جمعرات، 8 جون، 2023

04 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام Story of Prophet Yunis and Hazqeel



04 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر17

قسط نمبر 4

حضرت یونس علیہ السلام قوم میں واپس نہیں آئے

حضرت یونس علیہ السلام ایک اونچی پہاڑی پر قیام پذیر تھے۔ اور وہاں سے عذاب آتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اور ادھر قوم کا یہ حال تھا کہ انہوں نے سچے دل سے توبہ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب واپس لے لیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام اس تحقیق و جستجو میں تھے کہ قوم کے ساتھ کیا حالات پیش آئے؟ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی تفسیر طبری میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو بستی کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام ان کی طرف اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے تو انہوںنے رد کر دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ، میں ان پر فلاں فلاں وقت اپنا عذاب نازل فرما نے والا ہوں۔ ان کے درمیان سے نکل جانا۔ اور اپنی قوم کو بتا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ لوگوں نے کہا۔ تاڑ میں رہنا۔ اگر وہ تمہارے درمیان سے نکل جائے تو انہوں نے جو وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ پورا کرنے والا ہے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح عذاب آنے کا وعدہ کیا گیا تھا تو آپ علیہ السلام رات کو نکل گئے۔ قوم نے انہیں جاتے دیکھ لیا اور وہ ڈر گئے۔ وہ بستی سے کھلی جگہ پر نکلے۔ جانوروں اور ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ بارگاہ میں آہ وزاری کی ، توبہ کی اور معافی کے طلب گار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی۔ حضرت یونس علیہ السلام بستی اور ان کے رہنے والوں کی خبر کے بارے میں منتظر تھے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے حالات دریافت فرمائے۔ اس نے جواب دیا۔ جب ان کو پتہ چلا کہ ان کا نبی( علیہ السلام )ان کے درمیان سے نکل گیا ہے۔ تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کے نبی نے جس عذاب کے آنے کا وعدہ کیا تھا وہ ضرور آئے گا۔ اور وہ سچے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کی اور توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اور عذاب کو ان پر سے ہٹا دیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا۔ قوم پر عذاب ہونے کی صورت میں اگر میں ان کے پا س واپس گیا تو جھوٹا کہلاﺅں گا اور میں ایک جھوٹے کی حیثیت سے ان کی طرف نہیں جاﺅں گا۔ اور وہاں سے چلے گئے۔

کشتی رُک گئی

حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی قوم کے پاس واپس جانے سے حیا آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے ان سے دور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام یہ دیکھ کر کہ عذاب نہیں آیا اپنی قوم کو چھوڑ کر روانہ ہو گئے تو چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچے۔ وہاں جو کشتی والے تھے وہ لوگوں کو کرایہ لے کر دوسرے کنارے پر پہنچاتے تھے۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو پہچان لیا۔ وہ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ انہوں نے کرایہ بھی نہیں لیا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام نے کرایہ دینے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے کرایہ نہیں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کو سوار کر لیا۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو رک گئی۔ کشتی والوں نے بہت کوشش کی کہ آگے بڑھ جائے، لیکن وہ وہیں رکی رہی۔ کشتی والوں نے کہا کہ جو لوگ کشتی میں سوار ہیں ، ان میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جس کی وجہ سے یہ بیچ دریا میں رک گئی ہے۔ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ جب حضرت یونس علیہ السلام نے دیکھا کہ کشتی دریا کے درمیان رکی ہوئی ہے ۔ جب کہ دوسری کشتیاں ان کے دائیں اور بائیں سے گزر رہی ہیں اور ان کی کشتی نہ چلانے سے چل ہی ہے اور نہ ہلانے سے ہل رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے خود دریافت فرمایا کہ اس کشتی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو پتہ نہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ لیکن مجھے اس کا سبب معلوم ہے۔ اس میں کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے آقا کی فرمانبرداری چھوڑ کر بھاگ آیا ہے۔ اور جب تک اس شخص کو تم سمندر میں نہیں ڈال دو گے تب تک یہ کشتی رکی رہے گی۔ اور وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔ (آپ علیہ السلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ اب ایمان لاچکی قوم کے پاس جا کر ان کی کردار سازی اور تعلیم و تربیت کرنا چاہیئے تھا لیکن حیا کی وجہ سے آپ علیہ السلام نہیں گئے) تم لوگ ایسا کرو، مجھے دریا میں ڈال دو۔ لوگوں نے کہا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کو دریا میں نہیں ڈال سکتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا تو پھر قرعہ ڈال لو۔ جس کے نام کا قرعہ کھلے گا۔ اسے دریا میں ڈال دینا۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام کھلا۔

دریا میں چھلانگ لگا دی

حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ کھلا، تو آپ علیہ السلام دریا میں کودنے کی تیاری کرنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ اور کہا۔ حضرت پھر سے قرعہ ڈالتے ہیں۔ دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ لوگوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اور قرعہ ڈالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کا ہی نام کھلا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ ہم لوگ نام ڈال کر قرعہ اندازی کرتے ہیں لیکن پہلے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔ کشتی والوں نے تیر کے ذریعے قرعہ اندازی کی۔ اور یہ طے ہوا کہ جس تیر ڈوب جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پانی میں ڈالے تو سب کے تیر تیرتے رہے اور حضرت یونس علیہ السلام کا تیری پانی میں ڈوب گیا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام دریا میں کودنے لگے تو لوگوں نے پکڑ لیا۔ کیوں کہ سب لوگ جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام انتہائی نیک، سچ بولنے والے اور ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ لوگوں نے کہا۔ حضرت رک جائیے۔ یہ اتفاق سے ہو گیا ہوگا۔ ہم پھر قرعہ ڈالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا تیر پانی پر تیر تا رہ جائے گا اسے پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ تمام لوگوں نے اپنے اپنے تیر پھر سے پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ سب لوگوں کے تیر پانی میں ڈوب گئے اور آپ علیہ السلام کا تیر پانی پر تیرتا رہا۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ان کا دل اس بات کو قبو ل نہیں کر پا رہا تھا۔ انہوں نے پھر کہا۔ ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ تیسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام کے نام ہی قرعہ کھلا۔ آپ علیہ السلام ان کی محبت دیکھ چکے تھے۔ اس لئے اس سے پہلے کہ وہ لوگ سمجھ پاتے ۔ آپ علیہ السلام نے بغیر کسی سے کچھ کہے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اور پانی میں کود گئے۔

مچھلی نے نگل لیا

حضرت یونس علیہ السلام نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ وہ دریا دجلہ تھا۔ اب کون سا دریا تھا، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہر حال آپ علیہ السلام پانی میں کودنے کے بعد کنارے کی طرف تیرنے لگے۔ دریا بہت بڑا تھا اور کنارہ بہت دور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو نگل لے۔ لیکن ان کو کوئی زخم نہیں آنا چاہیے۔ اور وہ ایک امانت کے طور پر تمہارے پیٹ کے اندر رہیں گے۔ اور جب میں تمہیں جہاں اگلنے کا حکم دوں گا ، وہاں اسے اُگل دینا۔ حضرت یونس علیہ السلام پانی میں تیر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے پانی میں کودتے ہی وہ کشتی چلنے لگی تھی۔ اس کے باوجود کشتی پر سوار سب لوگ آپ علیہ السلام کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہ اچانک پانی میں سے بہت تیزی سے ایک بہت بڑی مچھلی ابھری اور اس نے آپ علیہ السلام کو زندہ نگل لیا۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر سب لوگ شدید خوف سے چلّا اٹھے۔ اور کشتی کو تیزی سے چلانے لگے۔ تا کہ اس خوفناک مچھلی سے دور ہو جائیں۔ ادھر مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگلنے کے بعد اپنا رخ بدل لیا۔ اور پانی کے اندر جا کر تیزی سے تیرنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے فرمایا۔ اے مچھلی، ہم نے یونس (علیہ السلام ) کو تیرا رزق نہیں بنایا ہے۔ بلکہ ہم نے تجھے اس کے لئے پناہ گاہ اور مسجد بنایا ہے۔ مچھلی انہیں اپنے پیٹ میں لئے تیرتی رہی ۔ یہاں تک کہ ابلہ سے گزری۔ پھر وہ انہیں لے کر چلی، یہاں تک کہ دجلہ کے پاس سے گزری ، پھر وہ چلی، یہاں تک کہ نینویٰ پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے کنارے پر اُگل دیا۔

مچھلی کے پیٹ میں اللہ کا ذکر اور تسبیح

حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور ادھر ادھر تیرتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام کے لئے ہوا اور رزق کا انتظام کر دیا تھا۔ دن میں مچھلی چلتی رہتی تھی۔ اور رات میں پانی کی تہہ میں جا کر بیٹھ جاتی تھی۔ رات میں آپ علیہ السلام تین اندھیروں میں ہوتے تھے۔ پہلا اندھیرا رات کا ، دوسرا اندھیرا پانی کا، اور تیسرا اندھرا مچھلی کے پیٹ کے اندر کا ہوتا تھا۔ ان اندھیروں میں بھی آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام کو عبوس کرنے کا ارادہ فرمایا تو مچھلی کو حکم دیا کہ اسے پکڑ لے۔ اس کے گوشت کو خراش نہیں لگانا اور اس کی ہڈی کو نہیں توڑنا۔ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو پکڑ لیا۔ اور پھر رات میں سمندر کی تہہ میں اپنے مسکن میں جا بیٹھی۔ جب وہ سمندر کے انتہائی گہرے حصہ میں پہنچی تو حضرت یونس علیہ السلام نے کچھ آواز سنی۔ اور دل میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، یہ کیسی آواز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی۔ جب کہ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندر تھے کہ یہ سمندری مخلوق کی تسبیح ہے ۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں ہی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کرنے لگے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے لئے فرشتوں کی دعا

حضرت یونس علیہ السلام نہایت خشوع خضوع سے مچھلی کے پیٹ کے اندر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آوازمچھلی کے پیٹ سے نکل کر سمندر کے پانی کو پار کرکےآسمانوں میں فرشتوںکو سنائی دے رہی تھی۔امام محمد بن احمد قرطبی ،علامہ محمد بن جریر طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔کہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کر رہے تھے،اور آپ علیہ السلام کی تسبیح کی آواز جب فرشتوں نے سنی تو اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”اے ہمار ے رب!ہم ایک اجنبی علاقہ سے کسی انسان کی مدھم اور کمزور سی تسبیح سن رہے ہیں۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”وہ میرا نیک اور مخلص بندہ یونس (علیہ السلام) ہے،اور اِس وقت ایک مچھلی کے پیٹ کے اندر سے میری تسبیح کر رہا ہے۔“فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !تیرا وہ نیک بندہ جس کے نیک اعمال ہر روز تیری بارگاہ میں بلند ہوتے تھے؟“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ہاں!یہ وہی نیک اور مخلص بندہ ہے۔“یہ سن کر فرشتوں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت یونس علیہ السلام کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اُن کی دعا کو سن کر دوسرے فرشتے بھی آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں