ہفتہ، 10 جون، 2023

04 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


04 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 4

بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ کی اُن پر رحمتیں :

اللہ تعالیٰ نے اس کے آگے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) ان بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے باوجود میں نے در گزر کیا۔ کہ شایدیہ لوگ مجھ سے شرم کرنے لگیںاور میری طرف واپس لوٹ آئیں۔ میں نے انھیں مہلت پر مہلت دی اور انھیں معاف کر تا گیا۔ ان کی عمروں میں اضافہ کیا اور انھیں دیر تک دنیاوی لذت و آسائش سے لطف اندوز ہونے دیا۔ ان کے عُذر کو قبول کیا کہ شاید انھیں بھولا ہوا سبق یاد آجائے ان کی سر کشی کے باوجود ان پر بارشیں برساتا رہا۔ زمین سے ان کے لئے اناج اگاتا رہا انھیں میں نے عافیت کالباس پہنایا اور دشمن پر فتح عطا فرمائی۔ مگر ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور یہ لگاتار مجھ سے دور ہوتے چلے گئے۔

نافرمانیاں چھوڑ نے پر بنی اسرائیل کو بشارت :

اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تم جاکر یہ تمام باتیں بنی اسرائیل کو بتاﺅ۔ ہو سکتا ہے یہ سب سن کر میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنے لگیں۔ اور گمراہیوں اور برائیوں سے نکل آئیں گے تو میں اُن کی دعائیں قبول کرلوں گا۔ اُن کے دشمنوں کو اُن سے دور کردوں گا۔ وہ میری طرف لوٹ آئیں گے تو میں اُن کی عمروں میں اضافہ کر دوں گا۔ وہ غور و فکر کریں گے اور اگر کوئی عذر کریں گے تو میں قبول کروں گا۔ اُن کے نیک اعمال کے بعد اُن پر آسمان سے بارش برساﺅں گا۔ اور اُن کے لئے زمین سے اناج پیدا کر وں گا۔ اور انھیں عافیت کا لباس پہناﺅں گا۔

بنی اسرائیل پر اللہ کا عتاب :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) ، لیکن اگر بنی اسرائیل نے تمہاری بات نہیں مانی اور میری اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی میری نافرمانی کی اور اپنی ضد اور گمراہی پر اڑے رہے اور مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو میری عزت کی قسم، میں انھیں ایسے فتنے میں مبتلا کر دوں گا جو ان سب کو حیران کر دے گا اور صاحب رائے اور دانا شخص بھی گمراہ ہو جائے گا۔ اور پھر میں ان پر ظالم اور جابر اور نافرمان بادشاہ مسلط کر دوں گا اور اس کے د ل سے رحم کا جذبہ نکال دوں گا۔ اس کے ساتھ ایک ایسا لشکر ہوگا جو بادلوں کی طرح ہوگا اور اُن کے جھنڈے شاہین کی طرح اڑتے ہوں گے اُن کے شہسوار عقابوں کی طرح جھپٹیں گے۔ اور آبادیوں کو ویران کر دیں گے۔ شہروں کو کھنڈر بنا دیں گے۔ اور پوری زمین میں فساد برپا کردیں گے۔ اور جو سامنے آئے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اُن کی سنگدلی کا یہ عالم ہو گا کہ کسی پر رحم نہیں کریں گے ۔کسی کی دہائی نہیں سنیں گے۔ وہ شہروں میں بازاروں میں بلند آواز سے چیختے پھریں گے اور اُن کی ہیبت سے لوگ کانپ جائیں گے۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) مجھے میری عزت کی قسم ۔ میں ان بنی اسرائیل کے گھروں کو اپنی کتاب(توریت) سے خالی کردوں گا۔ اور اپنی برکت اٹھا لوں گا۔ ان کی مجلسوں کو اپنے کلام کی گفتگو سے خالی کردوں گا۔ میں ان کی عبادت گاہوں کو وحشت اور تنہائی کی جگہوں میں بدل دوں گا۔ جہاں وہ کافر اپنے غیر خداﺅں کی عبادت کریں گے۔ بنی اسرائیل دین کے بدلے دنیا چاہتے ہیں۔ دوسرے ادیان کو سیکھتے ہیں اور اپنے دین سے لاعلم ہیں۔ علم کو عمل کرکرنے کے لئے نہیں سیکھتے۔ میں ان کے بدشاہوں کو عزت کے بدلے ذلت دوں گا۔ امن کے بدلے خوف میں مبتلا کر دوں گا۔ غنی کے بدلے فقیربنا دوں گا۔ نعمت کے بدلے بھوک عطا کروں گا۔ عافیت اور آرام کے بدلے طرح طرح کی مصیبتیں اُن پر ڈال دوں گا۔ دیباج اور ریشم کی جگہ سخت اور کھردرا لباس دوں گا۔ میں انھیں ارواح طیبہ اور مقدس تیل کے بدلے تعفن زدہ لاشے دوں گا۔ تاج کے بدلے لوہے کے طوق اور زنجیریں پہناﺅں گا۔ ان کے کشادہ محلات اور مضبوط قلعے ویران کر دوں گا۔ پختہ اور خوبصورت گھروں کو درندوں کی کچھاریں بنا دوں گا۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی جگہ بھیڑیوں کی غراہت ہوگی۔ بادشاہوں کے درباروں میں دھواں اور خاک اڑے گی۔ قالینوں پر چلنے کی بجائے انھیں بازاروں میں چلنا پڑے گا۔ میں انھیں طرح طرح کے عذاب دوں گا۔ یہاں تک کہ ایک دن کا بچہ بھی ہلا ک کر دیا جائے گا۔ پھر میں آسمان کو حکم دوں گا کہ وہ بارش نہ برسائے اور زمین کو حکم دوں گا کہ سبزہ اور اناج نہ اگائے۔ اگر بارش برساﺅں گا میں اسے ان کے لئے عذاب بنادوں گا۔ اور اگر اناج یا سبزہ اگاﺅں گا تو اس کی برکتیں چھین لوں گا۔ وہ مجھے پکاریں گے تو میں اعراض کروں گا۔ (یعنی توجہ نہیں کروں گا) وہ چلائیں گے دعا مانگیں گے۔ اے اللہ تعایٰ، تو نے ہمیں اور ہمارے آبا و اجداد کو شروع دن سے ہی چن لیا تھا۔ تو نے ہماری نسل میں نبوت جاری کی تو نے ہمین اور ہمارے اسلاف کو چھوٹی بڑی نعمتوں سے نوازا اور ہماری حفاظت فرمائی۔ اگر ہم بدل گئے تو تو رحمت فرما اور اپنی نعمتوں کو ہم سے واپس نہ لے ۔ ہم پر اپنے فضل اور احسان اور رحم و کرم کی بارش فرما۔ میں اُن کو جواب دوں گا۔ ہاں میں نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت اور نعمت کے لئے چنا تھا۔ انھوں نے میرے حکموں پر عمل کیا تو میں نے اُن پر نعمتوں کی بارش کر دی۔ انھوں نے شکر ادا کیا تو میں نے نعمتوں میں اضافہ کر دیا۔ وہ بدل گئے تو میں بھی بدل گیا۔ انھوں نے دوسروں کی اطاعت قبول کر لی تو میں ناراض ہو گیا۔ اور جب میں کسی سے ناراض ہوتا ہوں تو انھیں عذاب میں مبتلا کر دیتا ہوں۔ اور یاد رکھو کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے عذاب کو برداشت کر سکے۔

بنی اسرائیل کے لئے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی درخواست :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی یہ ناراضگی دیکھی تو عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ تیرا حکم ہو تو میں کچھ عرض کرتا ہوں ۔آج اگر میں باقی ہوں تو تیرے لطف و کرم کی وجہ سے باقی ہوں ۔اور مجھ سے بڑھ کر اس عذاب اوروعید سے ڈرنے کا حقدار اور کون ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ میں خود گنہ گاروں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوں ۔ وہ میرے ارد گرد گناہ کرتے ہیں لیکن نہ انھیں کوئی اندیشہ ہے اور نہ کوئی رکاوٹ۔ پس اگر تو مجھے عذاب دے تو یہ حق ہو گا اور اگر تو مجھ پر رحم کرے تو یہ تیری مجھ پر مہربانی ہوگی۔ اور میں یہی امید رکھتا ہوں اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ تمام حمد و ثنا تیرے لئے ہے۔ تو برکت والا ہے۔ توبلند مرتبے کا مالک ہے۔ کیا تو اس بستی اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ہلاک کر دے گا جس میں تیرے نبیوں نے عمر گزار دی ہے؟ یہ وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔ اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ حمد و ستائش کا حقدار ہے۔ تو بڑی برکت والا ہے۔ اور اس بات سے کہیں بلند ہے کہ اس مسجد( بیت المقدس) او ر اس کے گرد و نواح میں موجود دوسری عبادت گاہوں اور گھروں کو ویرانوں میں بدل دے۔جہاں تیرا ذکر بلند ہوتا رہا ہے اے اللہ تعالیٰ ، تمام تعریف صرف تیرے لئے ہے۔ کیا تو اس امت کو قتل کر ے گا اور عذاب میں مبتلا کر ے گا ۔ حالانکہ یہ تیرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ اور تیرے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے۔ اور تیرے خلیفہ حضرت داﺅد علیہ السلام کو ماننے والی ہے۔ اگر تو ہی ان پر ظالموں کو مسلط کر دے گا تو انھیں کون بچائے گا۔

بنی اسرائیل کو ایک اور موقع :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) یہ بنی اسرائیل لگاتار میری نافرمانی کر رہے ہیں ۔ یہ عبادت گاہوں ، بازاروں میں ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور درختوں کے سایوں میں کھلے عام گناہ کر رہے ہیں۔ ان کی شرارتوں کی وجہ سے آسمان مجھ سے فریاد کر رہا ہے ۔ زمین اور اس کے سینے پر نصب پہاڑ بلبلا اٹھے ہیں ۔ یہ لوگ کہیں بھی گناہوں سے نہیں چوکتے۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) اگر تو انھیں بچانا چاہتا ہے تو انھیں سمجھا۔ انھیں نصیحت کر۔ اور کوشش کر کہ یہ میری طرف رجوع کر لیں ۔ گناہوں سے توبہ کر لیں۔ صرف میری عبادت کریں، یتیموں کی دیکھ بھال کریں۔ بیواﺅں ، مساکین اور مسافروں کے حقوق ادا کریں تو یقینا میں انھیں معاف کر دوں گا۔ اور اگر تیرے سمجھانے کے باوجود انھوں نے مجھ سے منہ موڑا تو میرا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔

بنی اسرائیل نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید کر دیا :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھایا۔ انھیں نصیحت کی اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا ۔ کہ اے بنی اسرائیل ابھی وقت ہے اور موقع ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔ تمام گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دو۔ تو اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی کریں گے۔ اور اگر تم گناہوں اور نافرمانیوں پر اصرار کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ تم پر آگ کے پجاریوں کو مسلط کر دے گا۔ جو تمہیں ذلیل کریں گے۔ غلام بنائیں گے اور تمہاری عورتوں اور بچوں کو رسوا کریں گے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام انھیں بار بار سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اکڑ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا۔ اور کہا۔ تو جھوٹ بکتا ہے۔ اور اللہ پر بہتان لگاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سر زمین اور عبادت گاہوں سے اپنی عبادت ، اپنی کتاب اور پنی توحید کی آواز کو خاموش کر دے گا۔ تو نے اللہ پر بہتان باندھا ہے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ دھوکے میں مبتلا ہو۔ تم جسے توحید سمجھ رہے ہو وہ توحید نہیں ہے۔ بلکہ دنیا پر ست علماءاور فقہا کی من گھڑت باتیں ہیں۔ یہ توریت کے معنی بدل کر تمہیں بتاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام لگاتار کوشش کرتے رہے کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو بدل لیں لیکن بنی اسرائیل کے باادشاہ اور علماءآپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے۔ اور عوام کو بھی بھڑکا دیا۔ عام بنی اسرائیل کو تو گناہوں میں لطف آتا تھا۔ اور علماءاُن کے گناہوں کو نیکیاں بتاتے تھے۔ اس لئے تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے اور آپ علیہ السلام کو زنجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا۔

بخت نصر ن کی شکل میں اللہ کا عذاب :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے علماءاور بادشاہوں نے قید خانے میں ڈال دیا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں پھوٹ پڑے زمانہ ہو گیا تھا۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا بادشاہ بنا لیا تھا۔ یہ لوگ فلسطین اور شام کے علاقوں میں آباد تھے۔ اس زمانے میں فلسطین بھی شام کے علاقے میں آتا تھا۔ اور شام ہی کہلاتا تھا۔ اور اس پورے علاقے کو کنعان بھی کہا جاتا تھا۔ بخت نصر کے بارے میں کچھ روایات میں ہے کہ یہ وہی بخت نصر تھا جس نے سخاریب کے ساتھ فلسطین پر حملہ کیا ۔ اور شکست کھائی تھی۔ اور اس وقت کے بادشاہ حزقیا نے سخاریب کے ساتھ اسے قید کر لیا تھا۔ لیکن حضرت شعیا علیہ السلام کے کہنے پر بخت نصر اور سخاریب کو آزاد کر دیا تھا۔ بخت نصر اُس وقت نوجوان تھا۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ بخت نصر کی عمر تین سو سال تھی۔ اور وہ اپنی شکست کو بھولا نہیں تھا۔ اس لئے جب یہ حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل پر اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے حملہ کر دیا۔ کچھ روایات میں یہ آیا ہے کہ اس وقت ایران (جسے اُس وقت بابل کہا جاتا تھا) کے حکمرانوں کا لقب بخت نصر ہوا کرتا تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کے حالات میں کئی جگہوں پر بخت نصر کا ذکر آیا ہے اور یہ تمام حالات کئی سو برسوں پر محیط ہیں۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

بنی اسرائیل کا محاصرہ :

بخت نصر نے چھ لاکھ کے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اور محاصر ہ کر لیا۔ یہ محاصرہ بہت دن چلا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے پاس کھان پانی ختم ہونے لگا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بزدلی پیدا ہو گئی تھی۔ اُن کے دلوں میں دنیا کے عیش و آرام اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ جنگ سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر کار جب محاصرہ بہت لمبا ہو گیا تو بنی اسرائیل نے لڑنے کی بجائے ہتھیار ڈال دیئے اور بخت نصر اورا س کے لشکر کے لئے اپنے شہروں کے دروازے کھول دیئے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پہلے تمام شہروں کے چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار ہوتی تھی جسے شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ یہ شہر پناہ یا فصیل دوسروں کے حملوں کو روکنے کے لئے بنائی جاتی تھی۔

بنی اسرائیل کا قتلِ عام :

بنی اسرائیل نے تمام شہروں کے دروازے کھول دیئے اور بخت نصر سے جان کی امان طلب کی۔ لیکن وہ وحشی تھا۔ اس نے شہروں میں گھستے ہی بنی اسرائیل کا قتل عام شروع کر دیا اور گھروں میں گھس کر لوٹ مار شروع کر دی۔ تمام مال لوٹ لینے کے بعد گھروں کو آگ لگادینے کا حکم دیا۔ بیت المقدس( جسے بنی اسرائیل اور آج کے یہودی ہیکل سلیمانی کہتے ہیں) کو مسمار کر دیا۔ بنی اسرائیل کی تمام عبادت گاہوں کو منہدم کر دیا گیا۔ قلعوں کو توڑ پھوڑدیا گا۔ توریت کے تمام نسخوں کو جلا دیا گیا۔ بنی اسرائیل کے تمام سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا۔ عورتوں کو بازار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا۔

بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر لے جایا گیا :

بخت نصر نے بنی اسرائیل پر ظلم کی انتہا کر دی۔ ایک تہائی کو قتل کر دیا۔ بوڑھے مردوں اور عورتوں کو چھوڑ دیا۔ باقی تمام نوجوان اور جوان مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ ان میں سات ہزار حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل میں سے تھے ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام یہودا کی اولاد میں سے ہیں۔ اس طرح یہودا کی اولاد میں سات ہزار غلام بنائے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے گیارہ ہزار کو غلام بنایا۔ اور بن یامن سے بھی غلامی بنائے۔ آٹھ ہزار روبیل کی نسل سے غلام بنا لئے۔ لاوی کی نسل سے بارہ ہزار غلام بنائے اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں سے بھی غلام بنائے۔ بادشاہوں اور علماءکو بھی قتل کیا۔ اور غلام بنایا۔ ستر ہزار سے زیادہ تو بادشاہوں اور علماءکے بیٹے تھے۔ ان کے علاوہ مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر بخت نصر بابل (آج کا ایران) لے گیا۔

٭ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی آزادی اور بخت نصر سے ملاقات :

بخت نصر بنی اسرائیل کے گھروں کو لوٹ کر جلا رہا تھا۔ انھیں قتل کر رہا تھا۔ اور غلام بنا رہا تھا۔ بنی اسرائیل رو رہے تھے۔ دہائی دے رہے تھے۔ اور کہہ رہے تھے کہ افسوس ہم نے اپنے نبی کی بات کو جھوٹا سمجھا ۔ جس کا انجام ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بخت نصر تک یہ بات پہنچی اُن نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی ایسا بھی ہے جو انھیں اس مصیبت سے خبردار کرتا رہا۔ انھیں بتاتا رہا کہ تمہارا دشمن تم پر حملہ آور ہوگا ۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرے گا۔ وہ تمہیں ذبح کر ڈالے گا۔ تمہارے بچوں کو قیدی اورعورتوں کو لونڈی بنا لے گا۔ مسجدیں ویران اور قلعے مسمار کر دے گا۔ بخت نصر کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے حکم دیا ہو شخص جہاں کہیں ہو فوراً میرے پاس لے کر آﺅ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید خانے سے نکال کر بخت نصر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا۔ کیا تو انھیں (بنی اسرائیل) کو ہم سے ڈرایا کرتا تھا۔ اور کہا کرتا تھا کہ ہم اس ملک کو فتح کریں گے۔ اور انھیں نیست و نابود کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں میں انھیں آگاہ کرتا رہا لیکن یہ دنیا میں مگن رہے۔ بخت نصر نے پوچھا تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے مجھے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ۔ لیکن انھوں نے مجھے جھٹلا یا۔ بخت نصر نے پوچھا ۔ انھوں نے تجھے جھٹلایا تجھے مارا پیٹا اور قید میں ڈال دیا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ ہاں ۔ بخت نصر بولا وہ قوم بہت بُری قوم ہے جس نے اپنی نبی(علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور اس کے پیغام کو جھوٹ سمجھا۔ کیا تو میرے ساتھ آنا چاہتا ہے۔ میں تیری عزت و تکریم کا خیال رکھوں گا۔ اور تیری کسی قسم کی دل آزاری نہیں ہونے دوں گا۔ اور اگر تو اپنے وطن میں رہنا چاہے تو تجھے کوئی نقصان نہیں پہونچایا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوں ۔اور اگر بنی اسرائیل بھی اللہ کی پناہ حاصل کرتے تووہ تجھ سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔اور نہ ہی کسی دوسرے بادشاہ سے مرعوب ہوتے۔ اور کوئی بھی اُن پر فتح حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور تمام مال و دولت اور قیدیوں کو لے بابل چلا گیا۔

بنی اسرائیل نے پھر سے نافرمانی کی :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بیت المقدس( جو اب پوری طرح کھنڈر بن چکا تھا) میں چھوڑ کر بابل واپس چلا گیا۔ آپ علیہ السلام افسردہ سے ان کھنڈروں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بچے کچے بوڑھے مرد عورت (انھیں بخت نصر نے بے کار سمجھ کر چھوڑ دیا تھا) آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے ۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ نے سچ فرمایا تھا۔ ہم ہی ظالم لوگ ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور توبہ کرتے ہیں کہ ہم لوگ غلط راستے پر تھے۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ بھی ہمارے لئے دعا فرمایئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا سے ہماری توبہ قبول ہو جائے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا میں کی دعا قبول نہیں کروں گا۔ ہاں ایک صورت ہے۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ اسی جگہ رہنے لگیں۔ تو میںان کی دعاقبول کر لوں گا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اُن لوگوں سے فرمایا۔ تمہاری توبہ کی قبولیت کی یہ شرط ہے کہ تم لوگ میرے ساتھ اسی جگہ رہنے کے لئے بس جاﺅ۔ ان بدبختوں نے کہا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ پورا شہر ( بیت المقدس) اور آس پاس کے تمام علاقے کھنڈر ہو چکے ہیں۔ تمام علاقہ برباد ہو چکا ہے۔ ایسے ویرانے میں تو ہم نہیں رہیں گے۔ تمہیں رہنا ہے تو اپنے اللہ کے ساتھ رہو۔ اس طرح بنی اسرائیل عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی نافرمانی پر اڑے رہے۔ اور دوسرے آباد علاقوں میں چلے گئے۔ اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام اسی ویرانے میں رہے۔ آپ علیہ السلام یہاں برسوں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام نے بابل جا کر حضرت دانیال علیہ السلام کی مدد کی تھی۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بیت المقدس کو دوبارہ آباد کرنے ہوتے ہوئے دیکھا ۔ بہر حال یہیں پر آپ علیہ السلام نے اپنا آخر وقت گزارا۔ 

اگلی کتاب

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت دانیال علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔ 

٭........٭........٭



باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں