پیر، 5 جون، 2023

04 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


04 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 04

بادشاہ آزمائش میں ناکام ہو گیا

حضرت الیاس علیہ السلام نے اُن چارسو مجاوروں کو اللہ تعالیٰ کی وحی سنا دی۔ اور وہ اس حالت میں واپس لوٹے کہ ان کے دل رعب سے بھرے ہوئے تھے۔ جب وہ بادشاہ کے پاس واپس پہنچے اور بتایا کہ ہم ملک شام کی طرف جا رہے تھے اور ایک وادی سے گزر رہے تھے کہ ایک پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے حضرت الیاس علیہ السلام نے ہمیں آواز لگائی۔ وہ لمبے قد کے دبلے پتلے جسم والے ہیں۔ اور انہوں نے بالوں کا جبہ بنا کر پہنا ہوا تھا اور کانٹوں سے اسے ٹانک رکھا تھا۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو ہمارے دل ہیبت سے بھر گئے اور خوف سے ہماری زبانیں گنگ ہو گئیں۔ ہم اتنی کثیر تعدا د میں ہوتے ہوئے بھی نہ تو ان سے بات کر سکے اور نہ ہی ان کو پکڑ کر لا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت الیاس علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ کا جو پیغام سنا تھا وہ بادشاہ کو سنا دیا۔ یہ سننے کے بعد ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ بادشاہ تو بہ کرتا اور بعل کی پوجا سے باز آکر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتے۔ لیکن اس بد بخت پر اس کی بیوی اور ابلیس شیطان کا ایسا قبضہ تھا کہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہو گیا اور ایک اور موقع کو گنوا دیا۔

حضرت الیاس علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش 

اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کے ذریعے سے اخی اب یا اجب کو توبہ کا ایک اور موقع دیا تھا لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اور اس نے آپ علیہ السلام کو دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کر کے اپنی بد نصیبی پر مہر لگالی۔ اس نے ایک سازش کے تحت پچاس طاقتور اور جنگجو سپاہیوں کو چنا اور انہیں آپ علیہ السلام کی گرفتاری اور قتل کے لئے مقرر کیا۔ اس نے تاکید کی کہ سادے لباس میں حضرت الیاس علیہ السلام کے پاس جاﺅ۔ اور ان سے کہنا کہ تم ان پر ایمان لانے کے لئے آئے ہو۔ تا کہ وہ تم سے مانوس ہو جائیں اور دھوکہ کھا جائیں۔ جب انہیں تم پر اعتماد ہو جائے تو انہیں گرفتار کر کے لے آنا اور اگر نہ لا سکو تو قتل کر دینا۔ وہ لوگ جب آپ علیہ السلام کے غار کے پاس پہنچے تو الگ ہو کر آپ علیہ السلام کو پکارنے اور تلاش کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، ہماری طرف تشریف لائیے۔ ہم پر اپنی زیارت کا احسان فرمائیے۔ ہم سب آپ علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں ۔ ہمارا بادشاہ اجب اور تمام لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام اپنے متعلق بے خوف ہو جائیے۔ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں اور دل و جان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں۔ اور اسلام قبول کیا ہے۔ آپ علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائیں اور ہم میں اپنے احکام نافذ فرمائیں۔ آپ علیہ السلام جو حکم دیں گے پوری قوم اس کی تعمیل کرے گی اور جس کام سے منع کریں گے، پوری قوم رک جائے گی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے جب ان کی باتیں سنیں تو دل میں امید جاگی اور آپ علیہ السلام نے سوچا اگر اب بھی ان سے چھپا رہوں گا کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر الہام فرمایا اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ ، اگر یہ سچے ہیں تو مجھے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔ اور اگر یہ سب جھوٹے ہیں تو ان پر اپنا غضب نازل فرما اور انہیں ہلاک کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان سب پر آگ کے گولے برسنے لگے۔ جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔ بادشاہ کو جب ان کی ہلاکت کی خبر ملی تو اس نے ایک گروہ کو بھیجا تو اس کا بھی یہی حشر ہوا۔

بادشاہ اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام پہاڑوں کے غاروں میں زندگی گزار رہے تھے۔ اور سلطنت سامریہ کا بادشاہ اس کی بیوی اور بنی اسرائیل بعل کی پوجا کر تے رہے۔ بادشاہ اخی اب کا بیٹا مر گیا اور اس کی بیوی نے بیٹے کی موت کا الزام حضرت الیاس علیہ السلام پر لگایا۔ اور بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی اور زورو شور سے تلاش کرتے رہے ۔ آپ علیہ السلام وقت موقع کے مطابق آبادی میں آتے تھے۔ اور عوام (بنی اسرائیل )میں اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل کی اکثریت تو بعل کی پوجا میں غرق تھی لیکن تھوڑے سے لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام پر قائم تھے۔ لیکن بادشاہ اور اس کی بیوی کے ڈر سے اسلام کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ان لوگوں سے وقتا ً فوقتا ً آپ علیہ السلام ملتے رہتے تھے۔ اور کچھ دن ان کے ساتھ گزار کر اسلام کی تعلیمات دیتے تھے۔ پھر پہاڑوں میں واپس آجاتے تھے۔ اس طرح سات سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، تین سال کے لئے ان پر بارش روک دے۔ تا کہ یہ تیری قدرت کو پہچانیں اور مانیں اور ہو سکتا ہے کہ بتوں کی پوجا چھوڑ کر تیری طرف رجوع کریں اور لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور بارش کو تین سال کے لئے روک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل تین سا ل قحط میں مبتلا رہے۔ اسی دوران ایک دفعہ حضرت الیاس علیہ السلام ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ۔ کھانے کو کچھ ہے؟ تو اس بوڑھی نے کہا۔ کچھ تھوڑا سا آٹا اور تھوڑا سا زیتون ہے۔ آپ علیہ السلام نے دونوں چیزیں منگوائیں اور ان پر برکت کی دعا کی۔ اور آٹے کی بوری پوری بھر گئی اور مٹکا زیتون کے تیل سے بھر گیا۔ جب بنی اسرائیل کے لوگوں نے اس بوڑھی عورت سے پوچھا کہ یہسب تیرے پاس کہاں سے آیا؟ اس نے بتایا کہ حضرت الیاس علیہ السلام آئے تھے اور برکت کی دعا کی تھی۔ 

حضرت یسع علیہ السلام شاگرد بنے

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں تحقیقات کرنے کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ اخی اب کے سپاہی آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ایک عورت نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ اس کا ایک بیٹا جس کا نام یسع بن اخطوب تھا وہ نوجوان سخت تکلیف میں مبتلا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس نوجوان کے لئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے تندرستی عطا فرمائی۔ حضرت یسع بن اخطوب علیہ السلام نے حضرت الیاس علیہ السلام کی پیروی اختیار کی اور شاگر دبن گئے۔ اور اپنی والدہ محترمہ سے اجازت لے کر آپ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ اور جہاں جہاں آپ علیہ السلام تشریف لے جاتے تھے وہاں وہاں حضرت یسع ساتھ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے بڑھاپے تک ساتھ رہے۔

بادشاہ اور بنی اسرائیل کوایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل پر بارش روک لینے کی دعا فرمائی تھی۔ جب تین سال گزر گئے تو آپ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اجازت دے کہ میں بنی اسرائیل کے پا س جا کر انہیں ایک مرتبہ اور سمجھاﺅں تا کہ وہ تیری طرف رجوع کریں اور بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی اور فرمایا۔ تمہاری دعا پر ہم بارش برسائیں گے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب یا اجب کے پاس آئے۔ بنی اسرائیل بھی جمع ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل اور بادشاہ اور اس کی بیوی سے فرمایا۔ تم لوگوں نے دیکھا کہ بعل کی پوجا کی وجہ سے تم پر اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی ہے۔ جس کی وجہ سے تم بھوک سے بے حال ہو اور مشقت میں مبتلا ہو چکے ہو۔ تمہاری سیاہ کاریوں کی وجہ سے جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے اور درخت سب ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان تین سال میں تم نے بعل کی بہت پوجا کی ۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک اور موقع دے رہا ہے۔ آﺅ تم اپنے بتوں کے سامنے قربانی پیش کرو۔ اور اس سے بارش کی دعا مانگو ۔ اس کے بعد میں اپنے اور تمہارے رب اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا مانگوں گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ میری دعا پر بارش برسا دے گا تو تم لوگ بعل کی پوجا سے توبہ کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے۔ اس بات کا مجھ سے وعدہ کرو۔ بادشاہ نے اور بنی اسرائیل نے وعدہ کیا۔ 

ایک اور موقع گنوادیا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور بادشاہ کو ایک اور موقع دیا۔ بادشاہ اور بنی اسرائیل نے کہا۔ یہ آپ (علیہ السلام )نے انصاف کی بات کی ہے۔ اور اپنے بتوں کو کھلے میں پہاڑ کے اوپر لے آئے۔ اور اس کے سامنے قربانی کی اور رو رو کر اپنے بتوں سے دعائیں مانگنے لگے۔ لیکن بارش نہیں ہوئی۔ بعل کے شاہی مندر کے چار سو مجاور ( جو اپنے آپ کو انبیاءکہلواتے تھے) بڑے زور و شور سے بعل کی پوجا کر رہے تھے۔ اور بادشاہ اور اس کی بیوی اور بنی اسرائیل دعا مانگ رہے تھے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام بھی اپنا مصلّا بچھا کر بیٹھ گئے۔ اور ان سب کو دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ آخر کار جب وہ سب ناکام ہو گئے تو آپ علیہ السلام سے کہا اب تم کوشش کرو۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے ساتھ ان کے شاگرد حضرت یسع علیہ السلام بھی تھے۔ آپ علیہ السلام نے وضو بنایا اور اپنے شاگرد کے ساتھ نماز پڑھی اور دعا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھادیئے۔ حضرت یسع علیہ السلام نے بھی اپنے ہاتھ اٹھا دیئے۔ آپ علیہ السلام دعا مانگتے جا رہے تھے اور حضرت یسع علیہ السلام آمین فرماتے جا رہے تھے۔ تمام بنی اسرائیل ، بادشاہ اور اس کی بیوی اور تمام مجاور دم سادھے دیکھ رہے تھے۔ کبھی وہ لوگ دونوں انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف دیکھتے اور کبھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ کچھ دیر بعد سب نے حیرانی سے آسمان کی طرف دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے ایک بادل ڈھا ل کے برابر نمودار ہو رہا تھا۔ جو دھیرے دھیرے بڑا ہوتا جا رہا تھا ۔ تمام لوگ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ دونوں انبیائے کرام علیہم السلام پوری لگن سے دعا میں مشغول تھے۔ وہ بادل دھیرے دھیرے پورے آسمان پر چھا گیا۔ اور پھر بارش شروع ہو گئی۔ بادشاہ اور اس کی بیوی اور تمام مجاور (مندروں کے پجاری) اور تمام بنی اسرائیل حیران سے کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی دعا مکمل کی اور سب لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اس سے پہلے کہ بارش تیز ہو جائے ، تم لوگ پہاڑ سے اتر کر اپنے اپنے گھر چلے جاﺅ۔ سب لوگ اپنے گھروں کی طرف تیزی سے بھاگے۔ اس طرح کچھ دنوں میں ہر طرف ہریالی ہو گئی اور ان کی پریشانیاں ختم ہو گئیں۔ لیکن ان بد بختوں نے اپنے وعدے کو توڑ دیا۔ اور آپ علیہ السلام کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا۔

آپ علیہ السلام نے پھر پہاڑوں میں پناہ لی

حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے بنی اسرائیل اور بادشاہ اخی اب کی تکلیفیں دو ہو گئیں۔ اور اب وعدے کے مطابق انہیں بعل کی پوجا چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی تھی۔ لیکن بنی اسرائیل دنیا میں مبتلا ہو چکے تھے اور ان کے رہبر بعل کے مندروں کے پجاری تھے اور ان کی سب سے بڑی ذمہ دار ملکہ یعنی اخی اب کی بیوی تھی۔ اس نے جب دیکھا کہ بعل کی پوجا ختم ہونے والی ہے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ فوراً حضرت الیاس علیہ السلام کو گرفتار کر لیا جائے اور تمام سلطنت میں اعلان کروا دیا کہ بعل کی اسی طرح پوجا کی جائے گی جیسے پہلی کی جاتی تھی۔ بادشاہ اخی اب اس کی ہر بات پر آنکھ بند کر عمل کر تا تھا۔ اور عوام بھی اتنی گمراہ ہو چکی تھی کہ اسے آپ علیہ السلام کی نصیحتیں اچھی نہیں لگتی تھیں۔ اسلئے ہر کوئی آپ علیہ السلام کا دشمن بن گیا ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کا ایک اور موقع دیا تھا۔ لیکن ان بد نصیبوں نے اپنی بد بختی سے اسے گنوا دیاا ور الٹا اللہ کے نبی علیہ السلام کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے جب ان کی دشمنی دیکھی تو ایک مرتبہ پھر پہاڑوں کی طرف چلے گئے اور غاروں میں رہنے لگے۔ اس مرتبہ حضرت یسع علیہ السلام بھی ساتھ تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں