04 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 20
قسط نمبر 4
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے پھل رزق میں عطا فرمائے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی خدمت کے لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو قبول کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کوکوئی اولاد نہیں تھی۔ یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی خدمت کے لئے لڑکے کی بجائے لڑکی کو بھی قبول کر سکتا ہے تو مجھے بڑھاپے میں ضرور اولاد عطا فرمائے گا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطا فرما۔ بے شک تو ہی سب کی سننے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اِسی جگہ زکریا(علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی۔کہا کہ اے میرے رب!مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بے شک تُو دعا کا سننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 38)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے،جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام ) پر کی ۔جب اُس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی ۔اے میرے رب !میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے۔لیکن میں کبھی بھی دعا کر کے محروم نہیں رہا۔مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔میری بیوی بھی بانجھ ہے،پس تُو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔“(سورہ مریم آیت نمبر 2سے6تک)
حضرت زکریا علیہ السلام کا اﷲ پر یقین
حضرت زکریا علیہ السلام کو اﷲ کی ذات پر مکمل یقین تھا،اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کرآپ علیہ السلام کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ اِس بڑھاپے میں بھی مجھے اولاد عطا فرما دے گا۔مولانا مفتی محمد شفیع سورہ آل عمران کی آیت نمبر 38کی تفسیر میںلکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام کے اُس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی اور زمانہ بھی بڑھاپے کا آگیا تھا،جس میں عادةً اولاد نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرتِ خداوندی کا اُن کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات بڑھاپے میں بھی اولاد دے سکتی ہے۔لیکن چونکہ اﷲ کی عادت آپ علیہ السلام نے مشاہد نہیں فرمائی تھی کہ وہ بے موقع بے موسم چیزیں عطا کرتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام کو اولاد کے لئے دعا کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔لیکن اُس وقت جب آپ علیہ السلام نے دیکھ لیا کہ اﷲتعالیٰ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو بے موسم پھل اور میوے عطا فرما رہا ہے تو اب آپ علیہ السلام کو بھی سوال کرنے کی جرا¿ت ہوئی۔کہ جو قادرِ مطلق بے موقع پھل عطا کر سکتا ہے وہ بے موقع اولاد بھی عطا فرمائے گا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے۔اِس نوجوان صالحہ لڑکی رضی اﷲ عنہا کو دیکھ کر فطرةً اُن کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش !اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا فرمائے۔اور یہ دیکھ کر کہ اﷲ تعالیٰ کس طرح اپنی قدرت سے اِس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے ،انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اﷲ چاہے تو اِس بڑھاپے میں بھی اُن کو اولاد عطا فرما سکتا ہے۔
حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت
حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر پہلے بھی پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اپنے لئے بڑھاپے میں اولاد کی دعا اسی لئے کی کہ اللہ تعالیٰ میری بانجھ بیوی کو بھی اولاد کا سکھ دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ آپ علیہ السلام اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کا پیغام سنانے ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ فرشتے نے کہا۔ اے حضرت زکریا علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ تمہیں یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں۔ وہ یعنی یحییٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا۔ وہ سردار ہو گا۔ اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔ اور نبی ہوگا۔ اورہمارے خاص بندوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس فرشتوں نے انہیں آواز دی ،جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے،کہ اﷲ تعالیٰ تجھے یحییٰ (علیہ السلام ) کی یقینی خوش خبری دیتا ہے۔جو اﷲ کے کلمہ(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہے۔سردار،ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے نبی ہے۔۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 39)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے زکریا(علیہ السلام )!ہم تجھے ایک بچے کی خوش خبری دیتے ہیں۔جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام) ہوگا۔ہم نے اِس سے پہلے اس کا نام بھی کسی کو نہیں دیا ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 7)
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری
اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما لیااور آپ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے مولیٰ !مجھے اِس بڑھاپے میں خاص طور سے اپنی طرف سے ایک پاک و صاف و ستھرا بیٹا عطا فرما۔تُو دعاو¿ں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُونے حنہ کی دعا قبول فرما لی تو میری دعا کوبھی ضرور قبول فرمائے گا۔آپ علیہ السلام بہت بڑے عالم تھے اور بارگاہِ الہٰی میں قربانیاں پیش کرتے تھے۔مسجد شریف میں آپ علیہ السلام کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ علیہ السلام ایک دن مسجد میں نماز میں مشغول تھے اور باہر لوگ اجازت کے منتظر تھے۔دروازہ بند تھا کہ اچانک آپ علیہ السلام نے ایک سفید پوش جوان کو دیکھا ۔وہ جبرئیل علیہ السلام تھے۔انہوں نے آپ علیہ السلام کو اِس حال میں خوش خبری سنائی کہ اے زکریا علیہ السلام ! تمہاری دعا قبول ہوئی۔رب تعالیٰ تمہیںایک صالح متقی بیٹا عطا فرمائے گا۔جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گااور وہ بہت سی خوبیوں کا مالک ہوگا۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوبیاں
اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بشارت دی کہ تمہارا بیٹا یحییٰ علیہ السلام بہت ساری خوبیوں کا مالک ہوگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں ہی تھے کہ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ علیہ السلام کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا ،جس کا نام یحییٰ رکھنا۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اﷲ کی طرف سے ہے۔یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی حیا ایمان کی وجہ سے ہو گی۔وہ اﷲ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے۔حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ سبسے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ہیں۔اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔سید کے معنی حلیم ،برد بار ،علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیز گار، فقیہ ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل،جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں۔حصور کے معنی عورتوں سے دور رہنے والا،حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام ہی اﷲ سے بے گناہ ملیں گے،(کیونکہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے)قاضی ثناءاﷲ پانی پتی ”سید“کے معنی میں لکھتے ہیں۔آپ (حضرت یحییٰ )علیہ السلام اپنی قوم میں رئیس تھے،علم ، عبادت ، تقویٰ اور تمام بھلائی کے کاموں میں اُن سے بڑھکر تھے۔امام مجاہد(جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں کہ ”سید “کا معنی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے ،اِس کا معنی حلیم ہے،جسے کوئی چیز غصہ نہیں دلا سکتی ۔امام سفیان نے کہا جو حسد نہیں کرتا ایک قول ہے کہ معنی قناعت کرنے والا۔”حصورا “کے معنی میں لکھتے ہیں۔اس کی اصل ”حصر“ہے۔جس کا معنی روکنا منع کرنا ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے۔ایک قول کیا گیا ہے کہ وہ اِس خواہش سے بے نیاز تھے،جس طرح ایک روایت میں آیا ہے۔میں (قاضی ثناءاﷲ پانی پتی) کہتا ہوں کہ بہتر بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ انہیں روک دیا گیا۔(وہ محفوظ تھے)اپنے نفس کو خواہشات اور لہو لعب کے کاموں سے روکنے والے تھے۔
حضرت زکریا علیہ السلام کا تعجب
فرشتے نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور بشارت سنائی تو آپ علیہ السلام سجدہ¿ شکر ادا کرنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد عرض کیا کہ اے اللہ تعالیٰ ، یہ تعجب کی بات ہے کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اور میر ی بیوی بانجھ ہے۔ اس کے باوجود تو مجھے لڑکا عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ بے شک ایسا ہی ہوگا۔ اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیںکر سکے گا۔ صرف اشارے سے بات کر سکے گا۔ اور اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح اور شام اس کی خوب پاکی بیان کرو۔ اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 120برس تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی زوجہ ایشاع اُس وقت 90نوّے سال سے زیادہ عمر کی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(حضرت زکریا علیہ السلام) کہنے لگے ،اے میرے رب !میرے یہاں بچہ کیسے ہوگا؟میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔فرمایا،اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 40)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے ،میرے رب !میرے یہاں لڑکا کیسے ہو گا؟میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے ک انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں۔(سورہ مریم آیت نمبر8)مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے جب فرزند کی بشارت سنی تو عرض کیا کہ اے مولیٰ !میرے فرزند کیونکر ہوگا ؟میں تو ایک سو بیس120سال کا بوڑھا ہوں اور میری بیوی اٹھانوے98سال کی بوڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ بانجھ بھی ہے۔آیا ہماری حالتوں میں تبدیلی کی جائے گی یا ہم دونوں اسی طرح رہیں گےاور فرزند ہو جائے گا۔جواب ملا کہ اے زکریا علیہ السلام !تمہارے اولاد ایسے ہی ہوگی نہ تمہاری جوانی لوٹے گی اور نہ تمہیں دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ تمہاری بیوی میں تبدیلی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ جا چاہتا ہے کرتا ہے وہ ہر طرح سے قادر ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں