ہفتہ، 17 جون، 2023

04 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


04 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 04

بنی اسرائیل کی حالت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے بارہ قبیلوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور یہودیوں پر رومی مسلط ہو گئے تھے۔ رومیوں کے تسلط کے بارے میں ہم نے حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر میں تفصیل سے بتا یا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت بنی اسرائیل پر بہت بُرا وقت چل رہا تھا۔ وہ خود بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ان میں سے ایک برائی سود کھانا تھا۔ بنی اسرائیل کے علماءعام آدمیوں سے زیادہ گمراہ اور دنیا میں مبتلا ہو چکے تھے۔ یہ گمراہ علماءعوام کی برائیوںکوتوریت کی آیات کے ذریعے توڑ مروڑ کر صحیح ثابت کر تے تھے۔ اور توریت کے جو احکامات اللہ نے نازل فرمائے تھے وہ چھپا لیتے تھے۔ اور گمراہ عوام کی مرضی کے مطابق توریت سے فتوے دیتے تھے۔ اوراپنی دولت میں اضافہ کرتے تھے۔ اور اپنے جھوٹے فتوﺅں کی وجہ سے عوام کو اور زیادہ گمراہیوں میں مبتلا کرتے جاتے تھے۔

بنی اسرائیل مسیح اور آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے

توریت میں آخری نبی کی بشارت دی گئی تھی۔اور اس کی خوبیاں بھی بیان کی گئی تھیں۔ اس لئے بنی اسرائیل ( یہودی) اس آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسیح کا بھی انتظار کر رہے تھے۔ جو آئے گا تو انھیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کو قائم کرے گا۔ اُن کی کتاب میں لکھا تھا کہ یہودا( اللہ تعالیٰ ) ایک مسیحا نازل فرمائے گا۔ دنیا پر اسی کی بادشاہت ہو گی۔ اس کے آنے سے حضرت داﺅد علیہ السلام کی سلطنت بحال ہو جائے گی۔ اور یروشلم ( بیت المقدس) اللہ کا دارالحکومت بن جائے گا۔

بنی اسرائیل ( یہودیوں) کی غلط فہمی

اس پیشن گوئی کی وجہ سے علم نجوم میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کی دلچسپی بڑھ گئی۔ انھیں یقین تھا کہ مسیح حضرت داﺅد علیہ السلام کے گھر انے میں پیدا ہوگا۔ انھیں رومیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائے گا۔ مردہ بنی اسرائیل ( یہودیوں) کو زندہ کرے گا۔ اور انھیں حکومت میں شریک کرے گا۔ اور اس کی بادشاہت کے ڈنکے ہر طرف بجیں گے۔ وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے تھے کہ وہ مسیح آئے گا تو اللہ کا پیغام دے گا۔ اور اللہ کا قانون نافذ کرے گا۔ اور بنی اسرائیل کو برائیوں اور گمراہیوں سے روکے گا۔ ان کے سودی نظام کو ختم کر ے گا۔ اس کے بجائے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ مسیح جب آئے گا تو اس کی وجہ سے بنی اسرائیل (یہودیوں)کو دنیا کی حکومت مل جائے گی۔ اور وہ ساری دنیا کا خون پیئیں گے اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ اُن کے گھر ہیرے جواہرات سے بھرے ہوں گے۔ دوسروں کے بچے اُن کے غلام اور اُن کی بیویاں یہودیوں کی لونڈیاں بن جائیں گی۔ جنھیں نچا نچا کر وہ عیش و مسرت حاصل کریں گے۔ اسی لئے وہ مسیح کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ اور جب بھی بنی اسرائیل میں کوئی جواں ہمت کھڑا ہوتا تھا تو فوارً اس سے امید باندھ لیتے تھے کہ شاید یہی مسیحا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اعلانِ نبوت 

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور رسول کو نبوت 40سال کی عمر میں عطا فرمائی ۔ صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو 40سال سے پہلے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لئے اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت 30سال کی عمر میں کیا۔ یہ وہی وقت تھا جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا جا چکا تھا۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ رحمت میں جا چکے تھے۔ رومی بنی اسرائیل پر بہت بری طرح حاوی تھے ۔اور اُن پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل (یہودی) بہت بے چینی سے مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن برائیوں اور گمراہیوں میں بدستور مبتلا تھے۔ ایسے وقت میں جب امیدوں اور تمناﺅں کے خواب تھے۔ 

ایک دن ایک خوب صورت تیس سالہ جوان آنکھوں میں حیرت انگیز چمک لئے ، کاندھوں پر زلفیں پھیلائے جو اس کے روشن چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھی ۔ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) میں داخل ہوا۔ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس جیسی مقدس جگہ پر یہودی( بنی اسرائیل) کے امراءاور علماءبنچوں پر بیٹھے سکے کھنکھنا رہے تھے ۔ پیسے بٹور رہے تھے۔ احاطۂ حرم یعنی بیت المقدس کے احاطے میں عبادت کرنے کی بجائے بنی اسرائیل بازار سجائے خرید و فروخت میں مصروف تھے۔یہ شور و غوغا اور منظر دیکھ کر ہیکل سلیمانی میں داخل ہونے والے جوان نے نہایت بلند اور رعب دار آواز میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اُس جوان کی آواز سن کر ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کی مسجد کے اندر اور احاطے میں سناٹا چھا گیا۔ اور تمام لوگ اس خوب صورت جوان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس جوان نے رعب دار آواز میں ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اور پھر تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ علماءاور احبار اور مفتیوں کو ریا کاری کرنے سے منع فرمایا۔ اورآگے بڑھ گیا۔ نیک لوگ اس کے ساتھ ہو گئے۔ اور نعرے لگانے لگے۔ داﺅد کا بیٹا آگیا۔ ہمارا مسیحا آگیا۔ مسیح آگیا ہے۔ ہم اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے یہودیوں ( بنی اسرائیل) پر زلزلہ طاری ہو گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات 

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اورانجیل عطا فرمائی تو ساتھ میں ہدایات بھی دیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم، مجھے اپنے دل میں وہ جگہ دے جو غم کے لئے ہے۔ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کر۔ میں تجھ سے محبت کروں گا۔ میرے علاوہ کسی غیر کی طرف مائل نہیں ہوناورنہ میں پکڑ لوں گا۔ مصیبت پر صبر کر اور قضا پر راضی رہ۔ایسا ہو جا کہ مجھے تجھ سے مسرت ہو ۔ بے شک میری خوشی اسی میں ہے کہ میری فرمانبرداری کی جائے اور میری نافرمانی سے بچا جائے۔ میرے قریب ہو جا۔ اور اپنی زبان پر ہر وقت میر اذکر جاری رکھ۔ میری محبت تیرے سینے میں رہے۔ تا کہ تجھے غفلت سے بیدار رکھے۔ مخلوق کو میری نصیحت سنا۔ اور میرے بندوں میں عدل کے ساتھ فیصلے کی ۔ میں نے تیری طرف شفاء( انجیل ) نازل فرمائی ہے جو دلوں کو وسوسوں سے بچاتی ہے۔ اے عیسیٰ بن مریم، میری مخلوق مجھ پر ایمان نہیں لائی۔ اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے۔ اور میری خشیت کی نعمت سے مالا مال ہوئے۔ اور ثواب کی امید پائی۔ میں تجھے گواہ ٹھہراتا ہوں ۔ یہ لوگ میرے عذاب سے مامون ہیں۔ اے طیب و طاہرہ والدہ کے بیٹے، نرم گفتار ہو کر رہ۔ اور سلام کو عام کر۔ جب ابرار کی آنکھیں سو جائیں تو اس وقت جاگنے والا بن جا۔ قیامت قریب ہے۔ اور دل دہلادینے والا زلزلہ آنا ہی چاہتا ہے۔ اپنی ذات کا محاسبہ کرتا رہا کر۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن سب میرے سامنے پیش ہو ں گے۔ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اور تجھ سے پوچھ ہوگی۔

بنی اسرائیل کے علما اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مناظرہ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اعلان ِ نبوت کیا تو اس وقت آپ علیہ السلا م کا کوئی گھر نہیں تھا۔ اور آپ علیہ السلام پورے کنعان (حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں گھوم گھوم کر اللہ تعالیٰ کا پیغام بنی اسرائیل تک پہنچاتے رہتے تھے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ عام بنی اسرائیل میں سے نیک فطرت لوگوں نے آپ علیہ السلام کی اتباع کی۔ اس وقت بنی اسرائیل کے علماءبہت امیر تھے اور اپنے فائدے کے لئے بنی اسرائیل کے عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ اور پیسے بٹورتے تھے۔ اس لئے یہ علماءآپ علیہ السلام کو سچا مان کر اللہ کا رسول تسلیم کرنے کی بجائے آپ علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے۔ تا کہ اُن کی جھوٹی عزت قائم رہے۔ اور وہ دولت مند رہیں۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام بڑے بڑے علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام سے پوچھا ۔ کیا آپ ایلیا ہیں؟ بنی اسرائیل عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور عبرانی میں حضرت الیاس علیہ السلا م کو حضرت ایلیا علیہ السلام کہا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل نے حضرت الیاس علیہ السلام کو شہید کردیا تھا۔ اور بعد میں شرمندہ ہوئے۔ اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو دوبارہ بھیج دے ہم اُن کی بات مانیں گے۔ اسی لئے وہ حضرت الیاس علیہ السلام کا انتظار کر رہے تھے۔ اور اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ ایلیا ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا نہیں میں ایلیا نہیں ہوں۔ پھر بنی اسرائیل نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ”وہ آخری نبی “ ہیں ؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ نہیں ۔ وہ آخری نبی میرے بعد آئیں گے۔ تو پھر بنی اسرائیل کے علماءنے پوچھا کیا آپ مسیح ہیں؟ اس سوال پر کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام خاموش رہے۔ اور کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں مسیح نہیں ہوں ۔ در اصل آپ علیہ السلام کا اشارہ دَجّال کی طرف تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل آج بھی کسی مسیح کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور بنی اسرائیل(یہودیوں ) کا وہ مسیح دجّال ہو گا۔

بنی اسرائیل (یہودی) دجّال کا ساتھ دیں گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجّال آئے گا تو بنی اسرائیل ( یہودی) اُس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتارے جائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م دجّال اور یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کو ختم کر دیں گے۔ اور زمین پر ایک بھی یہودی ( بنی اسرائیل) زندہ نہیں رہ سکے گا۔ اس سلسلے کی احادیث انشاءاللہ آخر میں پیش کریں گے۔ بنی اسرائیل کے تمام علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور عام بنی اسرائیل کو ستانے لگے کہ ( نعوذ باللہ ) یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر علماءنے کہا۔ اگر تم اللہ کے رسول ہو اور سچے ہو توبتاﺅ اس آدمی نے آج کون سا کھانا کھایا ہے؟ آپ علیہ السلام نے بتادیا کہ اس شخص نے آج یہ کھانا کھایا ہے۔ آپ علیہ السلام کا جواب سن کر اس شخص نے کہا۔یہ سچ فرما رہے ہیں۔ آج میں نے یہی کھانا کھایا ہے۔ اس طرح نیک لوگوں کا آپ علیہ السلام پر یقین مضبوط ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءکی دشمنی اور بڑھ گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس کے بعد پورے ملک کنعان میں گھو م گھوم کر بنی اسرائیل کو اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے۔اُن کے گمراہ دنیا پرست علماءکو سمجھا رہے تھے۔اور اپنے معجزوں سے انہیں قائل بھی کرتے جا رہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا،کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ۔میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں ،پھر اُس میں پھونک مار تا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کے حکم سے میں پیدائشی اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مُردے کو جلا (زندہ کر)دیتا ہوں۔اور جو کچھ تم کھاو¿ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو ،میں تمہیں بتا دیتا ہوں ۔اِس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے،اگر تم ایمان والے ہو۔اور میں توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اِس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں۔اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ،اِس لئے تم اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔یقین مانو!میرا اور تمہارا رب اﷲ ہی ہے ،تم سب اُسی کی عبادت کرو ،یہی سیدھی راہ ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 49سے51تک)اﷲ تعالیٰ نے اِن آیات میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کئی معجزوں کا ذکرفرمایا ہے ،جن میں سے ایک کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں،اور باقی آگے پیش ہیں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں