05 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 19
قسط نمبر 5
حضرت عُزیر علیہ السلام کا تعجب
حضرت عُزیر علیہ السلام مسلسل سفر میں تھے اور تمام بنی اسرائیل کے علقوں میں گھوم گھوم کر اُن کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کے مطابق ہدایت دے رہے تھے ۔ بخت نصر آزادی حاصؒ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی مجموعی اور مستحکم حکومت نہیں تھی بلکہ ہر علاقے میں ہر قبیلے نے اپنے اپنے حکمراں بنا لئے تھے جو حضرت عُزیر علیہ السلام کے ماتحت تھے۔ اِسی طرح سفر کرنے کے دوران آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اُلٹی پڑی تھی ۔ چاشت کا وقت ختم ہورہا تھا اور گرمی اور دھوپ کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تو آپ علیہ السلام نے اِسی بستی کے کھنڈرات میں قیام کرنے کا ارادہ فرمایا تاکہ جب دھوپ میں تیزی ختم ہوجائے تو آگے سفر جاری کیا جائے ۔ آپ علیہ السلام اُس اُلٹٰ ہوئی بستی میں داخل ہوگئے اور ایک سایے دار جگہ پر اپنی سواری یعنی خچر سے اُتر پڑے ۔ خچر گھوڑے سے کچھ کم قد کا اور گدھے سے کچھ زیادہ قد کا ہوتا ہے اور عربی میں اِسے گدھا ہی کہا جاتا ہے ۔ اِس لئے واقعہ میں ہم بھءگدھا ہی کہیں گے کیونکہ اکثر علمائے کرام نے جب بھی یہ واقعہ بیان کیا تو یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی سواری ایک گدھا تھا ۔ آپ علیہ السلام اپنے گدھے سے اُترے اور اسے ایک سائے دار جگہ پر باندھ دیا اور آس پاس سے اُس کے کھانے کے لئے چارہ لاکر اسے دے دیا ۔ اِس کے بعد سائے میں بیٹھ کر اپنا کھانا نکالا ۔ آپ علیہ السلام کے پاس انگور تھے اور سوکھی روٹیاں تھیں ۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالے میں انگوڑ کا رس نچوڑا اور سوکھی روٹیاں اُس میں ڈالیں تاکہ خوب اچھی طرح بھگو کر نرم ہاجائیں ۔ اِسی انتظا میں آپ علیہ السلام دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔ آپ علیہ السلام کے اطراف انسانوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی پڑی تھیں ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ، کہیں ہاتھ کی ہڈی پڑی تھی ، کہیں پیر کی ہڈی پڑی تھی اور کہیں کھوپڑی پڑی ہوئیں تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اِن انسانوں کی ہڈیوں کو دیکھ کر تعجب سے سوچا اور فرمایا :”اے اﷲ تعالیٰ! آپ اِن ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنائیں گے ، یقینا یہ تو بہت مشکل کام ہے ، مجھے اِس بات پر بہت تعجب ہورہا ہے ۔“ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا اور موت طاری کردی ۔
سوسال بعد جگایا
اﷲ رب العزت نے آپ علیہ السلام کو اُسی کھنڈر میں سُلا دیا یا موت طاری کردی اور آپ علیہ السلام سوتے رہے اور وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا ۔ دن ہفتوں میں بدلتے رہے ، ہفتے مہینوں میں بدلتے اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے ۔ اِس طرح برسوں گزر گئے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلائے رکھا اور ضرورت کے مطابق کروٹ بھی بدلواتا رہا ۔ آخر کار جب سو سال یعنی ایک صدی گزر گئی تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جگا دیا ۔ آپ علیہ السلام ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر سوچنے لگے کہ میں کتنی دیر سویا تھا؟ اﷲ رب العزت نے اسیک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنی دیر یہاں سوئے رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دن کا کچھ حصہ سویا رہا ہوں ، ایسا لگتا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی سوگیا ہوں جبکہ مجھے ایک یا دو گھنٹوں میں اُٹھ جانا چاہیئے تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ میں کئی گھنٹوں تک سوتا رہا ہوں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کی حیرانی
حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات سن کر فرشتہ مسکرانے لگا ۔ اُس نے اپما تعارف کرایا اور عرض کیا :”دراصل اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تھا اور آپ علیہ السلام دن کا کچھ حصہ نہیں بلکہ سو سال یعنی ایک صدی تک سوتے رہے ہیں ۔ یہ سُن کر حضرت عُزیر علیہ السلام حیرانی سے فرشتے ہو دیکھنے لگے ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ، حضرت کعب اور وہب بن منبہ رضی اﷲ عنہم کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے پُرانی ہڈیاں دیکھیں تو فرمایا :”اﷲ تعالیٰ انہیں اِس حال میں پہنچانے کے بعد زندہ کیسے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے یہ جملہ اﷲ تعالیٰ کے زندہ کرنے کے متعلق شک کی بنا پر نہیں فرمایا بلکہ تعجب کے طور پر کیا تھا ۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا اور اُس نے روح قبض کرلی پھر اُنہیں سو سال تک موت میں رکھا پھر جب سوسال گزر گئے اور اِس دوران بنی اسرائیل میں کئی نئے کام پیدا ہوگئے تب اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ´ اُس نے آپ علیہ السلام کے دل کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام معاملہ سمجھ سکیں اور آنکھوں کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام دیکھ سکیں کہ اﷲ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اُس نے آپ علیہ السلام کے دوسرے اعضاءمکمل کئے اور یہ سب آپ علیہ السلام دکھ رہے تھے ۔ پھر اُس نے ہڈیوں کو گوشت ، بال اور کھال پہنائی اور آپ علیہ السلام اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔ فرشتے نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنا عرصہ اِس حال میں رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ایک دن“ اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام دوپہر کے وقت سوئے تھے اور جب اُٹھے تو دن کا آخری حصہ تھا اور سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا :”نہیں؟ ایک دن بھی نہیں ، بلکہ دن کا کچھ حصہ سویا تھا اور ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا تھا ۔“ فرشتے نے کہا :”آپ علیہ السلام سوسال تک اِس حال میںرہے ۔“
کھانا بالکل تازہ رہا
حضرت عُزیر علیہ السلام ابھی فرشتے کی بات پر غور کررہے تھے کہ فرشتے نے آپ علیہ السلام کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروائی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس پیالے کی طرف دیکھا جس میں روٹیاں انگور کے رس میں بھگونے کے لئے رکھ دیا تھا ۔ وہ بالکل ویسا ہی تازہ تھا اور جو سوکھی روٹیاں اُس میں رکھی تھیں اُسے چھو کر دیکھا تو وہ تھوڑی بہت نرم ہوئیں تھی اور مکمل طور سے بھیگ کر نرم ہونا باقی تھیں ۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے فرشتے کو تکنے لگے کہ اس کے مطابق سو سال گزر چکے ہیں جبکہ ابھی روٹیاں مکمل طور سے بھیگی بھی نہیں ہیں ۔ فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ رب العزت نے سو سال سے اِس کھانے کع اِسی طرح تروتازہ رکھا ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے جب پیالے میں روٹی اور شیرہ کو دیکھا تو اُس میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔”لَم± یَتَسَنِّہ“ کا یہی مطلب ہے کہ اُس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ اِس بات کو آپ علیہ السلام نے عجیب سمجھا تو فرشتے نے عرض کیا ۔ ”آپ علیہ السلام تعجب کررہے ہیں۔ اچھا اُس جگہ دیکھیں ، جہاں اپنی سواری یعنی گدھے کو باندھا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس جگہ دیکھا تو آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا ۔
گدھا (خچر) کی ہڈیاں بوسیدہ ہوکر بکھر گئیں
حضرت عُزیر علیہ السلام کھانے کو تعجب سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہ بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ بس ابھی میں نے روٹیاں شیرے میں بھگوئی ہیں یعنی کچھ گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں ۔ لیکن جب فرشتے کے توجہ دلانے پر اپنی سواری یعنی گدھے کی طرف دیکھا تو یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا کہ گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہیں ۔ یعنی اُسے مرے ہوئے بہت زیادہ عرصہ بیت چکا ہے ۔ ہاں جس رسی سے آپ علیہ السلام نے اُسے باندھا تھا وہ اُسی طرح بندھی ہوئی ہے اور اُسی سے آپ علیہ السلام نے پہچانا کہ یہ گردن ہے ، یہ کھوپڑی ہے اور یہ سینے کا پنجر ہے ۔ آپ علیہ السلام کبھی تازہ کھانے کو دیکھتے اور کبھی گدھے کی بوسیدہ بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھتے ۔ کافی دیر تک دونوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا :”یقینا میں سو سال تک سوتا رہا یا موت میں مبتلا رہا اور سوسال بعد اﷲ رب العزت نے مجھے پھر سے جگایا ہے یا زندہ کیا ہے۔یقین تو مجھے پہلے بھی تھا بس یہ خیال تھا کہ بہت مشکل کام ہے اور اتنا مشکل کام اﷲ تعالیٰ سے اتنی آسانی سے کردے گا ۔“
گدھا زندہ ہوگیا
حضرت عُزیر علیہ السلام سے فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے یہ سوچا کہ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے دوباتہ زندہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام اﷲ رب العزت کس طرح آسانی سے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”بے شک! میں یہی غور کررہا تھا۔“ فرشتے نے کہا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اﷲ رب العزت کتنی آسانی سے دوبارہ زندہ کرے گا؟ اور آپ علیہ السلام کے گدھے کی بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے کس طرح زندہ کرے گا؟“ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ۔ فرشتے نے کہا :”اے ہڈیو! اﷲ تعالیٰ کے حُکم سے جمع ہوکر گدھے کے ڈھانچے کی شکل اختیار کرلو ۔“ آپ علیہ السلام نے ہڈیوں کی طرف حیرانی سے دیکھا کہ تمام ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوگئی اور دھیرے دھیرے گدھے کا ڈھانچہ بننے لگا ۔ یہاں تک کہ گدھے کا مکمل ڈھانچہ بن گیا ۔ اِس کے بعد ہڈیوں کے ڈھانچے پر گوشت چڑھنا شروع ہوا ، گوشت چڑھنے کے بعد اُس پر کھال چڑھنا شروع ہوئی اور کھال پر مکمل طور سے بال آگئے تو گدھا کان جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔
اﷲ کا شکر ادا کیا
حضرت عُزیر علیہ السلام متحیر سے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کررہے تھے کہ کس طرح تمام ہڈیاں ایکدوسرے سے جُڑیں اور گوشت چڑھا ، اُس پر کھال چڑھی اور بال آگئے اور گدھا آواز لگاتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔ آپ علیہ السلام فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور اﷲ رب العزت کی تعریف بیان فرمائی :”اے اﷲ تعالیٰ! بے شک تمام حقیقت مجھ پر روشن ہوگئی ہے اور میں جان گیا ہوں کہ اﷲ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ۔ یہ تو مجھے پہلے بھی اطمینان تھا لیکن براہ راست دیکھنے سے میرا یقین اور پختہ ہوگیا ۔ اے اﷲ رب العزت! آپ نے ہی اِس کائنات اور ہر مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا فرمایا ہے پھر موت دے گا پھر زندہ کریں گے اور بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے صحیح راستہ بتا کر میری رہنمائی فرمائی۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں