پیر، 5 جون، 2023

05 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


05 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 05

یہو سفط ( یہو شاط) اور اخزیا کی بادشاہت

حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ ( اسرائیل) کے بادشاہ اخی اب اور وہاں کے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دیتے رہے تھے۔ اس لئے سلطنت یہودیہ کا ذکر نہیں ہو سکا تھا۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے تھے کہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ آسا بن ابیا اسلامی حکومت چلا رہا تھا۔ اس کی حکومت کے اڑتیس38ویں سال میں اخی اب سلطنت سامریہ ( اسرائیل) کا حکمراں بنا تھا۔ اکتالیس 41سال حکومت کرنے کے بعد آسا بن ابیا کا انتقال ہو گیا۔ آسا بن ابیا کے تفصیلی حالات انشاءاللہ ہم آگے بیان کریں گے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا یہو سفط( یہو شاط) سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا۔ جس وقت وہ بادشاہ بنا تو سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) کے بادشاہ اخی اب کو حکومت کرتے ہوئے چار 4سال ہو چکے تھے۔ یہوسفط اور اخی اب نے آپس میں صلح کر لی تھی۔ اس لئے بنی اسرائیل کی دونوں حکومتوں میں اس دوران کوئی جنگ نہیں ہوئی ۔ اور اسی دوران حضرت الیاس علیہ السلام کے مذکورہ واقعات پیش آئے۔ جب اخی اب کو حکومت کرتے ہوئے اکیس21سال اور یہو سفط کو حکومت کرتے ہوئے 17سال ہو چکے تھے تب سلطنت سامریہ کے پڑوسی بادشاہ ارام نے اخی اب پر حملہ کر دیا۔ اس نے مدد کے لئے یہو سفط( یہو شاط) کو بلایا۔ اور دونوں نے مل کر ارام کا مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں اخی اب مارا گیا۔ اور اس کی جگہ اس کا بیٹا اخز یا بن اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا ۔ جب اخزیا بادشاہ بنا تو یہو سفط کو سلطنت یہودیہ پر حکومت کرتے ہوئے سترہ 17سال ہو چکے تھے۔

سلطنت یہودیہ میں بھی بُت پرستی کی شروعات

سلطنت یہودیہ کے بادشاہ یہو سفط یا یہو شاط کو حکمرانی کرتے ہوئے سترہ سال گزر چکے تھے۔ تب اخزیا سلطنت سامریہ ( اسرائیل ) کا بادشاہ بنا۔ یہ بھی اپنے باپ اخی اب کی طرح بت پرست تھا۔ اور اس نے بھی حضرت الیاس علیہ السلام سے دشمنی کی۔ دو سال تک حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی جگہ اس کا بھائی یہورام بن اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا۔ یہ بھی بت پرست تھا۔ اس کی حکمرانی کرتے ہوئے جب پانچ سال ہوئے تو سلطنت یہودیہ کا بادشاہ یہو سفط یا یہو شاط کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا حکمراں یہورام بن یہوسفط بن گیا۔ اب بنی اسرائیل کی دونوں مملکتیں یعنی سلطنت یہودیہ اور سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) پر یہورام نام کے بادشاہوں کی حکومت تھی۔ آسا بن ابیاہ نے جو بت پرستی کا خاتمہ کر کے اسلامی حکومت قائم کی تھی وہ اس نے اکتالیس41سال تک چلائی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یہو سفط بادشاہ بنا اور اس نے بھی سلطنت یہودیہ میں بت پرستی نہیں ہونے دی اور پچیس سال تک اسلامی حکومت چلائی۔ اس دوران حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ ( اسرائیلیہ ) کے بادشاہ اخی اب ، اس کے بعد اخزیا اور پھر اس کے بعد یہورام بن اخی اب کو سمجھاتے رہے لیکن وہ مسلسل بت پرستی میں مبتلا رہے۔ سلطنت یہودیہ کی طرف سے آپ علیہ السلام کو اطمینان تھا کیوں کہ ابھی تک وہ بت پرستی سے بچی ہوئی تھی۔ لیکن جب یہورام بن یہو سفط سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا تو ا س نے سلطنت سامریہ کے بادشاہ یہورام بن اخی اب کی بہن سے شادی کرلی اور اخی اب کی بیٹی وداع ہو کر سلطنت یہودیہ میں آئی تو اپنے ساتھ بعل کا بت بھی لے کر آئی اور دھیرے دھیرے اس نے اپنے شوہر کو بعل کی پوجا پر راضی کر لیا۔ اور پھر سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی ہونے لگی۔ اب حضرت الیاس علیہ السلام کی ذمہ داری اور بڑھ گئی تھی۔

حضرت الیاس علیہ السلام بیت المقدس میں

حضرت الیاس علیہ السلام کو جب معلوم ہوا کہ سلطنت یہودیہ میں بھی بت پرستی ہونے لگی ہے تو آپ علیہ السلام یروشلم ( بیت المقدس) کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یسع علیہ السلام بھی ساتھ تھے۔ سلطنت یہودیہ میں گھوم گھوم کر آپ علیہ السلام وہاں کی عوام ( بنی اسرائیل ) کو سمجھاتے رہے۔ اور ساتھ ہی بادشاہ یہورام بن یہو سفط کو بھی سمجھاتے رہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن سورہ الصافات میں لکھتے ہیں ۔ اُسی زمانہ میں بیت المقدس کی یہودی ریاست ( سلطنت یہودیہ) کے بادشاہ یہورام بن یہو سفط نے اسرائیل ( سلطنت سامریہ ) کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اور اس مشرک شہزادی کے اثر سے وہی تمام خرابیاں جو اسرائیل ( سلطنت اسرائیلیہ یا سامریہ ) میں پھیلی ہوئی تھیں وہ یہودیہ کی ریاست ( سلطنت یہودیہ ) میں بھی پھیلنے لگیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے یہاں بھی فریضہ¿ نبوت ادا کیا۔ اور یہو رام بن یہو سفط کو ایک خط لکھا، جس کے الفاظ بائیبل میں اس طرح ہیں۔ ”خدا وند تیرے باپ داﺅد ( علیہ السلام )کا خدا یوں فرماتا ہے۔ اس لئے کہ تو نہ اپنے باپ یہوسفط کے راستے پر اور نہ ہی اپنے دادا آسا بن ابیا ہ کے راستے پر چلا ۔ بلکہ اسرائیل ( سلطنت سامریہ) کے بادشاہوں کے راستے پر چلااور یہودہ (سلطنت یہودیہ) اور یروشلم (بیت المقدس) کے باشندوں کو زناکار بنایا۔ جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا۔ سو دیکھ خدا وند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا۔ اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی۔“

حضرت الیاس علیہ السلام کا وصال

حضرت الیاس علیہ السلا م نے برسوں بنی اسرائیل کی دونوں حکو متوں کے بادشاہوں اور عام بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے۔ بادشاہوں نے تو مخالفت ہی کی ، البتہ عوام میں سے بہت سے لوگوں نے چوری چھپے آپ علیہ السلام کی بات کو مانا لیکن اکثریت بت پرستی میں مبتلا رہی۔ اس دوران حضرت یسع علیہ السلام مسلسل آپ علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور حضرت یونس علیہ السلام کو بھی حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ”قوم نینوا “ کی طرف بھیجا۔ اس کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت یونس علیہ السلام کے حالات میں کریں گے۔ اس طرح مسلسل حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آگیا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں۔ اور یقینی طور سے صرف اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال کس طرح ہوا ہے؟ اس بارے میں بائیبل میں کچھ ذکر ملتا ہے جو قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ اور یہ واقعہ کافی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ ہمیں صرف اتنا یقین رکھنا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ کیسے ہوا؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔

حضرت یسع علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت الیاس علیہ السلام کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یسع علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔ حضرت یسع علیہ السلام کے سلسلہ ¿ نسب کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حافظ ابو القاسم ابن عسا کر اپنی تاریخ میں حرف ”یائ“ کے تحت حضرت یسع علیہ السلام کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کا اصل نام اسباط ہے۔ اور آپ علیہ السلام اخطوب بن عدی بن شو تلم بن افرائیم بن حضرت یوسف علیہ السلام بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت یسع علیہ السلام ،حضرت الیاس علیہ السلام کے چچا زادبھائی ہیں۔ 

حضرت یسع علیہ السلام کی بعثت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط ( علیہم السلام) کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔“ (سورہ الانعام آیت نمبر86) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو ، اور سب اچھے ہیں۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر 48) حضرت الیاس علیہ السلام کے بعد نبوت کی ذمہ داری حضرت یسع علیہ السلام پر آگئی۔ اور آپ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل یعنی سلطنت یہودیہ اور سلطنت سامریہ ( اسرائیل) دونوں عوام اور حکمرانوں کو سمجھانے لگے۔ اور اس کے لئے آپ علیہ السلام مسلسل سفر میں رہتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام علاقوں میں گھوم گھوم کر انہیں بت پرستی سے روکتے رہے۔ بہت سے بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور بہت سے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام پر ایمان لائے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام ایک شہر سے گزرے تو وہاں کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہمارے علاقے میں زمین بنجر ہے اور پانی بہت خراب ہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالہ منگوایا اور تھوڑا سا نمک منگوا کر پانی میں ڈا ل دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پیالے کا پانی چشمے میں ڈال دیا۔ چشمے کا پانی بالکل صاف اور اچھا ہو گیا۔

موآبیوں کو شکست

حضرت یسع علیہ السلام کے دورِ نبوت میں بنی اسرائیل نے مو آبیوں کو شکست دی۔ سلطنت سامریہ کے سابق بادشاہ اخی اب کے دور ِ حکومت میں موآب کا بادشاہ اسے سالانہ خراج دیاکرتا تھا۔ اخی اب کے انتقال کے بعد جب اس کا بیٹا بادشاہ بنا تو موآب کے بادشاہ نے خراج دینے سے انکار کر دیا۔ اور بنی اسرائیل پر حملے کی تیاری کرنے لگا۔ اخی اب کے بیٹے کو جب اس کی جنگی تیاری کا علم ہو اتو اس نے بھی اپنی فوج کو تیار کیا۔ اور حضرت یسع علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ سے ہماری کامیابی کے لئے دعا کردیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتے رہے ہو، اور اس لائق نہیں ہو کہ تمہارے لئے دعا کی جائے لیکن میں اس امید پر تمہارے لئے دعا کروں گا کہ ہو سکتا ہے ، تم لو گ سنبھل جاﺅ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی۔ اور شدید جنگ کے بعدمو آبیوں کو شکست ہو گئی۔

بنی اسرائیل کو ایک اور موقع

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو موآبیوں پر فتح عطا فرمائی۔ لیکن وہ بد بخت اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں آئے۔ اور گمراہی میں مبتلا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے نتیجے میں انہیں قحط میں مبتلا کر دیا اور ارامیوں کے ظالم بادشاہ کو ان پر مسلط کر دیا۔ سلطنت ارام کے بادشاہ نے سلطنت سامریہ پر حملہ کر دیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ اور یہ اتنا لمبا چلا کہ بنی اسرائیل کے لوگ بھوکے مرنے لگے۔ عوام بادشاہ کے پاس آئے اور کہا ۔ ہمارے لئے کچھ کرو کیوں کہ اب ہمارے بھوکے مرنے کی نوبت آگئی ہے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں اور امیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا حضرت یسع علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی جائے۔ بادشاہ اس بات کو منظور کر لیا اور اپنا ایک آدمی آپ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اپنے بادشاہ سے جا کر کہو کہ ایک میدان میں تمام بنی اسرائیل کو جمع کرے اور خود بھی وہاں حاضر رہے ۔ حکم کے مطابق بادشاہ تمام بنی اسرائیل کے ساتھ وہاں حاضر ہو گیا۔ آپ علیہ السلام اُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے کے بعد فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیا ہے اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سنبھلنے اور سدھرنے کا ایک اور موقع عطا فرما رہا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں