھا اللہ تعالیٰ اُس نبی یا رسول کو ویسا معجزہ عطا فرماتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بہت زور تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے عصا اور ہاتھ کے چمکنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ جسے دیکھ کر تمام جادوگروں نے پہچان لیا تھا کہ یہ اللہ کی نشانی ہے۔ اور ایمان لے آئے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت طبّ کا غلبہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیماروں کو اچھا کرنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ اس زمانے میں پیدائشی اندھا ہونا اور برص کے مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی دعا سے اور ہاتھ پھیرنے سے پیدائشی اندھے اور برص کے مریض اچھے ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی شہرت پورے بنی اسرائیل میں پھیلنے لگی۔ اور دور دور سے لوگ آپ علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں علاج کروانے لگے۔ بعض اوقات تو ایک دن میں پچاس ہزار تک مریض آجاتے تھے۔ آپ علیہ السلام تمام مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔
انجیل کا نزول
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر” توریت“ نازل ہوئی تو رمضان کی چھ راتیں گزر چکی تھیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر”زبور“ نازل ہوئی تو رمضان کی بارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور زبور، توریت کے چار سو بیاسی 482سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر” انجیل“ نازل فرمائی تو رمضان کے مہینے کی اٹھارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور انجیل ،زبور کے ایک ہزار پچاس 1050سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول جب شروع کیا تو ماہِ رمضان کی سترہویں یا چوبیسویں رات تھی۔ اور یہ نزول لگ بھگ23برس تک چلتا رہا۔ اور قرآن پاک ، انجیل کے لگ بھگ پونے چھ سو575سال بعد نازل ہونا شروع ہوا۔
٭ انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی تو وحی فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم ، میری عبادت میں سستی نہ کر۔ اور اے پاکیزہ دوشیزہ عِفت مآب عورت کے بیٹے ۔ سُن اور اطاعت کر۔ اللہ نے تجھے بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ اور میں نے تجھے عالمین کے لئے نشانی کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ صرف میری عبادت کر ۔اور صرف مجھ پر بھروسہ کر۔ اور مضبوطی سے کتاب کو تھام لے۔ اور اس کی تفسیر بیان کر۔ اور لوگوں کو یہ پیغام دے کہ میں (اللہ تعالیٰ) حق ہوں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوں۔اور میں کبھی زوال پذیر نہیں ہوں گا۔ اور لوگوں کو بتاﺅ کہ وہ نبی¿ عربی صاحب الجمل والتاج ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق کریں۔ وہ نبی¿ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم خوب صورت آنکھوں والا، کشادہ پیشانی والا اور واضح رخساروں والا ہو گا۔ جس کے بال گھنگریالے ہوں گے۔ داڑھی مبارک گھنی ہوگی۔ ناک بلند ، سامنے کے دانتوں میں تھوڑا فاصلہ ہوگا اور تھوڑی تنگی نہیں ہوگی۔ جس کی گردن مبارک گویا چاندی کی صراحی ہو ۔ جس کے نچلے حصے میں سونا چل رہا ہو۔ سینے سے لیکر ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر ہوگی۔ ہاتھ پاﺅں بھرے بھرے ہوں گے۔ وہ جس طرف بھی متوجہ ہو گا تو پوری طرح متوجہ ہوگا۔ اور جب چلے گا تو ایسے چلے گا جیسے بلندی سے اتر رہا ہو۔ اُن کے چہرے پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکے گا۔ اور پسینے سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ایسا کوئی رعنا نہ پہلے کبھی دیکھا گیا ہے اور نہ کبھی دیکھا جائے گا۔ وہ حسین قامت اور خوشبو والے ہوں گے۔ وہ کئی عورتوں سے نکاح کریں گے۔ لیکن اولاد کم ہو گی۔ مگر پھر بھی اس سے بابرکت نسل چلے گی۔ جنت میں اُ س کے لئے زبرجد کا مکان ہوگا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) آخری زمانے میں تو اس آخری رسول کی اُمت کی کفالت کرے گا۔ میری بارگا ہ میں اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام ہے جو کسی انسان کو حاصل نہیں ہے۔ اُس پر نازل ہونے والا کلام ”قرآن مجید“ کہلائے گا۔ اس کا دین ”اسلام “ہوگا۔ اور اسے قبول کرنے والا سلامتی پائے گا۔ ”طوبیٰ “ہے اُس شخص کے لئے جو اس کا زمانہ پائے گا۔ اس کے دنوں کو دیکھے گا۔ اور اس کے کلام کو سنے گا اور اُس پر ایمان لائے گا۔
طوبیٰ کیا ہے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ؛” اے اللہ تعالیٰ !یہ طوبیٰ کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ؛”یہ ایک درخت ہے۔ جسے میں نے ( اللہ تعالیٰ نے) اپنے دست ِ قدرت سے لگایا ہے۔ یہ درخت تمام جنتوں میں ہے۔ اس کا تنہ ”رضوان“ سے ہے۔ اور اسمیں سے ”تسنیم “کی نہر نکلی ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا اور ذائقہ زنجبیل کا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی ہے۔ جو اس میں سے ایک گھونٹ بھی پی لے گا۔ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ “حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ !مجھے اس کا پانی پلا دے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔؛”اس کا پانی اُس وقت تک کوئی بھی نبی نہیں پی سکتا جب تک وہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی نہیں پی لے گا۔ اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے بعد دوسرے انبیائے کرام اس کا پانی پی سکیں گے۔اور جب اُس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کا پانی پی لے گی تب دوسرے انبیائے کرام کی امتوں کو اس کا پانی ملے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم( علیہ السلام )!میں تمہیں اپنی طرف اٹھالوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ تُومجھے کیوں اٹھالے گا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” میں تجھے اٹھاﺅں گا پھر آخری زمانے میں نیچے اتاروں گا۔ تاکہ تم اُس آخری نبی کی امت کی دجّال کے مقابلے پر مدد کر سکو۔ میں تجھے نماز کے وقت اتاروں کا پھر تُو اُن کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔ کیوں کہ یہ اُمتِ مرحومہ ہے۔ اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ”خاتم النبیین “ہیں۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اوصا ف
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس امتِ مرحومہ کے بارے میں آگاہ فرمائیے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” وہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت ہے۔ اس امت کے لوگ علماءاور حکماءہوں گے،گویا وہ انبیاءہوں ۔ میری تھوڑی سی عطا پر راضی ہو جائیں گے۔ میں بھی اُن کے تھوڑے سے عمل سے راضی ہو جاﺅں گا۔ اور میں انھیں صرف” لا اِلہ الااللہ“ کی وجہ سے جنت میں داخل کروں گا۔اے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جنت کے زیادہ تر باسی ( رہنے والے) اسی اُمت کے ہوں گے۔ کیوں کہ کسی اُمت نے” لا الہ الا للہ“ کا اتنا ذکر نہیں کیا ہوگا جتنا اس اُمت کے لوگ اس کلمے کا ذکر کریں گے۔ اور کسی اُمت کے سر سجدے میں اتنے نہیں جھکے جتنے سر اس اُمت کے سجدے میں جھکیں گے۔“
بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام)! عنقریب یہ بنی اسرائیل تجھ سے کہیں گے کہ ہم روزے رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے روزے قبول نہیں ہوتے۔ ہم صدقہ کرتے ہیں مگر ہمارا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ ہم اونٹنی کے بچے کی طرح بلبلا کر روتے ہیں مگر ہماری آہ وزاری پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ان سے پوچھو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں تمہاری ( بنی اسرائیل کی ) عبادت اور تمہاری آہ وزاری پر رحمت کی نظر نہیں کی جاتی؟ کیا میرے خزانوں میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے؟ کیامیں آسمانوں اور زمینوں کا مالک نہیں ہوں؟ کیا میری رحمت کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے؟ رحم اُن پر کیا جاتا ہے جو میری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) اگر یہ لوگ دنیا کے دھوکے میں نہ پڑتے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے تو انھیں حق معلوم ہو جاتا۔ اور انھیں یہ معلوم ہو جاتا کہ ان کے نفس ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔میں کیسے ان کے روزوں کو قبول کرلوں ۔ جب کہ وہ روزے رکھ کر حرام مال اکٹھا کرتے ہیں۔ میں کیسے ان کی نمازوں کو قبول کرلوں۔ جب کہ ان کے دل میرے دشمنوں سے محبت کرتے ہیں۔ اور میری حرام کی کوئی چیزوں کوحلال سمجھتے ہیں۔ میں اُن کے صدقات کو کیسے قبول کرلوں۔ جب کہ وہ لوگوں پر غصہ کرتے ہیں اور ناجائز طریقے ( سود) سے اس مال کو حاصل کرتے ہیں۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) میں انھیں وہی بدلہ دیتا ہوں جس کے وہ لائق ہوتے ہیں۔ میں ان کی آہ وزاری پر کیسے رحم کروں۔ ان کے ہاتھ انبیاءکے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ میں ان سے سخت ناراض ہوں۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں